انڈیا کے پاکستان پر دوبارہ حملے کے امکان کو رد نہیں کر سکتے، ہمیں بہت چوکنا رہنا ہو گا: خواجہ آصف

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ انڈیا کے پاکستان پر دوبارہ حملے کے امکان کو رد نہیں کر سکتے، ہمیں بہت چوکنا رہنا ہو گا۔ ہم احتیاط کا دامن نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ وہ (انڈیا) بہت مایوسی کی حالت میں ہے۔

خلاصہ

  • اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ غزہ میں قید تمام یرغمالیوں کو 'آنے والے دنوں میں' واپس لایا جائے گا۔
  • اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے کے لیے مذاکرات آنے والے دنوں میں مصر میں دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔
  • غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 66 افراد ہلاک ہو گئے ہیں
  • حماس نے غزہ میں امن کے مجوزہ منصوبے کے تحت اسرائیلی مغویوی کی رہائی پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ غزہ پر بمباری بند کرے۔
  • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی نمائندوں میں معاہدہ طے پا گیا ہے۔
  • ’آپریشن سندور‘ کے دوران پاکستان کے چار سے پانچ لڑاکا طیارے تباہ ہوئے جن میں زیادہ تر ایف-16 تھے: انڈین ایئر چیف کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. بلوچستان: ضلع واشک میں سیکورٹی فورسز پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    سکیورٹی فورسز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے ضلع واشک میں سکیورٹی فورسز پر حملے میں کم ازکم ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

    واشک میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ واقعہ پنجگور ناگ روڈ پر پیش آیا۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ اس علاقے سے گزرنے والی سکیورٹی فورسز کی تین گاڑیوں پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا جس میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہواہے۔

    انھوں نے بتایا کہ زخمی اہلکار کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تاحال کسی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

  2. ٹرمپ کو اسرائیلی یرغمالیوں کی ’جلد‘ رہائی کی امید، مصر میں پیر کو غزہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کو ’بہت جلد‘ رہا کر دیا جائے گا کیونکہ ثالث پیر کے روز مصر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ امن مذاکرات کے لیے ملاقات کر رہے ہیں۔

    یہ بات چیت اس وقت سامنے آئی ہے جب حماس نے 20 نکاتی امریکی امن منصوبے کے کچھ حصوں سے اتفاق کیا ہے جن میں یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کا انتظام فلسطینی ماہرین (ٹیکنوکریٹس) کے حوالے کرنا شامل ہے، تاہم تنظیم دیگر معاملات پر مذاکرات چاہتی ہے۔

    حماس کے جواب میں اس کے غیر مسلح ہونے یا غزہ کی آئندہ حکومت میں کسی کردار سے دستبرداری کے مطالبات کا ذکر نہیں کیا گیا۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’تقریباً سب اس پر متفق ہیں، البتہ کچھ تبدیلیاں ہمیشہ ممکن ہوتی ہیں۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ انھیں اطلاع ملی ہے کہ مذاکرات ’بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں‘

    انھوں نے کہا: ’یہ اسرائیل کے لیے ایک بہترین معاہدہ ہے، یہ پورے عرب اور مسلم دنیا کے لیے ایک شاندار معاہدہ ہے، بلکہ پوری دنیا کے لیے بھی، اس لیے ہم اس پر بہت خوش ہیں۔‘

    ادھر غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں، حالانکہ ٹرمپ نے جمعے کے روز حماس کے مجوزہ منصوبے کے جواب کے بعد اسرائیل سے کہا تھا کہ ’فوراً بمباری روک دے‘۔

    اتوار کو اسرائیلی حکومت کی ترجمان شوش بدروسیان نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اگرچہ غزہ کی پٹی کے اندر کچھ حد تک بمباری رک گئی ہے مگر فی الحال جنگ بندی نافذ نہیں ہوئی۔‘

  3. انڈیا کے پاکستان پر دوبارہ حملے کے امکان کو رد نہیں کر سکتے، ہمیں بہت چوکنا رہنا ہو گا: خواجہ آصف

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ انڈیا کے پاکستان پر دوبارہ حملے کے امکان کو رد نہیں کر سکتے اور پاکستان کو اس حوالے سے ’بہت چوکنا رہنا ہو گا۔‘

    نجی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں میزبان شہزاد اقبال سے بات کرتے ہوئے انڈیا کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے دیے جانے والے حالیہ بیانات کے متعلق خواجہ آصف نے کہا کہ اس کی وجہ انڈیا کی اندرونی سیاست ہے اور مودی حکومت پر پریشر بہت ہے۔

    خواجہ آصف نے مئی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان چار روزہ کشیدگی کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا میں سوشل میڈیا سے لے کر پارلیمنٹ تک، حکومت پر تنقید تھمنے کا نام نہیں لے رہی اور الیکشن بھی زیادہ دور نہیں ہیں۔

    وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ’دوسری وجہ یہ ہے کہ انڈیا ناصرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر تنہا ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ پاکستان سے جنگ تو بنی ہے مگر اس کے بعد خطے میں پاکستان کا کردار بڑھا ہے اور مختلف ممالک اور پلیٹ فارمز پر ہمیں پذیرائی مل رہی ہے۔‘

    اس سوال کے جواب میں کہ کیا انڈیا دوبارہ کوئی مس ایڈوینچر کر سکتا ہے؟ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کے پاکستان پر دوبارہ حملے کے امکان کو رد نہیں کر سکتے، ہمیں بہت چوکنا رہنا ہو گا۔ ہم احتیاط کا دامن نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ وہ (انڈیا) بہت مایوسی کی حالت میں ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ ’پاکستانی فوج کی صلاحیت ثابت ہو چکی ہے اور انڈیا کچھ بھی کرنے سے قبل سوچے گا ضرور کہ کہیں مزید نقصان نہ اٹھا بیٹھیں‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انسان ہو یا حیوان ’زخم خوردہ حالت میں اس سے کوئی بھی توقع کی جا سکتی ہے۔‘

    اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے معاہدے (جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور ہو گا) کے بعد انڈیا کی جانب سے ایسے بیانات کی کیا منطق ہے؟

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انڈین قیادت ملک میں اندورنی طور پر اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے ایسے غیر ذمہ دارآنہ بیانات دے رہی ہے اور اس سے ان کی مایوسی جھلکتی ہے۔

  4. پنجاب اور سندھ کے ترجمانوں میں تکرار، دونوں کا ایک دوسرے پر ’وفاق کے خلاف سازش‘ کا الزام

    Azma Bukhari Facebook

    ،تصویر کا ذریعہAzma Bukhari Facebook

    پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کی طرف سے ’انگلی توڑنے‘ کے بیان کے بعد سے سندھ اور پنجاب کے وزرا کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ جاری ہے۔

    آج سندھ کے وزیرِ اطلاعات شرجیل انعام میمن نے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت ان کی جماعت کی آڑ لے کر وفاقی حکومت کو ’نشانہ‘ بنا رہی ہے۔

    اس کے جواب میں پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ سندھ کے وزیر ’وفاق اور پنجاب کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔‘

    خیال رہے کہ اگرچہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومتیں قائم ہیں مگر وفاق میں یہ دونوں جماعتیں اس حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں جس کے سربراہ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم شہباز شریف ہیں۔

    کئی دنوں سے سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے طریقہ کار پر اختلاف سے شروع ہونے والا یہ معاملہ پانی اور وسائل کی تقسیم کی بحث میں تبدیل ہو چکا ہے اور لفظی جنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔

    سندھ میں برسرِ اقتدار پی پی پی پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بیانات پر برہم ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پنجاب میں حالیہ سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی مدد کے لیے عالمی امداد کی اپیل کرنے سمیت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مالی معاونت کرنے پر زور دیا تھا، جبکہ پنجاب کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کا اصرار ہے کہ پنجاب حکومت سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ’کسی سے کوئی ڈکٹیشن نہیں لے گی۔‘

    انھوں نے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی ’ہماری اتحادی جماعت ہے‘ لیکن اُنھوں نے ’سیلاب کے معاملے پر سیاست کی‘۔ انھوں نے متنبہ کیا تھا کہ ’ہم پنجاب کے عوام کی جانب اُٹھنے والی ہر اُنگلی توڑ دیں گے۔‘

    APP

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    شرجیل انعام میمن اور عظمیٰ بخاری میں تکرار

    عظمیٰ بخاری نے شرجیل انعام میمن سے کہا کہ بحث کے لیے ’جگہ اور وقت آپ کی مرضی کے مطابق ہو گا، آپ خود ضرور آئیں، کسی پراکسی کے پیچھے نہ چھپیں۔‘

    عظمیٰ بخاری نے شرجیل انعام میمن پر الزام عائد کیا کہ ’پنجاب کے سیلاب متاثرین پر گندی سیاست کا آپ کا بیانیہ ناکام ہو گیا۔ اب وزیر اعظم کے خلاف غیر ضروری بیانیہ لے آئے۔‘

    انھوں الزام عائد کرتے ہوئے کہا ’کیا آپ کو وزیر اعظم نے پنجاب کے سیلاب متاثرین پر سیاست کے لیے کیا کہا تھا؟ بلاول بھٹو بطور وفاقی وزیر، وفاق اور وزیر اعظم کی جڑیں کھوکھلی کر رہے تھے۔‘

    عظمیٰ بخاری نے مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا ’آپ خود وفاق اور پنجاب کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ جب آپ سے آپ کی کارکردگی پوچھی جاتی ہے تو صوبائیت کارڈ کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔

    وزیراطلاعات پنجاب نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ’آپ مریم نواز کی مقبولیت سے خوفزدہ نہ ہوتے تو آج چھٹی کے دن پریس کانفرنس نہ ہوتی۔

    اس سے قبل شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس سے خطاب میں الزام عائد کیا کہ ’اگر آپ کی وزیراعظم سے کوئی لڑائی ہے تو اسے آپس تک ہی رکھیں اور پیپلز پارٹی کو اس میں نہ دھکیلیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم وفاقی حکومت کے خلاف سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔‘

    شرجیل انعام میمن نے الزام عائد کیا کہ ’ہماری آڑ میں ایسا ماحول پیدا کرنےکی کوشش کی جارہی ہے کہ پیپلزپارٹی وفاقی حکومت کو سپورٹ نہ کرے تاہم ہم وفاقی حکومت کے خلاف سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔‘

    شرجیل انعام میمن نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’لیکن جس طرح پنجاب حکومت مسلسل تنقید کر رہی ہے، اس کا مقصد میری سمجھ سے باہر ہے، یہ جو چند دنوں سے حالات ہو رہے ہیں، یہ بالواسطہ طور پر پیپلز پارٹی کو ٹارگٹ کر رہے ہیں، لیکن اصل ٹارگٹ وفاقی حکومت ہے۔‘

  5. نیپال میں شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور آسمانی بجلی گرنے سے 19 افراد ہلاک

    RSS

    ،تصویر کا ذریعہRSS

    نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا کہ نیپال میں مسلسل شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور آسمانی بجلی گرنے سے کم از کم 19 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    نیپال الیکٹرسٹی اتھارٹی (این ای اے) نے بی بی سی نیپالی سروس کو بتایا کہ اب تک الگ الگ واقعات میں آٹھ افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ گیارہ زخمی ہیں۔

