’ایسا لگ رہا ہیں ہم دلدل میں پھنستے جا رہے ہیں‘: ٹرمپ کی دھمکی پر ایرانی شہریوں کا ردِعمل, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں ایران کے بُنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد میں نے تہران میں شہریوں سے بات کی ہے۔
ایک نوجوان نے مجھ سے کہا: ’ایسا لگتا ہے کہ ہم دلدل میں دھنستے ہی جا رہے ہیں۔ ہم عام لوگ کیا کر سکتے ہیں؟ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم اسے روک نہیں سکتے۔‘
بیس کی دہائی کی ایک خاتون بتاتی ہیں کہ ان کی والدہ ’گھر میں ملنے والی ہر خالی بوتل میں پانی بھر رہی ہیں‘ تاکہ اگر پانی کی فراہمی متاثر ہو تو ان کے پاس اس کا ذخیرہ موجود ہو۔
وہ کہتی ہیں: ’مجھے نہیں معلوم اب ہم کیا کریں گے۔ میرا خیال ہے ایران میں لوگوں کو احساس ہوتا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کو ان کی ذرا بھی پروا نہیں۔ میں دل کی گہرائیوں سے انھیں بھی ناپسند کرتی ہوں اور ان لوگوں کو بھی جو ان کی حمایت کرتے ہیں۔‘
ایک اور نوجوان نے مجھے بتایا ’میں ہر چیز سے بہت تھک چکا ہوں… میں اور میرا خاندان ہر چیز ذخیرہ کر رہے ہیں، لیکن لگتا ہے کہ اگر وہ واقعی بُنیادی ڈھانچے پر حملہ کرنے والے ہیں تو ہماری ان ساری کوششوں کا کوئی فائدہ نہیں۔‘




















