’گورنر ہاؤس عوام کے لیے کھول دوں گا‘ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی صوبائی گورنر کو تنبیہ

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے صوبے کے گورنر کو متنبہ کیا ہے کہ اگر انھوں نے دوبارہ سیاسی بیانات دیے تو وہ گورنر ہاؤس عوام کے لیے کھول دیں گے۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وہ ایک آئینی عہدے پر ہیں اور اگر گورنر ہاؤس پر قبضے کی کوشش کی گئی تو وہ انھیں سڑکوں پر گھسیٹیں گے۔

خلاصہ

  • نو مئی واقعات کے اصل ذمہ داران کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں اور ان منصوبہ سازوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: آرمی چیف عاصم منیر
  • بااختیار طاقتوں کو کہتا ہو کہ عام معافی کا اعلان کرکے آگے بڑھیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں: علی امین گنڈاپور
  • ملک کے آئین و قانون کے تحت فوج کا ملکی سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے: مولانا فضل الرحمان
  • نو مئی بغاوت کا ایک منظم منصوبہ تھا جس کے ذریعے فوج میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی گئی: وزیراعظم شہباز شریف

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, نو مئی کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور عمل درآمد کرنے والوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ترجمان افواجِ پاکستان

    پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سانحہ نو مئی خود ساختہ اور تنگ نظر انقلاب لانے کی ایک ناکام کوشش تھی۔ اس دن کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور عمل درآمد کرنے والوں کے ساتھ نہ تو کوئی سمجھوتہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی انھیں ملک کے قانون کی دھجیاں اڑانے کی اجازت دی جائے گی۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مسلح افواج، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، سروسز چیفس نے سانحہ نو مئی (یوم سیاہ) کی شدید مذمت کی ہے۔

    بیان کےمطابق نو مئی سیاسی طور پر متحرک اور مخصوص ذہن سازی کرنے والے شرپسندوں نے بغاوت کی، اس روز جان بوجھ کر ریاستی اداروں کے خلاف تشدد کا سہارا لیا گیا۔

    بیان کے مطابق ’شرپسند عناصر نے جان بوجھ کر ریاست کی مقدس علامتوں پر توڑ پھوڑ کی۔ شرپسند عناصر کا مقصد ملک میں خود ساختہ اور تنگ نظر انقلاب لانے کی ناکام کوشش تھی، مسلح افواج نےانتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا اور تخریب کاروں، سرغنوں کے ساتھ ساتھ ان کے منصوبہ سازوں کی گھناؤنی سازش کو ناکام بنا دیا۔‘

    بیان میں کہا گیا کہ قومی ہم آہنگی اور استحکام کو نقصان پہنچانے میں ناکام ہو کر اس سازش کے منصوبہ ساز، سہولت کاروں اور اس پر عمل کرنے والوں نے مسلح افواج اور ریاست کے خلاف نفرت کی ایک مذموم مہم شروع کر دی تاکہ بیانیے کو اپنے فائدے کے لیے موڑ دیا جائے اور الزام ریاستی اداروں پر ڈالا جائے۔

    بیان کے مطابق ’یہی وجہ ہے کہ سانحہ نومئی کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور عمل درآمد کرنے والوں کے ساتھ نہ تو کوئی سمجھوتہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی انھیں ملک کے قانون کی دھجیاں اڑانے کی اجازت دی جائے گی۔‘

    آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق نو مئی کے اصل مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے کہ مستقبل میں کوئی بھی اس طرح کے غیر ضروری اقدام کے ذریعے ہمارے ہیروز کی یادگاروں اور ہمارے اتحاد کی علامتوں کی بے حرمتی کرنے کی جرات نہ کرے۔

    آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے اور پاکستان کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے اپنے عزم کی آج پھر تجدید کرتی ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج کا پاکستانی عوام کے ساتھ بہت خاص رشتہ ہے۔

  2. عہد کرتے ہیں کہ اب نو مئی کبھی نہیں ہونے دیں گے: مریم نواز

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نو مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ نو مئی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ قوم اس دن کو بھولے گی نہ معاف کرے گی۔

