لائیو, اپنی حدود پہچانیں اور تہران کو سخت فیصلے لینے پر مجبور نہ کریں: ایران کی بحرین کو تنبیہ

ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی کا کہنا ہے کہ بحرینیوں کو سخت تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ اپنی حدود پہچانیں، اپنے مستقبل کے ساتھ ایسے کھیل نہ کھیلیں، اور ایران کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور نہ کریں۔

خلاصہ

  • ایران اور امریکہ کے درمیان حملے روکنے اور دوحہ میں مذاکرات پر 'اتفاق' ہو گیا: امریکی میڈیا کا دعویٰ
  • معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی پر فیصلہ کن کارروائی کریں گے: عراقچی
  • یورپ میں ہیٹ ویو سے منسلک 1300 سے زائد اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں،عالمی ادارہ صحت
  • ایرانی وزیر خارجہ اور عراق کے وزیر اعظم کی ملاقات، جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور
  • اسرائیل کو لبنان میں فوجی کارروائیوں سے فوری طور پر روکا جائے: ایران کا امریکہ سے مطالبہ

لائیو کوریج

  1. اپنی حدود پہچانیں اور تہران کو سخت فیصلے لینے پر مجبور نہ کریں: ایران کی بحرین کو تنبیہ

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی نے بحرین کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کو سخت فیصلے لینے پر مجبور نہ کریں۔

    ایرانی خبررساں ادرے تسنیم کے مطابق، علی اکبر ولایتی کا کہنا ہے کہ ’بحرینیوں کو سخت تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ اپنی حدود پہچانیں، اپنے مستقبل کے ساتھ ایسے کھیل نہ کھیلیں، اور ایران کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور نہ کریں۔‘

    یاد رہے کہ سنیچر کی روز پاناما کے پرچم بردار ایک جہاز پر ڈرون حملے کے بعد امریکی فوج نے ایران بھر میں متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا جن میں فوجی سازوسامان، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی تنصیبات اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز شامل تھے۔

    اس حملے کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کویت اور بحرین میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

    بعد ازاں بحرین نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کا روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ بحرینی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے اتوار کو ان خطرناک ایرانی حملوں میں استعمال ہونے والے متعدد پروجیکٹائلز کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔

    بیان میں کہا گیا کہ ملک کی فوج چوکس ہے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

  2. ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر بنائی گئی مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس مسقط میں منعقد

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے متعلق بنائی گئی مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس مسقط میں منعقد ہوا۔

    کاظم غریب آبادی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ فریقین نے خلیجی ساحلی ممالک کے خودمختار حقوق اور رواں ماہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام پر تبادلۂ خیال کیا۔

  3. امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

    تیل ٹینکر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد سوموار کے کے روز تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل کی رفتار دوبارہ سست ہو گئی ہے۔

    خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 58 سینٹ یا 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 72.57 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 88 سینٹ یا 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 70.11 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

    آئی این جی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’تیل کی منڈی کو اب بھی کافی خطرات کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود مارکیٹ کے شرکا اس بات پر توجہ مرکوز کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اگر تیل کی ترسیل میں بحالی جاری رہی تو اس کے عالمی توازن پر کیا اثرات ہوں گے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’یہ اطمینان حیران کن ہے اور اگر رسد کی بحالی سست رہی تو اس سے قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خطرہ واضح طور پر موجود ہے۔‘

    آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی ترسیل میں اضافے کے بعد گذشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 10.6 فیصد کمی ہوئی تھی۔ یہ مسلسل تیسرا ہفتہ تھا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی تھی۔

  4. اسرائیل کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کا زیرِ زمین کمپلیکس تباہ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اسرائیل کی جانب سے قائم کردہ سکیورٹی زون میں واقع مجدل کے علاقے میں حزب اللہ کا ایک زیرِ زمین شدت پسندی کا مرکز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ زیرِ زمین کمپلیکس ایرانی حکومت کی فراہم کردہ ٹیکنالوجی اور مہارت کی مدد سے تعمیر کیا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس کمپلیکس کے ساتھ منسلک سرنگ کا راستہ 200 میٹر سے زیادہ طویل اور 25 میٹر سے زیادہ گہرائی میں بنایا گیا تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجیوں کو اس مرکز کے اندر سینکڑوں ہتھیار اور چار لانچنگ شافٹس ملے جن کا رخ اسرائیل کی جانب تھا۔

