افغانستان کے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں فضائی حملوں کے دعوے: افغان طالبان کے چار ڈرونز مار گرائے، پاکستانی فوج
افغان طالبان نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں داعش کے مبینہ ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ ادھر پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں سرحد پار سے بھیجے گئے چار ڈرونز کو پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے بروقت نشاندہی کے بعد ناکام بنا دیا ہے۔
خلاصہ
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے تمام مراحل 'نظام کی پالیسیوں کے دائرہ کار میں اور ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ مکمل اور مسلسل ہم آہنگی' کے تحت آگے بڑھے ہیں۔
امریکہ میں ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکٹریٹری مارکوین مولن کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران کے فُٹ بال ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر 'خوشی میں رقص' کیا تھا۔
ایران کے صوبے کرمانشاہ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں پاسدارانِ انقلاب کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
وینزویلا زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 1700 سے تجاوز، 70 ہزار سے زائد افراد تا حال لاپتہ
برطانیہ میں پناہ گزینوں کے لیے نیا قانون: تارکین وطن کو تقریباً 10 ہزار پاؤنڈزز واپس کرنا ہوں گے
انڈیا کی افغانستان پر پاکستانی حملوں کی مذمت: ’یہ افغانستان کی خود مختاری پر حملہ اور علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے‘
لائیو کوریج
ایرانی صوبے کرمانشاہ میں فائرنگ سے پاسدارانِ انقلاب کے دو اہلکار ہلاک
،تصویر کا ذریعہIRNA
ایران کے صوبے کرمانشاہ
میں فائرنگ کے ایک واقعے میں پاسدارانِ انقلاب کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق کرمانشاہ
میں پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ
کا یہ واقعہ پاوہ شہر میں پیش آیا اور اس میں دو افراد زخمی بھی ہوِئے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے اسے
ایک ’دہشتگرد حملہ‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات متعلقہ ادارے کر
رہے ہیں۔
ہلاک ہونے والے اہلکاروں
کی شناخت خالد خالدینیا اور برہان کرسانی کے ناموں سے ہوئی ہے۔
ڈبلن میں اسلامی عبادت گاہ پر حملے کے بعد 40 سالہ شخص گرفتار
،تصویر کا ذریعہBairbre Holmes/PA Wire
ڈبلن میں ایک اسلامی عبادت گاہ پر مبینہ آتش زنی کے حملے کے بعد ایک چالیس سالہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ واقعہ پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تقریباً 3:35 بجے ٹالبوٹ سٹریٹ پر واقع المدینہ ہال میں پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا تھا۔
تحقیقات کے لیے گرفتار کیے گئے شخص کو ڈبلن کے شمالی شہر کے علاقے میں واقع ایک پولیس سٹیشن میں رکھا گیا ہے۔
آئرش پولیس (گاردا) کی جانب سے آگ لگنے کے اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
آگ سے پراپرٹی کو نقصان پہنچا، تاہم اس پر پر ڈبلن فائر بریگیڈ نے قابو پا لیا ہے۔
آئرش نشریاتی ادارے آر ٹی ای کے مطابق پولیس ایک واضح تفتیشی زاویے پر کام کر رہی ہے اور اسے یہ نہیں لگتا کہ اس حملے کا تعلق نسل پرستی یا انتہائی دائیں بازو کے عناصر سے ہے۔
گاردا نے واقعے سے متعلق معلومات یا اس کی ویڈیو فوٹیج رکھنے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ تحقیقات میں مدد فراہم کریں۔
ایران کے فٹ بال ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر ’خوشی میں رقص‘ کیا: سینیئر امریکی عہدیدار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکٹریٹری مارکوین مولن کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران کے فُٹ بال ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر ’خوشی میں رقص‘ کیا تھا۔
بی بی سی فارسی کے مطابق حکومت کے سپیشل ایونٹ کوآرڈنیشن سینٹر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں خوش ہوں کہ ان کا سفر ختم ہوگیا اور اب وہ واپس نہیں آئیں گے۔‘
’میں ان کے ویزے واپس لینے اور ان کے امریکی سرزمین چھوڑنے پر خوش ہوں، میں نے شاید ایک، دو گانے بھی گائے اور شاید خوشی میں رقص بھی کیا ہو۔‘
خیال رہے ایران کے ورلڈ کپ کے تمام میچز برابر رہے تھے: نیوزی لینڈ کے خلاف میچ دو، دو سے، بیلجیئم کے خلاف صفر، صفر سے اور مصر کے خلاف ایک، ایک گول سے برابر رہا۔
تاہم الجزائر اور آسٹریا کے درمیان میچ تین، تین گول سے برابر ہونے کے بعد ایران ورلڈ کپ سے باہر ہوگیا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنسکیورٹی کے سیکریٹری مارکوین مولن
ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے ایک سینیئر عہدیدار نے ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکریٹری پر بیان ہر دا اٹلانٹک کو بتایا ہے کہ ’ایرانی عوام امریکی حکام کے ناروا سلوک اور جھوٹ سے اچھی طرح واقف ہیں، اس لیے ایران میں کوئی بھی شخص ان کی دشمنی پر مبنی بیانات پر حیران نہیں ہیں۔‘
’یہ بیانات ایک بار پھر ثابت کرتے ہیں کہ امریکی حکام بین الاقوامی قانون یا ان اصولوں کے پابند نہیں ہیں جن کی توقع ایک ایسے میزبان ملک سے کی جاتی ہے، جو عالمی سطح کے کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد کی صلاحیت رکھتا ہو۔‘
