زیر تعمیر پُلوں پر حملے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتے: ایرانی وزیر خارجہ کا امریکی صدر کو جواب
کرج میں پُل پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ: ’یہ (حملے) صرف انتشار کا شکار دشمن کی شکست اور اخلاقی زوال کو ظاہر کرتے ہیں۔‘ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پُل پر حملے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی اور کہا تھا کہ: ایران کا ’سب سے بڑا پُل زمین بوس ہو گیا ہے، اب کبھی استعمال کے قابل نہیں رہے گا، آگے اور بھی بہت کچھ ہونے والا ہے۔‘
خلاصہ
برطانیہ کی سیکریٹری خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے 'ہر ممکن سفارتی، معاشی اور مشترکہ اقدام' لینے کے لیے پُرعزم ہیں
تہران کے قریب واقع شہر کرج میں پل پر حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک
امریکہ اور اسرائیل جنگ بند کریں: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا مطالبہ
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ 70 لاکھ ایرانیوں نے فوجی خدمات کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا ہے
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے 40 ممالک کے وزرائے خارجہ کا آن لائن اجلاس۔ برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے 'عالمی معاشی سلامتی کو نقصان' پہنچ رہا ہے
ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ان بحری جہازوں کے لیے کھلی ہے جن کا امریکہ اور اسرائیل سے 'تعلق نہیں‘
لائیو کوریج
قطری ٹینکر ایرانی میزائل کے حملے کے بعد خالی کر دیا گیا
،تصویر کا ذریعہReuters
قطر کی وزارت دفاع کے مطابق، ایک تیل کے ٹینکر کو بدھ کی صبح ایرانی کروز میزائل لگنے کے بعد خالی کر دیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ ٹینکر ایکوا ون، جو قطر انرجی کے ذریعے لیز پر ہے، قطری پانیوں میں نشانہ بنایا گیا اور تمام 21 عملے کے ارکان بغیر کسی چوٹ کے بچ نکلے۔
قطر انرجی نے حملے کی تصدیق کی اور کہا کہ اس واقعے سے ماحول پر کوئی اثر نہیں ہوا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے اسرائیل کے ملکیتی اس ٹینکر کو ان کے بحری میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
نیٹو سے نکلنے کی کوشش میں ٹرمپ کو قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہو گا, برنڈ ڈیبسمین جونیئر، نامہ نگار برائے وائٹ ہاؤس
،تصویر کا ذریعہChip Somodevilla/Getty Images
نیٹو اتحاد سے نکلنے کی دھمکی ڈونلڈ
ٹرمپ اس سے پہلے بھی دے چکے ہیں۔ اس بار ان کا مؤقف یہ ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے
دوران اتحادیوں نے امریکہ کی مدد نہیں کی۔
نیٹو بڑی حد تک امریکی فوج کے حجم اور
صلاحیتوں پر اںحصار کرتا ہے۔ امریکہ کا نیٹو سے انخلا ایک سنگین تباہی کا باعث بن سکتا
ہے اور اس بین البراعظمی اتحاد کا خاتمہ کر سکتا ہے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد سے
قائم چلا آ رہا ہے۔
تاہم، اگر امریکی صدر واقعی اس فیصلے
پر عمل در آمد کرنا چاہیں تو انھیں سنگین قانونی اور پارلیمانی رکاوٹوں کا سامنا
کرنا پڑے گا۔
ایسے ہی کسی امکان کو مد نظر رکھتے
ہوئے، سنہ 2023 میں کانگریس نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کا واضح مقصد یہ تھا کہ
کسی بھی امریکی صدر کو کانگریس کی منظوری کے بغیر یکطرفہ طور پر نیٹو سے امریکہ کو
نکالنے سے روکا جا سکے۔
اب امریکہ کو نیٹو سے نکالنے کے لیے یا
تو سینیٹ کے دو تہائی ارکان کی منظوری درکار ہو گی یا کانگریس کو کوئی مخصوص قانون
منظور کرنا ہو گا۔ یہ مشکل ضرور ہے لیکن ٹرمپ کے لیے نا ممکن نہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ قانون
دونوں جماعتوں کی مشترکہ کوشش کا نتیجہ تھا، جسے جزوی طور پر اُس وقت کے سینیٹر
مارکو روبیو نے بھی آگے بڑھایا تھا۔
اب
بطور وزیر خارجہ، مارکو روبیو نے حالیہ بیانات میں بالکل مختلف لہجہ اختیار کیا
ہے۔ اس ہفتے انھوں نے نیٹو کو ’یکطرفہ سڑک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس
اتحاد پر ’دوبارہ غور‘ کرنا ہو گا۔
ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ جلد ختم ہونے کے اشاروں پر اسرائیل میں بے چینی, یولانڈے نیل، نامہ نگار برائے مشرق وسطیٰ، یروشلم
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
کچھ مبصرین ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو
ایک چال قرار دیتے ہیں کہ امریکہ ’بہت جلد‘ ایران سے نکل سکتا ہے۔ ان کے خیال میں
یہ ایک فریب کا حصہ ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں ایران اتنا چوکس نہ رہے اور اس پر زمینی
حملہ کیا جا سکے۔
تاہم مجموعی طور پر یہ تاثر پایا
جاتا ہے کہ اسرائیل کو امریکہ کے جنگ سے جلد نکلنے کے امکان کے لیے تیار رہنا ہو گا۔
اگرچہ اہم ایرانی رہنما مارے جا چکے
ہیں اور تہران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، اس کے باوجود یہ مفروضہ موجود
ہے کہ ایرانی حکومت خود کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کرے گی اور اسرائیل اور اس کے
خلیجی عرب پڑوسیوں کے لیے خطرہ بنی رہے گی۔
اسرائیلی حکام یہ تجویز دے چکے ہیں
کہ اس جنگ کے خاتمے کے بعد بھی اسرائیل ایران میں سٹریٹیجک حملے جاری رکھے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن
یاہو نے خلیجی عرب ممالک کے ساتھ نئے دفاعی تعلقات کے امکان کی بھی بات کی ہے، جنھیں
حالیہ عرصے میں حملوں کا سامنا رہا ہے۔
اس وقت اسرائیل کے خلیج میں صرف
متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ تعلقات قائم ہیں۔
منگل کے روز ایک خطاب میں نیتن یاہو
نے کہا کہ اسرائیل ’خطے میں مشترکہ ایرانی خطرے کے خلاف اہم ممالک کے ساتھ نئے
اتحاد قائم کر رہا ہے۔‘
لبنان میں ہلاکتوں کی تعداد 1300 سے تجاوز کر گئی: وزارت صحت
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے (این
این اے) نے وزارت صحت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ 28
فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک لبنان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1318
ہو گئی ہے۔ زخمیوں کی تعداد 3935 بتائی جاتی ہے۔
این
این اے کے مطابق صرف گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 50 افراد ہلاک ہوئے۔
امریکہ سے جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کیا: ایران
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی صدر
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو ’جھوٹا اور بے بنیاد‘ قرار دیا ہے کہ ایران نے امریکہ سے
جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔
ایران کے
سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ بیان
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کی جانب سے دیا گیا۔
یہ تردید ڈونلڈ ٹرمپ کی اس سوشل
میڈیا پوسٹ کے بعد آئی ہے جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ’ایران کے نئے صدر نے
جنگ بندی کی درخواست کی ہے لیکن وہ تب اس پر غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کھلے گی۔‘
ٹرمپ
نے یہ واضح نہیں کیا کہ ’نئے صدر‘ سے ان کی کیا مراد ہے۔ کیوں کہ سنہ 2024 میں
منتخب ہونے کے بعد سے مسعود پزشکیان ہی ایران کے صدر ہیں۔
اسرائیل کے مختلف حصوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں, جوئل گنٹر، یروشلم
بظاہر ایران کی جانب سے داغے گئے
بیلسٹک میزائلوں کی بوچھاڑ کے بعد یروشلم اور تل ابیب سمیت اسرائیل کے مختلف حصوں
میں سائرن اور زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
ممکنہ طور پر دھماکوں کی یہ آوازیں
اسرائیل کے دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں کو فضا میں نشانہ بنانے کی ہیں یا غیر
آباد علاقوں میں میزائل گرنے کی ہیں۔ تا حال کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول
نہیں ہوئی ہے۔
اسرائیل میں کچھ عرصے کے لیے حملوں
میں کمی دیکھی گئی تھی، تاہم منگل کی شب ایرانی حملوں میں ایک درجن سے زائد افراد
زخمی ہوئے۔ ان میں 11 سال کی ایک بچی بھی شامل ہیں جو وسطی شہر بنی براک میں میزائل
