آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

قطر کا امریکہ ایران مذاکرات میں تسلسل کا خیرمقدم: ایرانی قیادت نے بحران کو بردباری سے سنبھالا اور ٹرمپ بھی امن کے لیے مخلص ہیں، شہبازشریف

قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان التھانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات میں تسلسل کا خیرمقدم کرتا ہے جبکہ برگن سٹاخ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت نے اس پورے بحران کو بڑی سنجیدگی اور بردباری سے سنبھالا ہے جبکہ صدر ٹرمپ بھی امن کے لیے مخلص ہیں۔

خلاصہ

  • امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کا پہلا دور 80 منٹ جاری رہا
  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں ایران-امریکہ مذاکرات کے آغاز پر کہا کہ یہ ایک تاریخی ملاقات ہے اور اس کا مقصد ایرانی عوام کے ساتھ اپنے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرنا اور ان تک رسائی حاصل کرنا ہے۔
  • وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران نے خطے کی صورتِ حال کو بہتر کرنے کے لیے 'وقار' کا مظاہرہ کیا جبکہ امریکی صدر ٹرمپ بھی امن کے لیے مخلص ہیں
  • ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران امریکی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتا، بہتر ہے وہ اپنے بیانات سے باز رہے۔

لائیو کوریج

  1. تین صفحات پر مشتمل امریکہ، ایران ’مفاہمتی یادداشت‘ کے اہم نکات کیا ہیں؟

    14 نکات پر مشتمل یہ معاہدہ، جسے مفاہمتی یادداشت کہا جا رہا ہے، کے مطابق ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور اس میں ملک کی ’تعمیر نو اور اقتصادی ترقی‘ کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کا بھی وعدہ کیا گیا ہے‘ اگرچہ امریکہ کے لیے اس میں حصہ ڈالنا ضروری نہیں۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے اس معاہدے کو ’کارکردگی پر مبنی‘ قرار دیا، جس کے تحت ایران کو اسی صورت میں فائدہ ہو گا جب وہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے گا۔

    اگرچہ معاہدے کے متن میں کئی سوالات کے جواب موجود نہیں اور بہت سے اہم مسائل ابھی بھی حل طلب ہیں لیکن اس کے اہم نکات کے بارے میں یہ معلومات دستیاب ہیں۔

    نکتہ 1: ’تمام محاذوں پر‘ تنازعے کا خاتمہ

    معاہدے کے پہلے پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی ’تمام محاذوں پر‘ فوجی کارروائیوں کے ’فوری اور مستقل‘ خاتمے کا اعلان کریں گے جن میں لبنان بھی شامل ہے۔

    امریکی نقطہ نظر سے، ٹرمپ کو اس بات پر تشویش رہی ہے کہ حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیاں ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو متاثر کر سکتی ہیں۔

    دوسری جانب تہران بارہا کہتا رہا ہے کہ وہ توقع کرتا ہے کہ لبنان بھی اس جنگ بندی کے دائرہ کار میں شامل ہو گا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے بدھ کے روز کہا کہ لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا کوئی بھی تسلسل ’یادداشت کی خلاف ورزی‘ ہو گا اور ’ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔‘

    معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ’آج کے بعد‘ کوئی بھی فریق فوجی کارروائی شروع نہیں کرے گا یا ایک دوسرے کو دھمکی نہیں دے گا اور لبنان کی ’علاقائی سالمیت اور خودمختاری‘ کو یقینی بنایا جائے گا۔

    دستاویز کے مطابق حتمی معاہدہ اس تنازعے کے مستقل ’خاتمے‘ کا باعث بنے گا۔

    یہ واضح نہیں کہ اسرائیل اس نکتے پر کیسے ردِعمل ظاہر کرے گا۔

    نکتہ 2: ’اندرونی معاملات‘ کا احترام

    دستاویز کے متن میں جسے امریکی حکام کے ساتھ ایک کال کے دوران صحافیوں کو لفظ بہ لفظ پڑھ کر سنایا گیا، کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران ایک دوسرے کی ’خودمختاری اور علاقائی سالمیت‘ کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں گے۔

