پاکستان اور افغان طالبان کا جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق، 6 نومبر کو استنبول میں مذاکرات کا نیا دور شروع ہوگا

پاکستان اور افغان طالبان جنگ بندی جاری رکھنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ ترکی نے استنبول مذاکرات کے بعد پاکستان اور افغان طالبان کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا ہے۔ اعلامیے میں یہ کہا گیا ہے کہ فریقین نے جنگ بندی کے تسلسل پر اتفاق کیا ہے اور اب جنگ بندی کے نفاذ کے قواعد و ضوابط 6 نومبر سے استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں طے کیے جائیں گے۔

خلاصہ

  • پاکستان ترکی کی درخواست پر استنبول میں افغان طالبان سے مذاکراتی عمل بحال کرنے پر رضامند: سرکاری میڈیا
  • امریکی صدر کی چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات: نایاب معدنیات کی تجارت کا معاملہ طے پا گیا، اپریل میں چین کا دورہ کروں گا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی وزارتِ جنگ کو ہدایت کی ہے کہ وہ بھی چین اور روس کے جتنے نیوکلیئر تجربات شروع کر دیں
  • بلوچستان میں انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر آپریشن، 18 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر
  • خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں شدت پسندوں کے آپریشن, ایک کیپٹن سمیت چھ سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک

لائیو کوریج

  1. متنازع ٹویٹس کا مقدمہ، وکیل ایمان مزاری کے شوہر ہادی علی چٹھہ گرفتار

    Iman Mazari

    ،تصویر کا ذریعہX

    متنازع ٹویٹس کے مقدمے میں سماجی کارکن وکیل ایمان مزاری کے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    اسلام آباد کی ایک عدالت نے بدھ کو ایمان مزاری اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ کے خلاف درج مقدمے کی سماعت کی اور ہادی علی کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے، جس کے بعد عدالت سے نکلتے ہی انھیں گرفتارکر لیا گیا۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کرکے کل پیش کرنے کا حکم دے دیا۔اس عدالتی حکمنامے کے بعد جیسے ہی سماعت کے بعد وہ کمرہ عدالت سے باہر نکلے تو انھیں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اہلکاروں نے ہتھکڑی لگا کر گرفتار کرلیا۔

    دونوں ملزمان پر یہ الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔

    ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتہ افراد کے معاملات کی ذمہ داری سکیورٹی فورسز پر عائد کی تھی۔ یہ مقدمہ الیکٹرانک کرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ 30 ستمبر کو جج محمد افضل مجوکہ کی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

    تفصیلات کے مطابق این سی سی آئی اے نے ملزمان کے خلاف سات صفحات پر مشتمل چالان جمع کرایا تھا، چالان میں پراسیکیوشن کے چار گواہان کی فہرست بھی شامل تھی۔

    چاروں گواہان این سی سی آئی اے کے ملازم ہیں، چالان میں ایمان مزاری کے مختلف ٹوئٹس کا متن بھی درج تھا۔

    چالان میں کہا گیا تھا کہ ایمان مزاری کی ٹوئٹس کو ری ٹوئٹ یعنی انھیں مزید آگے پھیلایا تھا۔

  2. غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 100 سے زائد فلسطینی ہلاک، وزارت صحت

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ میں منگل کی رات کیے گئے اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 100 سے بڑھ گئی ہے۔

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے حماس کی جانب سے امریکی ثالثی میں جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کے جواب میں ’درجنوں دہشت گرد اہداف اور دہشت گردوں‘ کو نشانہ بنایا۔

    فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں اب تک کم از کم 104 فلسطینیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اسرائیلی حملوں میں غزہ شہر اور بیت لاہیا میں گھروں، سکولوں اور رہائشی بلاکوں، وسطی غزہ میں بریج اور نصیرات اور جنوب میں خان یونس کو نشانہ بنایا گیا۔

    غزہ شہر میں عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکوں نے متعدد رہائشی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا اور ’آگ اور دھوئیں کے ستون‘ ہوا میں بلند ہوتے دیکھے گئے۔

    غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان میں 46 بچے اور 20 خواتین بھی شامل ہیں جبکہ 250 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    اسرائیلی وزیر دفاع نے حماس پر غزہ میں حملے کا الزام عائد کیا ہے جس میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہوا ہے کہا ہے کہ اس نے یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنے کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔

    ادھر حماس کا کہنا ہے کہ اس کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اس معاہدے سے وابستہ ہے۔

    غزہ پر اسرائیلی حملوں کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ خطے میں جنگ بندی ’خطرے میں نہیں ہے‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ جب اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا جائے تو اسرائیل کو ’جوابی حملہ‘ کرنا چاہیے۔

  3. قوم پرست کارکن غنی امان اللہ لاپتہ: رینجرز والے گاڑیوں میں ہسپتال میں داخل ہوئے اور میرے بھائی کو اٹھا کر لے گئے‘, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    Ghani Amanullah Chandio

    ،تصویر کا ذریعہGhani's family

    کراچی سے قوم پرست کارکن غنی امان اللہ چانڈیو کی گمشدگی کے بعد ان کی بہن نے اپنے بھائی کے اغوا کے مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست دائر کردی ہے۔