کا ٹکڑا لگنے سے زخمی ہوئیں، ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
اس
سے قبل بی بی سی فارسی کی نامہ نگار غنچے حبیبی آزاد نے تہران کے مرکزی حصے میں
موجود دو ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ تہران شدید حملوں کی زد میں ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے بھی نئے دھماکوں کی اطلاع دی گئی ہے۔
ایران نے پانچ بیلسٹک میزائل داغے ہیں: متحدہ عرب امارات
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ ایران
نے اس کی جانب پانچ بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔
ملک کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری
بیان کے مطابق 35 ڈرون حملے بھی کیے گئے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اب تک
ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کی مجموعی تعداد 438 ہو چکی ہے جبکہ
ڈرون حملوں کی تعداد 2012 تک پہنچ گئی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف
28 فروری کو شروع کیے گئے حملوں کے بعد سے خلیجی خطے میں امریکہ کے اتحادیوں کے
خلاف ایران کی جوابی کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں۔
تازہ بریفنگ کے مطابق ان کارروائیوں
میں متحدہ عرب امارات میں ایک فوجی ٹھیکے
دار اور نو شہریوں سمیت مسلح افواج کے دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
آبنائے ہرمز ایران کے دشمنوں کے لیے بند رہے گی: پاسداران انقلاب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران میں پاسداران انقلاب کا کہنا
ہے کہ آبنائے ہرمز ’اس قوم کے دشمنوں کے لیے‘ بند رہے گی۔
سرکاری ٹی وی پر بیان میں پاسداران
انقلاب نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اس کے بحری دستوں کا ’مضبوط اور مکمل‘ قبضہ ہے۔
کچھ دیر قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ ایران نے جنگ بندی کی درخواست
کی ہے۔
ٹرمپ نے لکھا تھا کہ ’ہم اس پر تب
غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کھلے گی اور رکاوٹوں سے پاک ہو گی۔‘
امریکی صدر کے اس دعوے پر ایران کی
جانب سے تا حال کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔
پاکستان میں ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ, سارہ حسن، صحافی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے
والی کشیدگی کے سبب خام تیل کی قیمت بھی بڑھی ہے اور پاکستان میں مائع پیٹرولیم
گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے اوگرا نے یکم اپریل
سے ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 78 روپے کا اضافہ کیا ہے جس کے بعد اب اس کی فی
کلو قیمت 304 روپے 12 پیسے ہو گئی ہے۔
اوگرا کے نوٹیفیکشن کے مطابق یکم اپریل سے گھریلو استعمال کے ایل پی
جی سلنڈر (11.8 کلو گرام) کی کم سے کم قیمت 3588 روپے ہے۔
پاکستان میں ایل پی جی زیادہ تر شمالی علاقہ جات یا اُن علاقوں میں
استعمال کی جاتی ہے جہاں پائپ لائن کے ذریعے گیس کی سہولت دستیاب نہیں جبکہ شہروں میں
پبلک ٹرانسپورٹ، جیسے کہ رکشوں وغیرہ میں بھی ایل پی جی استعمال ہوتی ہے۔
انڈیا یا بنگلہ دیش کے برعکس پاکستان میں شہری علاقوں میں گھریلو صارفین
کی بڑی تعداد پائپ کے ذریعے آنے والی قدرتی گیس استعمال کرتی ہے لیکن گذشتہ کئی برسوں
سے گیس کی کمی اور کنکشنز پر پابندی کے سبب شہری علاقوں میں بھی صارفین کی بڑی تعداد
ایل پی جی سلنڈر استعمال کر رہی ہے۔
آل پاکستان ایل پی جی ڈسٹریبیوٹر ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان میں ایل
پی جی کی یومیہ کھپت سات ہزار میٹرک ٹن ہے جو قدرتی گیس کی کمی کے باعث اب بڑھ کر
آٹھ ہزار میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستان میں ایل پی جی کی مقامی پیداوار تقریباً 2200 میٹرک ٹن ہے جبکہ
باقی درآمد کی جاتی ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی سمندری راستوں
کے علاوہ ایران کے زمینی راستے سے بھی آتی ہے۔
آل پاکستان ایل پی جی ڈسٹریبیوٹر ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر
کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے سبب زمینی راستوں سے درآمد میں کچھ خلل آیا جو
اب بہتر ہو رہا ہے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات جیسے پیٹرول، ڈیزل اور قدرتی گیس کی طرح
ایل پی جی کی قیمتوں کا تعین بھی اوگرا ہی کرتا ہے لیکن نجی شعبے میں طلب اور رسد کی بنیاد پر ایل پی جی کی قیمت عموماً اوگرا کے متعین کردہ نرخوں سے مختلف ہوتی ہے۔
اسی لیے جب فراہمی میں کمی آتی ہے تو گھریلو سلنڈر حکومت کے اعلان کردہ
نرخوں کے مقابلے میں زیادہ مہنگا فروخت ہوتا ہے۔
اوگرا کے حالیہ نوٹیفیکیشن کے بعد اسلام آباد میں ایل پی جی سلنڈر فراہم
کرنے والی پرائیوٹ کمپنیوں کا 11 کلو گرام والا گھریلو سلنڈر 5000 روپے سے اوپر فروخت
ہو رہا ہے۔
قیمتوں میں اس قدر فرق پر ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر کا کہنا
ہے کہ اوگرا کی اعلان کردہ قیمتوں پر عمل در آمد کروانے کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ
کی ہے۔
ایران نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے: ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا
ہے کہ ایران نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ
سوشل پر پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا: ’نئی ایرانی حکومت کے صدر اپنے پیش روؤں کے مقابلے
میں کہیں کم انتہا پسند اور کہیں زیادہ ذہین ہیں۔ انھوں نے ابھی ابھی امریکہ سے
کہا ہے کہ جنگ بند کر دی جائے۔‘
ٹرمپ نے لکھا کہ ’ہم اس پر تب غور
کریں گے جب آبنائے ہرمز کھلے گی اور رکاوٹوں سے پاک ہو گی۔‘
،تصویر کا ذریعہtruthsocial.com/@realDonaldTrump
امریکی صدر نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا: ’(جب تک آبنائے ہرمز نہیں کھلتی) اس وقت تک ہم دھماکے کر کے ایران کو فنا کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ واپس پتھر کے دور میں بھیج دیں گے۔‘
ٹرمپ کی یہ پوسٹ بظاہر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے بیان کا رد عمل لگتی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران کے پاس جنگ کو ختم کرنے کے لیے ’ضروری ارادہ‘ موجود ہے، بشرطیکہ کچھ شرائط پوری کی جائیں۔
پزشکیان کے مطابق ان شرائط میں ’لازمی ضمانتیں‘ شامل ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی جارحیت کو روکا جا سکے۔
یہ بیان پزشکیان اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا کے درمیان ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سامنے آیا، جس کی تفصیلات ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے جاری کیں۔
انھوں نے کہا تھا: ’ہم نے کبھی بھی کشیدگی یا جنگ کی خواہش نہیں کی اور صورتحال کو معمول پر لانے کا حل جارحانہ حملوں کا خاتمہ ہے۔‘
امریکہ کے مطابق یہ جنگ کتنی طویل ہو گی؟
،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ حکام
بظاہر ایران سے جلد نکلنے کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔ منگل کے روز امریکی صدر نے
اشارہ دیا کہ امریکہ جلد اس تنازع سے نکل جائے گا۔
آئیے نظر ڈالتے ہیں کہ ٹرمپ اور دوسروں
نے جنگ کے خاتمے کے بارے میں اب تک کیا کہا ہے۔
نو مارچ کو ٹرمپ نے نشریاتی ادارے سی بی ایس کو بتایا کہ جنگ ’تقریباً
مکمل ہو چکی ہے‘ اور بعد میں کہا کہ یہ جنگ ’بہت جلد‘ ختم ہو جائے گی۔
گذشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ مارکو
روبیو نے کہا کہ امریکہ کو ایران میں اپنی کارروائیاں ’اگلے چند ہفتوں میں‘ مکمل
کرنے کی توقع ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے بھی اس بات کی
تائید کی تھی۔ اس سے قبل وہ کہہ چکی تھیں کہ ممکنہ طور پر جنگ چھ ہفتے تک جاری رہ
سکتی ہے۔
سوموار کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ
امریکہ ایک نئی ایرانی حکومت کے ساتھ امریکی فوجی آپریشن کے خاتمے کے لیے ’سنجیدہ
مذاکرات‘ کر رہا ہے، تاہم یہ صرف اس صورت میں ممکن ہو گا جب کوئی معاہدہ طے پائے
