ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر مزید میزائل حملے، ٹرمپ کا اسرائیلی حملوں میں ممکنہ امریکی شمولیت پر غور

ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر میزائل حملوں کی نئی لہر کا آغاز کیا ہے۔ ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں میں شمولیت کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’میں شاید ایسا کروں یا پھر شاید نہ کروں۔ کوئی نہیں جانتا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں۔‘

خلاصہ

  • ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر میزائل حملوں کی نئی لہر کا آغاز کیا ہے اور دونوں نے ایک دوسرے کے اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
  • ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں میں شمولیت کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’میں شاید ایسا کروں یا پھر شاید نہ کروں۔ کوئی نہیں جانتا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں‘۔
  • بی بی سی ویریفائی نے تصدیق کی ہے کہ پچھلے تین دنوں میں کم از کم 30 امریکی طیارے امریکہ کے اڈوں سے یورپ کی طرف اڑان بھر چکے ہیں۔
  • ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل تنازع میں کسی بھی قسم کی امریکی فوجی مداخلت کے نتیجے میں امریکہ کو ’ناقابلِ نقصان‘ سے دوچار ہونا پڑے گا۔
  • انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران میں سینٹری فیوجز کی تیاری کے دو مراکز پر حملے ہوئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. امریکی فوجی مداخلت کا جواب ’ناقابلِ تلافی نقصان‘ سے دیا جائے گا: ایرانی رہبرِ اعلیٰ

    آیت اللہ علی خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے ایک بیان میں خبرداد کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل تنازع میں کسی بھی قسم کی امریکی فوجی مداخلت کے نتیجے میں امریکہ کو ’ناقابلِ نقصان‘ سے دوچار ہونا پڑے گا۔

    اس بیان میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی قسم کی امریکی فوجی مداخلت کا جواب ناقابلِ تلافی نقصان سے دیا جائے گا۔‘

    آیت اللہ علی خامنہ ای کا تازہ بیان ایران کے سرکاری ٹی وی چینل پر میزبان نے پڑھ کر سُنایا اور یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ خبریں چل رہی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں میں شامل ہونے پر غور کر رہے ہیں۔

    آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ’وہ عقلمند لوگ جو ایران کو، اس کے عوام کو اور اس کی تاریخ کو جانتے ہیں وہ کبھی بھی اس قوم سے دھکمی آمیز زبان میں گفتگو نہیں کریں گے کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ ایرانی عوام کبھی سرینڈ نہیں کرتے۔‘

    اس سے قبل گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ (ایران کے) نام نہاد رہبر اعلیٰ کہاں چھپے ہیں۔‘

    ’وہ ایک آسان ہدف ہیں لیکن وہ ابھی محفوظ ہیں۔ ہم فی الحال انھیں نشانہ بنانے (ہلاک) کرنے نہیں جا رہے۔‘

  2. آئی اے ای اے کی ایران میں سینٹری فیوجز کی تیاری کے دو مراکز پر حملوں کی تصدیق

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا کہنا ہے کہ اس کے پاس موجود اطلاعات کے مطابق ایران میں سینٹری فیوجز کی تیاری کے دو مراکز پر حملے ہوئے ہیں۔

    اس سے قبل اسرائیل بے بھی کہا تھا کہ اس نے گذشتہ رات ایران میں سینٹری فیوجز کی تیاری کے مراکز پر حملے کیے ہیں۔

    سینٹری فیوج ایسی مشینیں ہوتی ہیں جو یورینیم کو افزودہ کرتی ہیں۔ افزودہ یورینیم کو بجلی گھر چلانے کے لیے ایندھن بنانے کے ساتھ ساتھ ایٹمی ہتھیار بنانے میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    آئی اے ای اے کے مطابق تہران ریسرچ سینٹر میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں نہ صرف سینٹری فیوجز کے لیے موٹرز بنائی جا رہی تھیں بلکہ انھیں ٹیسٹ بھی کیا جا رہا تھا۔

    آئی اے ای اے کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی شہر کرج میں ایران سینٹری فیوجز ٹیکنالوجی کمپنی میں دو عمارتیں تباہ ہوئی ہیں جہاں سینٹری فیوج کی تیاری میں مدد دینے والے آلات بنائے جا رہے تھے۔

    بین الاقوامی ادارے کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے تحت آئی اے ای اے دونوں مراکز کی نگرانی کر رہا تھا۔

