ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک بار پھر ایران کو ’مکمل تباہ‘ کرنے کی دھمکی: ’وہ رات شاید کل کی رات ہو‘
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی سابقہ دھمکیوں کو دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ ’پورے ملک کو ایک ہی رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے، اور وہ رات شاید کل کی رات ہو۔‘ دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جنگ بندی کے لیے امریکہ کی تجویز مسترد کر دی ہے، تاہم ساتھ ہی جنگ کے ’واضح اور حتمی‘ خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور اپنے مطالبات کی ایک فہرست بھی پیش کی ہے۔
خلاصہ
جنگ کا مستقل خاتمہ ضروری، وقفے سے امریکہ اور اسرائیل کو دوبارہ منظم ہو کر حملے کی ’مہلت‘ مل جائے گی: ایران
ایرانی حکومت میں موجود ’معقول لوگوں‘ سے مذاکرات جاری ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ
ڈیڈ لائن کے خاتمے سے قبل ایران کی اہم پیٹروکیمیکل تنصیب پر اسرائیل کا حملہ
اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر جواب تیار کر لیا: ایران
پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف ماجد خادمی کی ہلاکت کی تصدیق
لائیو کوریج
اگر امریکہ نے شہری انفراسٹرکچر پر حملہ کیا تو ایران فیصلہ کن اور بھرپور جواب دے گا: عباس عراقچی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیرِ خارجہ نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ژاں نوئل بارو سے ٹیلیفون پر گفتگو میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے شہری انفراسٹرکچر پر حملہ کیا تو ایران کی طرف سے فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کی یہ دھمکی ’جنگی جرائم اور نسل کشی کو معمول بنانا‘ ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فرانسیسی وزیر خارجہ نے بھی انفراسٹرکچر پر حملے کی دھمکیوں کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دیا اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا۔
ٹرمپ کی ڈیڈ لائن قریب آتے ہی ہنگامی اور آخری کوششوں پر مبنی سفارت کاری میں تیزی آ گئی ہے, بی بی سی نیوز کی لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
صدر ٹرمپ کی سخت اور دھمکی آمیز زبان کو نظرانداز کرنا آسان ہے، لیکن یہ اتنی خطرناک ہے کہ اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اگر ٹرمپ اپنی دھمکیوں پر عمل کرتے ہیں کہ ’ایک بھی پل یا بجلی گھر سلامت نہیں چھوڑیں گے‘، تو اسرائیل بھی ایران کے انفراسٹرکچر پر حملے تیز کر دے گا، اور ایران نے خلیجی ممالک کے خلاف جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
ٹرمپ کی منگل کی ڈیڈ لائن قریب آتے ہی ہنگامی اور آخری لمحوں کی سفارت کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ثالث ایک نئے منصوبے پر کام کر رہے ہیں، جس میں پاکستان اہم کردار ادا کر رہا ہے، تاکہ امریکہ کو اس خطرناک صورتحال سے پیچھے ہٹایا جا سکے۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی جنگ بندی اور جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے کوششوں کی خبر دی ہے۔
ایران کا اس مجوزہ منصوبے پر ردِعمل واضح نہیں ہے۔ ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ ٹرمپ کی ’سرنڈر کی زبان‘ یا ان کی شرائط کو قبول نہیں کرے گا، جنھیں وہ حکم نامے کے طور پر دیکھتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوششیں ٹرمپ کو پیچھے ہٹنے پر آمادہ کر سکیں گی، جیسا کہ وہ مارچ کے آخر میں کر چکے ہیں، تاکہ اس منصوبے اور صدر کو مزید وقت مل سکے؟
ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آیا امریکی فوج ٹرمپ کو ’نہیں‘ کہنے کے لیے تیار ہے، اوباما دور کے مشیر
بین روڈز، جو صدر اوباما کے دور میں امریکہ کے نائب مشیر برائے قومی سلامتی رہے، کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے پر ٹرمپ کا اندازِ حکمرانی ’ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ایک شخص ایک کمرے میں بیٹھ کر فیصلے کر رہا ہو‘۔
