اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کا غزہ پر دوبارہ حملے شروع کرنے کا حکم

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے اپنی فوج کو فوری طور پر غزہ پر حملے کرنے کا حکم دیا ہے۔ نتن یاہو کے دفتر سے ایک ایسے وقت میں یہ بیان جاری کیا گیا جب اسرائیل نے کہا ہے کہ حماس کی طرف سے حوالے کیے گئے ایک تابوت میں یرغمالی کی لاش موجود نہیں تھی۔

خلاصہ

  • ترکی اور برطانیہ کے درمیان آٹھ ارب پاؤنڈ کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت لندن 20 ٹائیفون یوروفائٹر طیارے انقرہ کو فراہم کرے گا۔
  • انڈیا اور روس کی دو کمپنیوں کے درمیان ایک یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں انڈیا میں مسافر جہاز بنائے جائیں گے۔
  • اگر غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستانی افواج کو موقع ملتا ہے تو اس سے بہتر کچھ نہیں: رانا ثنااللہ
  • وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر غور
  • 20 سال بعد پاکستان، بنگلہ دیش مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس: اسلام آباد کی ڈھاکہ کو کراچی پورٹ ٹرسٹ کے استعمال کی پیشکش

لائیو کوریج

  1. اسرائیل کی غزہ پر بمباری، تین ہلاکتیں

    اسرائیل، غزہ

    حماس کے سول ڈیفنس ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری سے تین فلسطینی ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں الشفا ہسپتال کے احاطے، دیر البلح اور خان یونس کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    عینی شاہین اور مقامی لوگوں نے زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔

    خیال رہے کہ اسرائیل اور حماس نے ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ حماس کو ’بھاری قیمت چُکانی ہو گی‘۔ ان کا الزام ہے کہ حماس نے غزہ میں اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کیا ہے اور یرغمالی کی لاش واپس نہیں کی۔

  2. اسرائیل اور حماس کے ایک دوسرے پر الزامات, فرینک گارڈنر/سکیورٹی نامہ نگار، بی بی سی نیوز

    اسرائیل اور حماس کے ایک دوسرے پر الزامات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ پر ’شدید بمباری‘ کی جائے گی۔ نتن یاہو کے بقول اس کی وجہ ٹرمپ کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی کے منصوبے کی مسلسل خلاف ورزی ہے۔

    اسرائیل نے غزہ کے مقبوضہ علاقے میں حماس پر اسرائیلی فوجیوں پر فائرنگ کرنے کا الزام لگایا ہے جبکہ اس کا دعویٰ ہے کہ حماس نے ’دھوکہ دہی پر مبنی سازس رچائی ہے۔‘

    گذشتہ شب حماس نے اسرائیلی یرغمالی کی لاش واپس کی تھی۔ مگر اسرائیل نے کہا کہ فرانزک ٹیسٹ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ لاش ایک ایسے شخص کی ہے جنھیں دو سال قبل غزہ میں برآمد کیا گیا تھا۔

    بظاہر آئی ڈی ایف کی طرف سے بنائی گئی ڈرون ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غزہ کی ایک عمارت سے لاش نکالی جا رہی ہے۔ یہ لاش ایک قبر میں کفن سے ڈھکی گئی ہے اور اس کے گرد مٹی ہے۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ یہ کھدائی جعلی تھی۔

    حماس نے ڈرون فوٹیج پر تبصرہ نہیں کیا تاہم اس کا کہنا ہے کہ ایک دوسرے یرغمالی کی لاش جنگ بندی کی ’خلاف ورزیوں کے باعث‘ ملتوی کی جا رہی ہے۔

    اس کا کہنا ہے کہ کھدائی کے کام میں تاخیر اسرائیل کی وجہ سے ہوئی۔

  3. صرف تین ہفتے قبل غزہ میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا

    حماس اور اسرائیل کے درمیان قریب تین ہفتے قبل جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے پر اتفاق ہوا تھا جس میں اسرائیلی فوج کے غزہ کے ایک حصے سے انخلا کے بدلے بقیہ یرغمالیوں کی رہائی طے پائی تھی۔

    اس معاہدے کا اکتوبر کے اوائل میں اعلان کیا گیا تھا اور یہ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کا حصہ تھا۔

    اس معاہدے کے ذریعے غزہ میں امداد بڑھائی جانی تھی اور اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی ممکن ہونا تھی۔

    لیکن اب تک غزہ میں جنگ بندی مشکلات کا شکار رہی ہے۔ اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کر دی ہے جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ یہ ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔

    رواں سال کے اوائل میں بھی اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد جنگ بندی ختم ہو گئی تھی۔ نتن یاہو نے اس وقت کہا تھا کہ اس کی وجہ سے حماس کی جانب سے یرغمالیوں کو واپس نہ کیے جانا ہے۔

  4. اسرائیلی وزیر اعظم کا فوج کو غزہ پر دوبارہ حملے شروع کرنے کا حکم

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہCBS

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے اپنی فوج کو فوری طور پر غزہ پر حملے کرنے کا حکم دیا ہے۔

    نتن یاہو کے دفتر سے ایک ایسے وقت میں یہ بیان جاری کیا گیا جب اسرائیل نے کہا ہے کہ حماس کی طرف سے حوالے کیے گئے ایک تابوت میں یرغمالی کی لاش موجود نہیں تھی۔