    مریم نواز نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے منصوبہ سازوں کو کیفرکردار تک پہنچانا ضروری ہے۔ ہوس پرستوں نے قوم کی عزت و حرمت کی ریڈ لائن کراس کی۔ قومی ادارے کو کمزور کرنے کی سازش اور مجرم بے نقاب ہوچکے ہیں۔‘

    مریم نواز کا کہنا ہے کہ سیاست کی خاطر ملک و قوم کے وقار کو پامال کرنے والے کسی معافی کے مستحکم نہیں ہوسکتے۔ عہد کرتے ہیں کہ اب نو مئی کبھی نہیں ہونے دیں گے اور اسے کرنے والے اب تاریخ کے کوڑا دان میں نظر آئیں گے۔

  3. پی ٹی آئی تمام حلقوں میں پُرامن احتجاج کرے گی، گرفتاریوں کے خدشے کے باعث پہلے سے تفصیلات نہیں دے سکتے : ترجمان تحریک انصاف

    پی ٹی آئی احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آج ملک بھر میں پر امن احتجاج کی کال دی گئی ہے تاہم اس حوالے سے وقت اور مقام کی تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔

    ترجمان تحریک انصاف رؤف حسن نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے ہر حلقے سے احتجاج کی کال دے رکھی ہے تاہم دو دن سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اور اسی خدشے کو سامنے رکھ کر ہم وقت یا مقام کا پہلے سے اعلان نہیں کرسکتے۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل پی ٹی آئی چیئرمین بیریسٹر گوہرخان نے ایک روز قبل اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں نو مئی کے احتجاج کے حوالے سے اعلان کیا تھا کہ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈر ہر حلقے سے احتجاج کی قیادت کریں گے اور یہ احتجاج پرامن ہو گا۔

    بیرسٹر گوہر خان نے اس حوالے سے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی نو مئی کے حوالے سے کمیشن بنانے کی قرارداد بھی منظور کرے گی۔

    بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق خیبر پختونخوا میں آج نو مئی کے دن پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام ف کی جانب سے الگ الگ احتجاجی جلسے منعقد ہو رہے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان پشاور کے دلہ زاک روڈ پر ایک بڑے جلسے سے خطاب کریں گے جبکہ پی ٹی آئی کی ریلی ڈیرہ اسماعیل میں بیساکھی گراؤنڈ میں منعقد ہوگی جس میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈہ پور خطاب کریں گے۔

    عزیز اللہ خان کے مطابق پشاور میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے شام کے وقت چوک یادگار میں ایک بڑے احتجاج کا اعلان کیا ہے جبکہ دیگر قائدین اور منتخب اراکین اسمبلی اپنے اپنے علاقوں میں ریلیوں کی قیادت کریں گے۔

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈہ پور نو مئی کے حوالے سے اپنے انتخابی حلقہ ڈیرہ اسماعیل خان میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے انھوں نے گزشتہ روز ڈیرہ میں جلسہ گاہ کی تیاریوں کا جائزہ لیا ہے۔

    گورنر خیبر پختونخوا آج نو مئی کے حوالے سے کرنل شیر خان کے مزار پر حاضری دیں گے جبکہ پشاور میں آرمی پبلک سکول کے طلبہ ریڈیو پاکستان کے احاطے میں شمعیں روشن کریں گے۔

  4. نو مئی 2023 عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف ’فالس فلیگ آپریشن‘ تھا

    پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب خان نے نو مئی کے واقعات کا ایک برس مکمل ہونے پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ بدھ کی رات سے پنجاب پولیس صوبے بھر میں ان کی جماعت کے ارکانِ اسمبلی اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہی ہے۔

    انھوں نے اپنی جماعت کے اس بیانیے کو دہرایا کہ نو مئی 20023 کو جو کچھ ہوا وہ ان کی جماعت اور اس کے بانی عمران خان کے خلاف ایک ’فالس فلیگ آپریشن‘ تھا۔

