آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

قطر کا امریکہ ایران مذاکرات میں تسلسل کا خیرمقدم: ایرانی قیادت نے بحران کو بردباری سے سنبھالا اور ٹرمپ بھی امن کے لیے مخلص ہیں، شہبازشریف

قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان التھانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات میں تسلسل کا خیرمقدم کرتا ہے جبکہ برگن سٹاخ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت نے اس پورے بحران کو بڑی سنجیدگی اور بردباری سے سنبھالا ہے جبکہ صدر ٹرمپ بھی امن کے لیے مخلص ہیں۔

خلاصہ

  • امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کا پہلا دور 80 منٹ جاری رہا
  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں ایران-امریکہ مذاکرات کے آغاز پر کہا کہ یہ ایک تاریخی ملاقات ہے اور اس کا مقصد ایرانی عوام کے ساتھ اپنے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرنا اور ان تک رسائی حاصل کرنا ہے۔
  • وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران نے خطے کی صورتِ حال کو بہتر کرنے کے لیے 'وقار' کا مظاہرہ کیا جبکہ امریکی صدر ٹرمپ بھی امن کے لیے مخلص ہیں
  • ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران امریکی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتا، بہتر ہے وہ اپنے بیانات سے باز رہے۔

لائیو کوریج

  1. ایران کے منجمد اثاثوں کی ممکنہ مالیت 25 ارب ڈالر ہے جو بتدریج جاری کیے جائیں گے: ایگزیکٹیو نائب صدر محمد جعفر

    ایران کے ایگزیکٹیو نائب صدر محمد جعفر کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کی بنیاد پر ایران کے منجمد اثاثے ’مکمل طور پر لیکن آہستہ آہستہ جاری کیے جائیں گے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ جاری کیے جانے والے ایرانی اثاثوں کی کل رقم ممکنہ طور پر 25 ارب ڈالر ہوگی۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے ساتھ گفتگو میں محمد جعفر کا کہنا تھا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ قطر کا دورہ اس بات کا تعین کرنے کے لیے کیا گیا تھا کہ ایران کے اثاثے کیسے اور کس شکل میں جاری کیے جائیں گے۔

    ایران کے ایگزیکٹو نائب صدر نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جنگ ختم ہونے سے عوام پر اقتصادی دباؤ میں کچھ کمی آئے گی۔

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تہران کمزوری کی پوزیشن سے مذاکرات کی میز پر آیا ہے۔

  2. وزیرِ داخلہ محسن نقوی ایران کے شہر مشہد پہنچ گئے

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی ایران کے شہر مشہد پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ امام رضا کے مزار پر جائیں گے اور پھر حکام سے بات چیت کے لیے تہران روانہ ہوں گے۔

    اطلاعات کے مطابق پاکستانی وزیر داخلہ ایرانی حکام کے ساتھ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی بحالی پر بات چیت کرنے والے ہیں۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا ہے کہ پاکستانی وزیر داخلہ کا دورہ ایران امریکہ مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کا تسلسل ہے۔

  3. جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے، کم از کم پانچ افراد ہلاک

    جنوبی لبنان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی جانب سے نئی فضائی کارروائیوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں، حالانکہ اسرائیل نے جمعہ کے روز حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

    لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں اور ڈرونز نے نبطیہ کے علاقے میں متعدد حملے کیے، جن کے نتیجے میں رہائشی عمارتیں اور مکانات تباہ ہو گئے۔ اسی دوران اسرائیلی فوج کی توپ خانے سے بھی علاقے پر شدید گولہ باری کی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کا خاتمہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدے کا ایک اہم حصہ قرار دیا گیا تھا۔

    تاہم اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ’پورا لبنان جلنا چاہیے‘، یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب اسرائیلی فوج نے لبنان میں اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اطلاعات کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹیکوف ایران کے ساتھ جوہری پروگرام سے متعلق ممکنہ معاہدے کے لیے مذاکرات کے پہلے دور میں شرکت کی غرض سے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو رہے ہیں۔

