امریکی صدر کا ناکہ بندی کی ’خلاف ورزی‘ پر ایرانی کارگو جہازکو روکنے اور تحویل میں لینے کا دعویٰ، ناکہ بندی برقرار رہنے تک کشیدگی بڑھتی رہے گی: ایرانی سفیر

ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ایرانی پرچم والے ایک کارگو جہاز کو روک کر اسے تحویل میں لے لیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر نے امریکہ یا صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر ان کی ’سفارتکاری‘ پر شدید تنقید کی ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ان کی ٹیم پیر کی شام اسلام آباد پہنچ جائے گی۔
  • امریکی صدر کے مطابق ان کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق جے ڈی وینس بھی ان مذاکرات میں شامل ہوں گے
  • ابھی تک کسی بھی ایرانی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ آیا ایران مذاکرات کے نئے دور میں حصہ لے گا۔
  • پاسدران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم نیوز نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی جاری رہنے کے بعد ایران نے اتوار کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو آئل ٹینکرز کو واپس بھیج دیا۔
  • امریکہ کی مزید ایک ماہ کے لیے ممالک کو روسی تیل خریدنے کی اجازت

لائیو کوریج

  1. یورینیئم کی افزودگی ایران امریکہ مذاکرات کا اہم ترین نکتہ, فرینگ گارڈنر، سکیورٹی نامہ نگار

    ایران چاہتا ہے کہ اس پر عائد تمام پابندیاں ہٹا دی جائیں۔ ایران کی معیشت شدید مشکلات کا شکار اور اس قدر بدتر حالت میں ہے کہ وہ خلیج میں اپنی بندرگاہوں سے اپنی برآمدات بھی نہیں نکال سکتا۔

    یہ وقت ایران کے حق میں نہیں۔

    ایران اور امریکہ دو چیزوں پر مذاکرات کر رہے ہیں:

    • یورینیئم کی افزودگی
    • انتہائی افزودہ یورینیئم اب بھی اصفہان کے پہاڑوں کے نیچے سرنگوں میں پڑا ہے، جہاں گزشتہ سال امریکہ نے بمباری کی تھی۔

    اس بارے میں بہت بات چیت ہوئی کہ امریکی فوج کے ایک خصوصی آپریشن کے ذریعے اس یورینیئم کو وہاں سے نکالا جائے لیکن اسے بھول جائیں کیونکہ ایران اس مقام پر بڑی تعداد میں فوج تعینات کر دے گا۔

    آپ ایران کی اجازت کے بغیر ایسا نہیں کر سکتے۔ یہ بہت حساس آپریشن ہو گا۔

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی ایسا کرنے کو تیار ہے لیکن ایسے وقت میں نہیں جب جنگ جاری ہے۔ یہ امریکہ کے ساتھ مشترکہ آپریشن ہو سکتا ہے لیکن صرف اس وقت جب ایران رضا مند ہو۔

  2. تمام چینی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں: قونصلیٹ جنرل ایران

    ممبئی میں ایران کے قونصلیٹ جنرل نے کہا ہے کہ عام خیال کے برعکس ایران نے تمام چینی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دے رکھی۔

    ایکس پر اپنی پوسٹ میں قونصلیٹ جنرل نے لکھا کہ ’ایران نے چینی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی۔‘

    پوسٹ کے مطابق ’سن پروفٹ‘ جہاز جس کی ملکیت اور عملہ چینی شہریوں پر مشتمل ہے، اچانک راستہ بدلنے اور واپس جانے پر مجبور ہوا۔

    ایکس

    ،تصویر کا ذریعہX

  3. آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے گزرنے کا کوئی نشان نہیں

    جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا ہے۔

    جہازوں کی نقل و حمل پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق آبنائے ہرمز سے فی الحال کوئی جہاز نہیں گزر رہے، حالانکہ ایسا لگتا ہے کہ بہت سے جہاز خلیج کے اردگرد لنگر انداز ہیں۔

    یاد رہے کہ سنیچر کے روز آبنائے ہرمز میں چند جہازوں کو نشانہ بنانے اور ایک ٹینک پر آگ لگنے کے واقعات پیش آئے تھے۔

