زیر تعمیر پُلوں پر حملے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتے: ایرانی وزیر خارجہ کا امریکی صدر کو جواب

کرج میں پُل پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ: ’یہ (حملے) صرف انتشار کا شکار دشمن کی شکست اور اخلاقی زوال کو ظاہر کرتے ہیں۔‘ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پُل پر حملے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی اور کہا تھا کہ: ایران کا ’سب سے بڑا پُل زمین بوس ہو گیا ہے، اب کبھی استعمال کے قابل نہیں رہے گا، آگے اور بھی بہت کچھ ہونے والا ہے۔‘

خلاصہ

  • برطانیہ کی سیکریٹری خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے 'ہر ممکن سفارتی، معاشی اور مشترکہ اقدام' لینے کے لیے پُرعزم ہیں
  • تہران کے قریب واقع شہر کرج میں پل پر حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک
  • امریکہ اور اسرائیل جنگ بند کریں: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا مطالبہ
  • ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ 70 لاکھ ایرانیوں نے فوجی خدمات کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا ہے
  • آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے 40 ممالک کے وزرائے خارجہ کا آن لائن اجلاس۔ برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے 'عالمی معاشی سلامتی کو نقصان' پہنچ رہا ہے
  • ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ان بحری جہازوں کے لیے کھلی ہے جن کا امریکہ اور اسرائیل سے 'تعلق نہیں‘

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ کے خطاب کے دوران امریکی فوجی کمانڈرز اور سینیئر اہلکار وائٹ ہاؤس میں موجود تھے

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہ/EPA/Shutterstock

    جب ٹرمپ قوم سے خطاب کر رہے تھے، تو اس موقع پر اعلیٰ امریکی فوجی کمانڈرز وائٹ ہاؤس کے کراس ہال میں بیٹھے انھیں دیکھ اور سُن رہے تھے۔

    وائٹ ہاؤس میں موجود ان فوجی افسران میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ شامل تھے۔

    اس موقع پر وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی موجود تھے جبکہ ساتھ ہی ٹرمپ کی کابینہ کے دیگر ارکان بھی شریک تھے۔

  2. ٹرمپ نے اپنے خطاب میں وہ باتیں کیں جو وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں

    ٹرمپ نےامریکی قوم کے نام اپنے خطاب میں وہ کئی نکات دوبارہ دہرائے ہیں جو گذشتہ دنوں کے دوران بھی متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں۔

    صدر نے کہا کہ یہ جنگ ایران اور اس کے پراکسی گروہوں کی 47 سالہ جارحیت کا جواب ہے۔ اپنے خطاب میں انھوں نے تقریباً چار دہائیاں پہلے امریکی میرین بیرکس پر ہونے والے بم دھماکے اور سنہ 2000 میں یو ایس ایس کول پر حملے کا حوالہ دیا۔

    یاد رہے کہ ٹرمپ نے اس سے قبل 13 مارچ کو اپنے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ایرانی حکومت ’گذشتہ 47 برسوں سے دنیا بھر میں معصوم لوگوں کو قتل کر رہی ہے۔‘

    انھوں نے اس وقت لکھا تھا کہ ’اور اب میں، امریکہ کا 47واں صدر ہونے کے ناطے، انھیں مار رہا ہوں۔ یہ کرنا کتنا بڑا اعزاز ہے۔‘

    بدھ کے روز انھوں نے یہ بات بھی دہرائی کہ امریکہ دو سے تین ہفتوں میں ’ایران سے نکل جائے گا‘۔ اور یہ بات وہ پہلے بھی متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں۔

  3. امریکی صدر ٹرمپ کی تقریر کے بعد عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ, بی بی سی کی بزنس رپورٹر پیٹر ہاسکنز کا تجزیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ کے خطاب نے عالمی تیل منڈیوں کو اس بات پر مطمئن نہیں کیا کہ اہم آبنائے ہرمز کی شپنگ میں خلل جلد ختم ہو جائے گا۔