  4. خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں مسافر گاڑیوں کے قریب دھماکے، سات افراد ہلاک متعدد زخمی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے قریب ڈومیل کے علاقے میں مسافر گاڑیوں کے قریب وقفے وقفے سے دو دھماکوں میں سات افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے ہیں۔

    ضلعی پولیس افسر یاسر آفریدی نے مقامی صحافیوں کو بتایا ہے کہ دھماکوں میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ ڈومیل کے علاقے میں تھانہ احمد زئی کی حدود میں پیش آیا۔

    مقامی علاقے سے تعلق رکھنے والے امن کمیٹی کے رہنما نور دراز نے مقامی صحافیوں کو بتایا ہے کہ ’مقامی ڈرائیور اللہ نور کی گاڑی سواریوں کو لے کر روانہ ہوئی تھی اور جیسے مرکہ بیرہ کے پاس پہنچی وہاں دھماکہ ہوا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس گاڑی میں ڈرائیور کے خاندان کے لوگ بھی تھے اور چند دیگر افراد بھی سوار تھے جن پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا گیا۔‘

    پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مسافر گاڑی پر دھماکے کے بعد زخمیوں کو لے جانے والی گاڑی پر بھی کچھ فاصلہ پر ریموٹ کنٹرول سے دھماکہ کیا گیا اس میں میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔‘

  5. پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی میں سالانہ بنیادوں پر 15.28 فیصد اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 15.28 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی وجہ اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق موجودہ ہفتے کے اختتام پر سالانہ بنیاد پر مہنگائی میں اضافے کی اہم وجوہات میں پیٹرول کی قیمت میں 44.73 فیصد، ڈیزل میں 44.39 فیصد، بجلی کے نرخوں میں 59.40 فیصد، آٹے میں 58.72 فیصد اور مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) میں 52.66 فیصد اضافہ شامل ہے۔

    بیورو کے مطابق اشیائے خوردونوش سے متعلق مہنگائی بھی بلند سطح پر رہی، جبکہ پیاز، ٹماٹر، آلو، بکرے کے گوشت، گائے کے گوشت اور آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    بیورو شماریات کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر بھی اشاریے میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 0.46 فیصد اضافہ ہوا۔

    گزشتہ ہفتے کے دوران جن اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا، ان میں ٹماٹر (16.65 فیصد)، آلو (6.82 فیصد)، مرغی کا گوشت (5.60 فیصد)، واشنگ صابن (1.16 فیصد)، گڑ (0.65 فیصد)، بکرے کا گوشت اور ایل پی جی (0.51 فیصد فی کس)، شرٹنگ (0.48 فیصد)، لانگ کلاتھ (0.43 فیصد)، انڈے (0.35 فیصد)، تازہ دودھ (0.29 فیصد) اور دہی (0.26 فیصد) شامل ہیں۔

    دوسری جانب ہفتہ وار بنیاد پر جن اشیا کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، ان میں پیاز (2.98 فیصد)، لہسن (2.51 فیصد)، کیلے (1.28 فیصد)، پیٹرول (1.06 فیصد)، ماش کی دال (1.04 فیصد)، پسا ہوا نمک (0.95 فیصد)، مونگ کی دال (0.61 فیصد)، آٹا (0.53 فیصد)، ڈیزل (0.51 فیصد) اور چنے کی دال (0.04 فیصد) شامل ہیں۔

    سالانہ بنیاد پر سب سے زیادہ مہنگی ہونے والی اشیا میں پیاز سرفہرست رہا، جس کی قیمت میں 79.76 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے بعد ٹماٹر (68.59 فیصد)، پہلی سہ ماہی کے بجلی کے نرخ (59.40 فیصد)، آٹا (58.72 فیصد)، ایل پی جی (52.66 فیصد)، پیٹرول (44.73 فیصد)، ڈیزل (44.39 فیصد)، بکرے کا گوشت (16.30 فیصد)، مرچ پاؤڈر (15.20 فیصد)، گائے کا گوشت (12.86 فیصد)، لہسن (10.74 فیصد) اور ڈبل روٹی (8.67 فیصد) شامل ہیں۔