    فیروز آباد تھانے میں غنی کی بہن سندھو امان چانڈیو کی جانب سے دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کی نومولود بھتیجی شاہراہ قائدین پر واقع ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھی۔

    ان کا کہنا ہے کہ منگل کے روز شام چار بجے کے قریب وہ، ان کا چھوٹا بھائی صفی اللہ، ان کے شوہر عنایت اللہ موجود تھے کہ اسی دوران غنی وہاں پہنچے تاکہ بچوں کی دیکھ بھال کر سکیں۔

    مدعی کا دعویٰ ہے کہ اچانک سے پانچ، چھ گاڑیاں جن میں رینجرز کی گاڑیاں اور دیگر دو ویگو ڈالے شامل تھیں وہاں پہنچیں۔

    سندھو چانڈیو کا کہنا ہے کہ ان گاڑیوں میں سوار سادہ کپڑوں میں ملبوس 15 سے 20 افراد ہسپتال میں داخل ہوئے اور مختلف کمروں کی تلاشی لیتے ہوئے بالآخر ان کے کمرے میں داخل ہوئے۔

    ’عام کپڑوں میں ملبوس لوگوں نے بدتمیزی کی، شناختی کارڈ لیے اور چلے گئے۔ دو منٹ کے بعد انھوں نے غنی کو اغوا کرلیا۔ جب میں نے پوچھا کہ اسے کیوں لے کر جا رہے ہیں تو مجھ پر اور میرے بھائی پر بہیمانہ تشدد کیا گیا۔‘

    مدعی کا موقف ہے کہ ان کے بھائی کو بغیر کسی الزام کے گرفتار کیا گیا ہے جو کہ غیر قانونی اقدام ہے لہٰذا ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔

    صفی اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بھائی سماجی کارکن ہیں اور وہ انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں جو کوئی جرم نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم نے رینجرز والوں سے کہا کہ اگر بھائی نے کوئی جرم کیا ہے تو بتائیں تاکہ ہم خود انھیں تھانے لے کر جائیں اور پھر یہ قانون کا سامنا کریں مگر ہماری کسی نے نہ سنی اور میری بہن کی میری آنکھوں کے سامنے بے توقیری کی گئی۔‘

    بی بی سی نے اس حوالے سے رینجرز کے ترجمان کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی لیکن تاحال ان کی جانب سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

    غنی کے والد امان اللہ چانڈیو کا تعلق جام شورو سے ہے اور وہ ایک ریٹائرڈ سرکاری استاد ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا سندھی نیشنل کانگریس کے طلبہ ونگ کا ’آرگنائز‘ ہے اور انھوں نے سندھ یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا ہے اور انٹرنیٹ کے شعبے سے مسنلک ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کا کسی کالعدم جماعت سے تعلق نہیں تاہم وہ انسانی حقوق اور شہری حقوق کی سیاست سے وابستہ ہے۔

    امان اللہ چانڈیو کا کہنا ہے کہ اس سے قبل جب سندھ یونیورسٹی میں کلچرل ڈے منانے والوں پر مقدمہ درج ہوا تو اس میں ان کے بیٹے کا نام بھی شامل کیا گیا تھا حالانکہ وہ اس وقت گھر میں موجود تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ بعد ازاں یہ الزام غلط ثابت ہوا اور انھیں عدالت نے بری کر دیا گیا۔

    دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے سیاسی کارکن غنی امان اللہ چانڈیو کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

    ایچ آر سی پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ چانڈیو اور دیگر شہریوں کی من مانی نظربندی، اغوا، یا جبری گمشدگی کی کارروائیاں بنیادی آزادی پر قدغن لگانے اور سیاسی اختلاف کو دبانے کی ریاستی پالیسی کا تسلسل ہیں اور ایسے ’ظالمانہ اقدامات‘ صرف مزید سیاسی افراتفری اور سماجی ٹوٹ پھوٹ بڑھانے کا سبب بنیں گے۔

  4. غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو مکان کرایہ پر دینے والے پانچ مالک مکان گرفتار

    Afghan citizens in Pakistan
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    حکومت پنجاب کے خصوصی احکامات کی روشنی میں شہر بھر میں غیر قانونی مقیم افغانیوں اور دیگر غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاری ہے۔ پولیس نے 74 افغان شہریوں کو تحویل میں لے کر ہولڈنگ سنٹر منتقل کر دیا ہے۔

    پولیس نے 20 مقدمات بھی درج کیے ہیں۔ یہ مقدمات تھانہ صدر بیرونی، جاتلی، روات، گوجر خان، دھمیال، ٹیکسلا، واہ کینٹ، صدر واہ، سول لائنز، مورگاہ، نصیرر آباد، پیرودھائی، وارث خان اور بنی میں درج کیے گئے۔

    اسلام آباد میں افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن سی ٹی ڈی نے پولیس سے مل کر سیکٹر ایف 7 میں دو ہوٹلوں پر چھاپہ مار کر 25 افغان مہاجرین کو تحویل میں لے لیا ہے۔

