ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر مزید میزائل حملے، ٹرمپ کا اسرائیلی حملوں میں ممکنہ امریکی شمولیت پر غور
ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر میزائل حملوں کی نئی لہر کا آغاز کیا ہے۔ ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں میں شمولیت کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’میں شاید ایسا کروں یا پھر شاید نہ کروں۔ کوئی نہیں جانتا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں۔‘
خلاصہ
ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر میزائل حملوں کی نئی لہر کا آغاز کیا ہے اور دونوں نے ایک دوسرے کے اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں میں شمولیت کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’میں شاید ایسا کروں یا پھر شاید نہ کروں۔ کوئی نہیں جانتا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں‘۔
بی بی سی ویریفائی نے تصدیق کی ہے کہ پچھلے تین دنوں میں کم از کم 30 امریکی طیارے امریکہ کے اڈوں سے یورپ کی طرف اڑان بھر چکے ہیں۔
ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل تنازع میں کسی بھی قسم کی امریکی فوجی مداخلت کے نتیجے میں امریکہ کو ’ناقابلِ نقصان‘ سے دوچار ہونا پڑے گا۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران میں سینٹری فیوجز کی تیاری کے دو مراکز پر حملے ہوئے ہیں۔
لائیو کوریج
بریکنگ, ایران کی جانب سے مزید میزائل داغے گئے ہیں: آئی ڈی ایف
اسرائیلی
فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کی ہے۔
سوشل
میڈیا پر ایک پیغام میں اس کا کہنا ہے کہ دفاعی نظام اس حملے کو ناکام بنا رہے
ہیں۔
اس پیغام میں اسرائیلی شہریوں کو
محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا کہا گیا ہے۔
کچھ دیر قبل پاسداران انقلاب نے کہا
تھا کہ تہران کی فضائی حدود میں فضائی دفاعی نظام فعال ہے۔
بعد ازاں
ایرانی میزائل حملوں کا سلسلہ تھمنے پر آئی ڈی ایف نے شہریوں کو بتایا کہ اب وہ شیلٹرز
سے باہر نکل سکتے ہیں۔ اسرائیل میں مختلف مقامات پر سائرن بجائے گئے تھے۔
’ٹرمپ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران میں جوہری مقامات پر حملے کا سوچ رہے ہیں‘
امریکہ میں بی بی سی کے نیوز پارٹنر سی بی ایس کو ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے غور کر رہے ہیں کہ آیا اسرائیل کے ساتھ مل کر فردو
سمیت ایران میں جوہری مقامات پر حملے کیے جائیں۔
متعلقہ اہلکاروں نے سی بی ایس کو بتایا ہے کہ اس معاملے پر سٹویشن روم میں بات
چیت متوقع تھی مگر ٹرمپ کے قریبی مشیروں کے بیچ اس حوالے سے اتفاق نہیں ہوا۔
وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی
سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی تھی جو ایک گھنٹہ 20 منٹ تک جاری رہا تھا۔ ٹرمپ
نے اس اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو نہیں کی۔
ایران سے 460 طلبہ واپس پاکستان پہنچ چکے ہیں: پاکستانی حکام, محمد کاظم/بی بی سی اردو، کوئٹہ
ایران میں اسرائیلی حملوں کے باعث پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر وہاں سے پاکستانی شہریوں کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران میں تعلیم حاصل کرنے والے سینکڑوں طلبہ پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق اب تک 460 سے زیادہ طلبہ زاہدان اور چاہبہار کے راستے پاکستان پہنچے ہیں۔ ان طلبہ میں سے زیادہ تر ایران کی یونیورسٹیوں میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
زاہدان کے راستے طالب علم پہلے بلوچستان کے ضلع چاغی کے ملحقہ سرحدی شہر تفتان پہنچے جبکہ چاہبہار کے راستے آنے والے گوادر پہنچے ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنر تفتان نعیم قاسم شاہوانی نے بتایا کہ تفتان میں منگل کی دوپہر تک 251 طلبہ پہنچے تھے جن میں سے 200 سے زیادہ کو منگل کی شب کوئٹہ پہنچا دیا گیا۔