اور آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے۔ ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم
کے مذاکرات کی تردید کی ہے۔
اسرائیلی حکام کی جانب سے وزیر اعظم
بنیامین نیتن یاہو نے سوموار کو کہا کہ جنگ ’یقینی طور پر آدھے مرحلے سے آگے‘ بڑھ
چکی ہے۔ بعد میں انھوں نے وضاحت کی کہ وہ وقت کا ذکر نہیں کر رہے تھے بلکہ عسکری
اہداف مکمل ہونے کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔
گزشتہ روز امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ
نے کہا کہ کام مکمل کرنے میں ’جلدی‘ ہے اور مذاکرات ’آگے بڑھ رہے ہیں۔‘
اور
پھر گذشتہ شب ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ’دو سے تین ہفتوں میں‘ ایران سے نکل جائے گا؛ جب
اسے یقین ہو جائے گا کہ ایرانی حکومت ’کئی برسوں تک‘ جوہری ہتھیار بنانے کے قابل
نہیں رہی۔
’موٹر سائیکل خریدوں گا اور گاؤں میں وقت گزاروں گا‘: ایران میں ہلاک ہونے والے پاکستانی نوجوان کے خواب ادھورے رہ گئے, ریاض سہیل، بی بی سی اردو، کراچی
،تصویر کا ذریعہYasir Khan TikTok
ایرانی سمندر میں مال بردار جہاز پر ہوئے حملے کے نتیجے میں ہلاک 25 سالہ
پاکستانی نوجوان یاسر خان کی میت کراچی کے علاقے یونس آباد منتقل کردی گئی ہے۔
نماز جنازہ عشا کے بعد ادا کی جائے گی۔
یاسر خان بطور ’سی مین‘ مرچنٹ نیوی میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ 25
مارچ کو حملے کے نتیجے میں ان کا بحری جہاز ڈوب گیا اور یاسر کی جان چلی گئی۔
یاسر کے بھائی امجد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بحری جہاز پر آٹھ
سے نو افراد سوار تھے۔ ان میں سے صرف سبحان نامی ایک نوجوان زندہ بچ نکلنے میں
کامیاب ہوئے۔ انھوں نے ہی امجد خان کو فون کر کے اس واقعے کے بارے میں بتایا۔
فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن نے پاکستان ایران بارڈر پر تفتان کے مقام
سے یاسر خان کی میت کراچی منتقل کی ہے۔
تفتان سے یاسر کی میت لانے والے امجد خان نے بتایا کہ اپنے بھائی سے
ان کی آخری بات عید کے دوسرے دن ہوئی تھی۔ یاسر بہت خوش تھے اور وطن واپسی کے منصوبے
بنا رہے تھے۔
امجد خان کے مطابق: ’اس نے کہا تھا کہ میں پاکستان آؤں گا، سب سے پہلے
اپنے لیے موٹر سائیکل خریدوں گا اور پھر گاؤں جا کر سب کے ساتھ وقت گزاروں گا۔‘
امجد کے مطابق یاسر نے ایران کے خراب ہوتے ہوئے حالات پر تشویش کا اظہار
بھی کیا تھا۔ وہ بندر عباس کی بندرگاہ پر اتر کر جلد از جلد پاکستان واپس آنا چاہتے
تھے لیکن زندگی نے مہلت نہ دی۔
امجد خان نے بتایا: ’جب یاسر پیدا ہوا تھا تو میں اسے ہسپتال سے گھر لے
کر آیا تھا اور آج اس کی میت کو بھی میں ہی لے کر جا رہا ہوں۔ میرے دل پر کیا گزر رہی
ہے، یہ میرا اللہ جانتا ہے یا پھر میں۔‘
سنہ 2000 میں پیدا ہونے والے یاسر خان نے لواحقین میں بیوہ اور تین سالہ
بیٹا چھوڑے ہیں۔
امجد خان کے مطابق یاسر چھ ماہ سے ایران میں ڈیوٹی
دے رہے تھے، ان کے ساتھی اور سٹاف ان کی محنت اور اخلاق سے بہت متاثر تھے۔
مردان میں لینڈ سلائیڈنگ سے نو مزدور ہلاک، ایک لاپتہ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور
،تصویر کا ذریعہRescue 1122
خیبر پختونخوا
کے ضلع مردان میں پہاڑ کے نیچے دب کر نو مزدور ہلاک ہو گئے، دو زخمی ہیں جبکہ ایک کی
تلاش جاری ہے۔
موقع پر موجود سماجی
کارکن محمد قاسم نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ افراد کان کنی کے لیے یہاں آئے تھے۔
قاسم کے مطابق
یہاں سنگ مرمر کی کان میں مجموعی طور پر 12 مزدور کام کے لیے آئے تھے اور صفائی کا کچھ کام مکمل کرنے کے بعد چائے
پینے کے لیے بیٹھے تھے۔ اسی دوران اچانک لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور پہاڑ کا ایک بڑا
حصہ نیچے گرنے سے مزدور دب گئے۔
قاسم کا کہنا ہے کہ چند دن سے علاقے
میں بارشیں ہو رہی تھیں اور ابھی باقاعدہ مائننگ یا بلاسٹنگ شروع نہیں کی گئی تھی۔
ریسکیو 1122 کے مقامی عہدیدار سید
عباس شاہ نے بتایا کہ امدادی کارروائی جاری ہے اور بھاری مشینری موقع پر موجود ہے۔
