زیر تعمیر پُلوں پر حملے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتے: ایرانی وزیر خارجہ کا امریکی صدر کو جواب

کرج میں پُل پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ: ’یہ (حملے) صرف انتشار کا شکار دشمن کی شکست اور اخلاقی زوال کو ظاہر کرتے ہیں۔‘ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پُل پر حملے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی اور کہا تھا کہ: ایران کا ’سب سے بڑا پُل زمین بوس ہو گیا ہے، اب کبھی استعمال کے قابل نہیں رہے گا، آگے اور بھی بہت کچھ ہونے والا ہے۔‘

خلاصہ

  • برطانیہ کی سیکریٹری خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے 'ہر ممکن سفارتی، معاشی اور مشترکہ اقدام' لینے کے لیے پُرعزم ہیں
  • تہران کے قریب واقع شہر کرج میں پل پر حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک
  • امریکہ اور اسرائیل جنگ بند کریں: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا مطالبہ
  • ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ 70 لاکھ ایرانیوں نے فوجی خدمات کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا ہے
  • آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے 40 ممالک کے وزرائے خارجہ کا آن لائن اجلاس۔ برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے 'عالمی معاشی سلامتی کو نقصان' پہنچ رہا ہے
  • ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ان بحری جہازوں کے لیے کھلی ہے جن کا امریکہ اور اسرائیل سے 'تعلق نہیں‘

لائیو کوریج

  1. ایرانی شہر کرج پر ’شدید حملوں‘ کی اطلاعات, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    دو مختلف ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تہران کے مغرب میں واقع ایرانی شہر کرج کو شدید حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    تہران میں موجود ایک ذریعے نے بتایا کہ وہ اپنے گھر کے اوپر سے گزرتے جنگی طیاروں کی آوازیں سن سکتے تھے۔ ایران کے میڈیا اداروں نے بھی کرج پر حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔

  2. ٹرمپ اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کو دوبارہ دھمکیاں

    امریکی صدر ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران نے دھمکی دی ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل پر ’تباہ کن‘ اور ’وسیع تر‘ حملے کرے گا۔

    اس سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ آنے والے دو سے تین ہفتوں میں ’شدید حملے‘ کیے جائیں گے۔

    دونوں ممالک کی ایک دوسروں کو دھمکیوں کی ٹائم لائن:

    21 مارچ: صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ نہ کھولی تو امریکی فورسز ایران کے بجلی گھروں کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دیں گی۔

    اس دھمکی کے بعد اسرائیلی شہر دیمونا کے قریب ایک حملہ کیا گیا، جو اسرائیل کے غیر اعلانیہ جوہری پروگرام سے منسلک علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

    ایران نے اس دوران ایک بار پھر واضح کیا کہ آبنائے ہرمز اُن ممالک کے لیے کھلی ہے جو اُس کے خلاف حملوں میں شریک نہیں۔

    23 مارچ: صدر ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت‘ ہوئی ہے، جس کے بعد توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیے گئے۔

    تین دن بعد، 26 مارچ کو یہ وقفہ بڑھا کر 10 دن کر دیا گیا۔ اس کے بارے میں ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ یہ ایرانی حکومت کی درخواست پر کیا گیا۔

    31 مارچ: ایرانی پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں، جن میں مائیکروسافٹ، ایپل اور آئی بی ایم شامل ہیں، کو ایک بار پھر دھمکیاں دیں۔ اس دھمکی کو غیر سنجیدہ لیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کر ہی کیا سکتا ہے۔

  3. خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بارشوں سے متعلقہ حادثات کے نتیجے میں 32 ہلاکتیں, محمد کاظم، کوئٹہ۔ عزیز اللہ خان، پشاور

    بارشوں سے ہونے والا نقصان

    ،تصویر کا ذریعہPDMA

    پاکستان کے صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث 32 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ 25 مارچ سے اب تک بارشوں اور متعلقہ حادثات کے نتیجے میں مجموعی طور پر 25 افراد ہلاک اور 77 زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک افراد میں 18 بچے، پانچ خواتین اور دو مرد شامل ہیں۔

