ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک بار پھر ایران کو ’مکمل تباہ‘ کرنے کی دھمکی: ’وہ رات شاید کل کی رات ہو‘

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی سابقہ دھمکیوں کو دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ ’پورے ملک کو ایک ہی رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے، اور وہ رات شاید کل کی رات ہو۔‘ دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جنگ بندی کے لیے امریکہ کی تجویز مسترد کر دی ہے، تاہم ساتھ ہی جنگ کے ’واضح اور حتمی‘ خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور اپنے مطالبات کی ایک فہرست بھی پیش کی ہے۔

خلاصہ

  • جنگ کا مستقل خاتمہ ضروری، وقفے سے امریکہ اور اسرائیل کو دوبارہ منظم ہو کر حملے کی ’مہلت‘ مل جائے گی: ایران
  • ایرانی حکومت میں موجود ’معقول لوگوں‘ سے مذاکرات جاری ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ
  • ڈیڈ لائن کے خاتمے سے قبل ایران کی اہم پیٹروکیمیکل تنصیب پر اسرائیل کا حملہ
  • اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر جواب تیار کر لیا: ایران
  • پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف ماجد خادمی کی ہلاکت کی تصدیق

لائیو کوریج

  1. ’ایسا لگ رہا ہیں ہم دلدل میں پھنستے جا رہے ہیں‘: ٹرمپ کی دھمکی پر ایرانی شہریوں کا ردِعمل, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    تہران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں ایران کے بُنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد میں نے تہران میں شہریوں سے بات کی ہے۔

    ایک نوجوان نے مجھ سے کہا: ’ایسا لگتا ہے کہ ہم دلدل میں دھنستے ہی جا رہے ہیں۔ ہم عام لوگ کیا کر سکتے ہیں؟ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم اسے روک نہیں سکتے۔‘

    بیس کی دہائی کی ایک خاتون بتاتی ہیں کہ ان کی والدہ ’گھر میں ملنے والی ہر خالی بوتل میں پانی بھر رہی ہیں‘ تاکہ اگر پانی کی فراہمی متاثر ہو تو ان کے پاس اس کا ذخیرہ موجود ہو۔

    وہ کہتی ہیں: ’مجھے نہیں معلوم اب ہم کیا کریں گے۔ میرا خیال ہے ایران میں لوگوں کو احساس ہوتا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کو ان کی ذرا بھی پروا نہیں۔ میں دل کی گہرائیوں سے انھیں بھی ناپسند کرتی ہوں اور ان لوگوں کو بھی جو ان کی حمایت کرتے ہیں۔‘

    ایک اور نوجوان نے مجھے بتایا ’میں ہر چیز سے بہت تھک چکا ہوں… میں اور میرا خاندان ہر چیز ذخیرہ کر رہے ہیں، لیکن لگتا ہے کہ اگر وہ واقعی بُنیادی ڈھانچے پر حملہ کرنے والے ہیں تو ہماری ان ساری کوششوں کا کوئی فائدہ نہیں۔‘

  2. ’طیارے کو مار گرائے جانے اور پائلٹس کی بازیابی کے لیے کی جانے والی پیچیدہ کارروائی ممکنہ طور پر ٹرمپ کو زمینی آپریشن سے دور رکھ سکتی ہے‘, برنڈ ڈیبسمین جونیئر، وائٹ ہاؤس رپورٹر

    ایران میں گرنے والے امریکی ایف-15 طیارے کے دوسرے اہلکار کی بازیابی کے فوراً بعد ٹرمپ نے اسے اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن ’ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ ہم نے مکمل فضائی برتری اور غلبہ حاصل کر لیا ہے۔‘

    لیکن مبصرین کے مطابق اس واقعے کے مستقبل کے تنازع پر کہیں زیادہ پیچیدہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    اگرچہ ریسکیو کا مشن کامیاب رہا لیکن گذشتہ چند دنوں کے واقعات اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ امریکی طیاروں اور اہلکاروں کو درپیش خطرات اب بھی برقرار ہیں۔ اس دوران دو طیارے مار گرائے گئے ہیں اور کم از کم ایک ہیلی کاپٹر پر فائرنگ ہوئی ہے۔

