’گورنر ہاؤس عوام کے لیے کھول دوں گا‘ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی صوبائی گورنر کو تنبیہ

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے صوبے کے گورنر کو متنبہ کیا ہے کہ اگر انھوں نے دوبارہ سیاسی بیانات دیے تو وہ گورنر ہاؤس عوام کے لیے کھول دیں گے۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وہ ایک آئینی عہدے پر ہیں اور اگر گورنر ہاؤس پر قبضے کی کوشش کی گئی تو وہ انھیں سڑکوں پر گھسیٹیں گے۔

خلاصہ

  • نو مئی واقعات کے اصل ذمہ داران کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں اور ان منصوبہ سازوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: آرمی چیف عاصم منیر
  • بااختیار طاقتوں کو کہتا ہو کہ عام معافی کا اعلان کرکے آگے بڑھیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں: علی امین گنڈاپور
  • ملک کے آئین و قانون کے تحت فوج کا ملکی سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے: مولانا فضل الرحمان
  • نو مئی بغاوت کا ایک منظم منصوبہ تھا جس کے ذریعے فوج میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی گئی: وزیراعظم شہباز شریف

لائیو کوریج

  1. فیض آباد دھرنا کیس: کمیشن کی رپورٹ پڑھ کر مایوسی ہوئی، بظاہر یہ رپورٹ کہ فیض حمید کے بیان کی بنیاد پر تیار کی گئی، چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ وہ یہ سمجھ نہیں پا رہے کہ رپورٹ تیار کرنے والوں کے ذہن میں کیا تھا، کیونکہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کمیشن کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اُن کی ذمہ داری کیا تھی۔

    پیر کے روز چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر اعوان پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رُکنی بینچ نے فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس پر سماعت کا آغاز کیا تو کمیشن کی جانب سے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔

    سماعت کے دوران کمیشن کے تینوں ممبران میں سے کوئی بھی عدالت میں پیش نہ ہوا اور اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ کمیشن کے سربراہ اختر علی شاہ کو آج سپریم کورٹ آنے کا کہا گیا تھا تاہم ان کی جانب سے معطلع کیا گیا کہ ان کی طبعیت ناساز ہے چنانچہ وہ عدالت نہیں آ سکتے۔

    دوران سماعت کمیشن کی رپورٹ پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بظاہر کمیشن نے یہ رپورٹ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید کے بیان کی بنیاد پر تیار کی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ انھیں یہ رپورٹ پڑھ کر مایوسی ہوئی اور بظاہر یہ کمیشن وقت ہی ضائع کرتا رہا ہے۔ انھوں نے استفسار کیا کہ بس آگے بڑھو، ماضی سے سیکھے بغیر کیسے آگے بڑھا جا سکتا ہے؟

    انھوں نے ریمارکس دیے کہ کمیشن کہہ رہا ہے جو کر رہے ہیں وہ ذمہ دار نہیں، بلکہ پنجاب حکومت ذمہ دار ہے، کمیشن نے یہ نہیں بتایا کہ حلف کی خلاف ورزی کس نے کی۔

    انھوں نے استفسار کیا کہ کمیشن کیسے کہہ سکتا ہے کہ مظاہرین کو پنجاب میں روکنا چاہیے تھا، پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے۔

    چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ انھیں معلوم نہیں کہ کمیشن کو کس بات کا خوف تھا اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انکوائری کمیشن کو پنجاب حکومت سے کوئی بغض ہے۔

    دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت خان نے ریمارکس دیے کہ کمیشن کا سارا فوکس صرف اس بات پر تھا کہ مظاہرین کو پنجاب سے اسلام آباد کیوں آنے دیا گیا، کمیشن نے سارا نزلہ پنجاب حکومت پر گرایا ہے۔

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کمیشن نے ساری رپورٹ پنجاب حکومت کے خلاف لکھ دی ہے، اس رپورٹ میں سنجیدگی کہیں نظر نہیں آ رہی۔

    اس موقع پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کمیشن کو فریم ورک کی سفارشات کا کہا تھا، مگر وہ نہیں دی گئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر 2019 والے فیصلے پر عمل کرتے تو شاید نو مئی کے واقعات بھی نہ ہوتے۔

    کیس کی سماعت جاری ہے جسے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر براہ راست نشر کیا جا رہا ہے۔

  2. پشاور ہائیکورٹ کے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے سے سُنی اتحاد کونسل کو کتنا نقصان پہنچا تھا؟

    سپریم کورٹ نے سُنی اتحاد کونسل کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں سے محروم رکھنے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا ہے کہ کسی ایک جماعت کی مخصوص سیٹیں دیگر جماعتوں میں کیسے تقسیم کی جا سکتی ہیں؟

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے 14 مارچ کو دیے گئے اپنے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ انتخابات میں شرکت کرنے والی سیاسی جماعتیں ہی مخصوص نشستوں پر حق رکھتی ہے تاہم سُنی اتحاد کونسل کے امیدواروں نے قومی یا صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے لیے آٹھ فروری کے الیکشن میں بطور جماعت حصہ نہیں لیا اور پارٹی چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیا تھا چنانچہ یہ جماعت مخصوص نشستوں کے حقدار نہیں ہے۔

    پیر کے روز سپریم کورٹ سے فیصلہ سامنے آنے کے بعد چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کو قومی و صوبائی اسمبلیوں میں مجموعی طور پر 78 نشستوں سے محروم کیا گیا تھا۔

  3. شیخ جعفر خان مندوخیل نے بلوچستان کے 24 ویں گورنر کی حیثیت سے حلف اُٹھا لیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    گورنر ہاؤس کوئٹہ منعقد تقریب میں بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے ان سے حلف لیا۔

    تقریب حلف برداری میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وزراء، سیاسی اور قبائلی عمائدین کے علاوہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

    حلف لینے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے شیخ جعفر خان نے کہا کہ ’بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر کام کریں گے اور جو لوگ بات کرنا چاہتے ہیں ہم ان کے ساتھ بات کریں گے۔‘

    گورنر نے کہا کہ ’بلوچستان والے خود اپنے ساتھ وفاق سے زیادہ زیادتی کرتے ہیں۔ وفاق نے بلوچستان کو جو فنڈز آج تک دیئے ہیں اس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’وفاق کے ساتھ جو معاملات ہیں ان کو حل کریں گے اور وفاق بھی بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

    شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کے حقوق کے لئے پہلے بھی ڈٹ کر کام کیا تھا اور اب بھی اسی محنت سے کام کو جاری رکھا جائے گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بلوچستان کا مقدمہ پہلے بھی لڑا ہے اب بھی لڑیں گے خواہ جس کی بھی حکومت ہو۔‘

  4. ’سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب حکومت کو آئینی ترمیم میں مشکلات کا سامنا ہو گا‘

    پارلیمانی سیاست کے ماہر اور پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے ساتھ اب حکومت کو آئینی ترامیم میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    انھوں نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ بظاہر مسلم لیگ ن اور دیگر اتحادی جماعتوں کی حکومت کے پاس قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت معطل ہو گئی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ججز اور چیف جسٹس کی تقرری کے حوالے سے قانون سازی زیر غور تھی مگر اب ان امیدوں پر پانی پھر گیا ہے کیونکہ اس کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔

    تاہم احمد بلال محبوب مزید کہتے ہیں کہ روٹین کی قانون سازی جس میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت نہیں، اس میں حکومت کو کوئی رکاوٹ درپیش نہیں۔

  5. سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کا تعلق مذاکرات سے نہیں: بیرسٹر گوہر

    gohar

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    مخصوص نشستوں پر فیصلہ سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے آج کے فیصلے کے ذریعے تسلیم کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا اس ضمن میں فیصلہ غیراصولی اور غیرآئینی تھا۔

    ’ہم یہی کہہ رہے تھے کہ اِن نشستوں پر سُنی اتحاد کونسل کا حق تھا مگر ہمارا حق ہم سے چھینا گیا اور دیگر جماعتوں میں بانٹ دیا گیا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ 78 ممبران جو پی ٹی آئی کی نشستوں پر قبضہ کر کے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں وہ آئندہ کسی قانون سازی میں حصہ نہ لیں۔ ہمارا شروع سے مؤقف یہی تھا کہ پارلیمان مکمل نہیں، یہی مؤقف ہم نے صدارتی انتخاب کے موقع پر اپنایا، مگر ہماری نہ سُنی گئی۔ ہمارا ابتدا سے یہی کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو پہلے اس معاملے پر فیصلہ کر لینے دیں اور پھر آگے بڑھیں۔‘

    ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کے فی الحال کسی کے ساتھ مذاکرات نہیں چل رہے۔ ’آج کے فیصلے کا تعلق کسی مذاکرات سے نہیں بلکہ یہ ایک آئینی معاملہ تھا جس پر سپریم کورٹ نے قانون کے مطابق فیصلہ دیا۔‘

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ آج عدالت عظمیٰ نے تحریک انصاف کو ریلیف دیا ہے مگر حتمی طور پر اس کیس کا فیصلہ پانچ رکنی یا اس سے بڑا بینچ ہی کرے گا۔

    ’پاکستان کی عدلیہ آج آئین پاکستان کے کھڑی ہے۔ ہم تمام قوتوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس نوعیت کے غیرآئینی ہتھکنڈوں سے عوام اور آئین کو شکست دے سکتے ہیں، تو اب ایسا ممکن نہیں رہا۔‘

  6. سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کا کیس: ’عوامی مینڈیٹ کی حفاظت کریں گے‘ جسٹس منصور علی شاہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے لیے دائر اپیل پر سماعت جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔

    آج دورانِ سماعت مخصوص نشستوں پر نامزد خواتین ارکان اسمبلی کی جانب سے بینچ پر اعتراض اٹھایا گیا اور وکیل خواتین ارکان کا کہنا تھا یہ آئین کے آرٹیکل 51 کی تشریح کا مقدمہ ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت کیس 5 رکنی بینچ سن سکتا ہے۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے بھی 3 رکنی بینچ پر اعتراض کر دیا گیا اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ اپیلیں لارجر بینچ ہی سن سکتا ہے۔

    سپریم کورٹ نے بینچ پر اعتراض مسترد کر دیا اور جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ابھی تو ابتدائی سماعت ہے، اگر اپیلیں قابل سماعت قرار پائیں تو کوئی بھی بینچ سن لے گا، اس مرحلے پر تو 2 رکنی بینچ بھی سماعت کر سکتا ہے۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے بھی تین رکنی بینچ پر اعتراض کر دیا گیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے کہا کہ اپیلیں لارجر بینچ ہی سن سکتا ہے۔

    تاہم عدالت کی جانب سے بینچ پر اعتراض مسترد کر دیا گیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ابھی تو ابتدائی سماعت ہے، اگر اپیلیں قابل سماعت قرار پائیں تو کوئی بھی بینچ سن لے گا۔

    وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی کے آزاد جیتے ہوئے اراکین اسمبلی نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا 7 امیدوار تاحال آزاد حیثیت میں قومی اسمبلی کا حصہ ہیں؟

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے پوچھا کیا پی ٹی آئی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے؟ جس پر فیصل صدیقی نے بتایا کہ پی ٹی آئی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا آزاد اراکین کو کتنے دن میں کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوتی ہے؟ جس پر وکیل فیصل صدیقی نے بتایا آزاد اراکین قومی اسمبلی کو 3 روز میں کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوتی ہے۔

    سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ لے کر پارلیمانی جماعت بن سکتی ہے: وکیل فیصل صدیقی

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیا اگر کسی سیاسی جماعت کے پاس انتخابی نشان نہیں ہے تو کیا اس کے امیدوار نمائندگی کے حق سے محروم ہو جائیں گے؟ جس پر فیصل صدیقی کا جواب تھا کوئی سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ لے کر پارلیمانی جماعت بن سکتی ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ نہ لے اور آزاد جیتے ہوئے اراکین اس جماعت میں شمولیت اختیار کر لیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا سیاسی جماعتوں کے درمیان مخصوص نشستوں کی تقسیم کس فارمولے کے تحت ہوتی ہے، سیاسی جماعت کیا اپنی جیتی ہوئی سیٹوں کے مطابق مخصوص نشستیں لےگی یا زیادہ بھی لے سکتی ہے؟

    وکیل فیصل صدیقی کا کہنا تھا کوئی سیاسی جماعت اپنے تناسب سے زیادہ کسی صورت میں مخصوص نشستیں نہیں لے سکتی۔

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت 3 جون تک ملتوی کردی۔

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر لارجر بینچ کی تشکیل کیلئے معاملہ تین رکنی کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس میں وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پرانھیں ریکارڈ سمیت طلب بھی کیا گیا ہے۔

  7. بریکنگ, سپریم کورٹ نے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کو دینے کا فیصلہ معطل کر دیا

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے معطل کر دیے۔ سنی اتحاد کونسل کی درخواست سماعت کیلئے منظور کر لی ہے۔

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے 14 مارچ کو دیے گئے فیصلے میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کا مخصوص نشستوں کی تقسیم کا فیصلہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 51 کے مطابق ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ انتخابات میں شرکت کرنے والی سیاسی جماعت مخصوص نشستوں پر حق رکھتی ہے لیکن ان عام انتخابات میں اگر وہ جماعت ایک بھی نشست حاصل نہ کر پائے تو وہ مخصوص نشستوں کی اہل نہیں۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا تھا کہ یہ دلیل کہ مخصوص نشستیں ایوان میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں کو نہیں دی جا سکتی غیر آئینی ہے اور الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کو آئینی طریقے سے تقسیم کیا۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل خواتین کی مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں اور مقررہ وقت گزرنے کے بعد مخصوص نشستوں کی فہرست جمع نہیں کروائی جا سکتی اس لیے درخواست خارج کی جاتی ہے۔

    پشاور ہائیکوٹ کی جانب سے الیکشن کمشن کے سُنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کو برقرار رکھا گیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلے میں کیا کہا گیا ہے؟

    الیکشن کمیشن نے سُنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اس نے تمام سیاسی جماعتوں کو کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کے لیے 22 دسمبر کی ڈیڈلائن دی تھی جسے بعد میں 24 دسمبر تک بڑھا دیا گیا تھا۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ ’ریکارڈ کے مطابق سنی اتحاد کونسل کی جانب سے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے فہرست جمع نہیں کروائی گئی تھی اور سنی اتحاد کونسل نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی جماعت میں شمولیت کے بعد الیکشن کمیشن کو چار خط لکھے تھے، جس میں یہ نشستیں دینے کے لیے درخواست دی گئی تھی۔

    الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کے امیدواروں نے قومی یا صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے لیے آٹھ فروری کے الیکشن میں بطور جماعت حصہ نہیں لیا اور پارٹی چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق ’آئین کے آرٹیکل 51 میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں جن کی قومی اسمبلی میں الیکشن جیتنے کے باعث نمائندگی موجود ہے وہ ہی خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے آئین میں درج نظام کے تحت اہل ہوں گے۔‘

    فیصلے میں الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 104 کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے، جس کے مطابق ’کسی اسمبلی میں خواتین اور غیر مسلموں کے لیے مخصوص نشستیں حاصل کرنے کے لیے الیکشن لڑنے والی سیاسی جماعتیں کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت کمیشن کی طرف سے مقرر کردہ مدت کے اندر مخصوص نشستوں کے لیے امیدواروں کی فہرستیں بھی جمع کروائیں گی اور کمیشن کو یہ فہرستیں ترجیحی آرڈر میں صوبائی الیکشن کمشنر یا کمیشن کے دوسرے مجاز افسران کو دی جائیں گی جو ایسی فہرستوں کو عوام کی معلومات کے لیے شائع کریں گے۔‘

    الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ ’اس لیے کمیشن کا یہ ماننا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 51(6) کو اگر الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 104 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کے کوٹے کے لیے اہل نہیں ہے کیونکہ اس حوالے سے آئینی سقم اور فہرستیں جمع کروانے کے حوالے سے موجود ضروری قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔‘

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’نیشنل اسمبلی میں یہ سیٹیں خالی نہیں رہیں گی اور انھیں سیاسی جماعتوں کی جانب سے جیتی گئی نشستوں کے اعداد و شمار کے تناسب سے بانٹ دیا جائے گا۔‘

  8. پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان شراکت کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں: سعودی نائب وزیر سرمایہ کاری

    pakistan

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    پاکستان، سعودی عرب سرمایہ کاری فورم 2024 کی اسلام آباد میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں سعودی وفد کی سربراہی کرنے والے سعودی نائب وزیر برائے سرمایہ کاری ابراہیم بن یوسف المبارک نے تقریب میں کہا کہ ’پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نجی و سرکاری شعبے میں شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں۔‘

    ابراہیم بن یوسف المبارک کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور سعودی عرب بھی پاکستانی سرزمین کو سرمایہ کاری کیلئے اہم ملک سمجھتا ہے۔‘

    ابراہیم بن یوسف المبارک کا کہنا تھا ’سعودی عرب پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط دیکھنا چاہتا ہے، سعودی سرمایہ کار پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان آکر خوشی محسوس کر رہا ہوں، ہمارا دورہ پاکستان گزشتہ دورے کی کڑی ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بہت سی اقدار مشترک ہیں۔‘

    سعودی وزیر کا کہنا تھا ’سعودی حکومت اور کمپنیاں سرمایہ کاری کیلئے پاکستان کو ترجیح دے رہی ہیں، ہماری کوشش ہے کہ دونوں ممالک کی تجارت ایک دوسرے سے منسلک ہو، یہ دورہ دونوں ممالک کی درمیان تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کا مواقع فراہم کرے گا۔‘

    واضح رہے کہ 50 رُکنی سعودی وفد اتوار کے روز پاکستان پہنچا تھا۔

  9. اسلام آباد ہائیکورٹ کا وزارتِ داخلہ کو پرویز الٰہی کو ہسپتال منتقل کرنے اور ان کے گھر کو سب جیل قرار دینے کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پرویز الٰہی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کو گھر کو سب جیل قرار دیکر وہاں منتقل کرنے یا علاج کی غرض سے ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق ان کی اہلیہ کی درخواستوں کو ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا۔

    اسلام ہائی کورٹ کے جج نے اس درخواست کو نمٹا تے ہوئے سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملزم کی جانب سے گھر کو سب جیل قرار دینے سے متعلق آئندہ دو روز میں فیصلہ کرے یا اس کو متعقلہ فورم پر بھیجے اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ اس طرح کی مثالیں پہلے بھی موجود ہیں لہٰذا اس کو مدنظر رکھا جائے۔

    عدالت نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ ہفتے میں ایک دن ملزم کے ڈاکٹروں کے علاوہ ان کی فیملی اور رشتہ داروں کو ملنے کی جازت دے۔

    عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملزم دو مقدمات میں قید ہے ایک مقدمہ سی ٹی ڈی اسلام آباد میں درج ہے اور دوسرا لاہور میں ہے چونکہ لاہور اس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اس لیے درخواست گزار ملزم کی متعقلہ عدالت میں پیشی سے استثنٰی کی درخواست لاہور ہائی کورٹ میں دائر کرے۔

  10. ’لکی مروت میں مسلح افراد کا تھانے پر حملہ ناکام بنا دیا گیا‘ پولیس, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    kp

    ،تصویر کا ذریعہKP Police

    خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت میں ’درہ پیزو‘ کے مقام پر نا معلوم مسلح افراد نے تھانے پر حملہ کیا ہے لیکن پولیس حکام کے مطابق تھانے میں موجود اہلکاروں نے حملہ ناکام بنا دیا۔ حملے میں کسی بھی قسم کے نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں۔

    درہ پیزو میں رات گئے فائرنگ کی شدید آوازیں سنی گئیں جہاں سے مقامی لوگوں نے بتایا کہ مسلح افراد نے پولیس سٹیشن پر حملہ ہوا جس کے بعد سے علاقے میں خوف پایا جاتا ہے۔

    لکی مروت کے ضلع پولیس افسر تیمور خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ حملہ رات گئے کیا گیا ہے لیکن تھانے میں تعینات عملہ چوکس تھا اور ان کی جوابی کارروائی سے حملہ آور فرار ہو گئے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کی تعداد 8 سے 10 تک بتائی گئی ہے اور اس طرح کے حملے کا مقصد بنیادی طور پر خوف پھیلانا ہے۔

    صوبے کے جنوبی اضلاع میں کچھ عرصے سے اس طرح کے حملوں اور کارروائیوں کی اطلاعات معمول سے موصول ہو رہی ہیں جن میں لکی مروت شہر اور گرد و نواح کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی کے قریبی تھانوں پر حملے ہوتے ہیں اور پولیس اہلکاروں کی جوابی کارروائی سے حملہ آور فرار ہو جاتے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ شدید فائرنگ اور حملے رات کے وقت ہوتے ہیں۔

    پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ ’پہلے پولیس تھانوں میں اہلکاروں کے پاس جدید اسلح نہیں تھا جبکہ حملہ آوروں کے پاس جدید اسلحہ تھا جس سے مقابلہ مشکل ہوجاتا تھا لیکن اب سنائپر سمیت جدید اسلحہ پولیس اہلکاروں کو فراہم کیا گیا ہے جس سے وہ رات کے وقت بھی ان حملہ آوروں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔‘

    پیزو میں لکی سیمنٹ کے عملے پر چند روز پہلے شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا جس میں ایک سیکیورٹی گارڈ کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا اور تین ملازین کو اغوا کے بعد دھمکیاں دے کر رہا کر دیا تھا۔ شدت پسندوں نے اس حملے کے دوران بھاری لوڈرز اور ٹینکرز کو آگ لگا دی تھی۔

    تاہم گزشتہ روز ضلع ٹانک میں جنڈولہ کے قریب ٹارگٹ کلنگ میں ایک پولیس اہلکار کو قتل کر دیا گیا تھا۔

  11. مئی میں بارشوں کے نئے سلسلے کا امکان: ’کسانوں کو گندم کے لئے حفاظتی اقدامات کرنے ہوں گے‘ پی ڈی ایم اے پنجاب

    گندم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صوبہ پنجاب کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کی جانب سے آئدنہ چند دنوں میں موسم کی صورت حال سے متعلق جاری ہونے والے ایک حالیہ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ مئی کے مہینے میں بارشوں کا ایک نیا سلسلہ جاری ہونے کا امکان ہے۔

    ادارے کے مطابق ملک بھر میں ہلکی جبکہ شمالی پنجاب میں بارشوں کا درمیانی سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ پنجاب کے پوٹھوہار کے علاقوں میں کسانوں کو گندم کے لئے حفاظتی اقدامات کرنے ہوں گے۔

    ادارے کا مزید کہنا ہے کہ مئی کے مہینے میں تیز ہواؤں اور ژالہ باری سے پوٹھوہار کے علاقے میں فصلوں اور عمارتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے تاہم پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے بھی امکانات ہیں۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ مئی کے مہینے میں گرمی کی شدت میںاضافہ بھی ہوگا۔ ملک کے جنوبی حصوں میں ہیٹ ویو کے امکانات ہیں تاہم میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافے کا امکان ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا کی موسمی صورتحال پر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ پنجاب بھر میں انتظامیہ کو موسمی صورتحال سے آگاہ بھی کردیا ہے۔

  12. اب نجی شعبے کو ملک چلانا ہوگا، حکومت کا کام انھیں فریم ورک دینا ہے: وزیرِ خزانہ

    خزانہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان، سعودی عرب سرمایہ کاری فورم 2024 کی اسلام آباد میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں سعودی وفد کے ساتھ ساتھ پاکستان سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد میں شمولیت۔

    وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نجی شعبے کو اب اس مُلک کو چلانا ہوگا اور جہاں تک بات وفاقی حکومت کی ہے تو حکومت کا کام آپ کو فریم ورک یعنی سہولیات فراہم کرنا اور راستہ ہموار کرنا ہے۔‘

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بہترین معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں استحکام آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اب عمل درآمد کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، ہمیں اس مقصد کے لیے اپنے ٹیکس بیس کو وسیع کرنا پڑے گا، ہمیں اپنے توانائی کے مسئل کو حل کرنا ہوگا، یہ ریفارم ایجنڈا کا دوسرا اہم حصہ ہے اور تیسرا سرکاری اداروں میں اصلاحات ہے۔‘

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کا کام بزنس کرنا نہیں ہے، ہم نجکاری کا ایجنڈا تیزی سے مکمل کر لیں گے، اور مجھے اُمید ہے کہ جون کے آخر یا جولائی تک ہم اس کام کے آخری مرحلے میں ہوں گے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’ہم 24 ویں آئی ایم ایف پروگرام میں جارہے ہیں، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ یہ ہمارا آخری پروگرام ہو ہمارے پاس روڈ ٹو مارکیٹ کا ایک کلیئر ویو ہونا ضروری ہے، اس میں سب سے پہلے ایکسپورٹ میں ترقی اور دوسرا براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ضروری ہے اور اس میں آپ ہماری مدد کریں گے اور انٹرنیشنل کیپیٹل مارکت تک رسائی بھی اس کے لیے انتہائی اہم ہے، اگر ہم نےاس پر کام کرلیا تو ہمیں دوسرے فنڈ پروگرام میں جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ نجی سیکٹر کو اس ملک کو چلانا ہوگا، حکومت اس معاملے میں پر عزم ہے، ہم اس حوالے سے کام کریں گے۔ تقریب کے دوران وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نجی سیکٹر سے آنے والے دوستوں کو تقریب میں آگے بیٹھنا چاہیے اور وزرا کو پیچھے بیٹھنا چاہیے۔

    انھوں نے بتایا کہ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے، ہم بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں، 10 ماہ سے پاکستان کی کرنسی میں استحکام آیا۔

  13. سعودی سرمایہ کاروں کی پاکستان آمد: ’دونوں مُمالک میں ملازمتیں پیدا کرنے کی کوشش ہوگی‘

    Pakistan SaudiArab

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    سعودی عرب کے نائب وزیر سرمایہ کاری ابراہیم المبارک کی قیادت میں 50 ارکان پر مشتمل اعلی سطحی تجارتی وفد پاکستان کے دورے پر پہنچا ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور وزیرِ پیٹرولیم مصدق ملک نے نورخان ایئربیس پر سعودی معززمہمانوں کا استقبال کیا۔

    وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی وفد کے تین روزہ دورے کا مقصد پاکستان میں کاروبار کے مختلف مواقع پر دونوں ملکوں کے سرمایہ کاروں کے آپس میں ایک دوسرے سے تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔

    اے پی پی کے مطابق وزارت تجارت نے اپنے سعودی ہم منصبوں کے ساتھ بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) ملاقاتوں کے لیے متعلقہ شعبوں میں بڑی تعداد میں پاکستانی کمپنیوں کا انتخاب کیا ہے۔ وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ اعلی پاکستانی کمپنیاں 30 سعودی کمپنیوں کے ساتھ مختلف شعبوں میں منسلک ہوں گی۔ انھوں نے کہا کہ بزنس ٹو بزنس(بی ٹو بی) میٹنگز میں زراعت، کان کنی، انسانی وسائل، توانائی، کیمیکلز اور میری ٹائم جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

    جام کمال خان نے کہا کہ بی ٹو بی میٹنگز میں موجودہ ریفائنری، آئی ٹی، مذہبی سیاحت، ٹیلی کام، ایوی ایشن، تعمیراتی شعبہ، پانی اور بجلی کی پیداوار جیسے شعبے بھی زیر بحث آئیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ سعودی اور پاکستانی کمپنیاں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں گی جس کا مقصد دونوں ممالک میں ملازمتیں پیدا کرنے اور برآمدی مواقع کو فروغ دینا ہے۔

  14. بلوچستان کے نئے نامزد گورنر شیخ جعفرخان آج اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے

    شیخ جعفرخان

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    بلوچستان کے نئے نامزد گورنر شیخ جعفرخان آج اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

    گورنر ہائوس بلوچستان کے ایک اہلکار نے بتایا کہ گورنر کی تقریب حلف برداری صبح 11بجے منعقد ہوگی۔

    پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان حکومت سازی کے فارمولے کے تحت گورنر کا عہدہ نوازلیگ کو دیا گیا تھا۔ نواز لیگ کی جانب سے اس عہدے کے لیے پارٹی کے بلوچستان کے صدر شیخ جعفر خان مندوخیل کو نامزد کیا۔ وہ بلوچستان کے 24ویں گورنر ہوں گے۔

    شیخ جعفرخان مندوخیل کا تعلق بلوچستان کے سینیئر ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی ضلع ژوب کے معروف پشتون قبیلے مندوخیل سے ہے۔ وہ 1956میں کوئٹہ میں معروف مسلم لیگی رہنما اور تعمیراتی کمپنی کے مالک سعداللہ خان مندوخیل کے ہاں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم سینٹ فرانسس گرائمر اسکول کوئٹہ سے حاصل کی جبکہ گریجوایشن گورنمنٹ ڈگری کالج کوئٹہ سے کی۔

    شیخ جعفرخان مندوخیل نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز زمانہ طالب علمی میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن سے کیا اور وہ تعلیم کے دوران ایم ایس ایف بلوچستان کے صدر بھی رہے۔ تعلیم کے بعد وہ مسلم لیگ سے وابستہ ہوئے اور انھوں نے 1988میں پہلی مرتبہ ژوب سے عام انتخابات میں بلوچستان اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑا۔

    وہ پہلی مرتبہ 1990 میں ژوب سے بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور مسلم لیگ کی تقسیم کے بعد وہ مسلم لیگ ن سے وابستہ رہے تاہم انھوں نے 2002 میں مسلم لیگ کی ٹکٹ پر انتخاب لڑا۔ بعد میں وہ دوبارہ مسلم لیگ ن سے وابستہ ہوئے۔

    وہ 1990سے 2013 تک بلوچستان اسمبلی کے منتخب ہوتے رہے اور داخلہ اور خزانہ سمیت مختلف محکموں کے وزیر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیتے رہے۔

    جب 2018 میں نواز لیگ میں بغاوت ہوئی تو شیخ جعفر خان مندوخیل نے بغاوت کرنے والے لوگوں کا ساتھ نہیں دیا جن میں ان کے بعض قریبی ساتھی بھی تھے۔ وہ 2018 اور 2024 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے۔ انھیں 2023 میں پہلی مرتبہ مسلم لیگ ن بلوچستان کا صدر مقرر کیا گیا۔

  15. کسان اتحاد کی 10 مئی کو مُلک گیر احتجاج کی کال: ’پاکستان میں چھ کروڑ کسانوں کا معاشی قتل ہوا ہے‘ چیئرمین کسان اتحاد

    کسان

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    کسان اتحاد کی جانب سے حکومت کی جانب سے جاری کردہ نرخ پر گندم کی خریداری شروع نہ کیے جانے کے خلاف 10 مئی کو مُلک گیر احتجاج کی کل دے دی۔

    چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین کھوکھر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مُلک بھر میں احتجاج اُس وقت تک جاری رہے گا کہ جب تک ملک میں ’ایگریکلچر ایمرجینسی‘ نافذ نہیں ہوتی۔

    چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین کھوکھر کا کہنا تھا کہ آج مُلک میں کسان کے نہ کھیت کہ حالات اچھے ہیں اور نہ ہی گھر کے۔

    اُن کا مزید دکہنا تھا کہ کاشتکار اپنا پیسہ مُلک سے باہر نہیں لے کر جاتا، کاشتکار محبِ وطن ہے وہ اپنی زمین کا ٹکڑا مُلک سے باہر نہیں لے کر جاتا۔‘

    کسن اتحاد کے چیئرمین خالد حسین کا کہنا تھا کہ ’گندم سکینڈل کی وجہ سے کسانوں کا 400 ارب روپے کانقصان ہوا اور کرپشن کے لیے 6 کروڑ کسانوں کو ذبح کردیا گیا، اوپر بیٹھے لوگ صحیح فیصلے نہیں کرتے، کیا ان کو علم نہیں تھا کہ بمپرفصل آرہی ہے؟ گندم کی درآمد پر ایک ارب ڈالر کا زرمبادلہ ضائع کردیا گیا۔‘

    چیئرمین کسان اتحاد کا کہنا تھا کہ سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر کوثر عبداللہ نے کہا کہ گندم درآمد کی ضرورت نہیں تھی، ایک بوٹی کھانے کے لیے اونٹ کو ذبح کیا گیا، نگران وزیر نے اعتراف کیا کہ گندم درآمد کی سمری پہلے ہی بھجوائی جاچکی تھی۔

    چیئرمین کسان اتحاد نے 10 مئی سے ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 10 مئی کو بعد نماز جمعہ کے بعد ملتان سے احتجاج شروع کریں گے۔

    چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے کسانوں کے اوپر تشدد قابل قبول نہیں اور سوشل میڈیا پر کسانوں کو انتشار کی طرف دھکیلنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔

    خالد حسین نے کہا کہ کسان ملک کی حفاظت کا ضامن ہے، چاہے خوراک ہو یا بارڈر، میڈیا ہو یا کوئی بھی ادارہ، ہر جگہ کسان کا بیٹا اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہے لیکن کسانوں اور اداروں کو آمنے سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کسان پرامن ہے پرامن رہے گا، ہمارے اوپر بار بار الزام لگائے جا رہے ہیں کہ ہم کسی سیاسی ایجنڈے کے طور پر کسانوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

    کسانوں کی جانب سے وزیر اعظم کو لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا کہ کسان اس وقت مشکل سے دوچار ہے اور اگر کسان کی گندم نہ خریدی گئی تو کسان کپاس اور دیگر فصلیں کاشت نہیں کر پائے گا، کاٹن کی پیداوار میں واضح کمی ہوگی جس سے پاکستان کو نقصان ہوگا اور کسان کے پاس پیسے نہیں ہوں گے تو ملک میں خوراک کی کمی ہوسکتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بار دانہ ایک بار پھر مافیا کو دیا جا رہا ہے اس کی شفاف انکوائری کروائی جائے، کسانوں کی گندم اس وقت 2600 سے لے کر 3 ہزار روپے تک خریدی جا رہی ہے جو کہ مڈل مین خرید رہا ہے، اگر یہی صورتحال رہی تو عام شہری کو آٹا مہنگا ملے گا اور کسانوں کا اربوں روپے کا نقصان ہوگا۔