  4. ٹرمپ کے پاس ایران کو اس کے جوہری حقوق سے محروم کرنے کا کوئی جواز نہیں: مسعود پزشکیان

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اتوار کے روز کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران کو اس کے جوہری حقوق سے محروم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت جوہری معاملے پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری اختلافات میں یہ ایک اہم معاملہ ہے۔

    ایرانی سٹوڈنٹس نیوز ایجنسی نے مسعود پزشکیان کے حوالے سے کہا کہ ’ٹرمپ کہتے ہیں کہ ایران اپنے جوہری حقوق کا استعمال نہیں کر سکتا، لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ کیوں؟ وہ کون ہے جو کسی ملک کو اس کے حقوق سے محروم کرے؟‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ان کے ملک کو ایک ’سفاک، خونخوار دشمن‘ کا سامنا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایران جنگ کا مطالبہ نہیں کر رہا ہے بلکہ اپنا دفاع کر رہا ہے۔

  5. امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ایک ٹائم لائن

    28 فروری: امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد تنازع شروع ہو جاتا ہے، جبکہ سفارتی مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں۔

    6 مارچ: ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ ایران کی ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘‘ کے سوا کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

    21 مارچ: ٹرمپ ایک آخری تاریخ مقرر کرتے ہیں اور خبردار کرتے ہیں کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو اس کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    23 مارچ: ٹرمپ ’نتیجہ خیز بات چیت‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ڈیڈ لائن مؤخر کر دیتے ہیں، جس کے بعد مزید کئی بار توسیع کی جاتی ہے۔

    7 اپریل: ٹرمپ خبردار کرتے ہیں کہ اگر ایک نئی آخری تاریخ سے قبل آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ’ایک پوری تہذیب مٹ جائے گی‘۔

    8 اپریل: پاکستان ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان مزید مذاکرات کے لیے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کرتا ہے۔

    11 اپریل: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اعلیٰ حکام کی پاکستان میں ملاقات ہوتی ہے۔ 21 گھنٹوں کی طویل بات چیت کے باوجود، اہم نکات پر دونوں فریقین میں نمایاں اختلاف برقرار رہتا ہے۔

    12 اپریل: ٹرمپ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہیں۔

    17 اپریل: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیان دیا کہ جنگ بندی کی مدت کے دوران آبنائے ہرمز کھلی رہے گی۔ ٹرمپ نے اس کے باوجود یہ بیان دیا کہ امریکی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

    18 اپریل: ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی جائے گی جبکہ ٹرمپ کا یہ دعویٰ ہے کہ ’بہت اچھی بات چیت‘ ہو رہی ہے لیکن امریکہ اس آبی گزرگاہ کے معاملے پر ’بلیک میل‘ نہیں ہوگا۔

  6. مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے باوجود پاکستانی معیشت بحران سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت رکھتی ہے: گورنر سٹیٹ بینک, تنویر ملک، صحافی

    Middle East

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعے سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستانی معیشت نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ مالی سال کے آغاز کے بعد پاکستان کے کلیدی معاشی اشاریے توقع سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات نے نئے خطرات کو جنم دیا ہے اور مجموعی معاشی منظرنامے میں غیر یقینی کیفیت میں اضافہ کیا ہے، تاہم ان ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے معیشت گذشتہ بحرانی ادوار کے مقابلے میں بہتر حالت میں ہے۔

    گورنر جمیل احمد نے یہ خیالات معروف عالمی مالیاتی اور سرمایہ کاری اداروں، جن میں جے پی مورگن، بارکلیز، سٹی بینک، جیفریز اور فرینکلن ٹیمپلٹن شامل ہیں، کے علاوہ بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی گلوبل کے سینئر عہدیداروں سے ملاقاتوں کے دوران ظاہر کیے۔

    یہ ملاقاتیں 13 سے 18 اپریل 2026 کے دوران آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی اسپرنگ میٹنگز کے موقع پر ہوئیں۔ اس دوران گورنر اسٹیٹ بینک نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک گروپ کی قیادت کے ساتھ اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔

    گورنر نے شرکا کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کا تنازع شروع ہونے سے قبل ہی معیشت کے استحکام کی جانب نمایاں پیش رفت کر لی تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ محتاط زری اور مالیاتی پالیسیوں کے امتزاج سے مالیاتی اور بیرونی ذخائر کو مضبوط بنانے میں مدد ملی، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں کمی آئی اور اسے ہدف کی حد میں مستحکم رکھا جا سکا۔

    ان کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 5.7 فیصد رہی، بیرونی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا، جبکہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 16.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے انٹربینک مارکیٹ سے زرمبادلہ کی خریداری تھی۔

    گورنر جمیل احمد نے مزید بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی مسلسل خریداریوں اور سرکاری رقوم کی آمد، جن میں نئے دوطرفہ مالی انتظامات بھی شامل ہیں، کے باعث جون 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر کے تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بہتر معاشی استحکام نے بتدریج، پائیدار اور وسیع البنیاد معاشی بحالی میں کردار ادا کیا۔ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو بڑھ کر 3.8 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 1.8 فیصد تھی۔ ان کے مطابق محتاط پالیسی سمت کے باعث پاکستان کے ابتدائی حالات آج گزشتہ بیرونی دھچکوں، جیسے 2022 میں روس-یوکرین تنازع کے وقت، کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔

    تاہم گورنر نے واضح کیا کہ بہتر ابتدائی حالات کے باوجود معیشت کو اب مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ پیش رفت کے باعث پیدا ہونے والے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں، باربرداری اور بیمہ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسٹیٹ بینک اور حکومت قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھنے اور معاشی استحکام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات سے گریز نہیں کریں گے۔

    گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق زری پالیسی حقیقی پالیسی ریٹ کو بڑی حد تک مثبت رکھنے کے اصول پر محتاط انداز میں جاری رکھی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے ابتدائی مالیاتی سرپلس بھی حاصل کیے ہیں۔ موجودہ تنازعات کے تناظر میں حکومت نے ہدفی سبسڈیز متعارف کرائیں اور طلب کو قابو میں رکھنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات کیے ہیں۔

    انھوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ توسیعی فنڈ سہولت کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت کے دوسرے جائزے کے لیے عملے کی سطح کے معاہدے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ریٹنگ ایجنسی کی جانب سے کریڈٹ ریٹنگ کی توثیق کا بھی حوالہ دیا، جسے انہوں نے معاشی استحکام اور اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے حکومت اور اسٹیٹ بینک کے عزم کا اعتراف قرار دیا۔

    اپنے دورے کے دوران گورنر جمیل احمد نے ترسیلاتِ زر اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) روڈ شو کے موقع پر پاکستانی تارکینِ وطن اور متعلقہ عالمی فریقوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔ انہوں نے بتایا کہ 9 لاکھ 17 ہزار سے زائد آر ڈی اے اکاؤنٹس میں مجموعی رقوم 12.4 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے آر ڈی اے کے ضوابطی فریم ورک میں حالیہ بہتریوں کا خاکہ پیش کیا، جن میں غیر مقیم اداروں کی شمولیت بھی شامل ہے، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی مالی منڈیوں سے مزید مربوط کرنا اور ملک میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

  7. امریکہ اور ایران اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹے بغیر سخت بیانات دے رہے ہیں, نک بیک، بی بی سی

    تصویر

    ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک امریکی بحری ناکہ بندی برقرار ہے۔

    لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’صرف‘ ایک یا دو معاملات ہیں جن پر دونوں فریقین متفق نہیں ہیں۔ تاہم اُنھوں نے وضاحت نہیں کی کہ یہ معاملات کون سے ہیں۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ بھی صحافیوں سے گفتگو اور دیگر تقاریر میں مثبت اشارے دے رہے ہیں کہ ’ایک معاہدہ ہو گا اور ایران سے بہت اچھی بات چیت ہو رہی ہے۔‘

    صدر ترمپ کا یہ بیان آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر ایرانی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے فائرنگ کے چند گھنٹے بعد آیا تھا۔

    لیکن ساتھ ہی ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ’بلیک میلنگ‘ برداشت نہیں کریں گے۔

