امریکی صدر کا ناکہ بندی کی ’خلاف ورزی‘ پر ایرانی کارگو جہازکو روکنے اور تحویل میں لینے کا دعویٰ، ناکہ بندی برقرار رہنے تک کشیدگی بڑھتی رہے گی: ایرانی سفیر
ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ایرانی پرچم والے ایک کارگو جہاز کو روک کر اسے تحویل میں لے لیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر نے امریکہ یا صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر ان کی ’سفارتکاری‘ پر شدید تنقید کی ہے۔
خلاصہ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ان کی ٹیم پیر کی شام اسلام آباد پہنچ جائے گی۔
امریکی صدر کے مطابق ان کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق جے ڈی وینس بھی ان مذاکرات میں شامل ہوں گے
ابھی تک کسی بھی ایرانی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ آیا ایران مذاکرات کے نئے دور میں حصہ لے گا۔
پاسدران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم نیوز نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی جاری رہنے کے بعد ایران نے اتوار کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو آئل ٹینکرز کو واپس بھیج دیا۔
امریکہ کی مزید ایک ماہ کے لیے ممالک کو روسی تیل خریدنے کی اجازت
لائیو کوریج
بریکنگ, ٹرمپ کا دعویٰ: ایران بارودی سرنگیں ہٹا رہا ہے اور آئندہ کبھی آبنائے ہرمز بند نہ کرنے پر متفق ہو گیا ہے
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال ختم ہونے کے بعد انھیں نیٹو کی جانب سے فون کال موصول ہوئی جس میں مدد کی پیشکش کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ انھوں نے نیٹو کو واضح طور پر کہا کہ دور رہیں، جب تک کہ وہ صرف اپنے جہازوں میں تیل بھرنے کے خواہش مند نہ ہوں۔ انھوں نے نیٹو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’کاغذی شیر‘ قرار دیا۔
ایک اور بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکہ کی مدد سے سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹا رہا ہے یا ہٹا چکا ہے۔
انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران اس بات پر بھی متفق ہو گیا ہے کہ وہ آئندہ کبھی آبنائے ہرمز کو بند نہیں کرے گا اور نہ ہی اسے دنیا کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرے گا۔
اسرائیل اب لبنان پر بمباری نہیں کرے گا، امریکہ کی جانب سے اسے اس عمل سے روک دیا گیا ہے: ٹرمپ
امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اپنے بی ٹو بمبار طیاروں کی جانب سے پیدا ہونے والی تمام جوہری ’گرد‘ حاصل کرے گا اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کا مالی لین دین نہیں ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ لبنان سے کسی طور منسلک نہیں، تاہم امریکہ الگ سے لبنان کے ساتھ کام کرے گا اور حزب اللہ کے معاملے کو مناسب طریقے سے حل کرے گا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اسرائیل اب لبنان پر بمباری نہیں کرے گا اور امریکہ کی جانب سے اسے اس عمل سے روک دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا: ’اب بہت ہو چکا۔‘
بریکنگ, ’پاکستان، اس کے عظیم وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ، یہ دونوں شاندار شخصیات ہیں‘ ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہrealDonaldTrump
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان، اس کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا: ’پاکستان اور اس کے عظیم وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ، یہ دونوں شاندار شخصیات ہیں۔‘
بریکنگ, آبنائے ہرمز کے کھلنے کا اعلان: تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی, تھیو لیگٹ، بین الاقوامی کاروباری نمائندہ
ایران کے وزیرِ خارجہ کی جانب سے آبنائے ہرمز جنگ بندی کی ’باقی مدت‘ کے دوران تجارتی جہازرانی کے لیے مکمل طور پر کھولے جانے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔
اس اعلان کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 90 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی، جبکہ دن کے اوائل میں یہ 98 ڈالر سے زائد تھی۔
