بلوچستان کے ضلع کچھی کی تحصیل بھاگ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں پولیس کے ایک ایس ایچ او ہلاک جبکہ ایک اہلکارزخمی ہوگئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق جوابی کاروائی میں دو حملہ آور بھی مارے گئے جن میں سے ایک کی لاش کو حملہ آور اپنے ساتھ لے گئے۔
بھاگ پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ حملہ آوربھاگ شہرمیں سہہ پہرکے وقت داخل ہوئے جو کہ ایک گاڑی اورموٹر سائیکلوں پرتھے۔
ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے پولیس کے دو تھانوں پرحملے کے علاوہ نیشنل بینک پرحملہ کیا۔
ان تھانوں میں سے ایک تھانہ وہ تھا جو کہ پہلے لیویزفورس کے زیرانتظام تھا جوکہ چند روزقبل لیویز فورس کی پولیس میں انضمام کے بعد پولیس کے حوالے ہوا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ حملہ آور اس تھانے سے جوکہ پہلے پولیس کے پاس تھا اسلحہ لے جانے کے علاوہ اس میں واقع جوڈیشل لاک اپ سے چار سے پانچ انڈرٹرائیل قیدیوں کو بھی چھڑا کر لے گئے۔
رابطہ کرنے پرکچھی پولیس کے ایس ایس پی معاذالرحمان نے بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد چالیس سے پچاس کی قریب تھی جن میں سے آدھے نے بیک وقت ایک اور آدھے نے دوسرے تھانے پرحملہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جوتھانہ پہلے لیویز فورس کے اہلکاروں کے پاس تھا اس سے حملہ آور کچھ اسلحہ لے جانے کے علاوہ وہاں پر موجود ریکارڈ کو بھی نذر آتش کیا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ قریب میں واقع پٹوار خانے کے ریکارڈ کو بھی نذرآتش کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس تھانے کے سامنے نیشنل بینک پر بھی مسلح افراد نے حملہ کیا جس کی وجہ سے بینک کا دروازہ ٹوٹ گیا لیکن بینک پر تعینات پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا جس کی وجہ سے وہ بینک میں داخل ہونے اور وہاں سے رقم لے جانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
ایس ایس پی پولیس نے بتایا کہ دوسرے تھانے پربھی پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کیا جس میں پولیس کا ایس ایچ او لطف علی کھوسہ مارے گیے جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی کاروائی میں دو حملہ آور ہلاک اوران میں سے بعض زخمی ہوگئے۔
حملہ آورمارے جانے والے اپنے ایک ساتھی کی لاش اور زخمیوں کو لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔
چند روز کے دوران ضلع کچھی میں یہ اپنی نوعیت کا دوسرا حملہ تھا۔ اس سے قبل ضلع کچھی کے علاقے حاجی شہرمیں بھی نامعلوم مسلح افراد نے لیویز فورس کے تھانے پر حملہ کیا تھا۔ حملہ آوروں نے تھانے کو نذرآتش کرنے کےعلاوہ وہاں سے اسلحہ بھی لے گئے تھے۔
خیال رہے کہ تاریخی درہ بولان بھی ضلع کچھی کا حصہ ہے۔
بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے بولان میں پہلے بھی کمی بیشی کے ساتھ سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور ٹرینوں پرحملے سمیت سنگین بدامنی کے دیگر واقعات رونما ہوتے رہے ہیں لیکن ضلع کے علاقے بھاگ اورحاجی شہرکے علاقوں میں یہ اس نوعیت کے پہلے حملے تھے۔