امریکہ سے مذاکرات ایران کے رہبر اعلیٰ کے ساتھ ’مکمل اور مسلسل ہم آہنگی‘ کے تحت آگے بڑھے: مسعود پزشکیان
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا
ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے تمام مراحل ’نظام کی پالیسیوں کے دائرہ کار میں اور ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ
خامنہ ای کے ساتھ مکمل اور مسلسل ہم آہنگی‘ کے تحت آگے بڑھے ہیں۔
مسعود پزشکیان نے قم کے اساتذہ کی
انجمن کے ارکان سے ملاقات میں امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمت کو ’سفارت
کاری کی کامیابی‘ قرار دیا اور کہا کہ ’افسوس کے ساتھ بعض حلقے مخالف میڈیا کی
نفسیاتی مہم کا حصہ بنتے ہوئے مذاکراتی ٹیم کو ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں اور قومی
فیصلوں پر سوال اٹھا کر اس کامیابی کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
ایران کے صدر نے کہا کہ حکومت نے ’ملکی
یکجہتی برقرار رکھنے‘ کے لیے بعض بیانات کا جواب دینے سے گریز کیا ہے۔
ایران
اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد بعض سیاسی دھڑوں اور شخصیات
نے اس معاہدے پر سخت تنقید کی ہے۔ خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت
سے متعلق مجتبیٰ خامنہ ای کے پیغام کے اجراء کے بعد تنقید کا لہجہ مزید سخت ہو گیا
تھا۔
وینزویلا زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 1700 سے تجاوز، 70 ہزار سے زائد افراد تا حال لاپتہ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
وینزویلا میں 24 جون کو یکے بعد دیگرے آنے والے شدید زلزلوں کے بعد زندہ بچ جانے والوں کی تلاش ابھی بھی جاری ہے۔ 1700 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہیں اور 70 ہزار سے زیادہ افراد کے لا پتہ ہونے کے اطلاعات ہیں۔
،تصویر کا ذریعہJesus Vargas/Getty Images
امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق بدھ کو پہلے 7.2 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے چند ہی سیکنڈ بعد 7.5 شدت کا دوسرا اور زیادہ طاقت ور جھٹکا محسوس کیا گیا۔
،تصویر کا ذریعہMALDONADO / AFP via Getty Images
زلزلے سے دارالحکومت کراکس سمیت ملک کے شمالی حصوں میں متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں، جبکہ ساحلی شہر لا گوائیرا کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
،تصویر کا ذریعہFederico PARRA / AFP via Getty Images
بین الاقوامی امدادی ٹیمیں بھی وینزویلا پہنچی ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بھاری ملبہ ہٹانے والی مشینری کی کمی امدادی سرگرمیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
بعض علاقوں میں پڑوسی اور خاندان کے افراد بھی اپنے لاپتہ عزیزوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
سرلا بٹ اغوا اور قتل کیس: 36 سال پرانے مقدمے میں یاسین ملک کے خلاف چارج شیٹ, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر
،تصویر کا ذریعہYawar Nazir/Getty Images
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی سٹیٹ
انویسٹیگیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے تین دہائیاں پرانے ایک مقدمے میں کئی برس سے
تہاڑ جیل میں قید علیحدگی پسند کشمیری رہنما یاسین ملک کے خلاف 737 صفحات پر مشتمل
چارج شیٹ عدالت میں پیش کر دی ہے۔
یہ مقدمہ 1990 میں سرینگر کے شیرِ
کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی نرس سرلا بٹ کے اغوا اور قتل سے متعلق ہے۔
سری نگر کی خصوصی عدالت میں جمع کرائی گئی چارج شیٹ میں کالعدم تنظیم جموں کشمیر
لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ یاسین ملک کو اس جرم کا مرکزی منصوبہ ساز
قرار دیا گیا ہے۔
کیس کا پس منظر اور حالیہ چارج شیٹ
سرلا بٹ، جو ایک کشمیری پنڈت خاتون
تھیں، 18 اپریل 1990 کو سرینگر کے صورہ علاقے میں واقع انسٹی ٹیوٹ سے اغوا کی گئیں۔
بعد ازاں ان کی گولیوں سے چھلنی لاش ہسپتال کے نواحی علاقے سے ملی تھی۔ اس وقت جے
کے ایل ایف کی جانب سے ان پر مخبری کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
مارچ 2024 میں جموں و کشمیر کے
ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کے احکامات پر اس مقدمے کو دوبارہ کھول کر ایس آئی اے کے
سپرد کیا گیا تھا۔
ایس آئی اے کے مطابق تقریباً 36 برس
بعد تیار کی گئی اس چارج شیٹ میں نہ صرف یاسین ملک بلکہ جے کے ایل ایف کے چار دیگر
عسکریت پسندوں، خورشید احمد چالکو، عبدالحمید شیخ، غلام محمد ٹپلو اور محمد یوسف
صوفی کو بھی ملوث قرار دیا گیا ہے۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان میں سے تین
ملزمان ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ مبینہ طور پر گولی چلانے والا خورشید چالکو مفرور ہے
اور ایس آئی اے کے مطابق اس وقت پاکستان میں مقیم ہے۔
تحقیقاتی ایجنسی کا مؤقف
ایس آئی اے کا مؤقف ہے کہ ’یہ قتل
کوئی انفرادی واقعہ نہیں تھا بلکہ وادی سے کشمیری پنڈتوں کے بڑے پیمانے پر انخلا
کو یقینی بنانے اور خوف و ہراس پھیلانے کی ایک وسیع تر سازش کا حصہ تھا۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ چارج شیٹ سائنسی
شواہد، چشم دید گواہوں کے بیانات، فرانزک رپورٹس اور جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے
شواہد کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔
ایجنسی کے ترجمان نے کہا کہ ’انصاف
کی فراہمی میں تاخیر کے باوجود قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔‘
یاسین ملک کی موجودہ صورتحال اور
دفاع
یاسین ملک اس وقت نئی دہلی کی تہاڑ
جیل میں قید ہیں اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا
کاٹ رہے ہیں۔ وہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اس نئے مقدمے کی عدالتی کارروائی کا حصہ
بنے۔
اس تازہ پیش رفت پر یاسین ملک کے
وکیل عادل پنڈت کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل کے خلاف چارج شیٹ میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش
نہیں کیا گیا اور یہ محض سرخیاں حاصل کرنے کی کوشش ہے۔
دوسری جانب مبصرین اس چارج شیٹ کو
جموں و کشمیر میں ’لیگیسی کرائمز‘، یعنی پرانے مقدمات، کی تحقیقات سے متعلق موجودہ
حکومت کی سخت گیر پالیسی کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔
کراچی میں خاتون پر تیزاب کا حملہ، مقدمہ درج, ریاض سہیل، بی بی سی اردو، کراچی
،تصویر کا ذریعہIshaq Sarki
کراچی میں بیوٹی پارلر چلانے والی
ایک خاتون پر تیزاب پھینکا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی پیٹھ اور جسم کا دائیں
جانب کا حصہ شدید جھلس گیا۔ خاتون کا دعویٰ ہے کہ ان پر یہ حملہ معمولی تنازع اور
پرانی رنجش کی بنا پر کیا گیا۔
کورنگی کے تھانے میں درج ایف آئی آر
کے مطابق پولیس کے سب انسپکٹر غلام شبیر نے سول ہسپتال کے برنز وارڈ میں زیرِ علاج
متاثرہ خاتون کا بیان قلمبند کیا۔
خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ کراچی
کے علاقے کورنگی میں اپنے دو بچوں کے ساتھ رہتی ہیں اور اپنے فلیٹ کے ساتھ جڑے
دوسرے فلیٹ میں بیوٹی پارلر چلاتی ہیں۔ ان کے مطابق پڑوس میں رہنے والے ایک شخص کے
ساتھ ان کا پہلے سے عدالت اور پولیس کی سطح پر تنازع چل رہا تھا۔
خاتون نے اپنے بیان میں بتایا کہ 21
جون 2026 کو شام تقریباً چار بجے جب وہ سیڑھیاں اتر رہی تھیں تو ملزم نے انھیں
دھکا دے کر گرایا اور ان پر تیزاب پھینک دیا، جس سے ان کی پیٹھ اور دونوں ٹانگیں
جھلس گئیں۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا
ہے، تاہم تا حال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
دوسری جانب سول ہسپتال کے برنز وارڈ
میں زیرِ علاج خاتون کا ایک ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے، جس میں انھوں نے بتایا
کہ تنازع کوئی بڑا نہیں تھا۔ ان کے مطابق مسئلہ ایک پانی کی ٹینکی کا تھا، جس کے
اوور فلو ہونے سے پانی ان کے بیڈ روم میں آ جاتا تھا۔ انھوں نے متعدد بار بلڈر سے
شکایت کی، لیکن جب بلڈر نے ملزمان کو سمجھانے کی کوشش کی تو انھوں نے اسے بھی
دھمکیاں دیں۔
خاتون نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ
واقعے سے پہلے بھی ملزم کا رویہ نا مناسب تھا اور انھوں نے فرسٹ انفامیشن رپورٹ
(ایف آئی آر) درج کرا رکھی تھی۔
خاتون کی یہ ویڈیو گذشتہ روز سوشل
میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر
داخلہ ضیا الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کے
احکامات جاری کیے۔
اس سے پہلے جون کے اوائل میں کوئٹہ کے سول ہسپتال
میں ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکا گیا تھا۔ اس حوالے سے بی بی سی کی رپورٹ
پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
پاکستان میں شدید گرمی، غیر متوقع بارشیں اور ال نینو کے ممکنہ خطرات, شائستہ فاروقی، بی بی سی مانیٹرنگ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
گذشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان شدید
گرمی کی لہروں اور اس کے بعد غیر متوقع بارشوں کا سامنا کر چکا ہے۔ اس سے ظاہر
ہوتا ہے کہ ال نینو مکمل طور پر فعال ہونے سے پہلے ہی ملک میں موسمی حالات غیر
مستحکم ہو چکے ہیں۔
عام طور پر ال نینو جنوبی ایشیا میں زیادہ
گرم اور خشک موسم لاتا ہے، جو 2026 کے لیے پاکستان کی موسمی پیش گوئیوں سے بڑی حد
تک مطابقت رکھتا ہے۔
ماہرین اور حکام کا کہنا ہے کہ اس کے
نتیجے میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت اور مون سون میں کم بارشیں ہوں گی، گرمی کی
شدید لہروں اور بعض علاقوں میں خشک سالی کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ جبکہ یہ امکان
بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موسم گرما میں معمول سے کم سردی پڑے گی۔
ان خدشات کے پیش نظر میڈیا اور
ماہرین ابتدائی وارننگ نظام مضبوط بنانے اور موسم کے حساب سے اقدامات کرنے پر زور
دے رہے ہیں۔
ال نینو اور لا نینا کیا ہیں؟
ال نینو اور لا نینا پیچیدہ موسمی
پیٹرن ہیں جو استوائی بحرالکاہل میں درجہ حرارت کے فرق کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں،
اور ان کے اثرات دنیا بھر پر مرتب ہوتے ہیں۔
’ال نینو‘ کو بعض اوقات اس قدرتی
مظہر کا گرم مرحلہ جبکہ ’لا نینا‘ کو سرد مرحلہ کہا جاتا ہے۔
عام حالات میں، بحر الکاہل میں مشرق
میں سطح کا پانی ٹھنڈا جبکہ مغرب میں گرم ہوتا ہے۔ یہاں ہوائیں مشرق سے مغرب کی
جانب چلتی ہیں اور جیسے جیسے ہوا اس سمت میں چلتی ہے سورج کی تپش پانی کو گرم
کردیتی ہے۔
ال نینو کے دوران، یہ ہوائیں کمزور
یا الٹی سمت میں چلنے لگتی ہیں جس کے باعث سطح کا نسبتاً گرم پانی مشرق کی طرف
بہنے لگتا ہے۔
جبکہ لا نینا کے دوران، مشرق سے مغرب