این وائی میکس لائٹ سویٹ کروڈ، جو امریکہ کا معیاری خام تیل ہے، اس کی قیمت میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
تنازعے سے قبل برینٹ خام تیل تقریباً 70 ڈالر فی بیرل سے کچھ کم پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔
مارچ کے اوائل میں یہ 100 ڈالر سے تجاوز کر گیا اور اسی مہینے کے آخر میں 119 ڈالر سے بھی اوپر چلا گیا۔
آبنائے ہرمز کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ ایک نہایت اہم بحری راستہ ہے، جس کے ذریعے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی ترسیل ہوتی ہے۔
اس آبنائے کی جغرافیائی حیثیت نے اس جنگ کے دوران ایران کو اسے دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کا موقع دیا، جہاں اس نے تنگ آبی راستے سے بعض جہازوں کو گزرنے سے روکا، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
یہ آبنائے شمال میں ایران اور جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان واقع ہے۔ اس کی چوڑائی داخلی اور خارجی مقامات پر تقریباً 50 کلومیٹر (31 میل) ہے، جبکہ سب سے تنگ مقام پر یہ تقریباً 33 کلومیٹر چوڑی ہے۔ یہ خلیج کو بحیرۂ عرب سے جوڑتی ہے۔
یہ آبنائے اتنی گہری ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے ٹینکر اس سے گزر سکتے ہیں، اور اسے مشرقِ وسطیٰ کے بڑے تیل اور ایل این جی پیدا کرنے والے ممالک اور ان کے خریدار استعمال کرتے ہیں۔
امریکی توانائی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے اندازوں کے مطابق، 2025 میں روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل اور تیل سے بنی مصنوعات آبنائے ہرمز سے گزریں، جو سالانہ تقریباً 600 ارب ڈالر (447 ارب پاؤنڈ) کی توانائی تجارت کے برابر ہے۔
یہ تیل صرف ایران سے نہیں بلکہ دیگر خلیجی ممالک جیسے عراق، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بھی آتا ہے۔
بریکنگ, ’شکریہ!‘: آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے پر ٹرمپ کی پوسٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ کی ہے، جس میں انھوں نے آبنائے ہرز کھولنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا ہے۔
انھوں نے لکھا کہ ’ایران نے ابھی اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہے اور مکمل آمدورفت کے لیے تیار ہے۔ شکریہ!‘
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹروتھ سوشل پر ایک اور فالو اَپ پوسٹ سامنے آئی ، جس میں انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ’مکمل طور پر کھلی ہے اور کاروبار کے لیے تیار ہے‘۔
انھوں نے مزید لکھا کہ ’لیکن ایران کے حوالے سے بحری ناکہ بندی پوری طاقت اور مؤثر انداز میں برقرار رہے گی اور یہ اسی وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے ساتھ ہمارا لین دین 100 فیصد مکمل نہیں ہو جاتا۔‘
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’یہ عمل بہت تیزی سے مکمل ہونا چاہیے کیونکہ زیادہ تر نکات پہلے ہی طے پا چکے ہیں۔ اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ!
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, ایران کا تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کھونے کا اعلان کیا ہے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ ’لبنان میں جنگ بندی کے تناطر میں (امریکہ اور ایران کے درمیان) جنگ بندی کی باقی مدت کے لیے آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔‘
امریکہ نے اس ہفتے کے اوائل میں اعلان کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی شروع کرے گا، جب ایران نے فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے ردِعمل میں دنیا کی مصروف ترین تیل بردار بحری گزرگاہ کو کئی ہفتوں تک عملاً بند کر دیا تھا۔
اس حوالے سے امریکے کی جانب سے تاحال کوئی فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ڈونلڈ ٹرمپ کے عرب اور افریقی امور سے متعلق سینیئر مشیر کی شہباز شریف سے ملاقات
،تصویر کا ذریعہPMO
