دھوکہ! یہ وہ لفظ ہے جو ایران کے سرکاری ٹی وی پر گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران بہت زیادہ استعمال ہوا ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی پر ایک میزبان نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ فردو جوہری تنصیب کو تباہ کرنے کے حوالے سے ’چکمہ‘ دے رہے ہیں اور ان کے جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ فردو کے داخلی اور خارجی راستے پر صرف دو سرنگوں کو ہی نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے ان حملوں کے بعد سے ہی ان کو غیراہم قرار دینے کی کوشش کی جاتی رہی اور کہا گیا کہ یہ ’غیر مصدقہ‘ خبریں ہیں۔
صوبہ قم کے کرائسز مینجمنٹ کے ترجمان مرتضیٰ حیدری نے فردو کے ایک ’حصے‘ پر حملے کی تصدیق کی تھی نے بعد میں کہا کہ پورا صوبہ ’بالکل پرامن‘ ہے۔
ایرانی خبررساں اداروں نے یہ بھی کہا کہ دھماکے ’اتنے بھی زوردار نہیں تھے۔‘
یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران میں انٹرنیٹ تک رسائی محدود ہے، جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ’دشمن کی جانب سے سائبر حملوں کا خطرہ ہے۔‘
اس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی بی بی سی کو موصول ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں کمی آئی ہے جس کے باعث معلومات تک رسائی کے لیے ہمیں ایرانی سرکاری میڈیا پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