آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

مذاکرات کی بنیاد بننے والی تجاویز کی خلاف ورزی کے بعد بات چیت یا جنگ بندی غیرمعقول ہے: باقر قالیباف

پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو ابھی 24 گھنٹے بھی پورے نہیں ہوئے ہیں کہ بدھ کو اسرائیل کی جانب سے لبنان پر شدید بمباری اور اس کے ردعمل میں ایران کے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیے جانے سے اس کے مستقبل پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔

خلاصہ

  • ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔‘
  • ایرانی صدر کی اسلام آباد میں 10 اپریل (جمعہ) کو ہونے والے تہران، واشنگٹن مذاکرات میں شرکت کی تصدیق
  • سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کا پاکستان کی جانب سے مستقل معاہدے کے لیے ثالثی کوششوں کی حمایت کا اعلان
  • 15 نکات میں کئی پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا، ایران کے ساتھ پابندیوں اور ٹیرف میں نرمی پر بات چیت کر رہے ہیں: صدر ٹرمپ
  • عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد تیل و گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی، سٹاک مارکیٹس میں تیزی کا رحجان جبکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کا آغاز ہونے کی رپورٹس
  • یورپی رہنماؤں کا عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم اور پاکستان کی ’کامیاب ثالثی کوششوں‘ پر شکریہ

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ کو ریپبلکن پارٹی کے اندر سے بھی مخالفت کا سامنا

    ایران کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’ایک پوری تہذیب کو تباہ کرنے‘ کی دھمکی اور جاری فضائی حملوں پر ریپبلکن پارٹی کے کئی اہم رہنماؤں نے بھی تنقید کی ہے۔

    جارجیا سے ریپبلکن رکنِ کانگریس آسٹن سکاٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ کے بیانات لڑائی روکنے میں مددگار نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق صدر کے تبصرے ’غیر مؤثر‘ ہیں اور وہ ان سے اتفاق نہیں کرتے۔

    ٹیکساس کے ریپبلکن نیتھینیئل موران نے بھی ٹرمپ کی دھمکی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہمیشہ ’جائز اور اخلاقی بنیادوں‘ پر فوجی کارروائیاں کرتا آیا ہے، اور کسی تہذیب کو تباہ کرنے کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

    میڈیا کی قدامت پسند شخصیات جیسے ٹکر کارلسن، الیکس جونز، کینڈیس اوونز اور جو روگن نے بھی ٹرمپ کے بیانات پر تنقید کی ہے۔

    سابق رکنِ کانگریس مارجوری ٹیلر گرین، جو کبھی ٹرمپ کی قریبی اتحادی تھیں، نے ان کے بیان کو ’پاگل پن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھیں عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔ ان کے مطابق ’ہم پوری تہذیب کو ختم نہیں کر سکتے، یہ سراسر برائی اور جنون ہے۔‘

    دہشت گردی کے خلاف قومی مرکز کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ، جنھوں نے ایران پر حملے کے فیصلے کے بعد استعفیٰ دیا تھا، نے خبردار کیا کہ اگر ٹرمپ نے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تو امریکہ کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچے گا۔ ان کے مطابق ایسی کارروائی امریکہ کو ’استحکام لانے والی قوت‘ کے بجائے ’افراتفری پھیلانے والی طاقت‘ کے طور پر متعارف کرائے گی۔

  2. کیا ٹرمپ پسپائی کا راستہ تلاش کر رہے ہیں؟, ڈینیئل بش، واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ میں کمی لانے کے لیے ممکنہ طور پر ایک پسپائی کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ پاکستان کی اس تجویز سے آگاہ ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی ڈیڈ لائن دو ہفتے کے لیے بڑھا دیں تاکہ عارضی جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ کھل سکے۔ پاکستان کی تجویز میں دو ہفتے کی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ شامل ہے، جس کے بعد مستقل امن کے لیے بات چیت ہو سکتی ہے۔

    ٹرمپ نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں مذاکرات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا، لیکن کہا کہ امریکہ اور ایران ’پرمغز نوعیت کے مذاکرات‘ میں مصروف ہیں۔

    ٹرمپ نے ایران کو مشرقی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے تک کی مہلت دی ہے کہ وہ معاہدہ کرے، ورنہ امریکہ ایران کے پلوں اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو ’ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے۔‘

