افغانستان کے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں فضائی حملوں کے دعوے: افغان طالبان کے چار ڈرونز مار گرائے، پاکستانی فوج

افغان طالبان نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں داعش کے مبینہ ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ ادھر پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں سرحد پار سے بھیجے گئے چار ڈرونز کو پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے بروقت نشاندہی کے بعد ناکام بنا دیا ہے۔

خلاصہ

  • ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے تمام مراحل 'نظام کی پالیسیوں کے دائرہ کار میں اور ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ مکمل اور مسلسل ہم آہنگی' کے تحت آگے بڑھے ہیں۔
  • امریکہ میں ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکٹریٹری مارکوین مولن کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران کے فُٹ بال ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر 'خوشی میں رقص' کیا تھا۔
  • ایران کے صوبے کرمانشاہ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں پاسدارانِ انقلاب کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
  • وینزویلا زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 1700 سے تجاوز، 70 ہزار سے زائد افراد تا حال لاپتہ
  • برطانیہ میں پناہ گزینوں کے لیے نیا قانون: تارکین وطن کو تقریباً 10 ہزار پاؤنڈزز واپس کرنا ہوں گے
  • انڈیا کی افغانستان پر پاکستانی حملوں کی مذمت: ’یہ افغانستان کی خود مختاری پر حملہ اور علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے‘

لائیو کوریج

  1. عراقی حکومت نے ایران سے منسلک گروپوں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے تین ماہ کا وقت دے دیا

    Social Media

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    عراقی حکومت نے ایران کے ساتھ منسلک مسلح گروہوں کو ستمبر کے آخر تک (مزید تین ماہ) ہتھیار ڈالنے کا وقت دیا ہے۔

    عراقی حکومت کے ترجمان نے آج ایک پریس کانفرنس میں اس خبر کا اعلان کیا۔

    عراق کے نئے وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے قبل، واشنگٹن نے بغداد پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ان گروہوں کو غیر مسلح کرے۔

    علی زیدی ڈونلڈ ٹرمپ کی سرکاری دعوت پر تقریباً دو ہفتوں میں امریکہ کا دورہ کریں گے۔

    حالیہ جنگ کے دوران ایران کے قریبی ان مسلح گروہوں میں سے کچھ جو خود کو ’مزاحمت کا محور‘ کہتے ہیں، نے عراق میں امریکی مفادات پر حملے کیے ہیں۔

  2. ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کے لیے کشنر اور وٹکوف دوحہ جائیں گے: وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس نے تصدیق کہ ہے کہ ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کے لیے سٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر دوحہ جا رہے ہیں۔

    اس سے قبل امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ’ایران نے ایک میٹنگ کی درخواست کی ہے۔ اس کا انعقاد کل دوحہ میں ہو گا۔‘

    تاہم دوسری طرف ایران کی تکنیکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے منگل کو ہونے والے مذاکرات کی تردید کی ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ’وٹکوف اور کشنر اس ہفتے کی اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شرکت کے لیے دوحہ جائیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’تکنیکی مذاکرات‘ بھی ان اجلاسوں کے درمیان ہی ہوں گے۔

  3. پی آئی اے نجکاری: حکومت نے انتظامی کنٹرول سرمایہ کار کنسورشیم کے حوالے کر دیا

    پی آئی اے

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    وزارت نجکاری کے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری کے پہلے مالی مرحلے کی تکمیل کے بعد ایئرلائن کا انتظامی کنٹرول سرمایہ کار کنسورشیم کے حوالے کر دیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’نجکاری کمیشن نے آج پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری کے تحت حصص کی فروخت کے پہلے مرحلے کو مکمل کر لیا ہے، جس کے بعد شیئر خریداری اور سبسکرپشن معاہدے (ایس پی ایس اے) کی تمام پیشگی شرائط پوری ہونے پر ایئرلائن کا انتظامی کنٹرول عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی سربراہی میں سرمایہ کار کنسورشیم کو منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

    وزارت نجکاری کی پریس ریلیز میں اس اقدام کو حکومت کے معاشی اصلاحاتی پروگرام میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا۔

    بیان کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد وزارت دفاع سمیت دیگر فریقوں نے کئی پیچیدہ شرائط مکمل کیں، جن میں ملکی و غیر ملکی ریگولیٹری منظوری، ٹیکس سے متعلق امور، طیاروں کی مالی معاونت کے انتظامات اور سرمایہ کار کنسورشیم کی جانب سے لین دین کے تحفظ کی فراہمی شامل تھیں۔