    عمر ایوب کا یہ بھی کہنا تھا کہ کریک ڈاؤن کے باوجود ان کی جماعت نو مئی کو ملک بھر میں پرامن احتجاج کرے گی۔

    tweet

    ،تصویر کا ذریعہX

  5. گوادر میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں سات افراد ہلاک اور ایک زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    گوادر میں فائرنگ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    بلوچستان کے ضلع گوادر میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    مقامی پولیس کے مطابق یہ واقعہ گوادر کے علاقے سربندر میں پیش آیا ہے اور اس میں ایک شخص زخمی بھی ہوا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد حجام کا کام کرتے تھے اور ان کا تعلق پنجاب کے ضلع خانیوال سے تھا۔

    فون پر رابطہ کرنے پر گوادر پولیس کے ایس ایچ او محسن بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی شب تین بجے نامعلوم مسلح افراد نے سربندر میں ایک کوارٹر میں رہائش پذیر آٹھ افراد پر فائرنگ کر دی جس سے سات افراد ہلاک جبکہ ایک شخص زخمی ہو گیا۔

    پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کو پوسٹ مارٹم جبکہ زخمی شخص کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے گوادر کے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    اس واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے اور ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل 13 اپریل کو بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نامعلوم افراد کی طرف سے بس پر کی جانے والی فائرنگ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو افراد سمیت کل 11 افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے تھے۔

    نوشکی میں بس پر فائرنگ میں ہلاکتیں
    ،تصویر کا کیپشن13 اپریل کو نوشکی میں بس پر کی جانے والی فائرنگ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو افراد سمیت کل 11 افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئےتھے

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے گوادر میں ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوادر میں بے گناہ مزدوروں کا قتل کھلی دہشت گردی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا پیچھا کریں گے اور پاکستان میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں نہ ہی کوئی جگہ ۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف جس قسم کی فورس استعمال کرنا پڑی، کی جائے گی اور ریاستی رٹ ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔

    گوادر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنایران سے متصل ضلع گوادر بلوچستان کا ساحلی ضلع ہے

    واضح رہے کہ سربندر ماہی گیروں کی بستی ہے جو گوادر شہر سے مشرق میں کراچی کی جانب اندازاً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر مشرق میں واقع ہے۔ ایران سے متصل ضلع گوادر بلوچستان کا ساحلی ضلع ہے اور بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے گوادر میں بھی بدامنی کے اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

    ماضی میں بھی بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح گوادر میں بھی مزدوروں اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ بد امنی کے دیگر واقعات پیش آتے رہے۔ گوادر میں رواں سال مارچ میں گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر ایک بڑا حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔

  6. لاہورایئرپورٹ پر حج اور دیگر پروازوں کو اس وقت اندرون ملک پروازوں کے کاؤنٹر سے سہولت دے رہے ہیں: سی اے اے

    لاہور ایئرپورٹ انٹرنیشنل بریفنگ ایریا میں آج صبح دھواں بھر جانے کے واقعے کے حوالے سے سول ایوی ایشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حج زائرین کے لیے بنائے گئے خصوصی امیگریشن ایریا میں شارٹ سرکٹ ہوا جس سے دھواں بھر گیا تاہم صورت حال پر قابو پا لیا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق آج علی الصبح تقریبا سوا پانچ بجے شارٹ سرکٹ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پالیا گیا ہے۔

    سی اے اے کے مطابق حج اور دیگر انٹرنیشنل فلائیٹس کو اس وقت ڈومیسٹک سائیڈ سے ڈیل کیا جارہا ہےاور ڈومیسٹک فلائٹ آپریشنز بھی جلد بحال ہونے کی توقع ہے۔

    ترجمان کے مطابق لاہور ائرپورٹ لینڈ کرنے والی فلائیٹس کی مینول امیگریشن کی جارہی ہے۔

  7. 2014 میں ہونے والے دھرنے کی تحقیقات کے لیے تیار ہوں: عمران خان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے کہا ہے وہ سنہ 2014 میں ہونے والے دھرنے کی تحقیقات کے لیے تیار ہیں اور انھیں خوشی ہو گی کہ اس معاملے کی انکوائری کرنے والی کمیٹی انھیں طلب کرے۔

    یہ بات انھوں نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاونڈ کے مقدمے کی سماعت کے بعد کمرہ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہی۔

