پاکستان اور افغان طالبان کا جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق، 6 نومبر کو استنبول میں مذاکرات کا نیا دور شروع ہوگا

پاکستان اور افغان طالبان جنگ بندی جاری رکھنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ ترکی نے استنبول مذاکرات کے بعد پاکستان اور افغان طالبان کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا ہے۔ اعلامیے میں یہ کہا گیا ہے کہ فریقین نے جنگ بندی کے تسلسل پر اتفاق کیا ہے اور اب جنگ بندی کے نفاذ کے قواعد و ضوابط 6 نومبر سے استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں طے کیے جائیں گے۔

خلاصہ

  • پاکستان ترکی کی درخواست پر استنبول میں افغان طالبان سے مذاکراتی عمل بحال کرنے پر رضامند: سرکاری میڈیا
  • امریکی صدر کی چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات: نایاب معدنیات کی تجارت کا معاملہ طے پا گیا، اپریل میں چین کا دورہ کروں گا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی وزارتِ جنگ کو ہدایت کی ہے کہ وہ بھی چین اور روس کے جتنے نیوکلیئر تجربات شروع کر دیں
  • بلوچستان میں انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر آپریشن، 18 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر
  • خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں شدت پسندوں کے آپریشن, ایک کیپٹن سمیت چھ سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک

لائیو کوریج

  1. پاکستان اور افغان طالبان کا جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق، 6 نومبر کو استنبول میں مذاکرات کا نیا دور شروع ہوگا

    Pak Afghan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان اور افغان طالبان جنگ بندی جاری رکھنے پر متفق ہوگئے ہیں۔ استنبول مذاکرات کے بعد پاکستان اور افغان طالبان کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔

    اعلامیہ ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا جس میں یہ کہا گیا ہے کہ فریقین نے جنگ بندی کے تسلسل پر اتفاق کیا ہے۔ جنگ بندی کے نفاذ کے قواعد و ضوابط 6 نومبر سے استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں طے کیے جائیں گے۔

    مشترکہ اعلامیے کے مطابق ترکی اور قطر کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان 25 سے 30 اکتوبر تک استنبول میں مذاکرات ہوئے۔

    یہ مذاکرات دوحہ میں 18 اور 19 اکتوبر کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کو مضبوط بنانے کے لیے منعقد کیے گئے۔

    فریقین نے جنگ بندی پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے نگرانی اور تصدیق کا ایک مشترکہ نظام تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا ہے جو کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار فریق پر جرمانہ عائد کرنے کا اختیار رکھے گا۔

    اعلامیے کے مطابق ثالث ممالک ترکی اور قطر نے دونوں فریقوں کے مثبت کردار کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنے تعاون کو جاری رکھیں گے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز ترکی کی درخواست پر پاکستان نے افغانستان سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

    Pak Afghan

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر لکھا کہ ’افغانستان وفد کا یہ کہنا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گرد اصل میں افغان سر زمین پہ پاکستانی پناہ گزین ہیں جواپنے گھروں میں پاکستان واپس جا رہے ہیں، یہ کیسے پناہ گزین ہیں جو اپنے گھروں میں انتہائی تباہ کن اسلحہ سے مسلح ہو کر جا رہے ہیں اور سڑکوں کے ذریعے بسوں ٹرک یا گاڑیوں پہ سوار نہیں جا رہے بلکہ چوروں کی طرح پہاڑوں میں دشوار گزار رستوں سے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں، یہ تاویل ہی افغانستان کی نیت کے فتور خلوص سے عاری ہونے کا ثبوت ہے۔‘

    جمعرات کی شب جیو نیوز کے پروگرام ’ آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ’ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ جہاں پہلے تمام امیدیں ختم ہو چکی تھیں، اب ’ کچھ آثار نظر آرہے ہیں’، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ کچھ حتمی نہیں کہہ سکتے۔

    مذاکرات کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مختلف مسودے تیار کیے جا رہے ہیں، اور جب ایک فریق کسی مسودے سے متفق ہوتا ہے تو اسے دوسرے فریق کو ترمیم کے لیے بھیج دیا جاتا ہے، جس کے بعد وہ دوبارہ نظرثانی کے لیے واپس آتا ہے۔

    وزیردفاع نے کہا کہ ’آخرکار ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے مختلف مسودے تبادلے میں ہیں، آپ کہہ سکتے ہیں کہ امید کی کچھ کرن نظر آرہی ہے؛ بہت محتاط انداز میں امید پسندی موجود ہے، امید کرتے ہیں کہ اس سے کوئی نتیجہ نکلے۔‘