    اسے فرانزک ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ لاش اوفر زرفتی کی تھی جن کی لاش 2023 کے اواخر میں اسرائیلی فوج نے برآمد کی تھی۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ یہ لاش غزہ میں 13 یرغمالیوں میں سے کسی کی نہیں تھی۔

    اسرائیل نے حماس پر جنگ بندی کے معاہدے کی ’واضح خلاف ورزی‘ کا الزام لگایا تھا۔

    ایک بیان میں حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ غزہ میں جارحیت کے لیے جھوٹا جواز پیدا کر رہا ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل غزہ میں لاشوں کی تلاش میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔

    حماس نے ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ ’متعلقہ ادارے سیاسی اور جارحانہ اقدام کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے انسانی حقوق کی سرگرمیوں کی اجازت دیں۔‘

    ماضی میں حماس نے کہا تھا کہ وہ امریکہ، مصر، قطر اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے پر عمل پیرا ہے۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ اسے دو سالہ جنگ کے بعد لاشیں نکالنے میں مدد درکار ہے۔

  5. پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعاون فریم ورک قائم کرنے کا اعلان

    پاکستان اور سعودی عرب

    ،تصویر کا ذریعہGovt of Pakistan

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعاون کا فریم ورک شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    منگل کو پاکستان کے وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے مابین ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ میں بتایا گیا دونوں ملکوں نے اقتصادی تعاون کا فریم ورک شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ پیشرفت ’تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت کی مضبوطی اور دونوں ممالک کی قیادت کو متحد کرنے والے بھائی چارے و اسلامی یکجہتی کے مضبوط رشتے کی عکاسی ہے۔‘

    ’یہ فریم ورک دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی مفادات پر مبنی اور ان کی تکمیل کے لیے تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے دونوں ممالک کی باہمی خواہش کا اعادہ ہے۔‘

    اعلامیے کے مطابق اس فریم ورک کے تحت اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری اور ترقیاتی شعبوں میں کئی سٹریٹجک اور اعلیٰ اثرات کے حامل منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے، نجی شعبے کے اہم کردار کو بڑھانے اور تجارتی تبادلے کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ فریم ورک کے ترجیحی شعبوں میں توانائی، صنعت، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، زراعت اور غذائی تحفظ شامل ہیں۔

    اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب اس وقت کئی مشترکہ اقتصادی منصوبوں کے حوالے سے تعاون پر کام کر رہے ہیں جن میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان بجلی کی ترسیل (الیکٹریسٹی انٹر کنکشن) کے منصوبے کے لیے مفاہمتی یادداشت اور دونوں ممالک کے مابین توانائی کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی شامل ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فریم ورک باہمی برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے دونوں ممالک کے اقدامات کی عکاسی اور اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں پائیدار شراکت داری کی تعمیر کے لیے مشترکہ وژن کی توثیق کرتا ہے۔ فریم ورک دونوں ممالک کی قیادت اور برادر عوام کی امنگوں کی ترجمانی اور باہمی مفادات کے حصول کی تکمیل کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے رہنما سعودی پاکستانی سپریم کوآرڈینیشن کونسل کے اجلاس کے انعقاد کے بھی منتظر ہیں۔

  6. حماس نے ایک اور یرغمالی کی لاش اسرائیل کے حوالے کر دی

    بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس نے ایک اور اسرائیلی یرغمالی کی باقیات اسرائیل حکام کے حوالے کر دی ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اور بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے فوجی حماس کی جانب سے ریڈ کراس کے حوالے کیے جانے والے تابوت کو غزہ سے اسرائیل منتقل کر رہے ہیں، جہاں فرانزک کے بعد لاش کی شناخت کی جا سکے گی۔

    بتایا جا رہا ہے کہ اگر یہ تصدیق ہو جاتی ہے کہ یہ باقیات کسی یرغمالی کی ہیں تو اس کے بعد حماس کی جانب سے اسرائیل کے حوالے کیے جانے والے مردہ یرغمالیوں کی کل تعداد 16 ہو جائے گی۔

    یہ ان 28 اسرائیلی اور غیر ملکی یرغمالیوں میں شامل ہیں جو جنگ کے آغاز سے حماس کی قید میں تھے اور جن کی لاشیں تقریباً دو ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی کے نتیجے میں حماس نے اسرائیل کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ مصر اور ریڈ کراس کے امدادی کارکُنان کو 7 اکتوبر کو غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کی لاشوں کی تلاش کے لیے اُن علاقوں میں جانے کی اجازت دی گئی ہے جہاں مُمکنہ طور پر انھیں رکھا گیا تھا۔

    حماس نے جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں 28 اسرائیلی یرغمالیوں میں سے 15 کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر دی ہیں۔

    حماس کا کہنا ہے کہ باقی لاشوں کو تلاش کرنے اور نکالنے میں وقت لگے گا۔

  7. یرغمالیوں کی واپسی کا معاملہ: اسرائیل کا حماس پر معاہدے کی ’واضح خلاف ورزی‘ کا الزام، ’تعزیری اقدامات‘ پر غور, ڈیوڈ گرٹن، یروشلم