    امکان ہے کہ ایرانی حکومت کے مخالف گروہ اس شق کو منفی انداز میں دیکھیں گے۔

    اس سال کے آغاز میں ٹرمپ نے ایران کے مختلف شہروں میں پھیلنے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین سے کہا تھا کہ ’مدد آ رہی ہے۔‘

    نکتہ 3: 60 دن کی قابلِ توسیع مدت

    دستاویز کے تیسرے نکتے کے مطابق، امریکہ اور ایران 60 دن کی ’زیادہ سے زیادہ‘ مدت میں حتمی معاہدے پر بات چیت اور اسے مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہوں گے تاہم باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

    اب 60 دن کا یہ وقت شروع ہو چکا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ نے بدھ کی رات فرانس میں پیلس آف ورسائی میں جی 7 اجلاس کے بعد ایک عشائیے کے دوران ایران سے متعلق اس دستاویز پر دستخط کیے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق اس پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی دستخط کیے ہیں۔

    اس سے قبل، ٹرمپ اور ایرانی حکام دونوں نے عندیہ دیا تھا کہ اس ہفتے کے آخر میں جنیوا میں ایک باضابطہ دستخطی تقریب ہوگی۔ یہ واضح نہیں کہ آیا اب بھی یہ تقریب منعقد ہوگی یا نہیں۔

    نکتہ 4: امریکہ ناکہ بندی ختم کرے گا

    چوتھے نکتے میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شروع کرے گا اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد ’کسی بھی رکاوٹ یا پابندی‘ کو ہٹا دے گا۔

    معاہدے اور ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ ناکہ بندی مکمل طور پر 30 دن کے اندر ختم کر دی جائے گی۔

    اس دوران، ایرانی بندرگاہوں سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد کو اس تناسب کے مطابق رکھا جائے گا جس میں ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرے گا۔

    حتمی معاہدے پر دستخط کے 30 دن کے اندر، امریکہ نے ’ایران کے قریب‘ سے اپنی افواج ہٹانے کا عہد بھی کیا ہے۔

    عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی فوج اس حالت اور تعیناتی پر واپس آ جائے گی جہاں وہ 28 فروری کو کشیدگی شروع ہونے سے پہلے موجود تھی۔

    نکتہ 5: آبنائے ہرمز

    معاہدے کے ایک حصے میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران ’اپنی بھرپور کوششوں کے ساتھ انتظامات کرے گا‘ تاکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنائی جا سکے، بغیر کسی فیس کے۔

    جنگ کے آغاز اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سے یہ امریکہ کا ایک اہم مقصد رہا کیونکہ اس کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔

    دستاویز میں کہا گیا ہے کہ آمدورفت ’فوری طور پر‘ بحال ہونا شروع ہو جائے گی، جس میں تکنیکی اور فوجی ’رکاوٹوں‘ کو دور کرنے اور بارودی سرنگوں کی صفائی جیسے اقدامات کو مدنظر رکھا جائے گا۔

    اس سے قبل بریفنگ کے دوران حکام نے بار بار یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔

    دستاویز کے مطابق طویل مدت میں ایران عمان اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک ’وسیع تر‘ معاہدہ تشکیل دے گا۔

    ایک اہلکار کے مطابق امریکہ کا ماننا ہے کہ ایران اپنے حقوق کو ’سخت انداز میں‘ استعمال کرے گا لیکن خلیجی ممالک کبھی بھی ایسے مستقبل کو قبول نہیں کریں گے جس میں فیس یا ٹول کا نظام نافذ ہو۔

    نکتہ 6: ایران کی تعمیر نو کے لیے مالی وسائل

    مفاہمتی یادداشت کے چھٹے نکتے کے مطابق امریکہ اور علاقائی شراکت دار، ایران میں تعمیرِ نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر (224 ارب پاؤنڈ) کے ایک ’حتمی، باہمی طور پر طے شدہ منصوبے‘ کو تیار کریں گے۔

