ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک بار پھر ایران کو ’مکمل تباہ‘ کرنے کی دھمکی: ’وہ رات شاید کل کی رات ہو‘
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی سابقہ دھمکیوں کو دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ ’پورے ملک کو ایک ہی رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے، اور وہ رات شاید کل کی رات ہو۔‘ دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جنگ بندی کے لیے امریکہ کی تجویز مسترد کر دی ہے، تاہم ساتھ ہی جنگ کے ’واضح اور حتمی‘ خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور اپنے مطالبات کی ایک فہرست بھی پیش کی ہے۔
خلاصہ
جنگ کا مستقل خاتمہ ضروری، وقفے سے امریکہ اور اسرائیل کو دوبارہ منظم ہو کر حملے کی ’مہلت‘ مل جائے گی: ایران
ایرانی حکومت میں موجود ’معقول لوگوں‘ سے مذاکرات جاری ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ
ڈیڈ لائن کے خاتمے سے قبل ایران کی اہم پیٹروکیمیکل تنصیب پر اسرائیل کا حملہ
اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر جواب تیار کر لیا: ایران
پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف ماجد خادمی کی ہلاکت کی تصدیق
لائیو کوریج
تہران میں دھماکوں کی اطلاعات
دو مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ مشرقی تہران میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
تین دیگر افراد کا کہنا ہے کہ وہ آسمان میں لڑاکا طیاروں کی آوازیں سن رہے ہیں۔
ایرانی میڈیا یہ رپورٹ کر رہا ہے کہ شہر میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔
امریکی ریسکیو مشن میں شامل ایک مزید طیارہ اور ہیلی کاپٹر ’فائرنگ کی زد میں آئے‘
دو امریکی اہلکاروں نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ایران کی فضا میں مار گرائے گئے امریکی ایف 15 لڑاکا طیارے کے ریسکیو مشن میں شامل ایک طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر بھی فائرنگ کی زد میں آئے ہیں۔
ان کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو مشن میں حصہ لینے والا اے–10 ورتھاگ طیارہ نشانہ بنا جس کے بعد پائلٹ نے خلیج کے اوپر ایجیکٹ کیا اور اسے ریسکیو کر لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق دو ہیلی کاپٹر بھی تلاش کے عمل میں شامل تھے۔ انھوں نے ایف 15 ای کے دو رکنی عملے میں سے ایک رکن کو ریسکیو کیا ہے۔
سی بی ایس کے مطابق بازیاب ہونے والے پائلٹ کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر چھوٹے ہتھیاروں کی فائرنگ کا نشانہ بنا جس سے عملے کے بعض ارکان زخمی ہوئے۔ ہیلی کاپٹر نے محفوظ ہنگامی لینڈنگ کی اور زخمی اہلکاروں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔
سی بی ایس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایف 15 طیارہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے اوائل میں مار گرایا گیا۔
طیارے کے دوسرے عملے کے رکن یعنی ویپن سسٹمز آفیسر کی تلاش اب بھی جاری ہے۔
ادھر ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ ’فضائی دفاعی فورس نے ایک امریکی اے 10 طیارے کو نشانہ بنایا جو جنوبی ایران میں خلیج فارس میں گِر کر تباہ ہوا۔‘
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طیارہ کئی گھنٹے پہلے آبنائے ہرمز کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ وہی اے 10 طیارہ ہے جس کے بارے میں بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نے رپورٹ کیا ہے۔
امریکی طیارے کے عملے کی تلاش کے دوران اسرائیلی حملے روک دیے گئے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنامریکی ایف 15 لڑاکا طیارہ (علامتی تصویر)
امریکی چینل سی این این، نیوز ایجنسی اے پی اور اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایران کے اس علاقے میں فضائی حملے موخر کر دیے ہیں جہاں امریکی لڑاکا طیارے کے لاپتہ عملے کی تلاش جاری ہے۔
سی این این کا کہنا ہے کہ ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ تلاش کے علاقے میں حملے عارضی طور پر موخر کیے گئے ہیں۔