  2. افغانستان کو آبی وسائل کی مینجمنٹ میں مدد دینے کو تیار ہیں: انڈیا

    افغانستان کا سلمیٰ ڈیم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنافغانستان کا سلمیٰ ڈیم

    انڈیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبی وسائل کی مینجمنٹ کے لیے افغانستان کو ہر قسم کی مدد دینے کو تیار ہے۔

    جمعرات کو ایک پریس بریفنگ کے دوران انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کا کہنا تھا کہ :’ افغانستان کے وزیرِ خارجہ نے حال ہی میں انڈیا کا دورہ کیا ہے اور ہم نے اس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا تھا۔‘

    ’اس مشترکہ اعلامیے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ انڈیا آبی وسائل کی مینجمنٹ کے لیے افغانستان کی مدد کرنے کو تیار ہے، جن میں ہائیڈروالیکٹرک منصوبے بھی شامل ہیں۔‘

    خیال رہے حال ہی میں انڈیا کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے انڈیا کا دورہ کیا تھا، جہاں ان کی اپنے انڈین ہم منصب سمیت متعدد سرکاری حکام سے ملاقاتیں ہوئی تھیں۔

    رندھیر جیسوال مزید کہتے ہیں کہ پانی کے معاملے پر انڈیا اور افغانستان کے درمیان ’تعاون کی ایک تاریخ‘ ہے۔

    ’سلمیٰ ڈیم اس تعاون کی بہترین مثال ہے جسے انڈیا، افغانستان دوستی ڈیم بھی کہا جاتا ہے۔‘

  3. چین کا دو پاکستانی خلابازوں کو تربیت دینےاور ایک کو خلائی مشن پر لے جانے کا اعلان

    چین

    ،تصویر کا ذریعہBBC; Getty Image; Nasa

    چین نے دو پاکستانی خلابازوں کو تربیت دینے اور ایک کو اپنے خلائی مشن میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    جمعرات کو پاکستان میں چینی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’آج چائنا مینڈ سپیس ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ دو پاکستانی خلابازوں کو چین میں تربیت جائے گی اور ان میں سے ایک تیانگونگ سپیس سٹیشن میں مختصر دورانیے کے سپیس فلائٹ مشن کا بھی حصہ ہوگا۔‘

    سفارتخانے نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ: ’اپنے پاکستانی بھائی کو خلا میں سفر کرتا ہوا دیکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔‘

  4. ٹرمپ نے امریکی فوج کو جوہری ہتھیاروں کے تجربات کی ہدایت دے دی, میکس ماٹزا، بی بی سی نیوز

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی فوج کو جوہری ہتھیاروں کے تجربے کرنے کی ہدایت کر دی ہے تاکہ روس اور چین جیسے ممالک کی برابری کی جا سکے۔

    جمعرات کو جنوبی کوریا میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے قبل امریکی صدر نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ: ’دوسرے ممالک کے تجرباتی پروگرامز کی وجہ سے میں نے محکمہ جنگ کو برابری کی سطح پر ہمارے جوہری ہتھیاروں کے تجربے کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔‘

    ٹرمپ کے مطابق امریکہ کے پاس کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں، جبکہ روس اور چین تیسرے نمبر پر ہیں۔

    خیال رہے امریکہ نے سنہ 1992 کے بعد سے اب تک جوہری ہتھیاروں کا کوئی تجربہ نہیں کیا ہے۔

    امریکی صدر کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ کچھ ہی دنوں قبل ایک نیوکلیئر پاورڈ میزائل کا تجربہ کرنے پر روس کی مذمت کر چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس روسی میزائل کی رینج لامحدود ہے۔

    چینی صدر چی جن پنگ سے ملاقات کے بعد ایئر فورس ون میں گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جوہری تجربات کے لیے مقامات کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔

    ’جب دوسرے بھی تجربات کر رہے ہیں تو ایسے میں میرا خیال ہے کہ ہمیں بھی ایسا کرنا چاہیے۔‘

    روس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنروس کا یارس جوہری میزائل

    آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے مطابق شمالی کوریا وہ واحد ملک ہے جس نے رواں صدر میں جوہری دھماکے کا تجربہ کیا ہے۔

    اپنے بیان میں امریکی صدر نے یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ یہ تجربات کیے کیسے جائیں گے۔ انھوں نے بس اتنا لکھا کہ یہ ’عمل فوری شروع‘ ہوگا۔

    امریکی صدر کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین کا جوہری پروگرام بھی ’اگلے پانچ برسوں میں‘ امریکہ کے برابر آ جائے گا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کیا جانے والا اعلان طویل المدتی امریکی پالیسی میں تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔

    امریکہ نے کسی بھی جوہری ہتھیار کا آخری تجربہ سنہ 1992 میں کیا تھا اس کے بعد سابق امریکی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش نے سرد جنگ کے اختتام پر ان تجربات پر پابندی عائد کر دی تھی۔

    کچھ دنوں قبل روس نے اعلان کی تھا کہ اس نے دو نئے ہتھیاروں کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو کہ جوہری وار ہیڈز لے جانے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    کریملن کے مطابق ان میں ایک ایسا میزائل بھی شامل تھا جو امریکی دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ روس نے پوسائیڈن نامی آبی ڈرون کا بھی تجربہ کیا ہے جو کہ امریکہ کے مشرقی ساحل کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    تاہم ان تجربات کے دوران جوہری ہتھیاروں کے دھماکے نہیں کیے گئے تھے۔

    غوری میزائل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنپاکستان کا غوری میزائل

    سب سے زیادہ جوہری ہتھیار کس کے پاس ہیں؟

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس کسی بھی ملک سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں۔

    کس ملک کے پاس کتنے جوہری ہتھیار ہیں یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا لیکن فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس (ایف اے ایس) کے مطابق روس کے پاس شاید پانچ ہزار 459 جبکہ امریکہ کے پاس تقریباً پانچ ہزار 177 جوہری ہتھیار ہیں۔

    ایف اے ایس کے مطابق چین دنیا کی تیسری بڑی جوہری طاقت ہے اور اس کے پاس 600 جوہری ہتھیار موجود ہیں، جبکہ برطانیہ کے پاس 225، انڈیا کے پاس 180، پاکستان کے پاس 170، اسرائیل کے پاس 90 اور شمالی کوریا کے پاس 50 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

  5. مذاکراتی عمل ’ایک بیٹھک میں‘ مکمل نہیں ہوسکتا، پاکستانی اور افغان وفود استنبول میں موجود ہیں: سہیل شاہین, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

    دوحہ میں افغانستان کی طالبان حکومت کے نمائندے سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی پاکستانی اور افغان مذاکراتی وفود استنبول میں ہی موجود ہیں۔

    جمعرات کو سہیل شاہین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دونوں وفود ایک دوسرے سے الگ مختلف ہوٹلوں میں رُکے ہیں اور صرف میزبان ملک (ترکی) ان سے رابطے میں ہے۔‘ خیال رہے گذشتہ روز پاکستانی حکام نے اعلان کیا تھا کہ ان کے افغان طالبان سے مذاکرات ’بے نتیجہ‘ رہے ہیں۔

    بدھ کو کو اپنے ایک طویل بیان میں وزیرِ دفاع نے کہا کہ ’پاکستان واضح کرتا ہے کہ اسے طالبان رجیم کو ختم کرنے یا انھیں غاروں میں چھپنے کے لیے مجبور کرنے میں اپنی پوری طاقت استعمال کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔‘

    تاہم پاکستان میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے ترکی کی درخواست پر مذاکرات کا عمل جاری رکھنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

    دوحہ میں افغان طالبان کے نمائندے سہیل شاہین کا بھی کہنا ہے کہ ’دونوں وفود کو مذاکرات کے اگلے راؤنڈ کی تیاری کے لیے اپنی قیادت کے ساتھ گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    ’یہ ایک ایسا عمل ہے جو ایک بیٹھک میں مکمل یا حل نہیں ہو سکتا۔‘

  6. پریکٹس سیشن کے دوران گیند لگنے سے نو عمر کرکٹر ہلاک

    بین

    ،تصویر کا ذریعہSupplied

    آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں پریکٹس سیشن کے دوران ایک آسٹریلوی نوعمر کرکٹر گیند لگنے سے ہلاک ہو گئے ہیں۔

    منگل کے روز 17 سالہ بین آسٹن فرنٹری گلی میں نیٹ میں پریکٹس کر رہے تھے جب ہینڈ ہیلڈ بال لانچر سے پھینکی گئی گیند ان کی گردن پر لگی۔ پریکٹس کے دوران وہ ہیلمٹ تو پہنے ہوئے تھے لیکن گردن کی حفاظت کے لیے انھوں نے کچھ نہیں پہنا ہوا تھا۔

    طبی امداد کے عملے نے موقع پر ان کی مدد کی کوشش کی۔ بعد ازاں انھیں تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں انھیں لائف سپورٹ پر رکھا گیا تھا۔ تاہم جمعرات کے روز ان کی موت واقع ہو گئی۔