کمشنر کوئٹہ ڈویژن حمزہ شفقات اور دیگر سرکاری حکام نے ان طلبہ کا کوئٹہ میں استقبال کیا۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق دیگر صوبوں سے ہے۔
کمشنر کا کہنا تھا کہ دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو آج ان کے آبائی علاقوں کی طرف روانہ کیا جائے گا۔ ضلع گوادر کے اسسٹنٹ کمشنر جواد زہری نے بتایا کہ ایران سے اب تک 218 پاکستانی طلبہ گوادر پہنچے ہیں جن کو یہاں سے ان کے آبائی علاقوں کے لیے روانہ کر دیا جائے گا۔
عالمی رہنما ٹرمپ کے اگلے قدم کا اندازہ لگا رہے ہیں, کریس میسن، پولیٹیکل ایڈیٹر/کینیڈا میں جی سیون اجلاس سے
جی سیون اجلاس میں عالمی رہنما یہ اندازے لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں آگے کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے ہیں۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ عالمی رہنماؤں نے امریکی مداخلت کے بارے میں ’بات‘ کی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹامر نے امریکی صدر کے حالیہ تبصروں سے پہلے تجویز دی تھی کہ ٹرمپ نے ایسا کچھ نہیں کہا جس سے یہ معلوم ہو کہ وہ اس جنگ میں شامل ہونے والے ہیں۔
اس بیان کے چند گھنٹوں بعد حالات تیزی سے بدل گئے۔ جی سیون رہنما اب صرف اندازے لگا رہے ہیں کہ ٹرمپ کیا کرنے جا رہے ہیں۔
ایران اور ایرانی عوام بھی ایسا ہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اسی طرح وسیع دنیا بھی یہی کر رہی ہے۔ شاید مقصد بھی یہی تھا۔
ایرانی حکومت اور ایرانی عوام امریکہ کی طرف سے دھمکی آمیز بیان پر کیا ردعمل ظاہر کریں گے؟
میں نے سر کیئر سٹامر سے پوچھا کہ کیا وہ ایران میں حکومت کا تختہ الٹنے والے لوگوں کا خیرمقدم کریں گے؟ انھوں نے جواب دیا کہ ’میں ایران میں حکومت کا حامی نہیں ہوں۔‘
میں نے پوچھا ’اگر وہاں کے لوگ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو آپ اس کا خیر مقدم کریں گے؟‘
اس پر انھوں نے کہا کہ ’برطانیہ کے وزیر اعظم کے طور پر یہ میرا فیصلہ نہیں۔۔۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ کیسے، کب اور کس قیمت پر ہو سکتا ہے۔‘
ایران میں رجیم چینج سے افراتفری برپا ہو گی: میکخواں
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے کینیڈا میں جی سیون سربراہی اجلاس سے خطاب کیا ہے۔
خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ ایران میں فوجی کارروائیوں سے حکومت کی تبدیلی بڑی غلطی ہو گی۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی تبدیلی سے ’افراتفری برپا ہو گی‘ اور ان کا خیال ہے کہ ممالک کو ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ہمیں امریکہ کی ضرورت ہے تاکہ ہر ایک کو میز پر واپس لایا جائے۔‘
’اسرائیل نے ایران میں گہرائی میں جا کر حملے کیے، ہمیں کئی محاذوں پر خطرات کا سامنا ہے‘
،تصویر کا ذریعہIDF
،تصویر کا کیپشناسرائیلی دفاعی فورس (آئی ڈی ایف) کے ترجمان ایفی دیفرن
اسرائیلی
دفاعی فورس (آئی ڈی ایف) کے ترجمان ایفی دیفرن نے صحافیوں کو دی گئی
بریفنگ میں بتایا ہے کہ ’ہم نے گہرائی میں جا کر ایران کی جوہری، بیلسٹک اور کمانڈ
صلاحیتوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘
دیفرن نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے
ایرانی سکیورٹی کے رکن علی شادمانی کو ہلاک کیا ہے۔ اسرائیلی فوج آج پہلے ہی اس پیشرفت
سے متعلق بیان دے چکی ہے۔
ان کا
کہنا ہے کہ ’آئی ڈی ایف نے علی شادمانی کو ہلاک کیا، وہ ایران میں جنگ کے چیف آف
جنرل سٹاف تھے۔ شادمانی کو یہ عہدہ چار روز قبل ملا تھا اور ان کے ساتھ وہی ہوا جو
ان کے پیشرو کا ہوا تھا۔‘