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ پیر کو حماس کی طرف سے حوالے کیے گئے تابوت میں کسی یرغمالی کی لاش نہیں تھی بلکہ ایک اور شخص کی باقیات تھیں جس کی لاش پہلے ہی اسرائیل کو مل چکی ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فارنزک ٹیسٹ کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ تابوت میں اوفر زرفاتی کی باقیات تھیں جن کی لاش اسرائیلی فورسز نے 2023 میں برآمد کی تھی۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پیر کو اسرائیل کے حوالے کی گئی لاش ان 13 افراد میں سے کسی کی نہیں ہے جو غزہ میں یرغمالی بنائے گئے تھے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں حماس پر جنگ بندی کے معاہدے کی ’واضح خلاف ورزی‘ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو اس کے ’ردِعمل میں اقدامات‘ پر گفتگو کریں گے۔

    اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ حکام 28 یرغمالیوں میں سے صرف 15 افراد کی لاشیں حوالے کرنے پر حماس کے خلاف تعزیری اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    حماس نے اسرائیل کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    حماس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ امریکہ، مصر، قطر اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے پر عمل کر رہا ہے، لیکن اسے ان افراد کی لاشوں کو نکالنے کے لیے وقت درکار ہے۔

  8. برطانیہ معاہدے کے تحت ترکی کو 20 ٹائیفون یوروفائٹر طیارے فراہم کرے گا, جیسیکا رونسلے، بی بی سی نیوز

    ترکی اور برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    ترکی اور برطانیہ کے درمیان آٹھ ارب پاؤنڈ کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت لندن 20 ٹائیفون یوروفائٹر طیارے انقرہ کو فراہم کرے گا۔

    پیر کو اس معاہدے پر دستخط کے لیے انقرہ پہنچنے والے برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ’برطانوی کارکنان، دفاعی شعبے اور نیٹو کی سکیورٹی کے لیے ایک فتح ہے۔‘

    برطانوی حکومت کے مطابق تقریباً دو دہائیوں میں یہ سب سے بڑا برآمدی معاہدہ ہے جس سے آنے والے برسوں میں برطانیہ میں ملازمتوں کے سینکڑوں مواقع پیدا ہوں گے۔

    دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اس معاہدے کو برطانیہ کے ساتھ ’سٹریٹجک تعلقات کی نئی علامت‘ قرار دیا ہے۔

    برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ 20 ٹائیفون طیارے فراہم کرنے سے ’نیٹو کی سکیورٹی مضبوط ہوگی، ہمارے درمیان دفاعی تعاون بڑھے گا‘ اور ترکی اور برطانیہ میں ’اقتصادی پیداوار کو ترقی‘ ملے گی۔

    ’مجھے فخر ہے کہ برطانوی ٹائیفون طیارے ترکی ک فضائیہ کا آنے والے برسوں میں اہم حصہ ہوں گے۔‘

    ٹائیفون طیارے برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور سپین مشترکہ طور پر بناتے ہیں اور اس معاہدے کی توثیق ابھی ان ممالک سے ہونا باقی ہے۔

    توقع کی جارہی ہے کہ سنہ 2030 تک پہلا ٹائیفون طیارہ ترکی کو فراہم کر دیا جائے گا۔

    ٹائیفون طیارے میں کیا خصوصیات ہیں؟

    ٹائیفون ایک فورتھ جنریشن لڑاکا طیارہ ہے جو کہ برطانیہ کی رائل ایئر فورس کا بھی حصہ ہے۔

    رائل ایئر فورس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    رائل ایئر فورس کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق یہ طیارہ لبیا، عراق، شام اور رومانیہ میں بھی استعمال ہو چکا ہے۔

    فضائی لڑائیوں کے لیے اس میں انفراریڈ گائیڈڈ اسرام میزائل، 27 ایم ایم ماؤزر گن نصب ہیں جبکہ دور تک مار کرنے کے لیے اس میں ایمریم اور ریڈار گائیڈڈ میزائل نصب ہیں۔

    فضا سے زمین پر مار کرنے کے مشنز پر اس جہاز کے ذریعے لیزر گائیڈڈ بم، برمسٹون ٹو میزائل یا دور تک مار کرنے والے سٹورم شیڈو میزائل استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

  9. انڈین اور روسی کمپنیوں کے درمیان انڈیا میں مسافر طیارے بنانے کی یادداشت پر دستخط

    انڈیا اور روس

    ،تصویر کا ذریعہX/@HALHQBLR

    انڈیا اور روس کی دو کمپنیوں کے درمیان ایک یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں انڈیا میں مسافر جہاز بنائے جائیں گے۔

    اس یادداشت پر دستخط ہندوستان ایرونوٹکس لمیٹڈ اور یونائیٹڈ ایئرکرافٹ کارپوریشن نے کیے ہیں جس کے تحت دونوں کمپنیاں ایس جے 100 مسافر طیارے انڈیا میں مشترکہ طور پر بنائیں گی۔

    انڈین کمپنی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ’ایس جے 100 دو انجنوں پر مشتمل چھوٹا طیارہ ہے۔ اب تک 200 زیادہ جہاز بنائے جا چکے ہیں اور 16 سے زیادہ ایئرلائنز کے استعمال میں ہیں۔‘

