ایران اور اسرائیل نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اسرائیل اور ایران کے درمیان ’مکمل جنگ بندی ‘ کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا آغاز ’اب سے تقریباً چھ گھنٹے بعد‘ ہو جائے گا جب ہر ملک نے اپنی فوجی کارروائیاں ’ختم‘ کر دیں گے۔ اسرائیل اور ایران نے ابھی تک جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی ہے۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اسرائیل اور ایران کے درمیان 'مکمل جنگ بندی ' کا اعلان کیا ہے۔
  • اسرائیل اور ایران نے ابھی تک جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی ہے۔
  • ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی جانب سے مزید حملے نہ کرنے کا پیغام ان الفاظ میں دیا ’مبارک ہو دنیا، اب امن کا وقت ہے‘۔
  • امریکی صدر نے کہا ہے کہ شاید ایران اب خطے میں امن اور ہم آہنگی کی طرف بڑھ سکتا ہے، اور میں اسرائیل کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دوں گا
  • ایران کا کہنا ہے کہ اس نے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل داغے ہیں۔
  • قطر کی حکومت نے العدید میں قائم امریکی فضائی اڈے پر ایرانی کی جانب سے کیے جانے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ایران میں ’رجیم چینج کیوں نہیں ہو گی؟‘: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہCarlos Barria/Reuters/Bloomberg via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ رجیم چینج' کی اصطلاح استعمال کرنا سیاسی طور پر درست نہیں ہے لیکن اگر ایران کی موجودہ حکومت اپنے ملک کو دوبارہ عظیم نہیں بنا پا رہی تو رجیم چینج کیوں نہیں ہو گی۔

    اس سے قبل امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے اتوار کے روز پینٹاگون میں امریکی حملوں کے متعلق بریفنگ کے بعد امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے سوال کیا گیا کہ کیا ایران پر حملے کا مقصد وہاں حکومت کی تبدیلی تھا۔

    پیٹ ہیگسیتھ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس مشن کا مقصد ایران میں رجیم چینج نہ تھا اور نہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایرانی جوہری پروگرام سے امریکہ کی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے ایک آپریشن کی منظوری دی تھی۔

  2. بریکنگ, ایرانی شہر کرج میں دھماکوں اور فضائی حملوں کی اطلاعات، ایران کا اسرائیل کے خلاف میزائیل حملوں کا دعویٰ

    حملے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج کی جانب سے ایران کے دارالحکومت تہران اور غزنی کے علاقوں پر نئے فضائی حملوں کے اعلان کیا گیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق اس اعلان کے بعد کئی شہریوں نے اتوار کی شام کرج میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاع دی ہے۔

    ادھرایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اتوار کی شام اسرائیل کے خلاف میزائل حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔

  3. پوری دنیا کو ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں پر امریکہ کا شکر گزار ہونا چاہیے: اسرائیلی مندوب

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسرائیلی سفیرنے خطاب کے دوران کہا ہے کہ امریکہ نے کل رات تاریخ کا دھارا بدل دیا ہے، پوری دنیا کو ایران کی جوہری تنصیبات پر کل رات کے حملوں پر امریکہ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔

    اجلاس میں اسرائیلی نمائندے نے امریکی حملوں کی مذمت کرنے والے ممالک (چین اور روس کا نام لیے بغیر) کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس وقت کہاں تھے جب ایران اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھا رہا تھا۔

    انھوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں نتائج حاصل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ایک جوہری ایران نہ صرف ہمارے (اسرائیل) بلکہ پوری دنیا کے لیے موت کی سزا جیسا ہوگا۔‘

  4. بریکنگ, ’امریکی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا جس کے وقت اور نوعیت کا تعین ایرانی افواج کریں گی‘

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ایرانی مندوب

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ایران پر امریکی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا جس کے وقت اور نوعیت کا فیصلہ ایرانی افواج کریں گی۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ایران کے مستقل مندوب نے امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا ہے کہ ایران کو اپنی خودمختاری کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور ان حملوں کا بھرپور اور متناسب جواب دیا جائے گا۔

