ملک بھر میں آج یومِ تشکر منانے کا اعلان، پاکستان نے ہر محاذ پر برتری ثابت کی: وزیر اعظم شہباز شریف

وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں آج یوم تشکر منانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ’عالمی و علاقائی امن اور خطے میں بسنے والے کروڑوں لوگوں کے مفاد میں جنگ بندی کی تجویز کا مثبت جواب دیا۔‘ پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیز فائر کے نفاذ کے بعد انڈیا کے سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے مختصر بریفنگ میں دعویٰ کیا کہ مفاہمت کی خلاف ورزی کی گئی ہے تاہم اسلام آباد نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

خلاصہ

  • وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں آج یوم تشکر منانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ 'عالمی و علاقائی امن اور خطے میں بسنے والے کروڑوں لوگوں کے مفاد میں جنگ بندی کی تجویز کا مثبت جواب دیا
  • انڈیا اور پاکستان نے سیز فائر پر متفق ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق اس پر عملدرآمد کا آغاز سنیچر کی شام ساڑھے چار بجے سے ہو گیا ہے
  • انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ سیز فائر پاکستان اور انڈیا کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد ممکن ہوا
  • سیز فائر کے اعلان کے بعد پاکستان کی فضائی حدود ہر قسم کی پروازوں کے لیے مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہیں

لائیو کوریج

پیشکش: محمد صہیب

  1. بریکنگ, پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس طلب کر لیا

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے آج نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کا مقصد پاکستان کی بری، فضائی اور بحری افواج کی مشترکہ حکمت عملی اور اس کا لائحہ عمل تیار کرنا ہوتا ہے لیکن اس کا اہم ترین مقصد پاکستان کے جوہری اسلحے کی نگہبانی اور اسے استعمال کرنے کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلوں کے لیے ہے۔

    این سی اے کا چئیرمین کا عہدہ وزیر اعظم کے پاس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وزیر خارجہ، وزیر دفاع، وزیر داخلہ، وزیر خزانہ، اور وزیر برائے دفاعی پروڈکشن بھی اس کے رکن ہوتے ہیں۔

    عسکری نمائندگی کرنے والوں میں جوائنٹ چیف آف سٹاف کے علاوہ تینوں افواج کے سربراہ اور پاکستانی جوہری ہتھیاروں کی رکھوالی کرنے والے مخصوص ادارے سٹریٹیجک پلان ڈیویژن (ایس پی ڈی) کے ڈائریکٹر بھی شامل ہوتے۔ این سی اے کے سیکریٹری کا عہدہ بھی انھی کے پاس ہوتا ہے۔

  2. انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راجوری میں اعلی سرکاری افسر ہلاک

    حکام کے مطابق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راجوری میں جمعے کی شب اعلی سرکاری افسر راج کمار تھاپا ہلاک ہو گئے ہیں۔

    جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ راج کمار تھاپا کی رہائشگاہ پاکستان کی جانب سے ہونے والی شیلنگ کا نشانہ بنی، جس میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمشنر راج کمار تھاپا ہلاک ہو گئے۔

    عمر عبداللہ نے ایکس پر لکھا کہ ’گذشتہ روز راج کمار تھاپا میری جانب سے بلائی جانے والی آن لائن میٹنگ میں بھی شریک تھے۔ میرے پاس اپنے صدمے اور دکھ کا اظہار کرنے کے لیے الفاظ نہیں۔‘

    ٹویٹ

    ،تصویر کا ذریعہX

  3. انڈین وزراتِ دفاع کی ملک کے تمام میڈیا چینلز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور عوام کو دفاعی کارروائیوں کی براہِ راست کوریج نہ کرنے کی ہدایت

    انڈین وزراتِ دفاع

    ،تصویر کا ذریعہX

    انڈیا کی وزراتِ دفاع نے کہا ہے کہ انڈیا کے تمام میڈیا چینلز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور افراد سے کہا ہے کہ وہ دفاعی کارروائیوں اور سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت کی براہ راست کوریج یا ریئل ٹائم رپورٹنگ سے گریز کریں۔

    انڈین وزراتِ دفاع سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’اس طرح کی حساس یا ماخذ پر مبنی معلومات کا انکشاف آپریشنل مقاصد اور زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔‘

    بیان کے مطابق ’ماضی میں کارگل جنگ 26 نومبر کے حملے اور قندھارہائی جیکنگ جیسے واقعات قبل از وقت رپورٹنگ کے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔‘

    انڈین وزراتِ دفاع کے مطابق ’کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس (ترمیمی رولز 2021 کے مطابق انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران صرف نامزد عہدیداروں کو وقتاً فوقتاً بریفنگ کی اجازت ہے۔ تمام سٹیک ہولڈرز پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ ملک کی خدمت میں اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھتے ہوئے کوریج میں محتاط، حساسیت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔‘

  4. سری نگر میں دھماکے سے ہوٹل لرز اٹھا, عامر پیرزادہ، سری نگر

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سری نگر میں مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بج کر 45 منٹ پر دو بڑے دھماکوں کی آواز نے مجھے بیدار کیا۔

    تقریبا 20 منٹ بعد تین اور دھماکے ہوئے۔

    پہلے دو دھماکوں نے سرینگر میں ہمارے ہوٹل کو ہلا کر رکھ دیا۔

    شہر میں مکمل طور پر بلیک آؤٹ ہے اور ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان آوازوں کی وجہ کیا تھی۔

  5. انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سرینگر ایئرپورٹ کے قریب دھماکوں کی آواز, ریاض مسرور، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سرینگر ایئرپورٹ کے قریبی علاقے میں علی الصبح زوردار دھماکوں کی آواز سنی گئی ہے اور بیس منٹ میں پانچ دھماکے ہوئے ہیں۔

    سرکاری یا فوجی سطح پر اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں ہوا تاہم ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ ہوائی اڈے کے اردگرد تین کلومیٹر کے علاقے میں بستیوں کو دو روز سے خالی کروانے کا سلسلہ جاری تھا۔

    واضح رہے کہ 7 مئی سے سرینگر اور جموں ایئرپورٹ کو انڈین ایئرفورس نے اپنی تحویل میں لے کر سبھی کمرشل پروازوں کو معطل کیا۔

  6. کراچی میں شاہراہ فیصل کے اطراف کے علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آواز سنی گئی: عینی شاہدین, روحان احمد، بی بی سی اردو کراچی

    کراچی میں شاہراہ فیصل کے اطراف کے علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آواز سنی گئی ہیں جس کے بعد علاقوں میں سائرن بجائے گئے ہیں۔

    گلستان جوہر کے علاقے کے رہائشی زبیر اشرف نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دھماکوں کی آوازیں فجر کے وقت سنائی دیں جس کے بعد آسمان پر بھی متعدد مرتبہ روشنیاں پھیلتی ہوئی دکھائی دیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان دھماکوں اور آسمان پر ہونے والی روشنیوں کے سبب علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا اور لوگوں نے اپنے اپارٹمنٹس کی لائٹیں بھی بجھا دیں تھیں۔

    اس طرح کی صوتحال کراچی کے علاقے ماڈل ٹاؤن کے رہائشی ڈاکٹر فیصل تقی نے بھی بی بی سی کو بتائیں اور ان کا کہنا تھا ان دھماکوں کی آوازیں کراچی ایئرپورٹ کے قریبی علاقوں میں بھی سنائی دی ہیں۔

    حکام کی جانب سے ان دھماکوں کی نوعیت کے حوالے سے تاحال کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ خیال رہے کہ شاہراہ فیصل کے اطراف میں کراچی ائیرپورٹ اور سکیورٹی فورسز کے اہم دفاتر بھی واقع ہیں۔

  7. بریکنگ, پاکستان نے انڈین حملوں کے بعد جوابی کارروائی شروع کر دی ہے: آئی ایس پی آر

    ISPR

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان کے سرکاری ٹی وی اور فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے انڈین حملوں پر جوابی کارروائی شروع کر دی ہے۔ پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان نے جوابی کارروائی کو ’آپریشن بنیان مرصوص کا نام دیا ہے۔‘

    یہ ایک قرآنی آیت کے الفاظ ہیں جس کا مطلب ’سیسہ پلائی ہوئی دیوار‘ بنتا ہے۔

    آئی ایس پی آر اور پاکستان کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے جوابی کارروائی میں پٹھان کوٹ، اودھم پور سمیت انڈیا میں مختلف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

  8. جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ کا انڈیا اور پاکستان کو فوری طور پر کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے

    جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ نے انڈیا اور پاکستان پر فوری طور پر کشیدگی کو کم کرنے پر زور دیا ہے۔

    جی سیون ممالک کی جانب جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ، امریکہ کے وزرائے خارجہ اور یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے 22 اپریل کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے عسکریت پسند حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور انڈیا اور پاکستان دونوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لینے کی اپیل کرتے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مزید فوجی کشیدگی علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ہمیں دونوں طرف کے شہریوں کے تحفظ پر گہری تشویش ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہم فوری طور پر کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کرتے ہیں اور دونوں ممالک کو پرامن نتیجہ کے لیے براہ راست بات چیت میں شامل ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ہم واقعات کی قریب سے نگرانی کرتے رہتے ہیں اور ایک تیز اور دیرپا سفارتی حل کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہیں۔‘