    واشنگٹن کے متعدد ذرائع نے مجھے بتایا ہے کہ طیارے کو مار گرائے جانے اور پائلٹس کی بازیابی کے لیے کی جانے والی پیچیدہ کارروائی ممکنہ طور پر ٹرمپ کو کسی بھی زمینی آپریشن سے دور رکھ سکتی ہے۔

    دوسری جانب، یہ حقیقت کہ امریکی اہلکار متنازع علاقے میں داخل ہونے، کئی گھنٹوں تک اسے اپنے کنٹرول میں رکھنے اور پھر وہاں سے نکلنے میں کامیاب رہے ٹرمپ کو یہ یقین ہو سکتا ہے کہ ایران میں فضائی یا بحری حملے کے ذریعے کیے جانے والے آپریشن کے کامیاب ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔

  3. گذشتہ 24 گھنٹوں میں 15 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، ایرانی میڈیا

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں ایران کی اجازت سے 15 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔

    فارس کی خبر کے مطابق بحری ٹریفک اب بھی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 90 فیصد کم ہے۔

    ایرانی حکام، جن میں وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں، بارہا کہہ چکے ہیں کہ جہاز رانی کی یہ اہم گزرگاہ ’بند نہیں‘، بلکہ صرف ’دشمن ممالک‘ کے لیے بند ہے۔

    مثال کے طور پر، ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ عراق ان تمام پابندیوں سے مستثنی ہے جو دیگر ممالک پر عائد کی جا رہی ہیں۔

    ادھر ایرانی حکام اور قانون سازوں نے آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے بحری جہازوں پر ٹرانزٹ فیس یا ٹول ٹیکس عائد کرنے کے امکان کا بھی ذکر کیا ہے۔

    اس سے قبل ایرانی صدر کے ایک مشیر نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز ’تب دوبارہ کھولی جائے گی‘ جب ’ٹرانزٹ فیس کا ایک حصہ جنگ سے ہونے والے تمام نقصانات کے ازالے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔‘

  4. عمان اور ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور، متحدہ عرب امارات کا ’امریکی قیادت میں ہونے والی کوششوں‘ کی حمایت کا اعلان

    عمان کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے ساتھ ملاقات میں آبنائے ہرمز سے ’بنا کسی تعطل کے آمدورفت یقینی بنانے‘ کے لیے مختلف آپشنز پر بات چیت کی ہے۔

    بیان کے مطابق دونوں جانب کے ماہرین نے ملاقات کے دوران ’متعدد تجاویز‘ پیش کیں جن کا اب جائزہ لیا جائے گا۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ’امریکی قیادت میں ہونے والی ہر اس کوشش میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے‘ جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں ’محفوظ جہازرانی‘ کو یقینی بنانا ہو۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خیال میں جنگ کے دوران ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی مؤقف اور اثر و رسوخ کو تقویت ملی ہے۔

  5. اسرائیل کے شہر حیفہ میں راکٹ حملے میں چار افراد زخمی

    اسرائیلی کی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ ادوم کے مطابق ملک کے شمالی شہر حیفہ میں راکٹ حملے کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    سروس کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں ایک تقریباً 82 سالہ شخص بھی شامل ہے جو ایک بھاری چیز لگنے سے شدید زخمی ہوئے ہیں۔ بیان کے مطابق دیگر تین افراد کو شیل کے ٹکڑے لگنے اور دھماکے کے باعث ہلکی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔‘‘

    ایمرجنسی سروس نے جائے وقوعہ کی یہ تصاویر بھی جاری کی ہیں۔

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہMDA

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہMDA

  6. سینٹ کام کی لڑاکا طیارہ گرنے کے بعد امریکی اہلکاروں کی بازیابی کی تصدیق

    امریکیی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جمعرات کو ایک لڑاکا طیارہ گرائے جانے کے بعد دو امریکی اہلکاروں کی بازیابی کی تصدیق کی ہے۔