اس سے کچھ دیر پہلے انھوں نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ’ٹوڈے‘ میں کہا کہ ٹرمپ سیاسی اور عسکری مشیروں پر انحصار کرتے نظر نہیں آتے اور وہ ’معمول کے طریقہ کار‘ پر نہیں چل رہے ہیں۔
بین روڈز کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، خاص طور پر ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی تازہ ترین وارننگ کے بعد تو یہ واضح ہو گیا ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آیا امریکی فوج ٹرمپ کو ’نہیں‘ کہنے کے لیے تیار ہے۔‘
بین روڈز کے مطابق ٹرمپ کو یہ حقیقت قبول کرنا ہوگی کہ یہ جنگ بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی ختم ہوگی۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ ایران حملوں سے کمزور ہوا ہے، لیکن کچھ پہلوؤں میں وہ مضبوط بھی ہوا ہے۔۔۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے یہ دکھا کر کہ وہ عالمی معیشت پر کس حد تک دباؤ ڈال سکتا ہے۔
پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف ماجد خادمی کی ہلاکت کی تصدیق, غنچہ حبیب زادہ
،تصویر کا ذریعہIranian state media
ایرانی پاسداران انقلاب نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں اس کے انٹیلی جنس چیف مارے گئے ہیں۔
پاسداران انقلاب کے مطابق ماجد خادمی کو پیر کی صبح امریکی اور اسرائیلی فورسز نے نشانہ بنایا۔
ماجد خادمی کو گذشتہ برس جون میں پاسداران انقلاب فورس کا انٹیلی جنس چیف مقرر کیا گیا تھا۔ اُس وقت اس کے سربراہ محمد کاظمی اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔
خادمی نے رواں برس ایران میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کو ہوا دینے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا تھا۔
ٹرمپ کی دھمکیاں ’جنگی جرائم‘ اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہیں: ایرانی نائب وزیر خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایرانی شہری انفراسٹرکچر سے متعلق ٹرمپ کی دھمکیاں ’جنگی جرائم‘ اور اقوامِ متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 2 کی شق چار کی خلاف ورزی ہے۔
نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کا مزید کہنا تھا کہ یہ آرٹیکل اقوام متحدہ کے ارکان کو کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے منع کرتا ہے۔
کاظم غریب آبادی نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا ’فیصلہ کن‘ اور ’فوری‘ جواب دے گا۔
شریف یونیورسٹی پر بنکر شکن بم سے حملہ، صدر ٹرمپ کی ’حماقت‘ ہے: ایران کے اول نائب صدر محمد رضا عارف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے اول نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ تہران کی شریف یونیورسٹی پر بنکر شکن بموں سے حملہ کیا گیا ’جو صدر ٹرمپ کی حماقت کو ظاہر کرتا ہے۔‘
ایکس پر اپنے بیان میں محمد رضا عارف کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ یہ نہیں سمجھتے کہ کنکریٹ تباہ کرنے سے ایرانی علم کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہماری اصل طاقت ہمارے پروفیسرز اور اشرافیہ ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں کسی بھی طرح کی بربریت ایرانیوں سے علم کی طاقت نہیں چھین سکی۔‘
ایرانی حکام نے تصدیق کی تھی کہ اتوار کی شب تہران کی شریف یونیورسٹی پر حملے سے قریبی سٹیشن کو نقصان پہنچا، جس سے مضافاتی علاقوں کو گیس کی فراہمی معطل ہو گئی۔ حملے میں یونیورسٹی کے انفارمیشن ٹیکنالوجی سینٹر اور ایک مسجد کو بھی نقصان پہنچا۔
ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والے ایک اور شخص کو پھانسی دے دی گئی
،تصویر کا ذریعہmizanplus
ایرانی عدلیہ نے اعلان کیا ہے کہ جنوری میں حکومت مخالف مظاہرے کے دوران گرفتار ہونے والے علی فہیم نامی شخص کو پھانسی دے دی گئی ہے۔
