ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر مزید میزائل حملے، ٹرمپ کا اسرائیلی حملوں میں ممکنہ امریکی شمولیت پر غور

ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر میزائل حملوں کی نئی لہر کا آغاز کیا ہے۔ ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں میں شمولیت کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’میں شاید ایسا کروں یا پھر شاید نہ کروں۔ کوئی نہیں جانتا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں۔‘

خلاصہ

  • ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر میزائل حملوں کی نئی لہر کا آغاز کیا ہے اور دونوں نے ایک دوسرے کے اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
  • ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں میں شمولیت کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’میں شاید ایسا کروں یا پھر شاید نہ کروں۔ کوئی نہیں جانتا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں‘۔
  • بی بی سی ویریفائی نے تصدیق کی ہے کہ پچھلے تین دنوں میں کم از کم 30 امریکی طیارے امریکہ کے اڈوں سے یورپ کی طرف اڑان بھر چکے ہیں۔
  • ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل تنازع میں کسی بھی قسم کی امریکی فوجی مداخلت کے نتیجے میں امریکہ کو ’ناقابلِ نقصان‘ سے دوچار ہونا پڑے گا۔
  • انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران میں سینٹری فیوجز کی تیاری کے دو مراکز پر حملے ہوئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. آج ہونے والے میزائل حملے میں موساد کے ہیڈ کواٹر کو نقصان پہنچا ہے: ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے کچھ تصاویر شائع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ آج ہونے والے ایرانی حملے کے بعد اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے ہیڈ کوارٹر کو آگ لگ گئی تھی۔

    ادارے نے اپنی رپورٹ میں ایرانی پاسداران انقلاب کے حوالے سے کہا ہے کہ ایرانی میزائلوں نے موساد کے ہیڈ کواٹر کو نشانہ بنایا ہے۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئی آر جی سی کی ایرو اسپیس فورس انتہائی جدید دفاعی نظام کی موجودگی کے باوجود اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کے مرکز کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہی ہے۔

    اسرائیل نے موساد کے ہیڈکواٹر پر ہونے والے مبینہ حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں کی وجہ سے اسرائیل میں کام کرنے والے میڈیا کچھ ٹارگٹ سائٹس کے بارے میں اطلاع نہیں دی سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے آج صبح تل ابیب اور یروشلم پر مزید میزائل حملے کیے تھے۔

  2. جنگ بندی مذاکرات کے لیے ایران سے رجوع نہیں کیا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹرتھ سوشل پر جاری ایک ہیغام میں کہا ہے کہ انھوں نے ’کسی بھی طریقے، شکل یا صورت میں‘ جنگ بندی مذاکرات کے بارے میں ایران سے رجوع نہیں کیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو اُس معاہدہ پر دستخط کر لینے چاہیے تھے جو انھوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران پیش کیا تھا۔

    ’یہ محض انتہائی من گھڑت، جعلی خبریں ہیں! اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں، تو وہ جانتے ہیں کہ مجھ تک کیسے پہنچنا ہے۔ انھیں وہ معاہدہ کرنا چاہیے تھا جو میز پر تھا - بہت سی جانیں بچ جاتیں!!!‘

  3. ڈونلڈ ترمپ کے مشورے کے بعد ایرانیوں کی تہران سے نکلنے کی کوشش: ’شہر بالکل خالی محسوس ہو رہا ہے‘ُ, آزادہ مشیری، نامہ نگار پاکستان

    تہران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ تمام شہریوں کو فوراً تہران سے نکل جانا چاہیے۔

    کچھ ایرانی شہری پہلے ہی اس مشورے پر عمل کر رہے ہیں جبکہ دوسروں کا خیال ہے کہ اس پر عملدرآمد ممکن نہیں۔

    ہم ان افراد کے نام نہیں شائع کر رہے کیونکہ انھیں ڈر ہے کہ اس سے ایران میں ان کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

    عرش اب بحفاظت آرمینیا میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ سوموار کے روز 8 بج کر 45 منٹ پر تہران سے نکلے اور ایران کے شمال مغربی قصبے قزوان سے ہوتے ہوئے یہاں پہنچے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر اس سفر میں ڈیرھ گھنٹا لگتا تھا لیکن اس بار انھیں اس میں پانچ گھنٹے لگے۔