کی جانب چلنے والی معمول کی ہوائیں مزید تیز ہو جاتی ہیں جو سطح کے گرم پانی کو
مزید مغرب کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔
اس کی وجہ سے سمندر کی گہرائیوں میں
موجود ٹھنڈا پانی اوپر آجاتا ہے اور مشرقی بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجہ
حرارت معمول سے زیادہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔
ال نینو کے دوران عالمی درجہ حرارت
عام طور پر بڑھ جاتا ہے، جبکہ لا نینا میں درجہ حرارت نیچے آجاتا ہے۔
ہو کیا رہا ہے؟
رواں سال مئی میں سندھ اور پنجاب
سمیت پاکستان کے کئی شہروں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا،
جبکہ بعض علاقوں میں اس سے بھی زیادہ گرمی ریکارڈ کی گئی۔
مثال کے طور پر مئی میں سندھ کے بعض
علاقوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا گیا۔
حکام نے اس دوران قومی سطح پر متعدد انتباہ
جاری کیے۔ سات جون کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر
میں گرج چمک، شدید بارشوں اور سیلاب کے خطرات سے متعلق ہدایت نامہ جاری کیا۔
27 جون
کو محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ جولائی کے پہلے ہفتے تک گلگت بلتستان اور خیبر
پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں گلیشیئر پگھلنے سے بننے والی جھیلوں سے پانی سیلاب
کی صورت خارج ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے یہ بھی کہا ہے کہ
2026 کا جنوب مغربی مون سون معمول سے کم بارشیں لا سکتا ہے۔
ادارے کے مطابق مئی میں ال نینو کے
پیدا ہونے کے واضح امکانات موجود تھے، جو پاکستان میں زیادہ درجہ حرارت اور
موسمیاتی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔
اگرچہ سرکاری اداروں نے لوگوں کو
ممکنہ موسمی خطرات کے لیے تیار کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، تاہم شدید موسمی
حالات کے انسانی اثرات اب بھی واضح ہیں۔
گذشتہ ماہ کراچی میں کم از کم 10
ایسی ہلاکتیں رپورٹ کی گئیں جن کا تعلق گرمی سے تھا۔
موسمیاتی تبدیلی کے طویل المدت
رجحانات بھی خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ ڈان اخبار کے مطابق پاکستان اکنامک سروے 26-2025
سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 گذشتہ 65 برسوں میں ملک کا دوسرا گرم ترین سال تھا۔
میڈیا کیا کہہ رہا ہے؟
مقامی میڈیا میں شامل موسمیاتی
ماہرین موجودہ ریکارڈ گرمی اور غیر متوقع موسمی صورتحال کو ممکنہ طور پر آنے والے
شدید ال نینو سے جوڑ رہے ہیں۔
پاکستانی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا
ہے کہ ال نینو خوراک کی پیداوار پر دباؤ بڑھا سکتا ہے، زرعی سرگرمیوں کو متاثر کر
سکتا ہے اور وسیع تر معاشی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں خبردار کیا
گیا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ال نینو سے جڑے موسمیاتی خطرات سے سب
سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
18 جون کو اسلام آباد میں قائم تھنک
ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کی ایک رپورٹ میں
کہا گیا کہ ممکنہ ’سپر ال نینو‘ پاکستان کے لیے کثیر الجہتی چیلنج بن سکتا ہے
کیونکہ اس کے اثرات پانی کے تحفظ، زراعت، صحت، توانائی اور مجموعی معیشت تک پھیل
سکتے ہیں۔
حکومت کیا کر رہی ہے؟
حکام مسلسل موسمی اور آب و ہوا سے
متعلق رجحانات کی نگرانی کر رہے ہیں۔
ڈان کی 18 جون کی رپورٹ کے مطابق، خلائی
تحقیق کے قومی ادارے سپارکو نے شمالی پاکستان میں گلوف کے خطرات کو کم کرنے کے لیے
130 ممکنہ طور پر خطرناک جھیلوں کی نشاندہی کی ہے۔
اگرچہ حکومت گذشتہ چند برسوں کے
دوران پاکستان کلائمیٹ پراسپیریٹی پلان، قومی خشک سالی ایکشن پلان، گلیشیئرز کے
تحفظ سے متعلق منصوبوں اور موسمیاتی مالی معاونت بہتر بنانے جیسے اقدامات متعارف
کرا چکی ہے، تاہم حال ہی میں موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ
پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت مختص رقم 3.5 ارب روپے سے کم کر کے 2.48 ارب روپے
کر دی گئی ہے۔
اس فیصلے پر بعض سیاست دانوں اور
میڈیا حلقوں نے تنقید کی ہے۔
18 جون کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی
برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے
ان مسلسل کٹوتیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے انھیں ’حیران کن‘ قرار دیا۔ انھوں نے خبردار
کیا کہ پاکستان موسمیاتی خطرات کے حوالے سے زیادہ مشکل دور میں داخل ہو رہا ہے۔
ال نینو سے لاحق ممکنہ خطرات کے پیش
نظر ماہرین اور میڈیا نے موسمیاتی تبدیلی، گرمی کی شدید لہروں اور دیگر متعلقہ
چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
متعدد میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے
کہ دنیا کے بڑھتے درجہ حرارت کے پس منظر میں خطے کو ال نینو کے اثرات کا بھی سامنا
ہے، اسے ایک سنجیدہ تنبیہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں حکومتی
تیاریوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو بدلتے موسم کے اثرات
سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
برطانیہ میں پناہ گزینوں کے لیے نیا قانون: تارکین وطن کو تقریباً 10 ہزار پاؤنڈزز واپس کرنا ہوں گے, سیما کوٹیچا، بی بی سی برطانیہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جن