    ایران
  3. ایران نے اپنی حدود میں اسرائیلی ڈرون مار گرایا

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی فضائی حدود میں اس کا ایک ڈرون مار گرایا گیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق ’ایک آپریشن کے دوران ایئر فورس کے ڈورن پر سرفیس ٹو ایئر میزائل فائر کیے گئے تھے۔‘

    ’اس کے سبب یہ ڈیوائس (ڈرون) ایرانی حدود میں گِر گیا۔ تاہم نہ کوئی ہلاکت ہوئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی معلومات لیک ہونے کے خدشات ہیں۔‘

    اس سے قبل ایران کے سرکاری ٹی وی چینل نے رپورٹ کیا تھا کہ اس کی فضائیہ نے صوبے اصفہان میں آج صبح اسرائیل کا ھرمس ڈرون مار گرایا ہے۔

    تاہم بی بی سی اس بات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا کہ ایران میں گرایا گیا اسرائیل ڈرون ھرمس تھا یا نہیں۔

  4. اسرائیل، ایران تنازع کا چھٹا روز: گذشتہ رات سے اب تک کیا کیا ہوا ہے؟

    اسرائیل میں اس وقت دن کے 12:30 جبکہ تہران میں دوپہر ایک بجے کا وقت ہوا ہے۔ اگر آپ بی بی سی کے لائیو صفحے پر ابھی آئے ہیں تو آپ کے لیے یہ جاننا ضروری ہوگا کہ گذشتہ رات کیا کیا ہوتا رہا ہے۔

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تنازع میں شامل ہونے اور ایران پر اسرائیلی حملوں میں شامل ہونے پر غور کر رہے ہیں۔ اس سے قبل انھوں نے ایران سے ’مکمل سرینڈر‘ کا مطالبہ کیا تھا، تاہم انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ ’فی الحال‘ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک نہیں کرے گا۔
    • خامنہ ای نے ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کبھی اسرائیل کے ساتھ ’سمجھوتہ‘ نہیں کریں گے۔
    • بی بی سی کے ایڈیٹر برائے مشرقِ وسطیٰ سبیسٹین اُشر کے مطابق گذشتہ رات ایرانی میزائل حملوں میں اسرائیل میں ہلاکتوں کی کوئی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز سے اب تک اس پر 400 سے زیادہ میزائل فائر ہو چکے ہیں۔
    • گذشتہ رات 50 سے زیادہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے تہران کے قریب سینٹریفیوج اور میزائل بنانے والے مراکز اور پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایک یونیورسٹی پر حملے کیے تھے۔
    • اسرائیل میں گذشتہ رات ایران کی طرف فائر کیے گئے میزائلوں اور ڈرون کے سبب ملک میں متعدد مرتبہ خطرے کے سائرن بجتے ہوئے سنائی دیے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے تلِ ابیب کی طرف فتح ون سُپر سونک میزائل فائر کیے تھے۔
    اسرائیل، ایران
  5. ’ایران میں موجود پاکستانی شہری روانگی سے پہلے اپنے پاسپورٹ پر ’خروج، کی مہر لازمی لگوائیں‘

    ایران میں پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے کہا ہے کہ ایران سے روانہ ہونے والے پاکستانی شہری روانگی سے پہلے اپنے پاسپورٹ پر ’خروج، کی مہر لگوانے کو یقینی بنائیں اور مشکلات سے بچنے کے لیے سرحد بند ہونے کے اوقات سے قبل ہی چوکیوں پر پہنچ جائیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سایٹ ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ رابطے کے مسائل کے باعث سرحدی حکام سے بندش کے بعد رابطہ کرنا انتہائی مشکل ہو رہا ہے۔ اگر وہ کسی تیسرے ملک کا سفر کر رہے ہیں تو ان کے پاس اُس ملک کا ویزا ہونا ضروری ہے۔‘

    انھوں نے پاکستانی شہریوں کو مخاطب کر کے لکھا ہے کہ اپنے موبائل فون ہمہ وقت چارج رکھیں، کیونکہ سڑکوں پر ٹریفک جام کے باعث ایران میں سفر میں بہت زیادہ وقت لگ رہا ہے۔ بزرگ شہریوں، خواتین اور بچوں کو خاص طور پر احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے لکھا کہ ’ہماری تمام شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ تہران میں موجود ہمارے سفارت خانے اور مشہد و زاہدان میں موجود ہمارے قونصل خانوں کی رابطہ معلومات ہر وقت اپنے پاس رکھیں اور کسی بھی مشکل صورتِ حال میں فوری طور پر ہم سے رابطہ کریں۔‘