    ’اس معاہدے کے تحت کمپنی کو ملک کے اندر مسافروں کے لیے ایس جے 100 جہاز بنانے کے اختیارات مل گئے ہیں۔‘

    ہندوستان ایرونوٹکس لمیٹڈ کے مطابق ایسا پہلی مرتبہ ہوگا کہ انڈیا میں کوئی مسافر طیارہ بنایا جائے گا۔

    اس سے قبل اسی کمپنی نے سنہ 1961 میں ایس ایس 748 میں بنانا شروع کیا تھا، تاہم 1988 میں یہ طیارہ بننا بند ہوگیا تھا۔

  10. ’پاکستان کے ساتھ کبھی بھی اچانک جنگ چھِڑ سکتی ہے‘: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان پر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے رہائشیوں میں تشویش کیوں؟, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کبھی بھی جنگ ہو سکتی ہے۔

    پیر کے روز نئی دلیّ میں دفاعی سازوسامان بنانے والی کمپنیوں کی ایک انجمن کے زیرِ اہتمام تقریب سے خطاب کے دوران راج ناتھ سنگھ نے رواں سال 22 اپریل کو سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’یہ واقعہ اس بات کی تلخ یاد دہانی ہے کہ اب کبھی بھی بغیر کسی پیشگی وارننگ کے کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے انڈیا کو اس بات کے لیے تیار رہنا ہو گا کہ کبھی بھی اچانک جنگ چھِڑ سکتی ہے۔‘

    راج ناتھ سنگھ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ’آپریشن سندور‘ ختم نہیں ہوا ہے بلکہ اس کو محض معطل کیا گیا ہے۔

    تاہم یہ پہلی بار ہے کہ انھوں نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان اچانک جنگ چھِڑنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    اس بیان پر اکثر حلقوں کا کہنا ہے کہ انڈیا کی ریاست بہار میں اگلے ہفتے ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں برتری حاصل کرنے کے لیے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما پاکستان مخالف لہجہ اپنا رہے ہیں۔

    اس کے باوجود انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرحدی علاقوں میں اس بیان کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    لائن آف کنٹرول کے قریب واقع پونچھ ضلع کی سرحدی بستیوں میں لوگوں نے بنکرز کی صفائی شروع کر دی ہے۔

    رواں سال مئی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران پونچھ میں ایک سرکاری افسر سمیت 21 افراد مارے گئے تھے جبکہ کشمیر کی گُریز ویلی سے سینکڑوں افراد کو نقل مکانی کرنی پڑی تھی۔

    پونچھ کے چکاندا باغ کے رہائشی محمد حُسین کھٹانہ کہتے ہیں: ’اس سال مئی میں جو ہوا، وہ ہماری نسل کے لیے پہلا تجربہ تھا۔ حالانکہ ہم اپنے والدین اور دیگر بزرگوں سے سُنتے آئے ہیں کہ ماضی میں بھی جنگیں ہوئی ہیں۔ مئی میں سیز فائر کے بعد ہم نے راحت کا سانس لیا تھا، لیکن اب دوبارہ جنگ کی باتیں ہو رہی ہیں اور یہاں سے کئی خاندان ایک بار پھر نقل مکانی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔‘

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انڈین حکومت نے کئی برس قبل سرحدی بستیوں میں گیارہ ہزار بنکرز بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ اس سال مئی کی جنگ کے بعد اس منصوبے پر تیزی سے عمل کے لیے انتظامیہ کو متحرک کیا گیا ہے۔

    ایل او سی کے قریبی واقع قصبہ کرناہ کے سیّد کوثر سلام کہتے ہیں: ’بنکر بننے کا مطلب جان کی ضمانت نہیں ہے، کیونکہ ہمارے گاوٴں میں تو کئی لوگ اپنے بنکر کے قریب گولہ گرنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔‘

    اس کے باوجود ان خیال میں بنکرز گھروں سے زیادہ محفوظ ہوتے ہیں۔

    ’فوج نے کئی بنکرز بنوائے ہیں، لیکن پوری آبادی کے لیے بنکرز تعمیر کرنا ایک کام طویل ہو سکتا ہے اور اگر اتنے میں جنگ ہو گئی تو کیا ہو گا؟‘

  11. پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، انڈیکس میں ایک ہزار پوائنٹس سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور انڈیکس میں 1000 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 163380 پوانئٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔

    واضح رہے کہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کافی دنوں سے مندی کا رجحان تھا۔ گزشتہ تین کاروباری دنوں میں مارکیٹ میں چار ہزار پوائنٹس تک کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی تاہم منگل کے روز انڈیکس میں اضافہ دیکھا گیا۔

    مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق سٹاک ایکسچنیج میں مندی کی وجہ مارکیٹ میں ہونے والی پرافٹ سیلنگ تھی جس کی وجہ سے مارکیٹ نیچے تھی۔ تاہم وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے دوران ریاض کی جانب سے تیل کی موخر ادائیگیوں سے متعلق اطلاعات نے مارکیٹ میں مثبت رجحانات کو فروغ دیا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی جانب سے تاحال اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    مارکیٹ تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ مارکیٹ انڈیکس گزشتہ کئی دنوں کی مندی کی وجہ سے نیچے آیا ہوا تھا جس کے بعد اس میں کچھ اضافے کا امکان تھا۔

    انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب اور تیل ادھار پر ملنے کی اطلاعات ایک مثبت خبر ہے جس نے تھوڑا سا مارکیٹ میں مثبت رجحان پیدا کیا۔

    تاہم ان کے مطابق یہ شارٹ ٹرم ریکوری ہے کیونکہ مارکیٹ میں رول اوور کمزور ہے جس میں فیوچر کنٹریکٹس کی سیٹلمنٹ ہونی ہے۔ اس لیے امکان ہے کہ مارکیٹ دوبارہ نیچے آسکتی ہے۔

    شہریار بٹ نے کہا مارکیٹ سرمایہ کار سعودی عرب کے ساتھ معاشی تعاون کے منصوبوں کو اب حقیقت کا روپ دھارتے دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ مفاہمتی یاداشتیں کافی ہو چکی ہیں اور اب ان پر عمل درآمد سے مارکیٹ میں بڑی تیزی آ سکتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سعودی عرب سے تیل ادھار پر لینے کی پیش رفت مثبت ہے کیونکہ پاکستان ہر سال 18 ارب ڈالر کا تیل درآمد کرتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ تیل ادھار پر ملنے سے پاکستان کے زرِمبادلہ ذخائر اور روپے کو ڈالر کے مقابلے میں مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی۔

  12. ’افغان طالبان کے وفد کو کابل سے کنٹرول کیا جا رہا ہے، حوصلہ افزا جواب نہ ملنے کے باعث مذاکرات میں تعطل پیدا ہوا،‘ سرکاری میڈیا

    پاک افغان بارڈر

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ترکی کے شہر استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کے تیسرے روز بھی دونوں فریقین کی جانب سے کسی بھی حتمی نتیجے کے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    پاکستان کے سرکاری میڈیا ’پاکستان ٹی وی‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذاکرات کے تیسرے روز بھی مشکلات کا سامنا رہا۔

    ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کا وفد پاکستان کے پیش کردہ مطالبات ماننے پر پوری طرح آمادہ نہیں حالانکہ میزبان ممالک بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کا موقف منصفانہ اور جائز ہے۔

    سرکاری میڈیا کے مطابق، ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان وفد بار بار کابل انتظامیہ سے مشورہ کر رہا ہے اور ان کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر عمل کر رہا ہے۔ ’یہ کہنا مناسب ہو گا کہ وفد کو کابل سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔‘

    پاکستان ٹی وی کے مطابق، ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی وفد کا اصرار ہے کہ یہ مطالبات سب کے مفاد میں ہیں اور میزبان ممالک کی جانب سے بھی افغان وفد کو یہی پیغام دیا گیا ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ کابل انتظامیہ کی جانب سے کوئی حوصلہ افزا جواب نہ ملنے کے باعث تعطل پیدا ہوا ہے۔

    سرکاری میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کابل میں بعض عناصر ایک مختلف ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔

    خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوحہ میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کے باعث افغانستان کے ساتھ تجارت بدستور بند ہے۔

    اتوار کے روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا تھا کہ افغانستان سے دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا جس میں 25 شدت پسندوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    ایک بیان میں آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں نے اسے وقت میں دراندازی کی کوشش کی ہے جب استبول میں مذاکرات جاری ہیں۔ پاکستانی فوج نے الزام لگایا ہے کہ سرحد پار شدت پسندی کے ایسے واقعات عبوری افغان حکومت کے ارادوں پر ’شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔‘

    آئی ایس پی آر نے کہا کہ دوحہ معاہدے کے تحت عبوری افغان حکومت کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہے۔

  13. جمیکا کو سال 2025 کے سب سے طاقتور سمندری طوفان میلیسا کا سامنا

    جمیکا

    ،تصویر کا ذریعہNOAA via Getty Images

    جمیکا کو سال 2025 کے سب سے طاقتور سمندری طوفان کا سامنا ہے جو ممکنہ طور پر آج تک جزیرے پر آنے والا سب سے زیادہ طاقتور ہو گا۔

    امریکی ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان میلیسا سے ’تباہ کن اور جان لیوا‘ حالات پیش آ سکتے ہیں۔

    175 میل فی گھنٹہ (282 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی ہواؤں کے ساتھ طوفان میلیسا کیٹیگری پانچ کا طوفان ہے جو سب طاقتور طوفان ہوتا ہے۔

    یہ طوفان شدت اختیار کر رہا ہے اور منگل کے روز اس کے کیریبین جزیرے سے ٹکرانے کا امکان ہے۔

    طوفان کے نتیجے میں تاحال جمیکا میں تین جبکہ ہیٹی اور ڈومینیکن ریپبلک میں چار ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ میلیسا کی سست رفتار کی وجہ سے کچھ علاقوں میں طوفانی بارشوں کا دورانیہ طویل ہو سکتا ہے جس سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

  14. اگر غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستانی افواج کو موقع ملتا ہے تو اس سے بہتر کچھ نہیں: رانا ثنااللہ

    رانا ثنااللہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے معاونِ خصوصی رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اگر غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستانی افواج کو موقع ملتا ہے تو اس سے بہتر کچھ نہیں ہو سکتا۔