چینل 12 نے ایک سینیئر اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اس علاقے میں حملے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
جبکہ اے پی نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ریسکیو آپریشن کی وجہ سے متعلقہ علاقوں میں فضائی حملے روک دیے گئے ہیں۔
اے پی کے مطابق اسرائیلی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’آپریشن جاری ہونے کی وجہ سے وہ اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔‘
اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے تاحال ان رپورٹس کی تصدیق نہیں کی۔
’ایران کی جانب سے امریکی طیارہ مار گرانا ناگزیر تھا‘, گریس الیزا گڈوین، نامہ نگار برائے امریکہ
میں نے دو عسکری امور کے تجزیہ کاروں سے بات کی ہے جن کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے مبینہ طور پر ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے میں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ پہلے کیوں نہیں ہوا۔
تھنک ٹینک ڈیفینس پرائیرٹیز میں سینیئر فیلو اور ملٹری تجزیے کی ڈائریکٹر جینیفر کیواناگ کہتی ہیں کہ ’یہ کسی حد تک ناگزیر تھا۔‘
ان کے مطابق یہ ’صرف وقت کی بات تھی کہ ایسا کوئی واقعہ پیش آ جائے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم جانتے ہیں کہ ایران کے پاس اینٹی ایئرکرافٹ ہتھیار موجود ہیں اور یہ تصور کہ وہ سب کے سب تباہ ہو چکے ہیں، اس پر یقین کرنا مشکل تھا۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کی فضائی صلاحیتیں ’ختم کر دی گئی ہیں۔‘
دی واشنگٹن انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ملٹری سٹریٹجی کے ماہر جیمز جیفری بھی کہتے ہیں کہ یہ ’حیران کن‘ ہے کہ ایران نے مبینہ طور پر پہلا امریکی لڑاکا طیارہ اب جا کر مار گرایا ہے۔
تاہم جیفری اور کیواناگ دونوں اس پر متفق ہیں کہ جنگ کے تناظر میں اس واقعے کی اہمیت بہت کم ہے۔
کیواناگ کہتی ہیں کہ اگرچہ ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرانا ایران کے لیے ’ایک بڑی کامیابی‘ ہے لیکن امریکہ کے لیے ’ایک طیارہ کھونا جنگ کے مجموعی نتائج کو تبدیل نہیں کرے گا۔‘
ملبے کی تصویر میں امریکی ایف 15 ای سٹرائیک ایگل ہے, جوشوا چیتھم، بی بی سی ویریفائی
،تصویر کا ذریعہIRAN State media
ایک ماہر نے بی بی سی ویریفائی کو یہ تصدیق کی ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں دکھائی دینے والا ملبہ درحقیقت امریکی ایف 15 ای سٹرائیک ایگل طیارے کا ہے۔
تھنک ٹینک روسی کی ملٹری سائنسز ٹیم میں ایئر پاور اور ٹیکنالوجی کے سینیئر ریسرچ فیلو جسٹن برونک کے مطابق تصاویر میں دکھائی دینے والے حصے طیارے کے ونگ ٹِپ اور ورٹیکل سٹیبلائزر ہیں۔ یہ برطانوی اڈے آر اے ایف لیکنہیتھ میں تعینات امریکی 494ویں فائٹر سکواڈرن کے طیارے سے مطابقت رکھتے ہیں۔
ریورس امیج سرچ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ تصاویر پہلی بار آج ہی سوشل میڈیا پر گردش کرنا شروع ہوئی ہیں۔
ہم اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ یہ تصاویر کہاں لی گئی تھیں کیونکہ یہ کلوز اپ شاٹس ہیں اور ان میں کوئی ایسا واضح نشان نہیں ہے جس سے جیو لوکیشن کا پتا چل سکے۔
تاہم ہم نے انھیں اے آئی کے ذریعے جانچا ہے اور ان میں کسی قسم کی جعل سازی یا ڈیجیٹل مداخلت کے آثار نہیں ملے۔
ایران میں امریکی طیارہ ’مار گرائے جانے‘ کے بارے میں ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟
ایران کی سرزمین پر ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے کے بارے میں فی الحال معلومات جمع کی جا رہی ہے۔
ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟
جنوبی ایران میں مبینہ طور پر ایک ایف 15 ای لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا ہے۔
بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس کے مطابق طیارے کے عملے کا ایک رکن امریکی فورسز نے ریسکیو کر لیا ہے۔ جبکہ ایف 15 ای میں عام طور پر دو افراد کا عملہ ہوتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس صورتحال پر بریفنگ دے دی گئی ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حکام نے اعلان کیا ہے کہ جو کوئی بھی امریکی طیارے کے کسی عملے کے رکن کو زندہ پکڑے گا اسے 10 ارب تومان (تقریباً 50 ہزار پاؤنڈ) انعام دیا جائے گا۔
ہمیں ابھی تک کیا معلوم نہیں ہے؟
ایک عملے کے رکن کی بازیابی کی اطلاع ہے لیکن دوسرے اہلکار کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔
طیارہ کس حالات میں مار گرایا گیا، اس کی تفصیلات ابھی واضح نہیں۔
اس واقعے پر ٹرمپ یا پینٹاگون کی جانب سے کوئی بیان تاحال سامنے نہیں آیا۔
’ایران کی فضا میں پرواز کرتے امریکی طیارے ریسکیو مشن پر ہو سکتے ہیں‘
،تصویر کا کیپشنبی بی سی ویریفائی نے اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے جس میں بظاہر ایک امریکی طیارہ دو ہیلی کاپٹروں کے ساتھ جنوبی ایران کے اوپر پرواز کرتا دکھائی دیتا ہے جہاں ایک امریکی لڑاکا طیارے کے عملے کی تلاش اور ریسکیو کی کارروائی جاری ہے
بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو ایک سکیورٹی تجزیہ کار نے بتایا ہے کہ سوشل میڈیا اور ایرانی سرکاری میڈیا پر ویڈیوز میں دکھائی دینے والے امریکی جنگی طیارے عام طور پر سرچ اینڈ ریسکیو مشن میں استعمال ہونے والی پروازوں کے انداز سے مطابقت رکھتے ہیں۔
سی بی ایس کے قومی سلامتی کے تجزیہ کار ایرن میک لین کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں امریکی طیارے روشنی میں انتہائی نچلی پرواز کرتے ہوئے دشمن علاقے کے اوپر دکھائی دیتے ہیں۔
ان کے مطابق امریکہ اس طرح کی پرواز صرف کسی مضبوط وجہ کی صورت میں کرتا ہے، مثلاً مار گرائے گئے طیارے کے پائلٹ یا پائلٹس کو بچانے کی کوشش میں۔
ایران میں امریکی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد جنم لیتے سوالات, برنڈ ڈیبسمین جونیئر، نامہ نگار برائے وائٹ ہاؤس
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نام نہ ظاہر کرنے
کی شرط پر کئی امریکی حکام ایران میں امریکی ایف-15 طیارہ مار گرائے جانے کی
تصدیق کر چکے ہیں۔ لیکن وائٹ ہاؤس یا پینٹاگون کی جانب سے اس متعلق کوئی تبصرہ سامنے
نہیں آیا ہے۔
اب تک وائٹ ہاؤس کی
طرف سے صرف اتنا کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اس صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
اس کی ایک وجہ یہ
ہو سکتی ہے کہ تلاش اور بچاؤ کی کوششیں ابھی بھی جاری ہیں اور ایسے حساس آپریشن کے
دوران عوامی سطح پر تصدیق مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔
بی بی سی کے امریکہ
میں پارٹنر سی بی ایس کے مطابق اب ہم جانتے ہیں کہ عملے کے ایک رکن کو ریسکیو کر
لیا گیا ہے۔
اس واقعے کے متعلق حکام
کو سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ اور وزیر دفاع
پیٹ ہیگستھ سمیت امریکی حکام بارہا کہ چکے ہیں کہ ایران کی فضائی دفاعی صلاحیتیں تباہ
ہو گئی ہیں۔
لڑاکا طیارے کے مار گرائے جانے کی تصدیق سے نہ صرف ایران
کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت بلکہ امریکی اہلکاروں اور ایران کے اوپر پرواز کرنے
والے طیاروں کو لاحق خطرات کے متعلق بھی مزید سوالات جنم لیں گے۔
ایران میں پہلا امریکی طیارہ مار گرائے جانے کا واقعہ اتنا اہم کیوں ہے؟, آئون ویلز، بی بی سی
یہ اس تنازع کے
دوران ایران کے اوپر امریکی لڑاکا طیاروں کے گرائے جانے کا پہلا واقعہ ہے۔ جنگ کے
ابتدائی مرحلے میں کویت کی فضائی دفاعی فورسز کی ’فرینڈلی فائر‘ کے نتیجے میں تین ایف-15 ای
طیارے تباہ ہوئے تھے۔
آج کا واقعہ کیوں اہم ہے؟
سب سے پہلے، یہ
واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ
بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکہ عملاً یہ جنگ جیت چکا ہے۔ ہیگستھ اور فوجی
کمانڈروں نے ’فضائی برتری‘ اور ایران کے کمزور ہو چکے فضائی دفاع کا حوالہ دیا ہے۔
ٹرمپ تو یہ تک کہہ چکے ہیں کہ ایران ’اپنی فضائی حدود سے گزرنے والے امریکی طیاروں کے بارے میں کچھ نہیں کر
سکتا۔‘
اب یہ دعوے حد سے
زیادہ پُراعتماد محسوس ہوتے ہیں۔ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی
اپنی فضائی حدود کا دفاع کرنے کی صلاحیت موجود ہے چاہے وہ کتنی بھی محدود یا کمزور
کیوں نہ ہو۔
دوسری بات یہ کہ
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکہ مزید شدت سے کارروائیاں کرنے کی دھمکیوں
کے ساتھ ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کی امیدیں بھی لگائے بیٹھا ہے۔ امریکہ اس واقعے کو
اپنی کارروائیوں میں مزید اضافے کے لیے جواز کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔
اس صورتحال سے امریکی
عوام کی تشویش میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے کہ اس جنگ سے مزید امریکی اہلکار متاثر ہو
رہے ہیں۔ اور یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ زمینی کارروائی پر
بھی غور کر رہی ہے اور اس سے امریکی فوجیوں کو لاحق خطرات نمایاں طور پر بڑھ جائیں
گے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر کا امریکی طیارہ گرائے جانے پر طنز
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
ایران میں ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے کی اطلاعات کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر طنزیہ پوسٹ لکھی ہے۔
ان کے اکاؤنٹ پر پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ایران کو لگاتار 37 مرتبہ شکست دینے کے بعد اب ان کی یہ شاندار بے حکمت جنگ ’رجیم چینج‘ سے گھٹ کر اس درجے پر آ گئی ہے کہ کوئی ہمارے پائلٹس کو ڈھونڈ سکتا ہے؟ پلیز؟‘
ٹرمپ نے 31 مارچ کو دعویٰ کیا تھا کہ ایران میں رجیم چینج ہو چکی ہے اور ان کے مطابق ایران کی نئی قیادت ’کم شدت پسند‘ اور ’زیادہ معقول‘ ہے۔
قالیباف کے اکاؤنٹ پر ایک اور طنزیہ پوسٹ بھی کی گئی کہ ’واہ! کیا شاندار ترقی ہے۔ نہت عقلمند لوگ ہیں۔‘
ان کا اکاؤنٹ گذشتہ دنوں خاصا سرگرم رہا ہے اور وہ وقتاً فوقتاً میمز بھی پوسٹ کرتا ہے۔ جبکہ انھیں آخری مرتبہ 17 مارچ کو سرکاری ٹی وی پر دیکھا گیا تھا۔
کچھ غیر مصدقہ اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ قالیباف کو ایک ممکنہ شراکت دار اور شاید مستقبل کے رہنما کے طور پر بھی دیکھ رہی ہے۔
ایران میں امریکی ایف 15 لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے کی اطلاعات، ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہUS Air Force
وائٹ ہأؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران میں مار گرائے گئے امریکی طیارے کے متعلق بریفنگ دی گئی ہے۔
اس سے قبل ایران کی فضائی حدود میں ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد تہران نے طیارے کے پائلٹ کے متعلق اطلاع دینے والے کو انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔
ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز، نیویارک ٹائمز اور ایگزیوز کو بتایا ہے کہ ایران کی فضائی حدود میں ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا تھا۔
اہلکار کے مطابق عملے کے ایک رکن کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب وال سٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ امریکہ عملے کے لیے ریسکیو آپریشن کر رہا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا تھا ایران میں مبینہ طور پر ایک امریکی جیٹ مار گرایا گیا ہے اور پائلٹ کی تلاش جاری ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے پاسدارانِ انقلاب کے ان دعوؤں کی تردید کی تھی کہ آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ قشم کے اوپر ایک لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو مار گرایا گیا ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ بیان حالیہ ایرانی رپورٹس کا حوالہ دیتا ہے۔ بی بی سی نے مزید تفصیلات کے لیے سینٹ کام سے رابطہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے تسنیم کا کہنا ہے امریکی ہیلی کاپٹر، طیارے اور جاسوس ڈرون پائلٹ کی تلاش کر رہے ہیں۔