    انھوں نے متنبہ کیا کہ ایران کے اندر الیکٹرانک ذرائع سے رقم کی منتقلی میں شدید تاخیر اور رکاوٹوں کا سامنا ہے اس لیے رقم کی دستیابی کو یقینی بنائے رکھیں۔

    پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے کہا کہ ’میں خود بھی ہم وطنوں کی مدد کے لیے ہر وقت ٹوئٹر پر دستیاب ہوں۔‘

    اشک آباد کے راستے پاکستان پہنچ گیا ہوں : اسد محمد بیگ سیکریٹری جنرل اقتصادی تعاون تنظیم

    دوسری جانب اقتصادی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل اسد محمد بیگ نے ایکس پر بیان میں کہا ہے کہ وہ آج صبح تہران سے اشک آباد کے راستے کچھ ساتھیوں اور اُن کے اہل خانہ کے ساتھ خیریت سے پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں۔

    انھوں نے لکھا کہ ’میں ترکمانستان کی حکومت، پاکستانی سفارت خانہ اشک آباد دفتر خارجہ پاکستان اور پی آئی اے کا شکر گزار ہوں جنھوں نے ہر مرحلے پر ہمارا بھرپور ساتھ دیا۔‘

  6. تین دنوں میں 30 امریکی فوجی طیارے امریکہ سے یورپ کی طرف اڑان بھر چکے: بی بی سی ویریفائی, میٹ مرفی، تھامس سپینسر، ایلکس مری، بی بی سی ویریفائی

    امریکی فوجی طیارے

    ،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

    اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں امریکہ کے ممکنہ کردار پر غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے ایسے میں بی بی سی ویریفائی نے فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کا جائزہ لے کر تصدیق کی ہے کہ پچھلے تین دنوں میں کم از کم 30 امریکی فوجی طیارے امریکہ کے اڈوں سے یورپ کی طرف اڑان بھر چکے ہیں۔

    زیر بحث طیارے امریکی فوجی ٹینکر طیارے ہیں جو لڑاکا طیاروں اور بمبار طیاروں میں ایندھن بھرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

    فلائیٹ ریڈار 24 کے مطابق ان میں سے کم از کم سات سپین، سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ میں قائم امریکی فضائی اڈوں پر ٹھہرے ہیں۔

    ان پروازوں کا ریکارڈ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان حملے اور جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔

    یاد رہے کہ اسرائیل نے جمعہ کو ایران پر حملہ کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ اس کا مقصد تہران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنا ہے۔

    ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا امریکی اقدام کا براہ راست تنازع سے تعلق ہے کہ نہیں تاہم ایک ماہر نے بی بی سی کو تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ٹینکرز طیاروں کی پروازیں انتہائی غیر معمولی تھیں۔

    رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ تھنک ٹینک کے ایک سینئر تجزیہ کار جسٹن برونک کا کہنا ہے کہ یہ تعیناتیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ امریکہ آنے والے ہفتوں میں خطے میں ’سخت جنگی کارروائیوں کی حمایت‘ کے لیے ہنگامی منصوبوں پر عمل درآمد کر رہا ہے۔

    بی بی سی ویریفائی کے مطابق فلائٹ ٹریکنگ کے ذریعے منگل کی سہ پہر سات طیاروں کو سسلی کے مشرق میں پرواز کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    آئرش ڈیفنس فورسز کے سابق سربراہ وائس ایڈمرل مارک میلٹ نے کہا کہ یہ اقدام ’سٹرٹیجک ابہام‘ کی ایک وسیع پالیسی کا حصہ ہو سکتا ہے جو ایران کو اس کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں رعایت دینے کے لیے اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ اسرائیل نے جمعہ کے روز ایران کے جوہری سٹرکچر پر حملہ شروع کیا اور یہ وہ وقت تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو معطل کرنے کے معاہدے تک پہنچنے کی ڈیڈ لائن قریب تھی۔

    امریکہ کے ایک طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس نیمٹز کو بھی بحیرہ جنوبی چین سے مشرق وسطیٰ میں منتقل کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ۔

    میرین ٹریفکنامی ویب سائٹ نے دکھایا کہ یو ایس ایس نیمٹز کا آخری معلوم مقام آبنائے ملاکا میں تھا، جو منگل کی صبح سنگاپور کی طرف بڑھ رہا تھا۔