علی شادمانی غلام علی رشید کے جانشین
تھے جو گذشتہ ہفتے اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔
ایرانی میڈیا نے تاحال علی شادمانی
کی ہلاکت سے متعلق اطلاع نہیں دی ہے۔
آئی ڈی ایف ترجمان نے مزید بتایا کہ اسرائیل کو ’کئی محاذوں پر خطرات کا سامنا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ایران میں خطرات کو دور کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں
مگر اس دوران ہم ابھی بھی غزہ میں ان کی پراکسی حماس سے لڑ رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ حماس اب بھی 53 یرغمالیوں کو ’وحشیانہ حالات میں‘ رکھے
ہوئے ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہم اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک وہ (یرغمالی)
گھر واپس نہیں آ جاتے۔‘
یوں ان کی مختصر پریس بریفنگ اختتام پذیر ہوئی۔
تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں: برطانوی سیکریٹری دفاع
برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پورے خطے کے لیے ’خطرناک لمحہ‘ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ برطانوی حکومت نے ہمیشہ اسرائیل کے تحفظ کے حق کی حمایت کی ہے اور اسے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں شدید تحفظات تھے۔ لیکن وہ تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ہیلی کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی عمل ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔
سیکریٹری دفاع کا کہنا ہے کہ خطے میں اضافی فوجی تعیناتیاں ہو رہی ہیں، بشمول قبرص میں ٹائیفون طیارے۔
ان کے مطابق یہ خطے میں برطانیہ کے فوجی اہلکاروں کے لیے حفاظتی عمل ہے اور وہ اب ہائی الرٹ پر ہیں۔ ’یہ اقدام سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے تھا۔‘
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انھیں خدشہ ہے کہ امریکہ ایران پر اسرائیل کے حملوں میں شامل ہو سکتا ہے ہیلی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ان عالمی رہنماؤں کی قیادت کر رہے ہیں جو تہران سے معاہدے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ برطانوی اور امریکی فوجی کا متحرک ہونا ایران کے لیے پیغام ہے کہ مسئلے کا سفارتی حل تلاش کیا جائے۔
بریکنگ, تہران میں مزید دھماکوں کی اطلاعات
ایران کے دارالحکومت تہران میں مزید دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شہر بھر میں دھماکوں کی اونچی آوازیں سنائی دی ہیں۔ ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق تہران میں ’مسلسل اور شدید‘ دھماکے ہو رہے ہیں۔
’اسرائیلی رہائشی تل ابیب اور حیفہ سے نکل جائیں‘، ایران کا انتباہ, غنچہ حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی
ایرانی میڈیا کی جانب سے ایران کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف کا اسرائیل کے رہائشیوں کے لیے ایک پیغام جاری کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اپنی جان بچانے کے لیے جلد از جلد انخلا کریں، خاص طور پر وہ لوگ جو تل ابیب اور حیفہ میں رہتے ہیں۔‘
میجر جنرل عبدالرحیم موسوی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’اب تک کی گئی کارروائیاں ڈیٹرنس کے لیے تھیں‘ اور ایران کی طرف سے ایسا آپریشن جلد شروع کیا جا سکتا ہے جس میں ’سزا‘ دی جائے گی۔
اگرچہ جمعے سے اب تک ایرانی حملوں میں کم از کم 24 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں لیکن زیادہ تر ایرانی میزائلوں کو اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام نے روک دیا ہے۔
ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایرانی ’محفوظ‘ رہیں مگر ابھی تک وہ امریکہ کا پلان نہیں بتا رہے, انتھونی زرچر، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہReuters
گذشتہ رات ایئر فورس ون کی پرواز پر کینیڈا سے واپسی کے دوران ہم نے امریکی صدر پر مزید تفصیلات کے لیے دباؤ ڈالا۔ لیکن ان کے اکثر جوابات مبہم تھے۔
وہ چاہتے ہیں کہ تہران کے لوگ ’محفوظ‘ رہیں۔ وہ جنگ بندی سے زیادہ یہ چاہتے ہیں کہ اس تنازع کا ’حقیقی خاتمہ‘ ہو جس میں ایران ہتھیار ڈال دے۔
میں نے ان سے پوچھا کہ وہ واشنگٹن میں کیا کر سکتے ہیں جو وہ کینیڈا میں نہیں کر سکتے تو انھوں نے کہا کہ وہ حساس بات چیت ٹیلی فون پر نہیں کرتے۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ وہ اب ایران کے ساتھ بات چیت کرنے کے ’زیادہ موڈ میں نہیں‘۔
اس سے پچھلے دن ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں اسرائیل ایران کے ساتھ اپنی جنگ جیت رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو شاید ٹرمپ کا بنیادی ہدف ایران کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کو قبول کرنا ہے۔
امریکہ اس کے ساتھ ساتھ جلد بازی کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، جیسے ایرانی جوہری اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیل کو طاقتور ’بنکر-بسٹر‘ بم فراہم کرنا یا امریکی جنگی طیاروں کو اس طرح کے حملوں کا حکم دے کر۔
پیر کے دوران ٹرمپ نے اشارہ کیا کہ ان کے واشنگٹن واپس پہنچنے پر کچھ ہو سکتا ہے، یا کوئی تبدیلی۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’میرے خیال میں ایک معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے، یا کچھ ہو جائے گا۔‘ انھوں نے یہ بات صحافیوں سے تب کی جب وہ برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ کھڑے تھے۔
تاحال اس ’کچھ‘ کا انتظار جاری ہے۔
کیا امریکہ اس جنگ میں شریک ہونے والا ہے؟, فرینک گارڈنر، سکیورٹی نامہ نگار/بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہUSAF
،تصویر کا کیپشنبی ٹو سپیریٹ بومبر
یہ سوال 30 ہزار پونڈ وزنی ہے۔ کیونکہ
ایران کے سب سے خفیہ اور قیمتی جوہری تنصیبات تک پہنچنے کے لیے 13 ہزار 600 کلو
گرام وزنی ہتھیار درکار ہے۔ فردو میں ایک پہاڑ کے نیچے دبا ایرانی پلانٹ 90 میٹر کی
گہرائی پر ہے۔
اس ہتھیار کا نام ’جی بی یو 57 ایم
او پی‘ ہے جسے انگریزی میں میسیو آرڈیننس پینیٹریٹر کہتے ہیں۔ یہ زیرِ زمین 61
میٹر گہرائی پر بھی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے کئی مرتبہ
استعمال کرنے سے مزید گہرائی میں بھی جایا جا سکتا ہے۔
یہ ہتھیار امریکہ کے پاس ہے، اسرائیل
کے پاس نہیں۔
صرف ایک طیارہ اس غیر جوہری بم کو لے
جانے کی صلاحیت رکھتا ہے: یو ایس اے ایف بی ٹو سپیریٹ بومبر جو ایک ساتھ ایسے دو
بم لے جا سکتا ہے۔
خیال ہے کہ یہ طیارے بحیرۂ ہند میں
امریکی و برطانوی اڈے پر ڈیاگو گارسیا میں موجود ہیں اور ان کا ایران سے فاصلہ
3796 کلو میٹر ہے جو کہ بی ٹو کی رینج میں ہی آتا ہے۔
امریکی نیوی کیریئر سٹرائیک گروپ اس
خطے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اگر اسرائیل ایران کے جوہری ہتھیار
کی تنصیبات تباہ کرنا چاہتا ہے تو اسے فردو سے نمٹنا ہوگا۔ اسرائیل کے لیے ایسا
ممکن نہیں مگر امریکہ یہ کر سکتا ہے۔ اسرائیلی کمانڈو ریڈ ایک دوسری مگر خطرناک
آپشن ہے۔
بہت سے لوگ فی الحال خطے میں امریکی
فوج کی سرگرمیاں دیکھ رہے ہوں گے۔ سوال ہے کہ کیا یہ محض ایک داؤ ہے تاکہ تہران پر
دباؤ ڈال کر اسے معاہدے پر آمادہ کیا جا سکے؟ یہ بات بھی اہم ہے کہ ٹرمپ ماضی میں
جنگوں کی مخالفت کر چکے ہیں۔
’معلوم ہے ایران کے نام نہاد رہبرِ اعلیٰ کہاں چھپے ہیں، وہ آسان ہدف ہیں‘: امریکی صدر کا ایران سے ’غیرمشروط سرینڈر‘ کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے
اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ: ’ہم نے ایران کی فضائی حدود کا مکمل
کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران
کے پاس اچھے ریڈار اور دیگر دفاعی ساز و سامان تھا لیکن اس کا امریکہ میں تیار
کردہ ساز و سامان سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔‘
خیال رہے امریکہ گذشتہ کئی
برسوں سے اسرائیل کو عسکری امداد اور دفاعی ساز و سامان مہیا کر رہا ہے لیکن جمعے
کو اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع میں شدت آنے کے بعد امریکہ نے سرکاری طور پر
مؤقف اختیار کیا تھا کہ امریکہ کا ایران پر اسرائیلی حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
،تصویر کا ذریعہTruth Social/Donald Trump
ایک اور پوسٹ میں امریکی
صدر کا کہنا تھا کہ: ’ہمیں معلوم ہے کہ (ایران کے) نام نہاد رہبر اعلیٰ کہاں چھپے
ہیں۔‘
’وہ ایک آسان ہدف ہیں لیکن
وہ ابھی محفوظ ہیں۔ ہم فی الحال انھیں نشانہ بنانے (ہلاک) کرنے نہیں جا رہے۔‘
تاہم صدر ٹرمپ کا مزید
کہنا تھا کہ ’لیکن ہم نہیں چاہتے کہ عام شہریوں یا امریکی فوجیوں پر میزائل داغے
جائیں۔ ہماری برادشت جواب دے رہی ہے۔‘
انھوں نے اپنی تیسری سوشل
میڈیا پوسٹ میں ایران سے ’غیر مشروط سرینڈر‘ کا مطالبہ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ ایران میں یورینیم کی افزودگی روکنے کے لیے شاید ’مزید ایکشن‘ لیں: امریکی نائب صدر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی نائب صدر جے ڈی
وینس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے خاتمے کے لیے ’شاید یہ
فیصلہ کریں کہ انھیں مزید ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔‘
اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ
میں امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس ’افزودہ شدہ یورینیم مقررہ ضروری
حد سے زیادہ‘ ہے اور شاید امریکی صدر ’یہ فیصلہ کریں کہ انھیں ایران کی افزودہ شدہ
یورینیم کے خاتمے کے لیے مزید ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔‘
نائب صدر جے ڈی وینس کا مزید
کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ صرف ’امریکی عوام کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے امریکی فوج کو
استعمال کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘
’وہ جو بھی کرتے ہیں ان کی
توجہ اسی مقصد پر مرکوز رہتی ہے۔‘
’ہم کہاں جائیں‘: صدر ٹرمپ کی تہران خالی کرنے کی وارننگ پر ایرانی شہری کیا کہتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ رات امریکی صدر
ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے رہائشیوں کو وارننگ جاری کی تھی کہ ’سب تہران سے فوراً نکل
جائیں‘ اور اس سے قبل اسرائیل نے بھی شمال مشرقی ایران کے شہریوں کو ایسی ہی وارننگ
جاری کی تھی۔
بی بی سی فارسی نے امریکی
صدر کی وارننگ کے حوالے سے ایرانی شہریوں سے گفتگو کی ہے۔
ایران کے ایک شہری کا کہنا
تھا کہ ’شہر چھوڑنے کی وارننگ سے ان کی مراد کیا ہے؟ کیا یہ ممکن بھی ہے؟‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہم
کہاں جائیں اور وہاں کیسے پہنچیں؟ یہ کسی قسم کی فضول بات ہے؟‘
تہران میں رہائش پزیر ایک
اور خاتون کہتی ہیں کہ انھوں نے گذشتہ تین دنوں سے اپنے والدین کی آواز تک نہیں
سُنی ہے۔
’جب بھی کوئی حملہ ہوتا ہے
اور ہم اس کے بارے میں سُنتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی اور موت ہمارے
سامنے ہو۔ میرے والد انٹرنیٹ تک رسائی نہیں حاصل کر پا رہے اور میری والدہ کا انٹرنیٹ
منقطع ہو چکا ہے۔‘
اس حوالے سے یورپ میں مقیم
ایک میڈیکل سٹودنٹ کہتے ہیں کہ: ’ہمیں ہمارے خاندانوں کی فکر کھائی جا رہی ہے، اگر
ایران کی فضائی حدود بند نہ ہوتی تو ہم میں بہت سارے لوگ ایران لوٹ چکے ہوتے۔‘
سوشل میڈیا پر ایرانی شہریوں کی اپنی حکومت پر تنقید, جیار گُل، بی بی سی فارسی