افراد کو برطانیہ میں پناہ دی جائے گی، انھیں ملازمت حاصل کرنے کے بعد اپنی رہائش
اور معاونت پر آنے والے اخراجات کے لیے تقریباً 10 ہزار پاؤنڈزز واپس کرنا ہوں گے۔
یہ نئی شرائط آئندہ امیگریشن اینڈ
اسائلم بل کا حصہ ہوں گی، جو منگل کو پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔ ان قواعد کے
تحت مالی طور پر استطاعت رکھنے والے بالغ افراد سے یہ رقم اقساط میں وصول کی جائے
گی۔
یہ شرط ان پناہ گزینوں پر لاگو ہو گی
جنھیں برطانیہ میں کام کرنے کا حق حاصل ہے، اور مستقل سکونت حاصل کرنے کا اہل بننے
سے قبل انھیں یہ رقم ادا کرنا ہو گی۔
وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ
یہ تبدیلیاں اس بات کی عکاس ہیں کہ ’پناہ
کے لیے معاونت ایک حق ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔‘
ان کے بقول: ’جب لوگ معاشی طور پر
تعاون کرنے اور برطانوی عوام کی فیاضی کا بدلہ چکانے کے قابل ہو جائیں تو ہم ان سے
یہی توقع رکھتے ہیں۔‘
ان تجاویز کے تحت مخصوص آمدن حاصل
کرنے والے تارکینِ وطن کو ایک مقررہ رقم واپس کرنا ہو گی، جس کے بارے میں توقع ہے
کہ وہ 10 ہزار پاؤنڈز ہو گی۔
وزارتِ داخلہ نے ابھی یہ طے نہیں کیا
کہ ماہانہ اقساط کی ادائیگی شروع کرنے کے لیے کم از کم کتنی آمدن درکار ہو گی۔
وزیرِ داخلہ کو مستقبل میں اس رقم
اور ادائیگی کی حد میں رد و بدل کا اختیار حاصل ہو گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے
کہ یہ نظام ’ٹیکس دہندگان کے لیے منصفانہ ہو اور کسی بھی تارکِ وطن کو کسمپرسی کا
شکار نہ کرے۔‘
جن افراد کی پناہ کی درخواستیں مسترد
ہو چکی ہوں گی، وہ بھی اگر حکومتی معیار کے مطابق آمدن حاصل کرتے ہیں تو ان
اخراجات کی واپسی کے پابند ہوں گے۔
برطانوی وزارتِ داخلہ کے مطابق گذشتہ
سال پناہ کے متلاشی افراد کی معاونت پر ٹیکس دہندگان کے تقریباً چار ارب پاؤنڈز
خرچ ہوئے۔
سرکاری رہائش گاہوں میں ایک پناہ گزین
کو ایک رات ٹھہرانے کی اوسط لاگت 23.25 پاؤنڈز جبکہ ہوٹل میں 144 پاؤنڈز ہے۔ اسی
طرح گزارا الاؤنس کی مد میں فی فرد ہفتہ وار 9.95 سے 49.18 پاؤنڈز تک ادا کیے جاتے
ہیں۔
رفیوجی کونسل نے ان منصوبوں کو ’غیر
منصفانہ اور ناقابلِ عمل‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دراصل ’پناہ گزینوں پر
اضافی ٹیکس‘ عائد کرنے کے مترادف ہیں اور اس سے خاندانوں کے لیے اپنی زندگیاں
دوبارہ ترتیب دینا اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا مزید مشکل ہو جائے گا۔
ادارے کے ڈائریکٹر برائے بیرونی امور
عمران حسین نے کہا: ’بہت سے افراد کو پناہ کی معاونت کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے
کیونکہ وزارتِ داخلہ خود ان کی درخواستوں کا جائزہ لیے جانے کے دوران انھیں کام
کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’پناہ کی معاونت
صرف ان لوگوں کو دی جاتی ہے جو بے سر و سامانی کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں، اس لیے
یہ نئی مالی ذمہ داری صرف ان لوگوں کو متاثر کرے گی جو برطانیہ آتے وقت کچھ بھی
ساتھ نہیں لاتے۔‘
آکسفورڈ یونیورسٹی کی مائیگریشن
آبزرویٹری نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ حکومت اس نظام کے ذریعے حقیقت میں کتنی رقم
واپس حاصل کر سکے گی، کیونکہ پناہ گزینوں میں روزگار اور آمدن کی شرح نسبتاً کم
ہے۔
ادارے سے وابستہ ڈاکٹر میڈلین سمپشن
نے کہا کہ مثال کے طور پر، 2023 میں، پناہ گزین کی حیثیت ملنے کے پانچ سال بعد صرف
13 فیصد افراد کی سالانہ آمدن 20 ہزار پاؤنڈز یا اس سے زیادہ تھی، جبکہ باقی یا تو
بے روزگار تھے یا ان کی آمدن اس سے کم تھی۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق 2015 سے 2023
کے درمیان پناہ حاصل کرنے والے 16 سے 64 سال عمر کے ایک چوتھائی افراد کو اسی سال کے
دوران روزگار مل گیا تھا۔
یہ شرح پناہ گزین کا درجہ ملنے کے دو
سال بعد 50 فیصد تک پہنچ گئی۔
پناہ
گزین کی حیثیت ملنے کے آٹھ سال بعد روزگار حاصل کرنے والوں میں سے 37 فیصد کل وقتی
ملازمتوں میں تھے اور ان کی اوسط آمدن 23 ہزار پاؤنڈز تھی، جبکہ صرف 40 فیصد افراد
کم از کم اجرت سے زیادہ کما رہے تھے۔
ورلڈ کپ میں بڑے اپ سیٹ، ناک آؤٹ مرحلے میں جرمنی اور نیدرلینڈز مقابلے سے باہر
،تصویر کا ذریعہBSR Agency/Getty Images
فٹبال ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں
پیراگوئے نے جرمنی جبکہ مراکش نے نیدرلینڈز کو پینلٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دے کر اگلے
مرحلے میں جگہ بنا لی۔
چار مرتبہ کے عالمی چیمپیئن جرمنی کو
پیراگوئے نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پینلٹی شوٹ آؤٹ میں تین کے مقابلے پر چار گول
سے شکست دے کر ورلڈ کپ سے باہر کیا۔ مقررہ اور اضافی وقت کے اختتام تک بھی مقابلہ
ایک، ایک سے برابر تھا، جس کے بعد فیصلہ پینلٹی شوٹ آؤٹ پر ہوا۔
دوسری جانب مراکش نے بھی ایک بڑے اپ
سیٹ میں نیدرلینڈز کو پینلٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دے کر اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی
کر لیا۔ نیدرلینڈز نے دوسرے ہاف میں برتری حاصل کی تھی، تاہم مراکش نے اختتامی
لمحات میں گول کر کے میچ برابر کر دیا۔ اس پر اضافی وقت دیا گیا لیکن اس میں بھی
کوئی گول نہ ہو سکا۔
پھر
پینلٹی شوٹ آؤٹ میں مراکش نے کامیابی حاصل کر لی اور یوں جرمنی کی طرح نیدرلینڈز
بھی فٹبال ورلڈ کپ سے باہر ہو گیا۔