ان کے مطابق ایک مزدور ابھی تک ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں اور ان کی تلاش
کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے
میں نو مزدور ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو مردان کے مقامی ہسپتال
منتقل کر دیا گیا ہے۔ مزدوروں کا تعلق صوابی، بونیر، ضلع مہمند اور پشاور سے بتایا
جا رہا ہے۔
خیبر
پختونخوا میں ماربل، چونا پتھر اور دیگر معدنیات کی کانیں بڑی تعداد میں موجود
ہیں۔ ضلع مردان میں خاص طور پر رستم، کاٹلنگ اور بائزئی کے علاقوں میں ماربل کی
کانیں پائی جاتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق صوبے میں 75 ہزار سے زائد مزدور ان
کانوں میں کام کرتے ہیں۔
عمران خان کی ’رہائی کے لیے فورس‘ کی تشکیل پر آئینی عدالت کا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو نوٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
وفاقی آئینی عدالت کے سربراہ جسٹس
امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ’رہائی
سے متعلق فورس‘ کی تشکیل کے خلاف دائر درخواست پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل
آفریدی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے 10 روز میں جواب طلب کر لیا ہے۔
آئینی بینچ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ
کسی سزا یافتہ شخص کی رہائی کے لیے اس نوعیت کی فورس کی تشکیل مناسب نہیں۔
ملک ظہیر ایڈووکیٹ نے وزیر اعلیٰ
خیبر پختونخوا کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے رہا کروانے
کے لیے ’رہائی فورس‘ کے اعلان کے خلاف آئینی عدالت میں درخواست دائر کی۔
آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین
خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار نے اپنے
دلائل میں کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو قانون کے مطابق سزا سنائی گئی ہے
اور وہ اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس سزا کے خلاف
عمران خان کی جانب سے دائر کی گئی اپیلیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں مختلف مراحل
میں زیر سماعت ہیں۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، جو ایک منتخب نمائندہ اور صوبے کے انتظامی سربراہ بھی
ہیں، کس طرح ایک سزا یافتہ مجرم کی رہائی کے لیے فورس بنانے کا اعلان کر سکتے ہیں۔
ملک ظہیر ایڈووکیٹ نے مطالبہ کیا کہ عدالت
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو ایسے کسی بھی اقدام سے روکے جو ملکی آئین اور مفاد
عامہ کے خلاف ہو۔
تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس علی
باقر نجفی نے درخواست گزار سے پوچھا کہ کیا صوبائی کابینہ نے ایسی کسی فورس کی
منظوری دی ہے یا کابینہ کے کسی اجلاس میں اس نوعیت کی تجویز پیش کی گئی ہے؟
اس پر درخواست گزار نے بتایا کہ
صوبائی کابینہ کے اجلاس میں ایسی کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی۔
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ
سزا یافتہ شخص کے لیے اس طرح کی فورس نہیں بننی چاہیے اور وفاقی حکومت اس بات کو
یقینی بنائے کہ قانون کی کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو۔
درخواست گزار نے اپنے دلائل میں ملک
کو درپیش سکیورٹی چیلنجز اور اس حوالے سے ذرائع ابلاغ میں شائع شدہ مضامین کا بھی
حوالہ دیا اور کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے سے متعلق اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے
موجود ہیں۔
برطانیہ کا وزیر اعظم ہوں اور مجھے اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلہ کرنا ہے: کیئر سٹامر
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹامر نے
ڈاؤننگ سٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ یہ بات اب ’تیزی سے واضح ہوتی
جا رہی ہے‘ کہ برطانیہ کا ’طویل مدتی قومی مفاد یورپ میں اپنے اتحادیوں اور یورپی
یونین کے ساتھ قریبی شراکت داری قائم کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔‘
اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
