’گورنر ہاؤس عوام کے لیے کھول دوں گا‘ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی صوبائی گورنر کو تنبیہ

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے صوبے کے گورنر کو متنبہ کیا ہے کہ اگر انھوں نے دوبارہ سیاسی بیانات دیے تو وہ گورنر ہاؤس عوام کے لیے کھول دیں گے۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وہ ایک آئینی عہدے پر ہیں اور اگر گورنر ہاؤس پر قبضے کی کوشش کی گئی تو وہ انھیں سڑکوں پر گھسیٹیں گے۔

خلاصہ

  • نو مئی واقعات کے اصل ذمہ داران کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں اور ان منصوبہ سازوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: آرمی چیف عاصم منیر
  • بااختیار طاقتوں کو کہتا ہو کہ عام معافی کا اعلان کرکے آگے بڑھیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں: علی امین گنڈاپور
  • ملک کے آئین و قانون کے تحت فوج کا ملکی سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے: مولانا فضل الرحمان
  • نو مئی بغاوت کا ایک منظم منصوبہ تھا جس کے ذریعے فوج میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی گئی: وزیراعظم شہباز شریف

لائیو کوریج

  1. جناح ہاؤس پر جلاؤ گھیراؤ کے کیس میں 11 ملزمان کی ضمانت منظور

    ‏لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے جناح ہاؤس پر جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں گرفتار 24 میں سے 11 ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لی ہیں۔

    یہ مقدمہ ‏تھانہ سرور روڑ پولیس نے درج کیا تھا جس پر ‏عدالت نے وکلا سے دلائل طلب کر رکھے تھے۔

  2. جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف انکوائری میں ’حقائق تک پہنچیں گے‘

    پاکستانی فوج کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے معاملے پر سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف انکوائری شروع کی گئی تھی تو اس پر کیا پیشرفت ہوئی۔

    وہ جواب دیتے ہیں کہ ’ہمارا احتساب کا عمل ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات اور وزارت دفاع کی ہدایت کی روشنی میں ایک ٹو سٹار جنرل یہ انکوائری کر رہے ہیں۔

    ’اس کا مقصد الزامات کو ایک طرف رکھ کر حقائق تک پہنچنا ہے۔ اس کی بنیاد پر سفارشات تیار ہوں گی۔‘

    سعودی عرب پر رجیم چینج کا الزام ’افسوس ناک ہے‘

    دریں اثنا ان سے سعودی عرب پر ’رجیم چینج‘ کے الزام کے حوالے سے ردعمل مانگا گیا۔

    فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’یہ افسوس ناک بات ہے۔ آپ اظہار رائے کے نام پر دوستانہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ یہ بالکل غلط ہے۔‘

    ’یہ سوچ نہیں چاہتی کہ پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہو۔۔۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ان کے کوئی حد نہیں رہی۔‘

    ’بہاولنگر واقعے پر پروپیگنڈا کیا گیا‘

    بہاولنگر میں پولیس اور فوجی اہلکاروں کے درمیان جھگڑے پر بات کرتے ہوئے فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’پولیس اور سکیورٹی حکام نے اسے دوستانہ طریقے سے حل کیا۔

    ’اس پر پروپیگنڈا کیا گیا، جھوٹ ڈالا گیا۔ فوج سے جڑے ہر واقعے پر جھوٹ پھیلا کر بدنام کیا جاتا ہے۔‘

    ’پنجاب حکومت نے پولیس افسران پر مشتمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پنجاب حکومت اس حوالے سے مزید آگاہ کر سکتی ہے۔۔۔ فوج کے ساتھ پولیس کا اہم کردار ہے، ان کی بھی بہت قربانیاں ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’ملک دشمن عناصر دراڑ ڈالنا چاہتے ہیں۔ واقعہ افسوسناک تھا، اسے دوستانہ انداز میں حل کیا گیا اور اس پر انکوائری ہو رہی ہے۔‘

  3. کیا پاکستانی فوج نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں فوجی اڈے امریکہ کے حوالے کیے؟

    ایک صحافی نے فوج کے ترجمان سے سوال کیا کہ کیا پاکستانی فوج نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں فوجی اڈے امریکہ کے حوالے کیے ہیں یا ایسا کچھ ہونے جا رہا ہے۔

    اس پر وہ جواب دیتے ہیں کہ ’پاکستان میں کسی کو نہ اڈے دیے گئے نہ دیے جائیں گے۔‘

    ’یہ مضحکہ خیز بات ہے۔ یہ پروپیگنڈا ہے۔‘

  4. ’فوج میں خود احتسابی کا عمل ہے،‘ سابق کور کمانڈر منگلہ سے متعلق سوال پر فوج کا ردعمل

    پاکستانی فوج کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ کور کمانڈر منگلہ نے جنرل (ر) ایمن صفدر نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لی تو یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے، تو کیا وہ اس معاملے کی وضاحت کریں گے۔