    ایرانی نمائندے نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ نے ’من گھڑت اور مضحکہ خیز بہانے کے تحت‘ ایران کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے۔

    ایرانی مندوب نے خطاب میں واضح کیا کہ ایران پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد اور سیاسی محرکات سے بھرپور ہیں، ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

    ایرانی مندوب نے الزام عائد کیا کہ ایران پر حملے نیتن یاہو کو بچانے کی کوشش ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے خبردار کیا کہ اس دوران امریکہ نے خود اپنی سکیورٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو متعدد بار متنبہ کیا تھا کہ ایران کے خلاف جارحیت خطرناک نتائج لائے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے اقدامات سےعالمی امن خطرے میں پڑ چکا ہے،امریکہ کی سیاسی تاریخ پر داغ لگ گیا ہے۔ ایرانی مندوب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل اس جارحیت پر موثر اور غیر جانبدارانہ کارروائی کرے ورنہ نتائج پوری دنیا بھگتے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اپنے دفاع سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’بین الاقوامی تنظیموں اور فرانس اور برطانیہ سمیت کچھ مغربی ممالک کی خاموشی، دوہرا معیار اور اس میں ملوث ہونا یکساں طور پر قابل مذمت ہے۔‘

    ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملہ نتہائی خطرناک عمل ہے: عراقی مندوب

    سلامتی کونسل کے اجلاس میں عراقی نمائندے نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کو اقوام متحدہ کے معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اس جوہری پروگرام کی مخالفت یا مخالفت سے قطع نظر اس طرح کی اختراع اور طریقہ کار کا آغاز ایک انتہائی خطرناک عمل ہے، جس میں ایٹمی رساو اور آلودگی کا خطرہ بھی شامل اور اس تابکار مواد سے ایران کے پڑوسی ممالک بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

    عراقی سفیر نے جنگ اور اس کے نتائج کی وجہ سے ان کے ملک کو پہنچنے والے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ اسرائیل کی جنگ جاری رہنے سے علاقائی معیشت کو شدید دھچکا لگے گا۔

    عراقی سفیر نے اسرائیل اور ایران کے درمیان فوجی حملوں کے لیے ملک کی فضائی حدود کی بار بار خلاف ورزیوں کی طرف بھی اشارہ کیا اور اس کی مذمت کی۔

  5. ایران پر امریکی حملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس، خطے کے عوام مزید تباہی کے متحمل نہیں ہوسکتے: انتونیو گوتیرس

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ خطے کے عوام مزید تباہی کے متحمل نہیں ہوسکتے، جنگ روک دی جائے۔

    ایران کی صورتحال پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں۔

    ایران کی صورتحال پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں کونسل اراکین نے کشیدگی سے آگاہ کیا تھا، پاکستان نے یواین چارٹر کے مطابق اصولی مؤقف اپنایا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں، چاہتے ہے کہ تنازع کا پر امن حل نکالا جائے۔

    یاد رہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔

    سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ایران کی درخواست پر بلایا گیا جبکہ پاکستان نے اس درخواست کی حمایت کی تھی۔

  6. بریکنگ, اسرائیل کا تہران اور ایران کے مغربی حصوں میں مزید حملوں کا اعلان

    اسرائیلی افواج نے تہران سمیت ایران کے مغربی حصوں میں مزید حملوں کا اعلان کیا ہے۔

    آئی ڈی ایف نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ وہ اس وقت ایران میں اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    عبرانی زبان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی ایک پوسٹ میں آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ اس کی فضائیہ تہران اور مغربی ایران میں ’فوجی ڈھانچے‘ کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران، شمال مغربی تبریز اور وسطی یزد میں فضائی دفاع کو فعال کر دیا گیا ہے۔

    پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ صوبہ یزد میں دو فوجی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں پاسداران انقلاب کے سات ارکان اور دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

