آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

مذاکرات کی بنیاد بننے والی تجاویز کی خلاف ورزی کے بعد بات چیت یا جنگ بندی غیرمعقول ہے: باقر قالیباف

پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو ابھی 24 گھنٹے بھی پورے نہیں ہوئے ہیں کہ بدھ کو اسرائیل کی جانب سے لبنان پر شدید بمباری اور اس کے ردعمل میں ایران کے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیے جانے سے اس کے مستقبل پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔

خلاصہ

  • ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔‘
  • ایرانی صدر کی اسلام آباد میں 10 اپریل (جمعہ) کو ہونے والے تہران، واشنگٹن مذاکرات میں شرکت کی تصدیق
  • سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کا پاکستان کی جانب سے مستقل معاہدے کے لیے ثالثی کوششوں کی حمایت کا اعلان
  • 15 نکات میں کئی پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا، ایران کے ساتھ پابندیوں اور ٹیرف میں نرمی پر بات چیت کر رہے ہیں: صدر ٹرمپ
  • عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد تیل و گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی، سٹاک مارکیٹس میں تیزی کا رحجان جبکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کا آغاز ہونے کی رپورٹس
  • یورپی رہنماؤں کا عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم اور پاکستان کی ’کامیاب ثالثی کوششوں‘ پر شکریہ

لائیو کوریج

  1. کیون نہ آبنائے ہرمز سے ٹول ایران کی بجائے امریکہ وصول کرے: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے ٹول ایران کے بجائے جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ وصول کر سکتا ہے۔

    پیر کے روز صحافیوں کی جانب سے یہ سوال کیا گیا کہ آیا وہ ایسے کسی معاہدے کو قبول کریں گے جس میں ایران کو جہازوں سے فیس یا ٹول وصول کرنے کی اجازت ہو، تو اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’ٹول ہم کیوں نہ وصول کریں؟ میں یہ زیادہ پسند کروں گا کہ ٹول ہمیں ملے نہ کہ انھیں۔ ہمیں ٹول کیوں نہیں لینا چاہیے؟ ہم اس جنگ میں کامیاب ہوئے ہیں اس لیے ٹول بھی ہم ہی لیں گے۔‘

    تاہم بعد ازاں صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کی شرائط میں آبنائے ہرمز کو کھولنا شامل ہونا چاہیے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمیں ایسا معاہدہ چاہیے جو میرے لیے قابل قبول ہو اور اس معاہدے کا ایک حصہ یہ ہوگا کہ ہمیں تیل کی آزادانہ ترسیل چاہیے۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرے گا۔

  2. امریکی شرائط پر ایرانی ردعمل: عارضی جنگ بندی مسترد، ’تہران کی تجاویز پاکستان کے حوالے‘

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کی جانب سے پیر کے روز یہ خبر آئی کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کو ’مستقل بنیادوں پر ختم کرنے‘ کے مقصد سے پاکستان کو ایک امن تجاویز پیش کی ہیں۔

    ارنا کے مطابق ایرانی وفد نے امریکی تجاویز کے جواب میں اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں، جنھیں جمع کرانے سے قبل ایرانی قیادت نے تقریباً دو ہفتوں تک تفصیلی جائزے کے بعد حتمی شکل دی۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو منگل تک جواب دینے کی مہلت دی تھی اور ساتھ ہی خبردار بھی کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کے بجلی گھروں اور پُلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    6 اپریل کو ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی تھی کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے، تاہم انھوں نے کہا تھا کہ تہران نے امریکی ’15 نکاتی منصوبہ‘ مسترد کر دیا ہے۔

    ارنا کے مطابق ایران کے دس نکاتی جواب میں جنگ بندی کے خیال کو ’ماضی کے تجربات‘ کا حوالہ دیتے ہوئے مسترد کیا گیا اور اس کے بجائے ایران نے اپنی شرائط پر ایک پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیا۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق تہران کی جانب سے سامنے آنے والے مسودے میں میں کئی مطالبات شامل ہیں، جن میں علاقائی تنازعات کا خاتمہ، آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ پر معاہدہ، تعمیرِ نو اور پابندیوں کا خاتمے جیسی دیگر کئی باتیں شامل ہیں۔

  3. آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے تحفظ کے لیے قرارداد پر ووٹنگ آج ہوگی: اقوام متحدہ

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل آج یعنی منگل کے روز آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ سے متعلق ایک قرارداد پر ووٹنگ کرے گی۔

    واضح رہے کہ یہ عمل مستقل اراکین کے اعتراضات اور روس و چین کی جانب سے ویٹو کے امکان کے باعث کئی بار مؤخر کیا جا چکا ہے۔

