ایران اور اسرائیل کے بیچ مزید لڑائی کا امکان نہیں، اگلے ہفتے امریکہ ایران سے بات چیت کرے گا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم اگلے ہفتے ایران سے بات کریں گے اور شاید کوئی معاہدہ بھی ہو جائے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’میرے لیے معاہدہ ضروری نہیں اور مجھے فرق نہیں پڑتا کہ معاہدہ ہو یا نہ ہو۔‘
خلاصہ
اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے سربراہ رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ ان کے معائنہ کاروں کو ایران واپس آنے اور دوبارہ بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملے سے متعلق خفیہ انٹیلیجنس رپورٹ کے لیک ہونے پر سی این این اور نیویارک ٹائمز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ابتدائی خفیہ انٹیلیجنس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات تباہ نہیں ہوئیں بلکہ صرف چند ماہ پیچھے چلی گئی ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کو ’تاریخی فتح‘ قرار دیا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کا احترام کرے گا بشرط یہ کہ اسرائیل بھی اپنی شرائط پر قائم رہے۔
لائیو کوریج
پیشکش: منزہ انوار
ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے
،تصویر کا ذریعہEPA
صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔
برینٹ کروڈ، عالمی بینچ مارک پیر کو سات فیصد کمی کے بعد مزید چار فیصد گر کر 68 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
تیل کی قیمتیں اب 12 جون کی نسبت کم ہیں جب اسرائیل نے ایران پر پہلا حملہ کیا تھا۔
ایشیا کی سٹاک مارکیٹوں نے بھی مشرق وسطیٰ میں ہونے والی حالیہ پیشرفتوں پر مثبت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
ایران کے میزائل حملے کے فوراً بعد تیل کی قیمتوں میں کمی, جوناتھن جوزفس - بی بی سی کے معاشیات کے نامہ نگار
قطر میں امریکی اڈے پر ایران کے میزائل حملے کے چند منٹ بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت تقریباً ساڑھے آٹھ فیصد گر کر 70.5 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی، جسے اچانک اور بڑی کمی تصور کیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن میں بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے رابن بروکس نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ تیل کی قیمتوں میں اس طرح کی کمی ’بالکل سچ ہے۔‘
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سابق ماہر معاشیات نے اپنے جائزے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ’اگر ایران اپنی جوابی کارروائی میں سنجیدہ ہوتا تو وہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو ڈبو دیتا۔‘ لہذا مارکیٹ نے اس کے مطابق رد عمل کا اظہار کیا اور اس قسم کی تجزیاتی آرا کو مدِنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل آبنائے ہرمز اور خلیج فارس سے گزرتا ہے اور آبنائے ہرمز میں ایران کے اقدامات کے بارے میں خدشات اور کم ہو گئے ہیں - کم از کم فی الحال یہی صورتحال ہے۔
اگرچہ گذشتہ چند دنوں میں بحری جہازوں کے نیوی گیشن سسٹم میں الیکٹرانک مداخلت میں اضافہ ہوا ہے لیکن خطے میں پانیوں کی نگرانی کرنے والی بین الاقوامی فوجی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ’ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ تجارتی جہاز رانی کے راستے کو نشانہ بنایا جا رہا ہو۔‘
اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر حملے میں تین افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل کی ایمرجنسی میڈیکل سروسز کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل حملے میں ملک کے جنوبی حصے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ ’ہم نے حملے کے مقام سے دھواں اٹھتا دیکھا اور جب قریب پہنچے تو کئی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچ چکا تھا۔‘
’ایک عمارت کے باہر داخلی دروازے کے پاس ہمیں ایک بے ہوش شخص ملا۔ جب ہم اندر داخل ہوئے تو وہاں ایک مرد اور خاتون بے ہوشی کی حالت میں پائے گئے۔ ہم نے زخمیوں کے لیے ابتدائی طبی امداد کا مرکز قائم کیا ہے اور عمارتوں سے نکلنے والے رہائشیوں کا طبی معائنہ جاری ہے۔‘
