آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

قطر کا امریکہ ایران مذاکرات میں تسلسل کا خیرمقدم: ایرانی قیادت نے بحران کو بردباری سے سنبھالا اور ٹرمپ بھی امن کے لیے مخلص ہیں، شہبازشریف

قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان التھانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات میں تسلسل کا خیرمقدم کرتا ہے جبکہ برگن سٹاخ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت نے اس پورے بحران کو بڑی سنجیدگی اور بردباری سے سنبھالا ہے جبکہ صدر ٹرمپ بھی امن کے لیے مخلص ہیں۔

خلاصہ

  • امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کا پہلا دور 80 منٹ جاری رہا
  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں ایران-امریکہ مذاکرات کے آغاز پر کہا کہ یہ ایک تاریخی ملاقات ہے اور اس کا مقصد ایرانی عوام کے ساتھ اپنے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرنا اور ان تک رسائی حاصل کرنا ہے۔
  • وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران نے خطے کی صورتِ حال کو بہتر کرنے کے لیے 'وقار' کا مظاہرہ کیا جبکہ امریکی صدر ٹرمپ بھی امن کے لیے مخلص ہیں
  • ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران امریکی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتا، بہتر ہے وہ اپنے بیانات سے باز رہے۔

لائیو کوریج

  1. غزہ میں اسرائیلی حملوں میں الجزیرہ کے کیمرہ مین سمیت کم از کم چھ افراد ہلاک

    غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں خبر رساں ادارے الجزیرہ کے ایک کیمرہ مین اور کم از کم ایک بچہ بھی شامل ہے۔

    الجزیرہ نے اپنے نامہ نگار احمد وشاح کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’صحافیوں کو نشانہ بنانے کا ایک گھناؤنا جرم‘ قرار دیا ہے۔ احمد وشاح ہفتے کے روز وسطی غزہ میں ایک گھر پر ہونے والے حملے میں مارے گئے تھے۔

    دوسری جانب اسرائیلی دفاعی افواج کا دعویٰ ہے کہ احمد وشاح حماس کے عسکری ونگ سے وابستہ تھے اور بطور سنائپر آپریٹو خدمات انجام دے رہے تھے۔

    غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت، جس کے اعداد و شمار کو اقوام متحدہ قابلِ اعتماد سمجھتی ہے، کے مطابق گزشتہ اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں 1007 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    الجزیرہ نے اپنے بیان میں کہا کہ احمد وشاح کی ہلاکت بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ صحافیوں کو نشانہ بنانے اور حقائق کی آواز دبانے کی مسلسل پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔

    اسرائیلی فوج نے بغیر کوئی ثبوت فراہم کیے الزام عائد کیا کہ احمد وشاح حالیہ مہینوں میں اسرائیلی فوجیوں کے خلاف سنائپر حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔

    مقامی ہسپتال اور حماس کے زیر انتظام سول ڈیفنس ادارے کے مطابق البریج پناہ گزین کیمپ میں جس گھر کو نشانہ بنایا گیا، اس حملے میں احمد وشاح سمیت تین افراد ہلاک ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے دیگر دو ہلاک افراد پر بھی حماس سے وابستگی کا الزام لگایا ہے۔

    واضح رہے کہ احمد وشاح کے بھائی محمد وشاح، جو الجزیرہ کے نامہ نگار تھے اپریل میں ایک اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے اس وقت بھی دعویٰ کیا تھا کہ وہ حماس کے راکٹ اور اسلحہ سازی کے مرکز سے وابستہ تھے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    ادھر غزہ شہر کے صبرہ علاقے میں رات گئے ایک گھر پر ہونے والے فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک ہو گئے۔ سول ڈیفنس، اہلِ خانہ اور قریبی ہسپتال کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل تھے۔

    شفا ہسپتال کے مطابق اسے اس خاندان کی لاشیں موصول ہوئی ہیں، جن میں دو بچے شامل تھے۔ طبی ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے افراد میں دو خواتین اور ایک بچہ بھی شامل تھا۔

    اس دوران جنوبی اور شمالی غزہ کے مختلف علاقوں میں بھی اسرائیلی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

  2. ایران کا لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان، امریکہ کی تردید

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کی جنوبی لبنان میں کارروائیوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کر دیا گیا ہے، تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے۔ یہ اہم بحری گزرگاہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا راستہ سمجھی جاتی ہے۔

    ایران کے بیان کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹِم ہاکنز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’بحری آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے اور امریکی افواج صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ سلسلہ برقرار رہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کا آبنائے ہرمز پر کوئی کنٹرول نہیں۔‘

    دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سنیچر کے روز واشنگٹن سے روانہ ہوئے اور وہ اتوار کو یعنی آج سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

    روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وینس نے کہا کہ ’انھیں امید ہے کہ ’جوہری مسئلے‘ اور ’لبنان میں جنگ بندی‘ کے حوالے سے پیش رفت ہو سکے گی۔‘

    اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بارے میں سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’صورتحال میں بہتری آ رہی ہے اور کشیدگی میں کسی حد تک کمی دیکھی جا رہی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر مسلسل نظر رکھنی ہوگی تاکہ اسرائیل اور لبنان دونوں محفوظ اور مستحکم رہیں۔ بنیادی مقصد پورے خطے کو امن اور سلامتی فراہم کرنا ہے۔‘

  3. جنگ بندی کے دوران 60 دن تک آبنائے ہرمز میں کوئی ٹول ٹیکس نہیں ہو گا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے ’جنگ بندی کے دوران 60 دن تک آبنائے ہرمز میں کوئی ٹول ٹیکس نہیں ہو گا، اور 60 دن کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی کوئی ٹول ٹیکس نہیں ہو گا، جب تک کہ وہ امریکہ کی جانب سے اور اس کے لیے عائد نہ کیے جائیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر 60 روز کی اس مدت کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی وسیع معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ خود ٹول ٹیکس عائد کر سکتا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو دی جانے والی سکیورٹی خدمات کے بدلے اپنے ماضی، حال اور مستقبل کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ایسا کر سکتا ہے۔

  4. بریکنگ, امریکہ، ایران مذاکرات کی کوششیں: شہباز شریف اور عاصم منیر سوئٹزرلینڈ میں تکنیکی سطح کے مذاکرات میں شرکت کریں گے: اعلامیہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سوئٹزرلینڈ کے شہربرگن شٹاخ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تکنیکی سطح کے مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

    وزیر اعظم پاکستان کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کے تسلسل میں 21 جون 2026 کو برگن شٹاخ سوئٹزرلینڈ میں تکنیکی سطح کے مذاکرات منعقد ہوں گے۔

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر ان مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

    یاد رہے کہ جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف مذاکرات کے لیے سوئٹزر لینڈ میں موجود ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں۔

    اس سے قبل پاکستان نے تصدیق کی تھی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بدھ کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے تکنیکی مذاکرات اتوار کو سوئٹزر لینڈ کے شہر برگن شٹاخ میں ہوں گے۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ تکنیکی مذاکرات میں امریکہ، ایران کے علاوہ اس معاملے میں ثالث پاکستان اور قطر کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔

    بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان اس معاملے میں ثالثی کا کردار نبھاتا رہے گا اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔

  5. اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں ایک اور فوجی کی ہلاکت کا اعلان

    اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ سنیچر کے روز جنوبی لبنان میں جھڑپوں میں اس کا ایک فوجی مارا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے پر اتفاق کے بعد سے یہ پانچویں اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی ہے۔

    اسرائیلی فوج کے اعلان کے مطابق سارجنٹ نیر بن اری جنوبی لبنان میں ’کارروائی میں مارے گئے، جس کے ایک دن بعد حزب اللہ فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں چار دیگر اسرائیلی فوجی مارے گئےجبکہ تین فوجی محمی بھی ہوئے۔

    یہ اطلاعات ایسے وقت میں موصول ہو رہی ہیں جب حزب اللہ کے ساتھ جنگ ​​بندی کے معاہدے کے چند گھنٹے بعد آج (ہفتہ 20 جون) لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 20 کے قریب افراد ہلاک ہو گئے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملے حزب اللہ کی طرف سے اسرائیلی فورسز پر داغے گئے میزائلوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

  6. جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے، صورتحال کی تصویری جھلک

    اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان نئی جنگ بندی کے اعلان کے 24 گھنٹے سے بھی کم عرصے میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 20 افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

    دونوں جانب سے ایک دوسرے پر حملے کرنے کا اعتراف کیا گیا ہے تاہم ساتھ ہی دونوں کا کہنا ہے کہ وہ دوسرے فریق کی خلاف ورزیوں کے جواب میں کارروائی کر رہے تھے۔

    زیر نظر تصاویر میں جنوبی لبنان میں حملوں کے بعد کی صورتحال دکھائی گئی ہے۔

  7. جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف مذاکرات کے لیے سوئٹزر لینڈ میں موجود ہیں: امریکی نائب صدر

    امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایلچی سٹیو وٹکوف ایران کے ساتھ طے شدہ مذاکرات سے پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں موجود تھے۔