    بارشوں سے ہونے والا نقصان

    ،تصویر کا ذریعہPDMA

    پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک 88 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 71 جزوی جبکہ 17 مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں۔ یہ واقعات بنوں، ایبٹ آباد، کوہاٹ، پشاور اور نوشہرہ سمیت مختلف اضلاع میں پیش آئے۔

    دوسری جانب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد سات ہو چکی ہے جبکہ متعدد اضلاع میں درجنوں مکانات اور فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    بارشوں سے ہونے والا نقصان

    ،تصویر کا ذریعہPDMA

    پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق آواران، چمن اور بارکھان سمیت 19 اضلاع میں بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ حکام کے مطابق قلعہ عبداللہ، کچھی، کیچ اور ہرنائی میں زیادہ بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آئی۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ضلع کچھی میں دریائے ناڑی کے پشتے میں شگاف پڑنے سے 100 سے زائد مکانات منہدم اور 400 ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آ گئی، جبکہ 50 سے زائد مویشی ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ ضلع کیچ کے علاقے بھگدر اور قلعہ عبداللہ کے علاقے ارمبی کاکوزئی میں بھی 50 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا۔

  4. آبنائے ہرمز ان بحری جہازوں کے لیے کھلی ہے جن کا امریکہ اور اسرائیل سے ’تعلق نہیں‘: ایران وزارت خارجہ

    اسماعیل بقائی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے رہا ہے بس شرط یہ ہے کہ ’ان کا تعلق جارحیت کرنے والے ممالک سے نہ ہو۔‘

    ٹی وی چینل نیوز روم افریقہ کو دیے گئے انٹرویو میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ جہازوں کو ’ہمارے متعلقہ حکام سے ضروری رابطے کے بعد‘ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔

    وسیع تر تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے بقائی نے کہا کہ ایران ’جنگ کرنے، جنگ بند کرنے اور مذاکرات کرنے کا شیطانی چکر‘ برداشت نہیں کرے گا۔

    جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 دن تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران امریکہ نے ایران کے کئی جوہری اور فوجی مقامات کو نشانہ بنایا تھا۔

    بقائی کے مطابق: ’انھوں نے کہا جنگ بند کرتے ہیں، تو ہم نے بند کر دی۔ اور پھر نو ماہ بعد انھوں نے دوبارہ شروع کر دی۔‘

  5. ایران جنگ اور پاکستان کی ثالثی، کیا انڈیا نظر انداز کر دیا گیا ہے؟, بی بی سی نیوز کے سوتک بسواس کا تجزیہ

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    دہلی میں ایک ایسے وقت میں چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ جب پاکستان خود کو امریکہ ایران بحران میں ایک ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے تو کیا انڈیا کو اس سب کے بیچ نظر انداز کیا جا رہا ہے؟

    اسلام آباد نے غیر معمولی تیزی دکھاتے ہوئے خود کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے اس نے امریکہ کا 15 نکاتی امن منصوبہ ایران تک پہنچایا اور مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی جسے تہران نے مسترد کر دیا۔ اس ہفتے پاکستان نے ایک بار پھر ایک اور کوشش تب کی کہ جب اس کے وزیر خارجہ پانچ نکاتی امن منصوبے کے لیے چینی حمایت حاصل کرنے بیجنگ پہنچے۔

    انڈیا کے لیے جو پاکستان کا بڑا پڑوسی اور حریف ہے یہ منظرنامہ کچھ عجیب محسوس ہوتا ہے۔ یہ بے چینی انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں ایک غیر متوازن مرحلے کے باعث مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ پاکستان بظاہر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ روابط بحال کرتا نظر آ رہا ہے۔

    اس کے نتیجے میں انڈیا کی سٹریٹجک کمیونٹی کے اندر ایک تقسیم پیدا ہو گئی ہے۔

    انڈیا میں حزبِ اختلاف کی کچھ جماعتوں اور تجزیہ کار کہتے ہیں کہ دہلی کو جس کے خطے میں مختلف نوعیت کے تعلقات ہیں کم از کم ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے سامنے آنا چاہیے تھا تاکہ وہ اس جیوپولیٹیکل تبدیلی کے وقت غیر حاضر نہ دکھائی دے۔

    انڈیا میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اسے انڈین سفارت کاری کے لیے ’شرمندگی‘ قرار دیا، خاص طور پر ان خبروں کے بعد کہ جب پاکستان کا نام اس معاملے میں ثالث کے طور پر سامنے آیا۔