    وزارت نجکاری کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام اقدامات نہایت کم وقت میں مکمل کیے گئے جبکہ ایئرلائن کی پروازیں، تجارتی روابط اور سروسز بلا تعطل جاری رکھی گئیں۔

    نجکاری کے لیے بولی کا عمل دسمبر 2025 میں ہوا تھا، جس کے نتیجے میں کنسورشیم نے 180 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا۔ اس میں سے 55 ارب روپے حکومت کو پی آئی اے سی ایل کی فروخت کے عوض ادا کیے جائیں گے جبکہ 125 ارب روپے ایئرلائن کی بہتری اور بحالی کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

    وزارت نجکاری کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کنسورشیم نے 10 ارب روپے حکومت کو ادا کر دیے ہیں جبکہ 80 ارب روپے ایئرلائن میں بطور نئی سرمایہ کاری شامل کیے گئے ہیں، جن کا مقصد ایئرلائن کا مالی استحکام، بیڑے کی توسیع، روٹس میں اضافہ اور سروس کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔

    بیان میں درج ہے کہ معاہدے کے تحت دوسرا مالی مرحلہ اگلے 12 ماہ کے دوران مکمل کیا جائے گا، جس میں مزید 45 ارب روپے کی سرمایہ کاری شامل ہے۔

  4. دوحہ میں ایران، امریکہ مذاکرات: ٹرمپ کا دعویٰ اور کاظم غریب آبادی کی تردید

    امریکہ اور ایران کے جھنڈے

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکہ اور ایران کے درمیان دوحہ میں طے شدہ ٹیکنیکل مذاکرات کے حوالے سے دونوں ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے متضاد بیان سامنے آ رہے ہیں۔

    ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’ایران نے ایک میٹنگ کی درخواست کی ہے۔ اس کا انعقاد کل دوحہ میں ہو گا۔‘

    تاہم دوسری طرف ایران کی تکنیکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے منگل کو ہونے والے مذاکرات کی تردید کی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب کیے گئے وعدوں پر عمل در آمد کے حوالے سے قطر کے ساتھ مشاورت جاری ہے، تاہم دونوں ممالک کے ورکنگ گروپس کے درمیان ’تکنیکی مذاکرات کی ابھی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور متعلقہ ورکنگ گروپس کے فریم ورک کے تحت تب منعقد ہو گا، جب حالات سازگار ہوں گے اور تاریخ و مقام پر اتفاق ہو جائے گا، اور اس سلسلے میں ثالث ممالک کے ذریعے مشاورت جاری ہے۔‘

    اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز کو بھی ایک ذریعے نے بتایا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات منگل کو دوحہ میں متوقع ہیں۔

  5. جرمنی میں فائرنگ کے واقعے میں پانچ افراد ہلاک: پولیس

    شمالی جرمنی کے شہر سٹاڈے میں فائرنگ کے ایک واقعے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پولیس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں سے ایک مشتبہ ملزم ہے۔

    پولیس نے سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس علاقے میں داخل ہونے سے گریز کریں۔

    پولیس کے مطابق واقعے کا محرک ابھی واضح نہیں ہو سکا ہے۔

    سٹاڈے کی آبادی تقریباً 50,000 ہے اور یہ شہر ہیمبرگ کے مغرب میں واقع ہے۔

  6. آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران، عمان مشترکہ کمیٹی کا مسقط میں پہلا اجلاس

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    آبنائے ہرمز سے متعلق امور کا جائزہ لینے کے لیے ایران اور عمان کی مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس مسقط میں ہوا ہے۔

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب ‌آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ دونوں فریقوں نے ’آبنائے ہرمز سے متعلق موجودہ امور کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں اس کے انتظام‘ پر تبادلۂ خیال کیا۔

    کاظم غریب آبادی امریکہ کے ساتھ ایران کی تکنیکی مذاکراتی ٹیم کی سربراہی بھی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اجلاس آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر پانچ کے تحت منعقد ہوا۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر پانچ میں کہا گیا ہے: ’ایران، سلطنت عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور سمندری خدمات کے تعین کے لیے، قابلِ اطلاق بین الاقوامی قوانین اور آبنائے ہرمز سے ملحقہ ساحلی ممالک کے حق خود مختاری کے مطابق، بات چیت کرے گا اور خلیج فارس کے دیگر ساحلی ممالک کے ساتھ بھی تبادلۂ خیال کرے گا۔‘