  7. جوابی کارروائی ابھی، بعد میں یا کبھی نہیں: ایران کا اگلا قدم کیا ہو سکتا ہے, فرینک گارڈنر، سکیورٹی نامہ نگار

    ایران نے اپنی تین جوہری تنصیبات پر رات گئے امریکی فضائی حملوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایسے اقدامات کا عندیہ دیا ہے جو اس کے بقول ’دائمی نتائج‘ہوں گے۔

    لیکن الفاظ سے بالاتر ہو کر ایران کی سکیورٹی اور انٹیلی جنس اسٹیبلشمنٹ کے اندر اعلیٰ ترین سطح پر بات چیت ہو رہی ہے۔

    کیا انھیں امریکی مفادات کے خلاف انتقامی کارروائی کے ذریعے تنازعے کو بڑھاوا دینا چاہیے، یا جیسا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کریں جس کا عملی طور پر مطلب یہ ہے کہ ایران کے اندر تمام جوہری افزودگی ترک کر دی جائے؟

    یہ اندرونی بحث ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب بہت سے سینیئر ایرانی کمانڈر چوکنے رہ کر سوچ رہے ہوں گے کہ آیا وہ اسرائیل کے فضائی حملے کا اگلا نشانہ بننے والے ہیں یا کمرے میں موجود کوئی شخص پہلے ہی اسرائیل کی غیر ملکی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ مل کر انھیں دھوکہ دے چکا ہے۔

    وسیع پیمانے پر بات کریں تو اس وقت ایران کے لیے تین مختلف سٹریٹجک راستے کھلے ہیں: فوری جوابی کارروائی، بعد میں، یا کبھی نہیں۔

    ان میں سے کوئی بھی خطرے سے خالی نہیں ہے، اور فیصلہ کرنے والوں کے ذہنوں میں اولین ترجیح اسلامی جمہوریہ کی حکومت کی بقا ہوگی۔

  8. امریکہ کی سہولت کاری کرنے والے ممالک ایران کا جائز ہدف ہوں گے: آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک سینیئر مشیر, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک سینئر مشیر نے کہا ہے کہ امریکی حملوں کے تناظر میں خطے میں امریکہ اور اس کے اڈوں کی موجودگی کے لیے اب کوئی جگہ نہیں رہے گی۔

    علی اکبر ولایتی نے مزید کہا کہ ’اگر دیگر ممالک امریکی اقدامات میں سہولت کاری کرتے ہیں تو وہ ایران کے لیے ’جائز ہدف‘ بن جائیں گے۔‘

    ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی نے بھی امریکی حملوں کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران نے ’ان مقامات کی نشاندہی کر لی ہے جہاں سے یہ حملہ ہوا تھا‘۔

    انھوں نے مزید کہا کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے ’طاقت نہیں ہے‘ لیکن اس سے ’ان کی کمزوری میں اضافہ ہوتا ہے‘۔ خطے میں امریکہ کے عراق، متحدہ عرب امارات، قطر، سعودی عرب، بحرین، کویت، اردن اور شام میں فوجی اڈے موجود ہیں۔

    ایران اس سے قبل بھی خطے میں امریکی اڈے پر براہ راست حملہ کر چکا ہے۔

    یاد رہے کہ 2020 میں ایران نے عراق میں امریکی افواج کے فضائی اڈوں پر بیلسٹک میزائل حملہ کیا تھا جس کا جواب امریکہ کی جانب سے پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر کے دیا گیا تھا۔

  9. ہم نے ایران کے ہاتھوں سے بم چھین لیا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکہ کہ صدر  ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک طویل پیغام پوسٹ کیا ہے، جس میں رپبلکن کانگریس کے رکن تھامس میسی کو نشانہ بنایا گیا ہے، جنہوں نے ایران پر امریکی حملوں کو ’غیر آئینی‘ قرار دیا تھا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ’ہم نے گذشتہ روز ایک شاندار فوجی کامیابی حاصل کی، ’بم‘ ان کے ہاتھوں سے چھین لیا (اور اگر وہ کر سکتے تو وہ اسے استعمال ضرور کرتے)‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لیکن، ہمیشہ کی طرح اور تمام تر تعریفوں کے باوجود، یہ ’سطحی‘ کانگریس اہلکار اس کے خلاف ہے جو ہم نے گذشتہ رات ایران میں بہت شاندار طریقے سے حاصل کیا۔‘ امریکی صدر نے کہا ’ہماری لاجواب فوج کا شکریہ کہ انھوں نے گذشتہ رات حیرت انگیز کام کیا۔ یہ واقعی خاص تھا۔‘