    سٹریٹجک امور کے ماہر برہما چیلانی نے ایکس پر لکھا کہ ’بیانیے کی جنگ میں زیادہ چستی اور جارحیت دکھاتے ہوئے، پاکستان اکثر سفارتی سطح پر انڈیا کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کچھ لوگ محض نمایاں ہونے کے لیے اس طرح کی سرگرمی کو کم اہمیت دیتے ہیں، اور خبردار کرتے ہیں کہ بغیر اثر و رسوخ یا دعوت کے ثالثی الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے خیال میں انڈیا کے مفادات خاموش سفارت کاری اور سٹریٹجک فاصلے میں بہتر طور پر محفوظ ہیں۔

    یہی وہ مؤقف ہے کہ جو ہمیں انڈین حکومت میں بھی سنائی دیتا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک آل پارٹیز اجلاس میں، انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے مبینہ طور پر پاکستان کے کردار کو ’دلالی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سنہ 1981 سے ایسا کردار ادا کرتا آ رہا ہے، جس میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات بھی شامل ہیں۔

    انھوں نے مبینہ طور پر کہا کہ ’ہم یہ پوچھتے نہیں پھرتے کہ ہم بروکر کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘

    لیکن کچھ تجزیہ کاروں کے نزدیک دہلی میں اس بحث کی شدت پالیسی سے زیادہ تاثر یعنی پرسیپشن کی عکاسی کرتی ہے۔

    شیو نادر یونیورسٹی کے ہیپیمون جیکب کے مطابق بنیادی طور پر یہ مسئلہ حکمتِ عملی سے زیادہ نفسیات کا ہے۔

    انھوں نے ایک مضمون میں لکھا کہ ’انڈیا میں ردعمل مسابقتی بے چینی کا مظہر ہے اگر پاکستان کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں!‘

    اگر انڈیا حقیقت میں ثالثی کی دوڑ میں شامل ہی نہیں تھا، تو بہت سے لوگوں کے مطابق زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اسے اس کے بجائے وہ کون سا کردار ہے جو اسے ادا کرنا چاہیے؟

    پاکستان کے لیے سابق انڈین سفارت کار اجے بساریہ کے مطابق اس کا جواب انڈیا کی طاقتوں اور حدود دونوں کو تسلیم کرنے میں پوشیدہ ہے۔

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    بساریہ کے مطابق اگرچہ انڈیا کے پاس خطے میں اپنے مفادات اور تعلقات کی بنیاد پر امن قائم کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن یہ کوئی ایسا آلہ نہیں جسے واشنگٹن کے ذریعے ’کنٹرول‘ کیا جا سکے۔

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اسی وجہ سے انڈیا اس کردار کے لیے موزوں نہیں ہے‘، اور دلیل دیتے ہیں کہ دہلی کو امن کے فروغ میں زیادہ ٹھوس کردار ادا کرنا چاہیے لیکن ’پاکستان کے طریقے سے نہیں اور نہ ہی موجودہ مرحلے یا وقت پر۔‘

    ان تمام باتوں کے درمیان ایک زیادہ عملی اور درمیانی راستہ موجود ہے، انڈیا کو نہ تو خود کو زیادہ خطرناک ثالثی میں جھونکنا چاہیے، لیکن نہ ہی وہ اس سب سے دور رہنے کا متحمل ہو سکتا ہے۔

    سابق انڈین سیکرٹری خارجہ نروپما راؤ نے ایکس پر لکھا کہ ’اس جنگ نے عملی طور پر تقریباً ہر لحاظ سے انڈیا کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔۔۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا انڈیا اس بات کو مناسب وضاحت اور کُھلے انداز کے ساتھ کہنے کے لیے تیار ہے؟‘ ملک کے اندر، اس ’احتیاط‘ واے بیانے کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے نریندر مودی حکومت پر غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں اور ایران پر حملوں کے حوالے سے نمایاں خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ یہ اسرائیل کی جانب بڑھتے ہوئے جھکاؤ اور انڈیا کے روایتی سفارتی توازن سے انحراف کی نشاندہی کرتا ہے۔