    اس وقت ایران اور عمان نے بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے دو مختلف راستوں کا تعین کر رکھا ہے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر پانچ کے تحت پہلے 30 دنوں کے دوران ’تکنیکی اور عسکری رکاوٹوں کو دور کرنے اور بارودی سرنگوں کی صفائی کی ضرورت‘ کے پیش نظر اس آبی گزر گاہ کا انتظام ایران کے سپرد کیا گیا ہے۔

  7. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دار الحکومت مظفرآباد میں 50 فیصد بازار کھل گئے، ٹرانسپورٹ بحال، انٹرنیٹ اور پیٹرول کی بندش برقرار, نصیر چوہدری، صحافی

    مظفر آباد

    ،تصویر کا ذریعہnaseer chaudhry

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دار الحکومت مظفرآباد میں مرکزی انجمن تاجران اور ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے بازار کھولنے کے اعلان کے بعد پیر کے روز شہر میں جزوی طور پر تجارتی سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں، جبکہ ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں نو جون سے کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ہڑتال جاری تھی، جس کے باعث کئی روز تک کاروباری اور ٹرانسپورٹ سرگرمیاں متاثر رہیں۔ گذشتہ ہفتے 27 جون کو مرکزی انجمن تاجران اور ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے مشترکہ طور پر بازار کھولنے اور ٹرانسپورٹ بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    اس اعلان کے بعد مظفرآباد شہر کے مختلف علاقوں میں تقریباً 50 فیصد دکانیں کھل چکی ہیں، جبکہ تمام اہم شاہراہیں ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہیں۔ نو جون کے بعد پہلی مرتبہ شہر میں معمول کی آمد و رفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    تاہم انٹرنیٹ سروس بدستور معطل ہے، جس کے باعث بینک اگرچہ کھلے ہیں لیکن آن لائن نظام بند ہونے کی وجہ سے معمول کے مطابق کام نہیں کر پا رہے۔ اسی طرح انٹرنیٹ پر انحصار کرنے والے کاروباری مراکز اور سروس سینٹرز بند ہیں۔

    مظفر آباد

    ،تصویر کا ذریعہnaseer chaudhry

    شہر کے مرکزی تجارتی علاقے خواجہ بازار اور مین بازار، جہاں روزمرہ استعمال کی اشیا فروخت کی جاتی ہیں، زیادہ تر کھل چکے ہیں جبکہ چند دکانیں اب بھی بند ہیں۔

    مدینہ مارکیٹ، جہاں گارمنٹس، ریڈی میڈ ملبوسات اور کاسمیٹکس کی دکانیں ہیں، وہاں محدود کاروباری سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں اور تقریباً 30 فیصد دکانیں کھلی ہیں۔

    سی ایم ایچ روڈ پر واقع میڈیکل مارکیٹ، جس میں میڈیکل سٹورز، لیباریٹریاں اور کلینکس شامل ہیں، مکمل طور پر کھل چکی ہے اور معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔

    مظفرآباد کے مرکزی لاری اڈے پر تمام ٹرانسپورٹ اڈے دوبارہ فعال ہو گئے ہیں اور مختلف روٹس پر مسافر گاڑیاں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔ لاری اڈے سے ملحقہ بیشتر دکانیں بھی کھل گئی ہیں۔

    مظفر آباد

    ،تصویر کا ذریعہnaseer chaudhry

    دوسری جانب شہر کے تمام پیٹرول پمپ بدستور بند ہیں، جس پر ٹرانسپورٹرز نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ تو بحال کر دی گئی ہے لیکن ایندھن کی عدم دستیابی کے باعث گاڑیاں چلانا مشکل ہو رہا ہے۔

    مرکزی انجمن تاجران کے سینیئر وائس چیئرمین گوہر کشمیری کا کہنا ہے کہ انجمن کے اعلان کے بعد بازار کھلنا شروع ہو گئے ہیں اور زندگی معمول کی طرف لوٹ رہی ہے۔ تاہم ان کے بقول انٹرنیٹ کی بندش کے باعث متعدد دکانداروں کو بازار کھولنے کے فیصلے کی بر وقت اطلاع نہیں مل سکی، جبکہ پیٹرول پمپ بند ہونے کی وجہ سے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے تاجروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے، جو ابھی تک دکانیں کھولنے نہیں پہنچ سکے۔