    این ای اے نے کہا کہ مرنے والوں میں سے 14 الام میں مختلف مقامات پر مٹی کے تودے گرنے سے ہلاک ہوئے۔

    این ای اے کی ترجمان شانتی مہات نے بی بی سی کو بتایا، ’الام میں مٹی کے تودے گرنے سے چودہ افراد ہلاک ہو گئے اور کھوٹانگ میں دریا میں ڈوبنے سے ایک شخص ہلاک ہوئے۔ اسی طرح ادے پور میں ایک اور شخص کی دریا میں ڈوبنے سے ہلاکت ہوئی اور روتاہٹ ضلع میں آسمانی بجلی گرنے سے تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔‘

    این ای اے کے مطابق ان آفات سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

    حکومت نے کئی اضلاع میں مزید بارش کی پیش گوئی کی ہے اور لوگوں کو آفات سے بچنے کے لیے انتباہ جاری کیا ہے۔

  6. برطانیہ کی ایک مسجد میں مبینہ آتش زنی اور نفرت انگیز جرم پر پولیس کی تحقیقات

    Eddie Mitchell

    ،تصویر کا ذریعہEddie Mitchell

    برطانوی کاؤنٹی ایسٹ سسیکس میں پولیس ایک مسجد پر مبینہ آتش زنی کے واقعے کی نفرت انگیز جرم کے طور پر تحقیقات کر رہی ہے۔ یہ واقعہ سنیچر کی رات تقریباً 9 بج کر 50 منٹ پر پیس ہیون کے علاقے فِلِس ایونیو میں پیش آیا۔

    سَسیکس پولیس کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم مسجد کے مرکزی دروازے اور باہر کھڑی ایک گاڑی کو آگ لگنے سے نقصان پہنچا۔

    پولیس افسر ڈیٹیکٹیو سپرنٹنڈنٹ کیری بوهانا نے کہا، ’ہم سمجھتے ہیں کہ اس واقعے نے کمیونٹی، خاص طور پر مسلم برادری میں شدید تشویش پیدا کی ہے۔‘

    انھوں نے مزید بتایا کہ علاقے میں پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے اور عبادت گاہوں کے باہر اضافی گشت کا بندوبست کیا گیا ہے تاکہ عوام کو یقین دہانی کرائی جا سکے۔

    مسجد کے ایک رضاکار، جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے بی بی سی کو بتایا کہ دو افراد مسجد کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، مگر دروازہ بند تھا۔ اس کے بعد انھوں نے دروازے اور باہر کھڑی گاڑی پر کوئی مائع چیز پھینکی اور آگ لگا دی۔

    اس شخص نے کہا ’اس سے لوگ ہلاک بھی ہو سکتے تھے‘۔ ان کے مطابق اس وقت مسجد کے اندر موجود دو افراد نے بمشکل جان بچائی۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دو نقاب پوش افراد کو مسجد کے دروازے کے قریب آتے اور کچھ ہی دیر بعد آگ بھڑکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم بی بی سی اس ویڈیو کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب جمعرات کو مانچسٹر کی ایک یہودی عبادت گاہ کے باہر حملے میں دو یہودی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حملہ آور، جسے موقع پر ہی پولیس نے ہلاک کر دیا، کی شناخت 35 سالہ جہاد الشامی کے طور پر ہوئی ہے جو برطانوی شہری اور شامی نژاد تھا۔

    برائٹن اینڈ ہوو مسلم فورم کے چیئرمین طارق جنگ نے بی بی سی ریڈیو سسیکس سے گفتگو میں کہا کہ مانچسٹر اور پیس ہیون کے واقعات سے ’سب انتہائی افسردہ اور صدمے میں ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا، ’چاہے عبادت گاہ یہودیوں کی ہو، عیسائیوں، ہندوؤں یا مسلمانوں کی، کسی کو یہ خوف نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی ان پر حملہ کرے گا۔‘

    طارق جنگ نے کہا کہ اس وقت ضرورت ہے کہ تمام مذہبی رہنما اور کمیونٹیز متحد ہوں اور ’ایک دوسرے کا سہارا بنیں تاکہ امن قائم رکھا جا سکے۔‘

  7. یوکرین پر روسی حملے میں پانچ ہلاک، ہزاروں افراد بجلی سے محروم

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق رات بھر جاری رہنے والے روسی میزائل اور ڈرون حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور دسیوں ہزار افراد بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔

    روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یوکرینی فوجی اور بنیادی ڈھانچے کے اہداف پر ’بڑے پیمانے‘ پر کامیاب حملے کیے ہیں۔

    یوکرین کے پڑوسی ملک پولینڈ نے اپنی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے فوری طور پر لڑاکا طیارے فضا میں بھیجے ہیں جب کہ نیٹو کے اتحادی طیارے بھی تعینات کیے گئے۔

    حملوں کے دوران مغربی شہر لیویو کے قریب واقع گاؤں لاپائیوکا میں ایک ہی خاندان کے چار افراد، جن میں 15 سالہ لڑکی بھی شامل تھی، ہلاک ہو گئے۔

  8. حماس غزہ کو عبوری فلسطینی انتظامیہ کے سپرد کرنے پر آمادہ، پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کا خیر مقدم

    afp

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک (اردن کی ہاشمی سلطنت، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، جمہوریہ ترکی، مملکتِ سعودی عرب، ریاستِ قطر اور مصر) کے وزرائے خارجہ نے آج ایک مشترکہ بیان میں حماس کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ جنگ کے خاتمے کی تجویز پر مثبت اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے۔

