ایران اور اسرائیل نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اسرائیل اور ایران کے درمیان ’مکمل جنگ بندی ‘ کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا آغاز ’اب سے تقریباً چھ گھنٹے بعد‘ ہو جائے گا جب ہر ملک نے اپنی فوجی کارروائیاں ’ختم‘ کر دیں گے۔ اسرائیل اور ایران نے ابھی تک جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی ہے۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اسرائیل اور ایران کے درمیان 'مکمل جنگ بندی ' کا اعلان کیا ہے۔
  • اسرائیل اور ایران نے ابھی تک جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی ہے۔
  • ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی جانب سے مزید حملے نہ کرنے کا پیغام ان الفاظ میں دیا ’مبارک ہو دنیا، اب امن کا وقت ہے‘۔
  • امریکی صدر نے کہا ہے کہ شاید ایران اب خطے میں امن اور ہم آہنگی کی طرف بڑھ سکتا ہے، اور میں اسرائیل کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دوں گا
  • ایران کا کہنا ہے کہ اس نے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل داغے ہیں۔
  • قطر کی حکومت نے العدید میں قائم امریکی فضائی اڈے پر ایرانی کی جانب سے کیے جانے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. اسرائیل فوج کا مغربی ایران میں میزائل لانچرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی فضائیہ نے مغربی ایران میں ’فوجی اہداف‘ کو نشانہ بنانے کی نئی مہم کا آغاز کیا ہے۔

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایرانی حدود میں میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا ہے۔

    یہ حملے اسرائیلی فوج کے اس اعلان کے بعد شروع ہوئے جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی حدود سے اسرائیل کی جانب میزائیل داغے گئے ہیں۔

  2. ایران نے اسرائیل میں بین گیورن ایئر پورٹ کو نشانہ بنایا ہے: ایرانی سرکاری میڈیا

    israel

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنتل ابیب میں ایک تباہ حال عمارت کے مناظر

    ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران نے اسرائیل میں بین گیورن ایئر پورٹ کو نشانہ بنایا ہے۔ دیگر اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں سپورٹ بیسز، کمانڈ اور کنٹرول سینٹرز اور بائیولاجیکل ریسرچ سینٹرز بھی شامل ہیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق یہ حملے لانگ رینج میزائلوں کی مدد سے کیے گئے۔

  3. ایرانی میزائل حملے سے متاثرہ ملک کے متعدد علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی فوج کی جانب سے اب سے کچھ دیر قبل تازہ ترین اپ ڈیٹ جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں سے اب لوگ شیلٹرز اور پناہ گاہوں سے نکل سکتے ہیں۔

    آئی ڈی ایف کا مزید کہنا ہے کہ ریسکیو فورسز ملک کے متعدد علاقوں میں سرگرم عمل ہیں جہاں سے یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ وہاں میزائل گرے ہیں۔

  4. ایرانی جوہری تنصیبات کے گرد تابکاری کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی: آئی اے ای اے

    جوہری توانائی اور یورینیم افزودگی کے عالمی نگران ادارے آئی اے ای اے نے اب سے کچھ دیر قبل ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران میں جوہری تنصیبات کے گرد ’تابکاری کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی‘۔

    ادارے کا مزید کہنا ہے کہ ’آئی اے ای اے کی جانب سے اس بارے میں مزید تجزیہ تب کیا جائے گا جب صورتحال کے حوالے سے مزید معلومات دستیاب ہوتی ہیں۔‘

  5. امریکہ کا ایران پر حملہ: اب تک کی تازہ ترین صورتحال کا خلاصہ!

    ،ویڈیو کیپشنصدر ٹرمپ کا قوم سے خطاب

    اگر آپ ہمارے لائیو پیج پر ابھی تشریف لائے ہیں تو اب تک کی تازہ ترین صورتحال کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔

    • امریکہ کی جانب سے ایران کی تین جوہری تنصیبات نطنز، اصفہان اور فردو پر حملے کیے گئے ہیں۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں اس آپریشن کو ’بہترین فوجی کامیابی‘ قرار دیا ہے اور تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوری طور پر امن قائم کرے ورنہ اسے اس سے بھی زیادہ بڑے حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    • اطلاعات کے مطابق امریکہ کی جانب سے ان حملوں میں بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے تھے جنھیں بی 2 سٹریٹیجک سٹیلتھ بمبار طیاروں کی مدد سے اہداف پر داغا گیا۔ اس حوالے سے تفصیلات اتوار کی شام تک پینٹاگون کی بریفنگ میں سامنے آئیں گی۔
    • ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے یہ تصدیق تو کی گئی ہے کہ فردو کے ایک حصے پر ’دشمن نے حملہ‘ کیا لیکن وہ تباہی کی خبروں کی غیر مصدقہ قرار دے رہے ہیں۔
    • تہران کی جانب سے ان حملوں سے قبل خبردار کیا گیا تھا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔ تاہم اب تک اس کی جانب سے صرف اسرائیل پر ہی مزید میزائل داغے گئے ہیں۔
    • اسرائیل کی جانب سے امریکہ کی جانب سے اس جنگ میں مداخلت کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ یہ ’دلیر فیصلہ تاریخ کا دھارا بدل دے گا۔‘
    • امریکہ میں رکنِ پارلیمان کی جانب سے اس بارے میں متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ رپبلیکنز نے ٹرمپ کی تعریف کی ہے جبکہ ڈیموکریٹس نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کو ایک ’نہ ختم ہونے والی‘ جنگ میں گھسیٹا جا رہا ہے۔

    اس لائیو کوریج میں ہم آپ کو مشرقِ وسطیٰ اور دنیا بھر میں اپنے نامہ نگاروں کی جانب سے فراہم کی گئی اپ ڈیٹس سے آگاہ کر رہے ہیں، ہمارے ساتھ رہیے۔

  6. ایران کے اسرائیل پر میزائل حملوں کے بعد اردن میں بھی سائرن کی آوازیں

    عرب ملک اردن کے دارالحکومت عمان میں صبح سے دو مرتبہ سائرن کی آوازیں سنائی دی ہیں جس سے ایران کے اسرائیل پر میزائل حملوں کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔

    ان میزائلوں کا ہدف اردن نہیں ہے لیکن اردن کی ایئرفورس نے گذشتہ دنوں میں ایسے میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کے لیے کارروائی کی ہے جن کے بارے میں یہ اندیشہ تھا کہ وہ اردن کی حدود میں گر سکتے ہیں۔

    پورے مشرقِ وسطیٰ میں پروازوں کی منسوخی کے علاوہ یہ بھی اس بات کی علامت ہے کہ یہ تنازع پورے مشرقِ وسطیٰ کو کیسے متاثر کرتا ہے۔

  7. بریکنگ, ایران نے اسرائیل پر متعدد میزائل داغے ہیں: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی فوج کے مطابق ایران نے اسرائیل پر متعدد میزائل داغے ہیں جس کے یروشلم میں ہمارے نامہ نگار کے مطابق تل ابیب میں سائرن اور متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

  8. امریکہ نے ایران پر شرمناک حملہ کیا، اپنی خودمختاری اور عوام کے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں: ایرانی وزیرِ خارجہ

    abbas

    ،تصویر کا ذریعہX

    امریکی حملوں پر اپنے ابتدائی ردعمل میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انھیں ’اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری، مفادات اور عوام کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا نیٹ ورک ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کی دفعات جو اپنے دفاع کے لیے جائز ردعمل کی اجازت دیتی ہیں، ایران اپنی خودمختاری، مفادات اور عوام کے دفاع کے لیے تمام اختیارات محفوظ رکھتا ہے۔‘

    عراقچی نے اس حملے کو ’شرمناک‘ قرار دیا جس کے ’نہ ختم ہونے والے نتائج‘ ہوں گے۔ اقوامِ متحدہ کے تمام اراکین کو اس انتہائی خطرناک، لاقانونیت پر مبنی اور مجرمانہ رویہ پر گھبرانا چاہیے۔

  9. فردو کے داخلی اور خارجی راستے پر صرف دو سرنگوں کو ہی نقصان پہنچا ہے: ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ

    دھوکہ! یہ وہ لفظ ہے جو ایران کے سرکاری ٹی وی پر گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران بہت زیادہ استعمال ہوا ہے۔

    ایران کے سرکاری ٹی وی پر ایک میزبان نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ فردو جوہری تنصیب کو تباہ کرنے کے حوالے سے ’چکمہ‘ دے رہے ہیں اور ان کے جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ فردو کے داخلی اور خارجی راستے پر صرف دو سرنگوں کو ہی نقصان پہنچا ہے۔