  8. ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جنگ بندی شرائط کی خلاف ورزی ہے: پاسدارانِ انقلاب

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اس سے قبل ایران کی بحریہ نے کہا تھا کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی جاری رکھنا ’جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی‘ ہے۔

    اس ماہ کے شروع میں ایران اور امریکہ نے دو ہفتے کی مشروط جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا جس کے دوران اُنھوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے راستے جہاز رانی کی اجازت دی جائے گی۔

    اہم شپنگ لین کو ایران نے دوبارہ بند کر دیا ہے اور ایران کی بحریہ کا کہنا ہے کہ یہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک کہ ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم نہیں ہو جاتی۔

    اپنے تازہ بیان میں اسلامی انقلابی گارڈ کور بحریہ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے آبنائے ہرمز پر دیے گئے بیانات کوئی جواز نہیں رکھتے۔‘

    ٹرمپ نے ہفتے کے روز اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے رہنما آبنائے کو بند کرنا چاہتے ہیں، لیکن امریکہ انھیں ’بلیک میلنگ‘ نہیں کرنے دے گا۔

  9. ایران کے ساتھ ’بہت اچھی بات چیت‘ ہو رہی ہے، لیکن آبنائے ہرمز پر اسے ’بلیک میلنگ‘ نہیں کرنے دیں گے: صدر ٹرمپ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ’بہت اچھی بات چیت‘ ہو رہی ہے۔ لیکن وہ تہران کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر ’بلیک میل‘ نہیں کرنے دیں گے۔

    سنیچر کو اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران گذشتہ 47 سال سے ایسا ہی کرتا آیا ہے۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ’ایران کے ساتھ ہمارا لین دین 100 فیصد مکمل نہیں ہو جاتا۔‘

  10. روس کی ایران سے افزودہ یورینیم منتقل کرنے کی پیشکش

    Russia Iran

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    روس نے کہا ہے کہ وہ ایران سے افزودہ یورینیم کی منتقلی میں مدد کے لیے تیار ہے۔

    روسی ریاستی جوہری توانائی ادارے روساٹم کے سربراہ الیکسی لیکاچیف کے مطابق، روس اس بات پر غور کر رہا ہے کہ وہ ایران سے افزودہ یورینیم کی منتقلی میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

    یہ بیان روساٹم کی صنعتی اشاعت ’اسٹرانا روساٹم‘ کے ٹیلی گرام چینل پر شائع ہوا ہے۔

    الیکسی لیکاچیف نے کہا کہ اس معاملے میں تکنیکی مسائل کے ساتھ ساتھ امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے روس کو ایرانی فریق کے ساتھ تعاون کا مثبت تجربہ حاصل ہے۔ 2015 میں ایران کی درخواست پر روس نے پہلے ہی افزودہ یورینیم کی منتقلی میں مدد کی تھی، اور اب بھی ہم اس کے لیے تیار ہیں۔‘

    دوسری جانب دو روز قبل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک نیا معاہدہ ’بہت قریب‘ ہے اور تہران تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم فراہم کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔

    تاہم ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔

    ادھر مارچ کے آغاز میں روساٹم نے ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ سے اپنے عملے کو واپس بلانا شروع کر دیا تھا، جبکہ وہاں جاری تعمیراتی کام بھی روک دیا گیا تھا۔

  11. ٹرمپ نیتن یاہو کے دباؤ میں ایران جنگ کا حصہ بنے: کملا ہیرس

    Iran war

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ ​​کی طرف دھکیل دیا ہے۔

    انھوں نے اس دعوے کے لیے ثبوت فراہم نہیں کیے لیکن اس بات پر زور دیا کہ امریکی عوام اس جنگ کے حق میں نہیں ہیں۔

    کملا ہیرس نے یہ بھی کہا کہ ’ٹرمپ جنگ کو جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات کے اجرا سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘

    مشی گن میں ڈیموکریٹک ویمنز پارٹی کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے، انھوں نے مزید کہا کہ وہ دوبارہ صدر کے لیے انتخاب لڑنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ کملا ہیرس گذشتہ انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ہار گئی تھیں۔