انڈیا کی افغانستان پر پاکستانی حملوں کی مذمت: ’یہ افغانستان کی خود مختاری پر حملہ اور علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے‘
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری
بیان میں اتوار کی شب افغانستان پر کیے گئے پاکستان کے فضائی حملوں کی مذمت کی گئی
ہے۔
29 جون کو جاری کیے گئے بیان میں پاکستان
کے حملوں کو ’کھلی جارحیت، افغانستان کی خود مختاری پر حملہ اور خطے کے امن و
استحکام کے لیے خطرہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان کے نتیجے میں متعدد شہری ہلاک
ہوئے۔
پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اتوار کی شب
’مستند انٹیلیجنس اطلاعات‘ کی بنیاد پر پاکستانی فورسز نے افغانستان کے علاقوں
پکتیکا، پکتیا اور کنڑ میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک تین
اہداف کو نشانہ بنایا اور 25 شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔
تاہم افغان طالبان کے ترجمان نے الزام
عائد کیا ہے کہ پاکستانی فوج کے فضائی حملوں میں سویلین علاقوں کو نشانہ بنایا گیا
جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 36 افراد ہلاک جبکہ 163 زخمی ہوئے ہیں۔
افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام عام شہری ہیں۔
انڈین وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق:
’انڈیا اپنے عزیزوں کو کھونے والے افغان خاندانوں سے تعزیت کا اظہار اور زخمیوں کی
جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ انڈیا ’افغانستان
کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔‘
افغانستان میں پاکستان
کے حملوں پر اپنے بیان میں انڈین وزارت خارجہ نے مزید کہا: ’یہ پاکستان کے مسلسل غیر ذمہ دارانہ
رویے اور اپنی داخلی ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے کے لیے سرحد پار تشدد
کا سہارا لینے کی ناکام کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔‘
اتوار کی شب افغانستان پر پاکستان کے حملوں کے حوالے سے بی بی سی کی رپورٹ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
امریکہ نے معاہدے کی پاسداری کی تو ہم بھی کریں گے: ایرانی صدر
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے
کہ ’اگر امریکہ معاہدے کی پاسداری کرے گا تو ہم بھی اپنی ذمہ داریوں پر عمل
کریں گے۔‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ
میں انھوں نے کہا: ’باہمی اتفاق رائے ایک دو طرفہ عمل ہے۔‘
انھوں
نے مزید کہا کہ ’بے بنیاد دھمکیوں کے جواب میں ہمارا طرزِ عمل یہ ہے کہ فیصلہ سازی
میں عقل اور انسانی وقار پر انحصار کیا جائے اور جب عمل کا وقت آئے تو فیصلہ کن
انداز میں بہادری سے دفاع کیا جائے۔‘
دوحہ میں ایران سے ملاقات شاید اہم ہو، شاید نہ ہو: ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دوحہ
میں ایران کے ساتھ ہونے والی ملاقات ’شاید اہم ہو، شاید نہ ہو۔ ہمیں معلوم ہو جائے
گا۔‘
واشنگٹن میں اپنی صدارتی رہاش گاہ
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے جوہری
ہتھیاروں کے خاتمے کے حوالے سے اجلاس دوحہ میں ہو گا ’لہذا ہم دیکھیں گے کہ یہ
معاملہ کس طرف جاتا ہے۔‘
ٹرمپ نے ایک طرف تو یہ کہا کہ ’ہم اس
محاذ پر بہت اچھی پیش رفت کر رہے ہیں‘ تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ دوحہ میں ہونے
والی ملاقات شاید اہم ہو، شاید نہ ہو۔
صحافیوں سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ کا
کہنا تھا کہ ’عسکری طور پر ہم جیت رہے ہیں، بلکہ میں تو کہوں گا عسکری طور پر ہم
جیت چکے ہیں۔ سادہ سی بات ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہو، اور
ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو گا۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’انصاف کے ساتھ
دیکھا جائے تو وہ (ایران) اس پر رضا مند بھی ہو چکے ہیں۔‘
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے
درمیان دوحہ میں طے شدہ ٹیکنیکل مذاکرات کے حوالے سے گذشتہ روز دونوں ممالک کے
رہنماؤں کی جانب سے متضاد بیان سامنے آئے تھے۔
ایک جانب امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل
میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں کہا تھا کہ ’ایران نے ایک ملاقات کی
درخواست کی ہے، جو کل دوحہ میں ہو گی۔‘ تاہم دوسری جانب ایران کی تکنیکی مذاکراتی
ٹیم کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے منگل کو ہونے والے مذاکرات کی تردید کی تھی۔ اور
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا تھا کہ آئندہ چند روز
میں کسی بھی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔
اس کے بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو بتایا کہ ’سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس ہفتے کے اعلیٰ سطح اجلاسوں میں شرکت کے لیے دوحہ جائیں گے۔‘
آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی صرف ایران کا اختیار ہے: غریب آبادی کا فرانسیسی صدر کے بیان پر ردِعمل
،تصویر کا ذریعہAFP/ Anadolu
ایران کی وزارتِ خارجہ کے نائب وزیر کاظم غریب آبادی نے فرانس کے صدر ایمینوئل میخواں کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی صرف ایران کرے گا اور اور کسی دوسرے ملک کو اس عمل میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق بارودی سرنگوں کی صفائی پر صرف ایران کا اختیار ہے اور اصولی طور پر کسی غیر ملکی مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