    ایرانی حکام کی جانب سے ان حملوں کے بعد سے ہی ان کو غیراہم قرار دینے کی کوشش کی جاتی رہی اور کہا گیا کہ یہ ’غیر مصدقہ‘ خبریں ہیں۔

    صوبہ قم کے کرائسز مینجمنٹ کے ترجمان مرتضیٰ حیدری نے فردو کے ایک ’حصے‘ پر حملے کی تصدیق کی تھی نے بعد میں کہا کہ پورا صوبہ ’بالکل پرامن‘ ہے۔

    ایرانی خبررساں اداروں نے یہ بھی کہا کہ دھماکے ’اتنے بھی زوردار نہیں تھے۔‘

    یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران میں انٹرنیٹ تک رسائی محدود ہے، جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ’دشمن کی جانب سے سائبر حملوں کا خطرہ ہے۔‘

    اس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی بی بی سی کو موصول ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں کمی آئی ہے جس کے باعث معلومات تک رسائی کے لیے ہمیں ایرانی سرکاری میڈیا پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

  10. ’امن قائم کرنے والے‘ صدر کو سیاسی نقصانات کا خطرہ, انتھونی زرچر، نامہ نگار شمالی امریکہ

    امریکہ کی جانب سے ایران پر کسی بھی ممکنہ حملے سے قبل نہ صرف ڈیموکریٹس بلکہ امریکہ کی اپنی ’امریکہ فرسٹ‘ تحریک کی جانب سے تنقید کی جا رہی تھی۔

    صدر کی جانب سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنے تینوں قریبی مشیروں کو اپنے پیچھے کھڑے کرنے کا غیر معمولی فیصلہ ممکنہ طور پر اپنی جماعت میں اتحاد پیدا کرنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس خاص طور پر امریکی خارجہ پالیسی کو محدود کرنے کے حوالے سے بیانات دیتے رہے ہیں، حال ہی میں انھوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ٹرمپ اب بھی دوسرے ممالک کے امور میں مداخلت پر یقین نہیں رکھتے اور ان کے حامیوں کو ان کی حمایت کرنی چاہیے۔

    اگر یہ امریکہ کا ایران پر واحد حملہ ہے تو اس صورت میں ٹرمپ اپنے حامیوں میں موجود خدشات کو دور کر پائیں گے۔ لیکن اگر اس سے امریکہ کو ایک بڑے تنازع کا حصہ بننا پڑا تو صدر اپنے حامیوں کو ہی اپنے خلاف کھڑا پائیں گے۔

    سنیچر کا حملہ ایک ایسے صدر کی جانب سے ایک جارحانہ عمل تھا جو یہ فخر سے کہتے رہے ہیں کہ انھوں نے اپنے پہلے دورِ اقتدار میں کوئی نئی جنگیں شروع نہیں کیں اور ماضی کے صدور کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں کہ انھوں نے ملک کو مختلف عالمی تنازعات میں دھکیلا۔

  11. امریکہ کے حریفوں کے لیے ایران پر کیے گئے حملوں میں کیا سبق ہے؟

    trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    شمالی کوریا کے رہنما اس وقت اپنے آپ کو شاباش دے رہے ہوں گے۔

    صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ اقتدار میں جب شمالی کوریا نے امریکہ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے بین البراعظمی میزائلوں کا تجربہ کیا تھا تو ٹرمپ نے شمالی کوریا کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بارے میں سوچا تھا۔ لیکن بالآخر واشنگٹن نے سفارتکاری کو فوجی حملوں پر فوقیت دی تھی۔

    اس وقت امریکہ کے پالیسی حلقوں میں یہ ادراک ہو گیا تھا کہ امریکہ کسی ایسے ملک پر حملہ کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہوں۔

    ایران نے سنہ 2015 میں امریکہ اور یورپ کے ساتھ معاہدے کے تحت افزودہ یورینیم کو ضائع کرنے کی بات کی تھی۔ ادھر ٹرمپ کی انٹیلیجنس سربراہ تلسی گبارڈ نے مارچ میں کہا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا ہے۔

    تاہم آج کے حملوں کے بعد امریکہ کے دشمن یہی سوچیں گے کہ شمالی کوریا کے فیصلے درست تھے۔