    پیر کی شب نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز پر نشر ہونے والے ایک پروگرام کے دوران وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی سے ٹائمز آف اسرائیل کی ایک خبر کے حوالے سے پوچھا گیا کہ کیا اس بات میں کوئی سچائی ہے کہ غزہ امن منصوبے کے تحت غزہ میں تعیناتی کے لیے بنائی جانے والی انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) میں پاکستانی فوج بھی شامل ہو گی۔

    رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ’وہاں پر امن قائم کرنے کے لیے اگر پاکستان کی افواج کو موقع ملتا ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ اس سے کوئی بہتر چیز ہو سکتی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے اگر پاکستان کو فلسطینی مظلوموں کی مدد کرنے اور ان کی جان بچانے کے لیے، ان کے اوپر امن کا نفاذ کرنے کے لیے کوئی رول ملے تو اس بہتر کیا ہو سکتا ہے۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے تاہم انھیں اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں کہ پاکستان کو اس متعلق کوئی پیشکش ہوئی ہے یا نہیں۔

    ’لیکن پاکستان ان آٹھ ممالک میں شامل ہے جنھوں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ وہاں پر امن قائم ہونا چاہیے، امن فورس کے پاس اس کا انتظام ہونا چاہیے، وہاں سے اسرائیلی فوج کا انخلا ہونا چاہیے اور اس کا موقع ملے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک سعادت کی بات ہو گی۔‘

    ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے تحت امریکہ اپنے عرب اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر غزہ میں فوری طور پر تعیناتی کے لیے ایک عارضی انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) تیار کرے گا۔ آئی ایس ایف غزہ میں جانچ شدہ فلسطینی پولیس فورسز کو تربیت اور مدد فراہم کرے گا

  15. وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر غور

    شہباز شریف سعودی ولی عہد محمد بن سلمان

    ،تصویر کا ذریعہPak PM House

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ریاض میں سعودی ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ہوئی۔

    گذشتہ رات پاکستانی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیرِ اعظم سینیٹر اسحاق ڈار، اور دونوں ممالک کی کابینہ کے سینئیر ارکان بھی شریک تھے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور زیر غور آئے جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تجارت، سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ شامل ہے۔

    ملاقات کے بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا کہ ’ریاض میں اپنے بھائی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات بہت خوشی اور اعزاز کی بات ہے۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    خیال رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد کی دعوت پر نویں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو کانفرنس میں شرکت کے لئے پیر کے روز ریاض پہنچے تھے۔

    ریاض میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کانفرنس میں عالمی رہنما، سرمایہ کار، پالیسی ساز اور دیگر شعبوں کے ممتاز شخصیات شرکت کریں گی۔

  16. 20 سال بعد پاکستان، بنگلہ دیش مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس: اسلام آباد کی ڈھاکہ کو کراچی پورٹ ٹرسٹ کے استعمال کی پیشکش

    کراچی پورٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    20 سال کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مشترکہ اقتصادی کمیشن (جے ای سی) کا اجلاس منعقد ہوا جس کے دوران پاکستان نے بنگلہ دیش کو کراچی پورٹ ٹرسٹ کے استعمال کی پیشکش کر دی۔

    پیر کے روز بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ہونے والے جے ای سی کے نویں اجلاس کے دوران تجارت، سرمایہ کاری و صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ و مواصلات، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیکسٹائل سمیت باہمی دلچسپی کے متعدد شعبوں پر بات چیت ہوئی۔

    اجلاس میں دونوں ملکوں کی قومی شپنگ کارپوریشنز کے مابین تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اسی تناظر میں پاکستان نے چین اور وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی کے لیے بنگلہ دیش کو کراچی پورٹ ٹرسٹ کو بطور گیٹ وے استعمال کرنے کی پیشکش کی۔

    20 سال بعد پاکستان، بنگلہ دیش مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    پاکستان کے سرکاری میڈیا اے پی پی کے مطابق، دونوں ملکوں نے سیاحت اور کاروباری روابط کے فروغ کے لیے براہِ راست فضائی رابطے کے قیام پر بھی اتفاق کیا۔

    اجلاس کے دوران پاکستان حلال اتھارٹی اور بنگلہ دیش سٹینڈرڈز اینڈ ٹیسٹنگ انسٹی ٹیوٹ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق، اس سے حلال مصنوعات کی سٹینڈرڈائزیشن اور سرٹیفکیشن میں تعاون کی راہ ہموار ہو گی۔

    اجلاس کے دوران پاکستان کی جانب سے پاکستان۔بنگلہ دیش نالج کوریڈور کے قیام کے بارے میں آگاہ کیا گیا جس کے تحت بنگلہ دیشی طلبا کے لیے 500 نئی مکمل فنڈڈ سکالرشپس کی پیشکش شامل ہے۔

    ملاقات کے دوران تجارت، بحری امور اور آئی ٹی سمیت اہم شعبوں میں مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ مشترکہ ورکنگ گروپ برائے تجارت کا افتتاحی اجلاس منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

  17. بلوچستان: کچھی میں نامعلوم مسلح افراد کے دو تھانوں اور ایک بینک پر حملے، پولیس کے ایس ایچ او ہلاک اور ایک اہلکار زخمی