    پولیس نے خبردار کیا ہے کہ شہری غیر قانونی مقیم غیر ملکی افراد کو اپنی پراپرٹی ہرگز کرایہ پر نہ دیں اور نہ انھیں فروخت کریں کیونکہ غیر قانونی مقیم غیر ملکی مکان، دوکان یا کوئی بھی پراپرٹی کرایہ پر نہیں لے سکتے۔پولیس نے واضح کیا ہے کہ شہری اپنی گاڑی، رکشہ یا دیگر اشیا بھی غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو نہ دیں۔ شہری کسی بھی غیر قانونی مقیم غیر ملکی کے ساتھ کسی قسم کے کاروباری معاملات، لین دین یا کاروباری سرگرمی نہ کریں۔

    پولیس نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ’کوئی شہری کسی غیر قانونی مقیم غیر ملکی کو ملازمت پر نہ رکھے۔‘

    پولیس نے کہا ہے کہ قانونی طور پر مقیم غیر ملکی متعلقہ تھانہ میں اپنی رجسٹریشن کو یقینی بنائیں۔

    وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے سختی سے افغان مہاجرین کو ان کے وطن واپس بھیجوانےکے سلسلہ میں احکاما ت جاری کردیے ہیں۔ اب افغان مہاجرین کو گھر یا دوکان کرائے پردینے اوران غیر قانونی افغان مہاجرین کے ساتھ کاروبار کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج ہوں گے۔

    اٹک سے 27 ہزارافغان مہاجرین کو ہولڈنگ سنٹر افغان مہاجرین کے ذریعے ان کے وطن روانہ کیا گیا جبکہ سترہ ہزا ر افغان مہاجرین رضا کارانہ طورپر اپنے وطن افغانستان روانہ ہوئے ہیں۔ اس وقت بھی افغان سرحد بند ہونے کے سبب 350 سے زائد افغان مہاجرین ہولڈنگ سنٹر افغان مہاجرین میں قیام پذیر ہیں۔

    یہ اطلاعات ڈپٹی کمشنر راوعاطف رضا اور ڈی پی او سر دار موارہن خان نے افغان ہولڈنگ سنٹر اٹک میں میڈیا کو دیں۔

    ضلعی انتظامیہ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مشترکہ آپریشن میں جو شخص بھی اس طرح کی غیر قانونی عمل میں ملوث ہوا اس کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔

  5. طالبان اپنے انجام کا حساب ضرور رکھیں، کیونکہ پاکستان کو آزمانا مہنگا ثابت ہوگا: خواجہ آصف

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغان حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اگر چاہے تو اپنی پوری طاقت استعمال کیے بغیر بھی افغان طالبان کی حکومت ختم کر سکتا ہے۔

    افغان طالبان کی حکومت سے مذاکرات کی ’ناکامی‘ کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان واضح کرتا ہے کہ اسے طالبان رجیم کو ختم کرنے یا انھیں غاروں میں چھپنے پر مجبور کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت استعمال کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر افغان طالبان ایسا چاہتے ہوں تو تورا بورا میں ماضی کی شکست کے مناظر دوبارہ دیکھنا یقیناً اقوام عالم کے لیے ایک نیا دلچسپ منظر ہو گا۔‘

    خیال رہے کہ خواجہ آصف نے حال ہی میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر افغان طالبان پاکستان کے مطالبے نہیں مانتے تو اس کا نتیجہ ’کھلی جنگ‘ ہو گی۔

    بدھ کو اپنے بیان میں پاکستانی وزیرِ دفاع نے کہا کہ ’اگر افغان طالبان پھر بھی دوبارہ افغانستان اور اس کے معصوم عوام کو تباہ کرنے پر مصر ہیں تو پھر جو بھی ہونا ہے وہ ہو۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ قابلِ افسوس امر ہے کہ طالبان حکومت افغانستان کو ایک اور تنازعے میں دھکیل رہی ہے اور ’اپنی کمزوری اور جنگ کے دعوؤں کی کھوکھلی حقیقت کو بخوبی جاننے کہ باوجود طبل جنگ بجا کر بظاہر افغان عوام میں اپنی بگڑتی ہوئی ساکھ بچانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔‘

    وزیرِ دفاع نے یہ بھی کہا افغانستان ’کبھی سلطنتوں کا قبرستان تو نہیں رہا البتہ ہمیشہ بڑی طاقتوں کے کھیل کا میدان ضرور رہا ہے۔‘

    اسی بیان میں خواجہ آصف نے طالبان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اپنی سرزمین پر کسی بھی دہشت گردانہ یا خودکش حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور کسی بھی مہم جوئی کا جواب سخت اور کڑوا ہو گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے شاید پاکستانی عزم اور حوصلے کو غلط انداز میں لیا ہے اور اگر طالبان رجیم لڑنے کی کوشش کرے گی تو دنیا دیکھے گی کہ ان کی دھمکیاں صرف دکھاوا ہیں۔ طالبان رجیم کو چاہیے کہ اپنے انجام کا حساب ضرور رکھیں، کیونکہ پاکستان کے عزم اور صلاحیتوں کو آزمانا ان کے لیے بہت مہنگا ثابت ہو گا۔‘