    بین کے والد جیس آسٹن نے کہا ہے کہ بیٹے کی موت سے ان کے خاندان کو ’شدید صدمہ‘ پہنچا ہے۔

    آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق، کرکٹ وکٹوریہ کے سی ای او نک کمنز کا کہنا ہے کہ بین کو بالکل اسی طرح گردن پر گیند لگی جیسے 10 سال قبل آسٹریلوی کرکٹر فلپ ہیوز کو لگی تھی۔

    2014 میں شیفیلڈ شیلڈ میں بیٹنگ کے دوران آسٹریلوی کرکٹر فلپ ہیوز کی گردن پر گیند لگنے سے موت واقع ہو گئی تھی۔

  7. پاکستانی خواتین سے شادی پر افغان مردوں کو پاکستان اوریجن کارڈ جاری کرنے کا پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    سپریم کورٹ نے افغان شہریوں کی پاکستانی خواتین سے شادی پر انھیں پاکستان اوریجن کارڈ جاری کرنے سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔

    بدھ کے روز جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مرد افغان شہریوں کو پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) جاری کرنے کے معاملے کی سماعت کی۔

    دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد اللہ عدالت میں پیش ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ یکم دسمبر 2023 کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہم نے اپیل دائر کر رکھی ہے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پشاور ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ مرد افغانی شہری اگر پاکستانی خاتون سے شادی کرے تو اسے پی او سی کارڈ جاری کیا جائے۔

    رانا اسد اللہ کا کہنا تھا کہ ہمیں پی او سی کارڈ کے اجرا سے مسئلہ نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ پاکستانی خاتون سے شادی کرنے والے افغان شہری کو پاکستانی شہریت دی جائے۔

    بینچ میں شامل جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ شہریت کس گراؤنڈ پر دی جاسکتی ہے، کل کتنے درخواست گزار ہیں؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کل 117 درخواست گزار ہیں۔ اس پر جسٹس مسرت ہلالی کا کہنا تھا کہ یہ تو وہ درخواست گزار ہیں جو سامنے آ گئے ہیں۔

    دورانِ سماعت نادرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پاکستانی خاتون شہری سے شادی کرنے والے افغان شہری کیلئے ویزا کی شرط بھی ہے۔

    جسٹس ہلالی کا کہنا تھا کہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کوئی شخص دیوار پھلانگ کر آیا یا دروازہ پھلانگ کر۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں توہین عدالت کی درخواستیں دائر کی جا رہی ہیں۔

    سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا اور فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

  8. پاکستان ترکی کی درخواست پر استنبول میں افغان طالبان سے مذاکراتی عمل بحال کرنے پر رضامند: سرکاری میڈیا

    طورخم بارڈر

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    پاکستان کے سرکاری میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں مذاکرات دوبارہ شروع ہونے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق، مذاکرات میں توسیع کا فیصلہ میزبان ملک ترکی کی درخواست پر کیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی وفد جس نے آج استنبول سے روانہ ہونا تھا، اب وہیں ٹھہرے گا اور مذاکرات میں حصہ لے گا۔

    سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مذاکراتی عمل کو بحال کرنے کا مقصد امن کو ایک اور موقع دینا اور خطے میں اعتماد کی فضا بحال کرنا ہے۔

    گذشتہ روز طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ اور قطر میں افغانستان کے سفیر سہیل شاہین نے کہا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا ایک اور دور ہونا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر اس طرح کے مذاکرات میں ایک ہی بیٹھک یا ایک ہی دور میں حتمی معاہدے نہیں ہوتے ہیں۔

    اس سے قبل منگل کو رات گئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک طویل بیان میں پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے مذاکرات کی جناکامی کا اعلان کیا تھا۔

    خیال رہے کہ رواں ماہ پاکستان اور افغانستان کے مابین شدید سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک نے عارضی طور جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا اور پھر مذاکرات کے پہلا دور قطر میں ہوا تھا جس میں دونوں ممالک نے جنگ بندی توسیع اور دیر پا امن کے قیام کے لیے دوسرے مرحلے کے مذاکرات کا اعلان کیا تھا۔

    پاکستان اور افغانستان کے مابین استبول میں 25 اکتوبر سے مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوا تھا۔

    تاہم استنبول میں چار روزہ مذاکرات کے بعد منگل کو رات گئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک طویل بیان میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ امن کو ایک موقع دینے کی کوشش میں، قطر اور ترکی کی درخواست پر، پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے ساتھ پہلے دوحہ اور پھر استنبول میں مذاکرات کیے۔