امریکی صدر کے عرب اور افریقی امور کے سینئر مشیر، مسعد بولوس نے آج ترکیہ کے شہر انطالیہ میں منعقدہ پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقعے پر پاکستانی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے خیرسگالی ملاقات کی۔
پاکستانی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اس خوشگوار ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
بیان کے مطابق ’انھوں نے صدر ٹرمپ کی جرات مندانہ اور فیصلہ کن قیادت کو سراہا، جس کے نتیجے میں گذشتہ سال پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ کے دہانے پر پہنچ جانے کے بعد جنگ بندی ممکن ہوئی۔‘
وزیرِ اعظم نے لبنان میں جنگ بندی کے کامیاب اختتام پر بھی صدر ٹرمپ کی قیادت کی تعریف کی۔
دونوں فریقوں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا، جن میں پاکستان کی امن کی کوششیں، جنگ بندی، اور تاریخی اسلام آباد مذاکرات شامل تھے۔
وزیرِ اعظم نے پاکستان اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا، خاص طور پر اقتصادی اور تجارتی تعاون، اور کثیرالملکی سفارت کاری میں باہمی دلچسپی کے امور پر۔
مسعد بولوس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیرِ اعظم کو نیک تمنائیں پہنچائیں اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔
انھوں نے انسدادِ دہشت گردی، اقتصادی ترقی اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے سمیت مشترکہ ترجیحات پر پاکستان کے ساتھ روابط مزید گہرے کرنے میں امریکہ کی دلچسپی کا اعادہ کیا۔
اس ملاقات میں پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی سید طارق فاطمی بھی شریک تھے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی سے لبنانی عوم خوش
،ویڈیو کیپشناسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی سے لبنانی عوم خوش
اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بیروت اور دیگر شہروں میں عوام نے جشن منایا۔ نقل مکانی کرنے والی افراد نے واپس آنا شروع کر دیا ہے جبکہ اسرائیل کی طرف سے جنگ کے دوران تباہ ہونے والے پلوں کی مرمت کا کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔
حزب اللہ کے خلاف مہم ’ابھی مکمل نہیں ہوئی‘: اسرائیلی وزیرِ دفاع
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں اپنے گھروں کو واپس لوٹنے والے ہزاروں بے گھر لبنانی شہریوں کو، اگر دوبارہ لڑائی شروع ہوئی، تو ایک بار پھر وہاں سے نکالا جا سکتا ہے۔
وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بیان میں کہا کہ لبنان میں کیے گئے حملوں سے ’کئی کامیابیاں‘ حاصل ہوئی ہیں، لیکن حزب اللہ کے خلاف مہم ’ابھی مکمل نہیں ہوئی‘۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو جو رہائشی سکیورٹی زون میں واپس آئیں گے، انھیں مشن کی تکمیل کے لیے دوبارہ نقل مکانی کرنا پڑے گی۔‘
روئٹرز کے مطابق انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی فوج اُن تمام مقامات پر اپنی موجودگی برقرار رکھے گی جنہیں اس نے ’کلییڑ کر کے اپنے قبضے میں لے لیا ہے‘‘۔
جمعرات کو جنگ بندی کی خبر پر ردِعمل دیتے ہوئے حزب اللہ نے کہا ’کسی بھی جنگ بندی کو لبنان کے پورے علاقے پر لاگو ہونا چاہیے اور اسرائیلی دشمن کو کسی قسم کی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔‘
حزب اللہ کے رہنما کا بی بی سی کو بیان: ’ہم کبھی غیر مسلح نہیں ہوں گے‘, نوال المغافی، بین الاقوامی نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سینیئر حزب اللہ رہنما وافق صفا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے آغاز سے چند گھنٹے قبل بی بی سی کو بتایا کہ گروپ ’کبھی بھی، کسی صورت‘ ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ لبنانی حکومت کے ساتھ آئندہ مذاکرات میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ایک بنیادی مطالبہ ہے۔
جب اسلحہ چھوڑنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو صفا نے کہ ’کسی مناسب جنگ بندی سے پہلے نہیں، ایک حقیقی جنگ بندی سے پہلے نہیں۔ اسرائیلی انخلا سے پہلے نہیں۔ قیدیوں کی واپسی سے پہلے، بے گھر افراد کی واپسی سے پہلے اور تعمیرِ نو سے پہلے نہیں۔ تب تک حزب اللہ کے ہتھیاروں پر بات ممکن نہیں۔‘