    ٹرمپ کے سوشل میڈیا بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک طرف معاہدے کے لیے دباؤ میں ہیں اور دوسری طرف اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا جنگ کو مزید بڑھایا جائے یا نہیں۔

  3. بریکنگ, فی الحال، صورتحال ایک نہایت نازک اور حساس مرحلے سے ایک قدم آگے بڑھ چکی ہے: پاکستان میں ایرانی سفیر

    پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ’فی الحال، صورتحال ایک نہایت نازک اور حساس مرحلے سے ایک قدم آگے بڑھ چکی ہے۔‘

    رضا امیری نے تجویز دی کہ ’اگلے مرحلے میں ضروری ہے کہ احترام اور باہمی شائستگی کو ترجیح دی جائے، اور بیان بازی اور غیر ضروری تکرار کی جگہ سنجیدگی لے۔‘

    انھوں نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’جنگ روکنے کے لیے پاکستان کی مثبت اور نتیجہ خیز نیک نیتی پر مبنی کوششیں ایک نہایت اہم اور حساس مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’مزید پیش رفت کے لیے جڑے رہیں۔‘

  4. ایران میں پلوں اور توانائی کے مراکز کے قریب ’انسانی زنجیریں‘، بی بی سی ویریفائی کی ویڈیوز کی تصدیق

    ایران کے سرکاری میڈیا نے ایسی ویڈیوز اور تصاویر جاری کی ہیں جن میں درجنوں افراد کو مختلف پلوں اور توانائی کے مراکز کے قریب ’انسانی زنجیریں‘ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ مظاہرے اس وقت سامنے آئے ہیں جب امریکہ کی جانب سے ان تنصیبات پر ممکنہ حملوں کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

    بی بی سی ویریفائی نے متعدد ویڈیوز کی تصدیق کی ہے جن میں ایرانی حکومت کے حامی مختلف مقامات پر جمع دکھائی دیتے ہیں، جن میں شامل ہیں:

    • جنوب مغربی صوبہ فارس میں کازرون پاور پلانٹ
    • شمالی صوبہ قزوین میں شہید رجائی پاور پلانٹ
    • جنوب مغربی صوبہ خوزستان کے شہروں دزفول اور اہواز کے پل

    یہ مظاہرے بظاہر امریکی دھمکیوں کے جواب میں حکومتی حمایت کے اظہار کے طور پر کیے جا رہے ہیں۔

    اس سے قبل ایران کے بعض حکام نے شہریوں کو ترغیب دی کہ وہ امریکی حملوں کی دھمکیوں کے پیشِ نظر بجلی گھروں اور دیگر اہم تنصیبات کے گرد "انسانی زنجیریں" بنائیں تاکہ ان مقامات کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    ایران کے نائب وزیرِ نوجوانان و کھیل علی رضا رحیمی نے ایک بیان میں کہا کہ ’روشن مستقبل کے لیے ایرانی نوجوانوں کی انسانی زنجیر‘ کے نام سے مہم پورے ملک میں منعقد کی گئی۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز، جن کی بی بی سی نے تصدیق کی، میں کازرون کے مشترکہ سائیکل پاور پلانٹ کے سامنے انسانی زنجیر بناتے ہوئے افراد کو دکھایا گیا۔

    ایرانی حکومت کے ایک ٹیلیگرام اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا کہ اس مہم میں شریک افراد نے ’امریکی-اسرائیلی جارحیت‘ کی مذمت کی اور ملک کی مسلح افواج کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ نوجوانوں نے ملک کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی حملے کو ’جنگی جرم‘ قرار دیا۔

    ایک علیحدہ بیان میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایک کروڑ 40 لاکھ ایرانی ’ملک کے دفاع کے لیے اپنی جان قربان کرنے‘ کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں، اور مزید افراد مخصوص نمبر پر پیغام بھیج کر شامل ہو سکتے ہیں۔

    بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم تنصیبات کے گرد انسانی ڈھال بنانے کی رپورٹس پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’مکمل طور پر غیر قانونی‘ قرار دیا۔

  5. پاکستان کی سفارتی کوششیں، اسحاق ڈار کا سعودی اور ترک ہم منصب سے رابطہ

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے منگل کی شب سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔

    ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے خطے کی مجموعی صورتِ حال، مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور وسیع تر علاقائی پیش رفت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

    اسحاق ڈار نے اپنے سعودی اور ترک ہم منصب کو خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں اور مکالمے کے فروغ سے متعلق تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا۔

    دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان علاقائی امن کے لیے سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرگرم ہے۔

  6. کچھ ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا

    امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی رہنماؤں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف آئین کی 25ویں ترمیم کے تحت کارروائی کی جائے۔ یہ ترمیم اس صورت میں نائب صدر کو صدر کے اختیارات سنبھالنے کی اجازت دیتی ہے جب صدر اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ رہیں۔

    اگر نائب صدر اور کابینہ کی اکثریت اس بات پر متفق ہو جائے کہ صدر اپنے منصب کے قابل نہیں رہے، تو وہ کانگریس کو اس بارے میں باضابطہ اطلاع دے سکتے ہیں۔ تاہم، اس بات کا کوئی اشارہ نہیں کہ نائب صدر جے ڈی وینس یا کابینہ کے ارکان اس متعلق سوچ رہے ہیں۔

    کئی ڈیموکریٹک قانون سازوں نے ٹرمپ پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’نسل کشی جیسے جنگی جرائم کی دھمکیاں‘ دے رہے ہیں اور ’اتنے خطرناک‘ ہیں کہ انھیں جوہری ہتھیاروں کے کوڈز تک رسائی نہیں ہونی چاہیے۔

    کانگریس کی رکن الیگزینڈریا اوکاسیو-کورتیز نے کہا کہ ٹرمپ کے بیانات ’نسل کشی کی دھمکی‘ ہیں اور ان کے مطابق صدر کی ذہنی حالت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔

    ایوانِ نمائندگان کے سینیئر ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ مل کر مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کو روکنے کے لیے ووٹ دیں، ورنہ ٹرمپ ملک کو ’تیسری عالمی جنگ‘ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

    ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ’ایک پوری تہذیب کو مٹانے‘ کا بیان انتہائی تشویشناک ہے اور کانگریس کو اس پر فیصلہ کن ردعمل دینا چاہیے۔

    ایوانِ نمائندگان اس وقت تعطیلات پر ہے اور 14 اپریل کو دوبارہ اجلاس ہو گا۔

  7. بریکنگ, صدر ٹرمپ سے مخلصانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کریں: وزیر اعظم شہباز شریف

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پُرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں مستقل، مضبوط اور مؤثر انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں، اور امکان ہے کہ یہ کوششیں مستقبل قریب میں ٹھوس نتائج تک پہنچیں۔‘

    ایکس پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’سفارت کاری کو اپنا راستہ مکمل کرنے دینے کے لیے، میں صدر ٹرمپ سے مخلصانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کریں۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’پاکستان پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے ایرانی بھائیوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ نیک نیتی کے طور پر دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کو کھول دیں۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’ہم تمام فریقین سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ دو ہفتوں کے لیے ہر جگہ جنگ بندی کریں تاکہ سفارت کاری جنگ کے حتمی خاتمے تک پہنچ سکے، جو خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔‘

  8. اگر ایران صدر ٹرمپ کی دی گئی ڈیڈ لائن پوری نہ کر سکا تو امریکی فوج کیا کر سکتی ہے؟, ڈینیئل بش، بی بی سی نیوز۔ واشنگٹن

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی شہری تنصیبات کے بڑے حصے کو تباہ کرنے کی دھمکی پر اس وقت سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں، یہ سب اس لیے کہ انھوں نے ایک ایسی جنگ شروع کی جس کا کوئی واضح منصوبہ یا اختتامی حکمتِ عملی موجود نہیں تھی۔

    ماہرین اور تجزیہ کاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ نے ایسی دھمکیاں دے کر خود کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جنھیں امریکی فوج ایک ہی وار میں عملی جامہ نہیں پہنا سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ حملوں کا نیا سلسلہ، چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، ایرانی حکومت کو فوری طور پر جنگ بندی پر آمادہ نہیں کرے گا۔

    ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ اگر منگل کی شام آٹھ بجے تک معاہدہ نہ ہوا تو وہ چار گھنٹوں میں ایران کے ’ہر پل‘ اور بجلی گھروں کو تباہ کر دیں گے۔ منگل کی صبح انھوں نے مزید سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے ان کی ڈیڈ لائن تک معاہدہ نہ کیا تو ’ایک پوری تہذیب مٹ جائے گی‘۔

    یہ بیانات مجموعی طور پر ایک امریکی صدر کی جانب سے غیر معمولی دھمکی تصور کیے گئے۔ ناقدین نے کہا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے، جسے ٹرمپ نے پیر کی پریس کانفرنس میں مسترد کر دیا۔

    اس بحث سے ہٹ کر، سابق امریکی دفاعی حکام اور دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران جیسے بڑے ملک کے ہر پل کو چند گھنٹوں میں تباہ نہیں کر سکتا، جیسا کہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا۔

    ایران رقبے کے لحاظ سے امریکہ کے براعظمی حصے کے تقریباً ایک تہائی کے برابر ہے۔

    ماہرین کے مطابق امریکہ کو ایران کی اہم جوہری تنصیبات اور کچھ بنیادی ڈھانچے کے مقامات کا علم ہے، مگر ہزاروں دیگر اہداف کی نشاندہی اور انھیں اتنے کم وقت میں تباہ کرنا ممکن نہیں۔

    ایک سابق اعلیٰ دفاعی اہلکار نے کہا کہ ’اس دھمکی پر لفظی طور پر عمل کرنا ایک دیوہیکل کام ہو گا۔ اور کیا اس کا مطلوبہ سٹریٹجک اثر بھی ہو گا؟ ان کے مطابق ٹرمپ ایسے الفاظ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو امریکہ کے حق میں سٹریٹجک دباؤ بڑھا سکیں۔

    ماہرین کے مطابق ایران کے بجلی کے شعبے پر بڑے پیمانے کا حملہ ہر پل کو تباہ کرنے کے مقابلے میں زیادہ قابلِ عمل ہے۔

    سابق امریکی محکمہ خزانہ کے اہلکار میاد ملیکی کے مطابق ایران کے زیادہ تر بجلی گھر اور ریفائنریاں خلیج فارس کے ساحلی صوبوں، بوشہر، خوزستان اور ہرمزگان میں واقع ہیں۔ ان علاقوں میں حملے ایرانی حکومت کو بڑا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’آپ ان تین صوبوں میں کچھ بھی کریں، آپ حکومت کی تیل آمدنی اور خلیج فارس و آبنائے ہرمز تک رسائی کو کاٹ دیتے ہیں۔‘

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ نے خلیج فارس کے اہم جزیرے خارگ پر فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے، جہاں سے ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات گزرتی ہیں۔

    بوداپیسٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ یہ حملے ٹرمپ کی حکمتِ عملی میں تبدیلی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈیڈ لائن تک مذاکرات جاری رہیں گے، مگر خبردار کیا کہ امریکہ ایران کی معیشت کو ’بہت زیادہ نقصان‘ پہنچا سکتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے ان رپورٹس کو مسترد کیا کہ جے ڈی وینس کے بیانات میں کسی امریکی جوہری حملے کا اشارہ تھا۔

    کچھ شہری تنصیبات پہلے ہی نشانہ بن چکی ہیں۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے منگل کو کہا کہ امریکی۔اسرائیلی فضائی حملوں نے قم شہر کے ایک پل کو نشانہ بنایا۔ گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران کے سب سے بڑے پل کو بمباری کا نشانہ بنایا۔

    یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کی دھمکیوں کے مطابق حملوں کا نیا سلسلہ تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کافی ہو گا یا نہیں۔

    منگل کو امریکی اور ایرانی حکام نے براہِ راست بات چیت کی، جبکہ کئی ہفتوں کی بالواسطہ بات چیت کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو چکی تھی۔ دونوں ممالک اب بھی اہم معاملات۔۔ ایران کے تیل کے شعبے، جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر شدید اختلاف رکھتے ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف، داماد جیرڈ کشنر اور جے ڈی وینس مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں۔ مگر ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ روزمرہ مذاکرات وٹکوف اور کشنر دیکھ رہے ہیں اور جے ڈی وینس کو صرف اس وقت شامل کیا جائے گا جب معاہدہ قریب ہو۔

    ٹرمپ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایران کا پاور گرڈ بڑے پیمانے پر تباہ ہو گیا تو عوامی دباؤ حکومت کو معاہدے پر مجبور کر سکتا ہے۔

    مگر جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی ایرانی عوام بجلی کی بندشوں کا سامنا کر رہے تھے۔ میاد ملیکی کے مطابق حکومت شاید مزید بلیک آؤٹس کو امریکہ سے مذاکرات کی ترغیب کے طور پر نہ دیکھے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ جنگی مسئلہ نہیں۔ ایرانی عوام پہلے ہی ناکارہ توانائی کے شعبے سے نمٹ رہے ہیں۔‘

    ایران کے بجلی کے شعبے پر حملہ ٹرمپ کی اس کوشش کو پیچیدہ بنا سکتا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولا جائے۔ ایران نے اس آبی راستے میں زیادہ تر تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک دی ہے، جس سے عالمی تیل منڈی میں ہلچل اور قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    سابق امریکی دفاعی اہلکار جیسن کیمبل کے مطابق ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ جنگ میں اضافہ کر کے امریکہ اپنے مقاصد کیسے حاصل کرے گا۔

    ان کے مطابق جنگ کے چھ ہفتے بعد بھی ایرانی حکومت نے ثابت کیا ہے کہ وہ شدید دباؤ برداشت کر سکتی ہے اور امریکی مطالبات کے آگے آسانی سے نہیں جھکے گی۔

    جیسن کیمبل نے کہا کہ ایران کی قیادت کے لیے یہ جنگ ’صرف ملک کے لیے نہیں بلکہ حکومت کے وجود کے لیے بھی ایک فیصلہ کن لڑائی ہے۔‘

  9. ٹرمپ کی پوری تہذیب کو مٹانے کی دھمکی انتہائی قابل مذمت، امریکی عوام حامی نہیں: امریکہ کی سابق نائب صدر

    امریکہ کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر ایک ایسی جنگ شروع کرنے کے بعد، جو اُن کی اپنی پیدا کردہ ہے اور جس کے خاتمے کے لیے اُن کے پاس نہ کوئی منصوبہ ہے نہ حکمتِ عملی، اب جنگی جرائم کرنے اور ایک ’پوری تہذیب کو مٹانے‘ کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

    کملا ہیرس نے کہا کہ ’یہ انتہائی قابلِ مذمت ہے، اور امریکی عوام اس کی حمایت نہیں کرتے۔‘

    سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر انھوں نے ٹرمپ کے خلاف اپنی رائے دی کہ ’صدر کی یہ لاپرواہی ہمارے بہادر فوجیوں کو بلاوجہ خطرے میں ڈال رہی ہے، امریکہ کی عالمی ساکھ کو تباہ کر رہی ہے، اور امریکی عوام کے لیے زندگی کو مزید ناقابلِ برداشت بنا رہی ہے‘۔

    انھوں نے تجویز دی کہ ’ہم سب کو اس کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے اور اس غیر قانونی جنگ کے لیے فنڈنگ کی مخالفت کرنی چاہیے۔‘

    یاد رہے کہ کملا ہیرس صدر ٹرمپ کے خلاف امریکہ کے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے والی پہلی سیاہ فام خاتون امیدوار تھیں۔

  10. پاکستان کا ایک ارب 43 کروڑ ڈالر کے غیر ملکی بانڈ کی ادائیگی کا اعلان, سارہ حسن، صحافی

    پاکستان نے یورو بانڈ کی مدت مکمل ہونے پر ایک ارب 43 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کر دی ہے۔

    انھوںنے اپنے بیان میں کہا کہ آٹھ اپریل کو پاکستان کو 10 سالہ مدت کے لیے جاری کیے گئے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر مالیت کے یورو بانڈ ادائیگی کرنا تھی۔

    خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ یورو بانڈ پر واجب الادا کوپن ریٹ یا شرح سود کی مد میں 12 کروڑ 61 لاکھ ڈالر بھی ادا کیے گئے ہیں اور اس طرح پاکستان نے مجموعی طور پر ایک ارب 42 کروڑ ڈالر کی ادئیگیاں کی ہیں۔

    قرض کی ادائیگی کے موقع پر مشیر برائے وزیر خزانہ نے کہا کہ واجب الادا قرض کی بروقت ادائیگی پاکستان کے نظم و ضبط، مؤثر صلاحیت اور مضبوط ساکھ کو ظاہر کرتی ہے۔

    اس سے قبل پاکستان نے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں شامل متحدہ عرب امارات کو ساڑھے تین ارب ڈالر واپس کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    پاکستان بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ میں باقاعدگی سے اپنے بانڈ کے اجرا کے ذریعے قرض لیتا رہا ہے، جس کا مقصد غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنا ہے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 27 مارچ تک مرکزی بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 16 ارب 38 کروڑ ڈالر ہے۔

    کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص زرِ مبادلہ کے ذخائر پانچ کروڑ 41 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے بعد ملک کے مجموعی ذخائر 21.79 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

  11. روس اور چین نے سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے قرارداد ویٹو کردی, ناڈا توفیق، نیو یارک

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور چین نے خلیجی ممالک کی جانب سے پیش کی گئی ایک مسودہ قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے دفاعی اور مربوط کوششوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔

    گیارہ ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دیا جبکہ کونسل کے دو ارکان (پاکستان اور کولمبیا) نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

    چند ہفتوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد یہ قرارداد ابتدا میں چیپٹر سیون کے تحت تھی (جس میں فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت شامل تھی)، پھر بعد میں اسے حذف کر کے لکھا گیا کہ ’ریاستوں کو تمام ضروری دفاعی ذرائع استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے‘ اور آخرکار اسے محض دفاعی کوششوں کی پُرزور حوصلہ افزائی تک ہی محدود کر دیا گیا۔

    بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے اس اجلاس کی صدارت کی۔

    ووٹنگ سے قبل خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کونسل کے ارکان کو بتایا کہ اس قرارداد کے ذریعے کوئی نئی حقیقت نہیں بنائی جا رہی، بلکہ یہ ایران کے بار بار دہرائے جانے والے جارحانہ رویّے کے سلسلے کے جواب میں ایک سنجیدہ اقدام ہے، جس کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔

    انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بطور ہتھیار استعمال کو روکنے میں سلامتی کونسل کی ناکامی کے دنیا کے لیے سنگین نتائج ہوں گے اور اس طرزِ عمل کو دیگر آبی گزرگاہوں میں بھی دہرایا جا سکتا ہے، جس سے دنیا ایک جنگل میں تبدیل ہو جائے گی۔

  12. صدر میکخواں نے ایران میں دو فرانسیسی شہریوں کی رہائی کی تصدیق کر دی

    ایران نے ماضی میں حراست میں لیے گئے دو فرانسیسی شہریوں سیسلی کوہلر اور جیکیوس پیرس کو ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں فرانسیسی شہریوں کی رہائی کوششوں کے لیے حکام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    گذشتہ برس کوہلر اور پیرس کو ایران کی ایک عدالت کی جانب سے جاسوسی کے الزامات پر قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ انھیں مئی 2022 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

  13. ٹرمپ کی تازہ پوسٹ سے ظاہر نہیں ہوتا کہ انھیں معاہدے کا امکان ہے, سارہ سمتھ، شمالی امریکہ کی ایڈیٹر

    ڈونلڈ ٹرمپ اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں عموماً سخت زبان استعمال کرنے سے نہیں ہچکچاتے، لیکن اس بار ان کی دھمکی کہ ’ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو جائے گی، کبھی دوبارہ واپس نہیں آئے گی‘ انتہائی شدید ہے۔

    ٹرمپ نے ایران کے لیے شام 8:00 بجے (امریکہ کے مشرقی وقت) تک ڈیڈ لائن مقرر کی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سمیت کسی معاہدے پر رضا مندی ظاہر کرے، ورنہ اس کے شہری انفراسٹرکچر، تمام پلوں اور پاور پلانٹس سمیت بڑے حصے کو تباہ کیا جائے گا۔

    تاہم، صدر نے ماضی میں بھی ایسی ڈیڈ لائنز مقرر کیں، مگر اکثر وقت بڑھا دیا۔

    ان کی تازہ ترین پوسٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس بار وہ اپنی ڈیڈ لائن پر قائم رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایران پر ممکنہ تباہ کن حملے کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے لکھا: ’میں نہیں چاہتا کہ یہ ہو، مگر شاید یہ ہو جائے۔‘

    مذاکرات جاری ہیں، لیکن بظاہر خوشگوار نتائج سامنے نہیں آ رہے۔

    ٹرمپ نے پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ ایران کی نئی قیادت ممکنہ طور پر معاہدے پر راضی ہو جائے ’شاید کچھ شاندار ہو جائے، کون جانتا ہے؟‘

    تاہم، ان کی تازہ ترین پوسٹ سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ آج رات اپنی مقررہ ڈیڈ لائن سے پہلے کسی معاہدے کے امکان پر پرامید ہیں۔

  14. ٹرمپ کی ایران کے لیے آخری ڈیڈ لائن سے پہلے: جنگ کے دوران دیگر ڈیڈ لائنز کا جائزہ

    تقریباً ایک گھنٹہ قبل، ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے پر معاہدہ نہ کیا تو ’ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو جائے گی‘۔

    جیسا کہ ہم نے پہلے رپورٹ کیا، یہ اس تنازع کے دوران ٹرمپ کی پہلی ڈیڈ لائن نہیں ہے۔ یہاں پچھلی ڈیڈ لائنز کا خلاصہ پیش ہے:

    ڈیڈ لائن 1: 21 مارچ کو ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر پانی کا راستہ نہیں کھولا تو وہ ’سب سے بڑے پاور پلانٹس سے شروع کرتے ہوئے‘ توانائی کے پلانٹس کو ’نشانہ بنا کر تباہ‘ کر دیں گے۔

    ڈیڈ لائن 2: دو دن بعد ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ’بہت اچھے اور نتیجہ خیز مذاکرات‘ ہوئے ہیں اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا گیا۔

    ڈیڈ لائن 3: 27 مارچ کو، ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی حکومت کی درخواست پر توانائی کے پلانٹس پر حملے کو 10 دن کے لیے ملتوی کیا گیا، جس سے نئی ڈیڈ لائن 6 اپریل مقرر ہوئی۔

    48 گھنٹے کی وارننگ: جمعہ کو، 6 اپریل کی ڈیڈ لائن کے قریب، انھوں نے خبردار کیا کہ ایران کے پاس ’48 گھنٹے‘ ہیں ورنہ وہ ’جہنم‘ برپا کر دیں گے۔

    شدید دھمکی: اتوار کو ایک پوسٹ میں، جس میں شدید زبان استعمال ہوئی، ٹرمپ نے دھمکی دہرائی اور کہا کہ ’منگل پاور پلانٹ ڈے اور برج ڈے ہوگا‘۔۔۔۔ بعد میں ایک اور پوسٹ میں کہا ’منگل، شام 8:00 بجے مشرقی وقت پر!‘

    تازہ ترین دھمکی: منگل کو، ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پیغام شیئر کیا جس میں کہا:’ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو جائے گی، کبھی دوبارہ واپس نہیں آئے گی۔ میں نہیں چاہتا کہ یہ ہو، مگر شاید یہ ہو جائے۔‘

  15. کور کمانڈرز کانفرنس میں سعودی عرب پر حملوں کی مذمت: ’ایرانی حملے امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں‘

    پاکستانی فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 274ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں سعودی عرب کے پیٹروکیمیکل اور صنعتی کمپلیکس پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے حملے امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی زیر صدارت 274ویں کور کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد ہوا۔

    فورم نے سعودی عرب کی تحمل مزاجی اور محتاط رویے کو سراہا اور کہا کہ بلاجواز جارحیت پرامن اقدامات اور سازگار ماحول کو متاثر کرتی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہا اور پاکستان کی مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور اصولی سفارتکاری میں پرعزم عزم کا اعادہ کیا۔ فورم نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار سٹیک ہولڈر کے طور پر علاقائی سلامتی میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

    فورم نے انڈیا کی جانب سے پھیلائی جانے والی گمراہ کن معلومات، جھوٹے فلیگ آپریشنز اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل کارکردگی اور انسداد دہشت گردی میں ثابت قدمی کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت، مسلح افواج اور عوام کے باہمی تعاون سے پاکستان اپنی سیکیورٹی، معاشی استحکام اور عالمی و علاقائی حیثیت کو مضبوط کر رہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ انڈیا اور دیگر بیرونی سرپرستوں کی ایما پر کام کرنے والے دہشت گرد عناصر، ان کے سہولت کاروں اور معاونین کو بلا امتیاز ختم کیا جائے گا۔ آپریشن غضب للحق کی رفتار برقرار رکھی جائے گی یہاں تک کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ اور افغان سرزمین کے استعمال کو مکمل ختم کر دیا جائے۔

  16. ایران کی سعودی عرب میں ایک پیٹرو کیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنانے کی تصدیق

    پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے علاقے جبیل میں ایک پیٹرو کیمیکل کمپلیکس پر حملہ کیا، یہ بیان ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے جاری کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون اور میزائل حملہ ایران میں پیر کے روز پیٹرو کیمیکل پلانٹس کو نشانہ بنانے کے جواب میں کیا گیا۔

    یہ رپورٹ اس سے قبل اے ایف پی نیوز ایجنسی کی جانب سے بھی سامنے آئی تھی جنھوں نے عینی شاہدین سے بات کی۔