ایران کے سرکاری ٹی وی سے وابستہ چینل کے نیوز ریڈر نے اطلاع دی ہے کہ جو بھی پائلٹ کو زندہ پکڑے گا اسے انعامات دیے جائیں گے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے وابستہ چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی لڑاکا طیارے کا پائلٹ جنوب مغربی ایران کے اوپر طیارے سے ایجکٹ کر گیا ہے۔
’مار گرائے گئے امریکی طیارے کے عملے کا ایک رکن ریسکیو‘
دو امریکی حکام نے سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ ایران میں مار گرائے گئے ایف 15 لڑاکا طیارے کے عملے کا ایک رکن کو بازیاب کر لیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس عملے کے رکن کو امریکی فورسز نے ریسکیو کیا ہے۔
بریکنگ, ایران میں امریکی لڑاکا طیارہ ’ایف 15 ای‘ گرائے جانے پر ٹرمپ کو بریفنگ دی گئی، وائٹ ہاؤس کی تصدیق
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران میں مار گرائے گئے امریکی لڑاکا طیارے کے واقعے پر بریفنگ دے دی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’صدر کو بریف کر دیا گیا ہے۔‘
آبنائے ہرمز کے معاملے پر سلامتی کونسل میں ووٹنگ سنیچر تک مؤخر
اقوامِ متحدہ کے
ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز سے متعلق
قرارداد پر ووٹنگ اب سنیچر کے روز ہوگی۔
ابتدائی طور پر یہ
ووٹنگ تین اپریل کو مقامی وقت کے مطابق 11 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے)
شیڈول تھی۔ تاہم جمعہ کے روز یہ اقوامِ متحدہ کی ویب سائٹ پر درج نہیں تھی۔
ترجمان
کے مطابق ووٹنگ مؤخر کرنے کا فیصلہ سلامتی کونسل کے ارکان نے کیا ہے۔
امریکہ ’آسانی سے‘ آبنائے ہرمز کھول سکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپنی سوشل میڈیا
سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کو
بس ’تھوڑا اور وقت‘ مل جائے تو وہ آبنائے ہرمز کو ’آسانی سے‘ کھول سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’تھوڑا سا مزید وقت مل جائے تو ہم آسانی
سے آبنائے ہرمز کو کھول سکتے ہیں، تیل حاصل کر سکتے ہیں اور بےپناہ دولت کما سکتے
ہیں۔ یہ دنیا کے لیے ایک ’گشر‘ (تیل کا کنواں) ثابت ہوگا؟؟؟‘
آبنائے ہرمز کو دوبارہ
کھولنے کے حوالے سے ٹرمپ کئی مرتبہ مختلف موقف اختیار کر چکے ہیں۔ وہ یہ بھی تجویز
کر چکے ہیں کہ مغربی ممالک کو چاہیے کہ وہ اس اہم شپنگ روٹ سے تیل کی ترسیل کو یقنینی
بنانے کے لیے اپنی عسکری طاقت کا استعمال کریں۔
اسرائیل وزیرِ اعظم کا ایران کی سٹیل پیداوار کی تقریباً 70 فیصد صلاحیت ختم کرنے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
اسرائیلی وزیرِ
اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران کی سٹیل
پیداوار کی تقریباً 70 فیصد صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر
جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے اسے ایک ’بڑی کامیابی‘ قرار دیا۔ ان کے بقول اس کی
وجہ سے پاسدارانِ انقلاب مالی اور عسکری وسائل سے محروم ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا، ’میرے اور صدر ٹرمپ، اور اسرائیلی اور
امریکی فوج کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے۔ اس ہم آہنگی کے ساتھ ہم ایران کو کچلتے
رہیں گے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل ’حزب اللہ کو بھی نشانہ بنانا جاری رکھے
ہوئے ہے۔‘
ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے بحری انٹیلی جنس کے سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق, غنچے حبیبی آزاد، سینیئر نامہ نگار برائے بی بی سی فارسی
ایران کے
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بحری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ بہنام رضائی کی ہلاکت
کی تصدیق کر دی ہے۔
اس سے قبل اسرائیل
نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے 26 مارچ کو ایک حملے میں رضائی کو نشانہ بنایا تھا۔
اسرائیلی فوج کا
کہنا تھا کہ ’رضائی خطے کے ممالک سے متعلق خفیہ معلومات جمع کرنے کے ذمہ دار تھے
اور مختلف انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ تعاون کی قیادت کرتے تھے۔‘
ایرانی میڈیا نے
27 مارچ کو رضائی کی یاد میں منعقد کی جانے والی تقریب کے متعلق خبر دی تھی۔ تاہم پاسدارانِ
انقلاب نے جمعہ کے روز ان کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق کی۔
اسرائیلی فوج نے 26 مارچ کو پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر علی
رضا تنگسیری کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا جس کی تصدیق پاسدارانِ انقلاب نے چار روز بعد کی
تھی۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے باعث خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے: اقوامِ متحدہ
،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث دنیا بھر میں خوراک کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے ماہانہ فوڈ پرائس انڈیکس میں فروری سے مارچ کے درمیان 2.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ انڈیکس مختلف غذائی اجناس کی بین الاقوامی قیمتوں کو ماپتا ہے۔
ایف اے او کا کہنا ہے کہ مسلسل دوسرے مہینے انڈیکس میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع سے منسلک توانائی کی بڑھتی قیمتیں ہیں۔
’ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی نظام کے تمام اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے‘, بی بی سی کے انٹرنیشنل ایڈیٹر جیریمی بوون کا تجزیہ
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنایران کے شہر کرج میں حملے کے نتیجے میں تباہ ہونے والے پل کا منظر۔
کچھ لوگ کہیں گے
کہ یہ جنگ انتہائی مشکوک قانونی حالات میں شروع کی گئی جبکہ امریکہ یا اسرائیل کو ایران سے کوئی
فوری خطرہ لاحق نہیں تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب
سے حالیہ دنوں میں استعمال کی جانے والی زبان جس میں ایران کو ’پتھر کے زمانے‘ میں دھکیلنے کی دھمکی بھی
شامل ہے کھلے عام جنگی جرائم کی زبان ہے۔
جنگ میں نہ صرف شہریوں
کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے بلکہ کارروائیوں کی شدت سامنے موجود خطرے کے مطابق
ہونی چاہیے۔
یقیناً کسی بھی
نتیجے پر پہنچنے سے قبل تہران کو کرج سے ملانے والے ایرانی پل پر امریکی حملے کی تفصیلات
کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
صدر ٹرمپ نے بین
الاقوامی نظام کے تمام اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ طاقت کا
قانون ہی برحق ہے۔
لیکن امریکی صدر کو جلد
مشکل فیصلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ آپ ان کی گذشتہ رات کی 19 منٹ کی تقریر
میں دیکھ سکتے ہیں کہ ان کا لہجہ بار بار بدلتا ہے۔ یہ ان کی سٹریٹیجک بے یقینی کو
ظاہر کرتی ہے۔
اتنا تو واضح ہے
کہ وہ کوئی راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں لیکن فی الحال کسی معاہدے کا کوئی امکان نظر
نہیں آتا۔
ایک حل ایران میں زمینی
دستے بھیجنے کا ہے، لیکن یہ ایک طرح سے ایران کے حق میں جا سکتا ہے۔ ایران امریکہ کو
ایک طویل جنگ میں الجھانا چاہے گا۔ سیاسی طور پر ایرانی حکومت ٹرمپ سے کہیں زیادہ
نقصان برداشت کر سکتی ہے۔
ایران نے دکھا دیا
ہے کہ کسی بھی غیر متوازن جنگ میں کمزور ممالک بھی طاقتور ممالک سے لڑ سکتے ہیں۔
اور ایک جڑے ہوئے عالمی نظام میں آبنائے ہرمز ایک بےحد طاقتور ہتھیار ہے۔
کرغزستان نے 129 ٹن امدادی سامان ایران روانہ کر دیا
کرغزستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘کبار’ کے مطابق کرغزستان نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع سے متاثر ایرانی شہریوں کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 129 ٹن امدادی سامان روانہ کر دیا ہے۔
بی بی سی عربی کے مطابق کرغز حکام کا کہنا ہے کہ یہ امداد صدر صدیر جپاروف کی ہدایت پر فراہم کی گئی ہے۔
امدادی سامان میں 66 ٹن خوراک شامل ہے جس میں آٹا، ڈبہ بند گوشت اور سبزیوں کا تیل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ امدادی سامان میں 63 ٹن ضروری ادویات بھی شامل ہیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی نے وضاحت کی ہے کہ یہ امدادی سامان سات ٹرکوں کے قافلے کے ذریعے ایران روانہ کیا گیا ہے۔
خبر میں کہا گیا ہے کہ یہ امداد ایران میں کرغزستان کے سفیر اکیل بیک کلیچیف ایرانی حکام کے حوالے کریں گے۔