امریکی صدر کا ناکہ بندی کی ’خلاف ورزی‘ پر ایرانی کارگو جہازکو روکنے اور تحویل میں لینے کا دعویٰ، ناکہ بندی برقرار رہنے تک کشیدگی بڑھتی رہے گی: ایرانی سفیر

ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ایرانی پرچم والے ایک کارگو جہاز کو روک کر اسے تحویل میں لے لیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر نے امریکہ یا صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر ان کی ’سفارتکاری‘ پر شدید تنقید کی ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ان کی ٹیم پیر کی شام اسلام آباد پہنچ جائے گی۔
  • امریکی صدر کے مطابق ان کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق جے ڈی وینس بھی ان مذاکرات میں شامل ہوں گے
  • ابھی تک کسی بھی ایرانی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ آیا ایران مذاکرات کے نئے دور میں حصہ لے گا۔
  • پاسدران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم نیوز نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی جاری رہنے کے بعد ایران نے اتوار کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو آئل ٹینکرز کو واپس بھیج دیا۔
  • امریکہ کی مزید ایک ماہ کے لیے ممالک کو روسی تیل خریدنے کی اجازت

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ایران، امریکہ کے ساتھ مزید براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں، نائب وزیر خارجہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا ہے کہ ملک امریکہ کے ساتھ نئے دور کے آمنے سامنے مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے، کیونکہ ان کے بقول واشنگٹن اہم معاملات پر ’زیادہ سے زیادہ مطالبات‘ سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

    سعید خطیب زادہ نے کہا کہ تہران امریکہ کو افزودہ یورینیم دینے پر بھی تیار نہیں، اور اسے ’ناقابلِ قبول شرط‘ قرار دیا۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اس کے برعکس مؤقف اختیار کیا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ موجود ہے، تاہم ایران چاہتا ہے کہ براہِ راست مذاکرات سے پہلے ایک ’فریم ورک معاہدہ‘ طے پا جائے۔

    ان کے مطابق امریکہ کو ایران کے بنیادی خدشات کو سمجھنے اور انھیں حل کرنے کی ضرورت ہے، جن میں ایران پر عائد پابندیاں بھی شامل ہیں۔

    اس سے قبل آج ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ’بہت اچھی بات چیت جاری ہے۔‘

  2. آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت میں کمی آ رہی ہے

    MarineTraffic

    ،تصویر کا ذریعہMarineTraffic

    ہم نے آج صبح تقریباً 07:40 بی ایس ٹی (06:40 جی ایم ٹی) پر آپ کو یہ تصویر دکھائی تھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ آبنائے کھلی ہوئی ہے۔

    اس کے بعد ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے کہا ہے کہ وہ آبنائے پر دوبارہ پابندیاں عائد کریں گے۔

    اس کے بعد تقریباً 17:00 بی ایس ٹی پر جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ مرین ٹریفک نے یہی صورتحال دکھائی۔

  3. انڈیا: آبنائے ہرمز میں انڈین جہازوں پر فائرنگ کر کے رستہ تبدیل کرنے پر ایرانی سفیر کی طلبی

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈیا نے آبنائے ہرمز میں دو انڈین جہازوں پر فائرنگ کر کے دو جہازوں کا رخ تبدیل کرنے کے واقعے پر ایران سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    انڈین وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز انڈیا میں تعینات ایرانی سفیر محمد فتحلی کو طلب کیا اور ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے فائرنگ کے واقعے کے بعد آبنائے ہرمز میں انڈین کے پرچم والے دو بحری جہازوں کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے بعد سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔

    انڈین وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ وکرم مصری نے اس واقعے پر اپنی ’گہری تشویش‘ سے آگاہ کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین خارجہ سیکریٹری نے ملاقات کے دوران سمندری راستوں کی سلامتی اور جہازرانی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ماضی میں ایران نے انڈیا سے آنے والے جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے میں تعاون کیا تھا۔

    انڈیا نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ انڈیا کی جانب آنے والے جہازوں کی آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا رکاوٹ گزرگاہ کو دوبارہ یقینی بنائے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق، ایرانی سفیر نے انڈیا کے مؤقف کو تہران تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

