ملک بھر میں آج یومِ تشکر منانے کا اعلان، پاکستان نے ہر محاذ پر برتری ثابت کی: وزیر اعظم شہباز شریف
وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں آج یوم تشکر منانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ’عالمی و علاقائی امن اور خطے میں بسنے والے کروڑوں لوگوں کے مفاد میں جنگ بندی کی تجویز کا مثبت جواب دیا۔‘ پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیز فائر کے نفاذ کے بعد انڈیا کے سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے مختصر بریفنگ میں دعویٰ کیا کہ مفاہمت کی خلاف ورزی کی گئی ہے تاہم اسلام آباد نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
خلاصہ
وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں آج یوم تشکر منانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ 'عالمی و علاقائی امن اور خطے میں بسنے والے کروڑوں لوگوں کے مفاد میں جنگ بندی کی تجویز کا مثبت جواب دیا
انڈیا اور پاکستان نے سیز فائر پر متفق ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق اس پر عملدرآمد کا آغاز سنیچر کی شام ساڑھے چار بجے سے ہو گیا ہے
انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ سیز فائر پاکستان اور انڈیا کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد ممکن ہوا
سیز فائر کے اعلان کے بعد پاکستان کی فضائی حدود ہر قسم کی پروازوں کے لیے مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہیں
لائیو کوریج
پیشکش: محمد صہیب
ایل او سی پر فائرنگ اور گولہ باری، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نومولود بچی سمیت پانچ افراد ہلاک, نصیر چوہدری، صحافی، مظفر آباد
پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری بحران کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان موجود لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ رات چکوٹھی، لیپہ، نیلم جورا، کیل، نکیال، بھمبر سمانی اور حویلی حاجی پیر کے سیکٹرز میں فائرنگ کا تبادلہ صبع چار بجے تک جاری رہا۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور کم از کم 14 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک شدگان میں ایک 40 دن کی بچی اور ایک نوبیاہتا نوجوان بھی شامل ہیں۔
ایس ایس پی کوٹلی کے مطابق سب سے زیادہ نقصان ضلع کوٹلی کے کھوئی رٹہ سیکٹر میں ہوا جہاں چار افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 11 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کوٹلی منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
سپریٹنڈنٹ پولیس کوٹلی عدیل احمد کے مطابق مرنے والوں میں راجہ شہپال، عثمان خالد، سمرہ آصف اور ایک 40 دن کی شیر خوار بچی شامل ہیں۔ ایس پی کے مطابق نکیال سیکٹر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بھی زخمیوں میں شامل ہے۔
دوسری جانب ضلع باغ کے مضافاتی علاقے چوکی میں ایک گھر پر گولہ گرنے سے 22 سالہ نوجوان اسامہ ہلاک ہو گیا جبکہ ان کی دو بہنیں زخمی ہوئیں۔
پاکستان انڈیا کشیدگی: ’امریکہ فریقین میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بہت آگے تک نہیں جائے گا‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی ایشیا سے متعلق امور کے ماہر مائیکل کوگلمین کے مطابق انڈیا اور پاکستان میں جاری کشیدگی کے دوران ایسے ممالک کی تعداد بہت کم ہے، جو ثالثی کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے مائیکل کوگلمین نے بتایا کہ عالمی سطح پر اس بارے میں رضامندی تو پائی جاتی ہے کہ کشیدگی ختم ہونی چاہیے لیکن میرے خیال میں ایسے ممالک کی تعداد انتہائی کم ہے، جو اس بحران کے دوران ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔
اس حوالے سے امریکہ کے کردار پر بات کرتے ہوئے مائیکل کوگلمین نے کہا کہ امریکہ کے پاکستان اور انڈیا دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ امریکہ 1999 میں کارگل کے دوران اور سنہ 2019 میں بھی ثالثی کی کوششوں کے دوران کافی متحرک رہا لیکن شاید اس بار امریکہ اس معاملے میں زیادہ سرگرم نظر نہ آئے۔