    امریکی بحری جہاز نیٹمز لڑاکا طیاروں کا ایک دستہ لے کر جاتا ہے اور اس دوران کئی گائیڈڈ میزائل تباہ کرنے والے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔

  7. بریکنگ, اسرائیلی فوج کا ایران میں سینٹری فیوج اور اسلحہ سازی کے مقام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا ایران میں سینٹری فیوج اور اسلحہ سازی کے مقام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں سینٹری فیوج کی پیداوار اور اسلحے کی تیاری کے مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

    بی بی سی اسرائیل کے اس دعوے کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

    سینٹری فیوج ایسی مشینیں ہوتی ہیں جو یورینیم کو افزودہ کرتی ہیں۔ افزودہ یورینیم کو بجلی گھر چلانے کے لیے ایندھن بنانے کے ساتھ ساتھ ایٹمی ہتھیار بنانے میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ نطنز ایران میں یورینیئم کی افزودگی کا اہم مقام ہے، جو تہران سے تقریباً 250 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ پلانٹ فروری 2007 سے کام کر رہا ہے۔

    یہ سہولت تین بڑی زیر زمین عمارتوں پر مشتمل ہے، جو 50,000 سینٹری فیوجز کو چلانے کی صلاحیت رکھتی ہے تاہم اس وقت وہاں تقریباً 14,000 سینٹری فیوجز نصب ہیں، جن میں سے تقریباً 11,000 کام کر رہے ہیں، تاکہ یورینیم کو مخصوص حد تک صاف کیا جا سکے۔

    عالمی جوہری نگران ادارے کے سربراہ نے جمعے کے روز بی بی سی کو بتایا کہ ایران کے زیرِ زمین یورینیم افزودگی کے پلانٹ نطنز میں موجود سینٹری فیوجز اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اگر مکمل طور پر تباہ نہ بھی ہوئے ہوں تو بھی شدید نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔

  8. وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کی ہنگامی میٹنگ اور ایران کی نیوکلیئر سائٹس پر حملے سے متعلق منقسم رائے, جیک کوون، بی بی سی نیوز

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہنگامی میٹنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہنگامی میٹنگ ایک گھنٹہ اور 20 منٹ تک جاری رہی۔ بی بی سی کے پارٹنر سی بی ایس نیوز کے مطابق ہنگامی اجلاس میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ آیا امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ ایرانی نیوکلیئرسائٹس پر حملہ کرنا چاہیے کہ نہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے قریبی مشیروں کے درمیان اس بات پر مکمل اتفاق نہیں ہے۔

    کئی دنوں تک ایران کو مذاکرات میں واپس آنے کی ترغیب دینے کے بعد صدر ٹرمپ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا امریکہ کو براہ راست ایران کے خلاف اسرائیل کی جنگ میں شامل ہونا چاہیے۔

    امریکی قومی سلامتی کونسل کے کل ہونے والے اجلاس میں ٹرمپ اور ان کے مشیروں نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے امکان پر تبادلہ خیال کیا۔

    ایک ممکنہ ہدف فورڈو میں یورینیم کی افزودگی کا مقام بھی ہو سکتا ہے جو زیر زمین موجود ہے اور اسے تباہ کرنے کی صلاحیت صرف امریکہ کے پاس ہے۔

    سی بی ایس نیوز کے مطابق صدر کے مشیر ابھی تک آگے کے لائحہ عمل کے حوالے سے منقسم ہیں اور ان میں تا حال اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

    امریکی اور اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو فون کیا تاہم بی بی سی ابھی تک اس بات چیت کے متن کی تصدیق نہیں کر سکا۔

  9. اسرائیل میں فضائی حملے کے سائرن کی آوازیں

    اسرائیلی فوج نے ایران کی جانب سے حملے کا انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی فضائی حدود میں دراندازی کی وجہ سے شمالی اسرائیل میں سائرن بجا دیے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ان علاقوں کا نقشہ بھی شائع کیا ہے جہاں خطرے کے سائرن بجائے گئے ہیں۔

    نقشہ

    ،تصویر کا ذریعہIsrael Defense Forces/X

  10. ’الفتح‘ میزائل جسے ایران نے بیلسٹک اور کروز دونوں زمروں میں ہائپر سونک میزائل کے طور پر متعارف کرایا, فرزاد صیفی‌ کاران، بی‌ بی‌ سی