    سینٹ کام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے:

    ’4 اپریل کو امریکی افواج نے دو امریکی اہلکاروں کو ایران سے کامیابی کے ساتھ بازیاب کروالیا۔ یہ اہلکار 2 اپریل کو ایک جنگی مشن کے دوران ایف-15 ای لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے کے بعد لاپتا ہوگئے تھے۔

    ’اہلکاروں کو علیحدہ علیحدہ کارروائیوں کے دوران بحفاظت نکالا گیا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایران کے اندر امریکی حملے جاری ہیں، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ ایرانی حکومت کی اپنی سرحدوں سے باہر طاقت کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت کو ختم کر رہی ہیں۔‘

  7. ’یہ خطرناک کھیل بند کریں‘: ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر کا ٹرمپ کو پیغام

    باقر قالیباف

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ کے لاپرواہانہ اقدامات امریکہ کو ہر ایک خاندان کے لیے جہنم میں تبدیل کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے ’کسی خوش فہمی میں نہ رہیں: آپ کو ان جنگی جرائم سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘

    قالیباف نے ٹرمپ پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے احکامات کی تعمیل کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’واحد حل ایرانی عوام کے حقوق کا احترام اور اس خطرناک کھیل کو بند کرنا ہے۔‘

  8. کل تک ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے کا قوی امکان ہے: ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کل کسی معاہدے تک پہنچنے کے ’قوی امکانات‘ موجود ہیں، یہ بات انھوں نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

    فاکس نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اگر جنگ کے خاتمے کے لیے جلد کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ ’سب کچھ تباہ کرنے اور ایران کے تیل پر قبضہ کرنے‘ پر غور کر رہے ہیں۔

    تاہم فاکس نیوز کے چیف خارجہ امور کے نامہ نگار کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’ایک معاہدہ کل طے پانے کا ’قوی امکان‘ ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ اس وقت مذاکرات کر رہے ہیں۔‘

  9. امریکی بنکر شکن بموں سے لیس امریکی طیارے برطانیہ سے روانہ

    BBC

    اتوار کے روز برطانوی وقت کے مطابق 15:45 پر امریکی فضائیہ کے تین بی-1 بی لانسر بھاری بمبار طیارے گلوسٹرشائر میں واقع برطانوی فضائی اڈہ آر اے ایف فیئرفورڈ سے پرواز کر گئے، جن کے بارے میں قوی امکان ہے کہ وہ ایران کی جانب جا رہے ہیں۔

    ہر طیارہ متعدد ’بنکر بسٹر‘ ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    بی-52 اور بی-1 طیارے گزشتہ کئی ہفتوں سے اسی اڈے سے مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے پروازیں کر رہے ہیں، جن میں جے ڈی اے ایم بموں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

    آج دوپہر روانہ ہونے والے یہ طیارے غالباً ایک ایسے مشن پر ہیں جو 15 گھنٹے یا اس سے زائد دورانیے پر مشتمل ہوگا، جس کے دوران راستے میں کئی مرتبہ ایندھن بھرا جائے گا۔

    BBC
  10. اہم سیاسی قیادت اور مُلکی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا رہے گا: اسرائیلی وزیرِ دفاع

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اگر ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں اسرائیل پر اپنے حملے جاری رکھے تو وہ ایرانی قیادت کا تعاقب اور انھیں ہلاک کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا اور اسی کے ساتھ ساتھ اہم ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا رہے گا۔‘

    کاٹز نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ’جب تک میزائل داغے جاتے رہیں گے اور اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا رہے گا، ایران کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی، جس کے نتیجے میں اس کے قومی انفراسٹرکچر اور نظام کی عملی صلاحیتیں مفلوج ہو جائیں گی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اسی دوران ہم دہشت گرد قیادت کا تعاقب اور اسے غیر مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ ایران بھر میں سکیورٹی اہداف اور سٹریٹجک وسائل پر حملے جاری رکھیں گے۔‘