  10. بریکنگ, امریکہ کو اس کی جارحیت کا جواب ملنا چاہیے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    مسعود پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں سے ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد کہا ہے کہ ’امریکہ کو جارحیت کا جواب ملنا چاہیے‘۔

    ایرانی ایوان صدر کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے ایک بیان میں پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو ’عسکری جارحیت کا نشانہ بنایا گیا ہے‘ اور اس نے ’ثابت قدمی سے اپنا دفاع‘ کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہم بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن دوسرے فریق نے منطق کو قبول کرنے کے بجائے ایرانی قوم سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔‘

    پزشکیان نے مزید کہا ’ہماری قوم کبھی بھی غنڈہ گردی اور جبر کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گی اور یہ فطری ہے کہ وہ جارحیت کا مناسب جواب دیں گے۔ ‘

  11. اسرائیل کے بعد امریکہ کے بھی ایران پر حملے: فریقین امن اور سفارت کاری کا راستہ اپنائیں، آصف علی زرداری

    آصف علی زرداری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    پاکستان کے صدر کا کہنا ہے کہ ’مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال بے قابو ہو سکتی ہے، لاکھوں معصوم جانوں کو خطرہ ہے۔‘

    صدر آصف علی زرداری نے فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

    پاکستان کے صدر نے کہا کہ ’فریقین کو پرامن راستہ، مکالمہ اور سفارت کاری اپنانےکی ضرورت ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے مکالمہ ضروری ہے۔ عالمی برادری بحران کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔‘

    صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ’خطے کے استحکام اور عوام کی بھلائی کے لیے عالمی کوششیں ناگزیر ہیں۔‘

  12. ایران کے وسطی صوبے پر حملے میں پاسداران انقلاب کے سات اہلکاروں سمیت نو افراد ہلاک, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایران کے صوبے یزد میں پاسداران انقلاب کے یونٹ کے مطابق آج ہونے والے حملوں میں نو افراد ہلاک ہوئے جن میں سات پاسداران انقلاب کے ارکان تھے۔

    پاسداران انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ان حملوں میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے ٹیلی گرام پر خبر دی ہے کہ اس سے قبل پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے اسرائیل نے صوبے میں دو فوجی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے 13 جون سے اب تک پاسداران انقلاب کے متعدد سینئر ارکان کو ہلاک کیا ہے جن میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر ان چیف حسین سلامی، ایرو سپیس فورس کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ اور پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس یونٹ کے سربراہ محمد کاظمی شامل ہیں۔

  13. ایران مشرقِ وسطیٰ کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مزید کوئی قدم نہ اٹھائے: جرمنی، برطانیہ اور فرانس

    صدور

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مزید کوئی قدم نہ اٹھائے۔

    ایک مشترکہ بیان میں برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ وہ ’مسلسل واضح رہے ہیں کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا‘ اور وہ اسرائیل کی سلامتی کی حمایت کرتے ہیں۔

    بیان میں امریکی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ہمارا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔‘

    ان رہنماؤں نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کے لیے ’مذاکرات میں شامل ہو‘ جو ’اس کے جوہری پروگرام سے وابستہ تمام خدشات کو دور کرے‘۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’ہم تمام فریقین کے ساتھ مل کر اس مقصد میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہیں۔‘

  14. امریکی حملوں میں 11 افراد زخمی ہوئے : ایرانی ہلال احمر

    ایران میں ہلال احمر کا کہنا ہے کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے دوران 11 افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں اور ان میں سے سات کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جن جوہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے ان میں تابکاری کے کوئی اثرات نہیں ملے۔