    حتمی طریقۂ کار پر حتمی معاہدے کے 60 دن کے اندر اتفاق کیا جائے گا اور تمام لائسنس، رعایتیں اور اجازت نامے امریکہ کی جانب سے فراہم کیے جائیں گے۔

    تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ مالی طور پر اس میں شامل ہوگا۔

    ایک اہلکار نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کو ’ایک پائی بھی‘ ادا کرنے یا اس فنڈ میں حصہ ڈالنے کا پابند نہیں۔

    اہلکار نے کہا کہ اگر ایران ’مناسب رویہ اختیار کرے‘ تو متحدہ عرب امارات کے حکام امریکہ کی منظوری کے ساتھ ایران میں ایک بجلی گھر تعمیر کر سکتے ہیں۔

    ٹرمپ اور دیگر حکام نے امریکی عوام کو یہ واضح کرنے کے لیے خاصی کوشش کی ہے کہ امریکہ براہِ راست ایران کو ادائیگی نہیں کرے گا، جس کے بارے میں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ سنہ 2015 کے ایران اور اوبامہ انتظامیہ کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔

    نکتہ 7: پابندیوں کا خاتمہ

    امریکہ ایران کے خلاف تمام معاشی پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت عائد پابندیاں اور وہ پابندیاں بھی شامل ہیں جو امریکہ نے یکطرفہ طور پر نافذ کی تھیں۔

    تاہم اس کے لیے وقت کا تعیّن واضح نہیں۔

    دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے شیڈول پر حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر اتفاق کیا جائے گا لیکن دونوں فریق اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آئندہ مذاکرات میں اس معاملے کو ’فوری طور پر‘ حل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    ایران ان پابندیوں سے شدید متاثر ہوا ہے اور امریکہ کی ایک مہم ’آپریشن اکنامک فیوری‘ کا مقصد تہران کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کرنا رہا ہے۔

    نکتہ 8: کوئی جوہری ہتھیار نہیں

    ایران اس بات پر متفق ہو گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور نہ ہی خریدے گا اور دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے ہیں کہ تہران کے پاس پہلے سے موجود افزودہ یورینیئم کے معاملے کو حل کیا جائے گا۔

    اس مواد کو سنبھالنے کا کوئی طریقہ واضح نہیں کیا گیا۔

    دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس کا طریقۂ کار بعد کے مذاکرات میں ’باہمی طور پر طے کیا جائے گا‘، تاہم کم از کم اسے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای سے) کی نگرانی میں اسی مقام پر ’کم افزودہ‘ کیا جائے گا۔

    ایک سینیئر امریکی اہلکار نے اسے امریکہ کے لیے ’بڑی کامیابی‘ قرار دیا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اس سال کے آغاز میں آپریشن ایپک فیوری شروع کرنے کا ’99 فیصد‘ مقصد تھا۔

    چونکہ امریکہ نے اس معاہدے کو کارکردگی سے مشروط قرار دیا ہے، اس لیے ساتویں نکتے میں بیان کردہ پابندیوں میں نرمی کا انحصار آٹھویں نکتے پر ایران کی جانب سے عمل درآمد پر منحصر ہو گا۔

    نکات 9 اور 10: ’سٹیٹس کو‘

    معاہدے کے نویں اور 10 ویں نکتے میں کہا گیا ہے کہ افزودہ یورینیم کے معاملے سے نمٹنے تک ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ’سٹیٹس کو‘ برقرار رہے گا۔

    عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا۔

    اس دوران وہ تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور متعلقہ خدمات، جیسے بینکاری لین دین اور نقل و حمل، کی برآمد کے لیے چھوٹ جاری کرے گا۔

    نکتہ 11: منجمد فنڈز

    یہ نکتہ مذاکرات میں بڑی رکاوٹ رہا۔

    ایران طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ اس کے منجمد اثاثے جاری کیے جائیں تاکہ ملک کو ایک اور معاشی سہارا مل سکے۔