پیر کو ایرانی عدلیہ سے منسلک نیوز ایجنسی ’میزان‘ نے بتایا کہ فہیم، امیر حسین حاتمی، محمد امین گلاری اور شاہین واحدی کے ہمراہ شریک ملزم تھے، جنھیں گذشتہ دنوں پھانسی دی گئی۔
علی فہیم پر الزام تھا کہ وہ جنوری میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ملکی سلامتی کے خلاف کارروائیوں میں عملی طور پر ملوث تھے۔ فہیم پر یہ بھی الزام ہے کہ اُنھوں نے ایک فوجی عمارت میں داخل ہو کر اسلحہ اور بارود نکالنے اور عمارت کو آگ لگانے کی کوشش کی۔
’میزان‘ نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی سپریم کورٹ نے بھی علی فہیم کو سزائے موت دینے کی توثیق کی تھی۔
علی فہیم کے ایک قریبی ساتھی کے مطابق واقعے سے متعلق رپورٹس اور ویڈیوز سے پتہ چلتا ہے کہ ان افراد کا عمارت کو آگ لگانے یا اسے تباہ کرنے میں کوئی کردار نہیں تھا۔
اُن کے بقول یہ افراد اُس وقت عمارت میں داخل ہوئے جب اسے پہلے ہی آگ لگائی جا چکی تھی۔
شہباز شریف کی امارات میں میزائل کا ملبہ گرنے سے پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے پر تشویش
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کی خور فکان بندرگاہ پر میزائل کا ملبہ گرنے سے پاکستانی شہریوں سمیت دیگر افراد کے زخمی ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کی دُعا کرتے ہیں اور پاکستانی شہریوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے اماراتی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان متحدہ عرب امارات اور اس کے شہریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ خطے میں کشیدگی ختم ہونی چاہیے۔
خیال رہے کہ اتوار کو اماراتی حکام نے تصدیق کی تھی کہ بندرگاہ پر ہونے والے ڈرون حملے کو ناکام بنانے کے دوران اس کا ملبہ بندرگاہ پر گرا تھا جس سے آگ لگ گئی تھی اور کچھ افراد زخمی ہوئے تھے۔
صدر ٹرمپ کی ایران کو دی گئی نئی ڈیڈ لائن، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے منگل تک دی جانے والی ڈیڈ لائن کے بعد اس کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد تیل کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت پیر کو 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
کیا صدر ٹرمپ جنگی جرائم کی دھمکی دے رہے ہیں؟, ٹام بیٹ مین
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران میں بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس کو اڑانے کی دھمکی بین الاقوامی معاہدوں اور جنگی قوانین کے مطابق ممکنہ جنگی جرائم کے ارتکاب کے خطرے کے مترادف ہو سکتی ہے۔
توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی جان بوجھ کر تباہی شہریوں کی زندگی پر تباہ کن اثر ڈال سکتی ہے۔ یہاں تک کہ ان تنصیبات کو فوجی یا حکومتی مقاصد کے لیے ہی استعمال کیوں نہ کیا جا رہا ہو۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے بانی پراسیکیوٹر لوئس میرینو کہتے ہیں کہ بجلی گھر، توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر حملے جائز اہداف نہیں ہیں، چاہے یہ کسی بھی ملک کی جانب سے کیے جا رہے ہوں۔
اُن کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر شہری املاک پر حملے کرنا، جو فوجی مقاصد کے لیے نہیں ہیں، جنگی جرم ہے۔
صدر ٹرمپ ماضی میں کئی مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ وہ عالمی قوانین کے پابند نہیں ہیں اور وہ خود اپنی سوچ کے مطابق فیصلے لیتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ سے گذشتہ ہفتے ممکنہ جنگی جرائم کے اس مسئلے کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو اُنھوں نے اس خیال کو مسترد کر دیا تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’یقینی طور پر امریکہ کی مسلح افواج ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہ کر کام کریں گی، لیکن آپریشن ایپک فیوری کے مکمل مقاصد کے حصول کے حوالے سے صدر ٹرمپ بلا روک ٹوک آگے بڑھ رہے ہیں اور وہ توقع کرتے ہیں کہ ایرانی حکومت انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ کر لے گی۔‘