  9. عوام بلا وجہ گھروں سے باہر نہ نکلیں، غیرضروری لائٹس بند رکھیں: ڈی سی راولپنڈی

    راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر نے شہر کے عوام سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ غیرضروری طور پر اپنے گھروں سے نہ نکلیں اور غیر ضروری لائٹس بھی بند رکھیں۔

    ڈی سی راولپنڈی

    ،تصویر کا ذریعہ@DCRawalpindi

  10. بریکنگ, پاکستان کی فضائی حدود کو صبح 3:15 سے دوپہر 12 بجے تک بند کر دیا گیا

    پاکستان ایئر پورٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پاکستان کی فضائی حدود کو 10 مئی کی صبح 3:15 سے دوپہر 12:00 بجے تک ہر قسم کی پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان ایئر پورٹس اتھارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود 10 مئی کی صبح 3:15 سے دوپہر 12:00 بجے تک ہر قسم کی پروازوں کے لیے بند رہے گی۔

  11. ایئرڈیفنس سسٹم نے انڈیا کے زیادہ تر میزائل حملے ناکام بنا دیے ہیں، ہمارے اثاثے محفوظ ہیں: پاکستانی فوج

    پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے رات گئے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ’ہمارے ایئرڈیفنس سسٹم نے انڈیا کی طرف سے پی اے ایف کے تین ایئربیسز پر زیادہ تر میزائل حملے ناکام بنا دیے ہیں۔‘

    ترجمان نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق جو میزائل ڈیفنس سسٹم سے بچ نکلنے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں ان سے بھی کوئی نقصان نہیں ہوا ہے اور پاکستان فضائیہ کے اثاثے محفوظ ہیں۔

    فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’افواج پاکستان پوری طرح مستعد ہیں اور انڈیا کی بڑھتی جارحیت اور بزدلانہ حملوں کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اپنے عوام کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔ انڈیا کے یہ حربے پاکستان کے غیور اور بہادر عوام کے حوصلوں کو پست نہیں کر سکتے۔‘

    پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’انڈیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ تمھاری فرسٹریشن کو ہم جلد ہی مزید کمپاؤنڈ کریں گے۔‘

    ترجمان نے کہا کہ اپنی مکاری سے انڈیا پورے خطے کو جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انڈیا نے افغانستان پر حملے کے بعد خود اپنی سرزمین پر بھی حملہ کیا اور پاکستان ایئر فورس کے پاس ’الیکٹرونک سگنیچرز‘ موجود ہیں کہ یہ کہاں سے فائر ہوئے ہیں۔

  12. بریکنگ, نور خان ایئربیس، مرید ائیربیس اور شور کوٹ پر انڈیا نے میزائل داغے ہیں، پاک فضائیہ کے تمام اثاثے محفوظ ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر کا دعویٰ

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا نے کچھ دیر قبل طیاروں کے ذریعے فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے راولپنڈی کی نور خان بیس، شورکوٹ بیس اور مرید بیس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

    جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں پاکستان فضائیہ کے تمام اثاثے محفوظ ہیں۔

    انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انڈیا نے افغانستان کی جانب بھی میزائل داغے ہیں اور وہ پورے خطے کو جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے انڈیا کو تنبیہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’اب آپ ہمارے جواب کا انتظار کریں۔‘

    واضح رہے اس پریس کانفرس سے کچھ دیر قبل راولپنڈی اور اسلام آباد میں دو دھماکے سنے گئے تھے۔

  13. بریکنگ, راولپنڈی اور اسلام آباد میں دو دھماکے سنے گئے

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں جمعے اور سینچر کی درمیانی شب دو دھماکے سنے گئے ہیں۔

    تاہم حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان دھماکوں کے مقام اور نوعیت کا تعین کر رہے ہیں۔

  14. انڈیا نے چھ بیلسٹک میزائل فائر کیے، ایک آدم پور پانچ امرتسر میں گرے: پاکستانی فوج کے ترجمان کا دعویٰ

    DGISPR

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا نے جمعے کی شب چھ بیلسٹک میزائل آدم پور سے فائر کیے ہیں جن میں سے ایک انڈیا کے علاقے آدم پور میں جبکہ دیگر پانچ انڈین پنجاب کے علاقے امرتسر میں گرے ہیں۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعے کو رات گئے ٹی وی پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انڈیا نے اپنے سکھ شہریوں کو نشانہ بنایا شروع کر دیا ہے۔ اور اس نے آدم پور سے چھ بیلسٹک میزائل فائر کیے جن میں سے ایک آدم پور میں جبکہ پانچ امرتسر میں گرے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ افسوسناک ہے کہ انڈیا اپنے ہی شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔‘

  15. آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر قرض کی قسط کی منظوری دے دی

    IMF

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹیو بورڈ نے جائزہ اجلاس میں پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر قسط کی منظوری دے دی ہے۔

    آئی ایم ایف کی ویب سائٹ کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹیو بورڈ نے جائزہ اجلاس میں پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر قسط کی منظوری دے دی ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے پاکستان حکومت کی طرف سے جاری بیان کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے کے ایگزیکٹو بورڈ نے جمعہ کو پاکستان کے ساتھ اپنے سات بلین ڈالر کے پروگرام کے پہلے جائزے کی منظوری دیتے ہوئے پاکستان کو ایک اربڈالر کی قسط جاری کرنے کا کہا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں ’وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر کی قسط کی منظوری پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔‘

    آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو قرض کی قسط جاری کرنے کی منظوری ایک ایسے وقت میں دی ہے جب انڈیا نے آئی ایم ایف سے پاکستان کو دیے جانے والے قرضوں پر نظرثانی کرنے کو کہا تھا۔

    دوسری جانب ایشین نیوز انٹرنیشنل خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ انڈیا نے شدت پسندی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے قرضہ پروگرام پر آئی ایم ایف کے ووٹ سے اجتناب کیا۔

  16. انڈیا میں 32 ائیر پورٹس مسافر پروازوں کے لیے عارضی طور پر بند

    انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے درمیان ہندوستان کی شہری ہوا بازی کی وزارت (ڈی جی سی اے) نے ملک کے شمالی اور مغربی حصوں میں واقع 32 ہوائی اڈوں سے مسافر پروازوں پر پابندی لگا دی ہے۔

    ایئر پورٹ اتھارٹی آف انڈیا اور متعلقہ ایوی ایشن حکام کو کئی ’نوٹمز‘ جاری کیے گئے ہیں جن کے تحت 15 مئی کی صبح 5:29 بجے تک مسافر پروازوں پر پابندی رہے گی۔

    جن ہوائی اڈوں پر اس پابندی کا اطلاق ہو گا ان میں ادھم پور، امبالہ، امرتسر، اونتی پورہ، بٹھنڈہ، بھوج، بیکانیر، چندی گڑھ، ہلواڑہ، ہندن، جیسلمیر، انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے جموں، جام نگر، جودھ پور، کانڈلا، کانگڑا (گگل)، کیشود، کشن گڑھ، کلو منالی (بھونٹر)، لیہہ، لدھیانہ، پٹھان کوٹ، پٹیالہ، پوربندر، راجکوٹ، سرسوا، شملہ، سرینگر اور اترلائی شامل ہیں۔

    ایئر انڈیا نے سوشل میڈیا پر مطلع کیا ہے کہ ایوی ایشن حکام کے نوٹیفکیشن کے بعد جموں، سری نگر، لیہہ، جودھ پور، امرتسر، چندی گڑھ، بھوج، جام نگر اور راجکوٹ کے لیے پروازیں 15 مئی کی صبح 5.29 بجے تک منسوخ کی جا رہی ہیں۔

    انڈیا کی سرکاری نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) نے بھی اس بارے میں رپورٹ کیا ہے کہ انڈیا کے سول ایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ کا کہنا ہے ہے کہ ملک کے 32 ائیرپورٹس کو عارضی طور پر 15 مئی تک مسافر پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. بریکنگ, 26 مقامات پر متشبہ ڈرونز دیکھے گئے: انڈین وزارت دفاع کا دعویٰ

    انڈیا کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے بارہمولہ سے بھوج تک 26 مقامات پر مشتبہ ڈرون دیکھے گئے ہیں۔ یہ مشتبہ مسلح ڈرون شہریوں اور فوجی اہداف کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

    انڈین وزارت دفاع کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مشتبہ ڈرونز انڈیا کے زیر انتظام کشمیر علاقے بارہمولہ، سری نگر، اونتی پورہ، نگروٹہ، جموں سمیت انڈین کے شہروں فیروز پور، پٹھانکوٹ، فاضلکا، لال گڑھ جٹہ، جیسلمیر، بارمیر، بھوج، کواربیٹ اور لکھی نالہ کے قریب بین الاقوامی سرحد اور پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر دیکھے گئے ہیں۔

    انڈین وزارت دفاع کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسی طرح کے ایک مشتبہ ڈرون نے انڈیا کے علاقے فیروز پور میں ایک شہری علاقے پر حملہ کیا۔ اس حملے میں کئی مقامی افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو ہسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے اور سکیورٹی فورسز علاقے کی تلاشی لے رہی ہیں۔