    دستاویز کے گیارہویں نکتے میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد امریکہ ’منجمد یا محدود فنڈز کو مکمل طور پر دستیاب بنانے‘ کا عہد کرتا ہے اور اس کے طریقۂ کار پر مذاکرات کے دوران اتفاق کیا جائے گا۔

    بدھ کے روز ایک امریکی اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ مفاہمتی یادداشت کے بعد جاری رہنے والے مذاکرات کے دوران کچھ اثاثے جاری کیے جائیں گے تاکہ جب ایران معاہدے کے پہلوؤں پر عمل کرے جیسے اپنے انتہائی افزودہ یورینیئم کے معاملے کو حل کرنے کا آغاز کرے تو اسے انعام دیا جا سکے۔

    نکات 12 تا 14: نگرانی اور حتمی مذاکرات

    دستاویز کے آخری چند نکات میں اس حوالے سے تفصیل بیان کی گئی ہے کہ یہ معاہدہ عملی طور پر کیسے آگے بڑھے گا۔

    ان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور مستقبل کے معاہدے کی پاسداری کی نگرانی کے لیے ایک ’طریقۂ کار‘ قائم کریں گے تاہم عملی طور پر اس کی شکل کیا ہو گی، یہ واضح نہیں۔

    اس کے بعد، جب مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو جائیں گے اور اس پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا تو امریکہ اور ایران حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں گے۔

    اور آخر میں مفاہمتی یادداشت میں واضح کیا گیا ہے کہ حتمی معاہدے کی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔

  2. اُمید ہے کہ جب واپس جائیں تو ہمارے پاس معاہدے کی زبردست دستاویز ہو: شہباز شریف

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مذاکراتی عمل کے آغاز سے قبل گفتگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی مدبرانہ قیادت کی وجہ سے مذاکرات ممکن ہوئے۔

    ’میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان کی بصیرت افروز اور نہایت متحرک قیادت کے باعث آج یہ اجلاس ممکن ہوا۔ میرا خیال ہے کہ ہماری بہت مفید گفتگو ہو گی اور امید کرتا ہوں کہ یہ آنے والے وقت میں نہایت نتیجہ خیز پیش رفت کا باعث بنے گی۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں اُمید کرتا ہوں کہ جب ہم واپس جائیں تو ہمارے پاس ایک معاہدے کی زبردست دستاویز ہو۔ ’امید ہے کہ جب ہم اپنے اپنے ممالک واپس لوٹیں گے تو ہمارے پاس ایسی دستاویز ہو گی جو دنیا بھر میں امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کا باعث بنے گی۔‘

    شہباز شریف نے جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور قطر کے وزیرِاعظم کا شکریہ ادا کیا وہیں پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ان کا کردار نمایاں رہا اور انھوں نے بے پناہ صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ میرا خیال ہے کہ ان تمام کوششوں کا مشترکہ نتیجہ آج کی خوشگوار ملاقات کی صورت میں نکلا ہے۔‘

  3. پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی قاہرہ میں چار ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت

    پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے قاہرہ میں ہونے والے اجلاس میں سوئٹزرلینڈ میں جاری ایران امریکہ مذاکرات میں تیزی سے پیش رفت پر زور دیا ہے۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔

    بیان کے مطابق چاروں وزرائے خارجہ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور خطے کے تنازعات کے خاتمے کے لیے سفارتکاری کی کوششوں کو سراہا۔

    اجلاس کے اختتام پر چاروں ممالک کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے جس میں چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے پر بھی زور دیا جس میں ایسا ’پائیدار، قابل تصدیق اور باہمی طور پر قابل قبول‘ حل فراہم کیا جائے جس میں علاقائی خدشات بالخصوص خلیج فارس کے ممالک کی سلامتی اور استحکام کو مدنظر رکھا گیا ہو۔

  4. پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ-ایران مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں شروع ہو گئے

    پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی ریزورٹ برگن سٹاخ میں شروع ہو گئے ہیں۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے پہلے دور میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کی اعلی سطح کی کمیٹیوں کے درمیان بات چیت کا آغاز ہو گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر یہ اُمید کرتا ہے کہ اس مذاکراتی عمل کے آغاز سے مفاہمتی یادداشت میں طے پانے والے تمام نکات پر جامع اور مستقل معاہدہ طے پا جائے گا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے خصوصی تکنیکی ماہرین پر مشتمل گروپ تشکیل دیے گئے ہیں جو مفاہمتی یادداشت کے تمام نکات پر بات چیت کریں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں طے پانے والے نکات پر عمل درآمد کے لیے فالو اپ گروپ بھی تشکیل دیے گئے ہیں جو حتمی معاہدے تک پہنچنے کے تمام عمل کی نگرانی کریں گے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قطر اور پاکستانی ثالث دونوں فریقوں کو مذاکرات کے لیے ایک مثبت ماحول فراہم کرنے کے لیے مکمل تعاون کریں گے۔ کیونکہ بات چیت اور سفارتکاری ہی تنازعات کے حل کا واحد راستہ ہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کے بیان میں مذاکراتی عمل میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا گیا ہے۔

  5. شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی وفد سے ملاقات

    سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران مذاکرات سے قبل ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی وفد سے ملاقات کے بعد پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی وفد سے ملاقات کی ہے۔

    پاکستانی وفد سے ملاقات میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی موجود تھے۔

  6. غیر منجمد فنڈز سے صرف امریکی اشیا خریدنے کی قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں: ایرانی وزیر خزانہ

    ایران کے وزیرِ اقتصادیات و خزانہ علی مدنی زادہ نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے بعد ایران کے منجمد کیے گئے چھ ارب ڈالرز فوری ریلیز کر دیے جائیں گے جبکہ اس کے بعد مزید چھ ارب ڈالرز جاری ہوں گے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی شق 11 کے مطابق امریکہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی دے گا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علی مدنی زادہ کا کہنا تھا کہ ایران کے غیر ملکی اثاثوں کی بحالی کی نگرانی ثالث ممالک کر رہے ہیں، تاہم سنیچر تک یہ غیر منجمد نہیں ہو سکے تھے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ یہ وہ رقوم ہیں جو گذشتہ برسوں کے دوران تیل کی برآمدات سے ایران کو حاصل ہوئی تھیں۔ اُنھوں نے ایران کے غیر منجمد فنڈز سے صرف امریکی اشیا خریدنے کو بھی محض افواہ قرار دیا ہے۔

  7. امریکہ، ایران مذاکرات: اس وقت برگن سٹاخ میں کیا ہو رہا ہے؟, خالد کرامت، برگن سٹاخ

    سوئٹزرلینڈ کا سیاحتی ریزورٹ برگن سٹاخ اس وقت سفارتی سرگرمیوں کا محور بنا ہوا ہے۔ امریکہ، ایران بلاواسطہ مذاکرات سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی سوئس وزیرِ خارجہ سے 45 منٹ طویل ملاقات ہوئی۔

    بعدازاں ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے قطری وزیرِ اعظم سے ملاقات کی۔ دوسری جانب پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کی۔

    تو اُس وقت ملاقاتوں کا سلسلہ تو جاری ہے، لیکن چاروں ممالک کے وفود کی سطح پر ملاقات ابھی نہیں ہوئی۔ آیا امریکہ اور ایران کے وفود آمنے سامنے بیٹھیں گے یا نہیں اور کیا اسی طرح سے بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا؟ یہ ابھی واضح نہیں ہے۔

    اس حوالے سے سوئس حکام نے بھی کچھ نہیں بتایا جبکہ پاکستانی وفد اور سفارتخانے کی جانب سے بھی اس حوالے سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ لیکن ایرانی میڈیا کا یہ کہنا ہے کہ چار ممالک کی ’کواڈ میٹنگ‘ آج ہو گی۔

  8. امریکہ، ایران مفاہمتی یادداشت کی تمام شقیں ایرانی عوام کے مفاد میں ہیں: صدر پزشکیان