    28 فروری سے شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران میں متعدد سیاسی اور عسکری رہنما ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔ ان حملوں میں صنعتی تنصیبات، پلوں اور شہری مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

  11. امریکہ اسرائیل ایران تنازع: صدر ٹرمپ کی دھمکیاں اور ڈیڈلائنز

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے چھ اپریل تک کھولنے کی ایک اور مہلت دی ہے اور ساتھ یہ دھمکی بھی کہ اگر ایسا نہ ہوا تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

    جنگ کے دوران انھوں نے کئی مرتبہ ڈیڈلائن دی اور پھر اسے تبدیل کیا۔

    آئیے یہاں ان ڈیڈلائنز کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں:

    پہلی ڈیڈلائن: 21 مارچ کو ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر اہم تجارتی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز نہ کھولی تو وہ ’بجلی کی اہم اور بڑی تنصیبات پر حملوں کے ساتھ ساتھ ’بڑے پاور پلانٹس کو ’تباہ اور ختم‘ کر دیں گے۔‘

    دوسری ڈیڈلائن: پھر 21 مارچ کے دو دن بعد انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ’بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت‘ ہوئی ہے اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیے گئے۔

    تیسری ڈیڈلائن: 27 مارچ کو ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکومت کی درخواست پر توانائی کے پلانٹس پر حملہ 10 دن کے لیے مؤخر کیا جا رہا ہے، جس سے ڈیڈلائن 6 اپریل تک بڑھ گئی۔

    48 گھنٹے کی وارننگ: اب سنیچر یعنی گزشتہ روز جب 6 اپریل کی ڈیڈلائن قریب تھی، انھوں نے ایران کو خبردار کیا کہ ان کے پاس ’48 گھنٹے‘ ہیں اور اگر اس کے دوران آبنائے ہرز کو نہ کھولا گیا اور کسی معاہدے تک نہ پہنچے تو ایران پر شدید نوعیت کے حملے کیے جائیں گے۔

    حالیہ دھمکی: آج یعنی اتوار پانچ اپریل کو امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک اور انتہائی سخت بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے ایران کو ایک مرتبہ پھر یہ دھھمکی دی ہے کہ اگر ایران امریہ کی بات نہیں مانتا اور آبنائے ہرمز نہیں کھولتا تو اُنھیں جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔

  12. آبنائے ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں ٹرمپ کی منگل کو ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک سخت بیان جاری کیا ہے، جس میں انھوں نے ایران کو آبنائے ہرمز کو نہ کھولنے پر سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے اس اہم تجارتی راستے کو نہ کھولا تو شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا اور ایران ’پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔‘

    یہ بیان اس 48 گھنٹے کی مہلت کے مکمل ہونے سے قبل سامنے آیا ہے جو ٹرمپ نے خود تہران کے لیے مقرر کی ہے، جس کے مطابق پیر تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جانا چاہیے۔

    واضح رہے کہ یہ اہم آبی تجارتی گُزر گار فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بند ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’منگل ایران کے لیے پاور پلانٹ ڈے اور برج ڈے ہوگا۔ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو تم جہنم میں دھکیل دیے جاؤ گے، بس دیکھتے جاؤ۔‘

  13. جنوبی بیروت کے علاقے جناح پر اسرائیلی حملے، چار افراد ہلاک 39 زخمی

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی بیروت کے علاقے جناح پر اسرائیلی حملے میں چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    لبنان کی وزارتِ صحت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حملے میں مزید 39 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے اتوار کی صبح کہا کہ وہ لبنانی دارالحکومت میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    مقامی ذرائع اور تصاویر میں جنوبی بیروت کے مختلف علاقوں سے دھوئیں کے سیاہ بادل اٹھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    اس سے قبل لبنان کی وزارتِ صحت نے بتایا تھا کہ جنوبی لبنان کے علاقے کفر حتیٰ میں ہونے والے حملوں میں سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

