جی سیون ممالک تیل کے ’سٹریٹجک ذخائر‘ جاری کرنے پر متفق: کیا اس سے تیل کی قیمتوں میں کمی ممکن ہے؟, سائمن جیک، بزنس ایڈِٹر

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایران جنگ کی وجہ سے تیل قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ جاری ہے ایسے میں جی سیون (G7) ممالک نے کہا ہے کہ وہ تیل کے ’سٹریٹجک ریزرو (ذخائر)‘ کو جاری کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔
لیکن برطانیہ کا سٹریٹجک تیل کا ذخیرہ کہاں ہے اور اسے جاری کرنے سے کیا فرق پڑے گا؟
انٹرنیشنل انرجی ایسوسی ایشن (آئی ای اے) کے تمام ممبر ممالک پر لازم ہے کہ وہ کسی بھی عالمی ہنگامی صورتحال کے لیے تیل کے ذخائر محفوظ رکھیں۔ یہ تقریباً 90 دن کی سپلائی جتنا ذخیرہ ہوتا ہے۔
لیکن یہ تیل کسی ایک جغرافیائی مقام پر محفوظ نہیں کیا جاتا۔ شیل اور برٹش پیٹرولیم جیسی تیل پیدا کرنے والی کمپنیاں برطانیہ کے آس پاس موجود ٹرمینلز اور ریفائنریوں میں سٹاک رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اس مقصد کے لیے تیل کہیں اور بھی رکھ سکتے ہیں۔
جب یہ ریزرو جاری کیا جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اچانک مارکیٹ میں بڑی مقدار میں تیل آ جائے گا، بلکہ تیل پیدا کرنے والی کمپنیاں ریفائنریوں کے لیے مارکیٹ میں مزید تیل دستیاب کر دیتی ہیں تاکہ وہ آرڈر دے سکیں۔
تاہم، تجزیہ کاروں کہنا ہے کہ ’سٹریٹیجک ذخائر‘ کوئی جادو نہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ریفائننگ کی صلاحیت کی کمی کو دیکھتے ہوئے، اس ذخیرے کے جاری کیے جانے سے پیٹرول اور جیٹ فیول جیسی پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل میں فوری اضافہ مشکل ہے۔
اور اس 1.2 ارب بیرل ذخیرے کے ساتھ آپ بار بار لاکھوں بیرل تیل جاری کرنے کا قدم نہیں اٹھا سکتے۔
یہ کہنا کہ آپ اسے جاری کرنے کے لیے ’تیار ہیں‘ یا ’اصولی طور پر اس سے متفق‘ ہیں، مارکیٹوں کو اعتماد دینے کا ایک طریقہ ہے کہ حکومتیں خطرات کو سمجھتی ہیں اور ان کے سدباب کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔
مختصراً کہا جائے تو اس سے تیل کی قیمتوں میں کمی نہیں ہو گی لیکن یہ ان میں مزید اضافے کو ضرور روکا جا سکتا ہے۔


