    اس پر انھوں نے کہا کہ ’فوج میں خود احتسابی کا سخت، شفاف اور خودکار عمل ہے جو ہر وقت چلتا رہتا ہے۔۔۔ کوئی بھی قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی، کرپشن ہو تو احتساب کا نظام ایکشن میں آتا ہے۔ اس میں کسی قسم کی تفریق نہیں کی جاتی۔ زیادہ سینیئر رینک کے لیے احتساب کا عمل زیادہ سخت ہوتا ہے۔‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ نہیں بتایا کہ سابق کور کمانڈر منگلہ پر کیا الزامات تھے اور آیا انھیں برطرف کیا گیا۔

    ان سے پوچھا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے انٹیلیجنس اداروں پر مداخلت کا الزام لگایا ہے تو کیا اس پر بھی خود احتسابی ہو رہی ہے۔

    اس پر میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ ’یہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔۔۔ بغیر ثبوت کے الزام لگانا مناسب نہیں۔ فوج کو سیاسی معاملات میں لے جانے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔‘

    اس سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ پاکستانی فوج کے ذیلی اداروں پر جو لوگ تنقید کرتے ہیں وہ ’ڈی ایچ میں اے رہنا پسند کریں گے، سی ایم ایچ میں علاج کرانا پسند کریں گے، اپنے بچوں کو انھی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پڑھانا پسند کریں گے۔‘

    پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی اور معیشت کے شعبوں میں فوج کا کردار سہولت کاری کا ہے۔

  5. ’انتشاری ٹولے سے کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے‘

    ispr

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستانی فوج کے ترجمان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم کی طرف سے کہا گیا کہ آٹھ فروری کو ان کی جیت نے ’نو مئی کے بیانیے کو مسترد کیا ہے۔‘

    اس پر میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ ’آٹھ فروری کو ٹرن آؤٹ 47 فیصد تھا۔۔۔ اس میں سے مخصوص سیاسی پارٹی جو کہتے ہیں بیانیہ الٹا ہوگیا، اس پارٹی کو اس میں سے 31 فیصد ووٹ ملا۔ 69 فیصد ووٹ اس بیانیہ کو نہیں ملا۔ 92 فیصد آبادی ان کے ساتھ نہیں کھڑی۔۔۔ ہمیں یقین ہے عوام فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔‘

    فوج کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ ’کیا کوئی ڈیل ہو رہی ہے؟‘

    اس پر انھوں نے جواب دیا کہ فوج کی ’سیاسی سوچ نہیں ہے۔۔۔ ہر حکومت کے ساتھ آرمی کا غیر سیاسی مگر قانونی تعلق ہوتا ہے۔۔۔ ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں قابل احترام ہیں۔ تاہم اگر کوئی سیاسی سوچ یا ٹولہ اپنی ہی فوج پر حملہ آور ہو۔۔۔ تو اس سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔ ایسے انتشاری ٹولے کے لیے صرف ایک راستہ ہے کہ وہ قوم کے سامنے معافی مانگے اور وعدہ کرے کہ وہ نفرت کی سیاست چھوڑ کر تعمیری سیاست میں حصہ لے گا۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’بات چیت (مذاکرات) سیاسی پارٹیوں کو زیب دیتی ہے۔ فوج یا ادارے بات چیت کریں یہ بالکل مناسب نہیں۔‘

  6. ’سوشل میڈیا پر تواتر سے فوج کے خلاف الزامات لگائے جاتے ہیں‘

    پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کچھ سیاسی حلقے تواتر کے ساتھ فوج اور اداروں پر الزامات لگاتے ہیں۔ ’ان الزامات کے جواب میں ثبوت دینے کی بجائے مزید الزامات لگائے جاتے ہیں۔‘

    ’ادارہ بھی جواب میں الزام لگائے تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ہم حقائق پر یقین رکھتے ہیں۔ آئین و قانون ریاست پاکستان، فوج کے خلاف پروپیگنڈے کی اجازت نہیں دیتا۔‘

    انھوں نے اس پر قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔ ’اگر ایکشن نہ لیا جائے تو معاشرے کی بنیادیں ہل جائیں گی۔‘

    ’معاشرے میں کچھ استحکام آ رہا ہے۔ عدم اعتماد کم ہو رہا ہے۔‘

  7. جوڈیشل کمیشن 2014 کے دھرنے اور اس کے مقاصد کا بھی احاطہ کرے: فوج

    2014 کے دھرنے

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستانی فوج نے اس ’بیانیے‘ کی تردید کی کہ نو مئی ’فالس فلیگ آپریشن‘ تھا۔

    دوران پریس ٹاک نو مئی کے حوالے سے تیار کی گئی ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی جس میں عسکری تنصیبات پر حملے ہوتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس دستاویزی فلم میں تحریک انصاف کے رہنماؤں مراد سعید، شاندانہ گلزار اور شہریار آفریدی کے بیانات بھی دکھائے گئے۔

    میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے نوجوانوں کو اشتعال دلایا گیا مگر اب جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کر کے ’کنفیوژن‘ پیدا کی جا رہی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’ہم تیار ہیں، بنائیں جوڈیشل کمیشن۔ جوڈیشل کمیشن اس بات کا بھی احاطہ کرے کہ 2014 کا دھرنا اور اس کے مقاصد کیا تھے۔ اس کا بھی احاطہ کرے کہ پارلیمنٹ پر حملہ کیسے کروایا گیا۔۔۔ کس طرح لوگوں کو یہ ہمت دی گئی کہ آپ ریاست کے خلاف کھڑے ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’2016 میں خیبر پختونخوا کے وسائل استعمال کر کے دارالحکومت پر دھاوا بولا گیا۔ 2022 میں دوبارہ اسلام آباد پر دھاوا بولا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کو خطوط لکھے گئے، لابنگ کی گئی کہ پاکستان کو قرضہ نہ دیں، دیوالیہ ہونے دیں۔‘

    فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’وہ کون لوگ ہیں جو سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف نفرت پھیلا رہے تھے۔۔۔ اگر ایک مخصوص سیاسی ٹولہ یہ سب کرتا رہے گا تو ایک دن وہ اپنی فوج پر ہی چڑھ دوڑے گا۔‘

    ’اگر نو مئی کرنے اور کروانے والوں کو سزا نہ دی گئی تو کسی کی جان، مال، عزت و آبرو محفوظ نہیں رہیں گے۔‘

  8. نو مئی کرنے اور کروانے والوں کو آئین و قانون کے مطابق سزا دینی ہوگی: پاکستانی فوج

    نو مئی

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    دوران پریس کانفرنس آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل احمد شریف سے ایک صحافی کی جانب سے پوچھا گیا کہ نو مئی کے مبینہ ماسٹر مائینڈز کو ایک سال گزرنے کے باوجود سزائیں نہیں ملی اور وہ اسے فالس فلیگ آپریشن قرار دیتے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور اس مطالبے کے حوالے سے دیگر جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے، تو اس پر وہ کیا کہتے ہیں۔

    ترجمان پاکستانی فوج نے کہا کہ ’نو مئی صرف افواج پاکستان کا مقدمہ نہیں۔ یہ پورے پاکستان کے عوام کا مقدمہ ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’کسی بھی ملک میں اس کی فوج پر حملہ کروایا جائے، اس کے شہدا کی علامات کی تضحیک کی جائے اور اس کے بانی کو گھر کو جلایا جائے۔ وہاں عوام اور افواج کے درمیان نفرت پھیلائی جائے۔ (اس سے) نظام انصاف پر سوال کھڑا ہوجاتا ہے، اگر یہ کرنے اور کروانے والوں کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا جائے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر پاکستان کے نظام انصاف پر یقین قائم رکھنا ہے اور جزا اور سزا کا نظام جس پر قدرت کا نظام چلتا ہے، اگر اس پر یقین رکھنا ہے تو نو مئی کے ملزمان، اسے کرنے اور کروانے والے، آئین و قانون کے مطابق انھیں سزا دینی ہوگی۔‘

    نو مئی پر ’بیانیہ بنانے‘ پر ترجمان فوج نے مزید کہا کہ ’نو مئی کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں۔ اس کے ناقابل تردید شواہد عوام کے پاس بھی ہیں۔

    ہم سب نے اپنی آنکھوں سے ہوتا دیکھا۔ ہم سب نے دیکھا کیسے لوگوں کی ذہن سازی کی گئی۔ انھیں فوج، اس کی قیادت اور ایجنسیوں کے خلاف جھوٹ اور پروپیگنڈے سے ذہن بنائے گئے۔‘

    ’سیاسی رہنماؤں نے چُن چُن کر اہداف دیے کہ ادھر حملہ کرو۔ چند گھنٹوں میں ملک بھر کی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔‘

  9. پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے کارروائیوں کے تانے بانے افغانستان سے جا ملتے ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

    پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے تانے بانے افغانستان سے جا ملتے ہیں جو افغانستان کی عبوری حکومت کی جانب سے کیے گئے دوحہ معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

    منگل کی دوپہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے مگر پاکستان کی تمام تر کوششوں اور افغانستان میں عبوری حکومت کو بارہا نشاندہی کے تحریک طالبان پاکستان کے دہشتگرد افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ ’اس حوالے سے پاکستان نے مستند ثبوت بھی فراہم کیے مگر کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ حالیہ دہشتگری کے واقعات کے تانے بانے افغانستان سے جا ملتے ہیں۔‘

    ’پاکستان نے افغان عبوری حکومت کی ہر سطح پر مدد کی مگر انھوں نے جو وعدے دوحہ میں کیے وہ پورا ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ اس معاہدے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی مگر ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ ایسا ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے بارہا احتجاج بھی ریکارڈ کروایا گیا ہے۔‘