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کے بیان پر مائیکل کوگلمین نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ وینس کا بیان ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔‘
’اور وہ یہ ہے کہ امریکہ کو بین الاقوامی معاملات میں زیادہ مداخلت کی ضرورت نہیں اور یہ کہ امریکہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے لیکن امریکہ فریقین میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بہت آگے تک نہیں جائے گا اور یہ پہلی ٹرمپ انتظامیہ کے مقابلے میں بڑی تبدیلی ہو گی۔‘
واضح رہے کہ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ کسی ایسی جنگ میں مداخلت نہیں کرے گا جس سے اس کا کوئی سروکار نہ ہو۔ امریکی چینل فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں انھوں کہا کہ ’ہم دونوں ممالک کی جنگ میں مداخلت نہیں کر سکتے، البتہ امریکہ سفارت کاری کا راستہ اختیار کرسکتا ہے۔‘
مائیکل کوگلمین نے یہ بھی کہا کہ ’اس بحران کے دوران چین کا کردار سفارت کاری سے بھی زیادہ سکیورٹی کے گرد گھومتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’چین پاکستان کو اسلحہ فراہم کرنے والا اہم ملک ہے اور ایسے اشارے ملے ہیں کہ اس کشیدگی کے دوران پاکستان نے چینی ہتھیار یا چینی ساختہ ہتھیار استعمال کیے ہیں۔‘
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں رات بھر کیا حالات رہے؟, ریاض مسرور، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی علاقے جموں میں گذشتہ رات سے حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔
انڈین حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے درجنوں میزائل جموں، انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں ادھم پور اور انڈین پنجاب میں پٹھان کوٹ شامل میں پھینکے تھے، جنھیں ناکارہ بنایا گیا۔
رات گئے انڈین فوج کے ایک ترجمان نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ پاکستان نے انڈیا کی 16 دفاعی تنصیبات پر راکٹس اور میزائلوں سے حملہ کیا، جنھیں جدید آلات کی مدد سے ناکارہ بنایا گیا۔
پاکستان کی جانب سے انڈیا کے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایل او سی کے انتہائی قریب علاقے پونچھ میں کل رات شدید گولہ باری ہوتی رہی، جس میں ایک شخص ہلاک جبکہ ایک خاتون زخمی ہو گئیں۔
پونچھ کے پولیس افسر نوید احمد نے بی بی سی کو بتایا فائرنگ میں لوہل بیلہ سے تعلق رکھنے والے شہری محمد ابرار ہلاک ہو گئے اور بیلیاں میں شاہدہ اختر نامی خاتون شیل گرنے سے زخمی ہوئی ہیں، جو ضلع ہسپتال منڈی میں زیر علاج ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنجموں کشمیر کے سب علاقوں میں گذشتہ رات بجلی نہیں تھی اور لوگ خوف کا شکار رہے
کشمیر وادی میں بھی ایل او سی کے قریبی علاقوں بالامولا، کپوارہ اور بانڈی پورہ میں حالات کشیدہ رہے۔ کپواڑہ کے کچھ سیکٹرز میں ہونے والی گولہ باڑی سے کچھ عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
اڑی میں محکمہ صحت سے تعلق رکھنے والے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ شیلنگ سے نرگس بیگم نامی خاتون ہلاک ہو گئیں۔
اس ساری صورتحال کے دوران انڈین فوج نے جموں و کشمیر میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا اور سول انتظامیہ نے بلیک آؤٹ کا اعلان کیا، جس کی وجہ سے رات کو جموں کشمیر کے سب علاقوں میں بجلی نہیں تھی اور لوگ خوف کا شکار رہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پونچھ میں رات بھر گولہ باری کے بعد آج صبح بھی شدید گولہ باری ہوئی تاہم کسی جانی نقصان کی ابھی تک اطلاع نہیں۔
جموں کشمیر میں تمام تعلیمی ادارے دو دن کے لیے بند ہیں اور امتحانات کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔
پاکستان اور انڈیا میں کشیدگی: گذشتہ رات کیا ہوتا رہا؟
پاکستان اور انڈیا میں جاری کشیدگی تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ اس حوالے سے گذشتہ رات ہونے والی اہم پیشرفت کچھ یوں ہیں:
انڈین فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات کو پاکستان نے میزائل اور ڈرونز سے انڈیا کے تین فوجی اڈوں پر حملہ کیا۔ جن تین فوجی سٹیشنز کا نام لیا گیا ان میں جموں، انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں ادھم پور اور انڈین پنجاب میں پٹھان کوٹ شامل ہیں۔ انڈین فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں ابھی تک کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی جبکہ پاکستان کی طرف سے فائر کیے گئے میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کسی بھی حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کو تردید کی ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب ہم حملہ کریں گے تو سب کو پتا چل جائے گا۔ ہم حملہ کر کے اس کی تردید نہیں کریں گے۔‘
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی ایسی جنگ میں مداخلت نہیں کرے گا جس سے اس کا کوئی سروکار نہ ہو۔ انھوں نے کہا ہے کہ انڈیا اور پاکستان میں جاری کشیدگی پر تشویش ہے مگر مداخلت نہیں کر سکتے، توقع ہے جوہری جنگ نہیں ہو گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں جاری کشیدگی کی وجہ سے پاکستان سپر لیگ کے بقیہ میچز اب متحدہ عرب امارات میں ہوں گے۔ ان میچز کے شیڈول، سٹیڈیم اور تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
انڈیا اور پاکستان میں کشیدگی پر تشویش ہے مگر مداخلت نہیں کر سکتے، توقع ہے جوہری جنگ نہیں ہوگی: امریکہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ کسی ایسی جنگ میں مداخلت نہیں کرے گا جس سے اس کا کوئی سروکار نہ ہو۔
امریکی ٹی وی فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں انھوں کہا کہ ’ہم دونوں ممالک کی جنگ میں مداخلت نہیں کر سکتے، البتہ امریکہ سفارت کاری کا راستہ اختیار کرسکتا ہے۔‘
امریکی صلاحیت سے متعلق ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ’ان کا ملک کوشش کر سکتا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کی حوصلہ افزائی کرے کہ وہ تھوڑا تناؤ کم کریں۔‘
جے ڈی وینس نے کہا کہ ’انڈیا نے حملہ کیا، پاکستان نے جواب دیا، دونوں ممالک کو ٹھنڈے دماغ سے سوچنا چاہیے، پاکستان انڈیا جنگ ایٹمی جنگ نہیں بننی چاہیے، اگر ایسا ہوا توبہت نقصان ہو گا۔‘
امریکی نائب صدر نے کہا ہے کہ ’امریکہ انڈیا کو ہتھیار ڈالنے کے لیے نہیں کہہ سکتا۔ ہم پاکستانیوں کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان انڈیا تنازع کو جلد حل ہونا چاہیے، امریکہ کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازع پر تشویش ہے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ’سفارتی ذرائع سے ہماری امید اور توقع یہ ہے فی الحال ایسا لگ نہیں رہا کہ پاکستان اور انڈیا جنگ جوہری جنگ میں تبدیل ہو گی۔‘
واضح رہے کہ جمعرات کو امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کا پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے رابطہ ہوا۔
وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ جنوبی ایشیا کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، امریکہ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ مارکو روبیو نے پاکستان اور انڈیا دونوں کو کشیدگی کم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
’انڈیا کے انتہائی غیرذمہ دارانہ اور خطرناک اقدام کے پیش نظر‘ پی ایس ایل یو اے ای منتقل کرنے کا فیصلہ کیا: پی سی بی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں جاری پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے بقیہ میچز اب متحدہ عرب امارات میں ہوں گے۔ ان میچز کے شیڈول، سٹیڈیم اور تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
اس سے قبل راولپنڈی سٹیڈیم میں 8 مئی کو ہونے والا میچ ملتوی کر دیا گیا۔ پی سی بی کا کہنا تھا کہ تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد پاکستان سپر لیگ میں آج کا پشاور زلمی اور کراچی کنگز کے درمیان میچ ری شیڈول کر دیا گیا۔
خیال رہے کہ یہ میچ آج راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں منعقد ہونا تھا تاہم پاکستان اور درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث اس کے منعقد ہونے پر سوالیہ نشان موجود تھا۔
اس سے قبل پاکستانی فوج کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ انڈیا کی جانب سے بھیجا گیا ایک ڈرون راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کے قریب موجود فوڈ سٹریٹ میں بھی گرا۔