  4. پاکستان کے آرمی چیف نے تہران آمد پر امریکہ کی جانب سے نئی تجاویز پیش کیں جن کا جائزہ لے رہے ہیں: سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل

    پاکستان کے آرمی چیف کی تہران آمد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے امریکہ کے ساتھ جنگ اورمذاکرات کے حوالے سے تازہ پیش رفت کے حوالے سے تازہ بیان جاری کیا ہے۔

    ایران کی پاسداران انقلاب سے منسلک خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کے آرمی چیف کی تہران آمد کے بعد امریکہ کی جانب سے نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں جنھیں ایران ابھی تک جانچ رہا ہے اور ان پر کوئی حتمی جواب نہیں دیا گیا۔

    بیان کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ ایران خود کو جنگ میں کامیاب سمجھتا ہے اور امریکہ کو اپنے مطالبات اس حقیقت کے مطابق تبدیل کرنے چاہئیں۔

    تسنیم کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ عارضی جنگ بندی قبول کرنے کی اس کی ایک اہم شرط یہ تھی کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پرجنگ بندی ہو۔ ایرانی مؤقف کے مطابق، اسرائیل نے ابتدا میں لبنان اور حزب اللہ پر حملے کر کے اس شرط کی خلاف ورزی کی لیکن ایران کے دباؤ کے بعد اسرائیل نے لبنان میں جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔

    ’جنگ کے مکمل خاتمے تک آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی نگرانی کی جائے گی‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر دشمن تمام محاذوں پر جنگ بندی کی پابندی کرے تو ایران آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر صرف تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے پر تیار ہے۔ یہ اجازت بھی ایران کی نگرانی، اس کے مقرر کردہ راستے اور صرف غیر فوجی جہازوں تک محدود ہوگی، جبکہ مخالف ممالک کے فوجی جہازوں کو اس سے استثنا حاصل نہیں ہوگا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے خطے میں موجود فوجی اڈوں کی زیادہ تر سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے اور یہ صورتحال ایران اور خلیج فارس کے لیے سکیورٹی خطرہ سمجھی جاتی ہے۔

    بیان کے مطابق دشمن کی ناکامی اور ایرانی عوام و مسلح افواج کی مزاحمت کے بعد جنگ کے دسویں دن سے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کی درخواستیں موصول ہونا شروع ہوئیں۔ یہ وہی جنگ تھی جس کا آغاز خود امریکہ نے کیا تھا۔

    بیان میں ایرانی عوام اور مسلح افواج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذاکراتی ٹیم خدا پر بھروسے اور عوامی حمایت کے ساتھ سیاسی میدان میں داخل ہوئی ہے تاکہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔

    بیان کے مطابق، ایرانی وفد کسی قسم کی رعایت، پسپائی یا نرمی اختیار نہیں کرے گا اور پوری قوت کے ساتھ ایران کے مفادات، قومی عزت اور جنگ میں دی گئی قربانیوں کا دفاع کرے گا۔

    آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی نگرانی

    ،تصویر کا ذریعہMarineTraffic

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر مخالف فریق جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈالے یا بحری محاصرہ جیسی کارروائیاں کرے تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا، اور اس صورت میں آبنائے ہرمز کی مشروط اور محدود گشائش روک دی جائے گی۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سیاسی میدان میں مضبوط بنانے کے لیے عوام کی مسلسل موجودگی اور قومی اتحاد کا برقرار رہنا ضروری ہے۔ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹریٹ نے رہبرِ انقلاب کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکام، میڈیا اور سیاسی و سماجی کارکنوں کو اس اتحاد کے تحفظ میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

  5. ایران کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ امریکہ کو بلیک میل کرے: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ’بہت اچھی بات چیت‘ جاری ہے تاہم امریکہ ایران کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر بلیک میل نہیں کرنے دے گا۔

    اوول آفس میں ایک مختصر گفتگو کے دوران انھوں نے ایران کے رویے کو 47 برسوں سے جاری ایک پرانی عادت قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایرانی رہنما آبنائے ہرمز کو بند کرنا چاہتے ہیں، لیکن امریکہ انھیں اجازت نہیں دے گا کہ وہ ’ہمیں بلیک میل‘ کریں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔

  6. آئی آر جی سی کی پابندی کے بعد دو جہاز آبنائے ہرمز سے واپس مڑ گئے: بی بی سی ویریفائی

    بی بی سی ویریفائی کی ایک نئی تحقیق کے مطابق آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے اعلان کے بعد بھی کچھ جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا ہے۔

    انڈین کے پرچم بردار دو جہازوں کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی جانب سے آبنائے ہرمز میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر واپس پلٹنا پڑا۔

    میرین ٹریفک کے ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ کارگو شپ جیگ آرنیو اور آئل ٹینکرسنمار ہیرالڈ نامی دونوں جہاز لارک جزیرے کے قریب پہنچ کر آہستہ ہوئے اور پھر طے شدہ راستے سے واپس مڑ گئے۔

    سنمار ہیرالڈ کے ریکارڈ کے مطابق ٹینکر تیل سے لدا ہوا ہے اور غالبا اس کا تعلق عراق سے ہے۔

    یہ ابھی واضح نہیں کہ سنمار ہیرالڈ وہی ٹینکر ہے جس پر یو کے ایم ٹی او کی رپورٹ کے مطابق فائرنگ کی گئی تھی۔

  7. ایرانی بحریہ دشمنوں کو ’نئی شکستوں کا مزا چکھانے‘ کے لیے تیار ہے: مجتبیٰ خامنہ ای کا تحریری پیغام, غنچے حبیبی ذاد، بی بی سی فارسی

    مجتبی خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنآرمی ڈے کے موقع پر جاری پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ آج ان کے والد علی خامنہ ای کا یوم پیدائش بھی ہے

    ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا ایک تازہ ترین تحریری پیغام آج ایرانی میڈیا نے شائع کیا ہے۔

    ایران میں آرمی ڈے کے موقع پر جاری اس پیغام میں ان دو موضوعات کا کوئی واضح ذکر نہیں کیا گیا جن پر حالیہ دنوں میں ایرانی حکام بات کرتے رہے ہیں یعنی آبنائے ہرمز اور ایران اور امریکہ مذاکرات۔

    پیغام کے ایک حصے میں ’دشمنوں‘ کو خبردار کیا گیا ہے کہ ایرانی بحریہ انھیں ’نئی شکستوں کا مزا چکھانے‘ کے لیے تیار ہے تاہم اس بارے میں مزید وضاحت نہیں کی گئی۔

    یاد رہے کہ ایران میں 1979 کے انقلاب کے بعد سے اس دن کو آرمی ڈے کا نام دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ پہلے پیغام کی مانند یہ بھی مجتبیٰ خامنہ ای کا ایک تحریری پیغام تھا۔ وہ مارچ کے اوائل میں سپریم لیڈر بننے کے بعد سے عوام میں نظر نہیں آئے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں ایرانی فوج کو ’اسلام کی فوج‘ کہا اور یہ بھی کہا کہ یہ فوج ’پچھلی دو مسلط کردہ جنگوں کی طرح اب بھی اپنی زمین، پانی اور جھنڈے کا بہادری سے دفاع کر رہی ہے۔‘

    اس پیغام میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ آج ان کے والد علی خامنہ ای کا یوم پیدائش بھی ہے۔

  8. ایرانی ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک 23 جہاز واپس موڑے گئے: سینٹکام

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ناکہ بندی کے بعد 23 جہازوں کو واپس جانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں سینٹ کام نہ کہا کہ امریکی فورسز کی جانب سے 13 اپریل کو شروع ہونے والی ناکہ بندی اب بھی نافذ العمل ہے۔

    دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ جاری ناکہ بندی کے جواب میں آبنائے کو دوبارہ بند کر چکا ہے۔

  9. آبنائے ہرمز بند ہے: جہازوں کو ایرانی بحریہ کی جانب سے ریڈیو پیغام موصول

    خبر رساں ادارے روئٹرز کو جہاز رانی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ بعض تجارتی جہازوں کو ایرانی بحریہ کی جانب سے ایک ریڈیو پیغام موصول ہوا ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی گئی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق زرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ نے ٹینکرزکو بتایا ہے کہ کسی بھی جہاز کو آبنائے سے گزرنے کی اجازت نہیں۔