ایران میں ایسے بھی لوگ ہیں
جو اسرائیل کے ساتھ جنگ کو عوام کی نہیں بلکہ حکومتی جنگ کے طور پر دیکھتے ہیں۔
پابندیوں کے باوجود ہم
ایسے بہت سارے لوگوں کو دیکھ رہے ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ایرانی حکومت کے
خلاف ہیں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ نتن یاہو کی حمایت کر رہے ہیں بلکہ وہ اپنی
حکومت سے تنگ آ چکے ہیں اور اس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
ایران کی انٹیلی جنس ایجنسیاں
ایسے لوگوں کو گرفتار کر رہی ہیں جو کہ پاسدارانِ انقلاب کی مبینہ کمزروی کے حوالے
سے سوشل میڈیا پر لطیفے شیئر کر رہے ہیں۔
تہران میں ایک شخص نے مجھے
بتایا کہ ان کے 14 سالہ بیٹے کو سوشل میڈیا پر میمز شیئر کرنے کی وجہ سے پوچھ گچھ
کے لیے لے جایا گیا تھا اور انھیں اپنے بیٹے کی رہائی کے لیے گڑگڑانا پڑا تھا۔
ایران میں ابھی اس طرح کا
ماحول ہے۔ عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کے علاوہ اس وقت اسرائیل ایران کی سکیورٹی
ایجنسیوں کو بھی کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو کہ ملک میں نقص امن اور احتجاجی
مظاہروں کو دبانے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔
ایران میں حکومت کی تبدیلی اسرائیل کے مقاصد میں شامل نہیں: اسرائیلی وزیرِ خارجہ
اسرائیل کے وزیرِ خارجہ
جدون ساعر کا کہنا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی اسرائیلی فوج کی عسکری مہم کا
حصہ نہیں ہے تاہم اس مہم کے نتیجے میں ایسا ضرور ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ خارجہ کا
بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ ایرانی میزائلوں کا نشانہ بننے والے
مقامات کا دورہ کر رہے تھے۔
جدون ساعر نے صحافیوں کو
بتایا کہ اسرائیل کے تین مقاصد ہیں: ’سب سے پہلے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو شدید
نقصان پہنچانا اور ابھی بھی ہم اس میں مصروف ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی
جہازوں کو ایرانی فضائی حدود میں سبقت حاصل ہے اور ’ہمارے پاس اب بھی اہداف موجود
ہیں۔‘
ساعر جدون کے مطابق
اسرائیل کا دوسرا مقصد ’ایرانی حکومت کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو شدید نقصان
پہنچانا ہے‘ اور آخر میں ’اسرائیل کے خاتمے کے منصوبے شدید نقصان پہنچانا بھی
ہمارے مقاصد میں شامل ہے۔‘
کیا اسرائیل کے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کسی بڑے جوہری سانحے کا باعث بن سکتے ہیں؟, وکٹوریا جِل، نامہ نگار برائے سائنس
،تصویر کا ذریعہSatellite image (c) 2025 Maxar Technologies
اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے
لیکن ان حملوں کا ہدف صرف وہ مراکز تھے جہاں یورینیم کی افزودگی کا عمل جاری تھا۔
ماہرین نے بی بی سی نیوز
کا بتایا ہے کہ ان مقامات کو ہونے والے نقصانات کے سبب چرنوبل یا فوکوشیما سانحات
جیسے بڑے ’جوہری واقعے‘ کا خطرہ نہیں ہے کیونکہ ان مقامات پر کوئی نیوکلیئر ری ایکٹر
نہیں ہے۔
جب کبھی کسی وجہ سے جوہری
ری ایکشن ہوتا ہے تو یورینیم کے اندر موجود ایٹم بہت زیادہ توانائی اور گرمی پیدا
کرتے ہیں جس کے نتیجے میں تباہی کا خطرہ ہوتا ہے۔
تاہم یورینیم کی افزودگی
کے مراکز صرف فیول ہی پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔
جوہری مواد پر تحقیق کرنے
والے سائنسدان پروفیسر سائمن مڈل برگ نے مجھے بتایا کہ اگر یورینیم کی افزودگی کے
مرکز پر حملہ ہوتا ہے تو ’یورینیم مرکز سے نکل کر ممکنہ طور پر ماحول میں گھل جاتی
ہے۔‘
’اس کے نتیجے میں کسی
جوہری ردِعمل کا امکان نہیں ہوتا، اس لیے نقصانات مقامی سطح پر ہی نظر آئیں گے اور
اس کے سبب کوئی بڑا ریڈیولوجیکل خطرہ موجود نہیں ہے۔‘