    بحرین نے خلیجی ممالک کی حمایت سے دو ہفتے قبل اس قرارداد کے مسودے پر مذاکرات کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد کسی بھی ایسے ملک کو اقوامِ متحدہ کا اختیار دینا ہے جو اس اہم بحری گزرگاہ میں محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے طاقت کے استعمال کا خواہاں ہو، جہاں جنگ کے باعث خلل پیدا ہوا ہے۔

    قرارداد کے تازہ ترین متن میں جہازوں پر ایرانی حملوں کی مذمت کی گئی ہے اور متعلقہ ممالک کو بحری آمد و رفت کے تحفظ کے لیے دفاعی اقدامات کرنے سے متعلق اختیار دیے جانے کی بات کی گئی ہے، جس میں تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے ساتھ لے جانا جیسے اقدامات شامل ہیں۔

    قرارداد میں ایران سے فوری طور پر کسی بھی حملے یا جہاز رانی کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ کونسل ایسے عناصر کے خلاف مزید اقدامات پر غور کرنے کے لیے تیار ہے جو اس اہم ترین آبی تجارتی گزرگاہ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

    ووٹنگ نیویارک کے وقت کے مطابق صبح 11 بجے (گرین وچ کے مطابق سہ پہر 3 بجے) متوقع ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن کے اختتام سے چند گھنٹے قبل ہوگی۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کو دی جانے والی ڈیڈ لائن یا مہلت میں انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر گزرگاہ نہ کھولی گئی تو وہ اسے مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔

  4. فضائی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں کا مقابلہ کر رہا ہے: اسرائیلی فوج کا دعویٰ

    جیسا کے اب سے کُچھ لمحے قبل ہی ہم نے آپ تک یہ خبر پہنچائی تھی کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر نئے فضائی حملوں کا آغآز کر دیا گیا ہے۔

    اس کے بعد اب اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ دعوے بھی سامنے آرہے ہیں کہ اب سے کُچھ دیر قبل یعنی منگل کی صبح اسرائیلی فضائی دفاعی نظام ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے ٹیلیگرام پلیٹ فارم پر کہا کہ ’کچھ دیر قبل اسرائیلی فوج نے ایران سے اسرائیلی علاقوں کی جانب داغے گئے میزائلوں کا پتہ لگایا ہے۔ دفاعی نظام اس خطرے کو ناکام بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

  5. اسرائیلی فوج کا ایران پر نئے فضائی حملوں کے آغاز کا اعلان

    اسرائیلی دفاعی افواج نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے ایران پر فضائی حملوں کی ایک نئی ’لہر‘ کا آغاز کر دیا ہے۔

    آئی ڈی ایف کی جانب سے یہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس بیان کے بعد سامنے آیا ہے کہ جب انھوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی ثالثوں کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز ’کافی حد تک نہ قابلِ قبول‘ ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں مزید کہا کہ ’کچھ دیر قبل (یعنی سوموار اور منگل کی درمیانی شب) اسرائیلی فوج نے فضائی حملوں کی ایک لہر مکمل کی جس کا مقصد تہران اور ایران کے دیگر علاقوں میں ایرانی ’دہشت گرد نظام‘ کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا تھا۔‘

  6. تہران اور قریبی شہر کرج کے مختلف علاقوں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سُنی گئیں: ایرانی میڈیا

    ایرانی خبر رساں اداروں ’مہر‘ اور ’فارس‘ کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب دارالحکومت تہران اور اس کے مغرب میں واقع شہر کرج کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    دونوں اداروں نے رپورٹ کیا کہ ’چند لمحے قبل تہران اور کرج کے بعض علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں‘، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی کسی جانی نقصان کی اطلاع اب تک موصول ہوئی ہے۔

  7. کویت میں رات گئے ہونے والے ایرانی ڈرون حملے میں 15 امریکی زخمی

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ایک ڈرون حملے میں کویت کے علی السالم ایئر بیس پر 15 امریکی زخمی ہوئے ہیں۔

    ایک عہدیدار نے بتایا کہ ان میں سے زیادہ تر افراد دوبارہ کام پر واپس آ چکے ہیں۔

    سی بی ایس کو امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 373 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے 330 دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ گئے ہیں جبکہ پانچ اب بھی شدید زخمی حالت میں ہیں۔

  8. ایران میں بگڑتی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے کی تنبیہ

    اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (اوچا) نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران میں انسانی صورتحال بدتر ہوتی جا رہی ہے کیونکہ جھڑپیں ملک بھر میں پھیل رہی ہیں۔

    ادارے کے مطابق 17 مارچ سے 3 اپریل کے درمیان شہری ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور اس دوران ہوائی اڈوں، ہسپتالوں، رہائشی علاقوں، بازاروں، سکولوں، صنعتی مقامات اور ثقافتی ورثے کی جگہوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ملی ہیں۔