  5. بعض اندرونی و بیرونی عناصر ایرانی قوم کے اتحاد کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں: صدر مسعود پزشکیان

    پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایران کے خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ بعض ’اندرونی اور بیرونی عناصر‘ ایران کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    انھوں نے یہ بات 28 جون کو ایران کے مذہبی مرکز قم کے دورے کے دوران اعلیٰ مذہبی شخصیات بشمول آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی سے ملاقات میں کہی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کے تناظر میں حکومت کے لیے حمایت کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

    آیت اللہ مکارم شیرازی کو جنگ کے بعد کی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر بریفنگ دیتے ہوئے پزشکیان نے ملک کے اندر اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’ملک کے اندر اور باہر بعض حلقے قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے اور معاہدے کے عمل کو متاثر کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔‘

    ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات پر قدامت پسند حلقوں کی جانب سے تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت سے ’ملک کے معاشی اور سماجی مسائل کے ایک بڑے حصے‘ کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    آیت اللہ مکارم شیرازی نے جنگ اور اس کے بعد کے معاملات سے نمٹنے میں حکومت کی کارکردگی کو سراہا۔ انھوں نے حالیہ معاہدوں کے ’ممکنہ مثبت اثرات‘ کا بھی ذکر کیا۔

    تاہم انھوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایسے کسی قدم سے گریز کیا جائے جو ’دشمنوں کو حوصلہ دے سکتا ہو۔‘

    اس کے علاوہ ایرانی صدر نے قم میں رہبرِ اعلیٰ کے نمائندے آیت اللہ سید محمد سعیدی سے ایک الگ ملاقات کی جس کے دوران مسعود پزشکیان نے ان سیاسی اور سفارتی کوششوں کا جائزہ پیش کیا جس کے باعث ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہوا۔

    انھوں نے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے ’تزویراتی اور رہنما کردار‘ کو بھی اجاگر کیا۔

    صدر نے اس معاہدے کے نتیجے میں ’لبنان میں نسبتی امن و استحکام‘ اور ’کچھ اقتصادی مواقع‘ کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا سہرا رہبرِ اعلیٰ کی رہنمائی اور حکومت کی عمل درآمد کو جاتا ہے۔

  6. معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی پر فیصلہ کن کارروائی کریں گے: عراقچی

    عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    عراق کے صدر نزار امیدی سے ملاقات کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے معاہدے کے بعض نکات خصوصاً اس کے پہلے پیراگراف کی خلاف ورزی خطے میں امن اور استحکام کی بحالی کی راہ میں ایک سنجیدہ رکاوٹ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم مفاہمتی یادداشت پر نیک نیتی کے ساتھ اور ’کمٹمنٹ کے بدلے کمٹمنٹ‘ کے اصول کے تحت عمل درآمد کے خواہاں ہیں۔‘

    تاہم ایران کے وزیرِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ’معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی پر ہم دوسرے فریق کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کریں گے۔‘

  7. ایران اور امریکہ کے درمیان حملے روکنے اور دوحہ میں مذاکرات کرنے پر ’اتفاق‘ ہو گیا: امریکی میڈیا کا دعویٰ

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی اشاعتی ادارے ایگزیوز نے خبر دی ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان خلیجِ فارس میں حملے روکنے اور آئندہ چند دنوں میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں براہِ راست مذاکرات کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    اتوار کی شام ایگزیوز کے رپورٹر باراک راوِد نے ایک سینیئر امریکی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے۔ ’اہلکار کا کہنا ہے کہ دونوں فریق منگل کو اپنے اختلافات کے حل کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ملاقات کریں گے، جہاں آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔‘

    ایگزیوز کے مطابق مذاکرات کا مرکز آبنائے ہرمز ہو گا۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار آبنائے ہرمز کے انتظام میں امریکی مداخلت کو قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھی امریکی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ امریکہ اور ایران ایک دوسرے پر حملے نہیں کریں گے اور جہازوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہو گی۔

    امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ’مفاہمتی یادداشت کے تمام حصوں پر تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے۔ فی الحال دونوں فریق پیچھے ہٹ جائیں گے اور جہاز آزادانہ طور پر نقل و حرکت کر سکیں گے۔‘

    عراق کے دورے کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت کے تحت آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا رکھنے کی ذمہ داری ’صرف‘ تہران پر عائد ہوتی ہے، اور کسی بھی قسم کی مداخلت اس عمل میں خلل ڈال سکتی ہے اور کشیدگی میں اضافہ کر سکتی ہے۔

  8. یورپ میں ہیٹ ویو سے منسلک 1300 سے زائد اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں، عالمی ادارہ صحت

    یورپ ہیٹ ویو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ کے مطابق یورپ میں موسمِ گرما کے آغاز پر آنے والی غیر معمولی ہیٹ ویو کی لہر سینکڑوں اموات کا سبب بن سکتی ہے۔

    اتوار کے روز بھی یورپ کے کئی ممالک بشمول جرمنی، پولینڈ اور جمہوریہ چیک میں درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹے جبکہ شدید گرمی اب مشرق کی جانب بڑھ رہی ہے۔

    ایکس پر جاری ایک بیان میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریاسس نے کہا کہ 21 جون کے بعد سے یورپ میں ’زیادہ درجہ حرارت سے منسلک‘ 1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ہیٹ سٹریس کو اکثر ’خاموش قاتل‘ کہا جاتا ہے اور یورپ کے گھر، کام کی جگہیں اور سکول ایسی گرمی کو مدِ نظر رکھ کر تعمیر نہیں کیے گئے ہیں۔

    اتوار کی صبح فرانس کی قومی وزارتِ صحت نے بتایا کہ بدھ کے بعد سے ملک میں متوقع تعداد کے مقابلے میں تقریباً 1000 زیادہ اموات ہوئی ہیں۔

    ادارے کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بہت سے 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد ہیں، جبکہ گھروں میں ہونے والی اموات کی تعداد میں 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    ٹیڈروس نے خبردار کیا کہ ’یورپ زمین کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم ہے، جہاں درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں دو گنا رفتار سے بڑھ رہا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ براعظم بھر میں کروڑوں افراد اس وقت ’شدید گرمی کے زیرِ اثر زندگی گزار رہے ہیں، سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، سکول بند ہیں اور بجلی کے نظام دباؤ کا شکار ہیں۔‘

  9. ’حمایت کرنے والوں اور پانی پلانے والوں کو بھی گرفتار کیا جارہا ہے‘: ماہ رنگ بلوچ کی بہن کا پریس کانفرنس میں الزام, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    کوئٹہ

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے اتوار کے روز کوئٹہ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم احتجاجی کیمپ میں وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کی۔

    پریس کانفرنس کے موقع پر پولیس کی نہ صرف بھاری نفری تعینات تھی بلکہ جیل کی ایک گاڑی بھی لائی گئی تھی۔

    پریس کانفرنس کے بعد پی ٹی ایم کے رہنما زبیر شاہ کے علاوہ دو دیگر افراد محمد مری اور محمد اسماعیل مری کو گرفتار کرلیا گیا۔

    ان کی گرفتاری کے خلاف نادیہ بلوچ نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ’نہ ہمیں پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے دی جا رہی بلکہ جو لوگ ہماری حمایت کرنے آتے ہیں یا پانی پلانے آتے ہیں ان کو بھی گرفتار کیا جارہا ہے۔‘

    پریس کانفرنس میں علی احمد کرد ایڈووکیٹ کے علاوہ نیشنل پارٹی کے رہنما چنگیز حئی کرد، این ڈی ایم کے رہنما احمد جان کاکڑ، پی ٹی آئی کے رہنما عبدالحلیم ناصر کے علاوہ بی این پی کے رہنما موجود تھے۔

    ان گرفتاریوں سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نادیہ بلوچ نے کہا کہ ’ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ کو انصاف، آئین اور قانون کے تقاضے پورے کیے بغیر سزا دی گئی۔