    بلوچستان کے ضلع کچھی کی تحصیل بھاگ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں پولیس کے ایک ایس ایچ او ہلاک جبکہ ایک اہلکارزخمی ہوگئے ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق جوابی کاروائی میں دو حملہ آور بھی مارے گئے جن میں سے ایک کی لاش کو حملہ آور اپنے ساتھ لے گئے۔

    بھاگ پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ حملہ آوربھاگ شہرمیں سہہ پہرکے وقت داخل ہوئے جو کہ ایک گاڑی اورموٹر سائیکلوں پرتھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے پولیس کے دو تھانوں پرحملے کے علاوہ نیشنل بینک پرحملہ کیا۔

    ان تھانوں میں سے ایک تھانہ وہ تھا جو کہ پہلے لیویزفورس کے زیرانتظام تھا جوکہ چند روزقبل لیویز فورس کی پولیس میں انضمام کے بعد پولیس کے حوالے ہوا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ حملہ آور اس تھانے سے جوکہ پہلے پولیس کے پاس تھا اسلحہ لے جانے کے علاوہ اس میں واقع جوڈیشل لاک اپ سے چار سے پانچ انڈرٹرائیل قیدیوں کو بھی چھڑا کر لے گئے۔

    رابطہ کرنے پرکچھی پولیس کے ایس ایس پی معاذالرحمان نے بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد چالیس سے پچاس کی قریب تھی جن میں سے آدھے نے بیک وقت ایک اور آدھے نے دوسرے تھانے پرحملہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جوتھانہ پہلے لیویز فورس کے اہلکاروں کے پاس تھا اس سے حملہ آور کچھ اسلحہ لے جانے کے علاوہ وہاں پر موجود ریکارڈ کو بھی نذر آتش کیا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ قریب میں واقع پٹوار خانے کے ریکارڈ کو بھی نذرآتش کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس تھانے کے سامنے نیشنل بینک پر بھی مسلح افراد نے حملہ کیا جس کی وجہ سے بینک کا دروازہ ٹوٹ گیا لیکن بینک پر تعینات پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا جس کی وجہ سے وہ بینک میں داخل ہونے اور وہاں سے رقم لے جانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

    ایس ایس پی پولیس نے بتایا کہ دوسرے تھانے پربھی پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کیا جس میں پولیس کا ایس ایچ او لطف علی کھوسہ مارے گیے جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی کاروائی میں دو حملہ آور ہلاک اوران میں سے بعض زخمی ہوگئے۔

    حملہ آورمارے جانے والے اپنے ایک ساتھی کی لاش اور زخمیوں کو لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔

    چند روز کے دوران ضلع کچھی میں یہ اپنی نوعیت کا دوسرا حملہ تھا۔ اس سے قبل ضلع کچھی کے علاقے حاجی شہرمیں بھی نامعلوم مسلح افراد نے لیویز فورس کے تھانے پر حملہ کیا تھا۔ حملہ آوروں نے تھانے کو نذرآتش کرنے کےعلاوہ وہاں سے اسلحہ بھی لے گئے تھے۔

    خیال رہے کہ تاریخی درہ بولان بھی ضلع کچھی کا حصہ ہے۔ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے بولان میں پہلے بھی کمی بیشی کے ساتھ سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور ٹرینوں پرحملے سمیت سنگین بدامنی کے دیگر واقعات رونما ہوتے رہے ہیں لیکن ضلع کے علاقے بھاگ اورحاجی شہرکے علاقوں میں یہ اس نوعیت کے پہلے حملے تھے۔

  18. غزہ سے ملحقہ اسرائیلی علاقوں میں دو برس بعد ایمرجنسی ختم

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل نے دو برس بعد غزہ کے قریب اسرائیلی علاقوں میں ایمرجنسی ختم کر دی ہے۔

    پیر کو اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بتایا کہ اسرائیل کے غزہ کی سرحد سے ملحقہ جنوبی علاقوں میں دو برس بعد ایمرجنسی ہٹا لی گئی ہے۔

    وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اسرائیل کی ڈیفنس فورسز کی سفارشات کے تحت کیا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق یہ فیصلہ ’جنوبی اسرائیل میں سکیورٹی کی نئی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے اور ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہو چکا ہے۔‘

    دو برسوں میں پہلی بار غزہ کی سرحد سے متصل قصبوں میں ہنگامی حالت ختم کی گئی اور بین الاقوامی ٹیموں نے یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش میں حصہ لیا ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق، اسرائیل میں یرغمال خاندانوں کے فورم نے پیر کو غزہ میں امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے اگلے مرحلے کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جب تک حماس باقی تمام باقیات حوالے نہ کر دے۔

    فورم نے ایک بیان میں کہا کہ ’حماس کو بخوبی معلوم ہے کہ اس کے پاس ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کی لاشیں کہاں ہیں۔ تمام 48 یرغمالیوں کی واپسی کے لیے معاہدے میں طے شدہ ڈیڈ لائن کو دو ہفتے گزر چکے ہیں، پھر بھی ان میں سے 13 حماس کے پاس ہیں۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اہل خانہ اسرائیلی حکومت، امریکی انتظامیہ اور ثالثوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ معاہدے کے اگلے مرحلے میں اس وقت تک نہ جائیں جب تک کہ حماس اپنی تمام ذمہ داریاں پوری نہیں کرتی اور تمام یرغمالیوں کو اسرائیل کو واپس نہیں کر دیتی۔‘