برطانوی اخبار ٹیلی گراف کو انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکہ کو نیٹو اتحاد
سے نکالنے پر غور کر رہے ہیں۔
برطانوی وزیر اعظم سے پوچھا گیا کہ کیا
وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کے تناظر میں یورپ کے ساتھ قریبی روابط
قائم کر رہے ہیں؟
اس کا جواب دیتے ہوئے کیئر سٹامر کا
کہنا تھا کہ وہ یورپ اور امریکہ کے درمیان کسی ایک کا انتخاب نہیں کر رہے۔
انھوں نے کہا: ’میرا خیال میں ہمارے
مفاد میں ہے کہ امریکہ اور یورپ دونوں کے ساتھ مضبوط تعلقات ہوں۔ تاہم جب بات دفاع
اور سلامتی، توانائی کے اخراجات اور معیشت کی آتی ہے تو ہمیں یورپ کے ساتھ مزید
مضبوط تعلقات کی ضرورت ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہWPA Pool/Getty Images
پریس کانفرنس میں برطانوی وزیر اعظم نے بتایا کہ ’ایران جنگ میں شامل ہونے کے حوالے سے اپنا مؤقف تبدیل کرنے کے لیے مجھ پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا گیا لیکن میں جنگ پر اپنا مؤقف تبدیل نہیں کروں گا۔‘
انھوں نے کہا: ’چاہے کتنا ہی دباؤ ہو، چاہے کتنا ہی شور ہو، میں برطانیہ کا وزیر اعظم ہوں اور مجھے اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔‘
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ٹروتھ سوشل پر برطانیہ سمیت دیگر اتحادیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا: ’اب آپ کو خود لڑنا سیکھنا ہوگا، امریکہ اب آپ کی مدد کے لیے موجود نہیں ہو گا۔‘
معاشی اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’یہ آسان نہیں ہو گا۔‘
کیئر سٹامر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ برطانیہ کے وزیر خارجہ عالمی رہنماؤں کے ایک سربراہی اجلاس کی میزبانی کریں گی، جس میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنے کے منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
اسرائیل اور امریکہ کے حملوں پر رد عمل میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جس کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
پریس کانفرنس میں برطانوی وزیر اعظم نے اپنا سابقہ مؤقف دہرایا کہ برطانیہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں فریق نہیں بنے گا۔
ٹرمپ کا امریکہ کو نیٹو سے نکالنے پر غور، اتحاد کو ’کاغذی شیر‘ قرار دیا، برطانوی بحریہ پر بھی تنقید: ٹیلی گراف رپورٹ
،تصویر کا ذریعہNathan Howard/Getty Images
برطانوی اخبار ٹیلی
گراف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کو
نیٹو سے نکالنے پر ’سنجیدگی سے غور‘ کر رہے ہیں۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ نے نیٹو اتحاد
کو ’کاغذی شیر‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ برطانیہ کے پاس بحریہ نہیں ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ مشرق وسطیٰ
میں تنازع کے بعد نیٹو میں امریکہ کی رکنیت پر نظر ثانی کریں گے تو ٹرمپ کا کہنا
تھا: ’اوہ ہاں، میں تو کہتا ہوں کہ یہ معاملہ اب نظرثانی سے بھی آگے جا چکا ہے۔۔۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا: ’میں کبھی
بھی نیٹو سے قائل نہیں ہوا۔ میں ہمیشہ جانتا تھا کہ یہ ایک کاغذی شیر ہے اور یہ
بات پوتن بھی جانتے ہیں۔‘
برطانیہ کے جنگی بحری بیڑے کی حالت کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا: ’آپ کے پاس تو بحریہ ہی نہیں ہے۔ آپ بہت پرانے ہیں اور آپ کے پاس ایسے طیارہ بردار
جہاز تھے جو کام ہی نہیں کرتے۔‘
حوثیوں کا اسرائیل میں ’حساس اہداف‘ کو میزائل حملے میں نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ حوثیوں نے اسرائیل پر تیسرا حملہ کیا ہے۔
ایک ویڈیو بیان میں یمن میں مقیم گروپ کے ترجمان یحیی ساریہ کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے جنوبی اسرائیل میں ’دشمن کے حساس اہداف‘ پر میزائل داغے ہیں۔ اس ویڈیو کا ترجمہ بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے کیا ہے۔