فیفا ورلڈ کپ: ایران کا ایک بار پھر اپنے میچز امریکہ سے میکسیکو منتقل کرنے کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہPool/Getty Images
ایران نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ میں اس کی شرکت اس وقت تک غیر یقینی ہے جب تک کہ فیفا اس کے میچز امریکہ سے میکسیکو منتقل نہیں کرتا۔
ایرانی وزیر کھیل احمد دونیا مالی کا کہنا ہے کہ اُنھیں یقین نہیں ہے کہ ایرانی کھلاڑی امریکہ میں محفوظ ہوں گے۔
خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کا امریکہ میں کھیلنا انھیں خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اس بیان کے باوجود فیفا نے ایران کے میچز منتقل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
ایرانی فٹبال ٹیم نیوزی لینڈ، بیلجیم اور مصر کے خلاف کیلیفورنیا اوور سیاٹل میں کھیلے گی۔
امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں شیڈول فیفا ورلڈ کپ کا آغاز 11 جون سے ہو رہا ہے اور یہ 19 جولائی تک جاری رہے گا۔
اسرائیلی شہر حیفہ میں ایرانی حملہ، دو افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہMDA
اسرائیلی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کو حیفہ کی ایک رہائشی عمارت میں ایرانی حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اتوار کو ایران کی جانب سے اسرائیلی شہر حیفہ پر میزائل حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا۔
ایمرجنسی سروس نے جائے وقوعہ کی تصاویر بھی جاری کی تھیں۔
تہران کے مضافاتی شہر بھارستان میں حملہ، 13 افراد ہلاک
تہران کے مضافات میں واقع بَهارِستان کے گورنر نے تصدیق کی ہے کہ پیر کی صبح ہونے والے حملے میں 13 افراد مارے گئے ہیں۔
شہر کے گورنر کے مطابق اس حملے میں ایک رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے اور اندیشہ ہے کہ اب بھی بہت سے افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
فارس نیوز ایجنسی نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ شہر کے قلعہ میر قصبے میں دو رہائشی یونٹوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
تہران کی شریف یونیورسٹی پر حملہ
تہران کے ضلع 9 کے میئر کے مطابق شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی گیس سٹیشن پر پیر کو ہونے والے حملے کے بعد قریبی علاقوں میں گیس کی سپلائی عارضی طور پر منقطع کر دی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حملے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سینٹر کی عمارت اور یونیورسٹی کی مسجد سمیت یونیورسٹی کے کچھ حصوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
پیر کی صبح جاری ہونے والی تصاویر میں تہران کے مغرب کے علاقوں سے دھواں اٹھتا بھی دکھایا گیا ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے تہران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور شاہد بہشتی یونیورسٹی سمیت متعدد یونیورسٹیوں پر حملے کیے گئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہTasnim
ایران کا صدر ٹرمپ کی دھمکی پر ردِعمل، ’ہماری توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا بدلہ لیں گے‘
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اگر ایران کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو ایرانی افواج بھی امریکہ کی اسی طرح کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گی۔
الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں اُن کا کہنا تھا کہ ’کسی ملک کے انفراسٹرکچر اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس ملک کی پوری آبادی کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور یہ ایک طرح سے جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم کے مترادف ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’موجودہ امریکی انتظامیہ کسی منطق اور قانون کو نہیں مانتی اور بنیادی اخلاقیات کے تقاضوں سے عاری ہے۔‘