    اس تجویز میں تمام یرغمالیوں کی رہائی اور اس منصوبے کے نفاذ کے طریقہِ کار پر فوری مذاکرات کے آغاز کی بات کی گئی ہے۔

    وزرائے خارجہ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کو بمباری فوراً روکنے اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عملدرآمد شروع کرنے کی اپیل کا بھی خیرمقدم کیا۔

    وزرائے خارجہ نے خطے میں امن کے قیام کے لیے صدر ٹرمپ کے عزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ پیشرفت ایک جامع اور دیرپا جنگ بندی کے لیے حقیقی موقع فراہم کرتی ہے جس سے غزہ کے عوام کو درپیش سنگین انسانی بحران کا ازالہ ممکن ہو سکے گا۔

    بیان میں وزرائے خارجہ نے حماس کی جانب سے غزہ کی انتظامیہ ایک عبوری فلسطینی انتظامی کمیٹی، جو آزاد ماہرین پر مشتمل ہو، کے حوالے کرنے کی آمادگی کے اعلان کا بھی خیرمقدم کیا۔

    انھوں نے زور دیا کہ تجویز کے تمام پہلوؤں پر بات چیت کے لیے فوری مذاکرات شروع کیے جائیں تاکہ اس کے نفاذ کے طریقہِ کار پر اتفاق کیا جا سکے۔

    وزرائے خارجہ نے مشترکہ طور پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اس تجویز کے نفاذ، غزہ میں جنگ کے فوری خاتمے اور ایک جامع معاہدے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔

    مزید کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی، فلسطینی عوام کے جبری انخلا کی روک تھام، شہریوں کے تحفظ، یرغمالیوں کی رہائی، فلسطینی اتھارٹی کی غزہ میں واپسی، غزہ اور مغربی کنارے کے اتحاد، تمام فریقوں کے تحفظ کو یقینی بنانے والے سیکیورٹی میکنزم، اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور غزہ کی تعمیرِ نو کا راستہ فراہم کرے گا تاکہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر ایک منصفانہ اور پائیدار امن ممکن ہو سکے۔

  9. قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد حماس نے پہلی بار خلیل الحیا کی ویڈیو جاری کر دی

    x

    ،تصویر کا ذریعہx

    حماس نے سیاسی بیورو کے رکن خلیل الحیا کی ایک نئی ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر میں حماس کے دفتر پر اسرائیلی حملے کے بعد پہلی بار ان کی تصویر جاری کی گئی ہے۔ دونوں فریقین کے سفارتی اور سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان ’بالواسطہ‘ مذاکرات کا نیا دور اتوار کو شروع ہو گا۔

    حماس نے اپنی وضاحت میں لکھا ہے کہ دوحہ پر اسرائیلی حملے کے دوران ’خلیل الحیا کے بیٹے اور چیف آف سٹاف‘ اور ’ان کے دفتر کے متعدد اراکین‘ مارے گئے۔

    حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے ایک فون کال میں قطر سے اس حملے پر سرکاری طور پر معافی مانگی تھی۔

    یہ ویڈیو سب سے پہلے قطر کے العربیہ چینل نے نشر کی تھی اور اس میں خلیل الحیا نے جو حالیہ مہینوں میں جنگ بندی مذاکرات میں حماس کی مذاکراتی ٹیم کے انچارج تھے، ایک پیغام جاری کیا۔

    خلیل الحیا کا پیغام اسی وقت جاری کیا گیا جب اسرائیل اور حماس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی کے منصوبے پر اصولی طور پر اتفاق کیا تھا۔

    انھوں نے اس پیغام میں کہا: ’ان کے بیٹوں سمیت دیگر ہلاک ہونے والوں کا خون فتح کا راستہ ہو گا۔‘

    الحیا اس پیغام میں کہتے ہیں: ’چاہے میرے بیٹے، میرے ساتھی اور باقی افراد کی ہلاکت سے مجھے کتنی ہی تکلیف کیوں نہ ہو، میں ان میں اور غزہ کی پٹی کے باقی لوگوں میں فرق نہیں کرتا، وہ سب میرے بچے ہیں۔‘

    خلیل الحیا کی عمر 64 سال ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان کے غزہ میں حماس کی قیادت سے قریبی تعلقات ہیں۔

    اکتوبر 2024 میں حماس کے سیاسی بیورو کے سابق سربراہ یحییٰ سنوار کے قتل کے بعد، خلیل الحیا کا نام ان کی جانشینی کے لیے ایک آپشن کے طور پر سامنے آیا تھا۔

    خلیل الحیا سیاسی بیورو کے رکن اور حماس کے عرب اور اسلامی تعلقات کے بیورو کے سربراہ ہیں۔ انھوں نے غزہ جنگ کے لیے مذاکراتی ٹیم کی سربراہی بھی کی۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ آیا الحیا آئندہ مذاکرات میں فلسطینی ٹیم کی قیادت کرتے رہیں گے۔

  10. ایرانی پارلیمنٹ کا قومی کرنسی سے چار صفر ہٹانے پر اتفاق

    ICANA

    ،تصویر کا ذریعہICANA

    ایرانی پارلیمنٹ نے قومی کرنسی سے چار صفر ہٹانے پر اتفاق کیا ہے۔

    یہ فیصلہ ایران کے مانیٹری اور بینکنگ قانون میں ترمیم کے بل پر گارڈین کونسل کے اعتراضات کا جائزہ لینے اور حل کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    اسمبلی کی اقتصادی کمیٹی کے سربراہ شمس الدین حسینی نے بتایا کہ یہ معاملہ تین مختلف حکومتوں اور پارلیمانوں کے دور سے گزرا ہے۔