    وینس کا کہنا تھا کہ دونوں افراد ان مذاکرات کے کچھ تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    نائب صدر کا کہنا تھا کہ اُن کی آج صبح جیرڈ کشنر اور وٹکوف سے بات ہوئی ہے اور ’میری سمجھ کے مطابق چیزیں ٹھیک چل رہی ہیں۔‘

    جب امریکی نائب صدر سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ بھی سوئٹزر لینڈ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ تو اس پر نائب صدر کا کہنا تھا کہ ’میں اگلے دو روز میں وہاں جاؤں گا۔‘

  8. ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سوئٹزر لینڈ روانہ ہو گئے ہیں: ایرانی میڈیا

    ایرانی میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں سوئٹزر لینڈ کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔

    بی بی سی فارسی نے نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری علی باقری کنی بھی ایرانی وفد میں شامل ہیں۔

    نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی اور وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی وفد میں شامل ہیں۔

  9. ایران مذاکرات میں امریکہ سے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کرے گا: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کی شرکت کا مقصد دوسرے فریق سے وعدوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کرنا ہے۔

    اس سے قبل ایران اور امریکہ کے ثالث پاکستان نے تصدیق کی تھی کہ یہ مذاکرات اتوار کو سوئٹزر لینڈ کے شہر برگن شٹاخ میں ہوں گے اور اس میں امریکی اور ایرانی نمائندے شرکت کریں گے۔

    اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ حتمی معاہدے کے لیے بات چیت صرف اُسی وقت شروع ہو گی جب مفاہمتی یادداشت کی شق ایک، چار، پانچ، 10 اور 11 پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا اور اسے یقینی بنایا جائے گا۔

    اُن کے بقول فی الحال یہ صورتحال نہیں ہے اور اسی لیے ایران آئندہ مذاکرات میں وعدوں پر عمل درآمد کے لیے امریکہ پر دباؤ ڈالے گا۔

  10. آبنائے ہرمز سے گزرنے کا محفوظ راستہ آج بھی برقرار ہے: امریکی فوج کا دعویٰ

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں آج اضافہ ہوا اور 55 تجارتی جہاز یہاں سے گزرے ہیں۔

    ایرانی فوج کی جانب سے آبنائے کو بند کرنے کے اعلان کے بعد ایکس پر ایک بیان میں سینٹکام کا کہنا تھا کہ ’20 جون کو آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا کیونکہ امریکی افواج نے علاقے میں نیویگیشن جاری رہنے کے لیے تعاون کیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ کے ذریعے محفوظ راستہ آج بھی برقرار ہے، کیونکہ 55 تجارتی جہازوں نے بڑی مقدار میں کارگو اور 17 ملین بیرل سے زائد تیل عالمی منڈیوں میں منتقل کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج ایران کے ساتھ معاہدے کے تمام پہلوؤں کی پابندی کو یقینی بنا رہی ہے۔

  11. اب سب نظریں صدر ٹرمپ پر ہوں گی کہ وہ اسرائیل پر کتنا دباؤ ڈالیں گے, جان ڈونیسن، یروشلم

    ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا معاہدہ ہمیشہ نازک رہا۔ پہلے سے ہی نشانیاں ہیں کہ یہ ختم ہو رہا ہے۔

    آبنائے ہرمز کا جزوی طور پر دوبارہ کھلنا، جس سے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا ہے، مفاہمت کی یادداشت کی بنیادی کامیابی اور عالمی اقتصادی بحران سے بچنے کے لیے امریکہ کی کلیدی ترجیح تھی۔

    اب صرف چند دنوں کے بعد، ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اسے دوبارہ بند کر دیا گیا ہے، ایران نے لبنان میں اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کا حوالہ دیا ہے۔

    اب سب کی نظریں صدر ٹرمپ پر ہوں گی کہ وہ اپنے اتحادی اسرائیل پر کتنا دباؤ ڈالیں گے کہ وہ لبنان میں اپنی فوجی کارروائی روکے۔

    یہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جنوبی لبنان میں اس کے اقدامات پر اسرائیل کی بے مثال تنقید کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے، جس میں اسرائیلی فوج پر ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کا الزام لگایا گیا تھا۔

  12. ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے شواہد نہیں ملے: امریکی نائب صدر

    امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کے شواہد نہیں ملے۔

    فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ایران کے اعلان کے باوجود آبنائے ہرمز پوری طرح کھلی ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ جمعے کو آبنائے ہرمز سے 16 ملین بیرل تیل ملا ہے، تو آپ ان جہازوں کی حرکت کو دیکھ رہے ہیں۔

