ٹرمپ کے داماد اور سٹیو وٹکوف کی اسرائیل اور حماس مذاکرات میں شرکت متوقع، امریکی سیکریٹری خارجہ نے امن منصوبے کو ’دیرپا امن‘ کا موقع قرار دے دیا

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا 20 نکاتی امن منصوبہ ’اس تاریک باب کو بند کرنے، دیر پا امن اور سکیورٹی کی بنیاد رکھنے کا تاریخی موقع ہے۔‘

خلاصہ

  • امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے حماس کے 7 اکتوبر کے 'گھناؤنے' حملے کو دو برس مکمل ہونے کے موقع پر کہا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی حمایت جاری رکھے گا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف کی مصر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات میں شمولیت متوقع ہے
  • مصر میں بالواسطہ مذاکرات کے لیے اسرائیل اور حماس کے وفود مصر میں موجود ہیں۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے غزہ میں قیام امن کے منصوبے کی تفصیلات طے کی جائیں گی
  • حماس نے ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے بعض حصوں پر اتفاق کیا ہے جن میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی بھی شامل ہے
  • خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں نامعلوم افراد نے سرکاری سکول کے ایک ہیڈ ماسٹر اور ایک استاد کو اغوا کرلیا ہے

لائیو کوریج

  1. اسرائیل کی جانب سے ڈی پورٹ کیے جانے کے بعد گریٹا تھنبرگ کا یونان میں استقبال

    گریٹا تھنبرگ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سماجی کارکن گریٹا تھنبرگ اسرائیل کی جانب سے ڈی پورٹ کیے جانے کے بعد یونان پہنچی ہیں جہاں ایک اجتماع نے ان کا استقبال کیا۔

    گذشتہ ہفتے گریٹا گلوبل صمود فلوٹیلا کے ہمراہ سمندری راستے سے غزہ کی جانب روانہ ہوئی تھیں مگر ان سمیت سینکڑوں افراد کو اسرائیلی فورسز نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

    گریٹا تھنبرگ اور دیگر کارکنان کا ایتھنز میں فلسطین حامی اجتماع نے استقبال کیا۔ کئی لوگوں نے فلسطینی پرچم تھام رکھا تھا۔

    ایتھنز میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے گریٹا تھنبرگ نے کہا کہ غزہ میں ’قتل عام جاری ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ’اصل دباؤ‘ ڈالا جایا۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی حکومتیں غزہ میں ہلاکتیں روکنے کے لیے ’کم از کم اقدام کرنے میں بھی ناکام رہی ہیں۔‘

    گریٹا تھنبرگ نے کہا کہ ’نظام ناکام ہو رہے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ غزہ فلوٹیلا کا مقصد حکومتوں کی ناکامی پر خود اقدام کرنا تھا۔ ’ہمارے مشن کی ضرورت نہیں پڑنی چاہیے تھی۔‘

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے فلوٹیلا کو ’پی آر سٹنٹ‘ کہا ہے کہ اور اس کے شرکا پر جھوٹ پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔

  2. مصر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات: ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟

    مصر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حماس اور اسرائیل کے مذاکرات کار مصری شہر شرم الشیخ میں بالواسطہ مذاکرات کے لیے موجود ہیں۔ وہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے ٹرمپ کے دیے گئے 20 نکاتی منصوبے کی تفصیلات طے کریں گے۔ غزہ جنگ قریب دو سال قبل 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔

    مصری اور قطری اہلکار دونوں فریقین سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ قیام امن کے منصوبے کے پہلے مرحلے پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

    فریقین کے درمیان غزہ میں تمام اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت ہو گی۔

    گذشتہ ہفتے حماس نے مجوزہ منصوبے کے بعض حصوں پر اتفاق کیا تھا مگر غیر مسلح کیے جانے جیسے مطالبے پر ردعمل نہیں دیا تھا۔

  3. بریکنگ, حماس کا وفد شرم الشیخ پہنچ گیا, رشدی ابو الوف، بی بی سی نیوز

    غزہ، جنگ بندی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    حماس کا ایک وفد مصری شہر شرم الشیخ پہنچ گیا ہے۔ مصر اور قطر کی ثالثی میں یہ فلسطینی اور اسرائیلی وفود کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہے۔ اس کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی تفصیلات طے کرنا ہے۔

    فلسطینی اور مصری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اجلاسوں میں ’شرائط طے کرنا ہے‘ تاکہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی ایک تعداد کا تبادلہ کیا جا سکے۔