    الفتح-2 کروز میزائل، جس کے بارے میں ایران کا کہنا ہے کہ یہ سپرسونک ہے

    ،تصویر کا ذریعہNOGHTEH ZAN

    ،تصویر کا کیپشنالفتح-2 کروز میزائل، جس کے بارے میں ایران کا کہنا ہے کہ یہ سپرسونک ہے

    ہائپر سونک سے مراد وہ ہتھیار ہیں جن کی رفتار عام طور پر آواز کی رفتار سے پانچ سے پچیس گنا تک ہوتی ہے۔

    ایران نے پہلی بار ’فتح‘ میزائل کو بیلسٹک اور کروز دونوں زمروں میں ہائپر سونک میزائل کے طور پر متعارف کرایا۔

    ’الفتح‘ کے ہائپر سونک میزائل کی رینج 1400 کلومیٹر ہے اور آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ میزائل کو تباہ کرنے والے تمام دفاعی نظاموں کو چکمہ دے کر انھیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ’الفتح‘ ٹھوس ایندھن کے میزائلوں کی ایک نسل ہے جس کی رفتار ہدف کو نشانہ بنانے سے پہلے 13 سے 15 میک تک ہے۔ میک 15 کا مطلب پانچ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب ایرو سپیس آرگنائزیشن کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ نے الفتح میزائل کی نقاب کشائی کی تقریب میں کہا تھا کہ ’یہ میزائل تیز رفتار ہے اور فضا کے اندر اور باہر جا سکتا ہے۔‘ ساتھ ہی حاجی زادہ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ’فتح کو کسی میزائل سے تباہ نہیں کیا جا سکتا۔‘

    الفتح بیلسٹک میزائل کی نقاب کشائی کے بعد تہران کے فسلطین سکوائر میں اسرائیل کو دھمکی دینے کے لیے ایک اشتہار نصب کیا گیا جس پر ’400 سیکنڈز میں تل ابیب‘ تحریر تھا۔

    الفتح-1 کی نقاب کشائی کے چار ماہ بعد، پاسدارانِ انقلاب نے الفتح-2 کی نقاب کشائی کی جو 1500 کلومیٹر تک مار کرنے والے کروز میزائلوں کی ایک نسل ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق الفتح-2 ’بہت کم اونچائی پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور پرواز کے دوران کئی بار اپنا راستہ بھی بدل سکتا ہے۔‘

  11. ایران کا تل ابیب پر ’ہائپر سونک‘ الفتح میزائل داغے جانے کا دعویٰ

    ایران کے اسرائیل پر جوابی حملے کا ایک منظر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایران کے اسرائیل پر جوابی حملے کا ایک منظر

    ایرانی پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر رات گئے الفتح-1 ہائپر سونک میزائل داغے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’مہر‘ کے مطابق ایران نے اسرائیل کی جانب 'الفتح ون' میزائل داغے ہیں۔

    ایران کے سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی نے بھی اسرائیل پر الفتح میزائل داغے جانے کی خبر دی ہے اور دونوں ایرانی خبر رساں اداروں نے اس دعوے کو پاسداران انقلاب سے منسوب کیا ہے۔

    پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے آپریشن کے تازہ ترین مرحلے کو 'ٹرننگ پوائنٹ' قرار دیتے ہوئے کہا کہ الفتح میزائل کا داغنا اسرائیل کے دفاعی نظام کے لیے ’اختتام کا آغاز‘ ہے۔

    یاد رہے کہ اکتوبر 2024 کو اسرائیل پر ایران کے حملے کے دوران اس نے اسرائیل کی طرف درجنوں الفتح -1 میزائل بھی داغے تھے ۔ تاہم موجودہ جنگ میں یہ پہلا موقع ہے جب اس میزائل کا استعمال کیا گیا ہے۔

    الفتح میزائل کو پہلی بار 2023 میں منظر عام پر لایا گیا تھا اور اس کا نام ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے رکھا تھا۔

    اگرچہ پاسداران انقلاب کا دعویٰ ہے کہ الفتح ہائپر سونک میزائل ہے لیکن دفاعی ماہرین اس کی حقیقی ہائپر سونک صلاحیتوں کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق اس میزائل کے داغے جانے سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب نے نے تل ابیب کے رہائشیوں کے لیے انخلا کا الرٹ جاری کیا تھا جس میں اسرائیلی شہر پر بڑے حملے کی وارننگ دی گئی تھی۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے گزشتہ چند گھنٹوں میں میزائل حملے کی وارننگ جاری کرتے ہوئے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی جس کے بعد انھوں نے شہریوں کو مطلع کیا کہ وہ محفوظ پناہ گاہوں سے نکل سکتے ہیں۔