    یاد رہے کہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے منگل کے روز پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی کی طرف سے نو مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کے مطالبے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اگر نو مئی کی عدالتی تحقیقات ہونا ہیں تو پھر 2014 کے دھرنے اور اس کے پیچھے محرکات کی بھی انکوائری کی جائے۔

    بدھ کے روز اڈیالہ جیل میں ہونے والی عدالتی سماعت کے بعد جب عمران خان سے ڈی جی آئی آیس پی آر کے اس بیان سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ 2014 کے دھرنے سے متعلق جتنے بھی الزامات لگائے گئے ہیں وہ حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی اور عدالت میں موجود ایک جیل اہلکار کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ اُن کا آدھا خاندان فوج اور آدھا خاندان بیوروکریسی میں ہے۔

    سابق وزیر اعظم نے مزید کہا کہ فوج ہماری ہے اور ہمیں فوج سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ نو مئی واقعات کا انھیں اُس وقت پتہ چلا جب انھیں اگلے روز عدالتی حکم پر سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا۔ عمران خان نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے نو مئی واقعات کی اُس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے بھی مذمت کی تھی۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’خدا کے واسطے فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹیں۔ ہم نے اپنی 27 سال کی تاریخ میں کبھی جلاؤ گھیراؤ نہیں کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ انھوں نے وفاق اور خیبرپختونخوا کی حکومتیں انتخابات کے تحلیل کیں اور کوئی بھی سیاسی جماعت انتشار نہیں چاہتی۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ن لیگ کے لوگوں نے نجی محفلوں میں پی ٹی آئی جماعت کے ارکان کو بتا دیا تھا کہ جب تک قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس نہیں بنتے، نہ الیکشن ہوں گے اور نہ نواز شریف واپس آئیں گے۔‘

    انھوں نے ایک مرتبہ پھر الزام عائد کیا کہ 2013 کا الیکشن آر اوز کا الیکشن تھا۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم کے فارم 47 کے حوالے سے بیان کے بعد وفاقی حکومت سے کیا مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ صدر، وزیراعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب اور حال ہی میں ہونے والے سینٹ الیکشن فراڈ ہیں۔

  8. بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف بلوچستان کے زمینداروں کا آج احتجاج کا اعلان

    بلوچستان میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف صوبے بھر کے بلوچستان کے زمینداروں نے آج کوئٹہ میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

    بلوچستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے زمیندار آج ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں جمع ہوں گے جہاں سے وہ ریلی کی شکل میں بلوچستان اسمبلی پہنچیں گے۔

    زمیندار اپنے مطالبات کے حق میں بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے ۔

    زمیندار ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے دیہی علاقوں میں 24 گھنٹے میں صرف تین گھنٹے کے لیے بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ طویل لوڈ شیڈنگ سے بلوچستان میں زراعت بری طرح سے متائثر ہو رہی ہے۔

  9. نو مئی پشاور کا جلسہ عوامی ریفرنڈم ہوگا: مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں آج (جمعرات) جلسہ کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس جلسے میں اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا جو ملک گیر ہوگا۔

    جےیو آئی کے سربراہ کے مطابق ’بلوچستان ، سندھ کی عوام سے براہ راست بات کرنے کے بعد کل خیبرپختونخوا کی عوام سے براہ راست بات کروں گا۔‘

    ’عوامی پاور شو سے دنیا کو بتائیں گے کہ کس طرح اسمبلیاں بیچی گئی ہیں۔ یہ جلسہ پشاور کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہوگا جہاں عوام کی اسمبلی لگے گی۔

    مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ نومئی پشاور کا جلسہ عوامی ریفرنڈم ہوگا۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’کیوں کہ موجودہ ایوان عوام کا نمائندہ پارلیمنٹ نہیں ہے۔ عوام کی رائے دہی پر ڈاکہ ڈالنے والے عوام کا رد عمل بھی دیکھ لیں گے۔‘

    یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ ماہ عوامی اسمبلی منعقد کرنے کے لیے تحریک کا اعلان کیا تھا اور پشاور سے پہلے وہ بلوچستان اور صوبہ سندھ میں اسی طرح کی عوامی اسمبلیوں کے نام سے بڑے جلسوں سے خطاب کر چکے ہیں۔

    پی ٹی آئی اور جے یو آئی ماضی میں ایک دوسرے کی سخت مخالف جماعتیں رہی ہیں اور اس بارے میں دونوں جانب سے قائدین بیان بازی بھی کرتے رہے ہیں لیکن حالیہ انتخابات کے دوران اور پھر اس کے نتائج کے بعد دونوں جانب سے رابطے ہوئے ہیں جس سے تلخی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ آج کے جلسے دونوں جماعتیں الگ الگ حیثیت سے کر رہے ہیں۔

  10. نو مئی کے واقعات کی حمایت اورمدد میں ملوث افراد کے لیے کوئی معافی نہیں: شہباز شریف

    نو مئی کے واقعات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم شہباز شریف نے نو مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’نو مئی کو جو کچھ ہوا اس پرقطعاً کوئی نرمی نہیں برتی جا سکتی اور نہ ان لوگوں کے لیے کوئی معافی ہو سکتی جنھوں نے قوم کی بنیادوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔‘

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ نو مئی کے واقعات کی حمایت اورمدد میں ملوث افراد کے لیے کوئی معافی نہیں۔

    ’جھوٹ کے سائے میں سچ کی روشنی کو نہیں چھپایا جا سکتا۔ آج سے ایک سال پہلے نہ صرف ہمارے قومی وقار کی علامتوں پر حملہ کیا گیا بلکہ مقدس وطن کی حرمت کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    عمران خان کی گرفتاری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس سے قبل ایکس پر جاری بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف نے نو مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ ’نو مئی محض تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن نہیں، یہ ریاست پر سیاست قربان کرنے اور سیاست کے لئے ریاست پر حملہ کردینے والی دو سوچوں کو الگ الگ کردینے والا دِن ہے۔‘

    اپنے پیغام میں شہباز شریف نے کہا کہ ’ایک طرف وطن پر لہو نچھاور کرنے والے قوم کے عظیم بیٹے، ان کے عظیم اہل خانہ، محب وطن عوام ہیں، دوسری طرف نفرت کی آگ میں سلگتے وہ کردار ہیں جن کے دِل میں ریاستی مفادات کا کوئی دردہے، نہ آنکھ میں قومی یادگاروں، ریاستی اداروں، آئین، قانون کے لئے کوئی عزت وشرافت ہے۔‘

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’ایک سال گزر گیا لیکن قوم اور پاکستان اپنے مجرموں کو نہ بھولے ہیں نہ بھولیں گے۔‘

  11. نو مئی کے پر تشدد واقعات کا ایک سال مکمل، پی ٹی آئی کا پر امن احتجاج کا اعلان

    نو مئی پر تشدد واقعات

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    نو مئی 2023 کو ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے پر تشدد احتجاج کو آج ایک سال مکمل ہو گیا ہے جس کے تناظر میں تحریک انصاف نے آج پر امن احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

    پی ٹی ائی چیئرمین بیریسٹر گوہر خان نے ایک روز قبل اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں نو مئی کے احتجاج کے حوالے سے اعلان کیا کہ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈر ہر حلقے سے احتجاج کی قیادت کریں گے اور یہ احتجاج پرامن ہو گا۔

    بیرسٹر گوہر خان نے اس حوالے سے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی نو مئی کے حوالے سے کمیشن بنانے کی قرارداد بھی منظور کرے گی۔

    دوسری جانب اڈیالہ جیل میں قید بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے نو مئی کے حوالے سے پیغام دیا ہے جس میں کہا ہے کہ نو مئی کو جس فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے تحریک انصاف کو کچلنے کی کوشش کی گئی وہ سب پہلے سے طے شدہ تھا،نو مئی کی حقیقت قوم پر پوری طرح واضح ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ’اگر کوئی سمجھتا ہے کہ طاقت کے اندھے استعمال اور ریاستی وسائل کے بل بوتے پر حقیقت کو جھٹلا سکتا ہے توغلط فہمی کا شکار ہے۔‘

    ’قوم کو بتایا جائے نو مئی کو کس کے حکم پر مجھے اسلام آباد ہائی کورٹ سے نیم فوجی مسلح دستے کے ذریعے اغوا کیا گیا،اور کس کے حکم پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی گئی۔ کس کے حکم پر میرے پرتشدد اغوا کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی گئیں۔‘