    ڈپٹی کمشنر منیر قریشی نے بتایا کہ 70 فیصد بازار کھل چکے ہیں اور ٹریفک بحال ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور انٹرنیٹ کا مسئلہ جلد حل کر دیا جائے گا۔

  8. پاکستان اور انڈیا کے درمیان ٹریک ٹو سفارتکاری کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں: انڈین سیکریٹری خارجہ

    انڈین سیکریٹری خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    انڈیا اور پاکستان کے درمیان کولمبو میں ہونے والے ٹریک ٹو مکالمے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انڈیا کے سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے کہا: ’یہ نجی طور پر منعقد کی گئی تقاریب ہیں جن کا اہتمام غیر سرکاری فریقوں نے کیا ہے۔‘

    خبر رساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا: ’ہمارے نزدیک ان کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں ہے۔ انڈیا سے جو بھی افراد ان تقریبات میں شریک ہوتے ہیں، چاہے وہ ریٹائرڈ سفارت کار ہوں، ریٹائرڈ فوجی افسران ہوں یا سول سوسائٹی کے ارکان، وہ ان میں اپنی ذاتی حیثیت میں شرکت کرتے ہیں اور اپنا ذاتی نقطۂ نظر پیش کرتے ہیں۔‘

    انڈین سیکریٹری خارجہ کے مطابق ان تقاریب میں شریک ہونے والے افراد ’کسی بھی طرح سے انڈین حکومت کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے اور نہ ہی کر سکتے ہیں۔‘

    وکرم مصری کا یہ ردعمل ایسی خبروں کے بعد سامنے آیا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے عہدے داروں نے کولمبو میں ملاقات کی ہے، جس میں دونوں ممالک کے سابق سفارت کار، ریٹائرڈ فوجی اہلکار، اور دونوں ممالک کی حکمران جماعتوں کے سیاستدان بھی شریک تھے۔

    خبروں کے مطابق اس ملاقات کا مقصد پاکستان اور انڈیا کے درمیان غیر رسمی سفارتی رابطوں کو فروغ دینا تھا۔

  9. قطر میں منجمد چھ ارب ڈالر کے اثاثے ایران کو واپس کر دیے جائیں گے: مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی سرکاری میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت تیل اور پیٹروکیمیکل پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے بعد اب قطر میں منجمد ایران کے 12 ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے چھ ارب ڈالر ایران کو واپس کر دیے جائیں گے۔

    دوسری جانب ایک ذریعے نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے کام کرنے والی ایرانی اور امریکی تکنیکی ٹیموں کی آئندہ کچھ دنوں میں دوحہ میں ملاقات متوقع ہے۔

    ذرائع کے مطابق ثالثوں نے کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے رابطے کے چینلز قائم کر دیے ہیں اور تکنیکی سطح کی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

  10. ایران کی آبنائے ہرمز کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی صلاحیت دن بدن کمزور پڑتی جا رہی ہے: اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز کا کہنا ہے کہ ایران کی آبنائے ہرمز کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی صلاحیت دن بدن کمزور پڑتی جا رہی ہے۔

    اتوار کے روز امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صبر ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہ سکتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مختلف امور پر تکنیکی سطح پر بات چیت جاری ہے، خاص طور پر اس بارے میں کہ معائنہ کاروں کو ایرانی جوہری تنصیبات تک کیسے رسائی دی جائے، یورینیم کو کیسے ڈاؤن بلینڈنگ کی مدد سے کم افزودہ کیا جائے اور یہ کیسے یقینی بنایا جائے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

    مائیک والٹز کا کہنا ہے کہ ایران کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اس کی گرفت بتدریج کم ہو رہی ہے۔ ’خلیجی عرب ممالک آبنائے ہرمز کے متبادل راستے تیزی سے تیار کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات اپنی تیل پائپ لائن کو وسعت دے رہا ہے جبکہ سعودی عرب بھی اپنی پائپ لائنیں بڑھا رہا ہے۔‘

    امریکی سفیر کے مطابق امریکہ بھی خطے میں اپنی فوجی اڈوں کے ڈھانچوں میں تبدیلیاں لا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ تنصیبات کو مضبوط بنایا جائے گا، کچھ زیرِ زمین منتقل کی جا سکتی ہیں جبکہ بعض کو دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران جس دباؤ کو اپنا ہتھیار سمجھتا ہے وہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ٹول عائد کرنے کا تصور بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے اور چین نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔

    والٹز کے مطابق ایران کو امید تھی ٹول وصولی کے لیے اسے عمان کی حمایت حاصل ہو گی مگر اب عمان نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایسے کسی اقدام کو برداشت نہیں کریں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے دنیا کے ممالک اور ان کی معیشتوں کو یرغمال بنانے کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔

  11. پاکستانی بمباری کے نتیجے میں 36 شہری ہلاک، 163 زخمی ہوئے: افغان طالبان ترجمان

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغان طالبان حکام کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ رات پاکستان کی جانب سے متعدد علاقوں میں کی گئی بمباری کے نتیجے میں 36 عام شہری ہلاک جبکہ 163 زخمی ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان کا دعویٰ ہے کہ افغانستان کے علاقوں پکتیکا، پکتیا اور کنٹر میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے 25 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔اس پاکستانی کارروائی کے بعد افغانستان کے مختلف علاقوں سے تباہی کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  12. اپنی حدود پہچانیں اور تہران کو سخت فیصلے لینے پر مجبور نہ کریں: ایران کی بحرین کو تنبیہ

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی نے بحرین کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کو سخت فیصلے لینے پر مجبور نہ کریں۔

    ایرانی خبررساں ادرے تسنیم کے مطابق، علی اکبر ولایتی کا کہنا ہے کہ ’بحرینیوں کو سخت تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ اپنی حدود پہچانیں، اپنے مستقبل کے ساتھ ایسے کھیل نہ کھیلیں، اور ایران کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور نہ کریں۔‘

    یاد رہے کہ سنیچر کی روز پاناما کے پرچم بردار ایک جہاز پر ڈرون حملے کے بعد امریکی فوج نے ایران بھر میں متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا جن میں فوجی سازوسامان، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی تنصیبات اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز شامل تھے۔

    اس حملے کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کویت اور بحرین میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

    بعد ازاں بحرین نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کا روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ بحرینی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے اتوار کو ان خطرناک ایرانی حملوں میں استعمال ہونے والے متعدد پروجیکٹائلز کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔

    بیان میں کہا گیا کہ ملک کی فوج چوکس ہے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

  13. ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر بنائی گئی مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس مسقط میں منعقد

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے متعلق بنائی گئی مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس مسقط میں منعقد ہوا۔

    کاظم غریب آبادی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ فریقین نے خلیجی ساحلی ممالک کے خودمختار حقوق اور رواں ماہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام پر تبادلۂ خیال کیا۔

  14. امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

    تیل ٹینکر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد سوموار کے کے روز تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل کی رفتار دوبارہ سست ہو گئی ہے۔

    خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 58 سینٹ یا 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 72.57 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 88 سینٹ یا 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 70.11 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

    آئی این جی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’تیل کی منڈی کو اب بھی کافی خطرات کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود مارکیٹ کے شرکا اس بات پر توجہ مرکوز کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اگر تیل کی ترسیل میں بحالی جاری رہی تو اس کے عالمی توازن پر کیا اثرات ہوں گے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’یہ اطمینان حیران کن ہے اور اگر رسد کی بحالی سست رہی تو اس سے قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خطرہ واضح طور پر موجود ہے۔‘

    آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی ترسیل میں اضافے کے بعد گذشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 10.6 فیصد کمی ہوئی تھی۔ یہ مسلسل تیسرا ہفتہ تھا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی تھی۔

  15. اسرائیل کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کا زیرِ زمین کمپلیکس تباہ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اسرائیل کی جانب سے قائم کردہ سکیورٹی زون میں واقع مجدل کے علاقے میں حزب اللہ کا ایک زیرِ زمین شدت پسندی کا مرکز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ زیرِ زمین کمپلیکس ایرانی حکومت کی فراہم کردہ ٹیکنالوجی اور مہارت کی مدد سے تعمیر کیا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس کمپلیکس کے ساتھ منسلک سرنگ کا راستہ 200 میٹر سے زیادہ طویل اور 25 میٹر سے زیادہ گہرائی میں بنایا گیا تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجیوں کو اس مرکز کے اندر سینکڑوں ہتھیار اور چار لانچنگ شافٹس ملے جن کا رخ اسرائیل کی جانب تھا۔