    انڈیا کی وزارت دفاع نے یہ بھی کہا کہ ’انڈین مسلح افواج چوکس ہیں اور ایسے تمام فضائی خطرات سے ڈرون شکن سسٹم کے ذریعے نمٹا جا رہا ہے۔ ہم ہر صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضرورت کے مطابق فوری کارروائی کی جا رہی ہے۔‘

    انڈین وزارت دفاع نے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو گھر کے اندر رہنے اور مقامی طور پر جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کا کہا ہے۔

  18. امرتسر، پٹھان کوٹ اور سری نگر میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات، جموں اور پونچھ سیکٹر میں حالات کشیدہ

    جموں و کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنانڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بلیک آؤٹ کا منظر: فائل فوٹو

    انڈین پنجاب کے مختلف سرحدی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں ہیں۔

    پٹھان کوٹ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جگل پروہت نے بتایا ہے کہ انھوں نے اور ساتھی کیمرہ مین انتارکش جین نے متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی اور آسمان میں روشنی دیکھی۔

    بی بی سی نامہ نگار کے مطابق ’انڈین فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈرونز سے حملے ہوئے ہیں اور ان ڈرون کو مار گرانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ہر طرف بلیک آؤٹ ہے۔‘

    امرتسر میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار رویندر سنگھ رابن نے بتایا کہ ’شہر میں یکے بعد دیگرے متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اس کے ساتھ ہی ڈرونز بھی دیکھے گئے اور ایئر فورس سٹیشن کے قریب فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ تاہم حکام نے کہا ہے کہ اب تک اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔‘

    دریں اثنا بی بی سی کے نامہ نگار راگھویندر راؤ جو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے پونچھ سیکٹر کے قریب سورنکوٹ میں موجود ہیں، نے رپورٹ کیا ہے کہ ’کل اور آج پونچھ میں شدید گولہ باری ہوئی جس میں ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم سورنکوٹ ایل او سی سے تھوڑا دور ہے اور یہاں گولہ باری کا زیادہ اثر نہیں ہوا ہے۔‘

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے جموں میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار دویا آریہ نے بتایا کہ مقامی لوگوں کے مطابق وہاں بھی دھماکے ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’علاقے میں خاموشی ہے، لوگ گھروں میں ہیں دن میں حالات معمول پر تھے، بازاروں میں لوگ نظر آئے، لیکن شام ہوتے ہی حالات کشیدہ ہو گئے۔‘

    بی بی سی کے نامہ نگار ماجد جہانگیر، جو انڈیا کے زیر انتظام کشیمر کے علاقے سری نگر میں موجود ہیں نے کہا ہے کہ ’سرینگر اور اونتی پورہ میں کئی دھماکے سنے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ خطے کے بیشتر علاقوں میں بجلی نہیں ہے۔‘

  19. ٹرمپ انڈیا اور پاکستان کے بیچ کشیدگی میں جلد از جلد کمی کے خواہاں ہیں: وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی میں جلد از جلد کمی آئے۔

    کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں میں دہائیوں سے اور ٹرمپ سے اقتدار سنبھالنے سے کافی دیگر پہلے سے تناؤ ہے تاہم ٹرمپ کے ’دونوں ملکوں کے رہنماؤں سے اچھے تعلقات ہیں۔‘

    ’وزیر خارجہ مارکو روبیو دونوں ملکوں کے رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ تناؤ میں کمی لائی جائے۔‘

  20. ’سعودی عرب کو جنوبی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش‘

    شہباز شریف، سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    ،تصویر کا کیپشنایک روزہ دورے پر آئے سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر سے شہباز شریف کی ملاقات

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایک روزہ دورے پر آئے سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر سے ملاقات کی ہے۔

    پی ایم آفس کے پیغام کے مطابق اس ملاقات میں ’جنوبی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے انڈیا کے پاکستان کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔‘

    شہباز شریف نے زور دیا کہ یہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی ’کھلی خلاف ورزی ہے اور اس جارحیت سے علاقائی امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔‘

    وزیرِاعظم نے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور علاقائی امن قائم کرنے کے لیے سعودی حکومت کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔

    جبکہ پاکستان کے سرکاری بیان کے مطابق سعودی وزیر مملکت نے پاکستانی شہریوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو جنوبی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش ہے۔‘

    ’انھوں نے سعودی عرب کی جانب سے کشیدگی میں کمی کے ساتھ ساتھ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تمام تصفیہ طلب تنازعات کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے مطالبے کا اعادہ کیا۔‘