    یاد رہے کچھ دیر قبل آبنائے میں آئی آر جی سی کی گن بوٹس کی جانب سے ایک ٹینکر پر فائرنگ کی رپورٹس بھی موصول ہوئی تھیں۔

  10. ’میرا نہیں خیال کہ پیر کو مذاکرات ہو رہے ہیں‘: ایرانی سفارتی ذرائع کی بی بی سی سے گفتگو, روحان احمد، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    ایسے وقت میں جب اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی تاریخ پر قیاس آرائیاں چل رہی ہیں، ایک ایرانی سفارتی ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ ’میرا نہیں خیال کہ پیر کو مذاکرات ہو رہے ہیں۔‘

    اس سے قبل یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ شاید پیر کو مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان کے دارالحکومت میں ہوگا۔

    اس قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ تاہم ایرانی میڈیا پر شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق دونوں ممالک میں اب بھی کچھ معاملات پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

    جب ایرانی سفارتی ذرائع سے پوچھا گیا کہ مذاکرات کا اگلا دور کب ہونا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی تک تاریخ کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔‘

  11. بریکنگ, پاسداران انقلاب کی کشتیوں نے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا: یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشن

    آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کی اطلاع

    ،تصویر کا ذریعہUKMTO

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی دو کشتیوں کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ادارے کے مطابق یہ واقعہ عمان سے تقریباً 32 کلومیٹر شمال مشرق میں پیش آیا تاہم اس واقعے کے بعد ٹینکر اور اس کا عملہ محفوظ ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے تین ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ کم از کم دو تجارتی جہازوں پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ آبنائے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

  12. ایران ابھی تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور پر رضامند نہیں ہوا: ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کا دعویٰ

    ایران کے نیم سرکاری میڈیا تسنیم کا دعویٰ ہے کہ ایران ابھی تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور پر رضامند نہیں ہوا۔

    خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مطالبات میں باربار د و بدل نہ کرنا ہی ان مذاکرات کو جاری رکھنے کی اہم شرط ہو گی۔‘

    ادارے کے مطابق یہ مسئلہ ایک پاکستانی ثالث کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچایا گیا ہے۔

  13. لبنان میں جنگ بندی برقرار، سوشل میڈیا پر ’زبانی حملوں‘ کا شور, نک بیک، بی بی سی نیوز

    سوشل میڈیا پر نظر ڈالیں تو وہاں صدر ٹرمپ اور ایرانیوں کا ایک دوسرے پر زبانی حملوں کا شور سنائی دے گا۔

    لیکن فی الحال اہم بات یہ ہے کہ کہیں بھی جنگ اور حملوں کی آواز نہیں آ رہی۔

    یہ واضح ہے کہ اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان لبنان میں ہونے والی جنگ بندی نے کسی نہ کسی رکاوٹ کو توڑ ضرور دیا ہے، چاہے آبنائے ہرمز نہ بھی کھلی ہو۔

    تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کا ایران کا ابتدائی وعدہ لبنان میں جنگ بندی طے پانے کے فوراً بعد سامنے آیا۔

    گو کہ صدر ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ لبنان میں جنگ بندی کا ان کی ایران کے ساتھ وسیع تر بات چیت سے کوئی تعلق نہیں۔

    لبنانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود جنوبی علاقے میں اسرائیلی حملے میں ایک موٹر سائئکل سوار ہلاک ہوا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے جاری کردہ جنگ بندی کی شرائط کے مطابق اسرائیل کو جارحانہ فوجی کارروائی نہیں کرنی چاہیے، لیکن اسے ’کسی بھی وقت‘ منصوبہ بندی یا اچانک کیے جانے والے حملوں کے خلاف جواب دینے کا حق حاصل ہے۔

    لیکن اب تک لبنان میں جنگ بندی برقرار دکھائی دیتی ہے۔ اور یہ وسیع تر کوششوں میں مدد ہی دے سکتی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ ہو، چاہے حقیقت میں کوئی سمجھوتہ صدر ٹرمپ کے دعووں سے کہیں زیادہ دور ہو۔