  16. بعض اندرونی و بیرونی عناصر ایرانی قوم کے اتحاد کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں: صدر مسعود پزشکیان

    پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایران کے خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ بعض ’اندرونی اور بیرونی عناصر‘ ایران کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    انھوں نے یہ بات 28 جون کو ایران کے مذہبی مرکز قم کے دورے کے دوران اعلیٰ مذہبی شخصیات بشمول آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی سے ملاقات میں کہی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کے تناظر میں حکومت کے لیے حمایت کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

    آیت اللہ مکارم شیرازی کو جنگ کے بعد کی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر بریفنگ دیتے ہوئے پزشکیان نے ملک کے اندر اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’ملک کے اندر اور باہر بعض حلقے قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے اور معاہدے کے عمل کو متاثر کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔‘

    ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات پر قدامت پسند حلقوں کی جانب سے تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت سے ’ملک کے معاشی اور سماجی مسائل کے ایک بڑے حصے‘ کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    آیت اللہ مکارم شیرازی نے جنگ اور اس کے بعد کے معاملات سے نمٹنے میں حکومت کی کارکردگی کو سراہا۔ انھوں نے حالیہ معاہدوں کے ’ممکنہ مثبت اثرات‘ کا بھی ذکر کیا۔

    تاہم انھوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایسے کسی قدم سے گریز کیا جائے جو ’دشمنوں کو حوصلہ دے سکتا ہو۔‘

    اس کے علاوہ ایرانی صدر نے قم میں رہبرِ اعلیٰ کے نمائندے آیت اللہ سید محمد سعیدی سے ایک الگ ملاقات کی جس کے دوران مسعود پزشکیان نے ان سیاسی اور سفارتی کوششوں کا جائزہ پیش کیا جس کے باعث ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہوا۔

    انھوں نے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے ’تزویراتی اور رہنما کردار‘ کو بھی اجاگر کیا۔

    صدر نے اس معاہدے کے نتیجے میں ’لبنان میں نسبتی امن و استحکام‘ اور ’کچھ اقتصادی مواقع‘ کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا سہرا رہبرِ اعلیٰ کی رہنمائی اور حکومت کی عمل درآمد کو جاتا ہے۔

  17. معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی پر فیصلہ کن کارروائی کریں گے: عراقچی

    عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    عراق کے صدر نزار امیدی سے ملاقات کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے معاہدے کے بعض نکات خصوصاً اس کے پہلے پیراگراف کی خلاف ورزی خطے میں امن اور استحکام کی بحالی کی راہ میں ایک سنجیدہ رکاوٹ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم مفاہمتی یادداشت پر نیک نیتی کے ساتھ اور ’کمٹمنٹ کے بدلے کمٹمنٹ‘ کے اصول کے تحت عمل درآمد کے خواہاں ہیں۔‘

    تاہم ایران کے وزیرِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ’معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی پر ہم دوسرے فریق کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کریں گے۔‘

  18. ایران اور امریکہ کے درمیان حملے روکنے اور دوحہ میں مذاکرات کرنے پر ’اتفاق‘ ہو گیا: امریکی میڈیا کا دعویٰ

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی اشاعتی ادارے ایگزیوز نے خبر دی ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان خلیجِ فارس میں حملے روکنے اور آئندہ چند دنوں میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں براہِ راست مذاکرات کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    اتوار کی شام ایگزیوز کے رپورٹر باراک راوِد نے ایک سینیئر امریکی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے۔ ’اہلکار کا کہنا ہے کہ دونوں فریق منگل کو اپنے اختلافات کے حل کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ملاقات کریں گے، جہاں آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔‘

    ایگزیوز کے مطابق مذاکرات کا مرکز آبنائے ہرمز ہو گا۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار آبنائے ہرمز کے انتظام میں امریکی مداخلت کو قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھی امریکی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ امریکہ اور ایران ایک دوسرے پر حملے نہیں کریں گے اور جہازوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہو گی۔

    امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ’مفاہمتی یادداشت کے تمام حصوں پر تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے۔ فی الحال دونوں فریق پیچھے ہٹ جائیں گے اور جہاز آزادانہ طور پر نقل و حرکت کر سکیں گے۔‘