    اس سے قبل ایران کے پاسدارنِ انقلاب کی بحریہ نے کہا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باعث آبنائے ہرمز کو تمام بحری جہازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق بحریہ نے تمام بحری جہازوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے قریب نہ جائیں ورنہ ان کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔

  13. امریکہ، ایران مفاہمتی یادداشت کے بعد تکنیکی مذاکرات 21 جون کو سوئٹزر لینڈ میں ہوں گے: پاکستانی وزارتِ خارجہ کی تصدیق

    پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بدھ کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے تکنیکی مذاکرات اتوار کو سوئٹزر لینڈ کے شہر برگن شٹاخ میں ہوں گے۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تکنیکی مذاکرات میں امریکہ، ایران کے علاوہ اس معاملے میں ثالث پاکستان اور قطر کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں ثالثی کا کردار نبھاتا رہے گا اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔

  14. ایران کا لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان

    ایران کے خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر نے اپنے ایک بیان میں آبنائے ہرمز کو جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ایران کے خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر کے بیان کے مطابق امریکہ کی وعدہ خلافی اور جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے پہلے پیراگراف پر عمل نہ کرنے کے باعث آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا جائے گا۔

    ایران کے خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق خاتم الانبیاء کے مرکزی صدر دفتر کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے پہلے پیراگراف پر عمل درآمد میں ناکامی کے حوالے سے امریکہ کی جانب سے وعدوں کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق جنوبی لبنان میں تشدد، اس سرزمین کے لاکھوں افراد کی ہلاکت اور بے گھر ہونے، اور اسرائیلی افواج کے جنوبی لبنان سے انخلا میں ناکامی کے تناظر میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام دشمن کی وعدہ خلافی کے جواب میں پہلا قدم ہے اور اگر جارحیت جاری رہی تو مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مخالف فریق کو اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

  15. تہران: محسن نقوی کی عباس عراقچی سے ملاقات، معاہدے کے بعد خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے جس میں پاکستان اور ایران کے تعلقات اور امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد خطے کی موجودہ صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔

    وزارت داخلہ کے اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران پہنچنے پر ایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی نے ہوائی اڈے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا تھا۔

    تہران میں دونوں وزرائے داخلہ کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کو خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے خبر دی تھی کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی ایران کے شہر مشہد پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ امام رضا کے مزار پر جائیں گے اور پھر حکام سے بات چیت کے لیے تہران روانہ ہوں گے۔

    اطلاعات کے مطابق پاکستانی وزیر داخلہ ایرانی حکام کے ساتھ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی بحالی پر بات چیت کرنے والے ہیں۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا ہے کہ پاکستانی وزیر داخلہ کا دورہ ایران امریکہ مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کا تسلسل ہے۔

  16. بیڈ فورڈ ٹرین حادثہ، نو افراد کی حالت تشویشناک ہے: برطانوی پولیس

    جمعے کو برطانیہ کے علاقے بیڈ فورڈ میں پیش آنے والے ٹرین کے شدید حادثے کے بعد نو افراد بدستور تشویشناک حالت میں ہیں۔

    یاد رہے اس حادثے میں ٹرین ڈرائیور کی موت واقع ہو چکی ہے جبکہ مجموعی طور پر 99 افراد زخمی ہوئے۔

    برطانوی ٹرانسپورٹ پولیس کی چیف کانسٹیبل لوسی ڈی اورسی کے مطابق حادثے کے بعد گزشتہ رات 80 سے زائد افراد کو ہسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی گئی۔

    لوسی ڈی اورسی نے بتایا کہ اس وقت 28 افراد اب بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں جبکہ نو کی حالت انتہائی نازک ہے۔

    انھوں نے ہلاک ہونے والے ٹرین ڈرائیور کے اہلِ خانہ، دوستوں اور ساتھیوں سے گہرے افسوس کا اظہار کیا۔

    ’سائرنوں کے شور اور ہیلی کاپٹروں کو دیکھ کر حادثے کی سنگینی کا اندازہ لگایا‘

    بیڈفورڈ میں پیش آنے والے ٹرین حادثے کے باعث تاخیر کا شکار ایک مسافر کا کہنا ہے کہ انھیں ’سائرنوں کے شور اور متعدد ہیلی کاپٹر دیکھ کر اندازہ ہو گیا تھا کہ کوئی سنگین واقعہ پیش آیا ہے۔‘

    بیڈفورڈ شائر کے علاقے برومہم کے رہائشی ریان سکرِوِنر لندن سے بیڈفورڈ جانے والی ٹیمزلنک ٹرین میں سوار تھے، جو تقریباً 17:30 بجے پہنچنے والی تھی۔