  14. ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ وہ چند دنوں میں ایران سے کوئی معاہدہ کر سکتے ہیں, لیز ڈوسیٹ، نامہ نگار برائے عالمی اُمور

    trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty

    امریکی صدر ٹرمپ مختصر، تیز اور کامیاب معاہدوں کو پسند کرتے ہیں۔

    وہ بظاہر یہ سمجھتے ہیں کہ تہران کے ساتھ بھی 47 برس کی دشمنی کے باوجود وہ چند دنوں میں کوئی معاہدہ کر سکتے ہیں۔

    لیکن ایران کے لیے یہ سب چھوٹی بات نہیں بلکہ بہت بڑے اقدامات ہیں اور انھیں طے کرنے میں وقت، سیاسی عزم اور سمجھوتوں کی ضرورت ہوگی۔

    امید کی ایک کرن یہ ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ایک مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت ہو رہی ہے، جو مزید بات چیت کی راہ ہموار کرے گی۔ یہ کوئی بڑا معاہدہ نہیں ہوگا لیکن یہ ایک اہم قدم ضرور ہوگا۔

  15. بریکنگ, ایران کی فوج نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنا شروع کر دیا: ایرانی سرکاری میڈیا

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی سرکاری میڈیا نے خبر دی ہے کہ ایرانی فوج آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول دوبارہ سنبھال رہی ہے۔

    ایران کی فارس نیوز ایجنسی، ایرانی سٹوڈنٹس نیوز ایجنسی اور سرکاری نشریاتی ادارہ آئی آر آئی بی نے پاسداران انقلاب کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو اس کی اصل حالت میں واپس لایا جائے گا، جہاں مسلح افواج اس علاقے پر کنٹرول رکھیں گی۔

    اس سے قبل کچھ بحری جہازوں کو اس آبی راستے سے گزرتے دیکھا گیا تھا تاہم یہ واضح نہیں کہ اس اہم تجارتی راستے سے پابندی ہٹائے جانے کے بعد کتنی بحری آمدورفت ہوئی ہے۔

    ایران کی فوج کے بیان میں امریکہ پر ’بحری قذاقی‘ کا الزام لگایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کی ’نام نہاد ناکہ بندی‘ سمندری امور پر ڈاکہ ڈالنے‘ کے مترادف ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق جنگی کارروائیوں کے ادارے خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ’پچھلے معاہدوں اور نیک نیتی پر مبنی نقطہ نظر کے ساتھ‘ آبنائے ہرمز کے ذریعے کچھ آئل ٹینکروں اور تجارتی جہازوں کو محدود اور منظم طریقے سے گزرنے کی اجازت دی تھی۔

    خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ مسلسل ناکہ بندی اور غیر قانونی امریکی بحری کارروائیوں نے صورت حال کو تبدیل کر دیا ہے اور جب تک ایران اور ایران سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کی آزادی پر پابندیاں ختم نہیں ہو جاتیں، آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول اور نگرانی جاری رہے گی۔

    یاد رہے کہ ایران نے اس سے قبل کہا تھا کہ اگر امریکہ نے اس کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھی تو وہ آبنائے کو بند کر دے گا۔

  16. آبنائے ہرمز کو جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر بحال کیا جائے: نواف الثانی

    قطر کے دفاعی انٹیلی جنس آپریشنز کے سابق ڈائریکٹر نواف الثانی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ممکنہ طور پر دوبارہ کھلنے کا معاملہ ’کسی پیش رفت کا سا احساس ضرور دیتا ہے‘، تاہم وہ اس بات پر یقین سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ اسے حقیقی پیش رفت قرار دیا جائے۔

    انھوں نے بی بی سی کے پروگرام ٹُوڈے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک اس حوالے سے بالکل واضح رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی آزادی برقرار رہنی چاہیے۔

    نواف الثانی کے مطابق صورتِ حال کو جنگ شروع ہونے سے پہلے کی حالت کی طرف واپس آنا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خلیج کے بہت سے ممالک جنگ بندی کا خیرمقدم کریں گے، تاہم اب تک امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں خلیجی ممالک کو شامل نہیں کیا گیا۔

  17. وزیرِ اعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کر کے وطن روانہ

    Shebaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکی پر مشتمل اپنا سہ ملکی دورہ مکمل کر کے پاکستان روانہ ہو گئے ہیں۔