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    حالیہ برسوں میں انڈیا کے عالمی کردار سے متعلق توقعات میں اضافہ ہوا ہے جو اس کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت اور سرکاری بیانیے کی وجہ سے ہے جو اسے عالمی سطح پر ایک نمایاں آواز کے طور پر پیش کرتا ہے۔

    مودی حکومت نے جس طرح انڈیا کے عروج کو وسیع تناظر میں پیش کیا ہے اسے گلوبل ساؤتھ کی ایک نمایاں آواز اور جغرافیائی سیاسی تقسیم کے درمیان ایک پل کے طور پر دکھاتے ہوئے، اس سے ہر عالمی بحران میں موجود رہنے کی خواہش بھی بڑھ گئی ہے۔

    لیکن جیکب کے مطابق اس خواہش کو متوازن کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا نے موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کے شعبوں میں اہم کرداد ادا کر چُکا ہے، اسے ہر کام کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی وہ ایسا کر سکتا ہے۔‘

    اُن کے مطابق ’اصل چیلنج صلاحیت اور توقعات کے درمیان فرق کو سنبھالنا ہے اور یہ سمجھنے کی عقل اور دانش رکھنا ہے کہ کیا کرنا ہے، اور اتنا ہی اہم یہ کہ کیا نہیں کرنا۔‘

  6. امریکی سفارت خانے کی اپنے شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑنے کی ہدایت

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بغداد میں امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    آج بغداد میں امریکی سفارت خانے نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران عراقی دارالحکومت کے وسطی علاقوں میں، جنھیں اس نے مسلح دہشت گرد گروہوں سے منسوب کیا ہے ممکنہ حملے کیے جا سکتے ہیں۔ سفارت خانے نے امریکی شہریوں سے فوری طور پر عراق چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔

    سفارت خانے نے اپنی سکیورٹی وارننگ میں کہا کہ ایران اور اس کے اتحادی مسلح گروہ ماضی میں عراق کے مختلف علاقوں، بشمول کردستان ریجن میں امریکی شہریوں اور امریکا سے منسلک اہداف پر حملے کر چکے ہیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مزید کہا گیا کہ ممکنہ حملے امریکی شہریوں، کمپنیوں، تعلیمی اداروں، سفارتی تنصیبات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے، ہوٹلوں اور ہوائی اڈوں کے علاوہ عراقی اداروں اور شہری اہداف کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

    سفارت خانے نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ بعض سابقہ حملوں میں امریکی شہریوں کو اغوا کرنے کی کوششیں بھی شامل رہی ہیں۔

    امریکی سفارت خانے نے مزید بتایا کہ ان گروہوں کے کچھ عناصر کے پاس شناختی دستاویزات ہو سکتی ہیں جن سے وہ خود کو عراقی حکومت کے ملازم ظاہر کر سکتے ہیں۔

  7. سعودی عرب کے دفاعی نظام نے ڈرونز اور بیلسٹک میزائل کو روک کر مار گرایا: وزارتِ دفاع

    گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان نے کہا کہ ملک کے دفاعی نظام نے ڈرونز کی ایک نئی لہر کو ناکام بنا دیا ہے۔

    اس سے قبل وزارت نے بتایا تھا کہ اس نے ملک کے مشرقی علاقے کی جانب آنے والے ایک بیلسٹک میزائل کو بھی مار گرایا ہے۔

  8. ایران کی امریکہ اور اسرائیل کو ’تباہ کن‘ اور ’وسیع تر‘ حملوں کی دھمکی

    ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر ’تباہ کن‘ اور ’وسیع تر‘ حملوں کی وارننگ دی ہے۔

    ایرانی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ’غیر اہم‘ اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ انھوں نے آنے والے ’تباہ کن، وسیع تر اور شدید‘ حملوں کی تنبیہ جاری کی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم اور نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے ذریعے جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس تہران کی فوجی صلاحیتوں اور سازوسامان کے بارے میں ’نامکمل‘ معلومات ہیں۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کی فوجی پیداوار ’ایسی جگہوں پر ہوتی ہے جن کے بارے میں آپ کو بالکل بھی علم نہیں‘ اور اسی طرح انھوں نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ ایران کے ہتھیاروں کے ذخائر بڑے پیمانے پر تباہ اور ختم ہو چکے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کو ’اس جارحیت کی قیمت چکانی ہو گی جس کا آغاز آپ نے کیا۔‘