    انھوں نے مذکرات کی ناکامی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ استنبول میں ہونے والی بات چیت میں بھی قابل حل عمل نہیں نکل سکا۔

    افغان طالبان کی حکومت سے مذاکرات کی ’ناکامی‘ کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغان حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اگر چاہے تو اپنی پوری طاقت استعمال کیے بغیر بھی افغان طالبان کی حکومت ختم کر سکتا ہے۔

  9. بلوچستان میں انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر آپریشن، 18 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ 28 اور 29 اکتوبر کو صوبہ بلوچستان میں آپریشن کے دوران 18 شدت پسند مارے گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کوئٹہ ڈویژن کے علاقے چلتن پہاڑیوں میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک آپریشن کیا گیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 14 شدت پسند مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے ضلع کیچ کے علاقے بلیدا میں بھی انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر ایک آپریشن کیا گیا۔ بیان کے مطابق، اس آپریشن کے دوران شدت پسندوں کا ایک ٹھکانہ تباہ کر دیا گیا جبکہ کارروائی میں چار شدت پسند بھی ہلاک ہوئے۔

    اس سے قبل ایک اور بیان میں آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں شدت پسندوں کے خلاف کیے گئے سکیورٹی آپریشن کے دوران ایک کیپٹن سمیت چھ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ،آئی ایس پی آر‘ کے مطابق بدھ کے روز سکیورٹی فورسز نے ضلع کرم کے علاقے دوگر میں انٹیلیجنس کی بنیاد پرسکیورٹی آپریشن کیا جس میں سات شدت پسند بھی مارے گئے جبکہ چھ سیکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

  10. یوکرین کے معاملے پر امریکہ اور چین مل کر کام کرنے جا رہے ہیں: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے یوکرین کے معاملے پر صدر شی کے ساتھ ’مل کر کام کرنے‘ پر اتفاق کیا ہے۔

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ’ہم اس بات پر متفق ہیں کہ دونوں فریق لڑ رہے ہیں اور میرے خیال کبھی کبھی آپ کو انھیں لڑنے دینا پڑتا ہے۔ لیکن ہم یوکرین پر مل کر کام کرنے جا رہے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران تائیوان کا معاملہ زیرِ بحث نہیں آیا۔

  11. نایاب معدنیات کی تجارت کا معاملہ طے پا گیا، اپریل میں چین کا دورہ کروں گا: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے فینٹینیل کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیائی اجزا کے امریکہ میں داخلے کی روک تھام کے جواب میں امریکہ تمام چینی مصنوعات پر عائد ٹیرف کو کم کرے گا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ نایاب معدنیات کی تجارت کا معاملہ طے پا گیا ہے تاہم انھوں نے اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں چین کی جانب سے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ اگلے سال اپریل میں چین کا دورہ کریں گے جبکہ اس کے کچھ روز بعد صدر شی امریکہ کا دورہ کریں گے۔

  12. شی جن پنگ ایک عظیم رہنما ہیں، چین اور امریکہ کے درمیان کئی اہم نکات پر اتفاق ہو گیا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    شی جنپنگ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو ’زبردست ملاقات‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چینی صدر ایک ’عظیم رہنما‘ ہیں۔

    ایئر فورس ون پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بہت سے اہم نکات اتفاق ہو گیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ چین امریکہ سے بڑی مقدار میں سویابین خریدنا شروع کر دے گا۔

    چینی براڈکاسٹر سی سی ٹی وی کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ایک گھنٹہ 40 منٹ جاری رہی جو کہ طے شدہ دورانیہ سے زیادہ تھی۔

    ملاقات کے دوران ٹرمپ کے ہمراہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر، وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ، کامرس سیکریٹری ہاورڈ لٹنک، چیف آف سٹاف سوسی وائلز اور چین میں امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو بھی موجود تھے۔

    دوسری جانب، چینی وفد میں صدر شی کے علاوہ ان کے چیف آف سٹاف کائی کیو، وزیر خارجہ وانگ یی، نائب وزیر خارجہ ما ژاؤ سو، نائب وزیر اعظم ہی لائیفنگ، وزیر تجارت وانگ وینتاو اور قومی ترقی اور اصلاحاتی کمیشن کے چیئرمین ژینگ شانجی شامل تھے۔

    شی ٹرمپ ملاقات

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ملاقات سے قبل صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ شی جن پنگ سے ملاقات کامیاب رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں کے مابین ’ہمیشہ سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔‘ شی جن پنگ نے اس کے جواب میں کہا کہ ٹرمپ کو دیکھ کر بہت اچھا لگا۔