    اس کے برعکس، سالانہ بنیاد پر آلو کی قیمت میں 41.09 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ دیگر اشیا جن کی قیمتوں میں کمی ہوئی ان میں انڈے (26.98 فیصد)، چنے کی دال (22.32 فیصد)، چینی (17.51 فیصد)، پسا ہوا نمک (14.09 فیصد)، مسور کی دال (12.25 فیصد)، مونگ کی دال (5.48 فیصد) اور مرغی کا گوشت (4.24 فیصد) شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ رات وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان کیا ہے جس ہفتہ وار مہنگائی پر اثر اگلے ہفتے میں اشیا کی قیمتوں میں ظاہر ہو گا۔

  6. ایران امریکہ مذاکرات: عباس عراقچی کی سوئٹزرلینڈ امریکی وفد سے مُمکنہ ملاقات: امریکی میڈیا کا دعویٰ

    امریکی خبر نشریاتی ادارے ایگزیوس نے خبر دی ہے کہ ’ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سنیچر کے روز سوئٹزرلینڈ کا دورہ کر سکتے ہیں، تاہم ان کے سفر کے دن اور وقت کے بارے میں ابھی حتمی نہیں اور اس میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔

    بی بی سی فارسی نے امریکی نشریاتی ادارے ایگزیوس کا حوالے دیتے ہوئے مزید یہ بھی کہا ہے کہ ’اس سے قبل یہ اطلاع بھی دی گئی تھی کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹیکوف سوئٹزرلینڈ روانہ ہو چکے ہیں، جبکہ امریکی انتظامیہ کے ایک اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر بھی وہاں موجود ہیں۔‘

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے پر ابتدائی مذاکرات کا پہلا دور سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں متوقع ہے، تاہم مذاکرات کی درست تاریخ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔‘

    دوسری جانب قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی، جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان اہم ثالثوں میں شمار کیے جاتے ہیں جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ پہنچ چُکے ہیں۔

    ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو امریکی وفد کی قیادت کرنا تھی تاہم انھوں نے جمعرات کی شام آخری وقت میں اپنا دورہ منسوخ کر دیا۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ وہ آئندہ دنوں میں سوئٹزرلینڈ جائیں گے یا نہیں۔

  7. امریکہ کا جنوبی افریقہ میں ایڈز سے بچاؤ کے لیے جاری پروگراموں کی فنڈنگ روکنے کا اعلان

    امریکی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی افریقہ میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جاری پروگراموں کی مالی معاونت بند کر رہی ہے۔

    جنوبی افریقہ میں 80 لاکھ سے زائد افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جو دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے بظاہر اس فیصلے کو جنوبی افریقہ کی جانب سے سفید فام اقلیتی افریکی برادری کے تحفظ میں مبینہ ناکامی سے جوڑا ہے، تاہم جنوبی افریقی حکومت ان الزامات کو بارہا مسترد کر چکی ہے۔

    جنوبی افریقہ کی وزارتِ صحت نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’اگرچہ اسے اس فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا تاہم ملک کافی عرصے سے خود انحصاری کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ سنہ 2025 تک امریکہ، صدر کے ایمرجنسی فنڈ برائے ایڈز ریلیف کے تحت جنوبی افریقہ کو ایچ آئی وی سے نمٹنے کے لیے سالانہ تقریباً 40 کروڑ ڈالر فراہم کر رہا تھا۔

    تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔

    اقتدار میں آنے کے کچھ ہی عرصے بعد صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ جنوبی افریقہ کی متعدد پالیسیاں مساوی مواقع کو ختم کر رہی ہیں اور ’نسلی بنیادوں پر نظر انداز کیے جانے والے‘ زمین مالکان کے خلاف تشدد کو ہوا دے رہی ہیں۔

    جنوبی افریقی حکومت نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ’بلیک اکنامک ایمپاورمنٹ پالیسی نسلی امتیاز کے دور سے چلی آنے والی معاشی ناہمواریوں کے ازالے کے لیے ضروری ہے۔‘