  9. عالمی بینک کا امریکہ ایران جنگ کے معاشی اثرات پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عالمی بینک کے ڈائریکٹر جنرل پاسکل ڈونوہو نے بدھ کے روز فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات کے حوالے سے اپنے ’گہرے خدشات‘ کا اظہار کیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کئی ممالک پہلے ہی عالمی بحرانوں کی ایک طویل سلسلہ وار لہر کے باعث مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔

    ڈونوہو نے کہا کہ ’ہمیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر مہنگائی، روزگار میں کمی اور غذائی قلت جیسے پہلے سے موجود مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔ تاہم ہماری کوشش اور تیاری جاری ہے کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری اور مناسب اقدامات کیے جائیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم کئی حکومتوں اور ممالک کے ساتھ ان کی ضروریات کو سمجھنے کے لیے مشاورت کر رہے ہیں اور مجھے توقع ہے کہ آنے والے ہفتوں میں ہمارے پاس مزید معلومات ہوں گی۔‘

    عالمی بینک کو خاص طور پر اپنی موسمِ بہار میں ہونے والی میٹنگز جو 12 سے 17 اپریل کے دوران واشنگٹن میں ہوں گی کی مدد سے اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ آنے والے وقت میں ہمیں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

    ڈونوہو نے کہا کہ فی الحال ’ہم اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارے پاس کتنی رقوم دستیاب ہیں اور کن مُمالک کو اس میں شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ مسائل کے شکار دیگر مُمالک کو ایران میں جنگ کے قلیل مدتی اثرات سے نمٹنے میں مدد دی جا سکے۔‘

  10. بظاہر لگتا ہے کہ ٹرمپ کا ایران مشن اب لگ بھگ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چُکا ہے, ٹام بیٹمین، امریکی محکمہ خارجہ سے بی بی سی کے نامہ نگار کا تجزیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ لمحہ صدر ٹرمپ کے لیے ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ جیسے تقریباً ’مشن مکمل‘ ہو گیا ہے، مگر ایک غیر معمولی شرط کے ساتھ کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل پر ایران کی گرفت بنیادی طور پر امریکہ کا مسئلہ نہیں ہے۔

    اگرچہ انھوں نے کہا کہ امریکہ مدد کرے گا، لیکن انھوں نے دوبارہ زور دے کر کہا کہ جن ممالک کی توانائی کی سپلائی کا انحصار اس اہم آبی گزر گاہ پر ہے، انھیں اس کی دوبارہ بحالی میں اب آگے آ کر کردار ادا کرنا چاہیے۔

    ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ امریکہ جلد ہی اپنی فوجی کارروائیاں سمیٹ سکتا ہے، لیکن اس دوران انھوں نے تباہ کن حملوں کی بھی دھمکی دی۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم اگلے دو سے تین ہفتوں میں انھیں انتہائی سخت ضرب لگائیں گے۔ ہم انھیں پتھر کے زمانے میں واپس لے جائیں گے، جہاں سے وہ تعلق رکھتے ہیں۔‘

    اگرچہ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو فوجی طور پر کچل دیا گیا ہے، پھر بھی انھوں نے مطالبہ کیا کہ ایران امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ کرے اور ایسے میں انھوں نے اس معاہدے کی کوئی شرائط سامنے نہیں رکھی۔

    امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ اگر ایران نے ایسا نہ کیا تو امریکہ ایران کے تمام بجلی گھروں پر بمباری کرے گا۔

  11. ٹرمپ کے قوم سے خطاب میں نیٹو کا ذکر نہیں تھا

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    صدر ٹرمپ کی تقریر میں ایک نمایاں کمی یہ تھی کہ اس میں نیٹو کا ذکر نہیں تھا۔ خصوصاً اس پس منظر میں کہ بدھ کی شب انھوں نے ٹیلیگراف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مبینہ طور پر کہا تھا کہ وہ امریکہ کو اس اتحاد سے نکالنے پر غور کر رہے ہیں۔

    صدر نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ یہ اتحاد ایک ’کاغذی شیر‘ ہے اور جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے بعد امریکہ کی نیٹو رکنیت پر نظرِثانی کریں گے، تو اس سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ ’اوہ ہاں، میں کہوں گا کہ یہ نظرِثانی سے بھی آگے کی بات ہے۔‘

