ٹرمپ کے داماد اور سٹیو وٹکوف کی اسرائیل اور حماس مذاکرات میں شرکت متوقع، امریکی سیکریٹری خارجہ نے امن منصوبے کو ’دیرپا امن‘ کا موقع قرار دے دیا

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا 20 نکاتی امن منصوبہ ’اس تاریک باب کو بند کرنے، دیر پا امن اور سکیورٹی کی بنیاد رکھنے کا تاریخی موقع ہے۔‘

خلاصہ

  • امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے حماس کے 7 اکتوبر کے 'گھناؤنے' حملے کو دو برس مکمل ہونے کے موقع پر کہا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی حمایت جاری رکھے گا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف کی مصر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات میں شمولیت متوقع ہے
  • مصر میں بالواسطہ مذاکرات کے لیے اسرائیل اور حماس کے وفود مصر میں موجود ہیں۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے غزہ میں قیام امن کے منصوبے کی تفصیلات طے کی جائیں گی
  • حماس نے ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے بعض حصوں پر اتفاق کیا ہے جن میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی بھی شامل ہے
  • خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں نامعلوم افراد نے سرکاری سکول کے ایک ہیڈ ماسٹر اور ایک استاد کو اغوا کرلیا ہے

لائیو کوریج

  1. غزہ امن منصوبہ: خلیل الحیا کی قیادت میں حماس کا وفد مذاکرات کے لیے قاہرہ پہنچ گیا

    خلیل الحیا

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اتوار کی شام فلسطینی تنظیم حماس کا ایک وفد اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے لیے مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچ گیا ہے۔

    حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بات چیت کا مقصد یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں قیامِ امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کا طریقہ کار طے کرنا ہے۔

    اس وفد کی سربراہی حماس کے سیاسی بیورو کے رکن خلیل الحیا کر رہے ہیں جو دوحہ میں ہونے والے اسرائیلی حملے میں بچ گئے تھے۔

    گذشتہ روز حماس نے قطر میں حماس کے دفتر پر اسرائیلی حملے کے بعد پہلی بار خلیل الحیا کی ایک نئی ویڈیو جاری کی تھی۔

    تنظیم کا کہنا ہے کہدوحہ حملے میں’خلیل الحیا کے بیٹے اور چیف آف سٹاف‘ اور ’ان کے دفتر کے متعدد اراکین‘ مارے گئے تھے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امید ہے کہ غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کو ’بہت جلد‘ رہا کر دیا جائے گا کیونکہ ثالث پیر کے روز مصر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ امن مذاکرات کے لیے ملاقات کر رہے ہیں۔

  2. شدید برفباری کے باعث ماؤنٹ ایورسٹ کی ڈھلوان پر پھنسے 1000 افراد کو بچانے کی کوششیں جاری

    ماؤنٹ ایورسٹ

    ،تصویر کا ذریعہChina News Service via Getty Images

    چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ برفانی طوفان کے باعث ماؤنٹ ایورسٹ کی مشرقی جانب کیمپوں میں تقریباً ایک ہزار افراد پھنس کر رہ گئے ہیں جنھیں بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔

    شدید برفباری کی وجہ سے چار ہزار 900 میٹر (16,000 فٹ) اونچے علاقے تک رسائی ناممکن ہو گئی ہے۔ برف ہٹانے اور راستہ کھولنے کے لیے سینکڑوں مقامی دیہاتیوں اور امدادی ٹیموں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ تقریباً 350 افراد کو بچا کر کودانگ قصبے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    جمعہ کی شام سے شروع ہونے والی برف باری تبت میں ماؤنٹ ایورسٹ کی مشرقی ڈھلوانوں پر شدت اختیار کر گئی۔ یہ علاقہ کوہ پیماؤں اور پیدل سفر کرنے والوں میں کافی مقبول ہے۔

    اس وقت پورے خظے کو شدید موسمی حالات کا سامنا ہے۔ پڑوسی ملک نیپال شدید بارشوں کی زد میں ہے جس کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ اور طوفانی سیلاب سے رابطہ پل بہہ گئے ہیں جبکہ گذشتہ دو دنوں میں کم از کم 47 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

  3. ٹرمپ کو اسرائیلی یرغمالیوں کی ’جلد‘ رہائی کی امید، مصر میں پیر کو غزہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کو ’بہت جلد‘ رہا کر دیا جائے گا کیونکہ ثالث پیر کے روز مصر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ امن مذاکرات کے لیے ملاقات کر رہے ہیں۔

    یہ بات چیت اس وقت سامنے آئی ہے جب حماس نے 20 نکاتی امریکی امن منصوبے کے کچھ حصوں سے اتفاق کیا ہے جن میں یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کا انتظام فلسطینی ماہرین (ٹیکنوکریٹس) کے حوالے کرنا شامل ہے، تاہم تنظیم دیگر معاملات پر مذاکرات چاہتی ہے۔