    کوئٹہ

    انھوں نے حقوق انسانی کے ملکی اور بین الاقوامی اداروں کے علاوہ اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ اس مبینہ غیر آئینی اور غیر قانونی عدالتی عمل کا نوٹس لیں۔

    اس موقع پر علی احمد کرد ایڈووکیٹ نے بھی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ کے خلاف فیصلے کو انصاف کے تقاضوں کے خلاف قرار دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ایک طرف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیا جارہا ہے دوسری جانب ان کو قانونی تقاضوں کے برعکس سزا دی جارہی ہے۔

    ان کے بقول اس فیصلے سے دنیا میں پاکستان کے عدالتی نظام کا مذاق اڑایا جارہا ہے اس لیے اس فیصلے کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

  10. ایرانی وزیر خارجہ اور عراق کے وزیر اعظم کی ملاقات، جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراق کے دورے کے موقع پر وہاں کے وزیر اعظم علی فتح زیدی سے ملاقات کی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق عراق کے وزیر اعظم سے ملاقات میں عباس عراقچی نے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر بات کی اور ساتھ ہی عراق سمیت علاقائی ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی زمین کو ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔

    انھوں نے ایران اور عراق کے درمیان تعاون جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔

    عراقی وزیر اعظم نے بھی جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کی حمایت کی اور کہا کہ عراق خطے میں امن اور استحکام کے لیے مذاکرات کو اہم سمجھتا ہے۔

  11. اسرائیل کو لبنان میں فوجی کارروائیوں سے فوری طور پر روکا جائے: ایران کا امریکہ سے مطالبہ

    عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت اسرائیل کا لبنان سے انخلا اور اس کی فوجی کارروائیوں کا خاتمہ لازمی ہے۔‘

    عراقی دارالحکومت بغداد کے سرکاری دورے کے دوران انھوں نے اس مؤقف پر زور دیا کہ خطے میں کسی بھی معاہدے کی کامیابی کے لیے یہ اقدامات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ایرانی خبر رساں اداروں مہر نیوز اور ارنا کی جانب سے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ اسماعیل بقائی نے بھی اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کو تمام ضروری اقدامات کرنے چاہییں تاکہ اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں بند کرے۔‘

    اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے مطابق اپنی اصولی پالیسیوں کے تحت لبنان کی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور تمام لبنانی شہریوں کے وقار و سلامتی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔‘

    اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ’ایران کا ایک بنیادی مطالبہ اسرائیلی کارروائیوں کا لبنان میں خاتمہ اور ایران کے خلاف جاری جنگ کا بھی اختتام ہے، جس پر ایران مسلسل زور دیتا رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق پر مکمل عمل درآمد، یعنی لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کا خاتمہ اور تمام مقبوضہ لبنانی علاقوں سے افواج کا انخلا، خطے میں پائیدار استحکام کے لیے ضروری شرط ہے۔‘

  12. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی بھی قسم کی مداخلت خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بنے گی۔‘
    • ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مطالبہ کیا ہے کہ لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کے غیر مشروط انخلا کے لیے فوری طور پر ایک واضح ’ٹائم ٹیبل‘ یا وقت طے کیا جائے۔
    • اسرائیلی وزیر خارجہ گیدعون سار نے ایک بار پھر کہا ہے کہ لبنان میں ’امن اور سلامتی‘ کے حصول کے لیے حزب اللہ کا غیر مسلح ہونا لازمی شرط ہے۔
    • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی شام میں قائم کیے گئے اپنے سکیورٹی زون میں کارروائی کے دوران متعدد ’مسلح شدت پسندوں‘ کو ہلاک کر دیا ہے۔
    • پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کلاس سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔
    • پاناما کے پرچم بردار جہاز پر حملے کے جواب میں ایران پر امریکی کارروائی کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں امریکہ کے آٹھ فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔
    • کویت کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے بار بار کی جانے والی ’جارحیت‘ ہماری خود مختاری کی خلاف ورزی ہے۔
    • فرانس کے شمال مشرقی علاقے میں واقع قصبے ’ٹومبلین‘ میں سکائی ڈائیورز کو لے جانے والا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
  13. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