    آج کے اجلاس میں ارکانِ اسمبلی نے ترمیمی بل کی کچھ شقیں دوبارہ گارڈین کونسل کو بھیجنے کی منظوری دی۔ اس فیصلے کے حق میں 144 ووٹ، مخالفت میں 108 ووٹ آئے جبکہ تین ارکان غیر حاضر رہے۔

    اب یہ قرارداد گارڈین کونسل کی منظوری کے بعد حتمی ہوگی۔

    چار صفر کے خاتمے کے باوجود ایران کی کرنسی ’ریال‘ ہی رہے گی۔

    افراط زر پر اس اقدام کے اثرات کے بارے میں اسلامی مشاورتی اسمبلی کے اقتصادی کمیشن کے سربراہ نے کہا، ’کچھ لوگ پوچھ سکتے ہیں کہ کیا اس اقدام کا افراط زر اور اس کے کنٹرول پر اثر ہے؟ نہیں‘۔

    انھوں نے مزید کہا، ’ہمیں یقین نہیں ہے کہ اس کا افراط زر پر کوئی خاص اثر پڑے گا اور اس اقدام کو ایک حقیقی مالیاتی پالیسی نہیں مانتے، لیکن جس چیز نے اس اصلاحات کو ناگزیر بنا دیا ہے وہ حالیہ برسوں میں پے در پے افراط زر ہے۔‘

    شمس الدین حسینی نے کہا، ’بینک نوٹوں کو زیادہ موثر بنانے اور مالیاتی لین دین کو آسان بنانے کے لیے قومی کرنسی سے چار صفر کو ہٹانا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بدقسمتی سے، آج ایران کی کرنسی صفر کی تعداد کے لحاظ سے سب سے کمزور ہے، اور اس نے ہمارے لیے کمپیوٹیشنل مسائل پیدا کیے ہیں، اور ہمیں اس صورتحال کو درست کرنا چاہیے۔‘

  11. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میرپور کے قریب پوٹھہ بینسی میں زمین سرکنے سے 11 مکانات زمین بوس، کئی گھروں میں دراڑیں, نصیر چوہدری، صحافی

    Kashmir

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع میرپور کے قریب واقع گاؤں پوٹھہ بینسی میں زمین سرکنے کے باعث 11 بڑے مکانات زمین بوس ہوگئے ہیں، جب کہ گاؤں کی واحد مین سڑک بھی تباہ ہو چکی ہے۔

    پوٹھہ بینسی، جو میرپور شہر سے تقریباً 10 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور جہاں بڑی تعداد میں اوورسیز کشمیری آباد ہیں، میں منگلا ڈیم کی پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد زمین سرکنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح سے مکانوں میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئیں، جس کے بعد انھوں نے اپنے سامان اور اہل خانہ کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کیا۔ تاہم جمعہ کی نماز کے بعد واپس آنے پر کئی مکان زمین بوس ہو چکے تھے۔

    کمشنر میرپور ڈویژن چوھدری مختار حسین نے بتایا کہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا گیا ہے اور زمین سرکنے کا یہ عمل گذشتہ رات سے جاری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب تک ایک ارب روپے مالیت کے مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔ متاثرہ گاؤں کی واحد مین سڑک بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہے، جس کی فوری مرمت کے احکامات دے دیے گئے ہیں۔

    Kashmir

    کمشنر نے مزید بتایا کہ اس گاؤں کی زیادہ تر آبادی بیرون ملک خاص طور پر برطانیہ میں آباد ہے، اور مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ آٹھ ماہ قبل بھی 27 مکانوں کو جزوی نقصان پہنچا تھا جبکہ گذشتہ روز 11 سے 12 مکان مکمل طور پر زمین دھنسی کا شکار ہوئے ہیں۔

    زمین سرکنے کی بنیادی وجہ منگلا ڈیم میں پانی کی بلند سطح ہے، جہاں پانی کی گنجائش 1242 کیوسک ہے۔ جب منگلا ڈیم میں ہانی بھر جاتا تو معلقہ علاقوں میں نقصان کے خدشات بھڑ جاتے ہیں۔

    Kashmir

    چوھدری مختار حسین نے کہا کہ واپڈا کو پہلے بھی خط لکھا جا چکا ہے اور اب دوبارہ لکھا جا رہا ہے کہ متاثرین کی متبادل آبادکاری کی جائے اور نقصان کا ازالہ کیا جائے تاکہ لوگ اپنے مکان تعمیر کر سکیں۔

    یہ واقعہ منگلا ڈیم سے ملحقہ علاقوں میں پانی کی بلند سطح کی وجہ سے زمین کے متاثر ہونے کا ایک تازہ واقعہ ہے، جس نے مقامی لوگوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

    محمد سلیم نے بتایا ’ہمارے کروڑوں روپے کے رہائشی مکان تھے جو مکمل تباہ ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق ’حکومت اور واپڈا کو چائیے تھا یہ بروقت اقدامات کرتے اور لوگوں کو متبادل جگہ دیتے، اس وقت یہاں آباد کاری نہ ہوتی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اب تو ہمیں جگہ ملے بھی تو ہمارا نقصان تو ہو گیا۔ ہمارا ایک مکان پانچ چھے کروڑ مالیت کا تھا۔‘

  12. سفارتی ذرائع سے تصدیق ہوئی ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد اسرائیلی قابض افواج کی تحویل میں ہیں: پاکستانی دفتر خارجہ

    x/SenatorMushtaq

    ،تصویر کا ذریعہx/SenatorMushtaq

    وزارت خارجہ کے ترجمان نے صمود فلوٹیلا میں سوار پاکستانی شہریوں کے بارے میں میڈیا کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ فعال طور پر مصروف عمل ہے تاکہ اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے اپنے شہریوں کی حفاظت اور ان کی فوری واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

