ایران اور اسرائیل کے بیچ مزید لڑائی کا امکان نہیں، اگلے ہفتے امریکہ ایران سے بات چیت کرے گا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم اگلے ہفتے ایران سے بات کریں گے اور شاید کوئی معاہدہ بھی ہو جائے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’میرے لیے معاہدہ ضروری نہیں اور مجھے فرق نہیں پڑتا کہ معاہدہ ہو یا نہ ہو۔‘

خلاصہ

  • اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے سربراہ رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ ان کے معائنہ کاروں کو ایران واپس آنے اور دوبارہ بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔
  • صدر ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملے سے متعلق خفیہ انٹیلیجنس رپورٹ کے لیک ہونے پر سی این این اور نیویارک ٹائمز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ابتدائی خفیہ انٹیلیجنس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات تباہ نہیں ہوئیں بلکہ صرف چند ماہ پیچھے چلی گئی ہیں۔
  • اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کو ’تاریخی فتح‘ قرار دیا ہے۔
  • ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کا احترام کرے گا بشرط یہ کہ اسرائیل بھی اپنی شرائط پر قائم رہے۔

لائیو کوریج

پیشکش: منزہ انوار

  1. امریکی فوجی اڈے پر حملے کا قطر سے کوئی تعلق نہیں: ایران

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پیر کے روز امریکہ کے زیرِ انتظام العدید فوجی اڈے پر ہونے والے حملے کا قطر سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

    یہ اڈہ قطر میں ہے لیکن اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران کے اقدامات ’اپنے دفاع کی کارروائی‘ تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ایران قطر اور دیگر ہمسایہ ممالک کے حوالے سے اپنی مثبت پالیسی پر مکمل طور پر کاربند ہے۔

    ہم ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مجرمانہ جارحیت اور ضرر رساں پالیسیوں کو ہمارے اور خطے کے برادر ممالک کے درمیان تقسیم پیدا نہیں ہونے دیں گے۔

  2. قطر نے اقوام متحدہ کو ایک خط میں امریکی فضائی اڈے پر ایرانی حملے کی مذمت کی ہے

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قطر نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں پیر کے روز امریکہ کے زیرِ انتظام العدید ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملے کی مذمت کی گئی ہے۔

    قطر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خط میں اس حملے کو ’انتہائی خطرناک‘ قرار دیا گیا ہے جو قطر کی ’خودمختاری اور علاقائی سالمیت‘ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کا میزائل حملہ ’علاقائی امن اور سلامتی کے لئے براہ راست خطرہ‘ ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قطر کی ریاست نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اس کھلی جارحیت کی نوعیت اور پیمانے کے مساوی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق براہ راست جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    قطر کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے ایرانی سفیر کو بھی طلب کر لیا ہے۔

    پیر کے روز وزارت خارجہ نے بھی امریکی اڈے پر میزائل حملے کی مذمت کی، جس کے بارے میں ملک کا کہنا ہے کہ اسے مکمل طور پر روکا گیا تھا۔

  3. آنے والے وقت میں ایرانی اقدامات کے بارے میں سوالات باقی ہیں, ہیوگو بچگا، نامہ نگار برائے مشرق وسطیٰ

    AFP/Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنآئی اے ای اے نے اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری مقامات پر حملوں کے بات جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان مقامات کی تحقیقات کی جا سکیں۔

    کم سے کم وقت میں سفارت کار ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن امکان اس بات کا ہے کہ یہ مذاکرات اتنے آسان نہیں ہوں گے۔

    ایران کم از کم عوامی سطح پر تو اس بات کا اعادہ کر چکا ہے کہ وہ یورینیم افزودہ کرنے کی اپنی صلاحیت کو ترک نہیں کرے گا، جو امریکہ کا ایک اہم مطالبہ ہے۔ (اور ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ تقریباً 400 کلوگرام یورینیم کا کیا ہوا ہے جو 60 فیصد خالص ہے، جو ہتھیاروں کی تیاریکے لیے استعمال ہونے سے کُچھ کم ہے۔)

    طویل مدت میں، ایران کے اب آنے والے دنوں میں اقدامات کے بارے میں بہت سے سوالات نے جنم لیا ہے۔

    ایران نے جوہری ہتھیاروں پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون ختم کرنے کی دھمکی دی ہے اور بعض حکام نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے دستبرداری کے امکانات کا اظہار کیا ہے۔

    کیا اس سب کے بعد خاموشی ہو جائے گی یعنی وہ اپنے جوہری پروگرام کے ساتھ زیر زمین چلے جائیں گے؟

    اور ایران کے حکمران 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے اپنی کمزور ترین حالت میں ہیں۔ کیا وہ اس سب کے ساتھ آگے بڑھ پائیں گے؟

  4. ایران کی جانب سے جنگ بندی کی ’سنگین خلاف ورزی‘ کا بھرپور جواب دیا جائے گا: اسرائیلی فوج

    اسرائیل ڈیفنس فورسز کے چیف آف جنرل سٹاف

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل ڈیفنس فورسز کے چیف آف جنرل سٹاف کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی ’سنگین خلاف ورزی‘ کا ’طاقت سے جواب‘ دیا جائے گا۔

    آئی ڈی ایف کے ایکس اکاؤنٹ پر جنرل ایال ضمیر کے حوالے سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کا ہم طاقت کے ساتھ جواب دیں گے۔

  5. ایرانی فوج کی گذشتہ چند گھنٹوں میں اسرائیل پر میزائل داغنے کی تردید

    ایرانی جنرل

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu/Getty Images

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف عبدالرحیم موسوی نے گذشتہ چند گھنٹوں میں اسرائیل کی جانب کوئی بھی میزائل داغنے کی تردید کی ہے۔

    اس سے قبل ایرانی سرکاری میڈیا نے اسرائیلی الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے جنگ بندی کے نفاذ کے بعد اسرائیل پر کوئی میزائل نہیں داغا ہے۔

  6. مزید کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن اور بروقت جواب دیا جائے گا: ایرانی قومی سلامتی کونسل

    ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل نے اسرائیل اور اس کے ’دہشتگرد حامیوں‘ کے خلاف ’جنگ روکنے‘ کے بارے میں ایک بیان جاری کیا ہے۔

    کونسل نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ ’مزید کسی بھی جارحیت کا ایران کی جانب سے فیصلہ کن، سخت اور بروقت جواب دیا جائے گا۔‘

    بیان میں ایرانی عوام کی ’بیداری، برداشت اور اتحاد‘ کی تعریف کی گئی ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ ’دشمن کی شکست‘ ایرانیوں کے ’پختہ عزم، سٹریٹجک صبر، اور ذلت یا یکطرفہ سمجھوتہ کو قبول کرنے سے انکار‘ کی وجہ سے ہوئی ہے۔

    بیان میں ایران اور اس کی افواج کو ایران پر حملوں کے جواب میں ’فیصلہ کن اور نپی تلی کارروائیوں‘ کو بھی سراہا گیا ہے۔

  7. ’جب اسرائیلی شہریوں کو لگا کہ امن قائم ہونے والا ہے، اسی وقت فضائی حملے کے سائرن ایک بار پھر بج اٹھے‘, ڈین جانسن، یروشلم

    تقریباً 45 منٹ قبل شمالی اسرائیل میں اس وقت فضائی حملے کے سائرن بجے جب اسرائیلی فوج نے دعوی کیا کہ اس نے ایران جانب سے داغے گئے ایک میزائل کا پتا لگایا ہے۔ تاہم اسے کامیابی مار گرایا گیا اور اب لوگوں کو کہا گیا ہے کہ وہ پناہ گاہوں سے باہر آسکتے ہیں۔

    لیکن اس نے جنگ بندی کو شک میں ڈال دیا ہے جو ابھی تک مکمل طور پر نافذ بھی نہیں ہوئی تھی۔

    اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ ایران کی جانب سے کسی بھی طرح کی خلاف ورزی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    تہران نے اسرائیل پر میزائل داغنے کی تردید کی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ میزائل کیسے فائر ہوا، آیا یہ غلطی تھی یا اس کی کوئی اور وجہ ہے، لیکن اعلیٰ حکومتی ٰشخصیات اسے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

    یہ یقینی طور پر اسرائیل کے لوگوں کے لیے ایک غیر یقینی اور کشیدہ صورتحال ہے۔

    جب ان کو لگا کہ آنے والے گھنٹوں، دنوں اور ہفتوں میں امن قائم ہو سکتا ہے، اسی وقت فضائی حملے کے سائرن ایک بار پھر بجنے لگے۔

  8. ایران کی اسرائیل پر میزائل داغنے کی تردید

    ایرانی سرکاری میڈیا نے اسرائیلی الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے کہ اس نے جنگ بندی کے نفاذ کے بعد اسرائیل پر کوئی میزائل داغا ہے۔

  9. اسرائیل کا ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام، وزیرِ دفاع کا تہران کو نشانہ بنانے کا حکم

    اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ انھوں نےاسرائیلی ڈیفنس فورسز کو ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا بھرپور جواب دینے کا حکم دیا ہے اور تہران میں ایرانی حکومت کو نشانہ بنانے کا کہا ہے۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران سے داغے گئے ایک میزائل کا پتا لگایا ہے۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا تھا کہ اس کا فضائی دفاعی نظام اس خطرے سے نمٹنے کے لیے فعال ہے۔

  10. ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، انڈیکس میں 5800 پوائنٹس کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    منگل کے روز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی جہاں انڈیکس 5800 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 122,000 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔ انڈیکس میں یہ اضافہ پانچ فیصد رہا جس کے بعد مارکیٹ کے قواعد کے مطابق کاروبار کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔ کاروبار کا دوبارہ آغاز 45 منٹ کے وقفے کے بعد متوقع ہے۔

    آج کاروبار کا آغاز بھی مثبت رجحان کے ساتھ ہوا۔ ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں اس تیزی کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہے جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی۔

    سٹاک ایکسچینج کے تجزیہ کار شہریار بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ سٹاک ایکسچینج میں تیزی کی وجہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ہے جس کے بعد مارکیٹ میں مثبت رجحان پیدا ہوا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ انڈیا اور جاپان کی سٹاک مارکیٹوں میں بھی تیزی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی کمی واقع ہوئی ہے جس نے مارکیٹ میں مثبت رجحان کو فروغ دیا۔

    شہریار بٹ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات پاکستان سٹاک ایکسچینج کے لیے سازگار ہیں، خاص طور پر حالیہ وفاقی بجٹ میں کیے گئے اقدامات نے مارکیٹ کو سہارا دیا ہے۔ البتہ ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث عارضی دباؤ ضرور دیکھنے میں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں مارکیٹ میں مزید تیزی متوقع ہے۔

  11. اگر امریکہ نے دوبارہ جارحیت کی تو ایران کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور تباہ کن ہو گا: جنرل محمد پاکپور

    tasnimnews

    ،تصویر کا ذریعہtasnimnews

    ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی (آئی جی آر سی) کے کمانڈر میجر جنرل محمد پاکپور نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے دوبارہ جارحیت کی تو ایران کی جانب سے اس بار جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور تباہ کن ہوگا۔

    ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق یہ انتباہ اُس میزائل حملے کے بعد سامنے آیا ہے جو ایران نے پیر کی شام قطر میں واقع امریکہ کے العدید فوجی اڈے پر کیا۔ اس کارروائی کو ’وعدۂ پیروزی‘ (وعدۂ فتح) کا نام دیا گیا جو حالیہ دنوں میں ایران کی تین جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی۔

    آپریشن کے بعد اپنے بیان میں جنرل پاکپور نے کہا کہ یہ سٹریٹجک اڈہ جو مغربی ایشیا میں امریکی سینٹرل کمانڈ کا ’دھڑکتا دل‘ سمجھا جاتا ہے، اسے امریکہ کے ’مجرمانہ اور شیطانی حملے‘ کے ردعمل میں نشانہ بنایا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ یہ امریکی تنصیب جس کی حفاظت کے لیے جدید اور کئی پرتوں پر مشتمل دفاعی نظام موجود تھا، ایرانی میزائلوں کے حملے میں اسے نقصان پہنچا ہے۔

    امریکی صدر پر طنز کرتے ہوئے جنرل پاکپور نے کہا کہ وہ اسرائیلی حکومت کے تحفظ کے لیے امریکی عوام کی سلامتی اور مفادات کو قربان کر رہے ہیں۔

    انھوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ ایران کے خلاف کسی قسم کی جارحیت کی تو اسے ایک ایسا سبق سکھایا جائے گا جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔۔ ایک ایسا پچھتاوا جو واشنگٹن کو دوبارہ ایران کے خلاف اقدام سے پہلے کئی بار سوچنے پر مجبور کرے گا۔

  12. ایران کے شمالی علاقے میں دہشت گردوں کے حملے میں کم از کم نو افراد ہلاک، 33 زخمی اور چار رہائشی یونٹ تباہ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    ایران کے صوبہ گیلان کے گورنر کے دفتر کا کہنا ہے کہ استھان اشرفیہ پر دہشت گردوں کے حملے میں نو افراد ہلاک اور 33 زخمی ہوئے ہیں۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق گیلان کے نائب گورنر نے کہا ہے کہ ’ان حملوں میں چار رہائشی یونٹ مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور آس پاس کے مکانات کی ایک بڑی تعداد کو بھی دھماکے سے نقصان پہنچا۔‘

    ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس حملے کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔

    گیلان کے نائب گورنر کے مطابق ’اس واقعے میں زخمی ہونے والوں کی کل تعداد میں سے پانچ افراد کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے اور 28 افراد کو آؤٹ پیشنٹ کے طور پر زیر علاج رکھا گیا ہے۔ اس دہشت گردانہ حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں سے 16 خواتین اور بچے شامل ہیں۔‘

    کچھ ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جوہری سائنسدان محمد رضا صدیقی جنگ بندی شروع ہونے سے قبل آج صبح سویرے اسرائیلی حملوں میں مارے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے بھی ایک سینئر جوہری سائنسدان کو ہلاک کرنے کی تصدیق کی ہے۔

  13. اسرائیل نے ’ایران کے جوہری اور میزائل خطرے کو ختم کرنے‘ کے بعد جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہمیں اب اسرائیلی حکومت کے بیان کی مزید تفصیلات موصول ہوئی ہیں۔

    اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی کی تجویز اس وقت قبول کی جب ’ایران پر حملوں کے اپنے مقاصد حاصل کر لیے گئے۔‘

    بیان کے مطابق، اسرائیل نے ایران کے جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل پروگرام کا خاتمہ کر دیا ہے۔

    اسرائیل کا مزید کہنا ہے کہ اس نے ’ایرانی فوجی قیادت کو شدید نقصان پہنچایا اور ایرانی حکومت کے درجنوں اہم مراکز تباہ کر دیے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز نے ’تہران کے مرکز میں حکومتی اہداف کو شدید نقصان پہنچایا، سینکڑوں بسیج اہلکاروں اور ایران کے ایک اور سینئر جوہری سائنسدان کو بھی ہلاک کیا‘۔

    خیال رہے بسیج وہ ملیشیا ہے جسے ایرانی حکومت اکثر عوامی مظاہروں کو قابو کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

    بیان کے ختتام پر کہا گیا ہے ’اسرائیل، صدر ٹرمپ اور امریکہ کا دفاعی حمایت اور ایرانی جوہری خطرے کے خاتمے میں شراکت داری پر شکریہ ادا کرتا ہے۔‘

  14. بریکنگ, اسرائیل نے امریکی صدر ٹرمپ کی جنگ بندی کی تجویز سے اتفاق کر لیا

    اسرائیلی حکومت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز سے باضابطہ طور پر اتفاق کر لیا ہے۔

    اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے ’اسرائیل جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کا بھرپور جواب دے گا۔‘

    ہمیں مزید تفصیلات موصول ہو رہی ہیں اور ہم آپ کو باخبر رکھیں گے۔

  15. اسرائیل پر میزائلوں کی آخری لہر جنگ بندی سے قبل داغی گئی، ایرانی سرکاری میڈیا

    ایران کے سرکاری میڈیا ادارے ایس این این نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل حملوں کی آخری لہر جنگ بندی سے قبل داغی ہے۔

    جیسا کہ ہم نے آپ کو پہلے اطلاع دی تھی کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ملک پر مزید میزائل حملے کیے گئے ہیں جن میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ایران کے سرکاری ٹی وی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایرانی حملوں کے بعد اسرائیل پر جنگ بندی نافذ کر دی گئی ہے۔

    یاد رہے اسرائیل نے تاحال جنگ بندی کی اس تجویز کو باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا ہے۔

  16. جنوبی اسرائیل پر ایرانی میزائل حملوں سے چار افراد ہلاک، 22 زخمی

    MDA

    ،تصویر کا ذریعہMDA

    اسرائیلی ایمرجنسی سروس نے ایران کے حالیہ میزائل حملوں سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

    سروس کے مطابق اب تک چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 22 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے دو کی حالت درمیانے درجے کی ہے جبکہ باقی 20 کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔

  17. بریکنگ, ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے، اس کی خلاف ورزی نہ کریں: ڈونلڈ ٹرمپ

    realDonaldTrump

    ،تصویر کا ذریعہrealDonaldTrump

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی ابھی ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے ’جنگ بندی اب نافذ العمل ہے۔ پلیز اس کی خلاف ورزی نہ کریں۔‘

    یاد رہے کہ اسرائیل نے تاحال اس جنگ بندی کو سرکاری طور پر قبول نہیں کیا جبکہ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے چند گھنٹے قبل اعلان کیا تھا کہ اسرائیل پر جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے۔

  18. ٹرمپ کی ٹائم لائن کے مطابق اسرائیل اور ایران کے درمیان مجوزہ جنگ بندی اب شروع ہو جانی چاہیے

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنجنوبی اسرائیل کے شہر بیر شیبہ میں ایمرجنسی اہلکار ایرانی میزائل حملے سے متاثرہ ایک عمارت کا معائنہ کر رہے ہیں

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر کل رات ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ جنگ بندی اعلان کے تقریباً چھ گھنٹے بعد شروع ہو جائے گی۔ اب وہ وقت شروع ہو چکا ہے۔

    ٹرمپ نے پیر کو واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے لکھا: اسرائیل اور ایران کے درمیان مکمل جنگ بندی پر اتفاق ہو چکا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کا آغاز ’تقریباً چھ گھنٹے بعد‘ ہو جائے گا جب دونوں ممالک اپنی فوجی کارروائیاں ’ختم‘ کر دیں گے۔

    اب وہ وقت شروع ہو چکا ہے اور اس دوران ایران نے اسرائیل پر کئی میزائل داغے ہیں جس میں اسرائیلی ایمرجنسی حکام کے مطابق کم از کم تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ تنازع کے آغاز کے بعد سے یہ سب سے شدید ایرانی میزائل حملے تھے۔

    تاہم اسرائیل نے ابھی تک جنگ بندی کی تجویز کو عوامی طور پر قبول نہیں کیا ہے جب کہ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے چند گھنٹے قبل اعلان کیا تھا کہ اسرائیل پر جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے۔

  19. اسرائیلی عوام ممکنہ جنگ بندی کی خبروں اور میزائل حملوں کی وارننگز کے ساتھ نیند سے بیدار ہوئے, ایلس کڈی، یروشلم سے رپورٹ کر رہی ہیں

    اسرائیل بھر میں لوگ صبح سویرے موبائل فونز پر ممکنہ جنگ بندی کی خبروں کے ساتھ ساتھ میزائل حملوں کی وارننگز کی آوازوں سے جاگ اٹھے جن میں عوام کو فوری طور پر پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایات دی گئیں۔

    ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے بعد وقفے وقفے سے متعدد وارننگز جاری کی گئیں۔

    یروشلم میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جب کہ ملک کے دیگر علاقوں سے بھی ہمارے ساتھی صحافیوں نے دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔

    جنوبی شہر بیر شیبہ میں ایک میزائل براہِ راست نشانے پر لگا جس کے بعد امدادی ٹیمیں فوراً موقع پر پہنچ گئیں۔

    جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں اسرائیلی ایمرجنسی سروس کے مطابق اب تک تین ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ایک مرد اور عورت جن کی عمریں تقریباً چالیس سال تھیں اور ایک نوجوان جس کی عمر بیس سال کے لگ بھگ تھی۔

    اس کے بعد سے اسرائیل کے شمالی حصوں میں دوبارہ سائرن بجنے لگے ہیں۔

  20. ایران کی جانب سے حملے بدستور جاری ہیں: اسرائیل کا دعویٰ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ہمیں ابھی اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) سے تازہ ترین معلومات موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق ایران نے اسرائیل پر مزید کئی میزائل داغے ہیں۔

    آئی ڈی ایف کے مطابق اسرائیلی دفاعی نظام ان میزائلوں کو روکنے کے لیے متحرک ہو چکے ہیں اور عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں چلے جائیں اور اگلے احکامات تک وہیں قیام کریں۔