  8. بحیرۂ اسود میں پاناما کے پرچم بردار جہاز پر ڈرون حملہ، عملے کا ایک اہلکار ہلاک، دو زخمی

    پاناما کی بحری امور کی نگرانی کرنے والی انتظامیہ کے مطابق ’بحیرۂ اسود میں پاناما کے پرچم تلے چلنے والے ایک تجارتی جہاز پر ڈرون حملے کے نتیجے میں عملے کا ایک رکن ہلاک جبکہ دو دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق اتھارٹی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے، تاہم حملے کے باوجود جہاز اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔

    پاناما کے حکام نے حملے کے مقام یا اس کے ذمہ دار عناصر کی نشاندہی نہیں کی، تاہم انھوں نے بحری جہازوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بحیرۂ اسود میں روسی اور یوکرینی پانیوں کے ساتھ ساتھ بحیرۂ آزوف کے علاقوں سے گریز کریں۔

    واضح رہے کہ پاناما دنیا کا سب سے بڑا شپ رجسٹری ملک ہے، جہاں عالمی تجارتی بحری بیڑے کا تقریباً 16 فیصد حصہ پاناما کے پرچم کے تحت رجسٹرڈ ہے۔

  9. بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو تنصیبات کے معائنے کی دعوت نہیں دی: ایران

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی دعوت دی ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے یہ دعویٰ کیا کہ ’بعض ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی یہ رپورٹس بے بنیاد ہیں کہ ایران نے آئی اے ای اے کو اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے مدعو کیا ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی شق 8 کے مطابق جوہری معاملے پر مذاکرات 60 روزہ مدت کے اندر ہوں گے، بشرطیکہ دستاویز کی شق 13 میں درج مذاکرات کے آغاز کی تمام پیشگی شرائط پوری کی جائیں۔

    بقائی کے مطابق مفاہمتی یادداشت کی شق 9 یہ واضح کرتی ہے کہ 60 روزہ مدت کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال برقرار رکھی جائے گی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اسی بنیاد پر بوشہر جیسے جوہری مراکز میں جاری معائنہ کا عمل معمول کے مطابق جاری رہے گا، تاہم ان تنصیبات کے معائنے، جہاں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے باعث آئی اے ای اے کی رسائی معطل کر دی گئی تھی مذاکراتی عمل اور اس کے نتائج سے مشروط ہوں گے۔

    ایرانی ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ مذکورہ تنصیبات سے متعلق کسی بھی قسم کی آئندہ پیش رفت جاری مذاکرات اور ان کے حتمی نتائج کے مطابق طے کی جائے گی۔

  10. ایران کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’اسرائیل کی یہ پالیسیاں علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔‘

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق جمعہ کی شب جاری ہونے والے ایک بیان میں اسماعیل بقائی نے لبنان کے مختلف حصوں پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’ان حملوں کے نتیجے میں درجنوں لبنانی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، جبکہ مُلک کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔‘

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’قابض اور نسل کش صہیونی حکومت‘ کی جانب سے کشیدگی میں مسلسل اضافے کے علاقائی امن و سلامتی پر نہایت سنگین اور فوری اثرات مرتب ہوں گے۔‘

    اسماعیل بقائی نے موجودہ صورتحال کا براہِ راست ذمہ دار امریکہ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’18 جون 2026 کو جنگ کے خاتمے سے متعلق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 1 کا حوالہ دیا، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جنگ بندی تمام محاذوں پر ہوگی۔‘

    انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران اپنے مفادات، سلامتی اور اپنے اتحادیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ’تمام ضروری اقدامات‘ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

  11. پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کے درمیان اچھے تعلقات ہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔

    یہ بات ٹرمپ نے ایگزیوس کو دیے ایک انٹرویو کے دوران کہی۔

    دراصل انٹرویو کے دوران ٹرمپ سے پوچھا گیا تھا کہ عالمی سطح پر ان کے دو پسندیدہ رہنما کون ہیں تو انھوں نے چینی صدر شی جن پنگ اور انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے نام لیے۔