    مصری اور قطری اہلکار دونوں فریقین کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے جس کے ذریعے معاہدے کا پہلا مرحلہ طے کیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ غزہ کی پٹی کے بعض حصوں پر اسرائیلی بمباری تاحال جاری ہے۔

  4. حماس سے بالواسطہ مذاکرات کے لیے اسرائیلی وفد مصر پہنچ گیا

    اسرائیل کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی وفد مصر کے شہر شرم الشیخ پہنچ گیا ہے جہاں اس کے حماس کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات آج سے شروع ہوں گے۔

    حماس کا وفد مصر کے شہر قاہرہ سے مقامی وقت کے مطابق چھ بجے شرم الشیخ روانہ ہو گا۔

  5. سینیٹ کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کا قومی اسمبلی سے بھی واک آؤٹ

    سینیٹ کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کا قومی اسمبلی سے بھی واک آؤٹ

    ،تصویر کا ذریعہNATIONAL ASSEMBLY

    پاکستان کے حکومتی اتحاد میں شامل جماعت پیپلز پارٹی نے سینیٹ کے بعد ایوان زیریں قومی اسمبلی سے بھی واک آؤٹ کیا ہے۔

    قومی اسمبلی میں اجلاس شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کے رکن راجہ پرویز اشرف نے اعتراض اٹھایا کہ پنجاب کے وزرا نے ان کی جماعت کے سربراہ بلاول بھٹو کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بیانات دیے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رکن اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پیپلزپارٹی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کے اس اقدام یا ’فرینڈلی فائر‘ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی سنجیدہ ہے تو ’عدم اعتماد لائیں، ہم ساتھ دیں گے۔‘

    اس دوران سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی طرف سے مفاہمت کی کوشش کی گئی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس کورم مکمل ہونے تک 9 اکتوبر تک ملتوی کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل سینیٹ میں بھی پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان کی تقریر کے بعد واک آؤٹ کیا گیا تھا۔

  6. فرانس کے وزیر اعظم نے ایک ماہ سے بھی کم وقت میں استعفی دے دیا

    فرانس کے وزیر اعظم

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فرانس کے وزیر اعظم سباسچن لیکورنو نے اپنی کابینہ کی رونمائی کے ایک دن سے بھی کم وقت بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔

    لیکورنو نے پیر کی صبح کہا کہ ’وزیراعظم کے طور پر کام کرنے کے لیے میرے لیے شرائط پوری نہیں ہوئیں۔‘ انھوں نے سیاسی جماعتوں پر تنقید کی کہ وہ سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

    ایلیسی محل نے یہ اعلان پیر کی صبح لیکورنو کی صدر ایمانویل میکخواں سے ایک گھنٹے تک ملاقات کے بعد کیا۔

    فرانسوا بیرو کی حکومت ٹوٹنے کے بعد لیکورنو کو صرف 26 دن قبل وزیر اعظم مقرر کیا گیا تھا۔

  7. اسرائیل نے اب تک غزہ فلوٹیلا میں شامل کتنے افراد کو ڈی پورٹ کیا ہے؟

    گذشتہ ہفتے سویڈن کی سماجی کارکن گریٹا تھنبرگ سمیت سینکڑوں سماجی کارکنان کو اسرائیلی فورسز نے تحویل میں لیا تھا۔ یہ کارکنان کشتیوں کے ذریعے غزہ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل قریب 470 افراد کو تحویل میں لیا گیا تھا۔ اسرائیل نے اس کے بعد سینکڑوں افراد کو ڈی پورٹ کیا ہے۔

    پیر: اسرائیل نے گریٹا تھنبرگ سمیت 171 کارکنان کو یونان اور سلوواکیہ ڈی پورٹ کیا۔

    اتوار: اسرائیل نے 29 افراد کو ڈی پورٹ کیا۔ ان کا تعلق سپین، پرتگال اور نیدر لینڈز سے تھا۔

    سنیچر: اسرائیل نے 147 کارکنان کو ترکی ڈی پورٹ کیا۔ ان کا تعلق امریکہ، اٹلی، برطانیہ، اردن، کوویت وغیرہ سے تھا۔

    جمعے: اسرائیل نے چار اطالوی شہریوں کو ڈی پورٹ کیا۔

    ابتدائی طور پر کشتیاں غزہ کے ساحل سے 70 ناٹیکل میل دور روکی گئی تھیں جب وہ بین الاقوامی پانیوں میں تھیں۔ اسرائیل ان پانیوں کی نگرانی کرتا ہے مگر یہ پانی اس کی حدود میں نہیں آتا۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ بحریہ نے کشتیوں کو واپس جانے کا کہا تھا کیونکہ وہ ’ایسے علاقے میں داخل ہونے جا رہے تھے جہاں لڑائی جاری ہے اور وہ قانونی رکاوٹ کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔‘ گلوبل صمود فلوٹیلا نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

    گروپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا ردعمل ’حقِ دفاع‘ نہیں بلکہ ’مجبوری میں اٹھایا گیا قدم‘ تھا۔

  8. اسرائیل نے غزہ فلوٹیلا میں شامل گریٹا تھنبرگ سمیت 171 کارکنان کو ڈی پورٹ کر دیا

    گریٹا تھنبرگ

    ،تصویر کا ذریعہX/@IsraelMFA

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے سماجی کارکن گریٹا تھنبرگ کی تصویر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سمیت غزہ فلوٹیلا میں شامل 171 کارکنان کو ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے۔

    ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کارکنان ایئر پورٹ پر موجود ہیں۔ غزہ کی جانب گامزن گلوبل صمود فلوٹیلا کی کشتیوں کو اسرائیلی فورسز نے روک لیا تھا اور 470 افراد کو تحویل میں لیا گیا تھا۔

    اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق فلوٹیلا میں شامل افراد، جنھیں ڈی پورٹ کیا گیا، کا کہنا ہے کہ اسرائیلی تحویل میں ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے فلوٹیلا کو ’پی آر سٹنٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔

    گریٹا تھنبرگ کو دوسری بار اسرائیل کی طرف سے ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔ انھوں نے ماضی میں بھی سمندری راستے سے غزہ پہنچنے کی کوشش کی تھی۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ یونان، اٹلی، فرانس، آئر لینڈ، سویڈن، پولینڈ، جرمنی، بلغاریہ، لتھوانیا، آسٹریا، لگزمبرگ، امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ملکوں سے تعلق رکھنے والے کارکنان کو یونان اور سلوواکیہ ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔

  9. ٹرمپ نوبیل امن انعام کے حقدار ہیں، اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں کا مطالبہ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    غزہ میں یرغمالیوں کی واپسی کی مہم چلانے والے گروہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کا نوبیل امن دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ گروہ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ’عالمی امن کے لیے بے مثال خدمات سر انجام دی ہیں۔‘

    اس گروہ نے ناروے کی نوبیل کمیٹی کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ ’مہینوں میں پہلی بار ہمیں امید ہے کہ ہمارا ڈراؤنا خواب آخرکار ختم ہو جائے گا۔‘

    غزہ میں 48 مغوی ہیں جن میں سے 20 کے بارے میں خیال ہے کہ وہ زندہ ہیں۔

    ٹرمپ کے منصوبے کے تحت ان یرغمالیوں کو سینکڑوں زیر حراست فلسطینیوں کے بدلے رہا کیا جائے گا۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پچھلے سال میں کسی رہنما یا تنظیم نے دنیا بھر میں امن کے لیے صدر ٹرمپ سے زیادہ تعاون نہیں کیا۔‘

    نوبیل امن انعام کا اعلان آئندہ جمعے کو کیا جائے گا۔

  10. اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی اور غزہ میں امداد پہنچانے کے لیے تیار ہیں: ریڈ کراس

    غزہ، ریڈ کراس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ غزہ میں یرغمالیوں اور اسرائیل میں قیدیوں کے تبادلے کے لیے وہ انسانی ہمدردی کی خاطر ثالثی کا کردار نبھانے کے لیے تیار ہے۔

    اکتوبر 2023 سے اب تک ریڈ کراس نے 148 یرغمالیوں اور 1941 قیدیوں کی واپسی میں مدد کی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے انسانی باقیات بھی واپس پہنچائی ہیں۔

    ریڈ کراس کی صدر نے کہا کہ ’دیر پا سیز فائر جانیں بچانے اور تباہی کے دائرے سے نکلنے کے لیے بہت ضروری ہے۔‘

    ’ہم غزہ میں امداد پہنچانے اور مستحق افراد میں تقسیم کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔‘

  11. ’صوبائی کارڈ نہ کھیلیں، معافی مانگیں‘: سینیٹ میں شیری رحمان کی تقریر کے بعد پیپلز پارٹی کے ارکان کا واک آؤٹ

    شیری رحمان

    ،تصویر کا ذریعہSENATE/YOUTUBE

    پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ پنجاب کے وزرا کو ’صوبائی کارڈ کھیلنے‘ پر معافی مانگنی چاہیے۔ سینیٹ میں ان کی تقریر کے بعد پیپلز پارٹی کے ارکان نے واک آؤٹ کیا ہے۔

    سینیٹ کے اجلاس میں کارروائی کے ابتدا میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ اس وقت وفاق کو استحکام کی شدید ضرورت ہے۔ ’سرحدوں پر پھر میلی آنکھ کی بات ہو رہی ہے۔ جس پر ہم سب ایک ساتھ کھڑے ہیں۔‘

    لیکن ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیلاب کے باعث 60 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں جن کی اکثریت پنجاب سے تعلق رکھتی ہے۔

    سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ 2022 کی طرح پھر سے کئی علاقے زیرِ آب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آفات کے دوران متفق ہونے کی بجائے ’پنجاب اور سندھ میں الفاظ کی جنگ حکومتی اتحاد کو متاثر کر رہی ہے۔‘

    سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ’جب سرخ لکیر عبور ہوتی ہے، جب کوئی پنجاب کارڈ استعمال کر کے کہتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ (بلاول بھٹو) نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا تحفظ نہیں کیا اور آصفہ بھٹو نے بھی ملک کے لیے کوئی کام نہیں کیا، یہ باتیں تنقید کے دائرے سے آگے نکل جاتی ہیں اور تمیز کے دائرے کو بھی عبور کر جاتی ہیں۔‘

    شیری رحمان نے کہا کہ بلاول نے پنجاب میں متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ ’ہماری وہاں نمائندگی بھی ہے۔ پنجاب حکومت نے پارلیمانی لیڈروں کی سکیورٹی واپس لے لی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے صرف اتنا کہا تھا کہ آپ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام استعمال کر لیں۔‘ انھوں نے کہا کہ یہ سوشل سکیورٹی کی منتقلی کا سب سے موثر طریقہ ہے۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسے مداخلت سمجھا گیا۔ ’معافی مانگنے میں کسی کی عزت نفس میں کمی نہیں آتی۔‘

    سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ’کوئی صوبہ کسی کی جاگیر نہیں ہے۔ سب پاکستانی ہیں۔ اس وقت صوبائی کارڈ نہ کھیلیں۔ ہر شخص فوری ریلیف کا مستحق ہے۔‘

    انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر معافی نہیں مانگی جاتی تو سینیٹ میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت ہے۔ ’ہمارے سپورٹ کو نظر انداز نہ کریں۔ ہم کچھ توڑنا نہیں چاہتے۔‘

    سینیٹر شیری رحمان کی اس تقریر کے بعد ایوان سے پیپلز پارٹی کے ارکان نے واک آؤٹ کر دیا۔

    پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کی طرف سے ’انگلی توڑنے‘ کے بیان کے بعد سے سندھ اور پنجاب کے وزرا کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ جاری ہے۔

    گذشتہ روز سندھ کے وزیرِ اطلاعات شرجیل انعام میمن نے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت وفاق کو ’نشانہ‘ بنا رہی ہے۔

    اس کے جواب میں پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ سندھ کے وزیر ’وفاق اور پنجاب کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔‘

    خیال رہے کہ اگرچہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومتیں قائم ہیں مگر وفاق میں یہ دونوں جماعتیں اس حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں جس کے سربراہ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم شہباز شریف ہیں۔

    سینیٹ میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے شیری رحمان کی تقریر کے جواب میں کہا کہ جمہوریت میں احتجاج ہر کسی کا حق ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں دو صوبوں کے حکومتی عہدیداروں کے بیانات کے حوالے سے سینیٹ کے اجلاسوں کو اثر انداز نہ ہونے دیں۔ ’اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو مجھے اس پر تکلیف ہے۔‘

    وزیر قانون نے کہا کہ ’پانی کی تقسیم ارسا کے معاہدے کے تحت ہی ہو گی۔‘

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ’ہم کوشش کریں گے کہ اپنے دوستوں کو منا کر لائیں۔‘

  12. حماس کے وفد کے سربراہ خلیل الحیہ جنھیں اسرائیل نے دوحہ میں قتل کرنے کی کوشش کی تھی

    خلیل الحیہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حماس کے وفد کی قیادت خلیل الحیہ کریں گے جنھیں گذشتہ ہفتے اسرائیل نے دوحہ میں ایک فضائی حملے کے ذریعے قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔

    الحیہ غزہ کے باہر حماس کے سب سے سینیئر رہنما ہیں۔ وہ قطر میں رہتے ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں یہ شامل ہے کہ وہ قطری اور مصری ثالثوں کے ذریعے اسرائیلی اور امریکی پیغامات وصول کریں گے اور ان کے جوابات دیں۔

    الحیہ حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کے نائب تھے جنھیں 2024 میں اسرائیلی دستوں نے ہلاک کیا تھا۔

    دوحہ میں اسرائیلی حملوں کے دوران الحیہ بچ گئے تھے مگر ان کا بیٹا حمام مارا گیا تھا۔ اس کے علاوہ الحیہ کے دفتر کے ڈائریکٹر کی بھی ہلاکت ہوئی تھی۔

  13. گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل پاکستانی شہری کی واپسی: ’اسرائیلی بحری جہاز اور ڈرونز نے ہمارا تعاقب کیا‘, روحان احمد، بی بی سی اردو اسلام آباد

    عزیر نظامی

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ’ہم بین الاقوامی پانیوں میں غزہ سے 99 ناٹیکل میل دور تھے جب اسرائیلی کشتیوں اور جہازوں نے ہمارا راستہ روکا، ہم وہاں سے پیچھے مڑگئے۔‘

    یہ کہنا ہے پاکستانی شہری عزیر نظامی کا جو غزہ کی طرف سفر کرنے والے گلوبل صمود فلوٹیلا (جی ایس ایف) کی ایک کشتی میں سوار تھے۔

    جہاں دنیا بھر سے جی ایس ایف کی کشتیوں میں سوار 470 افراد کو اسرائیلی فورسز نے اپنی حراست میں لیا وہیں عزیر نظامی کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کی کشتی میں سوار افراد اسرائیلی فورسز کو ’چکمہ‘ دینے میں کامیاب رہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہم جب وہاں سے پیچھے مُڑے تو ایک اسرائیلی بحری جہاز نے 40، 45 منٹ ہمارا پیچھا کیا اور ہمارے پیچھے ڈرون بھی لگائے۔‘

    عزیر نظامی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وہ لوگ وہاں سے اپنی کشتی میں قبرص پہنچے اور اس کے بعد قطر کا ہوائی راستہ اختیار کرتے ہوئے اتوار کو پاکستان آئے۔

    خیال رہے عزیر اکیلے پاکستانی نہیں تھے جو غزہ جانے والی کشتیوں میں سوار تھے، بلکہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی ان میں شامل تھے۔

    مشتاق احمد خان

    ،تصویر کا ذریعہx/SenatorMushtaq

    عزیر نظامی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ مشتاق احمد خان ان کی کشتی میں سوار نہیں تھے۔

    پاکستان کے دفترِ خارجہ نے سفارتی ذرائع کے ذریعے مشتاق احمد خان کے اسرائیل کی تحویل میں ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اردن کے شہر عمان میں پاکستانی سفاتخانے کی مدد سے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی باحفاظت واپسی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

    پیر کو اپنے بیان میں پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اردن کی حکومت کی مدد سے ’ہمیں امید ہے کہ آئندہ چند دنوں کے دوران یہ عمل مکمل کر لیا جائے گا۔‘

    اسرائیل نے کہا ہے کہ تحویل میں لیے گئے 170 افراد کو ڈی پورٹ کردیا گیا ہے۔

    جی ایس ایف میں شامل کشتیاں غزہ امدادی سامان پہنچانے گئی تھیں لیکن وہ اپنے مشن میں کامیاب نہ ہو سکیں۔

    عزیر نظامی کہتے ہیں کہ ’امدادی سامان پہنچانے کی کوشش ایک علامتی مشن تھا۔ ہمارا مقصد اقوامِ عالم کی توجہ غزہ اور اس کے لوگوں کی طرف مبذول کروانا تھا۔‘

    ’45 ممالک کے شہری ہمارے ساتھ تھے اور دنیا بھر کی حکومتیں ہمارے سفر کے سبب متحرک ہوئی ہیں۔ ہم اپنے مشن میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘

  14. مصر میں غزہ جنگ بندی کے مذاکرات سے بڑھتی توقعات مگر چیلنجز برقرار, رشدی ابو العوف، بی بی سی نیوز