بیروت میں ایک رہائشی عمارت میں دیا گیا یہ انٹرویو حزب اللہ اور اس کے اہم علاقائی سرپرست ایران کے درمیان ہم آہنگی کی ایک نادر جھلک پیش کرتا ہے۔
صفا نے کہا، ’حزب اللہ اور ایران ایک جسم میں دو روحیں ہیں۔ ایران کے بغیر کوئی حزب اللہ نہیں، اور حزب اللہ کے بغیر کوئی ایران نہیں،‘ اور اس تعلق کو ’مذہبی، قانونی اور نظریاتی‘ قرار دیا۔
حزب اللہ، جو ایک شیعہ مسلم سیاسی اور عسکری گروپ ہے، اسرائیل کے وجود کے حق کی مخالفت کرتا ہے اور امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور کئی دیگر ممالک اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔
اس گروپ نے مارچ کے اوائل میں اسرائیل پر راکٹ داغ کر تازہ تنازع میں شمولیت اختیار کی، یہ کہتے ہوئے کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر کے قتل اور نومبر 2024 میں آخری جنگ کے بعد سے لبنان پر تقریباً روزانہ ہونے والے اسرائیلی حملوں کا جواب دے رہا ہے۔
اسرائیل نے شدید فضائی حملوں اور جنوبی لبنان میں ایک اور زمینی کارروائی سے جواب دیا، یہ کہتے ہوئے کہ اس کی مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا۔
جب یہ پوچھا گیا کہ آیا حزب اللہ لبنان کے عوام کے مفادات کو ترجیح دے رہی ہے یا ایران کے، تو صفا نے کہا کہ ’یقیناً حزب اللہ لبنانی مفادات کو دیکھ رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حمایت، بشمول جنگ بندی کے لیے دباؤ، موجودہ تنازع میں لبنان کے لیے مددگار ثابت ہوئی ہے۔ تاہم بہت سے لبنانی جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن سے بی بی سی نے حالیہ رپورٹنگ کے دوران بات کی کہتے ہیں کہ وہ گروپ کو غیر مسلح دیکھنا چاہتے ہیں اور ملک کو تنازع میں گھسیٹنے کا ذمہ دار اسی کو ٹھہراتے ہیں۔
اور چونکہ حزب اللہ اسلحہ چھوڑنے سے انکار کر رہی ہے اور وسیع تر شرائط پر اصرار کر رہی ہے، جبکہ اسرائیل اپنے سکیورٹی مطالبات برقرار رکھے ہوئے ہے، اس لیے کوئی بھی جنگ بندی ممکن ہے کہ ایک طویل تر تنازع میں محض ایک وقفہ ثابت ہو۔
جنگ بندی سے عین پہلے جنوبی لبنان کے شہر صور میں اسرائیلی حملوں میں 13 افراد ہلاک
سرکاری میڈیا نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق، گزشتہ رات لبنان کے شہر صور میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور 35 زخمی ہو گئے۔
ایجنسی نے بتایا کہ آج صبح تک تلاش کرنے والی ٹیمیں ملبے تلے دبے 15 لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف تھیں۔
اے ایف پی کے مطابق، یہ حملے اسرائیل کے ساتھ طے پانے والی 10 روزہ جنگ بندی کے نافذ ہونے سے کچھ ہی دیر قبل، گذشتہ رات آدھی رات سے پہلے کیے گئے۔
یہ بات ایک مقامی سرکاری ذریعے کے حوالے سے بتائی گئی۔
آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں ہر ممکن مدد کریں گے: برطانوی وزیر اعظم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر اب سے کچھ دیر پہلے پیرس میں ایلیزے پیلس پہنچے ہیں، اور فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں سے ملاقات سے چند لمحے قبل انھوں نے زور دے کر کہا کہ وہ ایران کی جنگ کے عوام پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ’جو کچھ بھی ممکن ہوا کریں گے‘۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سٹارمر نے کہا کہ ’یہ بہت اہم ہے کہ ہم اس اصول کے گرد ممالک کا ایک اتحاد بنائیں کہ جنگ بندی مستقل ہونی چاہیے، ایک معاہدہ ہونا چاہیے، اور آبنائے ہرمز کھلی ہونی چاہیے۔‘
’یہ ہم سب کے مفاد میں ہے، کیونکہ ایران کی جنگ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہماری ہر ایک معیشت کو متاثر کر رہا ہے۔ اسی لیے ممالک ایک ساتھ آ رہے ہیں۔‘
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ ’سب پر یہ بات واضح ہے کہ اس کے لیے ہمیں سفارتی اور سیاسی پہلو کی ضرورت ہے، ہمیں لاجسٹک اور معاشی پہلو درکار ہے، اور ہمیں کچھ فوجی منصوبہ بندی بھی چاہیے اور آج ہم اسی مقصد کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔‘
آج سٹارمر اور میخواں تقریباً 40 ممالک کے ایک ورچوئل اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایک کثیرالملکی مشن قائم کرنا ہے۔
جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں ہم بھی کارروائی کے لیے چوکس ہیں: حزب اللہ
لبنان میں جاری جنگ بندی کے دوران اسرائیل کی جانب سے کسی بھی ’دھوکے یا غداری‘ کی صورت میں حزب اللہ نے کہا ہے کہ وہ ’انگلی ٹریگر پر‘ رکھے ہوئے ہے۔
ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں، ایران کی حمایت یافتہ اس گروپ نے اب تک کے تنازع کے دوران اپنی کارروائیوں کی تفصیل بیان کی، اور کہا کہ اس نے 2 مارچ سے 16 اپریل کے درمیان اسرائیل کے خلاف 2,184 کارروائیاں کیں۔
حزب اللہ جسے برطانیہ اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے، وہ جنگ بندی کے مذاکرات میں شامل نہیں تھی، کیونکہ اسرائیل نے اس حوالے سے لبنانی حکومت کے ساتھ بات چیت کی۔
جمعرات کو جنگ بندی کی خبر پر ردِعمل دیتے ہوئے، حزب اللہ نے کہا کہ ’کسی بھی جنگ بندی کو لبنان کے پورے علاقے پر لاگو ہونا چاہیے اور اسرائیلی دشمن کو کسی قسم کی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے‘۔
اسرائیل نے 10 دن کی عارضی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی کی مدت کے دوران اسرائیلی فوج لبنانی علاقے میں موجود ’سکیورٹی زون‘ میں موجود رہے گی۔
اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ، مختلف علاقوں میں گرینڈ کومبنگ سرچ آپریشنز جاری
،تصویر کا ذریعہgettyimages
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کو یقینی بنانے کی پاکستانی رہنماؤں کی سفارتی کوششوں اور صدر ٹرمپ کی جانب سے معاہدہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کا دورہ کرنے کے عندیے کے بیچ، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔
ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق آئی جی اسلام آباد کے احکامات پر شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر مشترکہ گرینڈ کومبنگ سرچ آپریشنز جاری ہیں۔
تفصیلات کے مطابق آئی جی اسلام آباد نے ضلع بھر میں گرینڈ سرچ آپریشنز کے احکامات جاری کیے، جن کے تحت تھانہ کرپا، تھانہ سمبل، تھانہ سیکریٹریٹ، تھانہ کھنہ، تھانہ انڈسٹریل ایریا، تھانہ بنی گالہ اور تھانہ ترنول کے علاقوں میں کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔
یہ سرچ آپریشنز ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا کی سپرویژن اور زونل ایس پیز کی نگرانی میں کیے گئے، جن میں لیڈیز پولیس نے بھی حصہ لیا۔
آپریشنز کے دوران 712 افراد اور 1108 گھروں کی چیکنگ کی گئی، جبکہ 182 دکانوں اور 32 ہوٹلوں کی بھی تلاشی لی گئی۔ مزید برآں 381 موٹر سائیکلوں اور 141 گاڑیوں کی جانچ پڑتال کی گئی۔
کارروائی کے دوران 20 افغان باشندوں، 56 مشکوک افراد، 2 گاڑیوں اور 47 موٹر سائیکلوں کو مزید تفتیش کے لیے متعلقہ تھانوں میں منتقل کیا گیا۔ غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے ملزمان کو گرفتار کرکے مختلف بور کے چار پستول بمعہ ایمونیشن برآمد کیے گئے۔
شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر مؤثر چیکنگ کے لیے خصوصی چیکنگ پوائنٹس بھی قائم کیے گئے ہیں، جبکہ تمام پٹرولنگ یونٹس اور خصوصی سکواڈ شہر بھر میں مسلسل گشت کر رہے ہیں۔ سینئر افسران بھی فیلڈ میں موجود ہیں اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اسلام آباد پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ چیکنگ کے دوران پولیس سے تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔ پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات یقینی بنا رہی ہے۔
،تصویر کا ذریعہICT_Police
اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت اقدامات, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہEPA
اسلام آباد
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کو یقینی بنانے کی پاکستانی رہنماؤں کی سفارتی کوششوں اور صدر ٹرمپ کی جانب سے معاہدہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کا دورہ کرنے کے عندیے کے بیچ، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد میں داخل ہونے والے تمام راستوں پر سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے ناکے لگائے جا رہے ہیں جن پر پولیس اور فوجی اہلکار تعینات ہوں گے۔ اسی طرح پنجاب سے بُلائی گئی پولیس کی اضافی نفری بھی اسلام آباد میں فرائض سرانجام دے گی۔