    دفتر خارجہ کے مطابق ایک دوست یورپی ملک کے سفارتی ذرائع سے ہم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ’سابق سینیٹر مشتاق احمد اسرائیلی قابض افواج کی تحویل میں ہیں اور وہ محفوظ اور صحت مند ہیں۔‘

    دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ہمیں بتایا گیا ہے مقامی قانونی طریقہ کار کے مطابق سینیٹر مشتاق کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ملک بدری کے احکامات جاری ہونے پر ان کی وطن واپسی میں تیزی سے سہولت فراہم کی جائے گی۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت نے اس سے قبل ان افراد کی بحفاظت واپسی کے لیے رابطہ کیا تھا اور ’ہم ان برادر ممالک کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے ہمارے شہریوں کی وطن واپسی میں مدد کی۔‘

    دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان بیرون ملک مقیم اپنے تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور آنے والے دنوں میں وطن واپسی کا یہ عمل مکمل ہونے کی توقع ہے۔

    Global Sumud Fotilla

    ،تصویر کا ذریعہGlobal Sumud Fotilla

    اسرائیل نے گلوبل صمود فلوٹیلا کی کشتیوں سے تحویل میں لیے گئے 470 افراد کو ڈی پورٹ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

    گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل متعدد کشتیوں کو بدھ سے جمعے کے روز تک روکا گیا تھا اور ان میں سوار سینکڑوں افراد کو تحویل میں لے کر اسرائیل منتقل کیا گیا تھا۔

    تاہم اب اسرائیلی کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ تحویل میں لیے گئے چار اطالوی شہریوں کو ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے اور باقی افراد کو ڈی پورٹ کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔

    اس سے قبل اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ فلوٹیلا میں شامل کئی کشتیوں کو ’محفوظ طریقے سے روکا‘ گیا تھا اور ان پر سوار افراد کو اسرائیلی بندرگاہ پر منتقل کیا گیا ہے۔

    اس فلوٹیلا میں موجود کشتیوں پر 500 سے زائد افراد سوار ہیں جن میں اطالوی سیاستدان اور سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کے علاوہ پاکستان کے سابق سینٹر مشتاق احمد خان اور ایک پاکستانی شہری سید عزیر نظامی بھی شامل ہیں۔

  13. پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف آج تین روزہ درورے پر ملائیشیا پہنچیں گے

    PM Sharif

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف آج ملائیشیا کے تین روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ اس دورے کے دوران وہ ملائیشیا کے ہم منصب کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے اور اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    دونوں رہنما تجارت میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر بھی غور کریں گے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ امید بھی کی جا رہی ہے کہ اس دوران کئی موجودہ اور نئے شعبوں میں تعاون کے لیے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے جائیں گے۔

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سینیئر وفاقی وزرا اور سینیئر سرکاری حکام پر مشتمل وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہو گا۔

    سرکاری میڈیا کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان مضبوط اور تزویراتی شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے جو باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور مختلف شعبوں میں قریبی تعاون پر مبنی ہے۔

  14. لندن میں فلسطین ایکشن کے حق میں مظاہرے، 500 افراد گرفتار

    فلسطین ایکشن

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    ،تصویر کا کیپشنلندن میں فلسطین ایکشن کے حق میں ہونے والے مظاہرے کے دوران پولیس ایک معمر خاتون کو اٹھا کر لے رہی ہے۔

    برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم فلسطین ایکشن کی حمایت میں لندن میں ہونے والے مظاہرے میں شامل تقریباْ 500 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    مظاہرے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک ہزار افراد ٹریفلگر اسکوائر میں فلسطین ایکشن کے حق میں ہونے والے مظاہرے میں شریک تھے۔

    یاد رہے کہ رواں سال جولائی میں برطانوی حکومت نے فسطین ایکشن کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے بعد اس تنظیم سے کوئی بھی تعلق رکھنا یا اس کی حمایت کرنا غیر قانونی ہو گیا ہے۔

    میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ 488 افراد کو کالعدم تنظیم کی حمایت کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق، گرفتار افراد میں 18 سال سے 89 سال کے افراد شامل ہیں۔

    جمعرات کے روز مانچسٹر میں یہودی عبادت خانے پر ہونے والے حملے کے بعد وزرا اور پولیس نے مظاہرہین سے احتجاج ملتوی کرنے کا کہا تھا تاہم اس کے باوجود مظاہرہ منعقد کیا گیا۔

    مظاہرے کا انعقاد کرنے والی تنظیم ڈیفینڈ آور جیوریز کی رکن زو کوہن کا کہنا ہے کہ ایک یہودی ہونے کے ناطے وہ جمعرات کو ’عبادت گاہ پر ہونے والے حملے کے بعد غمزدہ ہیں‘ لیکن ساتھ ہی ’غزہ میں قتل کیے جانے والے، بے گھر ہونے والے اور بھوک سے مرنے والے لاکھوں فلسطینیوں کا بھی سوگ منا رہی ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ہم بیک وقت مختلف مظالم کے شکار افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر سکتے ہیں۔

    مظاہرون کے دوران جاری کیے گئے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ آج کا مظاہرہ منسوخ کرنا دہشت گردی کو جیتنے دینے کے مترادف ہوتا۔

  15. غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے ’بالواسطہ‘ مذاکرات آج سے مصر میں ہوں گے

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images)