  19. سابق کینیڈین وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو اور امریکی گلوکارہ کیٹی پیری کی ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے تصاویر, اینا فگوئے

    امریکی گلوگارہ کیٹی پیری اور سابق کینیڈین وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی گلوگارہ کیٹی پیری اور سابق کینیڈین وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے بظاہر اپنے رشتے کی تصدیق کر دی ہے اور پیرس میں ان کی تصاویر کھینچی گئی ہے جس میں انھیں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    مشہور شخصیات پر رپورٹنگ کرنے والے ادارے ٹی ایم زی نے ان دونوں کی تصاویر اور ویڈیو شیئر کی ہے جس میں سابق کینیڈین وزیرِ اعظم اور امریکی گلوکارہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی میں بیٹھ رہے ہیں۔

    اس وقت فوٹوگرافرز انھیں آوزیں دے رہے تھے اور جسٹن ٹروڈو گلوکارہ کو پچھلی سیٹ پر بیٹھنے میں مدد کر رہے تھے۔

    کیٹی پیری اور جسٹن ٹرودو دونوں نے ہی اپنے تعلق کے بارے میں تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تاہم ہفتوں سے ان کی تصاویر منظرِ عام پر آ رہی ہیں جس کے بعد قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    رواں برس کے اوائل میں سابق کینیڈین وزیرِ اعظم کو کیٹی پیری کے ایک کنسرٹ میں دیکھا گیا تھا اور وہیں سے اس تعلق کے بارے میں افواہیں پھیلنا شروع ہوئی تھیں۔

    پیرس میں یہ دونوں ایک ایسے وقت میں دیکھے گئے ہیں جب کیٹی پیری اپنی 41 ویں سالگرہ منا رہی ہیں۔ بظاہر بطور جوڑا یہ ان کا پہلا سفر ہے۔

    کیٹی پیری کے ترجمان اور جسٹن ٹروڈو کی لبرل پارٹی نے بھی بی بی سی کے سوالات پر تاحال تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    لندن میں اپنے حالیہ دورے کے دوران کیٹی پیری نے بھی کسی سے تعلق ہونے کا اشارہ دیا تھا۔

    ایک پرفارمنس کے دوران جب ایک پرستار نے انھیں پرپوز کیا تو گلوکارہ نے مذاقاً جواب دیا: ’کاش آپ نے مجھ سے 48 گھنٹے پہلے پوچھا ہوتا۔‘

    کیٹی پیری اس سے قبل اداکار اورلینڈو بلوم کے ساتھ رشتے میں تھیں۔ دونوں تقریباً ایک دہائی تک ساتھ رہے تھے اور ان کی ایک بیٹی بھی ہے۔

    سنہ 2015 سے سنہ 2025 تک کینیڈا کے وزیرِ اعظم رہنے والے جسٹن ٹروڈو اس سے قبل سوفی گریگری کے ساتھ رشتہ ازدواج میں 18 برس تک منسلک رہے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان علیحدگی 2023 میں ہوئی تھی اور دونوں کے تین بچے بھی ہیں۔

  20. لبنان میں اقوامِ متحدہ کی امن فورس نے اسرائیلی ڈرون مار گرایا

    اقوامِ متحدہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کا کہنا ہے کہ اس نے لبنان میں ایک اسرائیلی ڈرون مار گرایا ہے جو اتوار کو ملک کے جنوب میں اس کے گشت کرنے والے اہلکاروں کے اوپر اُڑ رہا تھا۔

    امن مشن کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون سرحد علاقہ کفرکلا میں ’جارحانہ انداز‘ میں اُڑ رہا تھا اور اس کے امن اہلکاروں نے ’ضروری دفاعی اقدامات‘ لیے۔

    تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کا ڈرون ’معمول کی انٹیلیجنس اکھٹی‘ کر رہا تھا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل نادو شوشانی کا کہنا تھا کہ: ’ابتدائی انکوائر سے معلوم ہوا ہے کہ قریب ہی موجود اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے اہلکاروں نے جان بوجھ کر ڈرون پر فائرنگ کی اور اسے مار گرایا۔ ڈرون کی سرگرمی ان کے لیے خطرہ نہیں تھی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ بعد میں اسرائیلی فورسز نے اس مقام پر گرینیڈ پھینکے جہاں ڈرون گرا تھا۔

    ’اس بات پر زور دیا جانا چاہیے کہ اقوامِ متحدہ کی امن فورس کی طرف فائر نہیں کیے گئے۔ فوجی ذرائع کے ذریعے اس واقعے پر مزید غور کیا جا رہا ہے۔‘

    دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے امن مشن کا کہنا ہے کہ ایک اور اسرائیلی ڈرون نے اس کے گشت کرنے والے اہلکاروں کے ’قریب‘ گرینیڈ گرایا تھا۔

    ’کچھ لمحوں بعد ایک اسرائیلی ٹینک نے امن فوج کے اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ خوش قسمتی سے اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے اہلکاروں یا ان کے اثاثوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔‘