آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

مذاکرات کی بنیاد بننے والی تجاویز کی خلاف ورزی کے بعد بات چیت یا جنگ بندی غیرمعقول ہے: باقر قالیباف

پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو ابھی 24 گھنٹے بھی پورے نہیں ہوئے ہیں کہ بدھ کو اسرائیل کی جانب سے لبنان پر شدید بمباری اور اس کے ردعمل میں ایران کے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیے جانے سے اس کے مستقبل پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔

خلاصہ

  • ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔‘
  • ایرانی صدر کی اسلام آباد میں 10 اپریل (جمعہ) کو ہونے والے تہران، واشنگٹن مذاکرات میں شرکت کی تصدیق
  • سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کا پاکستان کی جانب سے مستقل معاہدے کے لیے ثالثی کوششوں کی حمایت کا اعلان
  • 15 نکات میں کئی پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا، ایران کے ساتھ پابندیوں اور ٹیرف میں نرمی پر بات چیت کر رہے ہیں: صدر ٹرمپ
  • عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد تیل و گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی، سٹاک مارکیٹس میں تیزی کا رحجان جبکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کا آغاز ہونے کی رپورٹس
  • یورپی رہنماؤں کا عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم اور پاکستان کی ’کامیاب ثالثی کوششوں‘ پر شکریہ

لائیو کوریج

  1. میری دعوت پر جمعے کے روز امریکی و ایرانی وفد پاکستان آ رہے ہیں: شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جنگ بندی وقتی طور پر ٹل گئی ہے، یہ پہلا قدم ہے مگر ہماری منزل پائیدار اور دیرپا امن، ترقی و خوشحالی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ پرسوں (جمعے کے روز) ان کی دعوت پر امریکی و ایرانی وفد پاکستان آ رہے ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں امن قائم ہو گا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اللہ نے سفارتی محاذ پر بے پناہ عزت اور شاندار کامیابی عطا فرمائی ہے۔ جنگ کے شعلے اس خطے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے، اس جنگ کے شعلے دو ہفتے کے لیے بجھ گئے اور خدا کو منظور ہوا تو ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے۔

    انھوں نے بتایا کہ اس سارے عمل میں سیاسی اور ملٹری قیادت ایک نقطے پر متحد تھی۔

    شہباز شریف نے کہا کہ اس جنگ میں بھائی کو بھائی سے اور مختلف مکاتبِ فکر کے مسلمان جو ایک خدا، ایک رسول اور ایک کتاب کے ماننے والے ہیں، ان کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی جا رہی تھی، بے پناہ اندرونی اور بیرونی سازشیں ہوئیں مگر خدا کو یہ منظور نہیں تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ ڈپٹی وزیر اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اپنی وزارتِ خارجہ کی ٹیم کے ساتھ ایک مہینے سے دن رات کام کرتے رہے اور انتھک محنت کی اور اس کے ساتھ فیلڈ مارشل کئی راتیں جاگتے رہے اور جس طریقے سے انھوں نے امریکی و ایرانی قیادت سے بات کی، اس کے بغیر ہمیں سفارتی کامیابی حاصل نہ ہوتی۔

    انھوں نے ایرانی اور امریکی قیادت کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے ان کی ’درخواست کو پذیریائی بخشی اور امن کی خاطر پاکستان کے خلوص اور سنجیدگی کو پذیرائی دی۔‘

    شہباز شریف نے صدر مسعود پزشکیان کا شکریہ ادا کیا اور صدر ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے ان کی درخواست پر دو ہفتے کے لیے عارضی سیز فائر کا اعلان کیا۔

    انھوں نے خلیجی ممالک خاص کر سعودی عرب اور چین کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے اس پورے عمل میں پاکستان کا ساتھ دیا۔

    ان کے مطابق جب گذشتہ روز انھوں نے ولی عہد محمد بن سلمان سے سعودیہ کے ال جبیل میں حملوں کی مذمت کی تو محمد بن سلمان نے کہا پاکستان ہمارا بھائی ہے اور ہم ایک خاندان ہیں اور آگے بھی اسی طرح پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ راتوں کو جاگ کر جو سفر طے ہوا یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ اس طرح کی بےلوث کوششیں پوری زندگی نہیں دیکھیں جس کے لیے انھوں نے فیلڈ مارشل کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ نہ صرف وہ مئی 2025 کی جنگ کے ہیرو ہیں بلکہ جس طرح انھوں نے امریکی و ایرانی قیادت کے ساتھ دن رات شانہ بشانہ کام کیا، اس کے لیے بھی انھیں خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔

    انھوں نے صدر آصف زرداری، بلاول بھٹو اور میاں نواز شریف کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے ہر قدم پر معاونت اور رہنمائی فراہم کی۔

  2. اسرائیلی فوج کا لبنان پر شدید حملوں کا اعلان: ’10 منٹ میں 100 اہداف کو نشانہ بنایا گیا‘

    اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے لبنان میں اپنی زمینی کارروائی کے آغاز کے بعد سے بدھ کے روز ’سب سے بڑے حملے‘ کیے ہیں، دوسری جانب لبنانی میڈیا نے ملک بھر میں متعدد مقامات پر اسرائیلی بمباری کی اطلاعات دی ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’10 منٹ کے مختصر وقت میں بیک وقت لبنان کے مختلف علاقوں میں حزب اللہ کے تقریباً 100 ہیڈ کوارٹرز اور فوجی تنصیبات‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج ’ہر موقع سے فائدہ اٹھائے گی‘ اور حزب اللہ پر حملے جاری رکھے گی۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم بغیر رُکے یہ کارروائیاں جاری رکھیں گے۔‘

    اسرائیلی فضائی حملوں کی ایک بڑی لہر کے بعد لبنان بھر میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے جبکہ متعدد افراد کے منہدم عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    اسرائیل نے ان حملوں کو اس تنازع کے دوران ’حملوں کی سب سے بڑی لہر‘ قرار دیا ہے۔

    یہ حملے بیروت کے جنوبی مضافات، جنوبی لبنان اور مشرقی وادی بقاع تک پھیل گئے ہیں۔

  3. تجزیہ: آخری لمحات میں طے پانے والے معاہدے اور پینٹاگون بریفنگ کے بعد کئی اہم اُمور اب بھی غیر واضح ہیں, برنڈ ڈیبسمن جونیئر، نمائندہ برائے وائٹ ہاؤس

    امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے اپنی پریس بریفنگ میں عارضی جنگ بندی کے فیصلے کو واضح طور پر ایک مضبوط، فیصلہ کن اور مکمل فوجی فتح کے طور پر بیان کیا۔ تاہم اب بھی کئی اہم سوالات باقی ہیں۔

    اولاً، یہ واضح نہیں کہ مستقبل قریب میں وہ کیا حالات ہوں گے جن کے تحت امریکہ ایران پر دوبارہ حملے شروع کرے گا، اگرچہ ہیگسیتھ نے بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ امریکی افواج ’چوکس رہیں گی۔‘

    امریکی حکام نے، جیسا کہ ہیگسیتھ نے بھی اپنی بریفنگ میں کہا، اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کی حکومت پہلے ہی ’ریجیم چینج‘ کے مرحلے سے گزر چکی ہے اور اب وہ مذاکرات کے لیے زیادہ آمادہ ہے۔

    اگرچہ ایران نے واضح طور پر مذاکرات کی میز پر آنے کی خواہش ظاہر کی ہے، تاہم اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ ایران میں موجود نظام مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے اور اب ایران خطے میں امریکی مفادات کے لیے خطرہ نہیں رہا۔ بہت سے مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی اقتدار میں موجود چند عناصر آگے چل کر مزید سخت گیر بھی ہو سکتے ہیں۔

    اسی طرح، اس بارے میں بھی تفصیلات محدود ہیں کہ امریکا ایران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کو عملاً کیسے محفوظ بنائے گا، حالانکہ ہیگسیتھ نے اس حوالے سے دعویٰ ضرور کیا ہے۔

    اور آخر میں، گذشتہ رات پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ اس معاہدے میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں بھی شامل ہیں، مگر دوسری جانب وہاں حملے اب بھی جاری ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ اس صورتِ حال کا وسیع تر مذاکراتی عمل پر کیا اثر پڑے گا۔

    امکان ہے کہ آج وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس پیش رفت کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جائے گا اور امریکی صدر کی ترجمان کیرولین لیویٹ کو برطانوی وقت کے مطابق شام چھ بجے ہونے والی پریس بریفنگ میں اس نوعیت کے کئی سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  4. موجودہ ایرانی قیادت کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے نئی سوچ موجود ہے: امریکی وزیر دفاع

    امریکہ کے سیکریٹری دفاع کی پریس بریفنگ کے بعد اب سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

    میڈیا کے نمائندوں کی جانب سے سب سے پہلے پیٹ ہیگسیتھ سے پوچھا گیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے میں امریکی فوج کیا کردار ادا کرے گی؟اس کے ساتھ یہ سوال بھی کیا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے کیا مراد ہے کہ امریکی فوجی وہاں اب بھی ’موجود رہیں گے۔‘

    اس پر ہیگسیتھ نے جواب دیا کہ ’ہم کہیں نہیں جا رہے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ امریکی فوج اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ایران جنگ بندی کی پابندی کرے اور معاہدے کے لیے مذاکرات کی میز پر آئے۔ فوجی ’اپنی جگہ قائم، تیار اور چوکس رہیں گے‘ اور ’کسی بھی لمحے دوبارہ کارروائی شروع کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔‘

    آبنائے ہرمز سے متعلق سوال پر ہیگسیتھ نے جنگ بندی کی شرائط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران جہازوں کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت دینے پر متفق ہو چکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایسا ہو گا اور جہاز رواں دواں ہوں گے۔‘

    جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کی جانب سے افزودہ یورینیم کی حوالگی امریکہ کے لیے ’ناقابلِ مذاکرات شرط‘ ہے، تو ہیگسیتھ نے جواب دیا کہ یہ بات ہمیشہ سے طے شدہ رہی ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں۔

    ان کے مطابق، ایران یا تو رضاکارانہ طور پر اپنا افزودہ جوہری مواد امریکہ کے حوالے کرے گا، یا پھر امریکا کے پاس یہ ’حق‘محفوظ ہے کہ وہ مڈ نائٹ ہیمر جیسے اقدام کرے، یہ سنہ 2025 میں امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی تھی جس میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    ہیگسیتھ سے یہ بھی سوال کیا گیا کہ آیا تہران میں موجودہ حکومت گذشتہ 47 برسوں کی حکومتوں سے مختلف ہے یا نہیں۔

    اس پر انھوں نے ایک بار پھر ان اعلیٰ ایرانی شخصیات کی فہرست کا حوالہ دیا جو حالیہ امریکہ و اسرائیلی فوجی مہم کے دوران ہلاک ہو چکی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’اب لوگوں (ایرانی رہنماؤں) کا ایک نیا گروہ ہے،‘ اور مزید کہا کہ موجودہ ایرانی قیادت کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ’نئی سوچ‘ موجود ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ایک پوری تہذیب‘ کو ختم کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ہیگسیتھ سے اب یہ پوچھا گیا کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر نہ آتا اور جنگ بندی معاہدے پر رضامند نہ ہوتا، تو کیا صدر ایران کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے تیار تھے؟

    اس پر ہیگسیتھ نے کہا کہ ’جیسا کہ میں نے کہا، ہمارے ہدف پہلے ہی طے تھے، یعنی ایران کا بنیادی ڈھانچہ، پل اور بجلی گھر۔‘

    انھوں نے ایران کو ایک ’دہشت گرد حکومت‘ قرار دیا جو اہم تنصیبات کو دوہرے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے، اور کہا کہ امریکہ کے اہداف میں خارگ جزیرہ بھی شامل تھا۔

    ہیگسیتھ کا دعویٰ تھا کہ ایران یہ بات ’سمجھ چکا تھا کہ ایران کی بجلی پیدا کرنے اور توانائی کی صلاحیت اب واشنگٹن کے قابو میں ہے، اور اسی لیے وہ مذاکرات کی میز پر آیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اسی نوعیت کی دھمکی نے انھیں اس مقام تک پہنچایا جہاں انھوں نے عملاً کہا کہ ہم یہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘

    اسی کے ساتھ پیٹ ہیگسیتھ اور جنرل ڈین کین کی بریفنگ پر بی بی سی اُردو کوریج اختتام پذیر ہوتی ہے۔

  5. ’جنگ بندی محض ایک وقتی وقفہ ہوتی ہے، اگر حکم دیا گیا تو دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیار ہیں‘: جنرل ڈین کین

    پریس بریفنگ کے دوران امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے اپنے خطاب کا آغاز جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے امریکہ کے 13 فوجیوں کی یاد کرنے سے کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم اُن میں سے ہر ایک (فوجی) کے شکر گزار ہیں اور اُن کے نقصان پر سوگ مناتے رہیں گے۔‘

    جنرل کین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فوجی اہداف کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان میں ایران کی بیلسٹک میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو تباہ کرنا، ایران کی بحریہ کو ختم کرنا اور اس کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو نشانہ بنانا شامل تھا۔ اُن کے مطابق 38 دنوں پر محیط کارروائی کے دوران امریکی مشترکہ افواج نے یہ تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں۔

    انھوں نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، تاہم اس بات پر زور دیا کہ ’جنگ بندی محض ایک وقتی وقفہ ہوتی ہے۔‘

    جنرل کین نے مزید کہا کہ امریکی افواج کو ’اگر حکم دیا گیا یا ضرورت پڑی تو دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیار ہیں، اسی رفتار اور درستگی کے ساتھ جس کا مظاہرہ گذشتہ 38 دنوں میں کیا گیا، اور ہمیں امید ہے کہ ایسا نہ کرنا پڑے۔‘

    اپنے خطاب میں جنرل کین نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں کی جانے والی ریسکیو کارروائی پر بھی بات کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ مار گرائے گئے دو امریکی لڑاکا طیاروں کے پائلٹس کو بچانے کے لیے کی جانے والی یہ کارروائی آپریشن ایپک فیوری کے دوران امریکی فوج کی جرات اور بہادری کی ’بڑی مثال‘ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک ایسی داستان ہے جو بطور مشترکہ فوج ہماری شناخت کے دل اور روح تک پہنچتی ہے۔‘

    جنرل کین کے مطابق مشترکہ افواج کی شاندار کارکردگی ایک دوسرے کے ساتھ ان کی ’گہری وابستگی‘ کا نتیجہ تھی، تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس بات پر ’حیران نہیں تھے‘ کہ فوجیوں نے اس آپریشن کے دوران کیا کچھ انجام دیا۔

  6. جنگ بندی ’حقیقی امن اور ایک حقیقی معاہدے‘ کا موقع فراہم کرتی ہے: پیٹ ہیگسیتھ

    امریکہ کے سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اپنی پریس بریفنگ کے دوران امریکی و اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والی متعدد ایرانی اعلیٰ شخصیات کے نام بھی لیے، جن میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل ہیں، جو جنگ کے آغاز ہی میں ہلاک ہو گئے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابتدا ہی سے اس مؤقف پر ’واضح‘ رہے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اب جو معاہدہ زیر بحث آئے گا اس کی شرائط کے تحت ایران کے پاس موجود وہ تمام جوہری مواد ’جو اس کے پاس نہیں ہونا چاہیے‘ ہٹا دیا جائے گا۔

    امریکی وزیرِ دفاع کے مطابق یہ جنگ بندی ’حقیقی امن اور ایک حقیقی معاہدے‘ کا موقع فراہم کرتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اُن کی وزارت فی الحال اپنا کردار ادا کر چکی ہے، تاہم وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار رہیں گے کہ ایران معاہدے کی ہر معقول شرط پر عمل کرے۔

    ہیگسیتھ نے اسرائیل کو امریکا کا ’بہادر، پُرعزم اور باصلاحیت اتحادی‘ قرار دیا اور کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک اور امریکہ کے دیگر ’نام نہاد‘ اتحادیوں کو اس سے ’کچھ سبق حاصل کرنا چاہییے۔‘

    واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ مہینوں میں متعدد مواقع پر نیٹو کے اتحادی ممالک، بشمول برطانیہ اور اس کے وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر، پر امریکہ کا ساتھ نہ دینے پر تنقید کر چکے ہیں۔

  7. صدر ٹرمپ نے ایران کے معاملے میں رحم کا انتخاب کیا: امریکی وزیر دفاع

    امریکا کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کا دعویٰ ہے کہ ایران نے ’شدید دباؤ‘ کے تحت جنگ بندی قبول کی ہے۔

    اُن کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے واشنگٹن کی شرائط ماننے سے انکار کیا ہوتا تو ’اگلے اہداف اس کے بجلی گھر، پل، اور تیل و توانائی سے متعلق بنیادی ڈھانچے ہوتے۔‘

    ہیگسیٹھ کے مطابق، ایسی صورت میں ایران کو اپنی تعمیرِ نو میں دہائیاں لگ جاتیں، تاہم ایرانی قیادت نے یہ سمجھا کہ معاہدہ کرنا بہتر آپشن ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’صدر ٹرمپ کے پاس یہ صلاحیت تھی کہ وہ چند منٹوں میں ایران کی پوری معیشت کو مفلوج کر دیں، لیکن انھوں نے رحم کا انتخاب کیا۔‘

    یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مقررہ ڈیڈ لائن کے ختم ہونے سے دو گھنٹے سے بھی کم وقت قبل سوشل میڈیا پر جنگ بندی کے بارے میں پہلی پوسٹ کی تھی۔

  8. اسلام آباد میں 9 اور 10 اپریل کو مقامی تعطیل کا اعلان

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے 9 اور 10 اپریل کو مقامی تعطیلات کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ ضروری خدمات سے متعلق ادارے اپنی معمول کی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔

    ایم سی آئی، سی ڈی اے، پولیس اور ہسپتالوں سمیت تمام ضروری سروسز کے ادارے تعطیلات سے مستثنیٰ قرار دیے گئے ہیں۔

    خیال رہے جمعے کو پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں امریکہ اور ایران کے نمائندوں کے مابین مذاکرات متوقع ہیں۔

    تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ نوٹیفیکیشن پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔

  9. امریکہ اب ایران کی فضاؤں پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے: امریکی وزیر دفاع کا دعویٰ

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کی پریس بریفنگ جاری ہے۔

    انھوں نے آج کے دن کو ’عالمی امن کے لیے ایک بڑا دن‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ’اسے حقیقت بنتا دیکھنا چاہتا ہے‘ اور یہ کہ ’اب وہ مزید (تباہی) برداشت نہیں کر سکتے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ’واضح اور فیصلہ کن فوجی فتح‘ہے، اور دعویٰ کیا کہ ایران کی فوج کو آئندہ کئی برسوں تک لڑائی کے قابل نہیں چھوڑا گیا۔

    ہیگسیٹھ نے مزید کہا کہ ’دنیا میں ریاستی دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست (ایران) اپنی حفاظت، اپنے عوام اور اپنے علاقے کے دفاع میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے۔‘

    اُن کے مطابق امریکا نے اپنے فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں، جن میں ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کرنا شامل ہے، اور انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ اب ’اُن کی فضاؤں پر مکمل کنٹرول‘ رکھتا ہے۔

  10. ’ایران 47 برسوں سے امریکہ کے لیے خطرہ رہا ہے، مگر اب یہ صورتحال مزید برقرار نہیں رہی‘

    امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران گذشتہ 47 برسوں سے امریکہ کے لیے ایک خطرہ رہا ہے، تاہم اب یہ صورتحال ’مزید برقرار نہیں رہی۔‘

    انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ’تاریخ رقم کر دی ہے۔‘

    پیٹ ہیگسیٹھ کے مطابق ’صدر ٹرمپ نے اس مرحلے کو ممکن بنایا، ایران نے جنگ بندی کی درخواست کی، اور ہم سب یہ جانتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ آپریشن ایپک فیوری (ایران کے خلاف جنگ کو دیا گیا امریکی نام) ایک ’تاریخی اور فیصلہ کن‘ کارروائی تھی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو ’شدید نقصان پہنچایا ہے۔‘

  11. امریکی وزیرِ دفاع اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی بریفنگ کا آغاز

    امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیٹھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین اِس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع پر تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کر رہے ہیں۔

    واشنگٹن اور ایران کی جانب سے مشروط دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد یہ ان کی پہلی باقاعدہ بریفنگ ہے۔

    ہم آپ کو پینٹاگون میں دیے جانے والے ان کے خطاب کی تازہ تفصیلات فراہم کریں گے۔

  12. تجزیہ: ’آبنائے ہرمز کے کُھلنے کے بعد بھی معمول کی بحری آمدورفت کی بحالی میں دو ہفتوں سے کہیں زیادہ وقت لگے گا‘, پال ایڈمز، نامہ نگار برائے سفارتی اُمور

    ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر آمادگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ گذشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے کے دوران عالمی معیشت پر بڑھنے والا دباؤ اب کم ہونا شروع ہو سکتا ہے۔

    اس گزر گاہ کے بند ہونے کے باعث تیل، قدرتی گیس اور کھاد کی تیاری کے لیے درکار کیمیکلز کی ترسیل میں عالمی سطح پر کمی کے انتہائی تباہ کن اثرات دیکھنے کو آئے ہیں، تاہم اس آبنائے کے کھلنے کے بعد بھی معمول کی بحری آمدورفت کی بحالی میں دو ہفتوں سے کہیں زیادہ وقت لگے گا۔

    ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک طریقۂ کار اور شرائط طے کرنا چاہتا ہے، جسے وہ ایک باقاعدہ پروٹوکول قرار دیتا ہے۔

    اس دوران ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ آئندہ دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت ممکن ہو گی، جو ایران کی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی اور ان کے بقول ’تکنیکی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے‘ انجام دی جائے گی۔

    یہ اقدامات اس بات کی ضمانت نہیں دیتے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے کی صورتِحال عارضی جنگ بندی کے نتیجے میں فوری طور پر بحال ہو جائے گی۔

  13. آبنائے ہرمز کی جہازوں کی آمد و رفت کا آغاز ہونے کی رپورٹس

    جہازوں کی ٹریکنگ کرنے والی کمپنی ’میرین ٹریفک‘ کے مطابق بدھ کی صبح سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت کے’ابتدائی آثار‘ دیکھنے کو ملے ہیں۔

    ’میرین ٹریفک‘ کے مطابق بدھ کی صبح سے دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں، جن میں سے ایک یونان کی ملکیت ہے جبکہ دوسرا لائبیریا میں رجسٹرڈ ہے۔

    بی بی سی آزادانہ طور پر اِن اطلاعات کی تصدیق نہیں کر سکتا ہے۔

    حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز ایک متنازع معاملہ بنی رہی ہے، اور اگرچہ اس راستے کے طویل المدتی مستقبل سے متعلق اب بھی صورتِ حال واضح نہیں ہے، تاہم رات گئے عارضی جنگ بندی کے اعلان کے تحت ایران کے لیے اس گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا لازم ہے۔

    اس سے قبل بعض ممالک نے ایران کے ساتھ معاہدے کر رکھے تھے، جن کے تحت اُن کے جہاز جنگ کے دوران بھی اس عالمی تجارتی بحری راستے کا استعمال جاری رکھ پا رہے تھے، جن میں پاکستان، انڈیا اور فلپائن شامل ہیں۔

    دوسری جانب، بعض ممالک کے جہازوں پر نہ صرف آبنائے ہرمز کے قریب بلکہ خلیج کے دیگر علاقوں میں بھی حملے کیے گئے تھے۔

  14. 15 نکات میں کئی پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا، ایران کے ساتھ پابندیوں اور ٹیرف میں نرمی پر بات چیت کر رہے ہیں: صدر ٹرمپ

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک تازہ بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ’ہم (امریکہ) ایران کے ساتھ ٹیرف اور پابندیوں میں نرمی پر بات چیت کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ 15 نکات میں سے کئی پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ مل کر کام کرے گا، ’جس کے بارے میں ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہاں ایک نہایت نتیجہ خیز تبدیلیِ حکومت (ریجیم چینج) رونما ہو چکی ہے۔‘

    صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی نہیں کرے گا، اور امریکا تہران کے ساتھ مل کر ’گہرائی میں دفن (بی-2 بمبار طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی) تمام جوہری ’گرد‘ کو کھود کر نکالے گا اور ختم کرے گا۔‘ ان کے مطابق ’یہ تمام عمل اس وقت بھی اور پہلے بھی انتہائی سخت سیٹلائٹ نگرانی میں رہا ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ’کوئی ملک اگر ایران کو فوجی ہتھیار فراہم کرے گا تو امریکا کو فروخت کی جانے والی اس ملک کی تمام اشیا پر فوری طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ اس فیصلے میں کسی قسم کی کوئی رعایت یا استثنا شامل نہیں ہوگا۔‘

  15. ایران طویل مدتی معاہدے کے لیے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کرے: جے ڈی وینس

    امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے جنگ بندی کو ایک ’نازک جنگ بندی‘ قرار دیتے ہوئے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ طویل المدتی معاہدے کے لیے ’نیک نیتی‘کے ساتھ مذاکرات کرے۔

    ہنگری کے دارالحکومت بوڈا پیسٹ میں گفتگو کرتے ہوئےجے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ اگر ’ایرانی نیک نیتی کے ساتھ ہمارے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہوں‘ تو ایک (طویل مدتی) معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے۔

    تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران ’اُس نازک جنگ بندی کو عملی شکل اختیار کرنے سے روکتا ہے، جو ہم نے قائم کی ہے، تو پھر اسے خوش ہونے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔‘

    دریں اثنا، ایرانی میڈیا میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ جے ڈی وینس ایران سے متعلق اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ کی قیادت کریں گے، تاہم اس بارے میں تاحال واشنگٹن کی جانب سے کسی باضابطہ تصدیق یا بیان سامنے نہیں آیا۔

  16. یورپی رہنماؤں کا عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم اور پاکستان کی ’کامیاب ثالثی کوششوں‘ پر شکریہ

    یورپی رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے یورپی دارالحکومتوں میں یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ معاہدے کا کریڈٹ کس کو دیا جائے اور آئندہ کیا اقدامات ہونے چاہییں۔

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی ’خطے اور دنیا کے لیے ایک لمحاتی سکون کا باعث بنے گی‘۔انھوں نے شراکت دار ممالک سے اپیل کی کہ وہ اس جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے ’ہر ممکن کوشش کریں۔‘

    سپین کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ ’جنگ بندیاں ہمیشہ خوش آئند خبر ہوتی ہیں‘۔ تاہم انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اُن کی حکومت ’اُن لوگوں کی تعریف نہیں کرے گی جو دنیا کو آگ لگانے کے بعد محض ایک بالٹی لے کر (آگ بجھانے کے لیے) سامنے آ جائیں۔‘

    یوکرین کے صدر ولادیمر زیلینسکی نے کہا کہ یہ ’اہم‘ ہے کہ امریکا نے ’یہ سفارتی قدم اٹھایا‘۔ انھوں نے زور دیا کہ جنگ کے بعد کی دنیا سے متعلق فیصلے کرتے وقت ’ہر ملک کے مفادات‘ کو مدِنظر رکھا جانا چاہیے۔

    آسٹریا کے چانسلر کرسچن سٹوکر نے پاکستان کی ’کامیاب ثالثی کوششوں‘ پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سفارتکاری کے لیے مواقع اب مزید کھل گئے ہیں۔

  17. تہران میں صفائی اور ملبہ ہٹانے کے کام کا آغاز

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبررساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد تہران میں صفائی اور تعمیر نو کے ابتدائی مراحل کا آغاز ہو گیا ہے۔

    تسنیم نے تہران کے ایک ضلعی میئر کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ شہر میں تباہ ہونے والی عمارتوں کا سڑکوں پر پھیلا ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور سڑکیں دوبارہ کھولی جا رہی ہیں، جبکہ بعض مقامات پر تعمیرِ نو کے آغاز کے لیے زمین کو ہموار کیا جا رہا ہے۔

  18. ’ہم ہر جگہ ساتھ کھڑے رہیں گے،‘ ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ’جنگ بندی - جس میں ایران کے مطلوبہ عمومی اصولوں کی قبولیت شامل ہے - ہمارے عظیم رہنما خامنہ ای سید علی خامنہ ای کے خون کا ثمر اور میدان عمل میں عوام کی مکمل موجودگی کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ آج سے ہم سب متحد رہیں گے۔‘