    صدر کے خطاب سے پہلے بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تھی۔

    خطاب کے دوران اس میں اتار چڑھاؤ آیا، لیکن اب یہ اوپر جا رہی ہے اور اس وقت تقریباً چار فیصد اضافے کے ساتھ 105 اعشاریہ 38 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

    یہ آبنائے عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی کی ترسیل عام طور پر اسی تنگ سمندری راستے سے ہوتی ہے۔

    یہ اہم آبی راستہ 28 فروری سے جاری تنازع کے بعد مؤثر طور پر بند ہے، جب ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے جواب میں اس گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر حملے کی دھمکی دی۔

    تاہم دوسری جانب ٹرمپ کے خطاب کے ردعمل میں عالمی تیل کی منڈیاں اوپر جا رہی ہیں تو امریکی سٹاک فیوچرز گر رہے ہیں، جو جمعرات کی صبح وال سٹریٹ کے کم سطح پر کھلنے کی نشاندہی کرتا ہے۔

    ڈاؤ جونز اور ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز تقریباً صفر اعشاریہ سات فیصد نیچے ہیں، جبکہ نیسڈیک کے فیوچرز تقریباً ایک فیصد تک گر چکے ہیں۔

    سٹاک مارکیٹ فیوچرز ایسے معاہدے ہوتے ہیں جو سرمایہ کاروں کو مستقبل کی کسی مقررہ تاریخ پر ایک طے شدہ قیمت پر سٹاک انڈیکس خریدنے یا فروخت کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

    یہ اس بات پر ایک قسم کی شرط ہوتے ہیں کہ سرمایہ کار سمجھتے ہیں مارکیٹ کس سمت میں جائے گی اور ان کی قیمتیں مارکیٹ کے رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔

  4. ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کو مستقبل کے لیے ’حقیقی سرمایہ کاری‘ قرار دیا

    امریکی صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ ’امریکہ ایک ناقابلِ شکست فوجی طاقت ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’یہ جنگ امریکی بچوں اور آنے والی نسلوں کے لیے ’ایک حقیقی سرمایہ کاری‘ ہے۔‘

    اس کے بعد صدر ٹرمپ نے 20ویں اور 21ویں صدی کی جنگوں کے دورانیے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ برسوں تک جاری رہیں، لیکن یہ تنازع صرف 32 دنوں سے جاری ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکی اب ایرانی جارحیت اور ’جوہری بلیک میلنگ کے سایے‘ سے محفوظ ہیں اور امریکہ پہلے سے کہیں زیادہ ’محفوظ، مضبوط اور خوشحال‘ ہوگا۔

    اور انھیں الفاظ کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قوم سے خطاب ختم ہوا۔

  5. وہ ممالک جنھیں مشرقِ وسطیٰ سے تیل چاہیے اب وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں کردار ادا کریں یا امریکی تیل خریدیں: ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ٹرمپ نے امریکہ اور وینزویلا کی تیل کی پیداوار کے بارے میں بھی قوم سے خطاب کے دوران ذکر کیا اور کہا کہ امریکہ کو بیرونِ ملک سے تیل کی ضرورت نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’وہ ممالک جو مشرقِ وسطیٰ سے تیل حاصل کرنا چاہتے ہیں اب انھیں چاہیے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں کردار ادا کریں اور کُھل کر سامنے آئیں۔‘

    امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر رواں سال فروری میں حملے کے بعد سے خلیج سے توانائی کی ترسیل بڑی حد تک رک گئی ہے کیونکہ ایران نے اپنے خلاف اس کارروائی کے جواب میں ان بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے کہ جو اس اہم تجارتی آبی گُزر گاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کریں گے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’ان ممالک سے جو ایندھن حاصل نہیں کر پا رہے، جن میں سے بہت سے ایران کی قیادت کو ختم کرنے کی کارروائی میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہیں۔۔۔ کچھ تاخیر سے ہی سہی، ہمت پیدا کریں، آبنائے ہرمز تک جائیں اور اسے اپنے کنٹرول میں لیں۔ اس کی حفاظت کریں۔‘

