آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

مذاکرات کی بنیاد بننے والی تجاویز کی خلاف ورزی کے بعد بات چیت یا جنگ بندی غیرمعقول ہے: باقر قالیباف

پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو ابھی 24 گھنٹے بھی پورے نہیں ہوئے ہیں کہ بدھ کو اسرائیل کی جانب سے لبنان پر شدید بمباری اور اس کے ردعمل میں ایران کے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیے جانے سے اس کے مستقبل پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔

خلاصہ

  • ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔‘
  • ایرانی صدر کی اسلام آباد میں 10 اپریل (جمعہ) کو ہونے والے تہران، واشنگٹن مذاکرات میں شرکت کی تصدیق
  • سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کا پاکستان کی جانب سے مستقل معاہدے کے لیے ثالثی کوششوں کی حمایت کا اعلان
  • 15 نکات میں کئی پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا، ایران کے ساتھ پابندیوں اور ٹیرف میں نرمی پر بات چیت کر رہے ہیں: صدر ٹرمپ
  • عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد تیل و گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی، سٹاک مارکیٹس میں تیزی کا رحجان جبکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کا آغاز ہونے کی رپورٹس
  • یورپی رہنماؤں کا عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم اور پاکستان کی ’کامیاب ثالثی کوششوں‘ پر شکریہ

لائیو کوریج

  1. اسرائیلی حملوں کا خطرہ: مشہد میں ٹرین سروس تاحکمِ ثانی معطل

    ایران کی فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی ٹرینوں پر حملوں کی وارننگ کے بعد مشہد میں ریلوے سروسز معطل کر دی گئی ہیں۔

    خیال رہے اسرائیل نے ایران کے شہریوں کو ٹرین میں سفر کرنے سے اجتناب کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ’آپ کی زندگی کو خطرات‘ لاحق ہو سکتے ہیں۔

    ایرانی میڈیا پر شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق مشہد کے گورنز کا کہنا ہے کہ احتیاطاً ٹرین سروس ’تاحکم ثانی‘ معطل رہے گی۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو شہری اپنے سفر میں تاخیر نہیں کر سکتے ان کے لیے بذریعہ سڑک متبادل راستے موجود ہیں۔

  2. ایران نے اسرائیل پر مزید میزائل داغے ہیں: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر مزید میزائل حملے کیے ہیں۔

    اسرائیلی ڈیفینس فورسز (آئی ڈی ایف) کے مطابق اس کے دفاعی نظام ان میزائلوں کا ناکارہ بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

  3. پاکستان کی ایرانی حملوں کی مذمت: ’مشکل وقت میں سعودی عرب کی حکومت، لوگوں کے ساتھ ہیں‘

    پاکستان نے سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع توانائی کی تنصیبات پر گذشتہ رات کیے گئے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی ’دو ٹوک‘ مذمت اور ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ان حملوں میں جانوں کے ضیاع پر دکھ اور اہم انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    ’حکومتِ پاکستان متاثرین کے خاندانوں سے تعزیت کرتی ہے اور اس مشکل وقت میں سعودی عرب کی حکومت اور لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے۔‘

    خیال رہے ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے منگل کو کہا تھا کہ انھوں نے سعودی عرب میں امریکی کمپنیوں کی پیٹروکیمیکل تنصیبات کو الجامعہ اور الجبیل میں نشانہ بنایا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق یہ گیس اور تیل کی تنصیبات امریکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ: ’حکومت پاکستان ان حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی سمجھتی ہے۔‘

    پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی سے خطے کا امن اور استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

  4. استنبول میں ایک منٹ سے کم وقت میں دو درجن گولیاں چلنے کی آوازیں

    استنبول سے سامنے آنے والی ایک ویڈیوں میں گولیاں چلنے کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

    فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو مسلح پولیس اہلکار ایک گاڑی کے قریب بیٹھے ہوئے ہیں اور ایک پولیس اہلکار فائرنگ کے دوران گاڑیوں کی آڑ میں آگے بڑھ رہا ہے۔