    اے ایف پی کے مطابق حملے کے نتیجے میں کمپلیکس میں آگ لگی اور زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    دن کے آغاز میں کئی ایرانی میڈیا اداروں، بشمول فارس، نور، اور تسنیم نے بھی آگ لگنے کی رپورٹ دی اور ایک ویڈیو شیئر کی جس میں کمپلیکس میں آگ دکھائی گئی۔

    بی بی سی ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے، اور سعودی عرب کی حکام نے ابھی تک ان رپورٹس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

  17. امریکہ ایران میں اپنے عسکری اہداف حاصل کر چکا ہے: امریکی نائب صدر

    ہنگری کے دارالحکومت بڈاپیسٹ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ ’بنیادی طور پر‘ ایران میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔

    بڈاپیسٹ میں واشنگٹن پوسٹ نے ان سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس کوئی ایسی معلومات موجود ہے، جس سے ایران اور امریکہ کے درمیان کسی معاہدے کا امکان نظر آتا ہو؟

    اس کے جواب میں امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ ’بنیادی طور پر‘ ایران میں اپنے عسکری مقاصد حاصل کر چکا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ کے اختتام کی نوعیت ایران پر منحصر ہے اور یہ کہ یہ تنازع ’دو طریقوں‘ سے اپنے انجام کو پہنچ سکتا ہے۔

    جے ڈی وینس نے کہا کہ ایک یہ کہ ’ایران ایک نارمل ملک بن جائے، وہ دہشگردی کی مالی معاونت ختم کرے، وہ دنیا کے کاروباری نظام کا حصہ بن جائے۔‘

    ان کے مطابق دوسرا آپشن یہ ہے کہ ’اگر ایران مذاکرات نہیں کرتا تو اس کی اقتصادی صورتحال مزید خراب ہوتی جائے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کر کے ’دنیا کو زیادہ سے زیادہ اقتصادی تکلیف پہنچانے‘ کی کوشش کی ہے لیکن امریکہ اسے ’زیادہ تکلیف‘ پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  18. امریکی عہدیدار کی ایران کے خارگ جزیرے پر تازہ حملوں کی تصدیق

    امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو ایک امریکی عہدیدار نے خارگ جزیرے پر امریکہ حملوں کی تصدیق کی ہے۔

    سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکہ نے خارگ جزیرے پر عسکری اہداف پر تازہ حملے کیے اور ان حملوں میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

  19. ’آج رات ایک پوری تہذیب مِٹ جائے گی‘: صدر ٹرمپ کی ایران کو ایک اور دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں دھمکی دی ہے کہ ’آج رات ایک پوری تہذیب مِٹ جائے گی جسے دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکے گا۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’میں ایسا کرنا نہیں چاہتا لیکن شاید ایسا ہی ہوگا۔ تاہم اب ہمارے پاس (ایران میں) مکمل تبدیل شدہ حکومت اور مختلف، دانا اور کم انتہاپسند دماغ ہیں، تو شاید کچھ زبردست اور انقلابی عمل دیکھنے میں آ جائے۔‘

    ’ہمیں آج رات پتا چل جائے گا، یہ دنیا کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کے سب سے اہم لمحات میں سے ایک ہے۔ 47 سالہ بھتہ خوری، بدعنوانی اور موت بالآخر آج اختتام کو پہنچے گی۔‘

    خیال رہے اس سے قبل ٹرمپ نے ایران کو منگل تک آبنائے ہرمز کھولنے کی ڈیڈلائن دی تھی۔

  20. ایرانی ریلوے پُل پر حملے میں دو افراد ہلاک: سرکاری میڈیا

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا کے مطابق کاشان شہر میں ایک پُل پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

    اِرنا کے مطابق اصفہان میں گورنر کے دفتر کے ڈپٹی سکیورٹی افسر کا کہنا ہے کہ کاشان شہر میں یحییٰ آباد ریلوے سٹیشن پر حملہ ہوا ہے۔

    بی بی سی اس دعوے کی آزادنہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ تاہم یہ اطلاعات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب اسرائیلی فوج نے ایرانی شہریوں کو ٹرینوں میں سفر نہ کرنے کے حوالے سے انتباہ جاری کیا تھا۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے بھی گذشتہ روز دھمکی دی تھی کہ ایرانی انفراسٹرکچر کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دیا جائے گا۔