    ایران کے ہلال احمر کے سربراہ پیر حسین کولی وند نے کہا ہے کہ ملک کے مختلف مقامات پر اسرائیلی حملوں میں تین امدادی کارکن بھی ہلاک ہوئے اور ہلال احمر کا ایک ہیلی کاپٹر بھی نشانہ بنایا گیا۔

    اس کے بعد کولی وند نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ اس نے ہسپتالوں، طبی مراکز اور معذور افراد کے لیے ایک کیئر ہوم کو نشانہ بنا یا ہے۔

  15. ایران نے ہمارے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی اس لیے صدر ٹرمپ کو ایکشن لینا پڑا: مارکو روبیو

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کو سول نیوکلیئر پروگرام کی اجازت دینے کی پیشکش کی تھی لیکن انھوں نے اسے مسترد کر دیا۔

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کو سول نیوکلیئر پروگرام کی اجازت دینے کی پیشکش کی تھی لیکن انھوں نے اسے مسترد کر دیا۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے دوران امریکہ کے ساتھ ’کھیل کھیلنے‘ کی کوشش کی جس کہ وجہ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کارروائی کرنے پر مجبور ہوئے۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کو سول نیوکلیئر پروگرام کی اجازت دینے کی پیشکش کی تھی لیکن ’انھوں نے اسے مسترد کر دیا۔‘

    مارکو روبیو نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

    امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’انھوں نے ہم سے کھیلنے کی کوشش کی۔ وہ ہماری پیشکش کا جواب نہیں دے رہے تھے۔ وہ 10 دن تک غائب رہے۔ جواباً صدر کو ایکشن لینا پڑا۔‘

    روبیو نے خبردار کیا کہ ایران کی طرف سے کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی ان کی سب سے بڑی غلطی ہوگی۔

    ’ہم ایران کے خلاف اعلان جنگ نہیں کر رہے ہیں۔ ہم ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے ہیں۔ لیکن اگر انھوں نے ہم پر حملہ کیا تو میرے خیال میں ہمارے پاس ایسی صلاحیتیں ہیں جو انھوں نے ابھی تک نہیں دیکھی ہوں گی۔‘

    اس سے قبل ایران کے پاسداران انقلاب نے فرودو، نطنز اور اصفہان میں واقع ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کو امریکہ اور اسرائیل کا مربوط آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کا جواب ایسا ہوگا جس کے بارے میں دشمن نے سوچا بھی نہیں ہو گا۔

  16. چین ایران کو آبنائے ہرمز کو بند کرنے سے گریز کرنے پر آمادہ کرے: امریکہ

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزیر خارجہ نے چین سے کہا کہ وہ ایران کو آبنائے ہرمز بند کرنے سے باز رہنے پر آمادہ کرے۔

    اسلامی جمہوریہ کے حکام کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے نتائج کے بارے میں خبردار کرنے کے بعد، مارکو روبیو نے فاکس نیوز کو بتایا:

    ’میں چینی حکومت کی حوصلہ افزائی کروں گا، جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، اس معاملے پر ان (ایرانی حکام) سے رابطہ کرے۔‘

    امریکی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کو ’ایک اور خوفناک غلطی‘ قرار دیا جس کا مطلب ایران کے لیے ’معاشی خودکشی‘ ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس اس طرح کے اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے آپشنز موجود ہیں لیکن دوسرے ممالک کو بھی اس معاملے پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ ان کی معیشتوں کو امریکہ سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہge

    ،تصویر کا کیپشنآبنائے ہرمز عالمی منڈیوں میں تیل کی ترسیل کے لیے سب سے بڑی گزرگاہ ہے

    یہ بھی پڑھیے

    مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا موجودہ کشیدگی میں ایک ’بڑی اضافہ‘ سمجھا جائے گا جس کے لیے واشنگٹن اور دیگر کی جانب سے ردعمل کی ضرورت ہوگی۔