    ایکس پر اپنے پیغام میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ’چاہے سفارت کاری کا میدان ہو، چاہے دفاع کا محاذ ہو، چاہے سڑکوں پر عوامی منظرنامہ ہو، یا خدمات کی فراہمی کا دائرہ — ہم ہر جگہ ایک ساتھ کھڑے رہیں گے۔‘

  19. شہباز شریف کی ایرانی صدر سے 45 منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو: ’تہران کی اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی تصدیق‘

    پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے بدھ کی دوپہر ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے جس میں ایران نے جمعہ (10 اپریل) کو اسلام آباد میں تہران اور اور واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کی شرکت کی تصدیق کی ہے۔

    وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق تقریباً 45 منٹ سے زائد جاری رہنے والی اس ’خوشگوار اور دوستانہ گفتگو‘ کے دوران وزیراعظم نے ’ایرانی قیادت کی دانشمندی اور دور اندیشی کو سراہا‘ جنھوں نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔

    اعلامیے کے مطابق اس گفگتو کے دوران شہباز شریف نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے اپنی تعظیم کا اظہار کیا اور ایران کی جانب سے رواں ہفتے کے اختتام پر اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی پیشکش قبول کی۔

    اعلامیے کے مطابق اِس موقع پر صدر مسعود پزشکیان نے شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی کے قیام میں پاکستانی قیادت کی کوششوں کو سراہا ۔انھوں نے پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

  20. تجزیہ: جنگ بندی کے بعد عالمی منڈیوں کا مثبت ردعمل، مگر خدشات اب بھی موجود ہیں, فیصل اسلام، بی بی سی کے نمائندہ برائے معاشی اُمور

    ایران اور امریکہ میں عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں نے مثبت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جبکہ سٹاک مارکیٹس میں تیزی آئی ہے۔ تاہم موجودہ صورتِحال میں احتیاط برتنے کی کئی وجوہات اب بھی موجود ہیں۔

    ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے اگلے مرحلے سے متعلق مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا فریقین کے درمیان براہِ راست، بالمشافہ مذاکرات کسی کروٹ بیٹھتے ہیں یا نہیں۔

    اس کے بعد آبنائے ہرمز کی عملی صورتِحال ایک اہم سوال ہے۔ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے مطابق آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت آئندہ دو ہفتوں کے لیے آزادانہ طور پر جاری رہے گی؟ یا پھر کیا یہ آمدورفت ایران کی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی اور تکنیکی حدود کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہو گی، جیسا کہ ایران کے وزیرِ خارجہ نے اشارہ دیا ہے۔

    یہ معاملہ نہ صرف تیل اور گیس کے لیے اہم ہے بلکہ جیٹ فیول، سلفر، یوریا اور ڈیزل کی عالمی ترسیل کے لیے بھی نہایت اہمیت رکھتا ہے۔

    یہ تمام عوامل کسی بھی ممکنہ امن کے حوالے سے ایک بنیادی سوال کو جنم دیتے ہیں۔ ایران نے خلیج میں ایک نئی حقیقت قائم کر دی ہے: اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک مؤثر بحریہ اور فضائیہ کے بغیر بھی ایک اہم سمندری گزرگاہ کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے راہداری ٹیکس وصول کرنا بھی شروع کر دیا تھا۔ یہ صورتِحال کیا آئندہ دنوں میں بھی برقرار رہے گی؟ اور کیا خلیجی ممالک اسے قبول کریں گے؟

    قطر میں زیادہ تر بنیادی تنصیبات کو پہنچنے والے براہِ راست نقصان کے بعد عالمی گیس کی پیداوار کو آئندہ چند برسوں تک نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔ پیداوار کی بحالی میں ہفتوں لگ سکتے ہیں جبکہ جنگ سے پہلے کی مکمل پیداواری صلاحیت تک واپسی میں برسوں درکار ہوں گے۔

    یوں کسی بڑی سطح پر مزید کشیدگی کا نہ ہونا عالمی معیشت کے لیے ایک طرح کا اطمینان ضرور ہے، تاہم اس تنازع کے معاشی اثرات کتنے گہرے ہوں گے، یہ سوال اب بھی جواب طلب ہے۔