    غزہ، اسرائیلی بمباری

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنمصر میں مذاکرات کے آغاز سے قبل اسرائیل نے غزہ پر بمباری جاری رکھی ہوئی ہے

    غزہ میں جنگ کے بعد سے یہ سب سے بڑا وفد ہے۔ یہ وفد حماس کے اعلیٰ عہدیداران پر مشتمل ہے۔ اس میں غزہ سے باہر حماس کی اعلیٰ قیادت موجود ہے۔

    قاہرہ میں قطری وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ مصری انٹیلیجنس وزیر بھی موجود ہوں گے۔ یہ تمام افراد غزہ میں قیام امن کے لیے مجوزہ منصوبے کی تکنیکی تفصیلات طے کریں گے۔

    یہاں حماس کے خدشات اور مطالبات سننے کا موقع ملے گا۔

    اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی میں تکنیکی اور لاجسٹک مسائل درپیش ہوں گے۔ اسرائیل یہ چاہے گا کہ وہ یرغمالیوں اور ان کی لاشوں تک پہنچ سکے۔

    کچھ روز قبل میں نے حماس کے ایک اہلکار سے بات کی تھی اور ان سے آخری بار یرغمالیوں کی واپسی کے بارے میں پوچھا تھا۔ اس دوران حماس نے عوامی سطح پر اپنی عسکری مضبوطی ظاہر کی تھی۔

    حماس کے اہلکار نے کہا کہ اس بار حماس یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کے معاملات ریڈ کراس کے ساتھ خفیہ طور پر طے کرے گا۔ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ آیا یہ تبادلہ خفیہ طور پر ہی ہو گا۔

    یرغمالیوں کی واپسی کے کئی گذشتہ ادوار کے دوران انھیں حماس کے جنگجو سٹیج پر لاتے تھے جہاں سے انھیں ریڈ کراس کے حوالے کیا جاتا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے ان تقاریب کی مذمت کرتے ہوئے انھیں تضحیک آمیز قرار دیا تھا۔

    اگرچہ مستقل جنگ بندی کے لیے امید موجود ہے لیکن کئی چیلنجز ابھی باقی ہیں۔

  15. مصر میں غزہ جنگ بندی پر بات چیت سے قبل صدر السيسی نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا

    صدر السيسی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مصر میں آج سے غزہ میں قیام امن اور اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے لیے مذاکرات متوقع ہیں۔

    بات چیت کے آغاز سے قبل مصر کے صدر عبدالفتح السيسی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور ان کی قیادت کو سراہا۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’جنگ بندی، قیدیوں اور یرغمالیوں کی واپسی، غزہ کی تعمیر نو اور پُرامن سیاسی عمل کا آغاز جس سے فلسطینی ریاست کا قیام ہو گا اور اسے تسلیم کیا جائے گا۔ اس سب کا مطلب ہے کہ ہم دیر پا امن اور استحکام کی جانب بڑھ رہے ہیں۔‘

    غزہ میں جنگ بندی کے لیے حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے لیے مصر اور قطر نے ثالثی کا اہم کردار ادا کیا ہے۔

  16. ایران کا غزہ میں قیام امن کے لیے ٹرمپ کے منصوبے کی حمایت کا عندیہ

    ایران نے یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ ٹرمپ کے غزہ میں قیام امن کے منصوبے کی حمایت کرے گا۔ ایران نے کئی برسوں تک حماس کی مالی معاونت کی ہے۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ تہران ہر ایسے منصوبے کی حمایت کرتا ہے جس سے ’غزہ میں ہلاکتیں رُک سکیں۔‘

    تاہم ترجمان نے خبردار کیا کہ اس منصوبے کے بعض حصے خطرناک بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبے پر حتمی فیصلہ فلسطینیوں کو ہی کرنا ہو گا۔

  17. سابق سینیٹر مشتاق خان کی واپسی کے لیے پاکستان کے اردن کی حکومت سے رابطے: ’آئندہ چند روز میں عمل مکمل کر لیا جائے گا‘

    سینیٹر مشتاق

    ،تصویر کا ذریعہx/SenatorMushtaq

    پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اردن کے شہر عمان میں پاکستانی سفاتخانے کی مدد سے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی باحفاظت واپسی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

    مشتاق احمد خان گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے جس میں شامل سینکڑوں افراد کو اسرائیل نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

    پیر کو اپنے بیان میں پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اردن کی حکومت کی مدد سے ’ہمیں امید ہے کہ آئندہ چند دنوں کے دوران یہ عمل مکمل کر لیا جائے گا۔‘