    اوچا کا کہنا ہے کہ ایران میں جنگ کے آغاز سے 30 مارچ تک:

    • 2,100 سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں
    • 27,900 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں
    • 38 لاکھ سے زیادہ لوگ اس جنگ سے متاثر ہوئے ہیں

    ادارے کے مطابق جنگ کے آغاز سے یکم اپریل تک 1 لاکھ 15 ہزار سے زیادہ شہری عمارتوں اور یونٹس کو نقصان پہنچا ہے۔

    اوچا نے یہ بھی کہا کہ اہم انفراسٹرکچر اور صنعتی مقامات پر حملوں کے باعث بنیادی سہولیات، جن میں بجلی، پانی اور ٹیلی کمیونی کیشن شامل ہیں، متاثر ہوئی ہیں، اور اس کے نتیجے میں فوری اور طویل مدتی ماحولیاتی اور صحت سے متعلق خطرات بڑھ رہے ہیں۔

  9. قطری وزیر اعظم کی جانب سے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی مذمت

    قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ فون کال کے دوران کسی بھی فریق کی جانب سے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے اس گفتگو میں جاری کشیدگی اور اس کے خطے پر پڑنے والے اثرات پر تبادلۂ خیال کیا۔

    فون کال کے دوران، قطری وزیر اعظم نے مبینہ طور پر قطر اور دیگر پڑوسی ممالک پر ایرانی حملوں پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا، خصوصاً ان ممالک پر جو ’جنگ سے خود کو الگ رکھے ہوئے ہیں۔‘

    وزارتِ خارجہ کے مطابق، ’انھوں اس بات پر بھی زور دیا کہ شہری انفراسٹرکچر اور عوامی وسائل کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے‘ اور انھوں نے ہر حالت اور ہر فریق کی جانب سے ایسے رویے کی مذمت کی۔

  10. اسرائیل نے ایران کا سب سے بڑا پیٹروکیمیکل پلانٹ تباہ کر دیا: نتن یاہو کا دعویٰ

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینامن نتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کا سب سے بڑا پیٹروکیمیکل پلانٹ تباہ کر دیا ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے، ’ہم منظم انداز میں آئی آر جی سی (پاسدارانِ انقلاب) کی مالی مشین کو ختم کر رہے ہیں۔‘

    ایک علیحدہ بیان میں اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے دو سب سے بڑے پیٹروکیمیکل کمپلیکسز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایران کی پیٹروکیمیکل برآمدات کا 85 فیصد سے زیادہ حصہ ناکارہ ہو گیا ہے۔

    آئی ڈی ایف کے مطابق اسالوئے میں واقع ایک مقام کو نشانہ بنایا گیا، جہاں مبینہ طور پر ’ایرانی حکومت کی میزائل انڈسٹری کے لیے ضروری پرزہ جات‘ تیار کیے جاتے تھے۔

    اس سے قبل اپنی بریفنگ کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ ان کی اتوار کے روز نتن یاہو سے بات ہوئی تھی۔

  11. اگر جنگ ختم کرنے کے لیے کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ’ایران کے ہر پل کو تباہ کر دیا جائے گا‘: ٹرمپ

    ایک رپورٹر نے ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر کی گئی پوسٹ کے بارے میں سوال کیا، جس میں انھوں نے ایرانیوں کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔

    صدر نے کہا کہ انھیں ان ناقدین کی کوئی پروا نہیں جو اس پوسٹ کی وجہ سے ان کی ذہنی صحت پر سوال اٹھا رہے ہیں، اور کہا کہ ان کے اقتدار میں آنے سے پہلے امریکہ کو کئی سالوں تک لوٹا جاتا رہا۔

    انھوں نے کل شام ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے اپنے وعدے کو دہرایا اور کہا کہ وہ آدھی رات تک ملک کے پل تباہ کر دیں گے۔انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آدھی رات کس ٹائم زون کے مطابق ہوگی، تاہم اس سے قبل ٹروتھ سوشل پر کی گئی ایک پوسٹ میں صدر نے کہا تھا کہ پلوں اور بجلی گھروں پر حملے امریکی وقت کے مطابق منگل کی شام 8 بجے شروع ہوں گے۔

    انھوں نے کہا، ’کل رات بارہ بجے تک ایران کا ہر پل تباہ کر دیا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے بعد ایران اپنے ملک کی دوبارہ تعمیر صرف امریکہ کی مدد سے ہی کر سکے گا۔