    مصر، امریکہ اور فلسطین کے سفارتی اور سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں قیامِ امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر اتوار کے روز سے ’بالواسطہ‘ مذاکرات کا ایک دور شروع ہو گا۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات میں مصر، ترکی، اسرائیل، امریکہ اور حماس کے وفود شریک ہوں گے۔ بات چیت کا نیا دور مصر میں ہو گا تاہم مذاکرات کے مقام کا ابھی تعین نہیں کیا گیا ہے لیکن قوی امکان یہی ہے کہ بات چیت سیاحتی مقام شرم الشیخ میں ہو گی۔

    مصری سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ تناؤ کے باعث مذاکرات کا اگلا دور قطر کے بجائے مصر میں منعقد کیا جا رہا ہے۔

    اسرائیل میں مذاکرات کے نئے دور کی عملی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں جن میں غزہ کی پٹی سے انخلا کے لیے نقشے تیار کرنا اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت ممکنہ طور پر رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کی فہرستوں کا جائزہ لینا شامل ہے۔

    دوسری جانب، امریکی تجویز پر حماس کے موقف سے آگاہ حماس کے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے منصوبے کے کچھ عناصر ’مبہم اور غیر واضح ہیں اور ان پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔‘

    گذشتہ دو سالوں کے دوران ہونے والے مذاکرات سے واقف ایک مصری سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ مغویوں کی رہائی کے لیے 72 گھنٹے کی ڈیڈ لائن میں توسیع کر دی جائے گی۔

  16. اسرائیل غزہ سے ابتدائی فوجی انخلا کے منصوبے سے متفق ہے: صدر ٹرمپ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’اسرائیل ابتدائی انخلا کے معاملے پر متفق ہو گیا ہے۔‘

    یہ بیان غالباً اس نقشے میں دکھائی گئی مختلف اسرائیلی فوجی انخلا کی حدود کی طرف اشارہ کرتا ہے جو امریکہ کی جانب سے تجویز کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کے ساتھ شائع کیا گیا تھا۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ جیسے ہی حماس کی جانب سے تصدیق کی جائے گی تو جنگ بندی ’فوراً نافذ ہو جائے گی۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہ شروع ہو جائے گا اور ہم انخلا کے اگلے مرحلے کی جانب بڑھیں گے۔‘

    BBC

    اگر امن منصوبہ وائٹ ہاؤس کے شائع کردہ نقشے میں دکھائی گئی سرحدوں کے مطابق آگے بڑھتا ہے تو بی بی سی ویری فائی کے مطابق اسرائیلی فوج کے ابتدائی انخلا کے بعد غزہ کا تقریباً 55 فیصد علاقہ بدستور قابض افواج کے زیرِ کنٹرول رہے گا۔

    یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کی مذاکراتی ٹیمیں بالواسطہ بات چیت کے لیے مصر روانہ ہونے کی تیاری کر رہی ہیں۔

    تاہم مصری وزارتِ خارجہ کے مطابق اسرائیلی اور حماس وفود کے درمیان بالواسطہ مذاکرات پیر کے روز مصر میں ہوں گے جن کا مقصد امن منصوبے کو مزید آگے بڑھانا ہے۔

  17. بریکنگ, یرغمالیوں کو آنے والے دنوں میں واپس لایا جائے گا اور ہر قیمت پر حماس کو غیر مسلح کیا جائے گا: نتن یاہو

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ غزہ میں قید تمام یرغمالیوں کو ’آنے والے دنوں میں‘ واپس لایا جائے گا۔

    اسرائیلی وزیرِاعظم نے کہا ہے کہ ’غزہ میں حماس کے قبضے میں موجود یرغمالیوں کی رہائی سفارتی اور فوجی دباؤ کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔‘

    نتن یاہو اپنے ایک حالیہ بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’اس گروہ (حماس) کو غیر مسلح کیا جائے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’دوسرے مرحلے میں حماس کو غیر مسلح کیا جائے گا اور غزہ سے تمام تر مسلح جنجوؤں کو نکال باہر کیا جائے گا، چاہے یہ سب ایک آسان طریقے سے یعنی مزاکرات کی مدد سے ہو یا پھر اس کے لیے کوئی مُشکل راستہ اختیار کیا جائے یعنی کہ طاقت کا استعمال کیا جائے گا، لیکن ایک بات بڑی واضع ہے کہ اور وہ یہ کہ یہ کام ضرور مکمل کیا جائے گا۔‘

    انھوں نے امریکی صدر ٹرمپ کا اسرائیل کی فوجی حمایت پر شکریہ بھی ادا کیا۔

    جب اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نتن یاہو کا بیان نشر کیا گیا تو اُس وقت تل ابیب میں ’ہاسٹیج سکیئر‘ پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔

    عومر شِم طوف جو اسرائیل میں نووا فیسٹیول سے اغوا کیے گئے تھے نے ’انھیں گھر واپس لاؤ‘ کے نعرے بھی لگائے۔

    انھوں نے امریکی صدر سے براہِ راست اپیل کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کا معاہدہ کے مطابق ہر قدم اُٹھایا جائے گا اور اسے نافذ کیا جائے۔

  18. بریکنگ, ’تاخیر برداشت نہیں کروں گا‘: ٹرمپ کا غزہ میں قیام امن اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس کو پیغام

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’میں اس بات کی قدر کرتا ہوں کہ اسرائیل نے یرغمالیوں کی رہائی اور امن معاہدے کو مکمل کرنے کا موقع دینے کے لیے عارضی طور پر بمباری روک دی ہے۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ’میں کسی تاخیر کو برداشت نہیں کروں گا، جیسا کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہو سکتی ہے یا ایسا کوئی نتیجہ جس میں غزہ دوبارہ تباہی کی جانب بڑھ سکتا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’حماس کو فوراً اقدامات کرنے چاہئیں، ورنہ سب کچھ ختم ہو جائے گا۔‘

    امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’اب وقت ہے کہ اس کام کو فوراً مکمل کیا جائے۔ سب کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے گا!‘

    امریکی صدر کا ٹرتھ شوسل پر یہ بیان سنیچر کی صبح غزہ شہر پر اسرائیلی افواج کے ہونے والے تین الگ الگ فضائی حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

  19. حماس کے جواب نے ظاہر کیا ہے کہ وہ امن کے لیے تیار ہیں: ترک صدر

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنترکی کے صدر رجب طیب اردوغان

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے حماس کے اس اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے کہ جس میں اُن کی جانب سے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے کچھ حصے قبول کرنے پر رضا مندی ظاہر کی گئی ہے۔

    انھوں نے استنبول میں ایک تقریب کے دوران عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

    ’ہم امریکی صدر کے منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘

    اردوغان نے ٹرمپ کی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ حماس کے جواب نے ظاہر کیا ہے کہ وہ ’امن کے لیے تیار ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’خطے میں ہم ایک ایسے موڑ پر پہنچ چُکے ہیں کہ جہاں سے غزہ میں امن کی راہ ہموار کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا سکیں گے۔‘

    اردوغان نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ ’وہ غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں بند کرے اور تنازع میں شامل تمام فریق ’ذمہ داری کے احساس‘ کے ساتھ جلد از جلد امن قائم کرنے کے لیے کام کریں۔‘

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنیورپی کمیشن کی صدر اُرزولا فان ڈیر لائن

    تاہم اس سے قبل یورپی کمیشن کی صدر اُرزولا فان ڈیر لائن نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کی تجویز پر حماس کا ردِعمل ’حوصلہ افزا‘ ہے اور یہ کہ ’اس موقعے کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔‘

    یورپی کمیشن کی صدر نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ’غزہ میں فوری جنگ بندی اور تمام یرغمالیوں کی رہائی اب قریب ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ یورپ جنگ کے خاتمے اور دو ریاستی حل کو فروغ دینے کی تمام کوششوں کی حمایت کرے گا، جسے انھوں نے ’امن کے لیے واحد قابلِ عمل حل‘ قرار دیا۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنجنوبی افریقہ میں غزہ کے حق میں ہونے والے مطاہرے کے مناظر

    جنوبی افریقہ کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وہ حماس کے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے کے فیصلے اور مزید بات چیت کے لیے اس کی تیاری کا خیرمقدم کرتا ہے۔‘

    جنوبی افریقہ کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردیہ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل کو بھی اس کا جواب دینے کے لیے باہمی اقدام‘ کرنا چاہیے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنپاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف

    واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ’غزہ میں امن کے لیے ہونے والی حالیہ پیش رفت سے جنگ بندی کی اُمید روشن ہوئی ہے جو پائیدار امن کے لیے راہ ہموار کرے گی۔‘

    ایکس پر جاری بیان شہباز شریف نے غزہ میں امن کے معاملے پر ہونے والی حالیہ پیش رفت پر تسلی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے جاری کردہ بیان نے جنگ بندی اور امن کے قیام کے لیے ایک موقع فراہم کیا ہے، جسے ہمیں کسی صورت ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔

  20. ’اگر جنگ ختم ہو گئی تو فلسطینییوں کو خوف اس بات کا ہے کہ وہ اپنے غموں کا سامنا کیسے کریں گے‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں فلسطینی سفیر حسام زملوط نے فون پر بات کرتے ہوئے بی بی سی کے یوروشلم سے نامہ نگار ٹام بینیٹ کو بتایا کہ ’گزشتہ دو سالوں میں سب سے بدترین بات یہ رہی ہے کہ جب آپ اپنے پیاروں، اپنے رشتہ داروں، اپنے دوستوں اور اپنے پڑوسیوں کو کھو رہے ہوتے ہیں تو آپ اپنے آپ کو سوگ منانے، اپنی گہری اداسی کو محسوس کرنے اور اپنے انسانی جذبات کو شاید سمجھ ہی نہیں پا رہے ہوتے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسا اس لیے ہو رہا ہوتا ہے کیونکہ آپ کی ساری توجہ صرف اس بات پر ہوتی ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اسے کیسے روکا جائے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ انھیں امید ہے کہ آنے والے ہفتوں یا مہینوں میں جنگ کے خاتمے پر کوئی معاہدہ ہو جائے گا لیکن بہت سے فلسطینی اس غم کا سامنا کرنے سے خوفزدہ ہیں جو جنگ کے دوران ان کے اندر جمع ہو گیا ہے۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں فلسطینی سفیر حسام زملوط نے کہا کہ ’جب ہمارے لوگ اور ہمارے خاندان مارے جا رہے تھے تو احساس یہ تھا کہ آپ اسے کیسے روکیں؟ آپ اپنے ہلاک ہو جانے والے پیاروں کو کیسے دفنائیں اور اپنے زخمیوں کے بھرنے کے لیے کیا کریں؟‘

    ’لیکن اس جنگ کے بعد جس کے بہت جلد ختم ہونے کی مجھے امید ہے اصل احساس اپنوں کے چلاے جانے کا غم اور ایک ایسا خلا ہے کہ جسے کوئی پر نہیں کر سکتا۔ کیونکہ جو ہم نے کھویا ہے نہ تو شاید اُسے کوئی سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی اُسکا ازالہ مُمکن ہے۔‘