    ٹرمپ نے خطاب کے دوران اس بات کا بھی اظہار کیا کہ جنھیں تیل چاہیے وہ ممالک امریکی تیل خریدیں۔

  6. امریکہ ایران میں اپنے اہداف حاصل کرنے کے بہت قریب ہے: صدر ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر نے ایران کے خلاف جاری جنگ سے متعلق مزید اپنی تقریر میں کہا کہ ’امریکہ منظم طریقے سے ایرانی حکومت کی اس صلاحیت کو ختم کر رہا ہے کہ وہ امریکہ کو دھمکی دے سکے یا اپنی سرحدوں سے باہر طاقت کا مظاہرہ کر سکے۔‘

    انھوں نے ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور میزائل بنانے کی صلاحیت تباہ کر دی گئی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’آج رات مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم بنیادی سٹریٹجک اہداف حاصل کرنے کے بہت قریب ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ وہ ڈوور ایئر فورس بیس گئے تھے تاکہ جنگ میں ہلاک ہونے والے 13 امریکی فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں۔

    ’ہم انھیں سلام پیش کرتے ہیں اور اب ہمیں مشن مکمل کر کے انھیں خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہیے۔‘

  7. ایران جوہری ہتھیار بنانے کے بہت قریب تھا ہمیں اُن کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے پر فخر ہے: ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر نے یہ خطاب اس لیے کیا کیونکہ وہ یہ بتانا چاہتے تھے اور اس بات کی وضاحت کرنا چاہتے تھے کہ امریکہ کا ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری ’امریکہ اور دنیا کی سلامتی کے لیے کیوں ضروری ہے۔‘

    اس خطاب میں اُن کا مزید کہنا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے ’بہت قریب تھا۔ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو ترک نہیں کیا تھا اور تیزی سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کر رہا تھا۔‘

    امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ انھیں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے پر فخر ہے۔

    اسی کے ساتھ صدر ٹرمپ نے سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں طے پانے والے جوہری معاہدے کو ایک غلطی قرار دیا اور کہا کہ انھیں اسے ختم کرنے پر فخر ہے۔‘

    اس کے بعد صدر ٹرمپ نے جون سنہ 2025 میں اپنے حکم پر کیے گئے حملے ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کا ذکر کیا جو ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’دنیا نے اس جیسا آپریشن کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ہم نے دُنیا کے لیے خطرے کا باعث بننے والی ایرانی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔‘

  8. ٹرمپ: ایران میں امریکی اہداف ’تکمیل کے قریب‘ ہیں, تجزیہ: برنڈ ڈوبسمین جونیئر

    جیسا کہ توقع تھی، صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ ایران میں اپنے مختلف فوجی اہداف کی ’تکمیل کے قریب‘ ہے اور ساتھ ہی انھوں نے عہد کیا کہ وہ جلد از جلد ’یہ کام مکمل‘ کر لیں گے۔

    ٹرمپ نے بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمتوں، جو وقت کے ساتھ اب ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے، کی ذمہ داری بھی ایران پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

    تاہم، ٹرمپ کا یہ وعدہ کہ امریکہ جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ ’تیار‘ ہے، اُن کے ناقدین اور اُن لوگوں کے لیے غیر مؤثر محسوس ہو گا جو اس فوجی کارروائی کے مخالف رہے ہیں اور جن کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے خطرات تو اُسی وقت پیدا ہونے شروع ہو گئے تھے جب امریکی اور اسرائیلی حملے شروع ہوئے۔

    گذشتہ دنوں کی طرح، ٹرمپ نے امریکی اتحادیوں سے یہ بھی کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ’ہمت پیدا کریں‘، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ امریکہ کو اس (آبنائے ہرمز) کی ’ضرورت نہیں‘ ہے۔

    کچھ مبصرین فوراً یہ سوال اٹھائیں گے کہ اگر امریکہ آنے والے ہفتوں میں اس تنازع سے پیچھے ہٹتا ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ خطے میں بحری آمدورفت کی آزادی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سے خود کو عملاً الگ کر لے گا۔