    ’بہت سے لوگ خاص کر وہ جو بیرونِ ملک رہائش پذیر ہیں ایران سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتے ڈر کے باوجود نرگس نے تہران میں ہی رکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ’یہ شہر بالکل خالی محسوس ہو رہا ہے۔ گذشتہ رات جب سے ٹرمپ نے لوگوں کو شہر سے نکل جانے کا مشورہ دیا ہے، ایسا لگتا ہے کہ جیسے بہت سے افراد یہاں سے بھاگ رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ سڑکیں کھچا کھچ بھری ہوئی ہیں اور ٹریفک عذاب بنا ہوا ہے۔

    تہران میں تقریباً ایک کروڑ افراد آباد ہیں۔ نرگس کے خیال میں بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ آپ سڑک پر پھنسے رہ جائیں گے۔

    لیکن کل ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے نے انھیں خطرے کی یاد دہانی کروائی جو وہ مول لے رہی ہیں۔ ان کا گھر اس مقام کے نزدیک ہے جہاں کل حملہ ہوا تھا۔ ’یہ [حملہ] خوفناک اور بہت نزدیک تھا۔‘

    کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے پاس کوئی آپشن ہی نہیں۔

    فراناک کا خیال ہے کہ بذریعہ گاڑی سرحد پار کرنے کی کوشش کرنا بالکل بھی محفوظ نہیں۔

    وہ بھی ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے ہیڈ کوارٹر کے قریب رہتی ہیں اور حملے کے بعد وہ اپنی بزرگ والدہ کے ہمراہ اپنی عمارت سے نکل گئی تھیں۔ ان دونوں نے پوری رات باہر گزاری۔

    واپس آتے وقت انھوں نے پیٹرول پمپس پر لمبی قطاریں دیکھیں جو تقریباً دو کلومیٹر لمبی تھیں۔

    ان کے کچھ پڑوسی شمالی ایران کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں۔ لیکن فراناک جیسے لوگ اپنے گھروں میں چھپے ہوئے ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ آگے کیا ہوگا۔

  4. ’ہم جنگ بندی سے بہتر کی تلاش میں ہیں،‘ ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ جنگ بندی کی تلاش میں نہیں۔ ’ہم جنگ بندی سے بہتر چیز کی تلاش میں ہیں۔‘

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ جنگ بندی سے بہتر سے ان کی کیا مراد ہے تو ان کا کہنا تھا، ’حقیقی خاتمہ۔ جنگ بندی نہیں۔ مکمل خاتمہ۔‘

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کا ’حقیقی خاتمہ‘ چاہتے ہیں۔

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے ’سیز فائر کی بات نہیں کی‘ بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران مکمل طور پر اپنا جوہری پروگرام ختم کر دے۔

  5. ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے تبادلے اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال پر بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے اور اب تک میں، منزہ انوار آپ کو تازہ ترین معلومات فراہم کر رہی تھی۔

    اس مرحلے پر میں اجازت چاہتی ہوں اور بی بی سی کی لائیو کوریج کا سلسلہ ہمارے ساتھی عماد خالق اور اسماعیل شیخ کے ساتھ جاری رہے گا۔

  6. پاسدارانِ انقلاب کا اسرائیل کے خلاف ’پہلے سے زیادہ طاقتور اور تباہ کن‘ حملے شروع کرنے کا اعلان

    reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کی سب سے اعلیٰ فوجی یونٹ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل پر نئے حملے شروع کیے ہیں۔

    ایرانی میڈیا نے پاسداران انقلابِ اسلامی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ ’آپریشن وعدہ صادق 3 کے تحت چند لمحے قبل آئی آر جی سی نے فضائی حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے جو پہلے سے زیادہ طاقتور اور تباہ کن تھی۔‘

  7. تازہ حملے میں ایران نے تقریباً 20 میزائل داغے ہیں: اسرائیلی اہلکار

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جیسا کہ کچھ دیر قبل ہم نے اطلاع دی تھی کہ اسرائیل کے مختلف حصوں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور ملک کے وسطی علاقے میں ایک مقام پر حملے کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اب اسرائیلی فوج کے ایک اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے تازہ حملوں کے دوران تقریباً 20 میزائل داغے گئے ہیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان میں سے اکثریت کو روک لیا گیا تاہم کچھ میزائل ایسے علاقوں میں گرے ہیں جہاں آبادی نہیں تھی۔