  12. اسرائیل کی جانب سے تہران کے قریب میزائل تیاری کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیل اپنے تازہ حملوں میں ایران کے دارالحکومت کے قریب خوجیر میزائل کی تیاری کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ یہ تنصیبات ایران کے بیلسٹک میزائل سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہیں اور اسرائیل نے گزشتہ سال اکتوبر میں بھی ایران پر اپنے حملوں میں اسے نشانہ بنایا تھا۔

    تہران کے علاقے حکیمیہ میں زور دار دھماکے کی اطلاعات

    بی بی سی فارسی کے مطابق تہران کے علاقے حکیمیہ میں متعدد زوردار دھماکے کی متعدد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

    ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے قریبی ذرائع ابلاغ نورنیوز نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب سے منسلک امام حسین یونیورسٹی ممکنہ طور پر حملے کا نشانہ تھی۔

  13. اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم جن لوگوں نے ابھی ابھی ہمارا ساتھ دینا شروع کیا ہے ان کے لیے اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • مشرقی انگلینڈ میں ایک فضائی اڈے سے امریکی جنگی طیارے روانہ ہوئے ہیں۔ ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ اسرائیل اور ایران کے بیچ لڑائی میں امریکہ بھی شریک ہو سکتا ہے۔
    • ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ایران ’کبھی بھی صیہونیوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔‘ سوشل میڈیا پر ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم صیہونیوں کو کوئی رعایت نہیں دیں گے۔‘ ایک مختلف پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ ’جنگ شروع ہو چکی ہے۔
    • خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تہران اور قریبی شہر کرج میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا پر فارسی زبان میں دیے گئے ایک پیغام میں تہران کی ڈسٹرکٹ 18 میں لوگوں کو آئندہ حملوں کے حوالے سے متنبہ کیا ہے۔ اس کے مطابق یہ حملے ایرانی فوج کے انفراسٹرکچر پر کیے جا رہے ہیں۔
    • آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل کی طرف مزید میزائل داغے گئے ہیں۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’خیبر شکن‘ میزائل بھی داغے گئے ہیں۔
    • اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں اس کا کہنا ہے کہ دفاعی نظام اس حملے کو ناکام بنا رہے ہیں۔ اس پیغام میں اسرائیلی شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا کہا گیا ہے۔
    • امریکہ میں بی بی سی کے نیوز پارٹنر سی بی ایس کو ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے غور کر رہے ہیں کہ آیا اسرائیل کے ساتھ مل کر فردو سمیت ایران میں جوہری مقامات پر حملے کیے جائیں۔
    • ایران میں اسرائیلی حملوں کے باعث پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر وہاں سے پاکستانی شہریوں کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران میں تعلیم حاصل کرنے والے سینکڑوں طلبہ پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق اب تک 460 سے زیادہ طلبہ زاہدان اور چاہبہار کے راستے پاکستان پہنچے ہیں۔ ان طلبہ میں سے زیادہ تر ایران کی یونیورسٹیوں میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
  14. امریکہ کے بمبار طیارے برطانوی اڈے سے روانہ

    امریکہ کے بمبار طیارے برطانوی اڈے سے روانہ

    ،تصویر کا ذریعہInstagram/g.lockaviation

    مشرقی انگلینڈ میں ایک فضائی اڈے سے امریکی جنگی طیارے روانہ ہوئے ہیں۔ ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ اسرائیل اور ایران کے بیچ لڑائی میں امریکہ بھی شریک ہو سکتا ہے۔

    تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رائل ایئر فورس کے اڈے سے بعض ایم 35 جنگی طیارے روانہ ہو رہے ہیں۔ ان کے ہمراہ ایئر ریفیولنگ ٹینکر طیارہ بھی موجود ہے۔

    امریکہ کے بمبار طیارے برطانوی اڈے سے روانہ

    ،تصویر کا ذریعہInstagram/g.lockaviation

  15. کیا ٹرمپ کو ’اعلان جنگ‘ کے لیے کانگریس کی اجازت درکار ہو گی؟

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ غیر واضح ہے کہ ایران اور اسرائیل کے بیچ تصادم کے دوران امریکہ کیا کردار ادا کرے گا۔ لیکن لڑائی میں شریک ہونے کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس کتنے اختیارات ہیں؟