یحیی ساریہ کا مزید کہنا ہے کہ یہ آپریشن ایران اور حزب اللہ کے تعاون سے کیا گیا۔
حزب اللہ نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کی مدد سے اسرائیلی ڈرون کو مار گرایا, علا دراغمہ، بی بی سی عربی
اسرائیلی فوج کا
کہنا ہے کہ منگل کی رات حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائیہ کا ایک ڈرون مار
گرایا ہے۔
فوج کی جانب سے
جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون زمینی افواج کو مدد فراہم کر رہا تھا جب اسے
زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کی مدد سے نشانہ بنایا گیا اور وہ گر کر تباہ
ہو گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون سے کسی بھی طرح کی معلومات
کے افشا ہونے کا خطرہ نہیں اور اس واقعے کے متعلق تفتیش جاری ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تین فیصد کمی کے بعد تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں کمی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ رات اوول آفس میں دیے گئے اس بیان کے بعد ہوئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ ’بہت جلد‘ ایران سے نکل جائے گا اور فوجی کارروائیاں دو یا تین ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہیں۔
تاہم، برینٹ کروڈ آئل کی قیمتیں ایران جنگ کے آغاز سے پہلے کے مقابلے میں اب بھی 39 فیصد زیادہ ہیں۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کے ایک اہم راستے آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کیا ہوا ہے۔ یاد رہے کہ عالمی تیل کی تجارت کا 20 فیصد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔
جنگ کے باوجود پاکستانی روپے کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر میں 400 فیصد اضافے کی وجہ کیا ہے؟, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکہ اور اسرائیل
کے ایران پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے پاکستانی روپیہ کے مقابلے
میں ایرانی ریال کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ
کو ایک مہینے سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے اور اس دوران ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں
اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان میں کرنسی ایکسچینج
کے کاروبار سے وابستہ افراد کے مطابق ایرانی کرنسی کی قدر میں تقریباً چار گنا اضافہ
ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جنگ سے پہلے ایک کروڑ ایرانی ریال 2500 پاکستانی روپے میں مل جاتے
تھے تاہم اب ایک کروڑ ایرانی ریال کی قدر 10 ہزار روپے کے برابر ہو چکی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے بتایا کہ جنگ سے
پہلے ایرانی کرنسی کی قدر بہت کم تھی اور ایک کروڑ ایرانی ریال 2500 روپے میں مل جاتے
تھے تاہم اب ایرانی کرنسی مہنگی ہوئی ہے اور اب ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت 10 ہزار
پاکستان روپے ہے۔
ایرانی کرنسی میں اضافے
کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے ملک بوستان نے بتایا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ قیاس آرائیاں
ہیں کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد ایران کے اوپر عائد پابندیوں بھی
اٹھائے جانے کا امکان ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ
اس بنیاد پر یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ پابندیاں ہٹنے سے ایرانی کرنسی کی قدر میں اضافہ
ہو گا اس لیے لوگ مستقبل کے لیے اس میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
ملک بوستان کا کہنا
ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے بیس لاکھ ڈالر کا ٹول
ٹیکس وصول کرنے کا اقدام بھی ایرانی کرنسی کی مضبوطی کا باعث بنا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے
جہازوں کو ایرانی ریال اور چینی یوآن میں ٹول ادا کرنے کا کہا ہے جس کا ایرانی کرنسی پر مثبت پڑا ہے اور اس کی قدر میں کافی زیادہ
اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