  8. سیز فائر کی بات نہیں کی، چاہتا ہوں ایران اپنا جوہری پروگرام ’مکمل طور پر‘ ترک کر دے: ڈونلڈ ٹرمپ

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کا ’حقیقی خاتمہ‘ چاہتے ہیں۔

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے ’سیز فائر کی بات نہیں کی‘ بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران مکمل طور پر اپنا جوہری پروگرام ختم کر دے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ اسرائیل ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں میں کمی لائے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگلے دو دنوں میں آپ کو نظر آ جائے گا، ابھی تک دونوں فریقین میں سے کسی نے اپنی کارروائیاں کم نہیں کی ہیں۔

    انھوں نے ایک بار پھر سے دہرایا ہے کہ اگر خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا گیا تو وہ ایران پر ’سخت حملہ‘ کریں گے۔

    یاد رہے اس سے قبل صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اگر ایران نے کسی بھی شکل میں امریکہ پر حملہ کیا تو امریکی مسلح افواج ایسی مکمل طاقت اور زور سے ان پر حملہ کرے گی جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ہو گا‘۔

  9. یروشلم اور تل ابیب میں اسرائیلی فضائی دفاعی نظام فعال ہوتے ہی زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں, ہوگو بچیگا، یورشلم میں مشرقِ وسطیٰ کے نامہ نگار

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے آج صبح اسرائیل پر مزید میزائل حملے کیے ہیں جس کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں دوبارہ سائرن بجنے لگے۔

    یروشلم اور تل ابیب میں جیسے ہی اسرائیلی فضائی دفاعی نظام فعال ہوا تو زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مرکزی اسرائیل کے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی سروسز اب بھی موقع پر موجود ہیں۔

    ادھر ایران کے دارالحکومت تہران میں اسرائیلی حملے جاری ہیں اور دھماکوں اور فضائی دفاعی نظام کی شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ سرکاری ٹیلی وژن نے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ روز اسرائیلی فوج کی جانب سے ہیڈکوارٹر پر حملے کے نتیجے میں اس کے تین ملازمین ہلاک ہو گئے۔

    ایک ٹی وی انٹرویو میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرامز کو شدید نقصان پہنچایا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ فوج کو مزید وقت درکار ہے۔

  10. اسرائیلی فوج کا خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے نئے کمانڈر علی شادمانی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    IsraelWarRoom

    ،تصویر کا ذریعہIsraelWarRoom

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ رات تہران پر کیے گئے فضائی حملے میں خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے نئے کمانڈر میجر جنرل علی شادمانی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    وہ ایرانی حکومت کے سب سے اعلیٰ فوجی افسران میں شمار ہوتے تھے۔

    اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ شادمانی ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی ساتھی تھے اور ایران کی اسرائیل کے خلاف جنگی حکمت عملی کی براہ راست نگرانی کر رہے تھے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق میجر جنرل علی شادمانی کو ایران-عراق جنگ کا وسیع تر تجربہ حاصل ہے اور وہ پاسدارانِ انقلاب (آئی جی آر سی) اور ایرانی فوج دونوں کی قیادت کر چکے تھے۔

    علی شادمانی نے تقریباً چار روز قبل خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر جو ایران کی فوجی ایمرجنسی کمانڈ کے طور پر جانا جاتا ہے، کی کمانڈ سنبھالی تھی۔

    خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر ایرانی مسلح افواج کا اعلیٰ ترین آپریشنل ادارہ ہے جو جنگی اور بحرانی حالات میں پاسدارانِ انقلاب، وزارت دفاع اور دیگر سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطے قائم کرنے کا ذمہ دار ہے۔

    ہمدان میں پیدا ہونے والے علی شادمانی کو جمعے کے روز اسرائیلی حملے میں غلام علی راشد کی ہلاکت کے بعد ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی تھی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. ایران کے تازہ حملوں کے بعد اسرائیل میں پانچ افراد معمولی زخمی

    reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کی جانب سے تازہ ایرانی حملوں کے بعد جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی اسرائیل میں ایک بس پارکنگ ایریا پر میزائل گرنے سے پانچ افراد معمولی طور پر زخمی ہوئے ہیں۔

    ایمرجنسی سروس کے ترجمان کے مطابق دیگر مقامات پر کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔

    ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں اسرائیلی حکومت کے ایک حساس سیکیورٹی مرکز کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔

  12. ریسکیو ٹیمیں میزائل گرنے کے مقام کی جانب روانہ کر دی گئی ہیں: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی فوج نے تازہ اپ ڈیٹ میں کہا ہے کہ ملک کے کئی علاقوں کے لوگ اب بم شیلٹروں سے باہر آ سکتے ہیں۔

    فوج کے مطابق ریسکیو ٹیمیں میزائل گرنے کے مقام کی جانب روانہ کر دی گئی ہیں۔

    شہریوں سے ایک بار پھر کہا گیا ہے کہ وہ ہوم فرنٹ کمانڈ کی ہدایات پر عمل جاری رکھیں۔

  13. کم از کم ایک میزائل مرکزی اسرائیل میں گرا ہے

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یروشلم سے بی بی سی کے نامہ نگار ٹام بینٹ کے مطابق یروشلم سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مرکزی اسرائیل میں کم از کم ایک میزائل گرنے کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق ایران کے تازہ راکٹ حملوں کے بعد تل ابیب کے قریب ہرزلیہ میں واقع ایک عمارت میں بھڑکتی آگ اور دھواں دیکھا جا سکتا ہے۔

  14. بریکنگ, تل ابیب اور یروشلم میں دھماکوں کی آوازیں

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار ٹام بینٹ کے مطابق تل ابیب اور یروشلم میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے مزید میزائل حملے متوقع ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات پر عمل کریں اور ہوم فرنٹ کمانڈ کی ہدایات کو سنجیدگی سے لیں کیونکہ ایران کی جانب سے تازہ حملے جاری ہیں۔

  15. بریکنگ, ایران نے اسرائیل پر ایک اور میزائل حملہ کیا ہے: آئی ڈی ایف کا دعویٰ

    اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر ایک اور میزائل حملہ کیا ہے۔

    ملک بھر میں فضائی حملے کے سائرن بج رہے ہیں اور آئی ڈی ایف نے اسرائیلی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہوم فرنٹ کمانڈ کی ہدایات پر عمل کریں تاکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

  16. اسرائیلی فوج کا مغربی ایران میں فوجی اہداف پر بڑے پیمانے پر حملوں کا دعویٰ

    IDF

    ،تصویر کا ذریعہIDF

    اسرائیلی دفاعی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے مغربی ایران میں متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے وسیع پیمانے پر فضائی حملے مکمل کیے ہیں۔

    آئی ڈی ایف درج ذیل اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے:

    • زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کے ذخائر
    • لانچنگ انفراسٹرکچر
    • زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز
    • بغیر پائلٹ والے یو اے وی کی سٹوریج سائٹس

    اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا۔ ایرانی حکام کی جانب سے ان حملوں پر ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. اسرائیلی حملے میں ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے نیوز ایڈیٹر سمیت تین افراد ہلاک

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پیر کے روز اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ (آئی آر آئی بی) کے ہیڈکوارٹر پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ادارے کے نیوز ایڈیٹر سمیت عملے کے دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    نیوز ایڈیٹر نیمہ رجب‌ پور اورعملے کی رکن معصومہ عظیمی کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

    اس سے قبل ایرانی میڈیا نے کم از کم عملے کے ایک رکن کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔

    گذشتہ روز اسرائیل کی جانب سے براہ راست نشریات کے دوران آئی آر آئی بی کی شیشے کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔

    لائیو نشریات کے دوران نشر ہونے والی ڈرامائی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں جس کے بعد سٹوڈیو کی روشنیاں بند ہو جاتی ہیں اور ملبہ گرنے لگتا ہے۔

    آئی آر آئی بی نے حملے کے چند گھنٹے بعد اپنی نشریات دوبارہ شروع کر دی تھیں۔

  18. ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کون سا راستہ چنیں گے؟

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کے اسرائیلی منصوبے کو ویٹو کر دیا ہے۔

    لیکن چند گھنٹے پہلے اے بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے اشارہ دیا کہ وہ اس پر غور کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ خامنہ ای کا قتل ’تنازع کا خاتمہ‘ کر دے گا اور جوہری جنگ کو روک دے گا۔

    ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران کے طویل عرصے سے برسر اقتدار رہنے والے رہنما خامنہ ای، جو بار بار ایران کے جوہری پروگرام کے حق میں بات کرتے رہے ہیں، کہاں کھڑے ہیں؟