  9. ٹرمپ کی جانب سے خلیجی ریاستوں کا شکریہ

    قوم کے نام اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے خطے میں موجود امریکہ کے اتحادیوں، جن میں اسرائیل اور خلیجی ریاستیں شامل ہیں، کا بالخصوص شکریہ ادا کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’وہ بہت شاندار رہے ہیں، اور ہم انھیں کسی بھی صورت میں نقصان پہنچنے یا ناکام ہونے نہیں دیں گے۔‘

    ٹرمپ نے نشاندہی کی کہ ایران نے اُن میں سے کئی (خلیجی) ممالک پر حملے کیے ہیں، اور یہ بات اس امر کو مزید واضح کرتی ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ملنے چاہییں۔

  10. امریکی صدر کا قوم سے خطاب: ’جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران ایک ’ناقابلِ برداشت خطرہ ہے‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر کے قوم سے خطاب کے حوالے سے تازہ ترین اپ ڈیٹس کا سلسلہ جاری ہے۔

    ٹرمپ نے امریکی عوام سے خطاب کے دوران ایرانی جوہری پروگرام کا بھی ذکر کیا اُنھوں نے گزشتہ 47 برسوں میں ایران یا اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے کیے گئے دہشت گرد حملوں اور دیگر اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے ملک پر حکمرانی کرنے والے نظام کو ’غنڈہ گرد اور قاتل‘ قرار دیا۔‘

    امریکی صدر نے حالیہ مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کی طرف بھی اشارہ کیا جس میں ہزاروں شہری مارے گئے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایسے رہنماؤں کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں ایسا کبھی ہونے نہیں دوں گا۔‘

  11. بریکنگ, امریکی صدر ٹرمپ کا قوم سے خطاب: ایران کی بحریہ اور فضائیہ تباہی کا شکار ہو چُکی ہے اور زیادہ تر ایرانی رہنما ہلاک ہو چُکے ہیں‘

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب سے کُچھ دیر قبل امریکی عوام سے خطاب کے دوران ایران کے ساتھ جنگ کے بارے میں تازہ صورتحال سے آگاہ کیا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ’آج رات ایرانی بحریہ ختم ہو چکی ہے، ان کی فضائیہ تباہی کا شکار ہے، ان کے رہنما، ان میں سے زیادہ تر۔۔۔ اب ہلاک ہو چکے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری کو ایک ماہ مکمل ہو چُکا ہے۔ ایران کی میزائل اور ڈرون لانچ کرنے کی صلاحیت نمایاں طور پر محدود ہو چکی ہے۔‘

    ٹرمپ نے امریکی عوام سے خطاب کے دوران کہا کہ ’اپنی پہلی مدتِ صدارت میں انھوں نے ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کے امریکی قتل کی نگرانی کی۔ اگر سلیمانی آج زندہ ہوتے، ’تو شاید آج رات ہماری گفتگو مختلف ہوتی، لیکن آپ جانتے ہیں کہ ہم پھر بھی جیت رہے ہوتے اور بڑی کامیابی کی جانب آج بھی بڑھ رہے ہوتے۔‘

  12. ٹرمپ کے جنگ ختم ہونے کے اشارے، امریکی سٹاک مارکیٹ میں تیزی اور تیل کی قیمتوں میں کمی

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ امریکہ ’جلد ایران سے نکل جائے گا‘، بدھ کو امریکی سٹاک مارکیٹ میں اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔

    ٹرمپ نے قوم سے خطاب سے قبل کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ خطے میں ’محدود حملے‘ دوبارہ کر سکتا ہے۔

    گذشتہ دو دنوں سے وال سٹریٹ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے کیونکہ سرمایہ کار جنگ کے خاتمے کی امید لگا رہے ہیں، تاہم گذشتہ ایک ماہ میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ عالمی مہنگائی کے خدشات کو بڑھا چکا ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملے کے بعد تیل اور پیٹرول کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھیں۔ ایران نے بھی خطے میں جوابی کارروائیاں کیں اور آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا، جس سے عالمی سپلائی متاثر ہوئی۔