    جیسا کہ بی بی سی کے وائٹ ہاؤس میں موجود نمائندے نے پہلے نشاندہی کی تھی، اگر صدر واقعی اس انخلا کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں نمایاں قانون سازی میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    چونکہ ٹرمپ نے اپنی پرائم ٹائم تقریر میں اپنے کئی پرانے نکات دوبارہ دہرائے، اس لیے یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نیٹو کا ذکر ان میں شامل نہیں تھا۔

  12. بلوچستان کے دو اضلاع میں تشدد کے واقعات میں پانچ افراد ہلاک

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دو اضلاع میں تشدد کے واقعات میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے ایک سیاسی اور قبائلی شخصیت سمیت دو افراد نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں قلات میں مارے گئے جبکہ تین افراد کی لاشیں ساحلی ضلع گوادر سے برآمد ہوئیں۔

    گوادر سے جن تین افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں ان میں ایک ایرانی شہری کی لاش بھی شامل ہے۔

    قلات میں دو افراد کی ہلاکت کا واقعہ نیمرغ میں پیش آیا۔

    قلات پولیس کے ایک اہلکار محمد امین نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے اس علاقے میں قبائلی شخصیت اور بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سخی عبدالرحیم ساسولی پر حملہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ حملے میں قبائلی رہنما اور ان کا ایک ذاتی محافظ مارے گئے جبکہ دوسرا محافظ زخمی ہوگیا۔

    محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ قرار دیا۔

    ادھر بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر سے تین افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔

    گوادر پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تینوں افراد کی لاشیں گوادر شہر کے قریب پھلیری کراس کے قریب برآمد ہوئیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ تمام افراد کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی شناخت غلام قادر، قمبر اور ارشد ابوبکر کے نام سے ہوئی۔

    مقامی پولیس کے مطابق ان میں سے غلام قادر کا تعلق گوادر سے تھا اور وہ یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔

    مارے جانے والے دیگر دو افراد میں سے ارشد ابوبکر ایرانی شہری تھے اور ان کا تعلق ایران کے شہر چاہ بہار سے تھا جبکہ تیسرے فرد کا تعلق گوادر سے متعلق ضلع کیچ سے تھا۔

    پولیس اہلکار کے مطابق ان افراد کے قتل کے محرکات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ غلام قادر اور ارشد ابوبکر لاپتہ تھے تاہم پولیس نے تاحال اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

  13. حزب اللہ کا اسرائیلی فورسز پر میزائل اور ڈرون سے حملے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ آج مقامی وقت کے مطابق علی الصبح انھوں نے میزائل اور ڈرون کے ذریعے اسرائیلی فورسز کو نشانہ بنایا ہے۔

    لبنانی مسلح گروہ حزب اللہ نے بتایا کہ انھوں نے اسرائیلی فورسز پر مالکیہ اور یارون کی بستیوں میں میزائل داغے ہیں۔

    حزب اللہ کے مطابق اس کے بعد انھوں نے ’بڑی تعداد میں ڈرونز‘ کے ذریعے اسرائیل میں واقع اون مناخم کمپنی کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

  14. ایران کے اسرائیل پر میزائل حملوں کی نئی لہر

    اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک حالیہ بیان میں ایران کی جانب سے داغے گئے تازہ میزائلوں کی ایک نئی لہر کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    اسرائیل کے مطابق ان میزائلوں کو روکنے کے لیے دفاعی نظام فعال ہے اور اپنا کام کر رہا ہے۔

  15. ایران میں مزید کیا حاصل کرنا باقی ہے، واضح نہیں: آسٹریلوی وزیراعظم

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ آسٹریلیا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے مقصد کی حمایت کرتا ہے، لیکن اب یہ واضح نہیں کہ مزید کیا اقدامات درکار ہیں یا اس عمل کا حتمی نتیجہ کیا ہونا چاہیے۔

    ان کے یہ بیانات نیشنل پریس کلب میں خطاب کے دوران آئے، یہ وہی وقت تھا کے جب امریکی صدر ٹرمپ قوم سے خطاب کر رہے تھے۔