    صدر شی جنپنگ کا کہنا تھا کہ انھوں نے کئی بار کہا ہے کہ ’چین اور امریکہ کو شراکت دار اور دوست ہونا چاہیے۔‘

    شی جنپنگ کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کے بڑے ممالک ہونے کے ناطے چین اور امریکہ مشترکہ طور پر اپنی ذمہ داری نبھا سکتے ہیں کیونکہ دنیا کو مشکل مسائل کا سامنا ہے۔

    ملاقات سے قبل ایک رپورٹر نے امریکی صدر سے سوال کیا کہ کیا آج ایک معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا کہ ایسا عین ممکن ہے۔

  13. اینویڈیا دنیا کی پہلی 50 کھرب ڈالرز مالیت کی کمپنی بن گئی

    اینویڈیا

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اینویڈیا، جو کہ کمپیوٹر چپس بنانے کے لیے مشہور ہے، دنیا کی پہلی ایسی کمپنی بن گئی ہے جس کی مالیت 50 کھرب ڈالرز ہے۔

    امریکی کمپنی جو کہ پہلے کمپیوٹر گرافکس چپس بنانے کے لیے مشہور تھی اب مصنوعی ذہانت کے میدان کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ اب اینویڈیا اے آئی چپس بھی بناتی ہے جنھیں بڑے اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے اور انھیں چلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    مصنوعی ذہانت میں بڑھتی دلچسپی کے چلتے اینویڈیا کے چپس کی مانگ میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اور اس کے حصص کی قیمتیں اوپر چلی گئی ہیں۔

    جون 2023 میں کمپنی کی مالیت 10 کھرب ڈالرز تک پہنچ گئی تھی اور محض چار مہینے قبل اینویڈیا کی مالیت 40 کھرب ڈالرز پر پہنچی تھی۔

    بدھ کے روز اینویڈیا کے حصص کی قیمت 5.6 فیصد اضافے کے بعد 212 ڈالرز تک پہنچ گئی۔

    ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، اینویڈیا کی قدر اب امریکہ اور چین کے علاوہ دنیا کے ہر ملک کی جی ڈی پی سے زیادہ ہے۔

  14. ایران اور امریکہ کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں: قطر

    ڈونلڈ ٹرمپ، قطری امیر اور قطری وزیراعظم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قطر کا کہنا ہے کہ وہ ایک بار پھر ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ایران اور امریکہ کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، قطری وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان سنجیدہ مذاکرات کے لی کوشش کر رہے ہیں جس کے نتائج سب کے لیے بہتر ہوں۔

    دوسری جانب، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران فعال طور پر یورینیم کی افزودگی نہیں کر رہا ہے۔ تاہم ان کے مطابق، ایران کے یورینیم کے ذخائر کے قریب کچھ سرگرمیوں کا پتہ چلا ہے۔

    قطر اس سے قبل بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر چکا ہے۔ لیکن رواں سال تہران اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والی بالواسطہ بات چیت عمان کی ثالثی میں ہوئی تھی۔

    رواں سال ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے پانچ دور ہوئے لیکن 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل اور پھر امریکہ کے ایران پر حملے کے بعد تہران نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کا عمل معطل کر دیا تھا۔

    اس حملے کے بعد ایران کی پارلیمان نے ایک قانون بھی منظور کیا جس کے تحت حکومت کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے کا حکم دیا گیا۔

    ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے جواب میں ایران نے قطر میں امریکی اڈے پر میزائل حملہ کیے تھے جس پر قطر نے سلامتی کونسل میں احتجاج کیا اور دوحہ میں ایرانی سفیر کو بھی طلب کیا گیا تھا۔

  15. ضلع کرم میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران پاکستانی فوج کے کیپٹن سمیت چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک

    سکیورٹی فورسز کا آپریشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں شدت پسندوں کے خلاف کیے گئے سکیورٹی آپریشن کے دوران ایک کیپٹن سمیت چھ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ،آئی ایس پی آر‘ کے مطابق بدھ کو سکیورٹی فورسز نے ضلع کرم کے علاقے دوگر میں انٹیلیجنس کی بنیاد پرسکیورٹی آپریشن کیا جس میں سات شدت پسند بھی مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے میں 24 سالہ کیپٹن نعمان سلیم سمیت چھ سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی ہلاک ہو گئے۔

    بیان کے مطابق مرنے والوں میں ایک حولدار، ایک نائیک اور تین سپاہی شامل ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کیپٹن نعمان سلیم میڈیکل آفیسر تھے جنھوں نے اپنی میڈیکل ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ ’بہادری سے شدت پسندوں کا مقابلہ کیا۔‘