    مودی کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ جنگوں سے دور رہتے ہیں جو کہ دانشمندانہ ہے۔ ان کے پاس 1.5 ارب لوگوں کی آبادی ہے۔۔۔ مودی عظیم رہنما ہیں اور ہم ان کے ساتھ بہت کاروبار کرتے ہیں۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ اب امریکہ انڈیا کے ساتھ ’منصفانہ کاروبار کرتا ہے۔ وہ ہمارا فائدہ اٹھاتے تھے۔ میں انھیں قصوروار نہیں سمجھتا کیونکہ ہمارے سیاستدان احمق تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ انڈیا نئے نظام سے خوش نہیں لیکن ’مودی عظیم ہیں۔ صدر شی عظیم ہیں۔ اگر آپ دونوں پر فلم بنانا چاہیں تو آپ کو ہالی وڈ میں کوئی مرد نہیں ملے گا۔‘

    مودی کی تعریف کرنے کے بعد ٹرمپ نے پاکستان کا ذکر کیا اور کہا کہ ’فیلڈ مارشل (عاصم منیر) عظیم ہیں اور ان کے وزیر اعظم بھی۔ دونوں کے آپس میں اچھے تعلقات ہیں۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ یہ منظر ’خوبصورت‘ ہے کہ ’فوجی آدمی پوری طرح وزیر اعظم کا احترام کرتا ہے۔‘

    ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ پاکستانی رہنماؤں نے ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت طے کرنے میں امریکہ کی مدد کی تھی کیونکہ وہ ’ایرانیوں کو جانتے تھے۔‘

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم نے انھیں (ایران کو) فوجی سطح پر پوری طرح شکست دی۔ پاکستان، جو ہمارے قریب ہے، نے مجھ سے درخواست کی کہ مزید حملے نہ کیے جائیں۔‘

  12. برطانیہ میں دو ٹرینوں کے بیچ تصادم، امدادی کارروائیاں جاری

    برطانیہ میں دو ٹرینوں کے بیچ تصادم کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ریل، میری ٹائم اینڈ ٹرانسپورٹ یونین کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ہمیں بیڈفورڈ اور لوٹن کے درمیان ٹرینوں کے تصادم اور ٹرین کے عملے اور مسافروں کو لگنے والی شدید چوٹوں کی اطلاعات پر گہری تشویش ہے۔‘

    ریل آپریٹر تھیمز لنک کے مطابق مقامی وقت ساڑھے پانچ بجے سے لوٹن اور بیڈفورڈ کے درمیان تمام لائنز بلاک ہیں۔

    شام سے کئی سروسز تاخیر کا شکار ہیں اور امکان ہے انھیں منسوخ کر دیا جائے گا۔

    ریل آپریٹر نے ٹرینوں پر سوار مسافروں کو آن بورڈ رہنے اور مزید معلومات کا انتظار کرنے کو کہا ہے۔

    تھیمز لنک کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے والے ادارے امدادی کارروائی کر رہے ہیں۔ انھوں نے مزید سوالات کے لیے برطانوی ٹرانسپورٹ پولیس سے رابطہ کرنے کو کہا ہے۔

    ٹرانسپورٹ سیکریٹری ہیڈی الیگزینڈر نے کہا ہے کہ وہ ان اطلاعات پر ’گہری تشویش‘ رکھتی ہیں اور جائے وقوعہ پر موجود امدادی اہلکاروں کی شکر گزار ہیں۔

  13. نیتن یاہو کو اسرائیلی عوام اور ٹرمپ دونوں کے دباؤ کا سامنا, شالیٹ گالیگر، بی بی سی نیوز/یروشلم

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اس وقت دو الگ گروہوں کی طرف سے شدید دباؤ میں ہیں۔

    صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ لبنان میں لڑائی رُک جائے، اس سے پہلے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں رکاوٹ پیدا ہو۔ لیکن اسرائیلی عوام کے بعض حلقے اور کئی اسرائیلی رہنما چاہتے ہیں کہ جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں کیونکہ وہ حزب اللہ کو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

    اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے سکیورٹی امور کے وزیر ایتامار بن گویر نے کہا ہے کہ ’پورے لبنان کو جلنا ہو گا۔‘

    نیتن یاہو کے لیے اپنے سب سے طاقتور عالمی اتحادی اور اپنے عوام کے درمیان توازن پیدا کرنا مشکل ہو گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے فعال رہنے تک لبنان سے اپنی فوجیں واپس نہیں بلائیں گے۔ ان کے بقول سرحدی علاقے میں رہنے والے اسرائیلیوں کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے۔

    حزب اللہ کے مطابق جب تک اسرائیلی فوج لبنان میں موجود ہے تب تک ہتھیار نہیں ڈالے جائیں گے۔

    یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ جنگ بندی چند ہی گھنٹوں میں کمزور کیوں پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ بہت سے مبصرین تو یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ یہ جنگ بندی درحقیقت کبھی شروع ہی نہیں ہوئی تھی۔

  14. لبنان میں جنگ بندی مگر اسرائیلی حملے جاری، ہم اس بارے میں ہم تک کیا جانتے ہیں؟

    لبنان کے جنوبی علاقوں میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں کی شدت حالیہ عرصے میں سب سے زیادہ رہی ہے۔

    یہ بمباری جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ہاتھوں چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں کی گئی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ’حزب اللہ کے ٹھکانوں‘ پر 150 سے زیادہ حملے کیے ہیں۔

    لبنان میں امن کے حالیہ وعدے اکثر مزید جنگ پر منتج ہوئے ہیں۔

    اب ایک نئی جنگ بندی نافذ ہے لیکن کوئی پائیدار امن معاہدہ تاحال دور دکھائی دیتا ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ سرحد کے ساتھ ایک ایسا سکیورٹی زون قائم کرنا چاہتا ہے جہاں حزب اللہ کی موجودگی نہ ہو۔

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل اس معاہدے کا احترام کرے گا تو وہ بھی اس پر عمل کرے گی۔

  15. مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا ذمہ دار امریکہ ہو گا، چاہے وہ لبنان میں ہو: عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں طے کردہ وعدوں کی کسی بھی خلاف ورزی کی ذمہ داری ’امریکہ پر عائد ہو گی۔‘

    عراقچی نے آج دوپہر اپنے پاکستانی ہم منصب سے ٹیلیفون پر گفتگو میں کہا کہ طے پانے والے معاہدے کا مقصد ’تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ‘ ہے جس میں لبنان بھی شامل ہے اور اس معاہدے کی کسی بھی ’خلاف ورزی کا ذمہ دار امریکہ ہو گا۔‘

  16. بریکنگ, تشدد کے خاتمے کے لیے لبنان، اسرائیل مذاکرات واحد حل ہیں: روبیو

    لبنانی صدر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ تعمیر نو کی منصوبہ بندی، معاشی بحالی اور تشدد کے ’متواتر ادوار‘ کے خامتے کے لیے لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات واحد حل ہیں۔

    محکمۂ خارجہ کے ترجمان کے مطابق روبیو نے کہا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات میں امریکہ لبنانی ریاست کی مکمل حمایت کرے گا۔

  17. جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملے جاری، جنوبی لبنان میں دھماکوں کا سلسلہ نہ تھم سکا, سامنتھا گرین وِل - جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ سے رپورٹنگ کر رہی ہیں

    شام 16:00 بجے کی جنگ بندی بظاہر صرف نام کی جنگ بندی دکھائی دیتی ہے۔

    ہم نے دن جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ کے ایک ہسپتال میں گزارا، جو ایک پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہے جہاں سے شہر اور اردگرد کے دیہات کا 360 درجے کا منظر دکھائی دیتا ہے۔

    ہماری ٹیم نے وہاں موجودگی کے دوران ایک درجن سے زیادہ اسرائیلی فضائی حملے گنے۔

    جب ہم وہاں سے روانہ ہو رہے تھے تو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ تاہم ہسپتال میں ہمارے مقامی رابطوں نے بتایا کہ دھماکے جاری رہے۔