    تاہم بدھ کو کچھ بہتری دیکھی گئی اور عالمی معیار برینٹ کروڈ آئل کی قیمت جون کے لیے 2.7 فیصد کمی کے بعد 101.16 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

    اس سے ایک روز قبل برینٹ آئل کی قیمت مختصر طور پر 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو جنگ کے آغاز کے بعد بلند ترین سطح کے قریب تھی۔

  13. لبنان میں حزب اللہ کے سینئر کمانڈر یوسف ہاشم اسرائیلی حملے میں مارے گئے

    KAWNAT HAJU / AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہKAWNAT HAJU / AFP via Getty Images

    لبنان میں حزب اللہ کے سینئر کمانڈر یوسف ہاشم بیروت میں اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں۔

    لبنانی وزارت صحت کے مطابق حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے۔

    بیروت سے بی بی سی کی سینئر نامہ نگار نفیسہ کونوارد کے مطابق بدھ کی صبح مقامی وقت کے مطابق تین گاڑیوں کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس سے زوردار دھماکہ ہوا۔

    یوسف اسماعیل ہاشم لبنان میں حزب اللہ کے کمانڈر تھے۔

    نفیسہ کونوارڈ کے مطابق انھیں حزب اللہ کی مختلف صفوں میں 40 سال کا تجربہ تھا اور وہ خصوصی کمیٹیوں کے رکن تھے۔ ہاشم نے 2024 میں علی کرکی کے اسرائیلی حملے میں مارے جانے کے بعد اقتدار سنبھالا۔

    لبنانی سکیورٹی ذرائع اور حزب اللہ کے ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ یوسف اسماعیل ہاشم ایک زمانے میں عراق میں حزب اللہ کے عسکری امور کے انچارج تھے اور جب اسرائیلی حملہ ہوا تو وہ ایک خیمے کے اندر ایک میٹنگ میں موجود تھے۔

    ہاشم حزب اللہ کے اعلیٰ ترین عہدے دار ہیں جنھیں اس جنگ کے آغاز سے ہی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

    ’حزب اللہ نے کہا کہ اس کے ایک اور رکن محمد باقر نابلسی بھی بیروت کے علاقے جناح پر حملے میں مارے گئے۔

  14. ہرمزگان کے ہینگم جزیرے پر ’ایئر کرافٹ اٹیک‘ میں سات افراد زخمی

    تسنیم خبر رساں ادارے نے ہرمزگان کے گورنر کے نائب برائے سیاسی سلامتی کے دفتر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جزیرہ ہینگام پر ہونے والے حملے میں سات افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

    احمد نفیسی نے کہا کہ یہ حملہ امریکی اور اسرائیلی طیاروں نے کیا اور ایک رہائشی عمارت اور کشتیوں کی پارکنگ کو نقصان پہنچا۔

    ہینگم خلیج فارس میں جزیرہ قشم کے جنوب میں واقع ہے۔

  15. اصفہان گورنریٹ: کاشان ایئرپورٹ کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا

    اصفہان کے نائب گورنر نے کہا ہے کہ کاشان کے مسافر ہوائی اڈے کو آج فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں ہوائی اڈے کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا، یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق آج شام ہوا۔

    مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق آج سہ پہر کو اصفہان، شہریزہ، کاشان، آران، بیدگول اور نجف آباد شہروں پر بھی حملے کئے گئے۔

  16. تہران میں فضائی حملہ: سینئر ایرانی رہنما کمال خرازی زخمی، اہلیہ ہلاک

    Tasnim

    ،تصویر کا ذریعہTasnim

    ایرانی میڈیا کے مطابق، ایران کے سینئر عہدیدار کمال خرازی تہران پر ہونے والے ایک فضائی حملے میں شدید زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