اسرائیل نے ایک گھنٹہ قبل کہا تھا کہ ایران کی جانب سے ملک پر دو مرحلوں میں میزائل داغے گئے، پہلی لہر میں دو اور دوسری لہر میں چار میزائل داغے گئے۔
ایرانی میزائل حملے سے اسرائیل میں تین افراد شدید زخمی ہوئے ہیں
اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل حملے کے بعد تین افراد کی حالت تشویشناک ہے۔
اسرائیلی امدادی اہلکار نے بتایا کہ میزائل حملے میں کئی دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔
حملے میں ایک 40 سالہ مرد، ایک 30 سالہ خاتون اور ایک 20 سالہ نوجوان شدید زخمی ہوئے اور ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
اسرائیل نے ایک گھنٹہ قبل کہا تھا کہ ایران کی جانب سے ملک پر دو مرحلوں میں میزائل داغے گئے، پہلی لہر میں دو اور دوسری لہر میں چار میزائل داغے گئے۔
ہم نے ایران سے فائر کیے گئے ایک اور میزائل کی نشاندہی کر لی ہے: آئی ڈی ایف
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران سے فائر کیے گئے ایک اور میزائل کی نشاندہی کی ہے۔
اسرائیل کے کچھ حصوں میں جلد ہی سائرن بجائے جائیں گے۔
ٹرمپ کا خطرناک اقدام شاید کارگر ثابت ہو جائے, انتھونی زَرچر، شمالی امریکہ کے نمائندہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور ایران کے درمیان بگڑتی ہوئی صورتحال میں مداخلت کر کے ایک بڑا جُوا کھیلا ہے لیکن بظاہر یہ خطرہ کم از کم فی الحال ان کے حق میں جاتا دکھائی دے رہا ہے۔
منگل کی شب ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران اور اسرائیل جنگ بندی پر رضامند ہو گئے ہیں اور یہ پیش رفت مستقبل میں پائیدار امن کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
اگرچہ ایران اور اسرائیل کی جانب سے اس معاہدے کی واضح طور پر تصدیق نہیں کی گئی لیکن وائٹ ہاؤس کے حکام پسِ پردہ اسے ایک سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
اگر امریکی صدر واقعی وہ جنگ ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جسے انھوں نے ’12 روزہ جنگ‘ قرار دیا تو یہ پورے خطے میں پھیلتی ممکنہ جنگ کو ایک بڑے دھچکے سے روکنے کا مؤثر قدم ثابت ہو سکتا ہے خاص طور پر اُس وقت جب امریکی فضائی حملوں نے سنیچر کے روز ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا اور امریکہ کے اس تنازع میں مزید الجھنے کے خدشات بڑھ گئے تھے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر اسرائیلی حکومت ایرانی عوام کے خلاف اپنی غیرقانونی جارحیت تہران کے وقت کے مطابق صبح چار بجے سے پہلے بند کر دیتی ہے تو ہماری جانب سے بھی مزید ردعمل کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
اس پیش رفت کو جنگ بندی کا نام نہ بھی دیا جائے پھر بھی جیسے ہی تہران میں صبح چار بجے کا وقت ہوا، اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حملے رک گئے۔اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ دونوں فریق کشیدگی کم کرنے کی طرف مائل ہیں۔
آج صبح ایران سے دو مرحلوں میں چھ میزائل داغے گئے: اسرائیلی فوج کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آج صبح ایران سے دو مرحلوں میں چھ میزائل داغے گئے۔
اسرائیل کے مطابق حملے کے پہلے مرحلے میں ملک پر دو اور دوسری لہر میں چار میزائل داغے گئے۔
دوسری لہر میں داغے گئے میزائلوں میں سے ایک بیر شیبہ شہر کے ایک اپارٹمنٹ کمپلیکس سے ٹکرایا ہے۔
ایران کا ایک میزائل بیر شیبہ شہر پر گرا
اسرائیلی میڈیا رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کی طرف سے داغے گئے میزائلوں میں سے ایک جنوبی اسرائیل کے شہر بیر شیبہ پر گرا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے شائع ہونے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ میزائل حملے میں رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔
’اسرائیل اور ایران تقریباً ایک ہی وقت میں میرے پاس آئے اور کہا ہم امن چاہتے ہیں‘ ٹرمپ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران ’تقریباً ایک ہی وقت میں‘ ان کے پاس آئے اور کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹرتھ سوشل پر لکھا کہ اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ فیصلہ کن گھڑی آ چکی ہے۔