    عمران خان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کے خط اور کمشنر راولپنڈی کے اعترافی بیان نے ساری حقیقت قوم کے سامنے کھول کر رکھ دی ہے۔‘

  12. اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خلاف ’مہم‘، توہین عدالت کے دو کیسز پر لارجر بینچ تشکیل

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار اور جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف ’بدنیتی پر مبنی مہم‘ کے معاملے پر دونوں توہین عدالت کے کیسز پر لارجر بینچ تشکیل دیے گئے ہیں۔

    جسٹس محسن اختر کیانی سے متعلق توہین عدالت کیس چیف جسٹس کی سربراہی میں لارجر بینچ سماعت کرے گا۔ چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر سماعت کریں گے۔

    جسٹس بابر ستار سے متعلق توہین عدالت کیس پر جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق جہانگیری اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق سماعت کریں گے۔

  13. پاکستان میں وکلا تنظیموں کی نو مئی کو ملک گیر ہڑتال کی کال

    پاکستان کی وکلا تنظیموں نے لاہور میں پولیس کی کارروائی کے بعد نو مئی کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

    اس سے قبل پنجاب اور سندھ کی وکلا تنظیموں نے پولیس کے رویے کی مذمت کی تھی۔

    پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ریاضت علی سحر نے لاہور میں وکلا کے خلاف ’پولیس کی کارروائی‘ پر مذمتی بیان جاری کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے وکلا کے ساتھ ’وحشیانہ سلوک کیا اور متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔

    ’وکلا سمیت ہر فرد کو پُرامن احتجاج میں حصہ لینے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ وکلا کے خلاف پولیس کی بربریت کی ایسی کھلی کارروائیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘

    آج لاہور کا جی پی او چوک اس وقت میدان جنگ بن گیا جب سول عدالتوں کی منتقلی اور وکلا پر دہشتگری کے مقدمات کے خلاف وکلا کے احتجاج پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی۔

    ادھر لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ ’وکلا کی جانب سے ہائی کورٹ کے احاطہ میں ہنگامہ آرائی، جلاؤ گھراؤ اور توڑ پھوڑ کی کال دی گئی تھی۔ پولیس نے ہائی کورٹ کے احاطہ کے اندر لا اینڈ آرڈ کی صورتحال برقرار رکھی۔‘

    ’وکیلوں کی طرف سے لاہور پولیس پر پتھراؤں اور لاٹھی چارج کیا گیا۔‘

  14. لاہور میں سول عدالتوں کی تقسیم کا معاملہ: پولیس کا لاہور ہائیکورٹ کے باہر احتجاج کرنے والے وکلا پر لاٹھی چارج

    Lahore

    ،تصویر کا ذریعہWaqas Awan

    لاہور کے جی پی او چوک پر سول عدالتوں کی منتقلی اور وکلا پر دہشتگری کے مقدمات کے خلاف وکلا کے احتجاج پر پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی گئی ہے۔

    احتجاج کے دوران وکلا نے لاہور ہائیکورٹ کے باہر پولیس کی جانب سے رکھی جانے والی رکاوٹیں ہٹا کر ہائیکورٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر پولیس نے وکلا کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور شیلنگ کی اسی دوران پولیس کی جانب سے وکلا مظاہرین کے خلاف واٹرکینن کا استعمال بھی کیا گیا۔

    مظاہرے میں شامل کئی کئی وکلا کو پولیس نے گرفتار بھی کیا جب کہ پولیس نے رکاوٹیں رکھ کر لاہور ہائیکورٹ کے مین گیٹ کا راستہ بھی بند کر دیا، وکلا کے مظاہرے سے متعلق سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہائیکورٹ کے احاطے میں بھی پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔

    اس کشیدہ صورتحال کی وجہ سے جی پی او چوک پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی ہے۔