  14. ایران سے آبنائے ہرمز میں ’بلا رکاوٹ آمد و رفت‘ کے لیے مذاکرات جاری: وزارتِ خارجہ عمان

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کی جانب سے اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

    عمان کی وزارتِ خارجہ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ایران اور عمان کے نائب وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں آبنائے ہرمز سے ’بلا رکاوٹ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے ممکنہ آپشنز‘ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزارت کے مطابق سنیچر کے روز ہونے والی اس ملاقات میں دونوں ممالک کے ماہرین نے بھی شرکت کی، جہاں ’متعدد آرا اور تجاویز‘ پیش کی گئیں۔

    ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ تہران نے اگر پیر تک اس اہم بحری راستے کو دوبارہ نہ کھولا تو اسے ’سنگین نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  15. بریکنگ, امریکہ نے ایران میں ’دن کی روشنی میں‘ سات گھنٹے آپریشن کر کے اپنے ائیرمین کو بچایا: ٹرمپ کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دوسرے امریکی فضائیہ کے اہلکار کی بازیابی سے متعلق ایک نیا پیغام جاری کیا ہے۔

    اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ ’ہم نے شدید زخمی مگر نہایت بہادر ایف 15 کے عملے کے رکن یعنی ائیرمین کو ایران کے پہاڑی علاقے سے بحفاظت نکال لیا۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’ایرانی فوج بڑی تعداد میں ہمارے ائیرمین کی تلاش میں تھی اور قریب پہنچ چُکی تھی۔ وہ ہمارے ایک نہایت معزز کرنل ہیں۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’اس نوعیت کے آپریشنز خطرات کے باعث شاذ و نادر ہی کیے جاتے ہیں کیونکہ اس میں اہلکاروں اور سازوسامان دونوں کو شدید خطرہ ہوتا ہے۔ ایسا ہوا نہیں کرتا! دوسرا آپریشن پہلے کے بعد کیا گیا، جس میں ہم نے پائلٹ کو دن کی روشنی میں بچایا جو خود بھی غیر معمولی تھا اور اس دوران ہم نے ایران کی فضائی حدود میں سات گھنٹے گزارے۔‘

    انھوں نے اس کارروائی کو ’بہادری اور مہارت کی شاندار مثال‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پیر کو دوپہر ایک بجے اوول آفس میں فوجی حکام کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کریں گے۔

    ٹرمپ نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا ’خدا ہمارے عظیم فوجی جوانوں کو سلامت رکھے۔‘

  16. جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے میں سات افراد ہلاک : وزارتِ صحت

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی دفاعی افواج کے حملے میں کفر حتیٰ کے علاقے میں سات افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے افراد میں ایک چار سالہ بچی بھی شامل ہے۔

    یہ بیان سرکاری خبر رساں ادارے این این اے کے حوالے سے سامنے آیا۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق کفر حتیٰ میں اسرائیلی افواج کی جانب سے ہونے والے حملے میں بڑے پیمانے پر متعدد عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور ان حملوں میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

  17. مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے پاکستانی مالیاتی بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی, تنویر ملک، صحافی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے مقامی بانڈز میں مارچ کے مہینے کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ جس کی وجہ مشرق وسطیٰ میں جنگ اور اسی وجہ سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی ہے بتائی جاتی ہے۔

    دوسری جانب ٹریژری بلز میں مقامی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران مجموعی سرمایہ کاری 886.7 ملین روپے رہی، جبکہ اخراج 794 ملین ڈالر (تقریباً 90 فیصد) رہا، جس کے بعد صرف 93 ملین ڈالر کی معمولی سرمایہ کاری باقی رہ گئی۔

    سٹیٹ بینک کے مطابق مارچ کے پہلے 27 دنوں میں ٹریژری بلز سے 227 ملین ڈالر نکالے گئے، جبکہ اسی عرصے میں صرف 19 ملین ڈالر کی آمد ہوئی، جو سرمایہ کاروں کے کمزور اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق ٹریژری بلز سے سب سے زیادہ سرمایہ، 281 ملین ڈالر، برطانیہ منتقل ہوا۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات سے 209 ملین ڈالر، بحرین سے 170 ملین ڈالر، سنگاپور سے 77.6 ملین ڈالر اور امریکہ سے 32 ملین ڈالر کا اخراج ریکارڈ کیا گیا۔