اس جنگ بندی کے حوالے سے جس کا انھوں نے اعلان کیا، ٹرمپ نے مزید لکھا ’اس میں اصل فتح ساری دنیا اور مشرقِ وسطیٰ کی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک اپنے مستقبل میں بے پناہ محبت، امن اور خوشحالی دیکھیں گے۔‘
اگرچہ ایران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اسرائیل پر حملے اُس وقت بند کرے گا جب اسرائیل بھی حملے بند کرے گا لیکن فی الحال ایران یا اسرائیل میں سے کسی نے بھی جنگ بندی کو باقاعدہ طور پر قبول نہیں کیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر لکھا ’یہ دونوں ممالک بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں لیکن اگر وہ سیدھے راستے اور سچائی کے راستے سے ہٹتے ہیں تو بہت کچھ کھو بھی سکتے ہیں۔ اسرائیل اور ایران کا مستقبل بے حد روشن اور امکانات سے بھرپور ہے۔ خدا آپ دونوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔‘
،تصویر کا ذریعہrealDonaldTrump
ایران کی جانب سے اسرائیل پر نئے میزائل حملے کیے گئے ہیں: آئی ڈی ایف کا دعویٰ
اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے بعد اسرائیل میں خطرے کے سائرن بجائے جا رہے ہیں۔
ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے: ’تھوڑی دیر پہلے آئی ڈی ایف نے ایران سے اسرائیل کی جانب داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کی۔ خطرے سے نمٹنے کے لیے دفاعی نظام متحرک ہو چکے ہیں۔‘
’خطرے کا انتباہ موصول ہوتے ہی عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں چلے جائیں اور اگلے احکامات تک وہیں رہیں۔‘
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ایرانی فوج کی کارروائیاں تہران کے وقت کے مطابق صبح چار بجے تک جاری رہیں۔ تہران میں اس وقت صبح تقریباً چھ بجے کا وقت ہے۔
ایران سے میزائل داغے جانے کے بعد اسرائیل کے کچھ حصوں میں سائرن بج رہے ہیں
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کے بعد شمالی اسرائیل میں سائرن بجائے جا رہے ہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل نے اسرائیلی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل‘ داغے جانے کے بعد شمالی اسرائیل اور کچھ جنوبی علاقوں میں سائرن بج رہے ہیں۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس کا دفاعی نظام ان میزائلوں کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
اگر ایران کی طرف سے تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ حملہ طے شدہ جنگ بندی کے چند گھنٹے بعد ہوا ہے جس کا اطلاق تہران میں صبح چار بجے ہونا تھا۔
ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک ایک اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی
ایران کے مختلف خبر رساں اداروں نے جوہری پروگرام سے منسلک ایک اعلیٰ عہدے دار محمد رضا صدیقی صابر کے قتل کی تصدیق کی ہے۔
ایرانی حکومت کے سرکاری میڈیا آؤٹ لیٹ ایران نیوز پیپر نے کہا ہے کہ صدیقی صابر کو گذشتہ رات صوبہ گیلان کے شہر آستانہ اشرفیہ میں اسرائیلی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
دو ماہ قبل امریکی محکمہ خزانہ نے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے سلسلے میں صدیقی صابر پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
اگر اسرائیل اپنی کارروائیاں بند کرتا ہے تو ہمارا جوابی حملوں کا کوئی ارادہ نہیں ہے: ایرانی وزیر خارجہ
،تصویر کا ذریعہgetty
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اگر اسرائیل اپنی غیر قانونی جارحیت بند کر دیتا ہے تو ایران کا اس کے بعد اپنا ردعمل جاری رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
عراقچی نے کہا کہ اسرائیل کو مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے تک اپنی کارروائیاں روک دینی چاہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایران نے بارہا واضح کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی ہے، ہم نے نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ابھی تک جنگ بندی یا فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔
’تاہم اگر اسرائیلی حکومت ایرانی عوام کے خلاف اپنی غیر قانونی جارحیت تہران کے وقت کے مطابق صبح چار بجے کے بعد بند کر دے تو ہمارا اس کے بعد اپنا ردعمل جاری رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے بارے میں حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔‘
ایران اور اسرائیل نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہSocial Media
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اسرائیل اور ایران کے درمیان ’مکمل جنگ بندی‘ کا دعویٰ کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا آغاز ’تقریباً چھ گھنٹے بعد‘ ہو جائے گا جب دونوں ممالک اپنی فوجی کارروائیاں ’ختم‘ کر دیں گے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’جنگ باضابطہ طور پر ختم ہو جائے گی۔‘
اسرائیل اور ایران نے ابھی تک جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی ہے۔
حملے کی ’پیشگی اطلاع پر ایران کا شکریہ‘: ایران اب امن کی طرف بڑھ سکتا ہے اور میں چاہوں گا اسرائیل بھی ایسا کرے، ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر میں العدید فضائی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کے بعد اپنے پہلے بیان میں کہا ہے کہ ایران نے 14 میزائل فائر کیے تھے جن میں سے 13 کو مار گرایا گیا۔
ٹرتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایک ایرانی میزائل کو ’آزاد‘ چھوڑ دیا گیا تھا کیونکہ اس سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔
انھوں نے لکھا ’ایران نے اپنے جوہری مراکز پر حملوں کا انتہائی کمزور ردِ عمل دیا ہے جس کی ہمیں توقع بھی تھی اور ہم نے اسے روک لیا۔‘
امریکی صدر کے مطابق ایرانی حملے میں کسی امریکی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’میں (حملے کی) پیشگی اطلاع دینے پر ایران کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جس کے سبب نہ ہی کسی جان کا ضیاع ہوا اور نہ کوئی زخمی ہوا۔‘
انھوں نے کہگ ’شاید اب ایران خطے میں امن اور ہم آہنگی کی طرف بڑھ سکتا ہے اور میں ایسا کرنے کے لیے اسرائیل کی بھی حوصلہ افزائی کروں گا۔‘
اپنی ایک اور پوسٹ میں امریکی صدر نے قطر کے امیر کا بھی ’خطے میں امن کے حصول‘ میں کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔
انھوں نے لکھا کہ العدید بیس پر حملے میں نہ کوئی امریکی ہلاک ہوا اور نہ ہی کوئی قطری شہری زخمی یا ہلاک ہوا۔
ٹرتھ سوشل پر اپنے تیسرے پیغام میں امریکی صدر نے لکھا کہ ’اب یہ امن کا وقت ہے۔‘
ایران اسرائیل امریکہ کشیدگی: رات بھر کی خبروں کا خلاصہ!
بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید اور صبح بخیر۔
رات بھر کی خبروں کا خلاصہ اور اب تک کی تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان ’مکمل جنگ بندی‘ آئندہ چند گھنٹوں میں نافذ العمل ہو جائے گی۔
ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل اپنے حملے روک دے تو ایران بھی اپنے حملے بند کر دے گا تاہم اسرائیل کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
تہران پر صبح کے چار بجے تک شدید فضائی حملے جاری رہے۔ یہ وہ مہلت تھی جو ایران نے اسرائیل کو حملے روکنے کے لیے دی تھی۔
اس سے پہلے ایران نے سنیچر کے روز اپنی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے ردعمل میں قطر میں واقع امریکی فضائی اڈے پر میزائل داغے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان حملوں میں کوئی امریکی یا قطری جانی نقصان نہیں ہوا۔ انھوں نے ایرانی کارروائی کو ’انتہائی کمزور‘ قرار دیا اور ایران کا بروقت پیشگی اطلاع دینے پر شکریہ ادا کیا۔
قطر کا کہنا ہے کہ العدید میں واقع امریکی فوجی اڈے کی طرف داغے گئے تمام میزائلوں کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے اور اس حملے کو ’کھلی جارحیت‘ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
یہ ایرانی ردعمل اس واقعے کے دو روز بعد سامنے آیا ہے جب امریکہ نے ایران کے اندر تین اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر حملے کیے تھے۔
بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے تبادلے اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار منزہ انوار اب سے دوپہر دو بجے تک آپ کے ساتھ ہیں۔
گذشتہ دو روز میں کیا ہوتا رہا، جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