    وزیراعظم سے ٹرمپ کی جانب سے تنازع کے خاتمے کے لیے دیے گئے وقت کے تعین کے بارے میں بھی سوال کیا گیا، جس پر انھوں نے کہا کہ ’آسٹریلیا سے اس کے آغاز سے پہلے کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے بہت واضح طور پر کہا ہے کہ ہم تناؤ میں کمی دیکھنا چاہتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ اس بات پر زیادہ وضاحت ہو کہ یہ معاملہ کیسے ختم ہوگا۔‘

    یہ بیانات البانیز کے تقریباً 24 گھنٹے قبل کی گئی مختصر تقریر کے بعد سامنے آئے ہیں کہ جس میں انھوں نے آسٹریلوی عوام کو خبردار کیا تھا کہ ’آنے والے مہینے آسان نہیں ہوں گے۔‘

    انھوں نے کہا تھا کہ ’آسٹریلیا اس جنگ کا فعال فریق نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود تمام آسٹریلوی اس کے باعث زیادہ قیمتیں ادا کر رہے ہیں۔‘

  16. ٹرمپ کے خطاب میں خامیاں تھیں اور کُچھ اہم نکات جو نظرانداز ہوئے, گیری او ڈونوہیو، چیف نارتھ امریکہ کے رپورٹر کا تجزیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ خطاب میں زیادہ تر وہی باتیں دہرائی ہیں کہ جو وہ گزشتہ چند دنوں سے کہہ رہے ہیں۔ اگر آپ ان کے سوشل میڈیا پوسٹس کو پچھلے ہفتے یا اس کے آس پاس سے کاپی پیسٹ کریں، تو اُن کے خطاب اور ان میں کوئی فرق نہیں ملتا۔

    ساتھ ہی اُن کے اس خطاب میں کئی واضح خامیاں ایسی بھی تھیں کے جنھوں نے بہت سے ایسے سوالات پیدا کیے جن کے جواب نہیں ملے۔

    ان سوالات میں سے پہلا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کی حکومت اس ٹائم ٹیبل سے متفق ہے؟ ہم واقعی نہیں جانتے۔

    دوسرا یہ کہ گزشتہ سال کی 12 روزہ جنگ کے ملبے کے نیچے دبی ہوئی سینکڑوں کلو خالص یورینیم کو نکالنے کے منصوبے کا کیا ہوا؟

    تیسرا یہ کہ صدر کا مستقل موقف آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے بارے میں کیا ہے؟ وہ اب کہتے ہیں کہ یہ جنگ ختم ہونے کے بعد ’قدرتی طور پر‘ یہ آبی گزر گاہ دوبارہ کھل جائے گی مگر کیسے اس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں۔

    اور آخر میں، کیا وہ واقعی نیٹو سے علیحدہ ہونے کے بارے میں وہ سنجیدہ ہیں؟

    حقیقت یہ ہے کہ قومی خطاب کے صرف بیس منٹ کے بعد بھی، ہم واقعی یہ نہیں جان پائے کہ اس جنگ میں کامیابی کی شکل کیسی ہوگی۔

    اور چونکہ صدر کے نظریات اکثر ایک دن کے مقابلے میں دوسرے دن سے متضاد یعنی مختلف ہوتے ہیں، سب کچھ کسی بھی وقت بدل سکتا ہے۔

  17. مُلک کی جانب بڑھنے والی ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ جاری ہے: وزارتِ دفاع یو اے ای

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دفاعی نظام گزشتہ ایک گھنٹے سے مُلک کی جانب داغے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔

    وزارت نے ان حملوں کا الزام ایران پر لگایا ہے اور کہا ہے کہ ’یہ حملے ایران کی جانب سے کیے گئے ہیں اور عوام کو ملک بھر میں سنائی دینے والی آوازوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے کہ یہ آوازیں مُلک کی جانب بڑھنے والے میزائلز کو ناکارہ بنانے کی کوشش کے دوران دھماکوں کی ہیں۔‘

    تاہم اس سے قبل اپنے چند منٹ کے خطاب میں امریکی صدر ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی اتحادیوں کا شکریہ ادا کیا، جو ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں نشانہ بنے ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکومت تیل کے ٹینکروں اور پڑوسی ممالک کے خلاف ’پاگل پن بھرے دہشت گردانہ حملے‘ کر رہی ہے جن کا اس ’تنازع سے کوئی تعلق نہیں۔‘