    انھوں نے کہا، ’ممکن ہے ہم ان کے ملک کی تعمیرِ نو میں بھی شامل ہوں‘، اور مزید کہا کہ ایسی صورت میں امریکہ یہ پسند کرے گا کہ اہم انفراسٹرکچر کو نقصان نہ پہنچے۔

    ٹرمپ نے ایک بار پھر نیٹو پر اس تنازع میں شامل نہ ہونے پر تنقید کی اور آسٹریلیا اور جاپان جیسے دیگر ممالک کا بھی نام لیا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے کچھ ممالک نے مدد کی ہے۔

    ڈیڑھ گھنٹے بعد یہ نیوز کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی۔

  12. ٹرمپ کی ایران کو ’پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنے‘ کی دھمکی

    امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نیوز کانفرنس کے بعد صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے دی گئی 10 دن کی مہلت آج ختم ہونی تھی، لیکن انھوں نے ایسٹر کے موقعے پر ’اچھا انسان بننے‘ کے لیے اسے کل تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    تاہم انھوں نے کہا کہ جب کل کی مہلت ختم ہو جائے گی تو ’ان کے پاس کوئی پُل نہیں ہوں گے، ان کے پاس کوئی بجلی گھر نہیں ہوں گے۔ پتھر کا زمانہ، ہاں‘۔

    انھوں نے یہ بات ایران کو ’پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنے‘ کی اپنی سابقہ دھمکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہی۔

    انھوں نے کہا کہ اس وقت مذاکرات میں امریکہ کو سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ایرانی حکام آپس میں بات چیت نہیں کر پا رہے۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ نیٹو ممالک سے بہت مایوس ہیں کیونکہ اتحادیوں نے ایران سے متعلق مشن میں شامل ہونے کی ان کی درخواست مسترد کر دی۔

    انھوں نے کہا کہ وہ سب سے زیادہ برطانیہ سے مایوس ہیں۔

    اس کے بعد ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر غور کریں گے اگر تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ وہ ترجیح دیں گے کہ امریکہ خود جہازوں سے ٹول وصول کرے، اور کہا ’ہم جیتنے والے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا، ’ہم جیت چکے ہیں۔ وہ عسکری طور پر شکست کھا چکے ہیں۔۔۔ ہمارے پاس ایک منصوبہ ہے جس کے تحت ہم ٹول وصول کریں گے۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ان کی 48 گھنٹے کی مہلت پوری کرنے کے لیے جو منگل کی شام 8 بجے ختم ہونی ہے ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ ہونا چاہیے جو ’مجھے قابل قبول ہو‘، اور مزید کہا کہ ’اس معاہدے کا ایک حصہ یہ ہوگا کہ ہم تیل کی آزادانہ نقل و حرکت چاہتے ہیں۔‘

  13. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی سابقہ دھمکیوں کو دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ ’پورے ملک کو ایک ہی رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے، اور وہ رات شاید کل کی رات ہو۔‘ دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جنگ بندی کے لیے امریکہ کی تجویز مسترد کر دی ہے، تاہم ساتھ ہی جنگ کے ’واضح اور حتمی‘ خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور اپنے مطالبات کی ایک فہرست بھی پیش کی ہے۔
    • ایران نے کہا ہے کہ جنگ بندی امریکہ اور اسرائیل کو صرف ’تھوڑی سی مہلت دے گی تاکہ وہ دوبارہ منظم ہو کر نئے جرائم کر سکیں۔ اس سے قبل ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے امریکی تجویز پر 10 نکاتی جواب جمع کرایا تھا، جس میں مجوزہ جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جنگ کا مستقل خاتمہ ضروری ہے۔
    • اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے سالانہ بچوں کے ایسٹر ایونٹ میں خطاب کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکومت میں موجود ’معقول لوگوں‘ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی نئی قیادت، جنگ کے آغاز سے اب تک مارے جانے والے پچھلے رہنماؤں کے مقابلے میں کافی کم شدت پسند ہے۔
    • یورپی کونسل کے صدر کا کہنا ہے کہ شہری اہداف پر حملے غیر قانونی ہیں، اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کا حل صرف سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے۔ انتونیو کوسٹا نے آج صبح ایکس پر لکھا ’شہری انفراسٹرکچر، خصوصاً توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہے۔‘
    • متحدہ عرب امارات نے خبردار کیا ہے کہ ایسی جنگ بندی جو خطے کے بنیادی مسائل خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور ’وہ میزائل اور ڈرون جو اب بھی ہم اور دیگر ممالک پر برس رہے ہیں‘ کو حل نہ کرے، وہ قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
    • تیل کی قیمتیں آج صبح کے 110 ڈالر فی بیرل کی سطح سے نیچے آ گئی ہیں۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کی اجازت نہیں دیتا تو امریکہ ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو تباہ کر دے گا۔