غریب آبادی نے موجودہ صورتحال کو حساس اور پیچیدہ قرار دیتے ہوئے فرانس کو خبردار کیا کہ وہ اپنے بیانات اور اشتعال انگیزی کے ذریعے صورتحال کو مزید پیچیدہ نہ بنائے۔
واضح رہے کہ فرانسیسی صدر ایمینوئل میخواں نے حال ہی میں عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کے ہمراہ سکیورٹی امور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ فرانس اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی اور سمندری راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے تعاون کرے گا۔
آئندہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی سطح پر کوئی ملاقات طے نہیں ہے: ایرانی وزارتِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہtasnim
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ آئندہ چند روز میں کسی بھی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ امریکی نمائندوں کے ممکنہ دورۂ قطر کا ایرانی وفد کے دورے سے کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ ایرانی تکنیکی وفد صرف مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے دوحہ جا رہا ہے، خصوصاً شق 11 کے حوالے سے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق مفاہمتی یادداشت کی شق 10 کے تحت امریکہ نے ایرانی تیل کی فروخت کے لیے ضروری لائسنس جاری کر دیے ہیں اور ان پر عملدرآمد کی نگرانی جاری ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ شق 11 کے تحت ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے، جبکہ شق 13 کے مطابق حتمی معاہدے پر مذاکرات کا آغاز ان شقوں پر عملدرآمد کے تسلسل سے مشروط ہے۔
یاد رہے اب سے چند گھنٹے قبل وائٹ ہاؤس نے تصدیق کہ تھی کہ ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کے لیے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ جا رہے ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ’ایران نے ایک میٹنگ کی درخواست کی ہے۔ اس کا انعقاد کل دوحہ میں ہو گا۔‘ تاہم ایران کی تکنیکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے بھی ان مذاکرات کی تردید کی تھی۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ’وٹکوف اور کشنر اس ہفتے ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شرکت کے لیے دوحہ جائیں گے۔‘
کوئٹہ: ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کی سزا کے خلاف احتجاج، فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان, محمد کاظم، بی بی سی اردو - کوئٹہ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سریاب کے علاقے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور مرکزی رہنما صبغت اللہ کو عدالت سے دی جانے والی سزا کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
جبکہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کی سزا کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت سے بی وائی سی کے رہنمائوں کو گوادر میں 2024 میں راجی مچی کے موقع پر ایف سی کے ایک اہلکار کی ہلاکت کے حوالے سے دی جانے والی سزا کے خلاف سریاب میں برما ہوٹل کے علاقے میں احتجاج کی کال دی گئی تھی۔
تاہم برما ہوٹل کے علاقے میں پولیس کی بہت بڑی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جس نے وہاں مظاہرین کو جمع نہ ہونے دیا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر کے وکلا کی ٹیم کے رکن خالد خان بلوچ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ برما ہوٹل کے علاقے سے ایک خاتون کے علاوہ سات افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
بعد میں بی وائی سی کے مطابق بشیر چوک اور سریاب کسٹمز کے علاقے سمیت تین مقامات پر لوگ جمع ہوئے اور وہاں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
بشیر چوک پر مظاہرین نے روڈ پر ٹائر جلائے اور بی وائی سی کے رہنماؤں کی رہائی کے لیے نعرے بازی کی۔
’ڈاکٹر ماہ رنگ اور صبغت اللہ کی سزا کو بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جائے گا‘
خالد خان بلوچ ایڈووکیٹ کا دعویٰ ہے کہ جہاں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے میں کئی قانون نقائص ہیں وہاں مدعا علیہان کو شفاف ٹرائل کے حق سے محروم کیا گیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’جس مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ اور صبغت اللہ کو سزا ہوئی اس کی ایف آئی آر کے اندراج میں بلاجواز تاخیر کی گئی جبکہ استغاثہ کے بیان میں ایف سی کی گاڑی اور ایف سی اہلکار کی ہلاکت کی تاریخوں میں تضاد ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اسی مقدمے میں کئی ماہ بعد ایک شریک ملزم کو شامل کیا گیا جسے گوادر میں ایک عدالت نے بری کر دیا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ گوادر کی عدالت نے شریک ملزم کو بری کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں ایف آئی آر کے اندراج کے علاوہ دیگر بعض قانونی تضادات کی نشاندہی کی تھی جن کو انسداد دہشت گردی کوئٹہ کی عدالت کے فیصلے میں نظر انداز کردیا گیا۔