  18. ایران کو ’پتھر کے زمانے میں واپس‘ بھیجنے کی ٹرمپ کی دھمکی پر امریکی قانون سازوں کی کڑی تنقید

    امریکی قوم کے نام اپنے پرائم ٹائم خطاب میں صدر ٹرمپ نے دھمکی دی کہ وہ ایران کو ’پتھر کے زمانے میں واپس بھیج دیں گے، جہاں سے اُن کا تعلق ہے۔‘ اور اب اُن کی اس دھمکی پر امریکی قانون سازوں کی جانب سے شدید ردعمل دیا جا رہا ہے۔

    ریاست ایریزونا سے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس یاسمین انصاری نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ’وہ نو کروڑ آبادی والے ملک (ایران) کی بات کر رہے ہیں۔ گھٹیا، خوفناک اور شیطانی۔‘

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے ٹرمپ کے خطاب کے بعد محض یہ لکھا ’پتھر کے زمانے میں۔‘

    میری لینڈ سے سینیٹر کرس وین ہولن نے بھی ٹرمپ کے خطاب پر تنقید کی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ٹرمپ نے ہمیشہ کی طرح ہم سے جھوٹ بولا۔ دو ہفتے پہلے انھوں نے کہا تھا کہ 'ہم جیت گئے ہیں۔‘ اگر ایسا ہے تو پھر ہم اب بھی وہاں (ایران میں) کیوں ہیں؟ آگے کیا ہو گا؟ ہم (ٹرمپ سے) صرف مزید جھوٹ کی توقع کر سکتے ہیں۔ یہ وہم میں مبتلا شخص ہمارے ملک اور دنیا کے لیے خطرہ ہے۔‘

    دوسری جانب، امریکی ایوانِ نمائندگان کے اکثریتی رہنما سٹیو اسکیلِیس نے اس خطاب کی تعریف کی۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’آج رات صدر ٹرمپ نے قوم کے سامنے آپریشن ایپک فیوری کے حوالے سے ایک نہایت مضبوط اور مؤثر مقدمہ پیش کیا۔ ایرانی حکومت کی دہشت گردی اور امریکیوں کے قتل کی طویل تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ انھیں جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا کیوں ضروری تھا۔‘

  19. ٹرمپ کے خطاب میں کوئی ’واضح منصوبہ‘ نظر نہیں آیا: تجزیہ کار

    میلیسا توفانیان، جو سابق امریکی وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن کی سینیئر مشیر رہ چکی ہیں، نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے خیال میں ٹرمپ کے خطاب کے بعد امریکی شہری ایران کی جنگ کے بارے میں پہلے سے بھی ’زیادہ الجھن‘ کا شکار ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ آج یہ خطاب دیکھنے اور سننے والا کوئی بھی امریکی یہ محسوس کرے گا کہ کوئی واضح منصوبہ موجود ہے، کوئی واضح ٹائم لائن موجود ہے، یا یہ کہ آج ہم زیادہ محفوظ ہیں، جیسا کہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا۔‘

  20. سابق امریکی سفیر برائے نیٹو: ٹرمپ کے خطاب نے جنگ کے مقاصد پر شکوک پیدا کر دیے ہیں

    صدر ٹرمپ کے 20 منٹ طویل خطاب پر ردعمل آنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    نیٹو میں امریکہ کے سابق سفیر آئیوو ڈالڈر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے خطاب نے کئی اہم سوالات کے جواب نہیں دیے، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر، ٹرمپ کے مطابق، ایران کی جوہری صلاحیت، بحریہ اور میزائل تباہ کر دیے گئے ہیں تو امریکہ اب بھی ایران میں فوجی کارروائی کیوں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم کیوں سوچتے ہیں کہ (اس جنگ کے بعد) ہم زیادہ محفوظ ہوں گے، اور میرا خیال ہے کہ امریکی عوام بھی اسی طرح کے شکوک رکھتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ٹرمپ نے اس خطاب میں نیٹو اتحادیوں پر سخت تنقید نہیں کی اور نہ ہی نیٹو اتحاد سے نکلنے کی دھمکی دہرائی ہے، لیکن امکان یہی ہے کہ اس خطاب کے بعد وہ سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹس کے ذریعے ایسا کریں گے۔