لبنان کی صورتحال ایک اشارہ ہے کہ ٹرمپ، ایران کے ساتھ انتہائی اہم معاہدے کے مستقبل پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتے, ٹام بیٹ مین، بی بی سی کے نمائندہ برائے امریکی محکمہ خارجہ
جنوبی لبنان میں گذشتہ رات ہونے والی مہلک کشیدگی ایک اور اشارہ ہے کہ ٹرمپ، ایران کے ساتھ انتہائی اہم سمجھے جانے والے معاہدے کے مستقبل پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتے۔ یہ حقیقت اس ہفتے انھیں مزید غصے اور مایوسی کا شکار بنا رہی ہے۔
اس معاہدے، جسے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) بھی کہا گیا، میں لبنان میں جنگ بندی کے ساتھ ساتھ امریکہ اور ایران کے درمیان بھی ایک سمجھوتے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم زمینی صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے، جہاں تہران کا الزام ہے کہ ٹرمپ اسرائیل کو قابو کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
ٹرمپ نے خود بھی اس مؤقف کو تقویت دی جب انھوں نے اپنے اتحادی، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف غیر معمولی سخت الزامات عائد کیے اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ وہ حزب اللہ کے خلاف کارروائی میں بلاوجہ عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
جنوبی لبنان میں گذشتہ رات کی جھڑپیں ٹرمپ کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن گئی ہیں۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز ایک علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھیں، جس کے جواب میں گروپ نے اسرائیلی فوجیوں کو اینٹی ٹینک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
اسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان میں کم از کم 47 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ حزب اللہ کے حملے میں اسرائیل کے چار فوجی مارے گئے، جن میں ایک بٹالین کمانڈر بھی شامل تھا۔
وائٹ ہاؤس کا اصرار ہے کہ اب جنگ بندی نافذ ہے، تاہم اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قوم پرست عناصر مطالبہ کر رہے ہیں کہ ’پورا لبنان جل جانا چاہیے‘، جبکہ تہران نے ان وزرا کو ’نسل کشی پر یقین رکھنے والا موت کا فرقہ‘ قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کے لیے اس معاہدے کا برقرار رہنا اس بات پر منحصر ہے کہ دونوں فریق اپنے سخت گیر عناصر کو قابو کریں اور تحمل کا مظاہرہ کریں، لیکن فی الحال اس بات کے آثار بہت کم نظر آ رہے ہیں۔