    وزیرِ اعظم کو انطالیہ ایئرپورٹ پر ترکی کی وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل سفیر تولگا برمیک، سفیر نیلوفر کایگسز، ترکی کی پارلیمنٹ کے رکن برہان قایاترک اور ترکی میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے الوداع کیا۔

    وزیرِ اعظم کا یہ دورہ تین روز پر مشتمل تھا، جس کے دوران انھوں نے سعودی عرب، قطر اور ترکی کی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ اس کے علاوہ وہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک ہوئے جہاں مختلف عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

    وززیر اعظم ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دوروں کے دوران وزیرِ اعظم نے برادر ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں اور خطے و عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔‘

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    وزیرِ اعظم کے ہمراہ پاکستانی وفد میں دیگر حکام کے علاوہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار بھی شامل تھے، جنھوں نے ایکس پر اس دورے سے متعلق تبصرہ بھی کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے سعودی عرب اور قطر کے کامیاب اور مفید دوروں کے بعد اپنے سفارتی مصروفیات کے آخری مرحلے کو بھی مکمل کر لیا ہے، جہاں وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ہمراہ اہم دو طرفہ ملاقاتیں کی گئیں جن کا مقصد مختلف کلیدی شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا۔‘

    اسحاق ڈار کے مطابق انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ بھی نہایت مثبت ملاقات ہوئی، جبکہ فورم کے موقع پر دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی بامعنی بات چیت کی گئی۔

    اسحاق ڈار نے لکھا کہ ’اس دوران میں نے خود بھی متعدد اہم ملاقاتیں اور تبادلۂ خیال کیے‘۔

    ان کی رائے میں یہ فورم اب ایک عالمی مکالماتی پلیٹ فارم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جہاں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے مختلف نقطۂ نظر سامنے آتے ہیں۔

  18. یہ دنیا کے لیے ایک عظیم اور شاندار دن ہے: ٹرمپ, پیٹر بوز، بی بی سی نیوز کے نامہ نگار

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے اعلان کے بعد یہ ’دنیا کے لیے ایک عظیم اور شاندار دن‘ ہے۔

    تاہم انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی اُس وقت تک ’مکمل طور پر جاری رہے گی‘ جب تک جنگ کے خاتمے سے متعلق ’معاہدہ‘ سو فیصد مکمل نہیں ہو جاتا۔

    ٹرمپ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اگر بدھ تک جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی طویل المدتی معاہدہ طے نہ پایا تو وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم کر سکتے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف، جو گذشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے بالمشافہ مذاکرات کا حصہ تھے، نے کہا ’ناکہ بندی کے تسلسل کی صورت میں آبنائے ہرمز کھلی نہیں رہے گی۔‘

    ادھر تہران نے صدر ٹرمپ کے اس دعوے کی بھی تردید کی ہے کہ ایران افزودہ یورینیم کے اپنے ذخیرے کی بازیابی اور اسے امریکہ بھیجنے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ کام کرے گا۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر ’مذاکرات میں کبھی کوئی بات نہیں ہوئی۔‘

  19. آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت جاری

    شپنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت جاری ہے۔ جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق آبنائے ہرمز سے بحری جہاز معمول کے مطابق گزر رہے ہیں۔

    سائٹ کے مطابق کئی جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، جن میں تیل، مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور کیمیکلز کی ترسیل کے لیے مخصوص جہاز بھی شامل ہیں۔

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہMarineTraffic

  20. فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تین روزہ دورہ ایران مکمل، تصفیہ طلب مسائل کے پرامن حل پر زور

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کا تین روزہ دورہ مکمل کر لیا ہے۔

    پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دورے کے دوران فیلڈ مارشل نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹرز کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

    بیان کے مطابق بات چیت میں خطے میں پائیدار امن لانے پر توجہ مرکوز کی گئی، خاص طور پر ابھرتے ہوئے علاقائی سلامتی کے ماحول، جاری سفارتی مصروفیات اور خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے تعاون پر مبنی اقدامات پر زور دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے مستقل سفارتی مصروفیات کے ذریعے بات چیت، کشیدگی میں کمی اور تصفیہ طلب مسائل کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