    امریکہ کے سابق اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ برائے مشرق وسطیٰ امور جیفری فیلڈمین جو سپریم لیڈر سے ملاقات کر چکے ہیں، نے بی بی سی کے نیوز آور کو بتایا کہ ’میرے خیال میں ان کی اولین ترجیح نظام کا تحفظ ہے۔‘

    ’لہٰذا اگر نظام کی بقا کے لیے انھیں کچھ رعایتیں دینی پڑیں۔۔۔ ’شیطان‘ یعنی امریکہ کے ساتھ بیٹھنا پڑے، تو میرا خیال ہے کہ خامنہ ای اس کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔‘

    تاہم فیلڈمین نے مزید کہا کہ خامنہ اپنی پالیسی پر ڈٹے رہنے کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں اور یہ جنگ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی دوڑ میں دھکیل سکتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایرانی رہنما کون سا راستہ چنتے ہیں، یہ ان ’اہم سوالات‘ میں سے ایک ہے جو اس جاری تنازع کے دوران پوچھے جا رہے ہیں۔

  19. اسرائیلی حملے سے آئی آر آئی بی کے ہیڈکوارٹر میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کا کہنا ہے کہ تہران میں اسرائیلی حملے سے اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ (آئی آر آئی بی) کے ہیڈکوارٹر کی عمارت میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

    تہران میں اس کے ہیڈکوارٹر پر اسرائیلی حملے میں عملے کے ’متعدد‘ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اس کی فضائیہ نے تہران میں ’ایک مواصلاتی مرکز کو نشانہ بنایا ہے جو کہ ایرانی فوج عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی تھی۔‘

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ یہ عمارت ’سویلینز کی آڑ میں‘ استعمال کی جا رہی تھی اور اسرائیلی حملے نے ’ایرانی افواج کی عسکری صلاحیتوں کو براہ راست نقصان پہنچایا ہے۔‘

  20. ایک کروڑ افراد تہران سے کیسے نکل سکتے ہیں؟, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    تہران سے نکلنے کی کوشش کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے مگر شہر سے باہر جانے والی سڑکوں پر اب بھی ٹریفک جام ہے۔

    میں ایک ایسے خاندان کو جانتی ہوں جو تہران سے روانہ ہوا اور انھیں ایک ایسا سفر مکمل کرنے میں 14 گھنٹے لگے جو عام حالات میں صرف تین گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ ’خوش قسمت‘ تھے جو نکلنے میں کامیاب رہے۔

    میں نے جن دیگر افراد سے بات کی ہے ان کے خیالات بھی ملتے جلتے تھے۔۔۔ وہ تہران سے نکلنے میں کامیاب تو ہو گئے مگر اُن کے دوست اور رشتہ دار ابھی تک شہر میں پھنسے ہوئے ہیں اور پیکنگ بھی نہیں کر سکے۔

    جب میں نے ایک دوست سے پوچھا کہ کیا وہ اب تک تہران چھوڑ چکے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ سڑکیں مکمل طور پر جام ہیں، ایسے میں گھر سے نکل کر سڑک پر پھنسنے کا فیصلہ بے وقوفی ہو گی۔

    گذشتہ روز پہلے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے تہران کے کچھ علاقوں کے رہائشیوں کو انخلا کی ہدایت دی اور پھر کچھ گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’تمام افراد‘ سے دارالحکومت چھوڑنے کا کہا۔

    میں جن ایرانی گروپ چیٹس کا حصہ ہوں وہ سب کے سب سیاسی گفتگو اور ملک میں نشانہ بننے والی جگہوں کی معلومات سے بھرے ہوئے ہیں۔

    اس وقت تہران میں صبح ہو چکی ہے اور بہت سے لوگ راست بھر سے جاگ رہے ہیں یا جاگ چکے ہیں۔

    کمیونٹی گیمرز کے ایک گروپ چیٹ میں کسی نے کچھ دیر پہلے لکھا ’میں جسمانی اور ذہنی طور پر تھک چکا ہوں۔۔ میں چار راتوں سے سو نہیں سکا۔‘ وہیں ایک اور شخص نے سوال کیا ’ایک کروڑ افراد تہران سے کیسے نکل سکتے ہیں؟‘

    ان کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