    خرازی، جو سابق وزیر خارجہ رہ چکے ہیں، ایران کے سیاسی نظام میں ایک نسبتاً معتدل شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ وہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر بھی رہ چکے ہیں، جنھیں اسرائیل نے جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں قتل کر دیا تھا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں ایران کی موجودہ قیادت کو ’زیادہ معقول‘ قرار دیتے رہے ہیں۔ ایسے میں اس مبینہ حملے کے بعد یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ ایک ایسے نظام میں، جہاں اب سخت گیر عناصر کا اثر بڑھ رہا ہے، خرازی کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔

  17. متحدہ عرب امارات: ایران کی طرف سے فائر کیے گئے ڈرونز اور میزائلوں کو روک رہے ہیں

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہا ہے۔

    دبئی میڈیا آفس نے مزید کہا کہ ان حملوں کو روکنے کے لیے شہر کے مختلف حصوں میں فضائی دفاعی نظام تعینات کر دیا گیا ہے۔

  18. ٹرمپ کے بیان کے بعد ایرانی صدر کا امریکی عوام کے نام خط، جنگ بندی کا کوئی ذکر نہیں

    WANA/Reuters

    ،تصویر کا ذریعہWANA/Reuters

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ’امریکہ کے عوام‘ کے نام ایک خط میں کہا ہے کہ ایران نے ’کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا‘، باوجود اس کے کہ ان کے بقول ملک نے ’قبضے اور حملوں‘ کا سامنا کیا ہے۔

    یہ خط ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ’ایران کے نئے صدر‘ نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے، تاہم انھوں نے واضح نہیں کیا کہ وہ کس کی بات کر رہے تھے۔

    سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ جنگ بندی پر اسی وقت غور کرے گا جب آبنائے ہرمز کھلے، آزاد اور محفوظ ہو۔ اس سے پہلے، ان کے بقول، امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھے گا۔

    دوسری جانب، ایرانی صدر نے اپنے خط میں کسی ممکنہ جنگ بندی کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

    انھوں نے لکھا کہ ایرانی عوام کی امریکہ، یورپ یا ہمسایہ ممالک کے عوام سے کوئی دشمنی نہیں، اور آخر میں کہا کہ ’محاذ آرائی یا تعلقات‘ میں سے انتخاب، آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

  19. یورپ میں مئی سے جیٹ فیول کی قلت کا خدشہ، فضائی ٹکٹ مزید مہنگے ہونے کا امکان, سائمن براؤننگ - بزنس رپورٹر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    رائن ایئر کے سی ای او مائیکل او لیری نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ جاری رہی تو مئی سے یورپ میں جیٹ فیول کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔

    انھوں نے سکائی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ جنگ کے اثرات کے باعث مئی اور جون میں رائن ایئر کے 25 فیصد فیول سپلائی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر تنازع مزید جاری رہا تو اپریل، مئی اور جون میں فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ بھی ہو سکتا ہے، اگرچہ فی الحال فیول کی قیمتیں محفوظ ہیں۔

    دوسری جانب، ایک سرکاری ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسٹر کے دوران بیرونِ ملک سفر کرنے والوں کے لیے فی الحال کوئی خدشہ نہیں اور فیول کی قلت متوقع نہیں۔

    تاہم، حکام اور فیول انڈسٹری آئندہ چھ ہفتوں کی سپلائی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے متبادل منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں۔

  20. برطانیہ کی رائل ایئر فورس نے 10 ایرانی ڈرون مار گرائے

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانیہ کی وزارت دفاع کے مطابق، برطانوی فوجیوں نے رات بھر 10 ایرانی ڈرون مار گرائے۔

    وزارت دفاع کے مطابق، آر اے ایف رجمنٹ کے گنرز نے ان بغیر پائلٹ گاڑیوں کو ایک ’خطرناک علاقے‘ میں نشانہ بنایا، تاہم مقام کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

    مزید برآں، برطانیہ کے لڑاکا طیارے، جن میں ٹائفون اور ایف 35 شامل ہیں، دفاعی مشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ سائپرس، اردن، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات کے اوپر اڑ رہے رہے ہیں۔