  18. کویت میں توانائی کی تنصیبات پر ڈرون حملے، نقصانات کی اطلاع

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    کویت پیٹرولیم کارپوریشن کے مطابق اس کی متعدد تنصیبات کو ایرانی ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ان اہم تنصیبات پر آگ بھڑک اٹھی اور جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔

    یہ تمام معلومات کویت حکومتی انتظامیہ کی جانب سے سامنے آئی ہیں۔

    ایکس پر جاری بیان میں کویت انتظامیہ کہ کہنا ہے کہ جن مقامات پر آگ لگی ہے وہاں امدادی کارروائیاں جاری ہے اور فائر بریگیڈ کا عملہ آگ پر قابو پانے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ تاہم جن مقامات کو نقصان پہنچا ہے اُن کے حوالے سے یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کہاں ہیں۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ یہ واقعہ خلیجی خطے کے دیگر حصوں، بشمول بحرین میں پیٹروکیمیکل اور توانائی کے مقامات پر حملوں کے بعد پیش آیا ہے۔

  19. اسرائیلی دفاعی افواج کے بیروت کے مضافات میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملوں کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اتوار کی صبح سویرے لبنانی دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے رہائشیوں کو فوری انخلا کی وارننگ دینے کے بعد حزب اللہ کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    ادھر ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل کی جانب میزائل داغے، جنھیں اسرائیلی میڈیا کے مطابق آئی ڈی ایف نے فضا میں ہی ناکام بنا دیا۔

    فائرنگ اور حملوں کا یہ تبادلہ اس بیان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے جس میں حزب اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے گزشتہ رات لبنان کے ساحل کے قریب ایک اسرائیلی بحریہ کے جنگی جہاز کو میزائل سے نشانہ بنایا۔

    تاہم اسرائیلی میڈیا کے مطابق آئی ڈی ایف نے کہا کہ اسے ایسے کسی واقعے کا علم نہیں۔

  20. ایران نے ریسکیو مشن کو ’ناکامی‘ قرار دے دیا, بی بی سی فارسی کی نامہ نگار غنچہ حبیبزاد کا تجزیہ

    REUTERS

    ،تصویر کا ذریعہREUTERS

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بی بی سی فارسی کی نامہ نگار غنچہ حبیبزاد کا کہنا ہے کہ ’میں ایرانی حکام اور سرکاری ٹی وی کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہوں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ امریکی ریسکیو مشن کو کس انداز میں پیش کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آج صبح ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ حالیہ کاررووائی امریکا کی امریکی تاریخ کا سب سے جرات مندانہ ریسکیو آپریشن میں سے ایک تھا۔‘

    تاہم خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے اس مشن کو ناکام قرار دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’دشمن کا اپنے گرائے گئے لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو بچانے کی بے بس کوششیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، غیبی مدد اور ایرانی افواج کی بروقت کارروائیوں اور مشترکہ آپریشنز کی بدولت ناکام ہو گئیں۔‘

    امریکا میں یہ بھی رپورٹ ہوا ہے کہ اس کارروائی کے دوران امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ’ایران میں تباہ ہونے والے طیارے کے پائلٹ کو بچانے کے لیے ایک خصوصی آپریشن کا دعویٰ اپنی ناکامی اور شکست چھپانے کے لیے کیا۔‘

    اپنی کوریج کے دوران ایرانی سرکاری ٹی وی نے بھی یہی مؤقف اپنایا اور اس واقعے کو بار بار 1980 کی ناکام امریکی یرغمالی ریسکیو کارروائی ’آپریشن ایگل کلا‘ سے تشبیہ دی، جو وسطی ایران کے شہر طبس میں کی گئی تھی۔