    عراق کے دورے کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت کے تحت آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا رکھنے کی ذمہ داری ’صرف‘ تہران پر عائد ہوتی ہے، اور کسی بھی قسم کی مداخلت اس عمل میں خلل ڈال سکتی ہے اور کشیدگی میں اضافہ کر سکتی ہے۔

  19. یورپ میں ہیٹ ویو سے منسلک 1300 سے زائد اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں، عالمی ادارہ صحت

    یورپ ہیٹ ویو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ کے مطابق یورپ میں موسمِ گرما کے آغاز پر آنے والی غیر معمولی ہیٹ ویو کی لہر سینکڑوں اموات کا سبب بن سکتی ہے۔

    اتوار کے روز بھی یورپ کے کئی ممالک بشمول جرمنی، پولینڈ اور جمہوریہ چیک میں درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹے جبکہ شدید گرمی اب مشرق کی جانب بڑھ رہی ہے۔

    ایکس پر جاری ایک بیان میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریاسس نے کہا کہ 21 جون کے بعد سے یورپ میں ’زیادہ درجہ حرارت سے منسلک‘ 1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ہیٹ سٹریس کو اکثر ’خاموش قاتل‘ کہا جاتا ہے اور یورپ کے گھر، کام کی جگہیں اور سکول ایسی گرمی کو مدِ نظر رکھ کر تعمیر نہیں کیے گئے ہیں۔

    اتوار کی صبح فرانس کی قومی وزارتِ صحت نے بتایا کہ بدھ کے بعد سے ملک میں متوقع تعداد کے مقابلے میں تقریباً 1000 زیادہ اموات ہوئی ہیں۔

    ادارے کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بہت سے 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد ہیں، جبکہ گھروں میں ہونے والی اموات کی تعداد میں 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    ٹیڈروس نے خبردار کیا کہ ’یورپ زمین کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم ہے، جہاں درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں دو گنا رفتار سے بڑھ رہا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ براعظم بھر میں کروڑوں افراد اس وقت ’شدید گرمی کے زیرِ اثر زندگی گزار رہے ہیں، سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، سکول بند ہیں اور بجلی کے نظام دباؤ کا شکار ہیں۔‘

  20. ’حمایت کرنے والوں اور پانی پلانے والوں کو بھی گرفتار کیا جارہا ہے‘: ماہ رنگ بلوچ کی بہن کا پریس کانفرنس میں الزام, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    کوئٹہ

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے اتوار کے روز کوئٹہ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم احتجاجی کیمپ میں وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کی۔

    پریس کانفرنس کے موقع پر پولیس کی نہ صرف بھاری نفری تعینات تھی بلکہ جیل کی ایک گاڑی بھی لائی گئی تھی۔

    پریس کانفرنس کے بعد پی ٹی ایم کے رہنما زبیر شاہ کے علاوہ دو دیگر افراد محمد مری اور محمد اسماعیل مری کو گرفتار کرلیا گیا۔

    ان کی گرفتاری کے خلاف نادیہ بلوچ نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ’نہ ہمیں پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے دی جا رہی بلکہ جو لوگ ہماری حمایت کرنے آتے ہیں یا پانی پلانے آتے ہیں ان کو بھی گرفتار کیا جارہا ہے۔‘

    پریس کانفرنس میں علی احمد کرد ایڈووکیٹ کے علاوہ نیشنل پارٹی کے رہنما چنگیز حئی کرد، این ڈی ایم کے رہنما احمد جان کاکڑ، پی ٹی آئی کے رہنما عبدالحلیم ناصر کے علاوہ بی این پی کے رہنما موجود تھے۔

    ان گرفتاریوں سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نادیہ بلوچ نے کہا کہ ’ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ کو انصاف، آئین اور قانون کے تقاضے پورے کیے بغیر سزا دی گئی۔

    کوئٹہ

    انھوں نے حقوق انسانی کے ملکی اور بین الاقوامی اداروں کے علاوہ اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ اس مبینہ غیر آئینی اور غیر قانونی عدالتی عمل کا نوٹس لیں۔

    اس موقع پر علی احمد کرد ایڈووکیٹ نے بھی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ کے خلاف فیصلے کو انصاف کے تقاضوں کے خلاف قرار دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ایک طرف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیا جارہا ہے دوسری جانب ان کو قانونی تقاضوں کے برعکس سزا دی جارہی ہے۔

    ان کے بقول اس فیصلے سے دنیا میں پاکستان کے عدالتی نظام کا مذاق اڑایا جارہا ہے اس لیے اس فیصلے کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