  12. ناکہ بندی سے سمندر کے راستے ایرانی تجارت مفلوج ہو کر رہ گئی ہے: امریکی سینٹرل کمانڈ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہUSCENTCOM

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے ’سمندر کے راستے ایران کی تجارتی اور اقتصادی سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔‘

    ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام کا کہنا تھا کہ امریکہ یو ایس ایس پنکنی ناکہ بندی کی کارروائیوں میں شریک ہے اور مسلسل گشت کر رہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ بحری جہاز یو ایس ایس رشمور پر سوار ملاح اور میرینز بحیرہ عرب میں ناکہ بندی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

  13. امریکہ کے ساتھ حتمی معاہدے سے ابھی بہت دُور ہیں: ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں ’پیش رفت‘ ہوئی ہے، لیکن ابھی تک کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے ہیں۔

    اسلام آباد میں چند روز قبل ہونے والے مذاکرات میں شریک قالیباف نے مزید کہا کہ ’ہم ابھی تک کسی حتمی معاہدے سے بہت دور ہیں۔‘

    ایرانی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’ہم نے مذاکرات میں پیش رفت کی ہے لیکن ابھی بھی بہت سے خلا اور کچھ بنیادی مسائل ہیں جو حل طلب ہیں۔‘

    قالیباف کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوران، 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے یہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کی بات چیت تھی جس میں ہم نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ’امریکہ پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔‘

    اُنھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کو ایرانی عوام کا اعتماد حاصل کرنے کا فیصلہ کرنا ہو گا اور انھیں ڈکٹیشن مسلط کرنے کا اپنا طریقہ کار ترک کرنا ہو گا۔‘

    قالیباف نے امریکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’اگر ہم نے جنگ بندی کو قبول کیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اُنھوں نے ہمارے مطالبات کو تسلیم کیا ہے۔ کیونکہ ہم نے زمین پر فتح حاصل کی۔‘

    قالیباف کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ اپنے مفادات حاصل نہیں کر سکا اور یہ ایران ہی ہے جو آبنائے ہرمز پر اپنا سٹریٹجک کنٹرول رکھتا ہے۔

  14. بحرین کا ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بحرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے اسے مکمل معاوضہ ادا کیا جائے۔

    اقوام متحدہ میں بحرین کے مستقل مشن کی طرف سے بین الاقوامی تنظیم کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ ایران نے ’سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی مسلسل خلاف ورزی کی، جس میں خلیجی ممالک میں حملے روکنے کا کہا گیا تھا۔‘

    بحرین کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ ’بحرین میں شہری اہداف اور اہم تنصیبات کو ایران کی جانب سے جان بوجھ کر نشانہ بنانہ تشویشناک ہے۔ کیونکہ ان حملوں سے شہریوں اور رہائشیوں کی زندگیوں کو براہ راست خطرہ لاحق ہے۔‘

  15. امریکی ناکہ بندی ’غلط اور غیر دانشمندانہ فیصلہ‘ ہے: قالیباف

    WANA/Reuters

    ،تصویر کا ذریعہWANA/Reuters

    ایران کے سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کو ’غلط اور غیر دانشمندانہ فیصلہ‘ قرار دیا ہے۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں انھوں نے کہا: ’میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اگر ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو آبنائے ہرمز سے گزرنے کو یقینی طور پر محدود کر دیا جائے گا۔‘

    ایرانی عوام کے نام اپنے ویڈیو پیغام میں قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز ’ایران کے کنٹرول میں‘ ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ جب امریکہ نے آبنائے میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائی کی کوشش کی تو ایران نے ’ڈٹ کر مقابلہ کیا۔‘

    قالیباف نے کہا ’ہم نے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا اور کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو ہم حملہ کریں گے۔‘

    جنگ کے آغاز کے بعد سے قالیباف ایرانی قیادت کی اہم شخصیات میں شامل ہو کر ابھرے ہیں، اور انھوں نے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات میں وفد کی قیادت بھی کی۔

  16. مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ: اس وقت کون سی جنگ بندیاں نافذ ہیں؟