  6. پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور ہونا چاہیے: افغان طالبان رہنما, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    سہیل شاہین

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ اور قطر میں افغانستان کے سفیر سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات اب تک کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچے ہیں تاہم اس کا ایک اور دور ہونا چاہیے۔

    ترکی میں ہونے والے مذاکرات میں افغان وفد میں شامل سہیل شاہین سے پاکستان کے وزیرِ اطلاعات کے اس بیان کے مطابق پوچھا گیا کہ مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں تو سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا ایک اور دور ہونا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ عام طور پر اس طرح کے مذاکرات میں ایک ہی بیٹھک یا ایک ہی دور میں حتمی معاہدے نہیں ہوتے ہیں۔

    افغُان طالبان اور امریکہ کے درمیان مزاکرات کے دوران سہیل شاہین قطر میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان تھے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سہیل شاہین کو اقوام متحدہ میں افغانستان کا نمائندہ نامزد کرنے کا اعلان ہوا تھا لیکن اب تک اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔

    خیال رہے کہ رواں ماہ پاکستان اور افغانستان کے مابین شدید سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک نے عارضی طور جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا اور پھر مذاکرات کے پہلا دور قطر میں ہوا تھا جس میں دونوں ممالک نے جنگ بندی توسیع اور دیر پا امن کے قیام کے لیے دوسرے مرحلے کے مذاکرات کا اعلان کیا تھا۔

    پاکستان اور افغانستان کے مابین استبول میں 25 اکتوبر سے مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوا تھا۔

    تاہم استنبول میں چار روزہ مذاکرات کے بعد منگل کو رات گئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک طویل بیان میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ امن کو ایک موقع دینے کی کوشش میں، قطر اور ترکی کی درخواست پر، پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے ساتھ پہلے دوحہ اور پھر استنبول میں مذاکرات کیے۔

    انھوں نے مذکرات کی ناکامی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ استنبول میں ہونے والی بات چیت میں بھی قابل حل عمل نہیں نکل سکا۔

  7. شبلی فراز کی سینیٹ نشست پر انتخاب روکنے کی استدعا مسترد: ’الیکشن کے لیے امیدوار نامزد کیا ہے تو حکمِ امتناع کیوں مانگ رہے ہیں؟‘

    شبلی فراز

    ،تصویر کا ذریعہPID

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سینیٹ الیکشن روکنے کی استدعا مسترد کر دی جبکہ پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شبلی فراز کی الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کے فیصلہ کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔

    بدھ کے روز سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے شبلی فراز کی الیکشن کمیشن کے ڈی سیٹ کرنے کے نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست پر سماعت کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی۔

    دوران سماعت شبلی فراز کی جانب سے بیرسٹر گوہر علی خان عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن سے ہمیں بہت بے آبرو کر کے نکالا گیا۔

    انھوں نے استدعا کی کہ الیکشن کے نوٹیفکیشن پر حکم امتناع جاری کیا جائے اور شبلی فراز کی خالی نشست پر سینیٹ الیکشن روکا جائے۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کُل کتنی نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں جس پر بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ صرف ایک سیٹ پر الیکشن ہے۔

    عدالت نے سینیٹ الیکشن روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت سینیٹ الیکشن میں مداخلت نہیں کرے گی۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ آپ نے سینیٹ الیکشن کے لیے امیدوار بھی نامزد کر رکھا ہے تو حکم امتناع کیوں مانگ رہے ہیں؟

    دوران سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ اس کیس میں ریلیف لینے کے لیے درخواست گزار ملزمان کا سرنڈر کرنا لازمی ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا پشاور ہائی کورٹ نے اب تک کیس کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ نہیں کیا؟

    بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ پشاور ہائی کورٹ نے کیس کو ابھی تک خارج نہیں کیا ہے۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں ہم ابھی کچھ نہیں کر سکتے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے موقف اپنایا کہ عدالت نے لکھا ہے کہ گرفتاری سے پہلے کیس نہیں چلایا جا سکتا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ جو بھی ہو، عدالت کو فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔

    وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ کہ پشاور ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ درخواست گزاران قانون سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار پشاور ہائی کورٹ آتے ہیں؟ اگر آتے ہیں تو انھیں گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ ملزمان کو تو سپریم کورٹ بھی آنا چاہیے تھا، وہ سپریم کورٹ بھی نہیں آئے۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ یہاں مقدمہ صرف حقوق سے متعلق ہے جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حقوق کا تعلق براہ راست سزا سے ہے۔ درخواست گزار انسدادِ دہشتگردی عدالت سے سزا یافتہ ہے۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ پشاور ہائی کورٹ نے مختصر حکم نامے کے بجائے 31 صفحات لکھ دیے، صرف ایک پیرا گراف ہی لکھنا چاہیے تھا۔

    بعد ازاں عدالت نے شبلی فراز کی اپیل پر پشاور ہائی کورٹ کا کیس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے شبلی فراز کی زیر التوا درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

    سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کو فریقین کے دلائل سن کر درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی۔

    عدالت نے شبلی فراز کی پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست نمٹا دی۔