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ-ایران مفاہمتی یادداشت کی تمام شقیں ایرانی عوام کے مفاد میں ہیں۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق اتوار کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران نے حالیہ چند روز کے دوران 16 ملین بیرل تیل برآمد کیا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات سے ایران کو حاصل ہونے والی کامیابیاں واضح ہیں، ان کی وجہ سے ہم اپنے وسائل تک رسائی حاصل کر سکیں گے اور انھیں اپنی مرضی سے استعمال کرنے کے قابل ہوں گے۔

    ایرانی صدر نے سوئٹزرلینڈ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اس مختصرعرصے میں ہم بہت سے اقدامات کرنے میں کامیاب رہے ہیں، آج سے مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی ہمارے قطر میں موجود چھ ارب ڈالر غیر منجمد ہو جائیں گے اور ہمیں واپس کر دیے جائیں گے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی اسی لیے شریک ہیں تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ یہ وسائل کس شعبے میں خرچ کیے جائیں گے۔

    جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری بم بنانے کی کوشش نہیں کرے گا۔

    ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سے ناخوش ہے۔ اُن کے بقول اسرائیل نہیں چاہتا کہ خطے میں امن بحال ہو اور غزہ اور لبنان میں اس کے اقدامات اسی مقصد کے مطابق ہیں۔

    ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی فوج کے تمام کمانڈرز مذاکرات کے حق میں ہیں۔

  9. ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کی قطری وزیرِ اعظم سے ملاقات

    سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران مذاکرات سے قبل ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے قطری وزیرِ اعظم سے ملاقات کی ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق ثالثوں سے بات چیت کے بعد امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے وفود کے مابین بات چیت ہو گی۔

  10. سوئٹزر لینڈ میں ایران، امریکہ مذاکرات سے قبل پاکستانی وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی نائب صدر سے ملاقات

    سوئٹزر لینڈ میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان بلاواسطہ بات چیت کے باقاعدہ آغاز سے قبل اتوار کی صبح پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس اور اُن کے وفد سے ملاقات کی ہے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کا آغاز آج سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی ریزورٹ برگن سٹاخ میں ہو رہا ہے۔ پاکستان اور قطر ان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    امریکی وفد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی وفد میں پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد بھی سوئٹزرلینڈ میں موجود ہے۔

  11. سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی تیاریاں مکمل

    بی بی سی اردو کے نامہ نگار خالد کرامت کے مطابق امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے وفود مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ میں برگن سٹاخ پہنچ چُکے ہیں۔

    خالد نے بتایا کہ سوئس حکومت کی جانب سے ان مذاکرات کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ان مذاکرات کو لیک لوزن سمٹ کہا جا رہا ہے۔

    خالد کرامت نے بتایا ہے کہ پاکستان کا کردار اب بھی ایک ثالث کے طور پر ہی دیکھائی دے رہا ہے مگر میزبانی کی اگر بات کریں تو تمام انتظامات کی نگرانی سوئس حکومت اور وزارتِ خارجہ ہی کر رہی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے جانے والے ایرانی وفد میں شامل مُلک کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اپنے سوئس ہمنصب سے ملاقات ہوئی ہے اور امریکی نائب صدر بھی اس وقت برگن سٹاخ میں موجود ہیں۔

    بی بی سی اردو کے نامہ نگار خالد کرامت نے بتایا ہے کہ قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان بن جاسم التھانی بھی برگن سٹاخ میں موجود ہیں۔

    واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ کا جانب سے بھی تمام وفود کی برگن سٹاخ میں آمد کی تصدیق کی جا چُکی ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار خالد کرامت اس وقت سوئٹزرلینڈ برگن سٹاخ میں موجود ہیں اور ہم امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے تازہ ترین صورتِحال آپ تک پہنچاتے رہیں گے۔