جڑواں شہروں، اسلام آباد اور راولپنڈی، کی انتظامیہ نے دونوں شہر کے اندر موجود پبلک ٹرانسپورٹ کے اڈوں کو بند کروا دیا ہے اور ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق یہ اڈے 26 اپریل تک بند رہنے کا امکان ہے۔
،تصویر کا ذریعہEPA
پبلک ٹرانسپورٹ کے یہ اڈے فیض آباد، پیر ودھائی، منڈی موڑ اور 26 نمبر چونگی پر واقع ہیں۔ اسی طرح بھاری ٹریفک کی آمد و رفت بھی متاثر ہے اور پشاور اور ٹیکسلا سے آنے والی گاڑیوں کو مارگلہ روڈ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
جڑواں شہر کی انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ جڑواں شہر کے اکثر روٹس پر پبلک ٹرانسپورٹ چل رہی ہے تاہم تاحال اسے بند کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے اسلام آباد میں معاہدہ ہونے کی صورت میں وہ پاکستان جا سکتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد شہریوں کی انتہائی ضروری آمد و رفت اور سفر کے علاوہ اسلام آباد میں نقل وحرکت کو محدود کرنا ہے۔
اسرائیل اور لبنان میں جنگ بندی کے بعد بیروت میں جشن، یہ جنگ کا اختتام ہے یا وقفہ, ہوگو بچیگا، بی بی سی کے یروشلم میں مشرقِ وسطیٰ کے نامہ نگار کا تجزیہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بیروت میں جیسے ہی گھڑیوں میں بارہ بجے تو جنگ بندی کے آغاز کی خوشی میں ہوائی فائرنگ اور آتش بازی کرکے جشن منایا گیا۔
لبنان جنوبی شہر صیدا میں بھی لوگ ہنشی خوشی گھروں کو لوٹنے کی کوششوں میں مگن دکھائی دیے۔
اور رات کے اندھیرے میں ہی وہ پل مرمت ہونا شروع ہو گئے جو جنگ کے دوران اسرائیلی حملوں میں تباہ ہو گئے تھے۔
جنگ بندی کے ابتدائی گھنٹوں میں لبنانی فوج نے چند دیہات پر اسرائیلی گولہ باری کی نشاندہی کرتے ہویے اسے اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزی دیا تاہم حزب اللہ نے جنگ بندی کی پابندی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
لبنانی عوام کسی وقفے کے شدت سے منتظر تھے۔
یہ جنگ ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ 2,100 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 10 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوئے ہیں یعنی ہر پانچ میں سے ایک شخص متاثر ہوا۔
تاہم کئی اہم مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔
حزب اللہ کے پاس ہتھیار ہیں جبکہ اسرائیلی فوجی اب بھی لبنانی علاقے میں موجود ہے اور ان کے انخلا کی کوئی واضح مدت طے نہیں کی گئی۔ معاہدے کے مطابق اسرائیل کو لبنان پر حملے جاری رکھنے کی اجازت بھی ہو سکتی ہے۔
یہ جنگ بندی میں ایک وقفہ تو ہو سکتا ہے لیکن اختتام نہیں۔
معاملات بہتری کی جانب جا رہے ہیں، یہ دن لبنان کے لیے تاریخی ہو سکتا ہے: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنلبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد نقل مکانی کرنے والے اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں
ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ دن لبنان کے لیے تاریخی ہو سکتا ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کو علاقائی استحکام کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے۔
ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر پوسٹ میں مزید کہا کہ ’معاملات بہتری کی جانب جا رہے ہیں۔‘
یاد رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان دس روزہ جنگ بندی کے اعلان پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل بیان میں لبنان میں موجود ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ پر زور دیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کی پابندی میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ حزب اللہ اس اہم مرحلے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا۔