    پاکستانی حکام نے اردن کی حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    گذشتہ روز پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے صمود فلوٹیلا میں سوار پاکستانی شہریوں کے بارے میں میڈیا کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ فعال طور پر مصروف عمل ہے تاکہ اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے اپنے شہریوں کی حفاظت اور ان کی فوری واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

    دفتر خارجہ کے مطابق ایک دوست یورپی ملک کے سفارتی ذرائع سے ’ہم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد اسرائیلی قابض افواج کی تحویل میں ہیں اور وہ محفوظ اور صحت مند ہیں۔‘

    دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ہمیں بتایا گیا ہے مقامی قانونی طریقہ کار کے مطابق سینیٹر مشتاق کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ملک بدری کے احکامات جاری ہونے پر ان کی وطن واپسی میں تیزی سے سہولت فراہم کی جائے گی۔‘

    اسرائیل نے گلوبل صمود فلوٹیلا کی کشتیوں سے تحویل میں لیے گئے 470 افراد کو ڈی پورٹ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

    گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل متعدد کشتیوں کو بدھ سے جمعے کے روز تک روکا گیا تھا اور ان میں سوار سینکڑوں افراد کو تحویل میں لے کر اسرائیل منتقل کیا گیا تھا۔

    تاہم اب اسرائیلی کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ تحویل میں لیے گئے چار اطالوی شہریوں کو ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے اور باقی افراد کو ڈی پورٹ کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔

    اس سے قبل اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ فلوٹیلا میں شامل کئی کشتیوں کو ’محفوظ طریقے سے روکا‘ گیا تھا اور ان پر سوار افراد کو اسرائیلی بندرگاہ پر منتقل کیا گیا ہے۔

    اس فلوٹیلا میں موجود کشتیوں پر 500 سے زائد افراد سوار ہیں جن میں اطالوی سیاستدان اور سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کے علاوہ پاکستان کے سابق سینٹر مشتاق احمد خان اور ایک پاکستانی شہری سید عزیر نظامی بھی شامل ہیں۔

  18. انڈیا ایک گھر ہے جس کا ایک کمرہ کسی نے ہتھیا لیا ہے، کل اسے واپس لینا ہے: آر ایس ایس سربراہ

    آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    انڈیا کی متنازع ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو انڈیا میں واپس شامل کرنے کی بات کی ہے۔

    انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق، موہن بھاگوت نے وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے ستنا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو انڈیا نامی گھر کے ایک کمرے سے تشبیہ دی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ انڈیا نامی ایک گھر ہے جس کے ایک کمرے میں اجنبی لوگ داخل ہو گئے ہیں، وہ کمرہ واپس لینا ہے۔

    خیال رہے کہ اس سال بی جے پی کی نظریاتی سرپرستی کرنے والی تنظیم آر ایس ایس اپنے قیام کا صد سالہ جشن منا رہی ہے اور اس موقع پر مختلف تقاریب منعقد کی جا رہی ہیں۔

    آر ایس ایس کے سربراہ بھاگوت نے اسی طرح کی ایک تقریب میں کہا: ’بہت سے سندھی بھائی یہاں بیٹھے ہیں۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ وہ پاکستان نہیں گئے، وہ غیر منقسم ہندوستان میں رہ گئے۔ حالات نے ہمیں اُس گھر سے یہاں بھیجا ہے کیونکہ وہ گھر اور یہ گھر الگ نہیں ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’پورا بھارت ورش ایک گھر ہے، لیکن میرے گھر کا ایک کمرہ جس میں میرا میرا ٹیبل، کرسی اور کپڑے وغیرہ رہتا تھا، اسے کسی نے ہتھیا لیا ہے۔ کل مجھے اسے واپس لے کر پھر سے وہاں اپنا ڈیرا ڈالنا ہے۔۔۔'

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اسی لیے غیر منقسم انڈیا کو یاد رکھنا ہے۔‘

    واضح رہے کہ آر ایس ایس کے سربراہ کا یہ تبصرہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہروں کے بعد سے کشیدگی کا ماحول نظر آ رہا ہے۔

    گذشتہ ہفتے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تاجروں اور عوام کی نمائندہ تنظیم ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ کی کال پر 29 ستمبر کو ریاست بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال شروع ہوئی تھی۔ تاہم چار روز کے مظاہروں کے بعد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی نمائندوں کے درمیان معاملات طے پا گئے تھے۔

  19. ملائیشیا پاکستان سے 20 کروڑ ڈالر مالیت کا حلال گوشت درآمد کرے گا: وزیرِ اعظم شہباز شریف

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم۔

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنپاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم۔

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ملائیشیا پاکستان سے 20 کروڑ ڈالر مالیت کا حلال گوشت درآمد کرے گا۔

    انھوں نے یہ بات منگل کے روز ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔

    سرکاری خبر رساں ادار اے پی پی کے مطابق، دونوں ممالک نے مختلف شعبوں بشمول تجارت، تعلیم، حلال سرٹیفکیشن میں باہمی تعاون بڑھانے کا اعادہ کیا ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف جو کہ اپنے پہلے سرکاری دورے پر ملائیشیا میں موجود ہیں کا کہنا تھا کہ پاکستان ملائیشیا کے ساتھ ہاتھ ملانا چاہتا ہے تاکہ اس کی مہارت سے سیکھا جا سکے اور باہمی طور پر فائدہ مند منصوبوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

    ملائیشیا کے وزیرِ اعظم کی جانب سے پاکستان سے حلال گوشت درآمد کرنے کے فیصلے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں ملائیشیا کے درآمد کنندگان اور حکام کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ کوٹہ مارکیٹ پرائس میکانزم کے تحت ریگولیٹ کیا جائے گا اور ملائیشیا کے کسٹم اور فوڈ اتھارٹیز کی طرف سے مقرر کردہ تمام حلال سرٹیفیکیشن کے تقاضوں کی تعمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔‘

  20. انڈیا کے شہر کٹک میں کشیدگی: 36 گھنٹوں کے لیے کرفیو نافذ، انٹرنیٹ سروسز بند, سبرتہ کمار پتی، بی بی سی ہندی

    کٹک

    ،تصویر کا ذریعہSubrat Kumar Pati/BBC

    انڈیا کی ریاست اوڈیشہ کے شہر کٹک میں دو برادریوں کے درمیان کشیدگی اور پرتشدد واقعات کے بعد انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے جبکہ شہر کے بیشتر علاقوں میں 36 گھنٹوں کے لیے کرفیو نافذ ہے۔

    ہندو قوم پرست جماعت وشو ہندو پریشد نے پیر کے روز شہر میں 12 گھنٹے کی ہڑتال کی کال دی ہے۔

    خیال رہے کہ شہر میں کشیدگی دو روز قبل درگا پوجا کے دوران ہونے والی جھڑپ کے بعد پیدا ہوئی جو کہ اب تک برقرار ہے۔

    پولیس کمشنر ایس دیبدت سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ اب حالات قابو میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’اتوار کو وشو ہندو پریشد کے کارکنوں نے بنا اجازت کے ایک بائیک ریلی کا اہتمام کیا۔ ریلی کے شرکا نے فرقہ وارانہ طور پر حساس علاقوں میں جانے کی کوشش کی۔‘

    کمشنر دیبدت سنگھ کا کہنا تھا کہ ’پولیس نے وشو ہندو پریشد کے کارکنان کو روکا۔ احتجاج کے دوران پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، جس سے آٹھ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ پولیس کو حالات قابو میں لانے کے لیے لاٹھی چارج کرنا پڑا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اس پورے واقعے میں مجموعی طور پر 25 افراد زخمی ہوئے۔ کمشنر دیبدت سنگھ کا مزید کہنا تھا کہ امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    اوڈیشہ کے وزیرِ اعلیٰ موہن چرن ماجھی نے اس واقعہ پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایک ہزار سال پرانا کٹک شہر اپنے بھائی چارے کے لیے جانا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں کچھ شرپسندوں کی کارروائیوں کی وجہ سے شہر کا امن خراب ہوا ہے۔ حکومت شرپسندوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔‘

    حزبِ اختلاف کی جماعت بیجو جنتا دل کے لیڈر نوین پٹنایک نے شہر کی صورتحال پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اوڈیشہ میں اس قسم کی بدامنی ناقابل قبول ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پولیس بے بس نظر آ رہی ہے۔ بی جے پی حکومت کے تحت پولیس پر دباؤ کی وجہ سے ریاست میں امن و امان خراب ہو رہا ہے۔‘

    وشو ہندو پریشد راشٹریہ سویم سیوک سنگھ میں شامل ہندو قوم پرست جماعتوں میں سے ایک جماعت ہے۔ انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی بھی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا حصہ ہے۔