جمعے سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 109 ایرانی فوجی سمیت کل 450 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے: انسانی حقوق کی تنظیم کا دعویٰ
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ان ایران اسرائیلی حملوں سے ایران میں ہونے والی ہلاکتوں کا ریکارڈ مرتب کر رہی ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں جمعے سے اب تک 224 شہری ہلاک اور 188 زخمی ہوئے ہیں جبکہ ان حملوں میں 109 ایرانی فوجی ہلاک اور 123 زخمی ہوئے ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے اس کے علاوہ دیگر 119 افراد ہلاک اور 335 زخمی ہوئے ہیں جن کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ان ایران کے مطابق اسرائیلی حملوں میں پونے والی ہلاکتوں کی کل تعداد 452 ہے جبکہ 646 زخمی ہوئے ہیں۔
ایران کا سرکاری میڈیا اب تک ہلاکتوں کی تعداد پر خاموش ہے جبکہ حکومت بہت کم اعداد و شمار جاری کر رہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ منگل کے روز ہونے والے ایرانی میزائل حملوں کے بعد 154 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ جمعے سے اب تک ایرانی حملوں میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
مزید ممالک کا اپنے شہریوں کو اسرائیل اور ایران سے نکالنے کا اعلان
مزید ممالک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو اسرائیل اور
ایران سے نکال رہے ہیں۔
چیک ری پبلک کی حکومت کا ایک طیارہ 60 سے زائد افراد کو لے کر
اسرائیل سے پراگ پہنچا ہے۔
تھائی لینڈ نے بھی اپنی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں
کے انخلا کے لیے طیارے تیار کرے۔
کہا جاتا ہے کہ اسرائیل میں تقریباً 40,000 تھائی باشندے موجود
ہیں جن میں سے بیشتر کھیتوں میں مزدوری کرتے ہیں۔ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے
حملوں میں بھی کچھ تھائی شہری پکڑے گئے تھے اور پانچ کو غزہ میں یرغمال بنایا گیا
تھا۔
پولینڈ بھی اپنے شہریوں کے اسرائیل سے انخلا کے لیے پروازوں کا
انتظام کر رہا ہے۔ اس سے قبل پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسلا سیکورسکی نے گذشتہ روز
بتایا تھا کہ پولینڈ کے 300 سے زائد شہریوں نے حکومت سے اسرائیل سے انخلا کی درخواست
کی تھی۔
نائب وزیر خارجہ ہنریکا موسککا-ڈینڈیس کا کہنا ہے کہ پولینڈ تہران
سے اپنے سفارت خانے کے غیر ضروری عملے کو آذربائیجان کے راستے نکالنے کا بھی منصوبہ
بنا رہا ہے۔
دوسری جانب چین نے بھی اعلان کیا کہ اس کے کچھ شہری ایران
چھوڑ کر پڑوسی ممالک جا چکے ہیں۔
کیا اسرائیلی حملوں کا مقصد ایران کی حکومت کا تختہ پلٹنا ہے؟, اینا فوسٹر، ریڈیو 4 کی میزبان، ہروشلم
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
،تصویر کا کیپشنایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای
جمعے کے روز جب اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے تو نتن
یاہو کے مطابق اس کا مقصد ایران سے اسرائیل کی سلامتی کو لاحق خطرات کا سدِباب اور ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا۔
تاہم اب زیادہ بات ایران کی حکومت کی تبدیلی کے بارے میں ہو رہی
ہے۔
ایسی اطلاعات تھیں کہ اسرائیل ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کر سکتا تھا لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں ایسا کرنے سے روک دیا۔
لیکن میرے خیال ایران میں رجیم چینج کی تجویز ابھی بھی میز پر
ہے۔
ایران میں بہت سے مسائل ہیں۔ وہاں ایک جابرانہ حکومت قائم ہے اور
ملک میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ یہ قیادت چلی جائے۔
اور ایسے اشارے ملتے ہیں کہ شاید حکمت عملی یہ ہے کہ اس راہ
میں حائل رکاوٹوں کو دور کر دیا جائے تاکہ عوام خود اٹھ کر ایرانی حکومت کا تختہ الٹ دیں۔