    احمد شریف نے کہا کہ گذشتہ چند ماہ سے شدت پسند بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں امن کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    انھوں نے اس موقع پر پاکستان میں رواں سال کے دوران پاکستان کے اندر ہونے والی شدت پسندی کی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں کے تانے بانے افغانستان سے جا ملتے ہیں۔’اس کے جواب میں پاکستان نے افغانستان کے اندر ملوث شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور حملہ آور ہونے والے دہشت گردوں کو کامیابی سے ٹھکانے لگایا گیا۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ داسو میں چینی انجینیئرز پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث افراد کی کڑیاں بھی افغانستان سے جا ملتی ہیں۔ ’دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا کنٹرول افغانستان سے کیا جا رہا تھا جبکہ خودکش بمبار بھی افغان شہری تھا۔‘

  10. اگر ملی بھگت ہے تو بنچ میں بیٹھنے کا کوئی جواز نہیں: چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہائی کورٹ کے ججز کی جانب سے عدلیہ میں مداخلت کے الزامات کے ازخود نوٹس کی سماعت میں کہا ہے کہ تنقید کرنے اور جھوٹ بولنے میں بہت فرق ہے۔ ایک کمشنر(راولپنڈی) نے جھوٹ بولا اور تمام میڈیا نے اس جھوٹ کوچلایا۔ کسی نے نہیں پوچھا کیا آپ کے پاس کوٸی ثبوت ہے؟

    دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس میں مزید کہا ہے کہ کیا پاکستان بے لگام ہے ، کیا ہمیں کوٸی نہیں روک سکتا؟

    انھوں نے کہا ’سپریم جوڈیشل کونسل آئینی ادارہ ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کا چیئرمین ضرور ہوں لیکن میں پوری کونسل نہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان بنچ میں ہیں لیکن تین نہیں۔‘

    صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے دلائل میں کہا کہ مداخلت میں عدلیہ کی ملی بھگت قرار دینے سے عدالت کا وقار کم ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ملی بھگت ہے تو بنچ میں بیٹھنے کا کوئی جواز نہیں۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’ملی بھگت کی بات میں نے نہیں اٹارنی جنرل نے کی تھی۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک بمباری ہوتی ہے جس پر شہزاد شوکت نے کہا کہ ہم نے اپنی تمام پریس کانفرنس میں سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کی مذمت ہے اور اب ایک اتھارٹی بھی بن گئی ہے لیکن صحافی میرے پاس آ کر کہتے ہیں اظہارِ رائے پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ سوشل میڈیا پر فیئر تنقید ہونی چاہیئے، لیکن لوگوں کو گمراہ نہیں کرنا چاہیے۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ تین نومبر 2007 کا اقدام سب سے بڑی توہین عدالت تھی لیکن اس پر کسی کو سزا نہیں ملی۔ آپ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ ایک ڈسٹرکٹ جج مداخلت کے خلاف آواز اٹھائے گا۔

    کیس کی سماعت ابھی جاری ہے جسے میڈیا پر براہ راست نشر کیا جا رہا ہے۔

  11. سب مان رہے ہیں کہ مداخلت ہوتی ہے، فیض آباد دھرنا کیس فیصلے سے بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوا: جسٹس اطہر من اللہ, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی جانب سے عدلیہ میں مداخلت کے الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں جاری سماعت میں جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ سب مان رہے ہیں کہ مداخلت ہوتی ہے، فیض آباد دھرنا کیس فیصلے سے بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوا۔

    دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم نے 76سال جھوٹ بولا ، سچ کو چھپایا ہے۔ عوام کو سچ جاننے کا پورا حق ہے۔ تمام ہائی کورٹس نے چھ ججز سے بھی زیادہ سنگین جوابات جمع کرائے ہیں، ایک ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ مداخلت آئین کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ایک ہائیکورٹ نے تو یہ کہا ہے آئین کو سبوتاژ کیا گیا۔ یہ مداخلت نہ فیض آباد دھرنا کیس سے رکی نہ کسی اور چیز سے۔

    پاکستان بار کونسل کے وکیل ریاضت علی نے دلائل میں کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کے معاملے پر پاکستان بار کونسل جوڈیشل تحقیقات کرانا چاہتی ہے۔ ایک یا ایک سے زیادہ ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بنا کر قصورواروں کو سزا دی جائے۔ سال 2018 اور 2019 میں ہائی کورٹس کا سب سے بڑا چیلنج سپریم کورٹ کا مسائل پر خاموشی اختیار کرنا تھا۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ عدالت ایسا کیا طریقہ اختیار کرے کہ عدلیہ میں مداخلت کا رجحان ختم ہو۔ سال 2018 میں اٹارنی جنرل نے مداخلت کا حوالہ دیا تھا،اُس وقت ہائی کورٹ ججز کے لیے مشکل یہ تھی کہ مداخلت سپریم کورٹ کی ملی بھگت سے ہو رہی تھی۔

    وکیل پاکستان بار نے عدالت کے روبرو کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز نے سنگین الزامات لگائے ہیں جو جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔ جرم فوجداری نوعیت کا ہے ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

  12. ہائی کورٹ کے ججز نے نشاندہی کی کہ مداخلت کا سلسلہ اب تک جاری ہے: جسٹس اطہر من اللہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کے عدلیہ میں مداخلت کے الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں جاری سماعت میں جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کے ججز نے نشاندہی کی ہے کہ مداخلت کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔

    چیف جسٹس کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ میں دوران سماعت اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت سے گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کرنے کی استدعا کر دی۔

    اٹارنی جنرل نے روسٹرم پر آ کر استدعا کی کہ از خود نوٹس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ تاحال نہ مل سکا۔ عدالتی حکمنامے سے وزیراعظم آفس اور وزارت دفاع کو آگاہ کرنا ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عدالتی حکمنامے پر تمام ججز کے دستخط ہو گٸے؟ چیف جسٹس نے عدالتی عملے کو چیف جسٹس کی باقی رہ جانے والے تین ججز سے دستخط لینے کی ہدایت کر دی۔

    جسٹس منصورعلی شاہ نے اٹارنی جنرل سے دریافت کیا کہ آپ کو تیاری کے لیے مہلت چاہیے ہو گی جس پر اٹارنی جنرل نے کل تک کی مہلت مانگ لی۔

    اٹارنی جنرل نے گزشتہ عدالتی کارروائی کا تحریری حکمنامہ پڑھنا شروع کیا تو چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ جسٹس اطہر من اللہ نے اضافی نوٹ بھی تحریر کیا ہے، وہ بھی پڑھ لیں۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے اپنا اضافی نوٹ کہا ہے کہ ہائی کورٹ کے ججز نے نشاندہی کی کہ مداخلت کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ وفاقی حکومت کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔

    جسٹس اطہرمن اللہ نے اس دوران کہا کہ ’میں معذرت چاہتا ہوں میری لکھائی اچھی نہیں ہے۔‘ جس پر جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جی واقعی لکھائی اچھی نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے وکلا سے دلائل کے لیے درکار وقت سے متعلق بھی استفسار کیا۔

    یاد رہے کہ چھ رکنی لارجر بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس اطہر من اللہ جسٹس جمال مندوخیل ، جسٹس نعیم اختر شامل ہیں۔

  13. ججز کو ہراساں اورعدالتی معاملات میں مبینہ مداخلت پر ازخود نوٹس کی سماعت، سپریم کورٹ بار نے عدالت عظمی میں تجاویز جمع کروا دیں, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی طرف سے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے عدالتی معاملات میں مداخلت سے متعلق لکھے گئے خطوط پر ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں جاری ہے جس کو ٹی وی پر براہ راست نشر کیا جا رہا ہے۔

    دوران سماعت سپریم کورٹ بار کی جانب سے ججز کیس میں اپنی تجاویز جمع کرا دی گئیں جس میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے امور میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ سپریم کورٹ ازخود نوٹس کارروائی کے دوران ہائی کورٹ کے آئینی اختیارات کو بھی مدنظر رکھے۔

    سپریم کورٹ بار کی تجاویز کے مطابق ججز کے خط کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ ادارہ جاتی طور پر حل کرتے کیونکہ خط پبلک ہونے سے عدلیہ کی ساکھ عوام کی نظر میں متاثر ہوئی ہے۔ ہائی کورٹ ججز کا خط سپریم جوڈیشل کونسل کو پہنچنے سے پہلے لیک ہونے کی تحقیقات کی جائیں۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز نے 25 مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے اپنے خط میں عدالتی امور میں آئی ایس آئی اور دیگر انٹیلیجنس اداروں کی طرف سے براہ راست مداخلت اور ججوں کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

    خط میں ججوں کے رشتہ داروں کے اغوا اور تشدد کے ساتھ ساتھ ان کے گھروں میں خفیہ نگرانی کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوششوں کے بارے میں کہا گیا تھا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ میں مبینہ مداخلت کے معاملے پران ججز کی جانب سے لکھے گئے خط پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔۔

    سپریم کورٹ بار نے تجاویز میں کہا ہے کہ توہین عدالت کا قانون اعلیٰ عدلیہ کو ایسے معاملات میں کارروائی کا مکمل اختیار دیتا ہے۔ اس بات پر بھی غور کیا جائے کہ چھ ججز نے توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہیں کی۔ ماتحت عدلیہ کے بغیر دباو کام کرنے کے لیے فریم ورک بنایا جائے۔

    عدالت میں جمع کروائئ تجاویز میں سپریم کورٹ بار نے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو کسی کمرشل سرگرمی کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ کسی جج کو عدلیہ کے اندر سے دبائو کا سامنا ہو تو متعلقہ چیف جسٹس کو آگاہ کرےاور مخصوص وقت میں کارروائی نہ ہونے ہر متاثرہ جج سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کا اختیار رکھتا ہے۔

  14. عمران خان کے بیانات میڈیا پر نشر نہ کرنے کے فیصلے کے خلاف تحریک انصاف کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    آڈیالہ

    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے احتساب عدالت کے فیصلے کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

    عمران خان نے وکیل سلمان اکرم راجہ کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔ احتساب عدالت نے فیصلے میں کہا بانی پی ٹی آئی جیل ٹرائیل کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران ریاستی اداروں کیخلاف بیانات دینے سے گریز کریں۔

    درخواست میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ حتساب عدالت نے فیصلے میں کہا کہ میڈیا اپنی رپورٹنگ صرف ٹرائل کی حد تک محدود رکھے اور میڈیا وکلا اور گواہان کے بیانات رپورٹ نہ کرے۔

    درخواست کے مطابق اوپن کورٹ میں موجود صحافیوں کے حقوق پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ درخواست میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صحافیوں کو ٹرائل کے دوران وکلا، گواہان یا ملزمان کے بیانات نشر کرنے سے نہیں روکا جاسکتا، درخواست میں یہ کہا گیا ہے کہ نہ صرف ملزم کا بیان دینا اور میڈیا کا اس بیان کو رپورٹ کرنا آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت محفوظ ہے بلکہ پاکستانی عوام کا بانی پی ٹی آئی کے بیانات سے آگاہ رہنا آرٹیکل 19 اے کے تحت بھی محفوظ ہے۔

    درخواست میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ احتساب عدالت کا 19 اپریل کا حکم نامہ آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کے برخلاف ہے، اور احتساب عدالت 19 اپریل کا حکم نامہ کالعدم قرار دیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ احتساب عدالت کو بانی پی ٹی آئی کو سیاسی بیانات دینے سے نہ روکنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

    تاہم اس درخواست پر فیصلہ ہونے تک احتساب عدالت کا 19 اپریل کا حکم نامہ معطل کیا جائے۔

  15. ’ڈسکوز کی نااہلی اور غفلت کی سزا شہریوں کو دینا قبول نہیں‘ وزیرِ داخلہ

    IM

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اوور بلنگ اور بجلی چوری روکنے کے لیے کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت ایف آئی اے لاہور زونل آفس میں اجلاس منعقد ہوا جس میں اُنھوں نے اوور بلنگ اور بجلی چوروں کے خلاف کارروائی پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔

    محسن نقوی نے ہدایت کی کہ اووربلنگ کے ذریعے شہریوں پر بوجھ ڈالنے والے افسران کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رکھی جائے، مزید کہا کہ اووربلنگ پر زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ کی زیِ صدارت ہونے والے اس اجلاس میں ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور سرفراز ورک نے بریفنگ دی اور اسی موقع پر ڈی جی ایف آئی اے اسحاق جہانگیر ویڈیو لنک پر اجلاس میں شریک ہوئے۔

    وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ڈسکوز کی نااہلی اور غفلت کی سزا شہریوں کو دینا قبول نہیں، بجلی صارفین کو اوور بلنگ میں ریلیف دینا ترجیح ہے۔

  16. اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کو ہراساں کرنے اور عدالتی معاملات میں مبینہ مداخلت پر ازخود نوٹس کی سماعت آج ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کو ہراساں اورعدالتی معاملات میں مبینہ مداخلت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے ججز کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور عدالتی معاملات میں مداخلت سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کی جانب سے لکھے گئے خطوط پر ازخود نوٹس کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہو گی۔

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فاٸز عیسی کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بنچ سماعت کرے گا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے ججز کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے جواب اور ایسے واقعات کے سد باب کے لیے تجاویز طلب کر رکھی ہیں جبکہ سپریم کورٹ نے وکلا تنظیموں کوبھی تحریری جواب جمع کروانے کی ہدایت کر رکھی ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز نے 25 مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے اپنے خط میں عدالتی امور میں آئی ایس آئی اور دیگر انٹیلیجنس اداروں کی طرف سے براہ راست مداخلت اور ججوں کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

    خط میں ججوں کے رشتہ داروں کے اغوا اور تشدد کے ساتھ ساتھ ان کے گھروں میں خفیہ نگرانی کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوششوں کے بارے میں کہا گیا تھا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ میں مبینہ مداخلت کے معاملے پران ججز کی جانب سے لکھے گئے خط پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ اس سے قبل اس معاملے کی تین اپریل اور 30 اپریل کو سماعت کرچکی ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر چاروں صوبائی ہائیکورٹس سمیت اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے معاملے پر تجاویز جمع کرائی ہیں۔

    سپریم کورٹ میں آج ہونے والی سماعت میں ہائیکورٹس ججز کی جانب سے بھجوائی گئی تجاویز کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

    گزشتہ سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے اپنے عدالتی حکم میں کہا تھا کہ اگر کوئی خفیہ ادارہ بھی اس حوالے سے اپنا جواب جمع کرانا چاہے تو اٹارنی جنرل کے زریعے کروا سکتا ہے۔

    گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کی بھجوائی تجاویزپبلک کرنے کا حکم دیا تھا۔

    چھ رکنی لارجر بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس اطہر من اللہ جسٹس جمال مندوخیل ، جسٹس نعیم اختر شامل ہیں۔

  17. ’بلوچستان کی ترقی و خوشحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے‘ صدر آصف علی زرداری, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    کوئٹہ

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزرا نے کوئٹہ میں ملاقات کی۔

    اس دورے کے دوران صدر مملکت کو بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ صدر مملکت سے ملاقات کرنے والوں میں میر صادق عمرانی، علی مدد جتک، میر ظہور بلیدی، سردار عبد الرحمان کھیتران، میر سلیم کھوسہ، فیصل جمالی، غزالہ گولہ، اور رکن صوبائی اسمبلی و سینئر رہنما پیپلز پارٹی نواب ثناءاللہ زہری شامل تھے۔اس سے قبل صدر آصف علی زرداری کوئٹہ پہنچے تو ائیرپورٹ پر گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل، وزیراعلی بلوچستان میرسرفراز بگٹی، صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی نے صدر مملکت کا استقبال کیا۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے دیے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے کہا کہ ‏’اب وقت ہے کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل کو نکال کر ملکی معاشی ضروریات کو پورا کیا جائے۔‘

    وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کوئٹہ میں اُن کا کہنا تھا کہ ’‏بلوچستان میں تیل اور گیس موجود ہیں لیکن ہم نے آج تک اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا، ‏بلوچستان کو ترقی و خوشحالی دینا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ‏بلوچستان کے مسائل سیاسی طور پر بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہییں۔‘

    صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ’‏بلوچستان کو خوشحال و ترقی یافتہ بنا کر استحکامِ پاکستان کیلئے اپنا موثر کردار ادا کریں گے۔‘ ‏انھوں نے کہا کہ ’بلوچستان اپنے معدنی وسائل اور طویل ساحلی پٹی کی بدولت خاص اہمیت کا حامل ہے، بلوچستان کی بنجر زمینوں کو موثر حکمت عملی کے ذریعے سیراب کر کے زرعی پیداوار میں اضافے کے قابل بنانے کی کوشش کی جائے گی۔‘

    صدرِ پاکستان کا کہنا تھا کہ ’‏ملکی ترقی اور صوبوں کو حقوق دینے کیلئے ہماری دور میں اٹھارویں آئینی ترمیم پاس کی گئی جس سے تمام صوبوں کو فائدہ پہنچا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میری کوشش ہے کہ پورے ملک خاص کر بلوچستان کی ترقی اور یہاں کے عوام کیلئے زیادہ سے زیادہ کام کر سکوں۔‘

  18. بلوچستان کے 11 ارکینِ صوبائی اسمبلی کی بطور پارلیمانی سیکرٹری تعیناتی, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    Balochistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے 11 اراکین اسمبلی کو پارلیمانی سیکرٹری مقرر کر دیا ہے۔

    پارلیمانی سیکریٹریز میں سے دس کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مُسلم لیگ ن سے ہے۔

    ایک سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق مسلم لیگ ن کے سردار مسعود لونی کو پارلیمانی سیکریٹری برائے جنگلات وجنگلی حیات اور برکت علی کو ماہی گیری و ساحلی ترقی کا پارلیمانی سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔

    پیپلز پارٹی کے اسفند یار کاکڑ کو اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور مینہ مجید بلوچ بین الصوبائی رابطے کی پارلیمانی سیکرٹری مقرر کی گئی ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے لیاقت لہڑی ایس اینڈ جی اے ڈی اور عبید اللہ گورگیج کو پراسیکیوشن کے پارلیمانی سیکرٹری بنایا گیا ہے۔

    پیپلز پارٹی کے صمد خان گورگیج قانون و پارلیمانی امور اور اصغر رند محکمہ توانائی کے پارلیمانی سیکرٹری مقرر کیئے گئے ہیں۔

    نواز لیگ کے محمد خان لہڑی کو ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور جماعت اسلامی کے عبد المجید بادینی کو ٹرانسپورٹ کا پارلیمانی سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے جبکہ اقلیتی رکن سنجے کمار کو اقلیتی امور کا پارلیمانی سیکرٹری بنایا گیا ہے۔

    سیاسی مبصرین نے اتنی بڑی تعداد میں پارلیمانی سیکریٹریز کی تقرری کی وجہ اراکین اسمبلی کی ناراضگی کو قرار دیا ہے۔

    تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ چونکہ دونوں بڑی جماعتوں میں ایک بڑی تعداد الیکٹیبلز کی تھی جو کہ وزیر اور مشیر نہ بننے کی وجہ سے ناراض تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پر دبائو زیادہ تھا اس لیے انھوں نے 11 اراکین کو پارلیمانی سیکریٹری بنا کر ان کو محکمے الاٹ کر دیے ہیں۔

    تجزیہ کار رضاءالرحمان نے بتایا کہ دونوں بڑی جماعتوں نے نہ صرف الیکٹیبلز بلکہ بعض آزاد اراکین کو اس شرط پر شامل کرایا تھا کہ ان کو کابینہ میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ اچھے محکمے بھی دیئے جائیں گے۔

    انھوں نے بتایا کہ آئینی قدغنوں کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں تھا جس کی وجہ سے اراکین اسمبلی کی ایک بڑی تعداد کو پارلیمانی سیکریٹری بناکر ان کی ناراضگی کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب بھی بہت سارے اراکین ناراض ہیں کیونکہ پارلیمانی سیکریٹری کے طور پر ان کو ان کی خواہش کے مطابق محکمے نہیں دیئے گئے ہیں۔

  19. معلوم ہے کون واقعی طاقتور ہے اور کون ڈمی، مذاکرات کے لیے غیر متعلقہ لوگوں سے بات نہیں کروں گا: علی امین گنڈا پور

    ali amin

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ میں نے کس سے بات کرنی ہے اور کس سے نہیں، کون واقعی طاقتور ہے اور کون ڈمی، میں غیر متعلقہ لوگوں سے بات نہیں کروں گا۔

    انھوں نے جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں میزبان حامد میر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میری آخری مرتبہ جب عمران خان سے ملاقات ہوئی تو مذاکرات کے بارے میں بات نہیں ہو سکی لیکن عمران خان ہمیشہ سے یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے لیے مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں ایک ایسے عہدے پر موجود ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ میں نے کس سے بات کرنی ہے اور کس سے نہیں، کون واقعی طاقتور ہے اور کون ڈمی۔ میں غیر متعلقہ لوگوں سے بات نہیں کروں گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سیاسی لوگوں سے بات چیت ہو سکتی ہے لیکن اس وقت جو سیاسی لوگ ہیں وہ دوسروں کے کندھوں پر بیٹھے ہیں اور ان کے اشاروں پر چل رہے ہیں، ان سے کیا بات کی جائے۔

    ’سب سے پہلی بات ہے پاکستان میں قانون کی بالادستی، اس کے بعد آئین کی بالادستی اور تمام ادارے اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں۔‘

  20. بظاہر کمیشن کا مینڈیٹ فیض حمید کو بری کرنا تھا: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ ’آؤٹ آف دی وے جا کر اس جنٹلمین کو رپورٹ میں بری کیوں کیا جا رہا ہے؟ بظاہر کمیشن کا مینڈیٹ فیض حمید کو بری کرنا تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کیا خوبصورت اتفاق تھا کہ اتنی نظرِ ثانی درخواستیں دائر ہوئیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کسی نے نظرِ ثانی کی منظوری دی ہو گی وکیل کیا ہو گا ساری پیپر ٹریل کدھر ہے؟ یہ بہت ہی مایوس کن ہے، کیوں ملک کا وقت ضائع کیا۔ کیا کمیشن نے ٹی ایل پی کی طرف سے کسی کو بلایا؟‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’شاید ٹی ایل پی والے ان کی معاونت کر دیتے۔ ان کو بلاتے ہوئے انھیں ڈر لگ رہا تھا۔ جن سے متعلق انکوائری کر رہے تھے ان کا مؤقف لے لیتے۔

    ’ان کو بھی نہیں بلایا گیا جن کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا۔ اسلحہ لانے والوں کی نیت تو واضح تھی کہ وہ پرامن مظاہرین نہیں۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’یہ پانچویں کلاس کے بچوں کو دینے والی چیز ہے۔ یہ اخبار کا آرٹیکل لگتا ہے کمیشن کو دیا گیا کام یہ نہیں تھا۔

    ’کوئٹہ کمیشن میں ہم نے بتایا تھا یہ یہ کر لیں۔ آج بھی اٹھا کر پڑھ لیں کمیشن کا کام کیا ہے۔ یہ کمیشن والے تو لگتا ہے اپنے آفس سے باہر نکلے ہی نہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا ’کمیشن 12 مئی کو اور بعد والے دھرنے کو گول کر گیا۔‘

    اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’گول تو وہ اس ٹی ایل پی والے دھرنے کو بھی کر گئے۔‘

    چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’کمیشن لکھتاہے آرمی کو ان معاملات سے دور رکھنا چاہیے تو معاہدے پر دستخط کیوں کیے۔