    امریکہ اور ایران

    • آغاز: 8 اپریل
    • مدت: 14 دن (22 اپریل تک)
    • ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ اس شرط پر ہوا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا۔
    • پاکستان، جس نے مذاکرات میں ثالثی کی، کا کہنا ہے کہ لبنان بھی اس میں شامل ہے، تاہم امریکہ اور اسرائیل اس سے اختلاف کرتے ہیں۔

    اسرائیل اور لبنان

    • آغاز: 16 اپریل
    • مدت: 10 دن (26 اپریل تک)
    • یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان طے پایا اور امریکہ نے اس کا اعلان کیا۔
    • ٹرمپ نے ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ سے اس پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا۔
    • دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود فوج جنوبی لبنان میں تقریباً 10 کلومیٹر اندر تک موجود رہے گی۔
  17. اب تک ایران میں 3468 افراد ہلاک ہو چکے ہیں, غنچہ حبیب زادہ، بی بی سی فارسی

    ایران کے فاؤنڈیشن آف شہدا و سابق فوجی امور کے سربراہ احمد موسوی نے کہا ہے کہ جنگ میں ہلاک ہونے والے 3468 افراد کے ریکارڈ درج کیے جا رہے ہیں۔

    یہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار ہیں جو 12 اپریل کو بتائے گئے اور ان کی تعداد پہلے بتائی گئی 3375 ہلاکتوں سے زیادہ ہے۔

  18. بریکنگ, ’ٹرمپ کے بیانات کی کوئی حیثیت نہیں، امریکی ناکہ بندی جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی ہے‘ ایرانی بحریہ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایرانی بحریہ کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر جاری امریکی ناکہ بندی ’جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی‘ ہے۔

    یاد رہے کہ اس ماہ کے آغاز میں ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جس کے دوران آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت کی اجازت دی گئی تھی۔

    تاہم آج ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ بند کر دیا ہے، اور ایرانی بحریہ کا کہنا ہے کہ یہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم نہیں کرتا۔

    اپنے تازہ بیان میں پاسدارانِ انقلاب بحریہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ٹرمپ کے بیانات ’کوئی حیثیت نہیں رکھتے‘۔

    یہ واضح نہیں کہ یہ بیان امریکی صدر کے کس مخصوص تبصرے کے حوالے سے دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے رہنما آبنائے کو بند کرنا چاہتے ہیں، لیکن امریکہ انھیں ’بلیک میل‘ نہیں کرنے دے گا۔

  19. بریکنگ, آبنائے ہرمز امریکی ناکہ بندی ختم ہونے تک بند رہے گی، قریب آنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا: ایرانی بحریہ کی تنبیہ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آج شام سے آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے اور یہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم نہیں کرتا۔

    بیان میں آئی آر جی سی بحریہ نے خبردار کیا ہے کہ ’کوئی بھی جہاز خلیج فارس یا بحیرہ عمان میں اپنے موجودہ مقام سے حرکت نہ کرے۔‘

    اس کے مطابق کچھ جہاز گذشتہ رات سے اس کی نگرانی میں آبنائے سے گزرے تھے، تاہم اب یہ آبی گزرگاہ دوبارہ تب تک کے لیے بند کر دی جائے گی جب تک امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر اپنی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کے قریب آنا دشمن سے تعاون سمجھا جائے گا، اور خلاف ورزی کرنے والے جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔‘

  20. ’ہمیں امید ہے کہ ہم واپس اپنے گھروں کو جا سکیں گے‘ کیپٹن رمن کپور

    کیپٹن رمن کپور جنگ کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز کے قریب ایک خام تیل بردار جہاز پر اپنے 23 رکنی عملے کے ساتھ پھنسے ہوئے ہیں۔

    انھوں نے بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام ویک اینڈ کو بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ان کے عملے نے ’ملے جلے جذبات‘ کا سامنا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں انھوں نے متعدد میزائل اور اپنے جہاز کے قریب ایک دھماکہ بھی دیکھا ہے۔

    تاہم انھوں نے مزید کہا کہ وہ صبر اور پیشہ ورانہ انداز میں انتظار کر رہے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں، ’ہم امید کرتے ہیں کہ ہم واپس اپنے گھروں کو جا سکیں گے۔‘