    امریکی قانون کے مطابق صدر کے پاس کسی دوسرے ملک کے خلاف اعلانِ جنگ کا مکمل اختیار نہیں۔ صرف کانگریس ایسا کر سکتی ہے جہاں ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں قانون ساز موجود ہیں۔

    لیکن امریکی قانون میں صدر کو مسلح افواج کا کمانڈر اِن چیف بھی کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے وہ جنگ کا اعلان کیے بغیر فوجی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔

    مثلاً ٹرمپ نے 2017 میں شام پر فضائی حملوں کا فیصلہ کیا۔ بشار الاسد کی حکومت کے خلاف اس کارروائی کے لیے انھیں کانگریس کی اجازت درکار نہیں تھی۔ ٹرمپ نے اکیلے یہ فیصلہ کیا اور انھوں نے قومی سلامتی و انسانی حقوق کا جواز دیا۔

    دونوں طرف بعض قانون ساز ایران پر امریکی حملے سے متعلق ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    رپبلکن رکن تھامس میسی نے منگل کو کانگریس کی اجازت کے بغیر ایسے کسی حملے کو روکنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’یہ ہماری جنگ نہیں۔ اگر یہ ہوتی بھی تو ہمارے آئین کے تحت کانگریس کو ایسے معاملات پر فیصلہ کرنا ہوگا۔‘

  16. ایران کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا: ایرانی رہبر اعلیٰ

    ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای

    ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ایران ’کبھی بھی صیہونیوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔‘

    سوشل میڈیا پر ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم صیہونیوں کو کوئی رعایت نہیں دیں گے۔‘

    ایک مختلف پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ ’جنگ شروع ہو چکی ہے۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے ’غیر مشروط سرینڈر‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہمیں معلوم ہے نام نہاد رہبر اعلیٰ کہاں چھپے ہوئے ہیں۔ ہم انھیں کم از کم ابھی کے لیے ہلاک نہیں کر رہے۔‘ اس پیغام کے بعد یہ خامنہ ای کی پہلی پوسٹ ہے۔

    رواں ہفتے اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے خامہ ای کو ہلاک کرنے کے اسرائیلی منصوبے کو ویٹو کیا تھا۔

  17. تہران میں دھماکے، اسرائیل کا ایرانی شہریوں سے انخلا کا مطالبہ

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تہران اور قریبی شہر کرج میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا پر فارسی زبان میں دیے گئے ایک پیغام میں تہران کی ڈسٹرکٹ 18 میں لوگوں کو آئندہ حملوں کے حوالے سے متنبہ کیا ہے۔ اس کے مطابق یہ حملے ایرانی فوج کے انفراسٹرکچر پر کیے جا رہے ہیں۔

    آئی ڈی ایف کا اس پیغام میں کہنا ہے کہ ’اپنی حفاظت اور صحت کے لیے ہم آپ سے فوراً نکلنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس علاقے میں موجودگی آپ کی جان خطرے میں ڈال سکتی ہے۔‘

  18. ایران کا اسرائیل پر ایک اور میزائل حملہ

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل کی طرف مزید میزائل داغے گئے ہیں۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’خیبر شکن‘ میزائل بھی داغے گئے ہیں۔

    آئی ڈی ایف نے شہریوں کو محفوظ جگہوں پر جانے کا کہا ہے جبکہ ملک کے کئی علاقوں میں سائرن بجائے گئے ہیں۔

    ایک گھنٹے میں ایسا دوسری بار ہوا ہے کہ آئی ڈی ایف نے اسرائیلی شہریوں کو ایرانی میزائل حملوں کے پیش نظر شیلٹرز میں جانے کا کہا ہے۔

  19. اسرائیل پر ایرانی میزائل حملوں کے مناظر

    اسرائیلی شہروں پر ایرانی میزائل حملوں کے تازہ مناظر دیکھے گئے ہیں۔ اسرائیل نے ان میزائل حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایران، اسرائیل، میزائل حملے

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران، اسرائیل، میزائل حملے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران، اسرائیل، میزائل حملے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  20. ’ٹرمپ کی نتن یاہو سے بات چیت ہوئی ہے‘

    امریکی اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے فون پر بات چیت کی ہے۔

    بی بی سی نے مزید تفصیلات کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