خالد بلوچ ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا کہ مبینہ حکومتی جبری کاروائیوں کے تحت ڈاکٹر ماہ رنگ اور دیگر کے خلاف مقدمات کو جیل منتقل کیا گیا اور محکمہ داخلہ نے بعض ایسے اقدامات کیے جن سے شفاف ٹرائل کے امکانات ختم ہو گئے۔
انھوں نے کہا کہ انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کرنے پر مدعا علیہان اور ان کے وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔
تاہم عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان اور ان کے وکلا کو شفاف ٹرائل کے تمام مواقع فراہم کیے گئے تھے۔
وٹکوف اور روبیو آج ایران کے بارے میں کانگریس کو بریفنگ دیں گے: وائٹ ہاؤس
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو آج ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں کانگریس کو بریفنگ دیں گے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ یہ بریفنگ فون کے ذریعے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کو دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے آج بتایا کہ امریکہ اور ایران، تہران کی درخواست پر منگل کے روز قطر کے شہر دوحہ میں ملاقات کریں گے۔
کچھ ہی دیر بعد وائٹ ہاؤس نے کہا کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ان مذاکرات کے لیے دوحہ روانہ ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر نمائندوں کی موجودگی میں اعلیٰ سطحی بات چیت کے ساتھ ساتھ تکنیکی مذاکرات بھی ہوں گے۔
تہران نے اب تک اس خبر پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قطر میں منگل کی ملاقات کے بارے میں اعلان سے قبل، ایران کی مذاکراتی ٹیم کے تکنیکی سربراہ کاظم غریب آبادی نے بعض میڈیا اداروں کی ایسی رپورٹس کی تردید کی تھی۔
آبنائے ہرمز سے 115 بحری جہازوں کا کامیاب انخلا
،تصویر کا ذریعہ@USAmbUN
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے خلیجی خطے میں انخلا کی کارروائی شروع کیے جانے کے بعد اب تک تقریباً 115 بحری جہاز، جن پر 2500 ملاح سوار تھے، آبنائے ہرمز سے بحفاظت نکل چکے ہیں۔
لبنانی فوج کے کمانڈر اور صدر کی سینٹکام کے کمانڈر سے ملاقات
،تصویر کا ذریعہLebanonnews
لبنان کی فوج کے کمانڈر نے خطے میں امریکی فوج (سینٹکام) کے کمانڈر سے ملاقات کی ہے۔
لبنان کی فوج کے بیان کے مطابق، ’لبنان اور خطے کی تازہ ترین پیش رفت‘ روڈولف ہیکل اور ایڈمرل بریڈ کوپر کے درمیان گفتگو کا محور تھی۔
اس بیان میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ’فریم ورک معاہدے کے کامیاب نفاذ کی اہمیت‘ پر زور دیا گیا۔
جمعے کے روز، لبنان اور اسرائیل نے امریکی ثالثی میں ایک سہ فریقی معاہدے کے ’فریم ورک‘ پر دستخط کیے، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ ہے۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے بھی لبنان کی حکومت کے سرکاری اکاؤنٹ پر اطلاع دی کہ انھوں نے پیر کے روز صدارتی محل میں ایڈمرل بریڈ کوپر، امریکہ کے ناظم الامور کیتھ ہینیگن، اور جنگ بندی کے طریقہ کار کی ٹیم کے سربراہ جنرل جوزف کلیرفیلڈ سے ملاقات کی ہے۔
صدر عون کے دفتر کے بیان کے مطابق، یہ ملاقات لبنان اور اسرائیل کے درمیان فریم ورک معاہدے کے نفاذ کے لیے تیاریوں پر مرکوز تھی۔
صدر نے اس ملاقات میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ’لبنان کو سلامتی اور استحکام کے حصول میں مدد دینے پر‘ شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کی حکومت ملک کی مسلح افواج کے ذریعے اپنی عملداری کو جنوبی سرحد تک بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔
اسی دوران، لبنان کی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری، جو حزب اللہ کے اتحادی اور ایران کے قریب سمجھے جاتے ہیں، نے اس معاہدے کی مذمت کی ہے۔
حزب اللہ لبنان کا کہنا ہے کہ لبنان کی حکومت کے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات اور یہ معاہدہ ملک کے آئین کے خلاف ہے۔
آبنائے ہرمز کے جنوب میں عمان کے قریب راستے سے جہازوں کی آمدورفت میں کمی آئی ہے: بی بی سی فیکٹ چیک
،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہازوں پر حملے کے بعد آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے جہازوں کی آمد و رفت کم ہو گئی ہے۔
بی بی سی ویریفیکیشن یونٹ نے ان دو جہازوں پر حملے کے بعد آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا ہے جو جنوبی راستے سے سفر کر رہے تھے۔ یہ راستہ عمان کے ساحل کے قریب واقع ہے۔
ایران نے گذشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ اس راستے کا استعمال تہران کی منظوری کے بغیر ’ناقابل قبول اور خطرناک‘ ہے اور جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک متبادل راستہ متعارف کرایا تھا۔
اب میرین انٹیلی جنس کمپنی کیپلر کے ڈیٹا کے مطابق، کل (اتوار) صرف 16 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں آئل ٹینکر، کنٹینر جہاز اور مال بردار جہاز شامل تھے۔
اس سے ایک دن قبل، یعنی سنیچر کو مجموعی طور پر 35 جہاز، اور جمعہ کو 44 جہاز اسی راستے سے گزرے تھے۔
بی بی سی ویریفیکیشن یونٹ کے تجزیے، جو کیپلر کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے ایک ہفتہ قبل سنیچر اور اتوار کے روز عمان کے ساحل کے قریب جنوبی راستہ ایران کے ساحل کے قریب شمالی راستے کے مقابلے میں زیادہ مصروف تھا۔
اس رپورٹ کے مطابق، تقریباً 26 فیصد جہازوں نے گزرنے کے دوران اپنی پوزیشن رپورٹ کرنے والے سسٹم کو بند کر دیا تھا۔