  8. کوئی بھی چیز جنگ بندی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی: غزہ پر اسرائیلی حملوں میں درجنوں ہلاکتوں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    آمریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز زور دے کر کہا ہے کہ ’کچھ بھی‘ غزہ میں جنگ بندی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

    امریکی صدر نے اپنے ایشیا کے دورے کے دوران ایئر فورس ون میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’انھوں نے ایک اسرائیلی فوجی کو مار ڈالا تھا تو اسرائیلیوں نے جواب دیا، ان کا جواب دینا بنتا تھا۔‘ حماس اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

    اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی کہہ چکے ہیں کہ غزہ شہر پر اسرائیلی حملوں کے باوجود غزہ میں جنگ بندی برقرار ہے جبکہ اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔

    وینس نے صحافیوں کو بتایا، ’جنگ بندی برقرار ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہاں، وہاں چھوٹی چھوٹی جھڑپیں نہیں ہوں گی۔‘

    غزہ میں شہری دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ غزہ پر جاری اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق، ان حملوں میں گھروں، سکولوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ایک مقامی چینل الاقصیٰ ٹی وی نے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ منگل کے روز ہونے والے حملوں میں 22 بچوں سمیت 59 فلسطینی ہلاک جبکہ 60 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

  9. ’سات بالکل نئے خوبصورت طیارے مار گرائے گئے تھے‘: ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بار پھر پاکستان، انڈیا کی جنگ رکوانے کا دعویٰ

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ رکوانے کا دعویٰ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنگ کے دوران ’سات بالکل نئے خوبصورت طیارے مار گرائے گئے۔‘

    ٹرمپ نے منگل کو اپنے دورہ جاپان کے دوران کاروباری شخصیات کے ساتھ ایک عشائیے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے تجارت کا استعمال کرتے ہوئے جنگیں ختم کروائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ٹیرف اور تجارت کی مدد سے جنگیں رکوا کر دنیا کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔

    ’اگر آپ انڈیا اور پاکستان کو دیکھیں تو وہ لڑ رہے تھے، سات طیارے مار گرائے گئے، سات بالکل نئے خوبصورت طیارے مار گرائے گئے اور دو بڑی ایٹمی طاقتوں لڑ رہی تھیں۔‘

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر سے کہا کہ وہ لڑائی بند کر دیں ورنہ امریکہ ان کے ساتھ تجارت نہیں کرے گا۔

    ’اور میں نے وزیر اعظم مودی سے کہا - وزیر اعظم بہت اچھے آدمی ہیں، بہت اچھے آدمی، اور دوسری طرف پاکستان میں فیلڈ مارشل۔ میں نے کہا، دیکھو، ہم کوئی تجارت نہیں کریں گے اگر آپ لڑنا جاری رکھیں گے۔‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھوں نے کہا کہ ’نہیں، نہیں، نہیں۔ ان دونوں چیزوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔‘

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں نے انھیں کہا کہ اگر آپ لڑنا جاری رکھیں گے تو ہم کوئی ڈیل نہیں کریں گے۔

    ’اور تقریباً 24 گھنٹوں کے اندر یہ ختم ہو گئی۔ یہ بہت حیرت انگیز تھا۔‘

    خیال رہے کہ پاکستان مئی میں انڈیا کے ساتھ جنگ رکوانے میں بطورِ ثالث ٹرمپ کے کردار کا اعتراف کرتا آیا ہے اور پاکستان کی جانب سے امریکی صدر کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنا کا بھی کہا گیا ہے۔ تاہم، دوسری جانب انڈیا امریکی صدر کے دعوؤں کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے اور دعویٰ کرتا آیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست سفارتکاری کے ذریعے ممکن ہوا تھا اور اس میں کوئی تیسرا فریق شامل نہیں تھا۔

  10. انڈیا پاکستان کو ایک چھوٹے پیمانے کی جنگ میں ملوث رکھنا چاہتا ہے اور کابل اس مقصد کو عملی جامہ پہنا رہا ہے: خواجہ آصف

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ انڈیا پاکستان کو ایک چھوٹے پیمانے کی جنگ میں ملوث رکھنا چاہتا ہے اور کابل اس مقصد کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔

    منگل کی شب جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کابل میں قائم حکومت کے پاس مذاکرات کا اختیار نہیں ہے اور نہ ہی پورے افغانستان پر ان کا کنٹرول ہے۔

    پاکستانی وزیر کا کہنا تھا کہ حالیہ مذاکرات کے دوران جب بھی کسی نتیجے کے نزدیک بات پہنچی، اور افغان وفد نے کابل سے رابطہ کیا تو وہاں سے مداخلت ہوئی اور جو بھی زبانی سمجھوتے پر پہنچے تھے، وہ تعطل کا شکار ہو گئے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران افغان وفد کے ساتھ پانچ مرتبہ اتفاق ہوا اور جب انھوں نے جا کر کابل فون کیا تو وہاں سے ملنے والی ہدایات کے بعد انھوں نے اپنی لاچاری کا اظہار کر دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ترکی اور قطر نے اس سارے معاملے میں بڑا تعمیری کردار ادا کیا۔ ’ہم اتمامِ حجت کے لیے چاہتے تھے کہ یہ مذاکرات کسی منطقی انجام تک پہنچے۔ اگر کوئی انکار ہو تو وہ طالبان کی جانب سے ہو، ہم پر یہ الزام نہ آئے کہ ہم نے کوئی ایسا رویہ اپنایا جس کی وجہ سے یہ تعطل کا شکار ہوئے۔‘