  12. ایران پر امریکی حملے کے دوران وائٹ ہاؤس سچویشن روم کے مناظر

    trump

    ،تصویر کا ذریعہWhite House

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کے دوران سچویشن روم کی تصاویر جاری کی گئی ہیں۔

    rubio

    ،تصویر کا ذریعہWhite House

    vp

    ،تصویر کا ذریعہWhite House

    white house

    ،تصویر کا ذریعہWhite House

    situation room

    ،تصویر کا ذریعہWhite House

  13. امریکی صدر کا ایران کو پیغام: ’مذاکرات کی میز پر آئیں ورنہ مزید حملے کیے جائیں گے‘, برنڈ ڈبوسمین جونیئر، واشنگٹن ڈی سی

    trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ٹرمپ کا ایران کے لیے پیغام بہت سادہ، مختصر اور براہ راست ہے: مذاکرات کی میز پر آئیں ورنہ مزید حملے کیے جائیں گے۔

    انھوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو مستقبل میں حملے اس سے بھی زیادہ خوفناک اور تباہ کن ہوں گے اور بہت آسان بھی۔‘

    ان حملوں سے قبل کم از کم عوامی طور پر ٹرمپ نے مسلسل مذاکرات پر زور دیا ہے۔

    اب بھی وہ یہ راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ وہ یہ دھمکی بھی دے رہے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی رہنماؤں پر مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’یا تو امن ہو گا یا پھر ایک ایسا سانحہ جو اس سے بہت بڑا ہو گا جو گذشتہ آٹھ روز کے دوران ایران دیکھ چکا ہے۔‘

    اہم بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے تہران میں رجیم چینج کے امکان کے بارے میں بات نہیں کی، انھوں نے یہ واضح کیا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ اس کا آپریشن مکمل ہو چکا ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب ایران مذاکرات کی میز پر آئے۔

    امریکہ کی جانب سے خطے میں اپنے فوجی اثاثے بھیجے گئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ فوری طور پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اگر امریکی صدر ایسا چاہیں۔

  14. اگر یہ تنازع ہمارے کنٹرول میں نہ رہا تو عام شہریوں، خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے: سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ

    antonio

    ،تصویر کا ذریعہX

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کو ’خطرناک پیش رفت‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ’خطرہ یہ ہے کہ اگر یہ تنازع ہاتھ سے نکل گیا تو اس کے عام شہریوں، خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے۔‘ انھوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’اس انتہائی نازک موڑ پر یہ ضروری ہے کہ صورتحال افراتفری کی جانب ناں بڑھے۔ اس کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، واحد حل سفارت کاری ہے اور واحد امید امن ہے۔‘

  15. اسرائیل اور امریکہ نے ایک ٹیم کی طرح کام کیا: ڈونلڈ ٹرمپ

    ٹرمپ نے قوم سے خطاب جو چار منٹ تک جاری رہا میں یہ بھی کہا کہ ایران کے سابق فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی جانب سے ہزاروں افراد کو ہلاک کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے بہت عرصہ پہلے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں ایسا نہیں ہونے دوں گا، ایسا مزید نہیں چل سکتا۔‘

    انھوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایک ’ٹیم‘ کی طرح کام کیا اور ’اسرائیل کے لیے بدترین خطرے‘ کو مٹا دیا۔

  16. ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں میں ہمیں بہترین کامیابی ملی، ایران کو ہر صورت امن قائم کرنا ہو گا: ڈونلڈ ٹرمپ

    trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر امریکہ کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد قوم سے خطاب کیا گیا ہے۔

    انھوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’ایران کو اب ہر صورت میں امن کا آپشن چننا ہو گا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو مستقبل میں مزید حملے کیے جائیں گے جو اس سے بہت زیادہ بڑے لیکن بہت آسان ہوں گے۔‘

    ٹرمپ نے اپنے مختصر خطاب کے دوران تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے ایران میں فردو، نطنز اور اصفہان میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’سب نے ان (تنصیبات) کے نام سالوں سے سن رکھے تھے جب وہ (ایران) یہ بدترین تنصیبات بنا رہا تھا۔ آج رات میں دنیا کو یہ بتا سکتا ہوں کہ ان حملوں میں ہمیں بہترین کامیابی ملی۔‘

    ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ’اب یا تو امن قائم ہو گا یا ایران کے لیے ایک ایسا سانحہ ہو گا جو گذشتہ آٹھ دنوں سے بہت بڑا ہو گا۔ یاد رکھیں کہ ابھی بہت سارے اہداف ایسے ہیں جنھیں نشانہ نہیں بنایا گیا۔ آج رات ہم نے سب سے مشکل ہدف کو نشانہ بنایا۔ لیکن اگر امن قائم نہیں ہوتا تو ہم دیگر اہداف کو درستگی، رفتار اور کامیابی سے نشانہ بنائیں گے۔‘

  17. اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے میں ’امریکہ کی مکمل معاونت کی‘: اسرائیلی اہلکار

    خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک اسرائیلی اہلکار نے اسرائیل کے سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے میں ’امریکہ کی مکمل معاونت کی‘

  18. ٹرمپ کے ایران پر حملے کے فیصلے پر امریکی قانون سازوں کا ردعمل

    اب ہمیں ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں کے اچانک اعلان پر امریکی قانون سازوں کی جانب سے کچھ ابتدائی رد عمل مل رہا ہے۔

    جنوبی کیرولائنا کے سینیٹر لنڈسے گراہم نے ٹرمپ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے صحیح فیصلہ کیا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت اس کی ہی مستحق ہے۔

    ریپبلکن سینیٹر راجر ویکر نے بھی اس بات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے درپیش ’خطرے‘ کو ختم کرنے کے لیے ’درست‘ فیصلہ کیا۔

    تاہم کچھ لوگوں کی جانب سے تنقید بھی کی جا رہی ہے اور کینٹکی سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر تھامس میسی کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک غیر آئینی عمل ہے۔‘

    کیلی فورنیا میں ڈیموکریٹک پارٹی کی نمائندہ سارہ جیکبز کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایک ایسا اضافہ ہے جس سے امریکہ کو ایک اور نہ ختم ہونے والی اور مہلک جنگ میں دھکیلنے کا خطرہ ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ٹرمپ کے ’ٹروتھ سوشل‘ اعلان کو دوبارہ پوسٹ کیا ہے لیکن انھوں نے ابھی تک ان حملوں پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  19. ایرانی حکام کی فردو سمیت تمام تین جوہری تنصیبات پر حملے کی تصدیق

    امریکہ کی جانب سے ایران میں فردو پر حملے کے بعد ایک ایرانی عہدیدار کی جانب سے سرکاری طور پر اس حملے کی تصدیق کی گئی ہے۔

    تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، قم صوبے کے کرائسس مینجمنٹ کے ترجمان مرتضی حیدری کا کہنا ہے کہ ’فردو نیوکلیئر سائٹ کے علاقے کے ایک حصے پر فضائی حملہ کیا گیا۔‘

    یہ وہی نیوکلیئر سائٹ ہے کہ جس کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل نیٹ ورک سوشل ٹروتھ پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’فردو تباہ ہو گیا ہے۔‘

    دوسری جانب اصفہان کے سکیورٹی ڈپٹی گورنر اکبر صالحی نے حال ہی میں کہا ہے کہ ’نطنز اور اصفہان میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ہم نے اصفہان اور نطنز کے جوہری مقامات کے قریب حملے دیکھے۔‘

    ٹرمپ کی جانب سے جن تینوں فضائی حملوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کی تصدیق ایرانی حکام نے بھی کر دی ہے۔

  20. امریکہ کی جانب سے جن جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا انھیں پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا: ایرانی سرکاری ٹی وی کا دعویٰ

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے ڈپٹی پولیٹیکل ڈائریکٹر حسن عابدینی ابھی سرکاری ٹی وی پر براہ راست نظر آئے اُن کا کہنا تھا کہ ’ایران نے کچھ عرصہ قبل ان تین جوہری تنصیبات کو خالی کرا لیا تھا۔ جنھیں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب امریکہ کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ کی بات سچ بھی ہے تو ایران کو ’کوئی بڑا دھچکا نہیں لگا کیونکہ مواد پہلے ہی ان مقامات سے نکال لیا گیا تھا۔‘

    حسن عابدینی کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے کہ جس میں اُن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ امریکی فوج نے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر حملے مکمل کر لیے ہیں جن میں فورڈو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں۔