    آبنائے ہرمز عالمی منڈیوں میں تیل کی ترسیل کے لیے سب سے بڑی گزرگاہ ہے اور یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، 2023 کی پہلی ششماہی میں، اس آبنائے کے ذریعے عالمی منڈیوں میں تقریباً دو کروڑ بیرل تیل (عالمی تیل کی کھپت کا تقریباً 20 فیصد) برآمد کیا گیا۔

  17. ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملہ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل۔ فائل فوٹو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کی سلامتی کونسل۔ فائل فوٹو

    ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل ایران نے امریکی حملوں کے خلاف سلامتی کونسل کی 15 رکنی باڈی کا اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔

    ایران نے امریکی حملوں کو ’اشتعال انگیز‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ان حملوں کے ’دائمی نتائج‘ مرتب ہوں گے۔

    خیال رہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین میں سے ایک ہے۔ دیگر مستقل اراکین میں چین، فرانس، روس اور برطانیہ شامل ہیں۔

  18. اسرائیل کو حملوں پر اکسانے والا امریکہ ہے، ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    مسعود پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ نے اسرائیل کو ایران کے خلاف حملوں پر اکسایا ہے۔

    ایرانی کابینہ کے اجلاس کے دوران، پزشکیان نے امریکہ پر الزام لگایا کہ ابتدائی طور امریکہ نے اپنی شمولیت کو چھپانے کی کوشش کی لیکن ’بالآخر وہ براہ راست مداخلت کرنے پر مجبور‘ ہو گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ آج اسرائیل پر ہونے والے ایرانی حملے امریکی حملوں کا ’جواب‘ ہیں۔

    ایرانی صدر نے دعوی کیا کہ اسرائیل میں ایران کے خلاف ’تنہا کارروائی کرنے کی نہ تو صلاحیت ہے اور نہ ہمت‘۔

  19. ایرانیوں کو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے، ممکنہ حملوں کے متعلق معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں, ریحان ڈیمیٹری

    ایرانیوں کا ملک چھوڑ کر آرمینیا سمیت دیگر ہمسایہ ممالک جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

    اگرک بارڈر کراسنگ پر تہران سے پہنچنے والی ایک نوجوان خاتون بتاتی ہیں کہ مسلسل دھماکوں اور بمباری کے باعث لوگوں میں خوف وہراس پایا جاتا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ان کے گھر والوں کو کھڑکیوں کے شیشوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے ان میں لکڑیاں لگانی پڑی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کو بجلی کی بندش، روٹی اور پانی کی قلت کا سامنا ہے جبکہ انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں۔

    لوگوں کو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے اور اس بارے میں کوئی معلومات نہیں فراہم کی جا رہی کہ اگلا ممکنہ کہاں اور کب ہوسکتا ہے۔

    اب ایسی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ حکام سرحدیں بند کر سکتے ہیں۔

    ان کے خیال میں کہ کچھ لوگ بیرونی ممالک کی مداخلت سے ملک میں حکومت کی تبدیلی کے حق میں نہیں ہیں۔

    ’ہم اپنے اندر سے تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ امریکہ یا اسرائیل کی مداخلت سے آنے والی تبدیلی اچھی کوئی اچھی تبدیلی ہو گی۔‘

  20. اسرائیل کا ایران میں درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکہ کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائےجانے کے بعد اسرائیلی فوج ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

    اسرائیل کی فضائیہ کا کہنا ہے کہ ااتوار کے روز 30 لڑاکا طیاروں نے ایران بھر میں درجنوں فوجی اہداف پر حملہ کیا، جس میں 60 سے زیادہ بم استعمال کیے گئے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حملوں کی لہر میں سب سے پہلے ’یزد کے علاقے میں سٹریٹجک میزائل ہیڈ کوارٹر‘ کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ اصفہان، بوشہر اور اہواز میں بھی ’فوجی تنصیبات‘ پر حملے کیے گئے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل پینٹاگون میں بریفنگ کے دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ امریکہ نے فرودو، نظنز اور اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے ’ایرانی جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا ہے‘۔