    پاکستان کی جانب سے افغان طالبان سے تحریری ضمانت کے اصرار پر ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی باقاعدہ قسم کی حکومت ہوتی، جس کی پورے ملک میں رٹ قائم ہو تو اس کی زبانی گارنٹی پر بھی یقین کرنے کو تیار ہیں لیکن ایک گروہ کی زبانی ضمانت پر ہم کیسے اعتبار کر سکتے ہیں۔

    اس انٹرویو کے نشر ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی پاکستان کے وزیرِ اطلاعات نے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کا اعلان کیا۔

    خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ انڈیا کابل میں سرایت کر چکا ہے اور اس نے کابل کے ذریعے ایک پراکسی جنگ شروع کی ہوئی ہے۔

    ’انڈیا پاکستان کو ایک چھوٹے پیمانے کی جنگ میں ملوث رکھنا چاہتا ہے اور اس مقصد کو کابل عملی جامہ پہنا رہا ہے۔‘

    افغان میڈیا میں سرکاری حکام کے حوالے سے چلنے والی خبروں کے حوالے سے کہ اگر پاکستان نے افغان سرزمین پر حملہ کیا تو ان کا ٹارگٹ اسلام آباد ہو گا، خواجہ آصف کا کہنا تھا، ’اگر اسلام آباد کی طرف کسی نے نظر بھی اٹھا کر دیکھی تو ہم ان کی آنکھیں نکال دیں گے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کابل چاہے تو اپنا شوق پورا کر کرے دیکھ لے۔ ’ہم سے جس طرح کا سلوک کیا جائے گا، ہم اس ہی طرح بلکہ اس سے 50 گنا شدید جواب دیں گے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کی جانب سے کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا ہے۔

    ’ماضی کے ان تمام حکمرانوں کا احتساب ہونا چاہیے جنھوں نے افغان طالبان کی حمایت کی‘

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وہ ماضی کے ان تمام حکمرانوں کی مذمت کرتے ہیں جنھوں نے ماضی میں افغان طالبان کی حمایت کی اور ’پاکستان کی سالمیت اور امن داؤ پر لگا دیا۔ آج ہم اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔‘

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وہ ماضی میں طالبان کی حمایت کرنے والے حکمرانوں کے خلاف مقدمہ چلانے کے حق میں ہیں۔

    ’جب تک ہم اپنی ماضی کی غلطیوں کو ٹھیک نہیں کریں گے، ہم مستقبل میں داخل نہیں ہو سکتے۔ ہمیں اپنی ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہو گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم 80 اور نوے کی دہائی اور اس کے بعد بھی طالبان کو جو حمایت فراہم کی گئی، آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس ہی کا شاخسانہ ہے۔

    ’جن لوگوں نے وہ پالیسیاں بنائی تھیں، انھیں اس کی قیمت چکانی چاہیے چاہے وہ اس دنیا میں ہیں یا نہیں۔‘

  11. سرحدی کشیدگی، کریک ڈاؤن اور تجارتی بندش جیسے اقدامات کیا افغان طالبان کو ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی پر مجبور کر سکتے ہیں؟

    TTP

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے بعد ہونے والے مذکرات ناکام ہو گئے ہیں اور استنبول میں ہونے والی بات چیت میں بھی قابل حل عمل نہیں نکل سکا۔

    افغانستان کی عبوری حکومت کی جانب سے ان مذاکرات کے حوالے سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    پاکستان کا کہنا ہے کہ استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں افغان طالبان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ شدت پسند تنظیموں اور دہشت گردوں کے خلاف قابل اعتماد اور فیصلہ کن کارروائی کریں۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات کے مطابق اس بارے میں افغان فریق نے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی اور وہ اس بنیادی مسئلے سے انحراف کرتا رہا جس پر بات چیت کا عمل شروع کیا گیا تھا۔

    عطا تارڑ نے افغان طالبان پر ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے الزام تراشی، ٹال مٹول اور چالبازی کا سہارا لینے کے الزامات عائد کیے اور کہا کہ اس وجہ سے بات چیت کوئی قابل عمل حل نکالنے میں ناکام رہی۔

    افغان طالبان تحریکِ طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی نہیں کرنے پر رضامند نہیں ہیں۔

    مبصرین اور تجزیہ کاروں کے خیال میں دہشت گرد حملوں میں اضافے پر پاکستان کا ردعمل بہت واضح اور دوٹوک ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ افغان طالبان کوئی باقاعدہ حکومت تو ہیں نہیں اس لیے داعش اور اندرونی اختلاف کے خدشات کے سبب وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں بھی کبھی لڑائی تو کبھی جنگ بندی جیسی صورتحال ہی برقرار رہے گی۔