    تاہم اس حادثے کے باعث مسافروں کو بیڈفورڈ شائر کے قریبی قصبے وِکسہمز کے نزدیک ٹرین سے اترنے کو کہا گیا۔

    سکرِوِنر کو ٹرین سے اتارا گیا اور مسافروں کو وِکسہمز کی جانب پیدل جانا پڑا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ماحول میں خاموش اور فکر مند ی محسوس کی جا سکتی تھی۔ ہمیں یہ احساس ہونا شروع ہوا کہ ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ ہم اس سانحے کی زد میں براہِ راست نہیں آئے جو ہم سے صرف ایک دو ٹرین آگے پیش آیا تھا۔‘

  17. امریکہ، ایران مذاکرات کی کوششیں: سوئٹزر لینڈ کے سیاحتی ریزورٹ برگن شٹاخ میں کیا ہو رہا ہے؟, عمر دراز ننگیانہ، برگن شٹاخ

    سوئٹزر لینڈ کے سیاحتی مقام برگن شٹاخ میں آج زیادہ گہما گہمی نظر آ رہی ہے۔ آج میڈیا نمائندگان کی تعداد بھی زیادہ ہے اور امریکی صحافیوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ لیکن آج بھی سکیورٹی انتظامات جمعے کے دن کے روز کی طرح بہت سخت ہیں۔

    ریزورٹ سے ایک کلو میٹر پہلے ہی میڈیا کو روک دیا گیا ہے، لیکن وہ اس دُوری سے ریزورٹ کی وہ عمارت دیکھ سکتے ہیں جو کچھ بلندی پر واقع ہے۔

    پولیس اہلکار چیکنگ کے بعد گاڑیوں کو آگے جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔ سوئس حکام نے تصدیق کی ہے کہ مختلف ممالک کے سفارتکار اس وقت برگن شٹاخ میں موجود ہیں اور امریکہ، ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ اُن کے بقول وہ رازداری کی وجہ سے کچھ نہیں بتا سکتے۔

    امریکی میڈیا اور کچھ بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کر رہے ہیں کہ سٹیو وٹکوف اور کشنر آج یہاں پہنچ رہے ہیں اور وہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مفاہمت نامے پر عمل درآمد کے لیے اگلے اقدامات پر بات چیت کریں گے۔

    میں نے پاکستانی حکام اہلکاروں کو سوالات بھیجے ہیں۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ سے پوچھا تو اُنھوں نے بتایا کہ وہ چیک کر کے بتائیں گے۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ خاموش ہے اور پاکستانی حکام کی جانب سے اس بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے کہ آیا وہ بھی ثالث کے طور پر موجود ہیں یا نہیں۔

  18. نو مئی کے ایک اور کیس میں اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ، یاسمین راشد اور میاں محمود الرشید کو 10، 10 سال قید

    لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے نو مئی کے ایک اور کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اعجاز چوہدری، سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ، ڈاکٹر یاسمین راشد اور میاں محمود الرشید کو 10، 10 سال قید کی سزا سنادی ہے۔

    سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو اس کیس سے بری کر دیا گیا ہے، تاہم دیگر مقدمات کی وجہ سے اُن کی رہائی ممکن نہیں ہو سکے گی۔

    انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں 18 جون کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔

  19. سوئٹزر لینڈ امریکہ، ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے تعاون جاری رکھے ہوئے ہے: ترجمان محکمہ خارجہ

    سوئٹزر لینڈ کے وفاقی ادارہ برائے اُمور خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سوئٹزر لینڈ، امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درامد کے لیے ایک پرسکون اور قابلِ اعتماد مقام فراہم کرنے کے لیے تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ مختلف ممالک کے سفارتکار اس وقت برگن شٹاخ میں موجود ہیں اور مذاکرات کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم رازداری کی وجہ سے شریک افراد یا گفتگو کی تفصیلات جاری نہیں کی جا رہیں۔

  20. لبنان، اسرائیل کا دُشمن نہیں ہے، مسئلہ حزب اللہ کا ہے: ترجمان اسرائیلی فوج

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز کی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ایلا واویا نے کہا ہے کہ لبنان، اسرائیل کا دُشمن نہیں ہے، مسئلہ حزب اللہ کا ہے جو لبنان کو بار بار تباہی کی طرف گھسیٹتا ہے۔

    ایکس پر اپنے بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کی وجہ سے لبنان کے عوام استحکام، سلامتی اور خوشحالی سے محروم ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ لبنان کا مستقبل اس دن سے شروع ہو گا جب حزب اللہ ریاست کو یرغمال بنانا چھوڑ دے گی اور لبنان کو اپنا راستہ خود چننے کا موقع دے گی۔