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کرم کے علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف کامیاب آپریشن میں پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

  16. صدر ٹرمپ کا امریکی وزارتِ دفاع کو ’فوری طور پر‘ جوہری ہتھیاروں کے تجربے شروع کرنے کا حکم

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی وزارتِ جنگ کو ہدایت کی ہے کہ وہ بھی چین اور روس کے جتنے نیوکلیئر تجربات شروع کر دیں۔

    بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا نیٹورک ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’دوسرے ممالک کے جوہری ہتھیاروں کے تجربات کے پروگراموں کے باعث، میں نے وزارتِ جنگ کو حکم دیا ہے کہ وہ بھی ان کے جتنے تجربات کریں۔ یہ کام فوری طور پر شروع کر دیا جائے گا۔‘

    صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران امریکی جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے کا بھی حکم دیا تھا۔

    امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کی چینی صدر شی جنپنگ سے ملاقات ہونے جا رہی ہے۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے کروز میزائل تجربے کے اعلان کو ’غیر مناسب‘ قرار دیا تھا۔

    ولادیمیر پوتن نے دعوی کیا تھا کہ روس نے ایک ’منفرد‘ کروز میزائل ’بریویسٹنک‘ کا تجربہ کیا ہے جو نیوکلیئر وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روس کے مطابق، اس تجربے کا مقصد ملکی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے بیان میں بھی دعوی کیا کہ امریکہ کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں جبکہ روس دوسرے اور چین تھوڑے فاصلے سے تیسرے نمبر پر ہے۔ تاہم جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی مہم کے مطابق، روس کے پاس 5500 جوہری ہتھیار ہیں جبکہ امریکہ کے پاس 5044 نیوکلیئر وار ہیڈز ہیں۔

    یاد رہے کہ امریکہ نے آخری مرتبہ جوہری تجربہ 1992 میں کیا تھا۔ تاہم اس ہی سال امریکی صدر جورج ایچ ڈبلیو بش نے جوہری تجربات پر پابندی عائد کردی تھی۔

  17. بلوچستان: نصیر آباد میں دستی بم حملے میں 11 زخمی، جعفر ایکسپریس پر مسلح حملے میں جانی نقصان نہیں ہوا, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں دستی بم کے حملے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت 11 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    اسی ضلع میں کوئٹہ سے جانے والی جعفر ایکسپریس پر بھی حملہ ہوا ہے لیکن اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    پولیس حکام کے مطابق نامعلوم افراد نے بدھ کی شب ڈیرہ مراد جمالی شہر میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب پولیس موبائل پر دستی بم سے حملہ کیا جو کہ زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔

    ڈیرہ مراد جمالی پولیس کے ایس ایچ او غلام علی کنرانی نے بتایا کہ دھماکے 11 افراد زخمی ہوئے جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

    زخمی افراد کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    پولیس کے ایس ایچ او نے بتایا کہ واقعے کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ اس سے قبل ضلع نصیر آباد کے علاقے نوتال میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر بھی نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا۔

    اس علاقے کے پولیس کے ایس ایچ او بشیر احمد نے بتایا کہ حملہ چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ٹرین کی سیکورٹی پر مامور اہلکاروں نے جوابی کاروائی کی جس سے حملہ آور فرار ہوگئے۔ پولیس آفیسر کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

  18. وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی اتحاد بین المسلمین کمیٹی سے ملاقات، ’ماضی میں سیاسی مقاصد کے لیے کچھ جماعتوں کو بنایا گیا‘

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت پر الزام لگایا گیا کہ پولیس فائرنگ سے کالعدم تحریک لبیک (ٹی ایل پی) کے 600 کارکن ہلاک ہوئے ہیں، اگر ایسا ہوا ہے تو وہ لاشیں کہاں گئیں، وہ ثبوت کہاں ہیں، وہ کون سا قتل ہے، جس کی کوئی ویڈیو موجود نہیں۔

    لاہور میں اتحاد بین المسلمین کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ کسی بھی ملک کا سفارتکار ہمارا مہمان ہے، اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے، پوری دنیا میں سفارت کاروں کی حفاظت کی جاتی ہے، سیاست یا مذہب کی آڑ میں انتہا پسندی، ہتھیار اٹھانا اور املاک جلانا قبول نہیں۔