    شدت پسندی پر رپورٹ کرنے والے صحافی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم خراسان ڈائری کے مدیر افتخار فردوس کا کہنا ہے کہ اگرچہ نان سٹیٹ ایکٹر پاکستان اور افغانستان کو جنگ کے دہانے پر لے آئے ہیں لیکن افغان طالبان ان شدت پسند گروہ کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’افغانستان میں طالبان اپنے آپ کو اسلامی امارات کہتے ہیں اور امارات کا مطلب یہ ہے کہ جتنے بھی گروپس اس امارات کے ساتھ ہوتے ہیں وہ امیر کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک گروپ کے خلاف کارروائی امارات کو توڑنے کے مترادف ہے۔‘

    انسٹیٹیوٹ سٹرٹیجک سڈیز اسلام آباد سے وابستہ تجزیہ کار آمینہ خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی افغان طالبان سے واحد توقع یہی تھی کہ وہ پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی روکیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

    اس سوال کے جواب میں کہ کیا افغان طالبان ٹی ٹی پی پر اثرروسوخ نہیں رکھتے؟ آمینہ خان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے اور افغان طالبان کا ٹی ٹی پی پر اچھا خاصا اثرروسوخ ہے اور ماضی میں ان ہی کے تعاون سے پاکستان حکومت اور ٹی ٹی پی کے مابین مذاکرات اور سیز فائر ہوئی تھی۔

    لیکن پھر اب کیا مسئلہ ہے؟

    آمینہ خان کا کہنا ہے کہ ’یہ صورتحال افغان طالبان کے لیے بھی مشکل ہے کیونکہ اگر انھوں نے ٹی ٹی پی کے خلاف زیادہ کارروائی کی تو وہ داعش الخراسان کو جوائن کر سکتے ہیں۔ جو افغان طالبان کے لیے بڑا خطرہ ہے۔‘

    آمینہ کے بقول پاکستان اور افغانستان کو ساتھ بیٹھ کر اس مسئلے کا حل ڈھونڈنا ہو گا کیونکہ لڑائی یا جارہانہ حکمتِ عملی مسائل کو حل نہیں کر سکتی۔

  12. افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی سے کیوں ہچکچاتے ہیں؟

    پاکستان گذشتہ کئی برسوں سے افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے اور حالیہ سرحدی کشیدگی کے بعد ہونے والے مذاکرات بھی اسی ایک نکاتی ایجنڈے پر تھے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار افتخار خان سے بات کرتے ہوئے افغان سیاسی امور کے محقق ولیئم میلے کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت ٹی ٹی پی کو اپنا نظریاتی اتحادی سمجھتی ہے۔ ’ان کی تاریخ کی جڑیں مشترکہ ہیں اور ان کے 80 اور 90 کی دہائیوں سے قریبی تعلقات رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ اس نظریاتی اتحاد کی وجہ سے طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی سے گریز کرتے ہیں۔

    میلی کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستان کی افغان طالبان کو پناہ دینے کی طویل مدتی پالیسی رہی جس کے متوقع نتائج تھے اور اب کی اپنی سلامتی کو مسلح شدت پسندی سے خطرات لاحق ہیں۔

    بروکنگز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ویندا فلباب براؤن کی رائے ہے کہ طالبان کے حقانی نیٹ ورک کے ٹی ٹی پی کے ساتھ آپریشنل تعلقات رہے ہیں جو ختم کرنا مشکل ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک کو خدشہ ہے کہ کریک ڈاؤن کی صورت میں ٹی ٹی پی نام نہاد دولت اسلامیہ کے ساتھ اتحاد قائم کر سکتی ہے۔

    وہ کہتی ہیں کہ قندھار میں طالبان کی جنوبی قیادت پاکستان کے ماضی کے اقدامات پر ناخوش رہے ہیں جن میں ملا برادر کو قید کیا جانا اور امریکی حملے میں طالبان رہنما ملا منصور کی ہلاکت شامل ہیں۔

    ایک اور رائے یہ بھی ہے کہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کو پاکستان کا اندرونی معاملہ سمجھتی ہے اور یہ اپنے لیے کوئی دشمن پیدا نہیں کرنا چاہتی۔

    نام نہاد دولت اسلامیہ کے برعکس ٹی ٹی پی نے کبھی افغان طالبان کی عبوری حکومت کو چیلنج نہیں کیا ہے۔

    مذاکرات کے دوران بھی طالبان کے ایک حکومتی ذریعے نے بی بی سی پشتو کو بتایا تھا کہ ’ٹی ٹی پی کا مسئلہ افغان مسئلہ نہیں ہے، بلکہ پاکستانی مسئلہ ہے، اور یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے جسے پاکستان کو مقامی طور پر حل کرنا چاہیے۔‘

    بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جب تک ٹی ٹی پی اس کے لیے نظریاتی یا پُرتشدد خطرہ نہیں تب تک طالبان حکومت کے پاس اس کے خلاف کارروائی کا جواز نہیں ہوگا۔ اسی لیے افغان طالبان کی طرف سے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے ساتھ اپنے معاملات کو بات چیت سے حل کرے۔

  13. پاکستان کا افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کا اعلان: ’استنبول میں ہونے والی بات چیت میں بھی قابل عمل حل نہیں نکل سکا‘، وزیر اطلاعات

    پاکستان افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی وزیر اطلاعات نے افغان طالبان حکومت اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے بعد ہونے والے مذکرات کی ناکامی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ استنبول میں ہونے والی بات چیت میں بھی قابل حل عمل نہیں نکل سکا۔

    افغانستان کی عبوری حکومت کی جانب سے ان مذاکرات کے حوالے سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    پاکستان اور افغانستان کے مابین استبول میں ہونے والے مذاکرات 25 اکتوبر سے شروع ہوئے تھے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا دوسرا دور تھا۔

    خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین شدید سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک نے عارضی طور جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا اور پھر مذاکرات کے پہلا دور قطر میں ہوا تھا جس میں دونوں ممالک نے جنگ بندی توسیع اور دیر پا امن کے قیام کے لیے دوسرے مرحلے کے مذاکرات کا اعلان کیا تھا۔

    تاہم استنبول میں چار روزہ مذاکرات کے بعد منگل کو رات گئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک طویل بیان میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ امن کو ایک موقع دینے کی کوشش میں، قطر اور ترکی کی درخواست پر، پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے ساتھ پہلے دوحہ اور پھر استنبول میں مذاکرات کیے۔

    انھوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں ایک نکاتی ایجنڈے یعنی افغان طالبان حکومت کی طرف سے افغان سرزمین کو تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی جیسی دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے تربیت گاہ کے طور پر استعمال کرنے سے روکنے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کے معاملے پر بات کی گئی۔

    وزیر اطلاعات کے مطابق مذاکرات کے دوسرے دور میں افغان طالبان کے وفد نے شدت پسند تنظیموں اور دہشت گردوں کے خلاف قابل اعتماد اور فیصلہ کن کارروائی کے لیے پاکستان کے منطقی اور جائز مطالبے سے بارہا اتفاق کیا۔

    پاکستانی وزیر کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان کی جانب سے اس بارے میں ناقابل تردید شواہد فراہم کیے گئے جن کا اعتراف افغان طالبان اور مذاکرات کروانے والے میزبان ممالک نے کیا تاہم افغان فریق نے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی اور وہ اس بنیادی مسئلے سے انحراف کرتا رہا جس پر بات چیت کا عمل شروع کیا گیا تھا۔

    عطا تارڑ نے افغان طالبان پر ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے الزام تراشی، ٹال مٹول اور چالبازی کا سہارا لینے کے الزامات عائد کیے اور کہا کہ اس وجہ سے بات چیت کوئی قابل عمل حل نکالنے میں ناکام رہی۔

    عطا

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب سے افغان طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھالا ہے پاکستان نے بارہا ان سے شدت پسند گروہوں کی طرف سے مسلسل سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے بات چیت کی ہے اور بار بار یہ کہا ہے کہ طالبان حکومت دوحہ معاہدے میں پاکستان اور عالمی برادری سے کیے گئے تحریری وعدوں کو پورا کرے تاہم افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان مخالف دہشت گردوں کی بے دریغ حمایت کی وجہ سے پاکستان کی کوششیں بےسود ثابت ہوئیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ چار سال تک بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان برداشت کرنے کے بعد پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور عوام کی سلامتی پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اس لیے پاکستان اپنے عوام کو دہشت گردی کی لعنت سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرتا رہے گا اور دہشت گردوں، ان کی پناہ گاہوں، ان کے سرپرستوں اور معاونین کو ختم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ طالبان کی حکومت افغانستان کے عوام کے تئیں کوئی ذمہ داری نہیں رکھتی اور جنگی معیشت پر پروان چڑھتی ہے، اس لیے وہ افغان عوام کو ایک غیر ضروری جنگ میں گھسیٹنا چاہتی ہے جبکہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے عوام کے لیے امن اور خوشحالی کی خواہش کی ہے اور اسی جذبے کے تحت پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے ساتھ بارہا مذاکرات کیے لیکن بدقسمتی سے وہ ہمیشہ پاکستان کے نقصانات سے لاتعلق رہے۔

    وزیر اطلاعات نے بات چیت میں سہولت کاری پر قطر اور ترکی کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ پاکستان خطے کی خوشحالی اور سلامتی اور مسئلے کے پرامن حل کے لیے مخلصانہ کوششوں پر دونوں ممالک اور دیگر دوست ممالک کی حکومتوں کا شکر گزار ہے۔

  14. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • حماس کے سول ڈیفنس ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری سے تین فلسطینی ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
    • پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعاون کا فریم ورک شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
    • ترکی اور برطانیہ کے درمیان آٹھ ارب پاؤنڈ کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت لندن 20 ٹائیفون یوروفائٹر طیارے انقرہ کو فراہم کرے گا۔
    • انڈیا اور روس کی دو کمپنیوں کے درمیان ایک یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں انڈیا میں مسافر جہاز بنائے جائیں گے۔
    • انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کبھی بھی جنگ ہو سکتی ہے۔
  15. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