    حماس کے جواب میں اس کے غیر مسلح ہونے یا غزہ کی آئندہ حکومت میں کسی کردار سے دستبرداری کے مطالبات کا ذکر نہیں کیا گیا۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’تقریباً سب اس پر متفق ہیں، البتہ کچھ تبدیلیاں ہمیشہ ممکن ہوتی ہیں۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ انھیں اطلاع ملی ہے کہ مذاکرات ’بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں‘

    انھوں نے کہا: ’یہ اسرائیل کے لیے ایک بہترین معاہدہ ہے، یہ پورے عرب اور مسلم دنیا کے لیے ایک شاندار معاہدہ ہے، بلکہ پوری دنیا کے لیے بھی، اس لیے ہم اس پر بہت خوش ہیں۔‘

    ادھر غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں، حالانکہ ٹرمپ نے جمعے کے روز حماس کے مجوزہ منصوبے کے جواب کے بعد اسرائیل سے کہا تھا کہ ’فوراً بمباری روک دے‘۔

    اتوار کو اسرائیلی حکومت کی ترجمان شوش بدروسیان نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اگرچہ غزہ کی پٹی کے اندر کچھ حد تک بمباری رک گئی ہے مگر فی الحال جنگ بندی نافذ نہیں ہوئی۔‘

  4. انڈیا کے پاکستان پر دوبارہ حملے کے امکان کو رد نہیں کر سکتے، ہمیں بہت چوکنا رہنا ہو گا: خواجہ آصف

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ انڈیا کے پاکستان پر دوبارہ حملے کے امکان کو رد نہیں کر سکتے اور پاکستان کو اس حوالے سے ’بہت چوکنا رہنا ہو گا۔‘

    نجی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں میزبان شہزاد اقبال سے بات کرتے ہوئے انڈیا کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے دیے جانے والے حالیہ بیانات کے متعلق خواجہ آصف نے کہا کہ اس کی وجہ انڈیا کی اندرونی سیاست ہے اور مودی حکومت پر پریشر بہت ہے۔

    خواجہ آصف نے مئی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان چار روزہ کشیدگی کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا میں سوشل میڈیا سے لے کر پارلیمنٹ تک، حکومت پر تنقید تھمنے کا نام نہیں لے رہی اور الیکشن بھی زیادہ دور نہیں ہیں۔

    وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ’دوسری وجہ یہ ہے کہ انڈیا ناصرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر تنہا ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ پاکستان سے جنگ تو بنی ہے مگر اس کے بعد خطے میں پاکستان کا کردار بڑھا ہے اور مختلف ممالک اور پلیٹ فارمز پر ہمیں پذیرائی مل رہی ہے۔‘

    اس سوال کے جواب میں کہ کیا انڈیا دوبارہ کوئی مس ایڈوینچر کر سکتا ہے؟ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کے پاکستان پر دوبارہ حملے کے امکان کو رد نہیں کر سکتے، ہمیں بہت چوکنا رہنا ہو گا۔ ہم احتیاط کا دامن نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ وہ (انڈیا) بہت مایوسی کی حالت میں ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ ’پاکستانی فوج کی صلاحیت ثابت ہو چکی ہے اور انڈیا کچھ بھی کرنے سے قبل سوچے گا ضرور کہ کہیں مزید نقصان نہ اٹھا بیٹھیں‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انسان ہو یا حیوان ’زخم خوردہ حالت میں اس سے کوئی بھی توقع کی جا سکتی ہے۔‘

    اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے معاہدے (جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور ہو گا) کے بعد انڈیا کی جانب سے ایسے بیانات کی کیا منطق ہے؟

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انڈین قیادت ملک میں اندورنی طور پر اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے ایسے غیر ذمہ دارآنہ بیانات دے رہی ہے اور اس سے ان کی مایوسی جھلکتی ہے۔

  5. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک (اردن کی ہاشمی سلطنت، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، جمہوریہ ترکی، مملکتِ سعودی عرب، ریاستِ قطر اور مصر) کے وزرائے خارجہ نے حماس کی جانب سے غزہ کو عبوری فلسطینی انتظامیہ کے سپرد کرنے پر آمادگی کا خیرمقدم کیا ہے۔
    • نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا کہ نیپال میں مسلسل شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور آسمانی بجلی گرنے سے کم از کم 19 افراد ہلاک ہو گئے
    • پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع واشک میں سکیورٹی فورسز پر حملے میں کم ازکم ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا
    • یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے روسی میزائل اور ڈرون حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور دسیوں ہزار افراد بجلی سے محروم ہو گئے ہیں
  6. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