میچز کی منتقلی کی وجہ سٹیڈیم کو نشانہ بنانے کے انتہائی غیرذمہ دارانہ اور خطرناک انڈین اقدام ہے: چیئرمین پی سی بی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی، جو پاکستان کے وزیر داخلہ بھی ہیں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پی سی بی ہمیشہ اس موقف پر قائم رہا ہے کہ سیاست اور کھیلوں کو الگ رکھنے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق ’تاہم راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کو نشانہ بنانے کے انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک انڈین اقدام کے پیش نظر، جو واضح طور پر جاری ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 10 کو متاثر کرنے کے لیے کیا گیا تھا، پی سی بی نے بقیہ میچز کو یو اے ای منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ہمارے ملکی اور غیر ملکی کرکٹرز جو ہمارے قیمتی معزز مہمان ہیں کو انڈیا کے ممکنہ بلاجواز حملے سے بچا سکیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایک ذمہ دار ادارے کے طور پر جس نے متعدد بار مشکلات پر قابو پایا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کرکٹ کا کھیل پھلے پھولے، ہمارے لیے پی ایس ایل میں شرکت کرنے والے تمام کھلاڑیوں کی ذہنی تندرستی کو یقینی بنانا ضروری تھا۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
محسن نقوی نے کہا کہ ’ماضی کی طرح، ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے سٹیک ہولڈرز ٹورنامنٹ، کھلاڑیوں اور شائقین کے بہترین مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے ہمارے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ لیگ کی ترقی جاری رہے۔‘
خیال رہے کہ 8 مئی کو ہی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کا بھی ایک میچ جو انڈیا کی شمالی ریاست ہماچل پردیش کے شہر دھرم شالہ میں ہونا تھا، کو منسوخ کر دیا گیا۔
پنجاب کنگز اور دہلی کیپیٹلز کے درمیان میچ کو صرف 10 اوورز کے بعد ہی ختم کر دیا گیا۔ انڈین کرکٹ بورڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ میچ ’بڑی تکنیکی خامی‘ کے باعث منسوخ کرنا پڑا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’علاقے میں بجلی جانے کے باعث سٹیڈیم کا ایک لائٹ ٹاور خراب ہو گیا۔‘
یہ خبر ایسے موقع پر سامنے آئی، جب ریاست کے ہمسائے میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
انڈیا اور پاکستان باہمی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کا ذمہ دارانہ حل نکالیں: امریکہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنامریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس انڈیا اور پاکستان میں کشیدگی پر بریفنگ دیتے ہوئے
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری کشیدگی سے متعلق کہا ہے کہ دونوں ممالک کے ایک دوسرے پر حملے رکنے چاہیں۔
صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’پاکستان اور انڈیا پر زور دیتے ہیں کہ وہ کشیدگی کا ذمہ دارانہ حل نکالیں۔‘
ثالثی سے متعلق ایک سوال پر انھوں نے تصدیق یا تردید کیے بغیر کہا کہ ’جس وقت ایسے اقدامات کیے جا رہے ہوں، معاملہ میڈیا پر نہیں لانا چاہیے۔‘
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان اور انڈیا کے حکام سے رابطہ کیا اور مارکو روبیو نے زور دیا کہ تنازع مزید نہ پھیلے۔‘
ٹیمی بروس کہتی ہیں کہ ’امریکہ پاکستان اور انڈیا کے رہنماؤں سے دو ہفتے سے رابطے میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان رابطوں میں ہونے والی گفتگو اور امریکہ کی طرف سے دونوں ممالک کے لیے پیغامات کی تفصیلات یہاں بتانے کی ضرورت نہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان چاہتا ہے کہ انڈیا پہلگام واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرائے۔‘ ان کے مطابق ’ہم بھی چاہتے ہیں کہ اس واقعے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور ہم اس متعلق ہر کوشش کی حمایت کرتے ہیں۔‘
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ ’جنگ نہیں ہونی چاہیے، جنگ اور تشدد کا راستہ کسی مسئلے کا حل نہیں، سفارت کاری بہترین حل ہے۔‘
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ’ارلی وارننگ سسٹم‘ فعال
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم کے خصوصی احکامات پر کشمیر کے مختلف شہروں میں ’ارلی وارننگ سسٹم‘ یعنی نظام انتباہ کو فعال کر دیا گیا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل سول ڈیفنس ریٹائرڈ کیپٹن ابرار اعظم کے مطابق مظفرآباد شہر کے سات مختلف مقامات پر سائرن نصب کیے گئے ہیں جو کسی بھی ایمرجنسی یا خطرے کی صورت میں شہریوں کی انتباہ کے لیے بجائے جائیں گے۔
اس کے علاوہ میرپور، راولاکوٹ اور دیگر اضلاع میں سول ڈیفینس کے ضلعی دفاتر نے بھی شہروں اور قصبوں میں سائرن نصب کر کے نظام انتباہ کے سلسلے میں اقدامات کیے ہیں۔
اس سلسلہ میں شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ خطرے کی صورت میں سائرن کی آوز سنتے ہی محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔
افواہوں اور سنسنی خیز خبروں سے بچنے کے لیے سرکاری میڈیا سے نشر ہونے والی مستند خبروں پر دھیان دیں۔
واضح رہے کہ محکمہ شہری دفاع نے مختلف دفاتر اور تعلیمی اداروں میں عوام الناس کو ہنگامی حالات میں مناسب رد عمل دینے اور محفوظ مقامات کی طرف انخلا کے حوالے سے کشمیر بھر میں تربیتی پروگرام شروع کر رکھا ہے۔
کشیدگی میں کمی کے لیے امریکی وزیر خارجہ کا پاکستانی اور انڈین قیادت سے رابطہ
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹیمی بروس کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے بعد امریکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انڈیا کے وزیر خارجہ جے شنکر کو بھی فون کیا۔
ترجمان کے مطابق مارکو روبیو نے خطے میں فوری کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان اور میں انڈیا براہ راست مذاکرات کی حمایت کی۔
ترجمان کے مطابق مارکوروبیونے بہتر روابط کے فروغ کی کوششیں جاری رکھنے پربھی زوردیا۔
آئی پی ایل میں پنجاب کنگز اور دہلی کیپیٹلز کے درمیان میچ ’بڑی تکنیکی خامی‘ منسوخ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کا ایک میچ جو انڈیا کی شمالی ریاست ہماچل پردیش کے شہر دھرمشالا میں جاری تھا کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔
پنجاب کنگز اور دہلی کیپیٹلز کے درمیان میچ کو صرف 10 اوورز کے بعد ہی ختم کر دیا گیا۔ انڈیا کے کرکٹ بورڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ میچ ’بڑی تکنیکی خامی‘ کے باعث منسوخ کرنا پڑا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’علاقے میں بجلی جانے کے باعث سٹیڈیم کا ایک لائٹ ٹاور خراب ہو گیا۔‘
یہ خبر ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب ریاست کے ہمسائے میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیرمیں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
انڈیا کا اپنے تین فوجی اڈوں پر پاکستانی حملوں کا دعویٰ، اسلام آباد کی تردید
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین فوج نے کہا ہے کہ پاکستان نے میزائل اور ڈرونز سے انڈیا کے تین فوجی اڈوں پر حملہ کیا ہے۔ جن تین فوجی سٹیشنز کا نام لیا گیا ہے ان میں جموں، انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں ادھم پور اور انڈین پنجاب میں پٹھان کوٹ شامل ہیں۔
ایکس پر ایک بیان میں انڈین فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں ابھی تک کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔انڈین فوج کے مطابق پاکستان کی طرف سے فائر کیے گئے میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کسی بھی حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کو تردید کی ہے۔
انھوں نے بی بی سی نیوز کی آزادے مشیری سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں اس کی تردید کرتا ہوں، ہم نے ایسا کوئی بھی حملہ نہیں کیا۔‘ وزیرِ دفاع کا مزید کہنا تھا کہ جب ہم حملہ کریں گے تو سب کو پتا چل جائے گا، ’ہم حملہ کر کے اس کی تردید نہیں کریں گے۔‘
بریکنگ, انڈیا ایف 16 اور جے ایف لڑاکا طیارے مار گرانے کے جھوٹے دعوے کر رہا ہے: پاکستانی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے انڈیا کی
جانب سے پاکستان کے ایف 16 اور جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کو مار گرانے سے متعلق بے
بنیاد اور جھوٹے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’انڈیا کی جانب
سے ایف 16 اور جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کے بارے میں بے بنیاد اور
جھوٹے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ جھوٹی اور من گھڑت کہانیوں سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہو
گا۔ ایسے جھوٹے دعوے صرف آپ کی مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان دعوؤں کو مسترد اور رد
کیا جاتا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
انڈیا کے زیر انتطام کشمیر کے شہر جموں میں دھماکوں کی اطلاعات
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک سیکورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے
کہا ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر جموں میں دھماکے سنے گئے ہیں۔
اے ایف پی نے کہا ہے کہ اسے ایک سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ جموں ائیرپورٹ
پر دھماکے سنے گئے ہیں۔
جموں شہر میں گجر نگر پل کے ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نے جموں
ائیرپورٹ کے قریب تقریباً 16 چیزوں کو فضا سے زمین پر گرتے دیکھا ہے۔
عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں تمام مارکیٹوں کو بند کر دیا
گیا ہے، سائرن بج رہے ہیں اور پورے شہر کی بجلی بند کر دی گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹر کا بھی کہنا ہے کہ جمعرات کی شام انڈیا کے
زیر انتظام کشمیر کے
جموں شہر میں دھماکے سنے گئے ہیں۔
روئٹرز سے منسلک صحافی کا کہنا تھا کہ علاقے میں
سائرن بج رہے ہیں اور فضا میں کچھ پروجیکٹائل اڑتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
بریکنگ, جموں میں دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا، شہر بھر میں سائرن بج رہے ہیں: انڈین فوجی ذرائع
ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور کی جموں میں چند شہریوں سے بات کی ہے جن مطابق ’یہاں 45 منٹ قبل انھیں ہوا ایسی متعدد آبجیکٹس دکھائی دیے جو جموں ایئر پورٹ کی جانب جا رہے تھے۔
’کچھ دیر بعد ہمیں دھماکوں کی آواز سنائی دی اور مخالف سمت سے بھی شعلے دکھائی دیے جو شاید انھیں انٹرسیپٹ کرنے کے لیے تھے۔‘
انڈین فوجی ذرائع نے بی بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ جموں میں دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے جبکہ شہر بھر میں سائرن بج رہے ہیں۔
بریکنگ, انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر جموں میں بلیک آؤٹ اور سائرنز
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے جموں شہر میں ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر میں بلیک آؤٹ کر دیا گیا ہے اور انھیں سائرنز کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
انڈیا میں پاکستان کے حملوں کی کہانی من گھڑت ہے، 29 ڈرونز گرائے جا چکے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
،تصویر کا ذریعہScreen Grab
پاکستان کی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ ’انڈیا میں 15 مقامات پر پاکستان کے حملے کی خبر جھوٹ ہے، انڈین حکومت اپنے فائدے کے لیے ڈرامہ کر رہی ہے
تاہم جب پاکستان حملہ کرے گا تو وہ نظر بھی آئے گا اور گونج بھی سنائے دے گی اس کے
لیے ہمیں انڈین میڈیا کے بتانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘
جمعرات کو پاکستان کے وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کے ہمراہ پریس
کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا
کہنا تھا کہ ’مشرقی سرحد پر ہماری گہری نظر ہے اور ہر متحرک شے کو مانیٹر کیا جارہا
ہے اور اسے گرایا جارہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ گذشتہ شب ’انڈیا کی فضائی حدود
سے چار پروجیکٹائلز جو ممکنہ طور پر میزائل معلوم ہوتے تھے نظر آئے۔ ان میں سے تین
انڈیا نے خود اپنی حدود میں امرتسر میں گرائے جبکہ ایک سرحد پار کر کے پاکستان کے ضلع
گجرات کے علاقے ڈنگہ کی طرف آیا جسے مار گرایا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس کا فرانزک کروایا جا رہا
ہے جس کے بعد ہی بتایا جا سکتا ہے کہ یہ میزائل تھا یا کچھ اور۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا کا دعوی جھوٹ پر
مبنی ہے کیونکہ ’کوئی بھی میزائل جب چلایا جاتا ہے تو وہ اپنے ڈیجیٹل
نشانات چھوڑتا ہے، اگر 15 مقامات پر حملہ کیا جاتا تو اس کے شواہد ضرور ہوتے۔‘
جمعرات کو انڈیا کی
جانب سے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لاہور، گوجرانوالہ، چکوال، اٹک،
راولپنڈی، بہاولپور، میانو چھور اور کراچی سمیت دیگر علاقوں کی جانب بھیجے جانے
والے ڈرونز کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے کئی مسلح ڈرونز نے کئی مقامات پر
پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور پاکستان نے ان کو مار گرایا ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ انڈیا کے مار گرائے جانے
والے ڈرونز کی کل تعداد 29 ہو گئی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہروپ ڈرونز کے متعلق بات
کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا نے اسرائیلی ساختہ ڈرونز بھیج کر یہ سمجھا تھا کہ یہ چھوٹے
ہیں نظر نہیں آئیں گے۔ ہماری سب پر نظر ہے۔ ہمیں پتا تھا کہ ان کو کہاں اور کیسے
گرانا ہے۔ ان کو مار گرانے کا ایک طریقہ کار ہے۔ ہم نے 29 ڈرونز مار گرائے ہیں اور
صرف ایک ڈرون اپنے کچھ مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوا جس کے نتیجے میں پاکستان کے
کچھ آلات کو نقصان پہنچا ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ ’ان میں سے ایک
ڈرون ننکانہ صاحب میں سکھ مذہب کے مقدس مقام کو نشانہ بنانے کے لیے بھی بھیجا گیا
تھا۔‘
اس موقع پر نائب وزیر اعظم اسحٰق ڈار نے کہا کہ انڈیا کا فوجی تنصیبات پر حملے کا دعویٰ
سفید جھوٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا نے آج جو پاکستان کے اندر اسلام آباد سے
کراچی تک دو درجن مقامات پر ڈرونز بھیج کر جو کام کیا ہے وہ افسوسناک، شرمناک اور
قابل مذمت ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا نے راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم
کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے انڈیا کے پانچ جنگی
طیارے گرائے یہ شاید ان سے ہضم نہیں ہو رہا اور وہ اپنی خفت مٹانے کے لیے یہ
حرکتیں کر رہا ہے۔‘
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ انڈیا کی
جانب سے ایک کہانی بنائی گئی کہ پاکستان نے کل رات پھر انڈیا کے اندر بین الاقوامی
قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملے کیے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان نے انڈین پنجاب کے کسی
شہری علاقے میں کارروائی نہیں کی اور ایک ذمہ دار ملک کے طور پر ہر ممکن سٹریٹیجک
احتیاط کا مظاہرہ کیا۔‘
اسحاٰق ڈار کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اپنے شہریوں
کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے، شہریوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، پاک افواج دفاع کے
لیے پرعزم ہیں۔‘
پاکستان کا 29 انڈین ڈرون گرانے کا دعویٰ: سٹاک مارکیٹ میں 6482 پوائنٹس کی بڑی کمی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں جمعرات کے روز کاروبار کے اختتام پر انڈیکس میں 6482 پوائنٹس کی بڑی کم ریکارڈ کی گئی۔
کاروبار کے دوران شدید مندی کا رجحان ریکارڈ کی گیا اور 6948 پوائنٹس کی کمی کے بعد حصص کی خرید و فروخت کو اس وقت معطل کرنا پڑا جب انڈیکس 103505 پوائنٹس تک گر گیا تھا۔
ملکی سٹاک مارکیٹ کے قوانین کے مطابق انڈیکس میں ایک دن میں پانچ فیصد تک کمی یا پانچ فیصد اضافے پر مارکیٹ میں کاروبار کو 45 منٹوں کے لیے معطل کرنا پڑتا ہے۔
مارکیٹ میں وقفے کے بعد کاروبار کی بحالی کے بعد انڈیکس مزید 8400 پوائنٹس گر گیا تاہم کاروبار کے اختتام سے پہلے اس میں کچھ ریکوری دیکھی گئی اور مارکیٹ میں کام کے بند ہونے پر انڈیکس میں 6482 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
سٹاک مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق آج صبح کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا تھا اور انڈیکس میں 1850 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا تاہم انڈیا کی جانب سے پاکستان پر ڈرون حملوں کے بعد مارکیٹ دباؤ کا شکار ہوئی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے گھبراہٹ میں حصص کی فروخت ہوئی جس کی وجہ سے انڈیکس میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔
تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ڈرون حملوں کے بعد پاکستان اور انڈیا میں کشیدگی بڑھ گئی ہے جس کے بعد مارکیٹ پر پریشر آیا اور مارکیٹ میں حصص کی فروخت ہوئی۔‘
انھوں نے کہا صبح کاروبار میں مثبت رجحان تھا تاہم ڈرون حملوں کے بعد مارکیٹ میں رجحان منفی ہوا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت زیادہ دیکھی گئی۔
تجزیہ کار احسن محنتی نے کہا کہ ’مارکیٹ میں مندی کی وجہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ کے انڈیکس میں ایک دن میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔‘
پاکستان میں گرایا گیا اسرائیلی ساختہ ہروپ ڈرون کیا ہے اور فضا میں اس کی نشاندہی کرنا مشکل کیوں ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر کے متعدد علاقوں پر انڈیا کے میزائل
حملوں کے تقریباً 36 گھنٹوں کے بعد ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اس
وقت بڑھی جب انڈیا کی جانب سے پاکستان کے مختلف شہروں میں دراندازی کی کوشش کے
دوران پاکستانی فوج نے متعدد ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا۔
جمعرات کو پاکستانی فوج کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں دعویٰ
کیا گیا ہے کہ اب تک سافٹ کِل (تکنیکی طریقے سے) اور ہارڈ کِل (ہتھیاروں کے ذریعے)
سے 25 اسرائیلی ساخت کے ہیروپ ڈرونز کو مار گرایا گیا ہے۔
اس سے قبل پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 'انڈیا نے پاکستانی حدود
کی دوبارہ خلاف ورزی کرتے ہوئے لاہور، گوجرانوالہ، چکوال، اٹک، راولپنڈی،
بہاولپور، میانو چھور اور کراچی کی جانب ڈرون بھیجے، جنھیں تباہ کر دیا گیا۔'
دوسری جانب پاکستان کی جانب سے انڈیا پر ڈرونز کے ذریعے دراندازی کرنے اور
اس دوران متعدد ڈرونز گرانے کے دعوے کے بعد انڈیا کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی
پاکستان کی بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب انڈین تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کا
جواب تھا۔
پاکستانی فوج یا حکومت کی جانب سے تاحال انڈین دعوؤں پر کوئی ردعمل سامنے
نہیں آیا تاہم جمعرات کی دوپہر پاکستانی فوج کے ترجمان نے جن علاقوں میں انڈین
ڈرونز گرانے کا دعویٰ کیا تھا ان میں لاہور بھی شامل تھا۔
اس سب میں ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہروپ ڈرونز کیا ہیں؟ ریڈار پر
ان کی نشاندہی مشکل کیوں ہے؟ اور انڈیا کا پاکستان میں ڈرونز بھیجنے کا مقصد کیا
ہو سکتا ہے؟
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر پونچھ میں بازار بند، رہائشی محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے
،ویڈیو کیپشنانڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر پونچھ میں بازار بند، رہائشی محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر پونچھ میں سرحدی کشیدگی کے بعد سناٹے کا راج ہے۔ بدھ کے روز یہاں کے رہائشی محفوظ مقامات پر عارضی طور پر منتقل ہو گئے۔
جمعرات کی صبح سے ہی پونچھ میں سناٹا چھایا ہوا ہے اور تمام بازار بند ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کم از کم 80 فیصد آبادی شہر چھوڑ چکی ہے۔
پنجاب میں تمام تعلیمی اداروں میں دو دن کی چھٹی کا اعلان
،تصویر کا ذریعہPunjab Government
پاکستان کے صوبہ
پنجاب کے محکمہ تعلیم نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری کشیدگی کے سبب تمام
تعلیمی اداروں میں دو دن کی چھٹی کا اعلان کیا ہے۔
جمعرات کو صوبائی
محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری نوٹیفیکشن میں کہا گیا ہے تمام تعلیمی ادارے نو اور
دس مئی کو بند رہیں گے۔
اعلامیے میں مزید
کہا گیا ہے کہ چھٹیوں کے احکامات تمام سکول، کالجز اور یونیورسٹیوں کے لیے ہیں جب
کہ پنجاب میں پیر 12 مئی سے تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل شروع ہوگا۔