    نبطیہ ایمبولینس سروس کے مطابق جنگ بندی کے مقررہ وقت کے بعد بھی کم از کم 12 حملے ہو چکے ہیں۔

    شہر کے لوگوں کو اس بات کی بہت کم امید ہے کہ اس جنگ بندی کا احترام کیا جائے گا۔

  18. پاکستان میں سونے کی قیمت میں فی تولہ 14 ہزار 900 روپے کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں جمعے کے روز سونے کی فی تولہ قیمت میں 14 ہزار 900 روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن (اے پی ایس جی جے اے) کے مطابق اس کمی کے بعد 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت کم ہو کر چار لاکھ 38 ہزار 36 روپے ہو گئی، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 2 ہزار 70 روپے کمی کے بعد تین لاکھ 87 ہزار 615 روپے تک آ گئی۔

    ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی منڈی میں سونے کی قیمت 149 ڈالر کمی کے بعد چار ہزار 305 ڈالر فی اونس پر بند ہوئی۔ پاکستان میں سونے کی مقامی قیمتوں کا تعین عموماً عالمی نرخوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس میں فی اونس 20 ڈالر کا پریمیم شامل کیا جاتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔

    تجزیہ کار احسن الیاس نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سونے کی قیمت پاکستان میں پہلے ہی اوور کاسٹ چل رہی تھی، اور آج بین الاقوامی سطح پر کمی کے بعد اس میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ آج چین کی مارکیٹ بند تھی، اس کے ساتھ امریکہ کے فیڈرل ریزرو بینک کی جانب سے شرح سود میں استحکام کی وجہ سے سونے کی طلب میں کمی دیکھی گئی، جس کے باعث قیمت کم ہوئی اور اس کا اثر پاکستان میں قیمت میں کمی کی صورت میں سامنے آیا۔

    دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔ فی تولہ چاندی 413 روپے سستی ہو کر چھ ہزار 946 روپے کی سطح پر آ گئی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 373 روپے کمی کے بعد پانچ ہزار 895 روپے ہو گئی۔

  19. بریکنگ, مجبوری میں ہم نہیں، ایران ملا، انھیں ایک پیسہ بھی نہیں ملے گا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ہم ایران سے مجبوری میں نہیں ملے، ایران ملا۔ وہ ختم ہو چکے ہیں! ہم 60 دن پورے کریں گے۔‘

    انھوں نے ٹروتھ سوشل پر اپنی مختصر پوسٹ میں لکھا کہ ’انھیں (ایران کو) کوئی رقم نہیں ملے گی، ایک پیسہ بھی نہیں۔‘

  20. ایران کی آبنائے ہرمز بندش کی خبروں کی تردید، چاروں ممالک چاہیں تو مذاکرات کے لیے انتظامات میسر ہیں: سوئٹزرلینڈ

    اپنی پریس کانفرنس میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ’آبنائے ہرمز کی بندش‘ سے متعلق میڈیا کی بعض خبروں کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا۔

    بقائی نے کہا: ’18 جون 2026 کو جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کی مسلح افواج نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے ہیں اور اس راستے پر جہاز رانی کا عمل جاری ہے۔‘

    پاسداران انقلاب کے قریبی ذرائع ابلاغ اور ایران کے سکیورٹی ذرائع نے اپنی رپورٹوں میں لبنان پر اسرائیل کے حملوں کے تناظر میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی خبریں نشر کیں تھیں۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان بدھ کو اعلان کیے گئے مفاہمتی معاہدے کا مطلب عملی طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور تقریباً تمام دیگر معاملات پر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہے۔

    ادھر سوئٹزرلینڈ کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ چاروں ممالک چاہیں تو مذاکرات کے لیے انتظامات میسر ہیں۔

    سوئس وفاقی محکمہ خارجہ (ای ڈی اے) کے میڈیا ترجمان یوناس مونٹانی نے کہا کہ اس حوالے سے فی الحال مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