    کہا گیا کہ سینکڑوں قتل ہوئے، اگر خدانخواستہ ایسا ہوتا تو لاشوں کے ڈھیر لگ جاتے، اگر کسی کے پاس ثبوت ہیں تو فراہم کریں تا کہ میں اپنی پولیس کو پکڑوں، ہمارے جوان مارے گئے، وہ دنیا نے دیکھا۔

    وزیرا علیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ اڈیالہ جیل میں بیٹھے ہوئے ایک شخص نے ٹوئٹ کیے کہ 600 لوگ ہلاک ہو گئے۔

    خیال رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے پرتشدد احتجاج کے پیش نظر 17 اکتوبر کو پنجاب کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی منظوری دیتے ہوئے سمری وفاقی حکومت کو ارسال کردی تھی، جس پر 24 اکتوبر کو وزیراعظم کے زیرصدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ٹی ایل پی پر پابندی لگانے اور اس جماعت کو کالعدم قرار دینے کی منظوری دے دی گئی۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہم سب کا دل فلسطین کے مسلمانوں کے لیے دُکھتا بھی دھڑکتا بھی ہے، ہم وہ توانا آواز نہیں بن سکے، جو ہمیں بننا چاہیے تھا، وہاں ظالم لوگ اکھٹے ہو جاتے ہیں، لیکن ہم لوگ یہاں اکھٹے نہیں ہوتے، دو سالہ ظلم کے بعد غزہ معاہدے پر فلسطینیوں نے خوشیاں منائیں، لیکن یہاں اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کے اعلانات کیے گئے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر کوئی جتھہ ہتھیاروں سے لیس ہو کر سڑکوں پر آجائے اور کہے کہ مجھے میری مرضی کرنے دی جائے ورنہ میں راستے بند کروں گا، عوام اور حکومت کو یرغمال بناؤں گا، ایسے لوگ ہم سب کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں، ان لوگوں نے پولیس اہلکاروں کو گولیاں ماریں، حکومتی املاک اور ستھرا پنجاب کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہماری حتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کریں، نہیں چاہتے کہ کوئی گروہ آجائے، جو ہر معاملے کو کفر و اسلام کی جنگ بنا دے، ہتھیار اٹھا لے اور حکم دے کہ کسی کو چھوڑنا نہیں ہے۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ رحمت للعالمین کا نام لے کر آپ کیسے شر انگیزی کر سکتے ہیں؟

    مریم نواز نے کہا کہ دیکھنا چاہیے کہ ایک جماعت کے خلاف کارروائی کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ بے گناہوں کو نشانہ بنانے اور راستے بند کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے، کوئی بھی مذہب دوسروں پر بلاجواز حملوں کی اجازت نہیں دیتا۔

    انھوں نے کہا کہ ماضی میں سیاسی مقاصد کے لیے کچھ سیاسی جماعتوں کو بنایا گیا، جس کا مقصد دوسروں کو نیچا دکھانا ہے۔

    واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان نے غزہ کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے 10 اکتوبر کو لاہور سے احتجاجی مارچ شروع کیا تھا اور اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    ٹی ایل پی کے احتجاج کے پیش نظر حکومت نے ٹی ایل پی کے کارکنان نے مریدکے اور سادھوکے میں دھرنا دے دیا تھا، اس دوران پولیس کے کریک ڈاؤن میں ٹی ایل پی کے متعدد کارکنان کو گرفتار کیا گیا۔

    مریدکے میں ٹی ایل پی کے دھرنے پر کریک ڈاؤن کر کے تشدد پسند مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا، مگر تصادم میں پولیس افسر اور مذہبی جماعت کے کارکنوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

  19. عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا توہین عدالت کیس دائر کرنے کے لیے عدالت کو خط

    Sohail Afridi

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا توہین عدالت کیس دائر کرنے کے لیے عدالت کو خط لکھ دیا ہے۔ سہیل آفریدی نے ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط ارسال کر دیا ہے۔

    خط میں انھوں نے لکھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کو سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کا حکم دیا تھا جبکہ جیل انتظامیہ نے اس ملاقات کی اجازت ہی نہیں دی ہے۔

    وزیر اعلیٰ نے لکھا کہ عدالتی فیصلے کے لیے مصدقہ نقل کے حصول کے لیے درخواست پہلے ہی جمع کرائی جا چکی ہے، تاہم ابھی تک یہ فراہم نہیں کی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ توہین عدالت کا کیس جمع کر نے کے لیے ہمیں حکمنامے کی مصدقہ نقل فراہم کی جائے کیونکہ قانون کی پاسداری کے لیے کیس کو آگے بڑھانے کی خاطر حکمنامے کی کاپی درکار ہے۔