متحدہ عرب امارات کو دفاع کا حق حاصل ہے، امریکہ کو ایران پر حملے کے لیے فضائی و علاقائی حدود نہیں استعمال کرنے دیں گے: اماراتی وزیر

متحدہ عرب امارات کی وزیرِ مملکت لانا نسیبہ نے خطے کے ممالک پر ایران کے ’ گھناؤنے، غیرقانونی اور بلا اشتعال حملوں‘ کی مذمت کی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ صورتحال صرف حملوں کی شدت کے باعث ہی حیران کن نہیں، بلکہ اس لیے بھی ہے کہ ایران نے اس تنازع میں پورے خطے کو گھسیٹ لیا ہے۔

خلاصہ

  • ایرانی نائب وزیرِ خارجہ ماجد تخت روانچی نے ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی تردید کی ہے۔
  • وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے کے دوران شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے جس میں خطے میں جاری کشیدگی اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوگا۔
  • ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے سفر اور سیاحت کے شعبے کو یومیہ کم از کم 600 ملین ڈالر (448 ملین پاؤنڈ) کا نقصان
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق ’جنگ ختم کرنے کا واحد راستہ ایران کے حقوق کو تسلیم کرنا، معاوضے کی ادائیگی اور بین الاقوامی ضمانتیں ہیں۔‘

لائیو کوریج

  1. عراق میں دو آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا، ایک شخص ہلاک: حکام

    عمان کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایک تھائی جہاز پر حملے کے بعد 20 ملاحوں کو بچایا تھا

    ،تصویر کا ذریعہRoyal Thai Navy

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو: عمان کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایک تھائی جہاز پر حملے کے بعد 20 ملاحوں کو بچایا تھا

    عراقی حکام نے کہا ہے کہ بصرہ کی بندرگاہ کے قریب خلیج فارس میں دو غیر ملکی تیل بردار جہازوں پر دھماکوں کے بعد ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔

    عراقی جنرل کمپنی برائے بندرگاہ کے سربراہ کی جانب سے جاری بیانات میں کہا ہے کہ عراقی ایندھن لے جانے والے دو غیر ملکی ٹینکروں پر نامعلوم حملہ آوروں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔

    حکام کے مطابق عملے کے 38 ارکان کو بچا لیا گیا جبکہ ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

    جہازوں کی نقل و حرکت دکھانے والی ویب سائٹس کے مطابق دونوں جہازوں کے اردگرد ریسکیو کشتیاں موجود ہیں۔ فی الحال دھماکوں کی وجوہات واضح نہیں۔

    بصرہ میں ایک سکیورٹی ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ ممکنہ طور پر دھماکہ خیز مواد سے لیس ایک ایرانی کشتی نے جہازوں کو نشانہ بنایا ے تاہم تحقیقات جاری ہیں۔

    دوسری جانب برطانیہ کے سمندری مانیٹر نے بھی اسی نوعیت کی اطلاعات موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ عراق کی سٹیٹ آئل مارکیٹنگ آرگنائزیشن نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عراقی حکام کے مطابق حملے کے بعد تیل کی بندرگاہوں پر آپریشن روک دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل عمان کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایک تھائی جہاز پر حملے کے بعد 20 ملاحوں کو بچایا تھا۔ یہ واقعہ عمانی ساحل سے تقریباً 24 کلومیٹر دور پیش آیا، جس کی تصدیق ملک کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے کی گئی۔

  2. سعودی وزارت دفاع کا 18 ڈرونز کو روکنے کا دعویٰ

    سعودی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں ملک کے مشرقی علاقے میں 18 ڈرونز کو روکنے اور تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    سعودی پریس ایجنسی کے مطابق حالیہ دنوں میں ان میں سے متعدد ڈرونز کو تباہ کیا گیا تاہم اس بیان میں یہ واضح نہیں کہ ڈرونز کس کی جانب سے داغے گئے۔

    سعودی وزارت دفاع نے اپنے علیحدہ بیان میں اعلان کیا کہ شیبہ آئل فیلڈ کی طرف جانے والے ایک ڈرون کا راستہ بھی روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔

  3. سلامتی کونسل میں خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملوں کو روکنے کے مطالبے کی 135 ممالک حمایت،, نادا توکف، بی بی سی نیوز ، نیویارک

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں خلیجی ممالک کے اس مسودے کو قرارداد کے لیے تاریخ میں سب سے زیادہ حمایت ملی ہے جس میں انھوں نے ایرانی حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس قرارداد کی 135 ممالک نے تائید کی تاہم روس اور چین نے اس میں حصہ نہیں لیا۔

    دوسری جانب ایران نے خلیجی مسودے کی حمایت کرنے والے ممالک پر الزام لگایا کہ انھوں نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحفظ پر سیاسی مفادات کو ترجیح دی ہے۔ ایران نے اسے کونسل کے ریکارڈ پر ایک داغ قرار دیا ہے۔

    قرارداد کو پیش کرتے ہوئے بحرین نے موقف اختیار کیا کہ یہ صرف علاقائی معاملہ نہیں بلکہ عالمی استحکام اور توانائی کی سلامتی کے لیے خلیج کی اہمیت کا اعتراف ہے۔

    امریکی مندوب نے اس موقع پر کہا کہ ایران کی حکمتِ عملی، جس میں وہ انتشار پھیلاتا اور پڑوسیوں کو یرغمال بناتا ہے، واضح طور پر ناکام ہو گئی ہے۔

    تاہم روس اور چین نے ووٹ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان کے مطابق قرارداد تنازع کے بنیادی اسباب اور مجموعی تصویر کو متوازن انداز میں پیش نہیں کر رہی۔

    اس قرارداد کے متن میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملوں کا ذکر نہیں تھا، جنھیں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    روس نے خلیجی ممالک کے اس دعوے پر بھی شکوک ظاہر کیے کہ ان کی زمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہو رہی۔ بحرین نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک کبھی بھی حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوئے۔

    ماسکو کے متبادل مسودے میں تمام فریقوں سے لڑائی روکنے کی اپیل کی گئی تھی تاہم یہ مسودہ مطلوبہ ووٹ حاصل نہ کر سکا۔

  4. حزب اللہ کے حملوں کے بعد بیروت پر اسرائیل کے جوابی وار اور سیاہ دھویں کے پس منظر میں نارنجی آسمان, سمانتھا گرینوائل، بی بی سی نیوز، بیروت

    لبنان میں حملے

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    بیروت کے جنوبی نواحی علاقوں پر رات گئے حملے کیے جانے کے بعد آسمان نارنجی روشنیوں اور دھوئیں سے بھر گیا ہے۔

    جنگ کے آغاز کے بعد بیروت کی یہ سب سے زیادہ بے چین رات تھی جب ہر جانب دھماکوں کی آوازیں تھیں۔

    سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تصاویر گردش کر رہی ہیں جن میں نارنجی شعلوں لی لپک رات کے وقت آسمان کو روشن کرتی دکھائی دیتی ہیں جبکہ گاڑھا سیاہ دھواں شہر پر چھا گیا ہے۔

    یہ غروبِ آفتاب نہیں بلکہ اسرائیلی فضائی حملے ہیں جن میں بیروت کے جنوبی نواحی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    لبنان پر حملے

    ،تصویر کا ذریعہAdri Salido/Getty Images

    ہمارا بی بی سی کا عملہ رات کے وقت کھانا کھا رہا تھا جب فون مسلسل بجنے لگے۔ پہلے حزب اللہ نے اسرائیل کی جانب درجنوں راکٹ داغے۔ چند منٹ بعد اسرائیل نے جنوبی نواحی علاقوں کے لیے انخلا کے احکامات جاری کیے۔

    گھر واپسی پر سڑکیں تقریباً سنسان تھیں۔ چند گاڑیاں اور بہت کم لوگ نظر آئے۔ سب کو پہلے ہی معلوم تھا کہ اگلا منظر دھماکوں کی آوازوں سے بھرا ہوگا۔

  5. اہم خبروں کا خلاصہ

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے بی بی سی کا لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے۔

    خبروں کے سلسلے کو آگے بڑھانے سے پہلے ہم اب تک اہم خبروں کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں۔

    ایران میں آپریشن تیل کی قیمتیں کم کر دے گا، ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے چند ہی گھنٹوں میں ایران کی بحری اور فضائی افواج کو تباہ کر دیا۔ صدر نے اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا ’ہم جیت گئے۔ پہلے گھنٹے میں سب ختم ہو گیا۔‘

    حزب اللہ کے راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیل کا بیروت میں بڑے پیمانے پر حملے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے بیروت کے علاقے ضاحیہ میں حزب اللہ پر بڑے پیمانے پر حملوں کی لہر شروع کر دی ہے۔ فوج نے مزید کہا کہ حزب الہہ کے حملوں کو روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    جنگ ختم کرنے کا واحد راستہ ایران کے حقوق کو تسلیم کرنا، معاوضے کی ادائیگی اور بین الاقوامی ضمانتیں ہیں: مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ روس اور پاکستان کے رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے میں نے خطے میں ایران کے امن کے عزم کو دہرایا ہے۔انھوں نے ایکس پر لکھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی شروع کردہ اس جنگ کو ختم کرنے کا واحد طریقہ، ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کرنا، معاوضے کی ادائیگی اور مستقبل کی جارحیت کے خلاف مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں ہیں

    فضائی دفاعی نظام ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہے ہیں: یو اے ای کی وزارت دفاع

    متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی نظام ایران سے آنے والے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہے ہیں۔وزارت دفاع کے مطابق، امارات میں سنی جانے والی آوازیں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائل اور ڈرون کو مار گرانے کی کارروائیوں کی وجہ سے ہیں۔

    ’ایران میں کارروائی ختم نہیں ہوئی، ہم پہلے سے زیادہ برا کر سکتے ہیں‘: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں نے پوچھا کہ ایران کی جنگ کیسے ختم ہوگی، اس کے بارے میں ان کا جواب تھا:’مزید وہی کچھ، اور دیکھیں گے اس سب کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کی منظوری دے دی

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث ہونے والی تیل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے آئی ای اے نے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے

    نئی سیٹلائٹ تصاویر میں اصفہان کے فوجی اڈے پر طیاروں کو نقصان پہنچنے کی تصدیق

    بی بی سی ویریفائی نے وسطی ایران میں اصفہان شہر کے قریب ایک فوجی اڈے کی کچھ تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیا ہے اور ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس فوجی اڈے پر کم از کم 13 طیاروں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

    قطر کا میزائل حملہ ناکام بنانے اور عمان کا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    قطر کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے ’میزائل حملہ‘ ناکام بنا دیا ہے۔ وزارتِ دفاع کا یہ بیان دوحہ میں زوردار آوازیں سنے جانے کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے۔

  6. ایران میں آپریشن تیل کی قیمتیں کم کر دے گا، ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے چند ہی گھنٹوں میں ایران کی بحری اور فضائی افواج کو تباہ کر دیا۔

    صدر نے اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا ’ہم جیت گئے۔ پہلے گھنٹے میں سب ختم ہو گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے دو دن میں ایران کے 54 جہاز ’تباہ‘ کر دیے، پھر کچھ ہی لمحوں بعد یہ تعداد 58 بتائی۔

    بی بی سی نے ابھی تک اس تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کی ہے۔

    صدر نے مزید کہا کہ آپریشن ایپک فیوری تیل کی قیمتوں کو ’بہت حد تک کم‘ کرے گا اور دنیا کے لیے خطرے کو کم کرے گا۔

    انھوں نے کہا، ’ہماری فوج نے ایران کو عملی طور پر تباہ کر دیا ہے۔‘

  7. حزب اللہ کے راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیل کا بیروت میں بڑے پیمانے پر حملے کا دعویٰ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے بیروت کے علاقے ضاحیہ میں حزب اللہ پر بڑے پیمانے پر حملوں کی لہر شروع کر دی ہے۔ فوج نے مزید کہا کہ حزب الہہ کے حملوں کو روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    ترجمان اویخائے ادرعی نے انتباہ کیا ہے کہ لبنان کے دارالحکومت کے جنوبی نواحی علاقوں کے رہائشی فوراً انخلا کریں۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ حزب اللہ نے اسرائیل کے متعدد علاقوں پر راکٹ داغے ہیں۔

    ایک الگ بیان میں اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اور حزب اللہ اسرائیل کے شمال کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ’روزانہ گھروں، گلیوں، سکولوں اور خاندانوں پر میزائل برس رہے ہیں۔‘

  8. حزب اللہ نے جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیل پر سب سے بڑے حملے میں تقریباً 100 راکٹ داغے ہیں

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بی بی سی عربی سروس کے مطابق حزب اللہ نے جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیل پر سب سے بڑے حملے میں ایک ساتھ تقریباً 100 راکٹ فائر کیے اور ’آپریشن العصف المأکول‘ کے آغاز کا اعلان کیا۔

    رؤئٹرز کے مطابق، ایک سینئر اسرائیلی دفاعی اہلکار نے بتایا کہ حزب اللہ اور ایران نے شمالی اسرائیل پر مشترکہ میزائل حملہ کیا ہے۔

  9. مسعود پزشکیان: جنگ ختم کرنے کا واحد راستہ ایران کے حقوق کو تسلیم کرنا، معاوضے کی ادائیگی اور بین الاقوامی ضمانتیں ہیں

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ روس اور پاکستان کے رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے میں نے خطے میں ایران کے امن کے عزم کو دہرایا ہے۔

    انھوں نے ایکس پر لکھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی شروع کردہ اس جنگ کو ختم کرنے کا واحد طریقہ، ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کرنا، معاوضے کی ادائیگی اور مستقبل کی جارحیت کے خلاف مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں ہیں۔

  10. بریکنگ, فضائی دفاعی نظام ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہے ہیں: یو اے ای کی وزارت دفاع

    متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی نظام ایران سے آنے والے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہے ہیں۔

    وزارت دفاع کے مطابق، امارات میں سنی جانے والی آوازیں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائل اور ڈرون کو مار گرانے کی کارروائیوں کی وجہ سے ہیں۔

  11. ابتدائی میزائل حملے دشمن کے ریڈار اور دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے کے لیے تھے، اب ایران اپنی پسند کے کسی بھی مقام کو نشانہ بنا سکتا ہے: محمد باقر قالیباف

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کے ان دعوؤں کو رد کر دیا ہے کہ اس نے ایران کی میزائل صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے۔

    محمد باقر قالیباف نے ایکس پر لکھا کہ بڑے پیمانے پر کیے گئے میزائل حملوں کی ابتدائی لہریں دشمن کے ریڈار اور دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے کے لیے تھیں۔ اب ایران کم تعداد میں میزائل استعمال کرتے ہوئے اپنی پسند کے کسی بھی مقام کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

    اب سے کچھ دیر قبل صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی بحریہ نہیں رہی، ان کی فضائیہ ختم ہو گئی ہے، ان کے پاس کوئی اینٹی ایئر کرافٹ نظام نہیں، کوئی ریڈار نہیں۔ ان کی قیادت ختم ہو گئی۔ اور ہم پہلے سے زیادہ برا کر سکتے ہیں۔‘

  12. ٹرمپ: ’ایران میں کارروائی ختم نہیں ہوئی، ہم پہلے سے زیادہ برا کر سکتے ہیں‘

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں نے پوچھا کہ ایران کی جنگ کیسے ختم ہوگی، اس کے بارے میں ان کا جواب تھا:

    ’مزید وہی کچھ، اور دیکھیں گے اس سب کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔‘

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ نہیں رہی، ان کی فضائیہ ختم ہو گئی ہے، ان کے پاس کوئی اینٹی ایئر کرافٹ نظام نہیں، کوئی ریڈار نہیں۔ ان کی قیادت ختم ہو گئی۔ اور ہم پہلے سے زیادہ برا کر سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران کو ’تقریباً تاریخ کے کسی بھی ملک سے زیادہ سختی سے نشانہ بنایا ہے‘ تاہم اس کے ساتھ ہی انھوں نے زور دیا، ’ہم نے ابھی اپنی کارروائی ختم نہیں کی۔‘

  13. کویت میں امریکی فوجیوں پر حملہ ابتدائی رپورٹوں سے زیادہ تباہ کن تھا: سی بی ایس نیوز

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    متعدد ذرائع نے بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ کویت میں چھ امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے والا ڈرون حملہ پہلے کی اطلاع سے کہیں زیادہ شدید تھا۔

    سی بی ایس نیوز کے مطابق یکم مارچ کو ہونے والے اس حملے میں 30 سے زیادہ امریکی فوجی زخمی ہوئے، جنھیں منگل کی شام ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں درجنوں افراد دماغی چوٹوں، چھریوں کے زخموں اور جھلسنے کا شکار ہوئے۔

    رپورٹ کے بارے میں پوچھے جانے پر پینٹاگون نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران میں تنازع کے آغاز سے اب تک تقریباً 140 فوجی زخمی اور آٹھ ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم بیان میں زخمیوں کی نوعیت یا ان کی وجوہات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    پینٹاگون کے ترجمان نے کہا: ’ان زخمیوں کی اکثریت کو معمولی زخم ہیں، اور 108 سروس ممبران ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔

  14. پشاور سے 10 کلومیٹر دور اہم شاہراہ پر کالعدم ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں کی ویڈیو پر شہریوں کا اظہارِ تشویش

    حالیہ دنوں میں راکٹ لانچر اٹھائے مسلح شدت پسندوں کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔ تاہم یہ ویڈیو کسی دور دراز علاقے کی نہیں بلکہ پشاور شہر سے 10 سے 15 کلومیٹر دور باڑہ میں کی ہے۔

    اس سے قبل بھی خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے باڑہ اور تیراہ سے اس طرح کی ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں لیکن باڑہ کی ایک اہم شاہراہ پر کھڑے جدید ہتھیاروں سے لیس ایک درجن سے زائد مسلح شدت پسندوں کی ویڈیو مقامی افراد کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

    گذشتہ روز سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ویڈیو میں ایک درجن سے زیادہ مسلح افراد کو روڈ پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کر چیک کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو سے بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے یہ لمبی قمیضوں میں ملبوس لمبے بالوں والے مسلح افراد بہت جلدی میں ہیں۔

    تقریباً 34 سیکنڈ لمبی اس ویڈیو میں ایک شخص نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کا سفید جھنڈا اٹھایا ہوا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص انھیں آواز دے کر بلاتا ہے جس کے بعد وہ سب ایک پک اپ گاڑی میں بیٹھ جاتے ہیں۔

    ایک اور ویڈیو میں شہری اس ساری صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’طالبان باڑہ چوک میں گھوم رہے ہیں اور یہ تو ایسا لگ رہا ہے جیسے جان بوجھ کر حالات خراب کیے جا رہے ہیں۔‘

    تحصیل باڑہ سے اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد شہریوں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کے اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود مسلح افراد کا اس طرح کھلے عام شاہراہوں پر آنا باعث تشویش ہے۔

    جس جگہ یہ ویڈیو فلمائی گئی ہے وہ جگہ گورنر ہاوس سے کوئی 15 سے 20 کلومیٹر جبکہ پشاور شہر کے اہم رہائشی علاقے حیات آباد سے محض 8 سے 12 کلومیٹر دور ہے۔

    اس بارے میں ضلع خیبر کے پولیس افسر وقار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ جیسے ہی پولیس کو اطلاع موصول ہوئی پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی لیکن اس وقت تک وہ وہاں سے جا چکے تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ مسلح افراد بہت تھوڑی دیر وہاں رکے اور پھر چلے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں تمام اہم مقامات پر چیک پوانٹس قائم کیے گئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق مسلح افراد کی تعداد 15 سے 24 تھی۔

    اس ویڈیو کے بعد پولیس کی جانب سے اسی مقام سے ایک ویڈیو ریکارڈ کرکے جاری کی گئی جس میں دکھایا گیا کہ پولیس کی نفری علاقے میں موجود ہے۔

    اس سے پہلے بھی گذشتہ سال اکتوبر میں بھی باڑہ کے علاقے اکاخیل سے اس طرح کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں مسلح شدت پسندوں کے ایک کمانڈر کو کرکٹ میچ کے دوران تقریر کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو میں انھوں یہ بھی کہتے سنا جا سکتا ہے مخبری کرنے والے کو سزا دی جائے گی۔

    اس کے علاوہ ماضی میں ضلع خیبر کے علاقے تیراہ، بنوں، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان سے بھی مسلح شدت پسندوں کی اس طرح کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔

    ایک سینیئر پولیس افسر کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر شدت پسند صرف اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے لیے روڈ پر آجاتے ہیں اور تھوڑی دیر بعد وہاں سے چلے جاتے ہیں جس سے علاقے میں خوف بڑھ جاتا ہے۔

    اسلام آباد سے ڈیرہ اسماعیل خان تک ہکلہ موٹر وے پر یارک کے قریب بھی مسلح شدت پسندوں کی ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں اور اس علاقے میں مسلح افراد نے کارروائیاں بھی کی ہیں۔

  15. مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: 326 پاکستانیوں سمیت 532 افراد تفتان اور گبد ریمدان کے راستے ایران سے پاکستان میں داخل

    ایران میں کشیدہ صورتحال کے باعث پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی علاقوں تفتان اور گبد ریمدان سے پاکستانی شہریوں کی واپسی کا عمل جاری ہے۔

    پاکستانی شہریوں کے علاوہ ایرانی اور دیگر ممالک کے شہری بھی ان دو علاقوں سے پاکستان آ رہے ہیں۔

    گوادر کے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کا کہنا ہے کہ منگل کے روز چاہ بہار سے 15 طلبا سمیت 106 پاکستانی شہری گبد ریمدان کراسنگ پوائنٹ سے گوادر پہنچے۔

    انھوں نے بتایا کہ اس راستے سے پانچ ایرانی شہری بھی گوادر پہنچے ہیں۔

    دوسری جانب، منگل کے روز تفتان کے راستے مجموعی طور پر421 افراد پاکستان میں داخل ہوئے جن میں 166 طلبا سمیت 220 پاکستانی شہری شامل ہیں۔

    وفاقی حکومت کے ایک اہلکار کے مطابق، تفتان سے واپس آنے والوں میں 190 ایرانی ڈرائیور اور 13 دیگر ایرانی شہری بھی شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایرانی ڈرائیورز ایران سے مال بردار گاڑیاں تفتان لاتے ہیں اور یہاں مال اتار کر واپس جاتے ہیں۔

    سرکاری حکام کے مطابق، گذشتہ دس روز کے دوران 3 ہزار 200 سے زائد پاکستانی شہری ایران سے واپس آئے ہیں جن میں سے ایک بڑی تعداد طلبا کی ہے۔

    پاکستانی حکام کے مطابق، ایران سے اب تک 78 ایرانی شہری بھی پاکستان میں داخل ہوئے جبکہ ایک چینی، دو برطانوی، دو کینیڈین اور دیگر ممالک کے 16 شہری بھی پاکستان پہنچے ہیں۔

  16. ایران میں نشانہ بنانے کے لائق کچھ نہیں بچا، جب چاہوں جنگ ختم کر سکتا ہوں: ڈونلڈ ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ جب بھی چاہیں، ایران جنگ ختم کر سکتے ہیں۔

    بدھ کے روز امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوز کو دیے گئے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ہی ختم ہو جائے گی کیونکہ اب عملی طور نشانہ بنانے کے لیے ایران میں کچھ نہیں بچا ہے۔

    ’کچھ یہاں، کچھ وہاں۔۔۔۔۔۔ میں جب اسے ختم کرنا چاہوں، ختم ہو جائے گی۔‘

    گذشتہ روز امریکہ کے صدر ٹرمپ کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ سے جب صحافیوں نے پوچھا کہ ایران میں جاری جنگ کب تک چلے گی تو انھوں نے جواب دیا کہ ’ابتدائی منصوبہ چار سے چھ ہفتوں کا تھا، جس میں ایران کے میزائل اور بحریہ کو تباہ کرنا، اس کی جوہری صلاحیت ختم کرنا اور اس کے اتحادی گروہوں کو مٹانا شامل تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ آپریشن مقررہ وقت سے آگے بڑھ رہا ہے، جیسا کہ صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا، لیکن جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک ایران ’مکمل اور غیر مشروط طور پر ہتھیار نہ ڈال دے، چاہے وہ اس کا اعلان کرے یا نہ کرے۔‘

    پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے مزید کہا کہ یہ صدر ٹرمپ ہوں گے جو فیصلہ کریں گے کہ ایران اب براہِ راست خطرہ نہیں رہا۔

  17. بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کی منظوری دے دی

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث ہونے والی تیل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے آئی ای اے نے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ آئی ای اے ممالک نے ’ہماری ایجنسی کی تاریخ میں تیل کے ہنگامی ذخائر کی اب تک کی سب سے بڑی ریلیز‘ شروع کرنے کے لیے ’اتفاقِ رائے سے‘ ووٹ دیا ہے۔

    آئی ای اے کا کہنا ہے کہ اس کے تمام 32 رکن ممالک نے اس اقدام کے حق میں ووٹ دیا۔

    فاتح بیرول کے مطابق، تیل کی منڈی کو جس پیمانے کے چیلنجوں کا سامنا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔

    آئی ای اے کا کہنا ہے کہ ہنگامی سٹاک مارکیٹ میں ہر رکن ملک کے ’قومی حالات کے مطابق‘ مقررہ وقت پر دستیاب ہو گا۔

    یہ چھٹا ایسا موقع ہے جب آئی ای اے نے تیل کے ذخائر کے مربوط اجرا کی منظوری دی ہے۔ اس سے قبل 1991، 2005، 2011 جبکہ 2022 میں دو بار ایسا کیا جا چکا ہے۔

  18. نئی سیٹلائٹ تصاویر میں اصفہان کے فوجی اڈے پر طیاروں کو نقصان پہنچنے کی تصدیق

    بی بی سی ویریفائی نے وسطی ایران میں اصفہان شہر کے قریب ایک فوجی اڈے کی کچھ تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیا ہے اور ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس فوجی اڈے پر کم از کم 13 طیاروں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

    امریکی انٹیلی جنس کمپنی وینٹر کی جانب سے سوموار کے روز حاصل کی گئی تصاویر سے ظاہر ہے کہ آٹھویں شکاری ایئر بیس پر موجود کچھ طیارے مکمل طور پر جل چکے ہیں اور ان کے صرف جھلسنے کے نشانات رہ گئے ہیں۔

    جبکہ دیگر جہازوں کا ملبہ اب بھی رن وے پر دیکھا جا سکتا ہے۔

    22 فروری کو لی گئی تصاویر میں ان ہی مقامات پر ایف-14 اور ایف-سیون لڑاکا طیاروں کو کھڑا دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم ان تصاویر سے اس بات کی تصدیق کرنا ممکن نہیں کہ کن طیاروں کو نقصان پہنچا یا تباہ ہوئے ہیں۔

    اصفہان بین الاقوامی ہوائی اڈے سے منسلک اڈے پر طیاروں کے ہینگرز اور دیگر ڈھانچے کو بھی واضح نقصان پہنچا ہے۔

    بی بی سی ویریفائی نے اب تک چار ایرانی فضائی اڈوں پر تباہ شدہ طیاروں اور چھ دیگر اڈوں پر عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان کا مشاہدہ کیا ہے۔

    ایران
  19. تیل کی فی بیرل قیمت 200 ڈالر تک پہنچنے کے لیے تیار ہو جائیں، ایران کی دھمکی

    ایران کی مشترکہ فوجی کمان خاتم الانبیا کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران نے جوابی حملوں کی پالیسی ختم کر دی ہے۔

    خاتم الانبیا کمان کے ترجمان ابراہیم ذولفقاری کا کہنا ہے کہ تہران کی پالیسی اب ’پے در پے حملے‘ کی ہوگی۔

    ذولفقاری نے مزید کہا کہ تہران ایک لیٹر تیل کو بھی آبنائے ہرمز سے گزر کر امریکہ، اسرائیل اور ان کے شراکت داروں تک پہنچنے نہیں دے گا۔

    ’ان کی جانب جانے والا کوئی بھی جہاز یا ٹینکر ایک جائز ہدف تصور ہوگا۔‘

    ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ ’تیل کی فی بیرل قیمت 200 ڈالر تک پہنچنے کے لیے تیار ہو جائیں کیونکہ تیل کی قیمت کا انحصار علاقائی سلامتی پر منحصر ہے جسے آپ نے غیر مستحکم کیا ہے۔‘

  20. آبنائے ہرمز میں حملوں کا نشانہ بننے والے تین بحری جہازوں کا تعلق کن ممالک سے ہے؟

    رائل تھائی نیوی کی جانب سے تھائی لینڈ میں رجسٹر کارگو جہاز میوری ناری پر حملے کی تصدیق کے بعد بی بی سی ویریفائی نے میری ٹائم سکیورٹی فرم وینگارڈ سے ان تینوں جہازوں کے بارے میں تفصیلات حاصل کی ہیں جن کو آج نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ون میجسٹی نامی کنٹینر جہاز جاپان میں رجسٹرڈ ہے اور اس پر اس وقت حملہ ہوا جب وہ متحدہ عرب امارات کے ساحلی شہر راس الخیمہ سے 29 میل (47 کلومیٹر) شمال میں تھا۔ اس حملے نتیجے میں جہاز 10 سینٹی میٹر (4 انچ) سوراخ ہو گیا۔ تاہم اب جہاز محفوظ بندرگاہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    سٹار گیوینتھ نامی دوسرا جہاز مارشل آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ہے۔ اطلاعات کے مطابق کہ دبئی کے شمال میں تقریباً 57 میل (92 کلومیٹر) کے فاصلے پر کسی نامعلوم ذریعہ کی جانب سے حملے کے نتیجے میں جہاز کو نقصان پہنچا لیکن اس کا عملہ محفوظ ہے۔

    وینگارڈ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ میوری ناری عمان کے شمال میں تقریباً 12 میل (19 کلومیٹر) کے فاصلے پر تھا جب اس پر حملہ کیا گیا، جس سے جہاز میں آگ لگ گئی۔

    نیچے دیے گئے نقشے میں ان مقامات کی نشاندہی کی گئی جہاں یہ واقعات پیش آئے۔ بی بی سی نے وینگارڈ اور برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے سکیورٹی اتھارٹی کی جانب سے مہیا تفصیلات کا موازنہ کر کے اسے تیار کیا ہے۔

    آبنائے ہرمز