  12. لبنان میں جنگ بندی کا معاملہ مذاکرات کا اہم نکتہ ہوگا: اسمائیل بقائی

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے برگن سٹاخ میں ہونے والا اجلاس ایک روز پر مشتمل ہوگا، جس کے دوران آج دوپہر ایران، امریکہ، قطر اور پاکستان کے نمائندوں کا مشترکہ اجلاس بھی منعقد ہوگا۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق بقائی نے کہا کہ یہ ملاقات تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ امریکہ لبنان میں جنگ بندی کو یقینی بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور یہی مسئلہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کا مرکزی موضوع ہوگا۔

    اسماعیل بقائی کے مطابق اجلاس میں دیگر اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں ایرانی تیل کی فروخت سے متعلق پابندیوں میں نرمی، استثنیٰ کے معاملات اور منجمد ایرانی اثاثوں پر سے پابندیوں کا خاتمہ شامل ہیں۔

  13. سوئٹزرلینڈ میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی سوئس وزیر خارجہ سے ملاقات

    سوئٹزرلینڈ میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے جانے والے ایرانی وفد میں شامل مُلک کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اپنے سوئس ہمنصب سے ملاقات ہوئی ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوئٹزرلینڈ کے وزیرِ خارجہ اِگنازیو کاسِس سے ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

  14. امریکہ اور ایران کے علاوہ ثالثی کا کردار ادا کرنے والے مُمالک پاکستان اور قطر کے وفود برگن سٹاخ پہنچ چُکے ہیں: سوئس وزارتِ خارجہ

    امریکہ اور ایران کے اعلاوہ ثالثی کا کردار ادا کرنے والے مُمالک پاکستان اور قطر کے وفود بھی سوئٹزرلینڈ میں برگن سٹاخ پہنچ چُکے ہیں۔

    سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں ایرانی وفد اور پاکستان و قطر کے ثالثی وفود اس وقت سوئٹزرلینڈ کے برگن سٹاخ میں موجود ہیں۔

    سوئس وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فریقین کے درمیان مذاکرات کا آغاز آج متوقع ہے۔

  15. خطے میں کشیدگی کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان سے 73 کروڑ 60 لاکھ ڈالر نکال لیے, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں جاری مالی سال کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں نے سٹاک ایکسچینج سے بڑے پیمانے پر سرمایہ نکالا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ جغرافیائی اور عالمی سیاسی کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستانی حصص سے مجموعی طور پر 73 کروڑ 60 لاکھ ڈالر نکالا۔ اس رقم کا تقریباً 80 فیصد حصہ امریکہ، برطانیہ اور سویڈن میں مقیم سرمایہ کاروں سے منسلک ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق حصص میں مجموعی سرمایہ کاری 298.3 ملین ڈالر رہی، جبکہ سرمایہ کے اخراج کا حجم 1.03 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

    سٹاک ایکسچینج تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پاکستان سٹاک ایکسچینج باہر کے سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش نہیں رہی اس لیے سرمایہ یہاں سے بڑی تعداد میں باہر گیا۔‘

    انھوں نے کہا ’مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے کشیدہ ماحول کے علاوہ امریکہ اور یورپ میں شرح سود میں اضافے اور اس کے مزید بڑھنے کی توقع کی وجہ سے سرمایہ کار وہاں جا رہے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے علاوہ انڈیا سے بھی سرمایہ کار نکلے ہیں۔‘

    جے ایس گلوبل کیپیٹل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے کہا کہ ’سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں اور آئندہ مالی سال میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی شرکت میں کچھ اضافہ متوقع ہے۔‘

  16. پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سوئٹزرلینڈ آمد

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

  17. امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی برگن سٹاخ آمد

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا قافلہ ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کے آغاز سے قبل سوئٹزرلینڈ کے برگن سٹاخ ہوٹل کمپلیکس پہنچ گیا ہے۔ یہ ہوٹل دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔

    ایران اور امریکہ کے وفود آج اتوار کے روز سوئٹزرلینڈ کے برگن سٹاخ ریزورٹ میں اپنے تکنیکی مذاکرات کے پہلے دور کا آغاز کریں گے۔