ٹرمپ کے مطابق ’اب مزید خونریزی نہیں ہونی چاہیے اور امن قائم ہونا چاہیے۔‘
آبنائے ہرمز کشیدگی، ایران سے روانہ ہونے والے چار بحری جہاز امریکی ناکہ بندی لائن عبور کر گئے, جوشا چیتھم، بی بی سی ویریفائی
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
بحری جہازوں کے ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ایران کی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے چار بحری جہاز امریکی ناکہ بندی لائن عبور کر چکے ہیں۔
بی بی سی ویریفائی کے مطابق یہ تمام جہاز کنٹینر شپ ہیں۔ ان میں سے تین ایران کے پرچم کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں جبکہ چوتھا جہاز ٹیوا فور کوموروس میں رجسٹرڈ ہے۔
یاد رہے کہ یہ معلومات ان جہازوں کی خود رپورٹ کردہ ٹریکنگ پوزیشنز پر مبنی ہیں۔ ماہرین کے مطابق کچھ بحری جہاز اپنے ٹریکنگ سسٹم بند بھی کر سکتے ہیں یا غلط مقام ظاہر کر سکتے ہیں، جسے’سپوفنگ‘ کہا جاتا ہے۔
امریکہ نے پیر کو ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے بعد سے جن جہازوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی، ان کی تفصیل کے مطابق
آزرگون (Azargoun) ایرانی بندرگاہ شاہد رجائی سے روانہ ہوا اور اس نے تقریباً 16:00 بجے ناکہ بندی لائن عبور کی جس کے بعد وہ انڈیا کے شمال مغرب میں کانڈلا کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے۔
آشکن تھری (Ashkan 3 ) مشرقی ایرانی بندرگاہ چابہار سے دوپہر کے بعد روانہ ہوا اور اس وقت پاکستان میں کراچی کے قریب دکھائی دے رہا ہے۔
شبدس (Shabdis) بھی ایرانی بندرگاہ چابہار سے روانہ ہوا جس نے تقریبا مقامی وقت کے مطابق 21:00 بجے لائن عبور کی اور اب وہ انڈیا کی جنوب مغربی ریاست کیرالہ کے قریب ہے جبکہ اس کی منزل ژوہائی، چین بتائی جا رہی ہے۔
ٹیوا فور(Tava 4) امام خمینی بندرگاہ سے روانہ ہوا اور ناکہ بندی لائن عبور کرنے کے بد اب انڈیا کے مغربی ساحل کے قریب سے گزرتا ہوا جواہر لعل نہرو پورٹ (ممبئی) کی طرف جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ پریس کانفرنس میں امریکی جنرل ڈین کین نے کہا تھا کہ امریکہ اب بھی ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
جب ان جہازوں کے گزرنے کے وقت کے بارے میں پوچھا گیا تو امریکی سینٹرل کمانڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس ’چیئرمین کے بیان سے ہٹ کر کچھ شامل کرنے کے لیے نہیں۔‘
آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے برطانیہ اور فرانس کی میزبانی میں اجلاس آج ہو گا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال کرنے کے لیے برطانیہ اور فرانس اپنے اتحادیوں کے ساتھ آج ایک اہم بیٹھک کرنے جا رہے ہیں جس میں اس معاملے کے حل کے لیے مشترکہ اقدامات پر بات چیت کی جائے گی۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اپنی ساحلی پٹی کے قریب واقع اس اہم آبی راستے کو مؤثر طور پر بند کر رکھا ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے بھی ایرانی بندرگاہوں پر اپنی پابندیاں سخت کر دی ہیں جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں عالمی سطح پر نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
برطانوی وزیرِاعظم کے دفتر کے مطابق تقریباً 40 ممالک اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس میں خطے میں جاری نازک جنگ بندی کے تحفظ اور آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کو طویل مدت کے لیے دوبارہ کھولنے اور محفوظ بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
ڈاؤننگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ کیئر سٹارمر اجلاس میں اس بات پر زور دیں گے کہ آبنائے ہرمز کا ’بلا شرط اور فوری طور پر دوبارہ کھلنا‘ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانسیسی ایوانِ صدر ایلیزے کی جانب سے بھیجے گئے دعوت نامے میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں شرکا کی جانب سے ’ دفاعی نوعیت کے ملٹی نیشنل فوجی مشن‘ کے امکان پر بھی بات کی جائے گی تاکہ اس اہم آبی راستے میں جہاز رانی کی آزادنہ نقل و حمل کو یقینی بنایا جا سکے۔