اس سے قبل ایرانی صدر کے ترجمان مہدی طباطبائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو اسی صورت میں کھولا جائے گا، جب ایران ٹرانزٹ ٹول کا ایک حصہ جنگ سے ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے استعمال نہیں کر لیتا۔
واضح رہے کہ ایران نے یہ عندیہ دے رکھا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرے گا۔
ایران کی سینٹرل ملٹری کمانڈ کے جنرل علی عبداللہ علی آبادی نے کہا کہ ٹرمپ کی دھمکی ایک ’بے بس، اعصاب شکن، غیر متوازن اور احمقانہ اقدام‘ ہے۔
جے شنکر کا ایرانی وزیرِ خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ، ’موجودہ صورتحال پر بات چیت ہوئی ہے‘
انڈین وزیرِ خارجہ جے شنکر نے کہا ہے اُن کا ایرانی وزیر خارجہ جے شنکر سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں جے شنکر کا مزید کہنا تھا کہ اُنھیں ایرانی وزیر خارجہ کی کال موصول ہوئی جس میں موجود صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ تاہم انڈین وزیر خارجہ نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
،تصویر کا ذریعہ@DrSJaishankar
تہران میں پیر کی صبح ہونے والے حملے کے بعد کی تصاویر
،تصویر کا ذریعہvahidonline
،تصویر کا ذریعہvahidonline
ملک بھر میں سنی جانی والی آوازیں میزائلوں اور ڈرونز کو ناکارہ بنانے کی وجہ سے ہیں: اماراتی وزارتِ دفاع کی وضاحت
متحدہ عرب امارات نے پیر کو دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون روکے ہیں۔
ملک کی وزارت دفاع نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ فضائی دفاعی نظام فعال طور پر میزائل اور ڈرون خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے۔
وزارت دفاع نے مزید کہا کہ ملک بھر میں سنی جانے والی آوازیں میزائلوں اور ڈرونز کو ناکارہ بنانے کے آپریشنز کی وجہ سے ہیں۔
برطانیہ کا متعدد ایرانی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہPA Media
برطانوی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ ملک کی رائل ایئر فورس نے ’کئی ایرانی ڈرونز‘ کو مار گرایا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانوی ٹائفون اور F-35 لڑاکا طیارے مشرقی بحیرہ روم، اردن، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے اوپر دفاعی مشن جاری رکھیں گے۔ ان کارروائیوں کو رائل ایئر فورس کے وائجر ٹینکر طیاروں اور رائل نیوی مرلن اور وائلڈ کیٹ ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل ہے۔
برطانوی وزارتِ دفاع نے یہ بھی کہا کہ ’خطے میں اپنے لوگوں کی سکیورٹی کے اقدامات بلند ترین سطح پر ہیں‘ اور برطانیہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر یہاں سرگرم ہے۔
ایران میں انفراسٹرکچر تباہ ہونے سے پہلے اپنی ’مہم جوئی‘ ترک کر دیں: رضا پہلوی کا پاسدارانِ انقلاب سے مطالبہ
،تصویر کا ذریعہShelby Tauber/Bloomberg via Getty Images
ایران کے آخری بادشاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کا انفراسٹرکچر تباہ ہونے سے پہلے ہی اپنی ’مہم جوئی‘ ترک کر دیں اور اقتدار سے الگ ہو جائیں۔
امریکی صدر کی جانب سے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد رضا پہلوی نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ یہ جنگ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈروں کی ’غلط علاقائی پالیسیوں اور پاگل پن‘ کا نتیجہ ہے۔
رضا پہلوی کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کا تختہ اُلٹنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ اُنھوں نے پاسداران انقلاب کے کمانڈرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کو مزید خونریزی میں نہ دھکیلے اور اسے مزید زخم نہ لگائیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہ ملک کے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ رہنے دیں اور اقتدار سے الگ ہو جائیں۔