  18. سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں کون کون شرکت کرنے جا رہا ہے؟

    سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تکنیکی سطح کے مذاکرات میں کون کون شرکت کرنے جا رہا ہے اس بارے میں اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ایران کی جانب سے مذاکراتی وفد کی قیادت پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کریں گے۔

    تاہم اُن کے ساتھ اس ایرانی وفد میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری علی باقری کنی، نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی اور وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی شامل ہیں۔

    امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے اس دور میں وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے جبکہ اُن سے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایلچی سٹیو وٹکوف بھیں وفد میں شامل ہیں۔

    تاہم پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تکنیکی سطح کے مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

  19. ایران امریکہ مذاکرات: سوئٹزرلینڈ کے برگن سٹاخ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    ایران اور امریکہ کے وفود آج سوئٹزرلینڈ کے برگن سٹاخ ریزورٹ میں تکنیکی مذاکرات کے پہلے دور کا آغاز کریں گے۔ یہ دور دراز پہاڑی مقام حساس نوعیت کے بین الاقوامی اجلاسات کی میزبانی کے لیے پہلے بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔

    برگن سٹاخ جھیل لوسرن کے اوپر سوئس کینٹن نِڈوالڈن میں واقع ہے۔ بڑے شہروں سے اس کی جغرافیائی دوری، محدود رسائی، اعلیٰ رہائشی سہولیات اور سخت سکیورٹی اسے ایسے مذاکرات کے لیے موزوں بناتی ہے جہاں رازداری اور محدود نقل و حرکت بنیادی تقاضے ہوں۔

    یہ پرتعیش کمپلیکس جھیل لوسرن کی سطح سے تقریباً 500 میٹر بلند ہے اور یہاں پہنچنے کے لیے پہلے کشتی اور پھر پہاڑی ریل (فنیکولر) استعمال کی جاتی ہے، جو اس مقام کی تنہائی اور اہمیت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔

    برگن سٹاخ ماضی میں بھی کئی اہم عالمی مذاکرات کی میزبانی کر چکا ہے، جن میں سنہ 2002 کے سوڈان امن مذاکرات، سنہ 2004 کے قبرص مذاکرات اور جون سنہ 2024 کا یوکرین امن سربراہی اجلاس شامل ہیں جس میں درجنوں اعلیٰ سطحی وفود شریک ہوئے تھے۔

    اس مقام کی تاریخ بھی خاصی قدیم ہے۔ اس مقام پر پہلا ہوٹل سنہ 1873 میں قائم ہوا اور بعد ازاں یہ جگہ فلمی ستاروں کی پسندیدہ جگہ بھی بنی۔ جیمز بانڈ فلم ’گولڈ فنگر‘ کی کہانی کا ایک حصہ بھی اسی مقام سے جڑا ہوا ہے۔

  20. میناب میں ہلاک ہونے والے بچوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا: باقر قالیباف

    ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکراتی وفد کی سربراہی کرنے والے اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’میناب کے معصوم بچوں اور ایران کے تمام ہلاک ہونے والے ہر لمحہ ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں اور ہماری ہر بات اور ہر عمل کے گواہ ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران میں ہلاک ہونے والے ہم سے توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں اور ان کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے فرائض دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں۔‘

    باقر کالیباف نے کہا کہ ’خدا نہ کرے کہ میں کبھی ان معصوم ’شہدا‘ اور ایرانی عوام کے سامنے شرمندہ ہوں یا ایسا کوئی عمل کروں جو ان کی قربانیوں کی توہین کے مترادف ہو۔‘

    واضح رہے کہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور تہران و واشنگٹن کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ چُکا ہے۔

    وفد سنیچر کی شب زیورخ پہنچا۔ وفد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی اور ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی بھی شامل ہیں۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی، جو وفد کے ہمراہ ہیں، نے روانگی سے قبل کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے اس دورے کا بنیادی مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے شدہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