    ایک منٹ سے بھی کم وقت کی اس ویڈیو میں کم از کم دو درجن گولیاں چلنے کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

  5. استنبول میں قونصل خانے کے قریب فائرنگ کی اطلاعات کا جائزہ لے رہے ہیں: اسرائیل

    اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کے قریب فائرنگ کی اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے بیان سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ فائرنگ کے واقعے کے وقت قونصل خانے میں کوئی عملہ موجود نہیں تھا۔

  6. استنول میں حملہ آوروں نے پولیس کے ساتھ تصادم میں پستولوں اور رائفلوں کا استعمال کیا, اورلا گوئرن، استنبول

    اگر یہ واقعی کسی اسرائیلی ہدف پر حملے کی کوشش تھی، جیسا کہ ترک میڈیا رپورٹ کر رہا ہے، تو یہ دن دہاڑے کی گئی ایک انتہائی بےباک کوشش تھی۔

    استنبول کے گورنر کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے پولیس کے ساتھ تصادم کے دوران پستولوں اور رائفلوں کا استعمال کیا ہے۔

    فائرنگ کے واقعے کے وقت استنبول کے بزنس ڈسٹرکٹ میں واقع قونصل خانے میں اسرائیلی سفارتی عملہ موجود نہیں تھا۔ ہم پہلے بھی رپورٹ کر چکے ہیں کہ ترکی میں اس وقت کوئی اسرائیلی سفارتکار تعینات نہیں ہے۔

  7. انقرہ میں اسرائیلی سفارتخانے اور استنبول میں قونصل خانے کے اطراف سخت سکیورٹی ہوتی ہے, پال کربی، ڈیجیٹل ایڈیٹر برائے یورپ

    اسرائیل نے ترکی میں اپنی سفارتی خدمات کو کم سے کم سطح تک محدود کر دیا ہے اور یہودی تہوار ’پاس اوور‘ کے دوران ویسے بھی وہاں عملے کی تعداد زیادہ نہیں ہوتی۔

    انقرہ اسرائیلی سفارتخانے اور استنبول میں قونصل خانے میں سکیورٹی ہمیشہ سخت رہتی ہے، اس لیے اس حملے کے پیچھے جو بھی تھا، اس کے کامیاب ہونے کے امکانات کم تھے۔

    غزہ میں جنگ کی شروعات کے بعد ترکی کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات میں ڈرامائی بگاڑ پیدا ہوا ہے اور رجب طیب اردوغان کی حکومت اسرائیل پر کڑی تنقید کرتی آئی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان کوئی حقیقی تعلق موجود نہیں ہے، حالانکہ ماضی میں وہ قریبی شراکت دار رہے ہیں اور اب دونوں کے درمیان سکیورٹی اور انٹیلی جنس روابط برقرار ہیں۔

    ترکی نے ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں شامل ہونے سے گریز کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم اس کے باوجود ایرانی ڈرونز کے ذریعے اس کی سرزمین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے کئی ڈرونز کو مار گرایا ہے اور انقرہ نے ان واقعات کو ناقابلِ قبول بھی قرار دیا ہے۔

  8. استنبول میں فائرنگ کے واقعے میں ایک حملہ آور ہلاک، دو زخمی

    ترکی کے وزیرِ داخلہ مصطفیٰ چفتجی کا کہنا ہے کہ استنبول میں یاپی کریڈی پلازہ کے باہر تعینات پولیس اہلکاروں نے مسلح تصادم کے بعد ایک حملہ آور ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں ترکی کے وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ’اس تصادم میں ہمارے دو پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ دہشتگردوں کی شناخت کرلی گئی ہے۔‘

    ’یہ معلوم کرلیا گیا ہے کہ یہ افراد ازمیت سے استنبول ایک کرائے کی گاڑی میں پہنچے تھے اور ان میں سے ایک کا تعلق ایسی تنظیم سے ہے جو مذہب کا غلط استعمال کرتی ہے۔ ان میں دو بھائی بھی شامل تھے، جن میں سے ایک کا نشے کرنے کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔‘

    اس سے قبل ترکی کے مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ استنبول میں اسرائیلی قونصلیٹ کے باہر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔

  9. استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کے قریب فائرنگ: ترک میڈیا

    ترکی کے شہر استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کے قریب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے اور مقامی میڈیا کے مطابق اس میں ایک حملہ آور ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں دو پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی کے مطابق ترکی میں اس وقت انقرہ میں واقع اسرائیلی سفارتخانے اور استنبول میں واقع قونصل خانے میں کوئی سفارتکار موجود نہیں ہے۔

  10. ایران کے قریب کارگو جہاز پر حملہ، عملہ محفوظ رہا: برطانوی میری ٹائم ادارہ

    برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (ایم ٹی او) کے مطابق ایران کے جزیرۂ کیش کے جنوب میں ایک کارگو جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    جزیرۂ کیش ایران کے جنوبی ساحل کے قریب ہرمزگان صوبے میں واقع ہے۔

    ایم ٹی او کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں جہاز کے ان حصوں کو نقصان پہنچا ہے جو ’پانی کی سطح سے اوپر‘ ہیں، جبکہ مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس حملے کے بعد جہاز کا تمام عملہ محفوظ رہا ہے۔

    حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

  11. 190 ملین پاؤنڈ کیس: عدالت کا عمران خان سے اُن کے وکیل کی ملاقات کروانے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت عدالت نے اڈیالہ جیل کے حکام کو حکم دیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کی عمران خان سے بدھ دو بجے ملاقات کروائی جائے۔

    تین ماہ سے زیادہ عرصے سے عمران خان سے نہ تو ان کی بہنوں کی اور نہ ہی ان کے وکلا کی ملاقات کروائی گئی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفرارز ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی حد تک سزا معطلی سے متعلق اپیل پر فیصلہ سنانے کی استدعا پر ریمارکس دیے کہ اپیل پر دلائل دینا شروع کریں گے تو سات یوم میں فیصلہ کر دیں گے۔

    چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بینچ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے ایک سو نوے ملین برطانوی پاؤنڈ میں سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔

    نیب سپیشل پراسیکیوٹر اور عمران خان کے وکیل سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔ سلمان صفدر نے موقف اپنایا کہ 31 مارچ عدالت نے ایک آرڈر پاس کیا تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کی متفرق درخواست کیا ہے؟ انھوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کی متفرق درخواست منظور کر لیتے ہیں، آپ جا کر اپنے موکل سے مل لیں۔

    عدالت نے حکم دیا کہ جیل حکام عمران خان سے سلمان صفدر کی ملاقات کرائیں۔

    عدالت نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ کل کتنے بجے ملاقات کرنا چاہییں گے؟ تو سلمان صفدر بولے کہ دو بجے کا وقت رکھ دیں عدالت نے سلمان صفدر کی عمران خان سے کل دو بجے ملاقات کرانے کا حکم دے دیا۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں سلمان صفدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ملاقات کرلیں تو پھر ہر ہفتے دو دن کیلئے اپیل لگا دیں گئے۔

    جس پر سلمان صفدر نے موقف اپنایا کہ عدالت ابھی اپیل نہ لگائے جیل میں ملاقات کر لوں پھر عدالت کی معاونت کروں گا۔

    سلمان صفدر نے بشریٰ بی بی کی حد تک سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کی استدعا کی تو چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے۔ آپ اپیل پر دلائل دینا شروع کریں گے تو سات یوم میں اپیل کا فیصلہ کردیں گے۔

    نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر نے سوموار کو سماعت مقرر کرنے کی استدعا کی، تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دیکھ لیں کل بھی اس طرح سننے کو ملا حالانکہ ہمیں نہیں پتہ ہوتا پیر کو کیا مصروفیت ہوگی مصروفیت دیکھ کرہم تاریخ رکھتے ہیں عدالت نے کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔

  12. سعودی عرب کے اہم ’کنگ فہد پل‘ کو پانچ گھنٹے کی عارضی بندش کے بعد کھول دیا گیا

    سعودی حکام نے احتیاطی اقدام کے طور پر سعودی عرب اور بحرین کے درمیان واقع مرکزی شاہراہ، ’کنگ فہد پل‘ کو عارضی طور پانچ گھنٹے کی بندش کے بعد اب دوبارہ کھل دیا گیا ہے۔

    کنگ فہد کراسنگ کی جنرل اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’احتیاطی اقدام کے تحت کنگ فہد پل پر گاڑیوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل کی گئی تھی۔‘

    کنگ فہد پل تقریباً 25 کلومیٹر طویل ہے جو سعودی عرب کو بحرین سے ملاتا ہے۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک مقامی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے رات گئے سعودی عرب پر کیے گئے حملوں میں الجبیل شہر کے ایک وسیع صنعتی علاقے میں واقع ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد اس پُل کو بند کر دیا گیا تھا۔

    یہ حملہ اس کے چند گھنٹوں بعد کیا گیا جب عسلویہ میں اسی نوعیت کی تنصیبات پر حملہ ہوا تھا۔

    ذرائع کے مطابق سعودی بیسک انڈسٹریز کارپوریشن کی تنصیبات پر حملے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور ’دھماکوں کی آوازیں بہت دور تک سُنی گئیں۔‘

    الجُبیل مشرقی سعودی عرب کا ایک بڑا صنعتی شہر ہے جہاں فولاد، پٹرول، پیٹروکیمیکل مصنوعات، لبریکنٹس اور کیمیائی کھاد تیار کی جاتی ہیں۔

  13. بریکنگ, اسرائیلی فوج کا ایران میں ایک اور پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملے کا دعویٰ

    اسرائیلی دفاعی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایران میں ایک تیسرے پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا ہے۔

    فوج کے مطابق یہ حملہ پیر کے روز ایران کے جنوب مغربی شہر شیراز میں واقع ایک پلانٹ پر کیا گیا۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ یہ تنصیب بیلسٹک میزائلوں کی تیاری میں استعمال ہونے والا نائٹرک ایسڈ پیدا کرتی تھی۔

    اسرائیلی فوج نے مزید بتایا کہ یہ تیسرا حملہ ہے، جس سے قبل پیر کے ہی روز دو دیگر پیٹروکیمیکل کمپلیکسز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جن میں جنوبی ایران کے شہر عسلویہ میں واقع ساؤتھ پارس پیٹروکیمیکل پلانٹ اور صوبہ فارس میں مروَدشت پیٹروکیمیکل کمپلیکس شامل ہیں۔

  14. ایران پر 13ہزار سے زائد حملے اور 155 بحری جہاز تباہ کیے گئے: امریکہ کا دعویٰ

    جیسے ہی اسرائیل نے ایران میں مزید مقامات پر حملوں کی اطلاع دی ہے امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری سے جاری جنگ کے دوران اس نے ایران میں 13ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    سینٹرل کمانڈ نے اپنی فوجی کارروائی ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے 155 سے زائد ایرانی بحری جہازوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کیا ہے۔

    سینٹرل کمانڈ کے مطابق نشانہ بنائے گئے اہداف میں پاسدارانِ انقلاب کے ہیڈکوارٹرز، فضائی دفاعی نظام، بیلسٹک میزائل کے ٹھکانے اور ایرانی بحری جہاز اور آبدوزیں شامل ہیں۔

    دوسری جانب امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز سے اب تک ایران میں 3,500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 1,665 عام شہری شامل ہیں۔ ایرانی شہریوں پر اس کے اثرات کے بارے میں تفصیلی رپورٹ جلد جاری کی جائے گی۔

  15. جنگ روکنے کے لیے پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں اہم اور نازک مرحلے میں داخل ہو چُکی ہیں: ایرانی سفیر

    پاکستان میں ایران کے سفیر کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جنگ روکنے کے لیے پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں اہم اور نازک مرحلے میں داخل ہو چُکی ہیں۔‘

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے ایکس پر جاری اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ ’جنگ کو روکنے کے لیے نیک نیتی اور ثالثی کے تحت پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں ایک اہم اور نازک مرحلے میں داخل ہو چُکی ہیں۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے ایک ثالث کے طور پر کرداد ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ کے حوالے ہم نے ایک خبر آپ تک پہنچائی تھی کہ جس میں ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کو ’مستقل بنیادوں پر ختم کرنے‘ کے مقصد سے پاکستان کو امن تجاویز پیش کی ہیں۔

    ارنا کے مطابق ایرانی وفد نے امریکی تجاویز کے جواب میں اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں، جنھیں جمع کرانے سے قبل ایرانی قیادت نے تقریباً دو ہفتوں تک تفصیلی جائزے کے بعد حتمی شکل دی۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو بدھ کی صبح تک جواب دینے کی مہلت دی تھی اور ساتھ ہی خبردار بھی کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کے بجلی گھروں اور پُلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

  16. ٹرمپ کے بیانات سے ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی تصدیق ہوتی ہے: ایران کا اقوام متحدہ کو خط

    ایران کے مستقل مندوب نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو لکھے گئے خط میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے مُلک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی تصدیق ہوتی ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر نے اپنے حالیہ بیانات میں ایران کے مخالفین کو ہتھیار فراہم کرنے کا اعتراف کیا تھا، اُن کے اس بیان کں ایران کی جانب سے دسمبر کے احتجاج میں خارجی مداخلت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

    ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر امیر سعید ایروانی نے خط میں لکھا کہ ’امریکی صدر کا یہ اعتراف اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکہ نے ایران میں پرامن احتجاج کو تشدد، داخلی انتشار اور خونریزی میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔‘

    اس خط میں ایران کی جانب سے مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’اس بنیاد پر، امریکہ کو دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے دوران ہونے والے احتجاج میں شہریوں اور غیر سرکاری و سرکاری اداروں کو پہنچنے والے تمام نقصان اور تکلیف کی مکمل ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔‘

    واضح رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں ہونے والے احتجاج کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔ ایران کی جانب سے سرکاری طور پر حکومت مخالف مظاروں میں بتایا گیا کہ تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ انسانی حقوق کے اداروں اور تنظیموں کی جانب سے کہا گیا کہ مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً 7000 تھی اور اس حوالے سے مزید تحقیقیا جاری ہیں۔

  17. دھمکیاں، چاہے بیانات کی صورت میں ہوں یا عملی اقدامات کی شکل میں قابلِ مذمت ہیں: ریڈ کراس

    جنیوا کنونشنز کی نگران بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس نے خبردار کیا ہے کہ دانستہ دھمکیاں، چاہے وہ بیانات کی صورت میں ہوں یا عملی اقدامات کی شکل میں، قابلِ مذمت ہیں۔ ادارے نے کہا کہ بغیر کسی حد کے لڑی جانے والی جنگیں ناقابلِ دفاع، غیر انسانی اور تباہ کن ہوتی ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی گھروں اور حتیٰ کہ ڈی سیلینیشن (پانی صاف کرنے) کے پلانٹس پر حملوں کی بار بار دھمکیاں دی گئی ہیں۔

    آئی سی آر سی کے مطابق زندگی کے لیے ضروری بنیادی تنصیبات، جیسے کہ پانی اور بجلی کی فراہمی کے نظام، کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا جنیوا کنونشنز کے تحت ممنوع ہے۔

  18. اردن اور قطر کی ایرانی ’حملوں‘ کی مذمت، ایک دوسرے کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار

    اردن کے نائب وزیرِ خارجہ ایمن الصفدی اور قطر کے وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایران کی جانب سے دونوں ممالک اور دیگر برادر عرب ریاستوں پر ’حملوں‘ کی مذمت کی ہے۔

    دونوں رہنماؤں کی جانب سے ایران کی ان کارروائیوں کے خلاف مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور انھیں دونوں مُمالک کی جانب سے بین الاقوامی قانون اور ہمسائیوں کے حقوق کے اصولوں کی خلاف ورزی اور ریاستوں کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔

    دونوں وزرائے خارجہ نے دوحہ میں ہونے والی ملاقات کے دوران خطے میں جاری خطرناک کشیدگی کے اثرات اور اسے ختم کرنے کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو فعال بنانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔

    دونوں رہنماؤں کے مطابق ’ایسے اصولوں کی بنیاد پر حل تلاش کیا جا سکے جو خطے کے امن و استحکام کو یقینی بنائیں اور بین الاقوامی قانون اور ریاستی خودمختاری کا احترام برقرار رکھیں۔‘

  19. امریکی کانگریس میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے مواخذے کی قرارداد پیش کرنے کی تیاری

    ایرانی نژاد امریکی رکنِ کانگریس یاسمین انصاری نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے خلاف مواخذے یعنی امپیچمنٹ کے لیے بل پیش کر رہی ہیں۔

    اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے یاسمین انصاری نے کہا کہ ’جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کو حاصل ہے، کسی من مانی کرنے والے صدر یا اس کے قریبی حلقے کو نہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ پیٹ ہیگستھ کی لاپرواہی سے امریکی فوجی اہلکاروں کو خطرے میں ڈالنا اور بار بار جنگی جرائم کا ارتکاب، جن میں ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک سکول پر بمباری اور شہری انفراسٹرکچر کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا شامل ہے، مواخذے اور عہدے سے ہٹانے کے لیے کافی ہیں۔‘

    ادھر اس خبر کو شائع کرنے والے ادارے ایکسیوس نے پیٹ ہیگستھ کی عوامی مقبولیت میں کمی کی بھی نشاندہی کی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق کہ ’ پیٹ ہیگستھ، ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ میں ڈیموکریٹس کے لیے ایک اہم ہدف بن کر ابھرے ہیں، خاص طور پر ہوم لینڈ سکیورٹی کی وزیر کرسٹن نوم اور اٹارنی جنرل پام بَنڈی کی برطرفیوں کے بعد۔

    سروے ظاہر کرتے ہیں کہ پیٹ ہیگستھ ٹرمپ کابینہ کے کم مقبول ترین اراکین میں شامل ہیں، جبکہ ایران جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے ان کی عوام میں مقبولیت میں مزید دباؤ ڈالا ہے۔

  20. اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز کو رات آٹھ بجے بند کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے دکانیں، مارکیٹس اور شاپنگ مالز کو رات آٹھ بجے بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کہا ہے کہ احکامات سات اپریل 2026 سے تاحکم ثانی نافذ العمل رہیں گے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق پورے ہفتے کاروباری سرگرمیاں رات 8 بجے تک محدود رہیں گی، صرف میڈیکل سٹورز، ہسپتالوں اور لیبارٹریز کو اس بندش سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول پمپس اور سی این جی سٹیشنز پر پابندی لاگو نہیں ہوگی، تندور، بیکری اور دودھ کی دکانوں کو بھی پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ہوٹلز، ریسٹورنٹس، فوڈ آؤٹ لیٹس رات 10 بجے بند ہوں گے جبکہ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروسز پر پابندی عائد نہیں ہوگی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق شادی ہالز اور شادی تقریبات رات 10 بجے تک ختم کرنا لازمی ہوگا جبکہ گھروں، فارم ہاؤسز میں بھی شادی تقریبات رات 10 بجے ختم کرنا ہوں گی۔