  15. بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست منظور, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    بشریٰ بی بی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بنی گالہ سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے سے متعلق دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اب سے کُچھ دیر قبل فیصلہ سُناتے ہوئے انھیں اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے بنی گالہ سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کے لیے درخواست دائر کر رکھی تھی جسے آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کر لیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے آج یہ محفوظ فیصلہ سنایا۔ یاد رہے کہ عدالت نے گزشتہ ہفتے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    تاہم اُس وقت دورانِ سماعت عدالت کے سامنے جیل حکام نے جیل میں گنجائش نا ہونے اور سیکورٹی ایشو کی وجہ سے منتقل نا کرنے کی موقف اختیار تھا۔

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی عدت کے مقدمے میں قید ہیں جیل انتظامیہ نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بشریٰ بی بی کو اڈیالہ سے بنی گالہ منتقل کردیا تھا اور اس کو سب جیل قرار دیا گیا تھا۔

    عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی اہلیہ کو بنی گالہ میں کھانے میں زہر دیا جا رہا ہے تاہم عدالتی حکم پر ان دونوں کے میڈیکل ٹیسٹ کروائے گئے اور جیل حکام کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کے معائنے کی رپورٹس ٹھیک آئی ہیں۔

  16. وفاقی دارلحکومت میں دفعہ 144 نافذ: ’کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘ اسلام آباد پولیس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترجمان اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا ہے کہ ’کسی بھی غیر قانونی ریلی یا احتجاج کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی تاہم خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔‘

    اسلام آباد پولیس کے مطابق ’اگر کسی نے 9 مئی کو قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو اس سے قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اسلام آباد پولیس ہرگز انتشار برداشت نہیں کرے گی اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 9 مئی کو ملک بھر میں ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

    تحریک انصاف نے اپنے کارکنان کو پیغام میں کہا تھا کہ 9 مئی کو پاکستان کے اور پاکستان تحریک انصاف کے جھنڈے گھر کی چھتوں پر اور عمارتوں پر لگائیں۔

  17. بشریٰ بی بی کی بنی گالہ سے اڈیالہ جیل منتقلی سے متعلق دائر درخواست پر فیصلہ آج سنایا جائے گا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہ@WASEEMALSALIMI

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بنی گالہ سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے سے متعلق دائر درخواست پر آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیصلہ سنایا جائے گا۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر آج فیصلہ سنائیں گے۔

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی عدت کے مقدمے میں قید ہیں جیل انتظامیہ نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بشریٰ بی بی کو اڈیالہ سے بنی گالہ منتقل کردیا تھا اور اس کو سب جیل قرار دیا گیا تھا۔

    عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی اہلیہ کو بنی گالہ میں کھانے میں زہر دیا جا رہا ہے تاہم عدالتی حکم پر ان دونوں کے میڈیکل ٹیسٹ کروائے گئے اور جیل حکام کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کے معائنے کی رپورٹس ٹھیک آئی ہیں۔

    عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں فیصلے کے خلاف دائر کی جانے والی اپیل کی سماعت آج ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند کی عدالت میں ہوگی اور اس مقدمے میں درخواست گزار اور بشریٰ بی بی کی سابق شوہر خاور مانیکا کے وکیل رضوان عباسی دلائل دیں گے۔

  18. ’ہم پاکستان یا دنیا میں کہیں بھی ہر قیدی کی حفاظت اور سلامتی دیکھنا چاہتے ہیں‘ امریکی محکمہ خارجہ

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہU.S. Department of State

    امریکی محکمہ خارجہ نے سابق وزیراعظم عمران خان سمیت پاکستان میں قید تمام قیدیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے منگل کو نیوز بریفنگ کے دوران امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں بشمول قائد حزبِ اختلاف عمر ایوب خان کے درمیان ملاقات سے متعلق بھی بات کی۔

    اس ملاقات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ بلوم نے قائد حزب اختلاف اور پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے دیگر رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ اُن کا کہنا تھاکہملاقات میں معاشی اصلاحات، انسانی حقوق ، علاقائی سلامتی و دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دونوں جانب سے جو زیرِ بحث آئے اُن میں اسلام آباد کو امریکی اقتصادی حمایت جاری رکھنا بھی شامل ہے۔

    پاکستان تحریکِ انصاف کے ساتھ حقوق اور عمران خان کے خلاف من گھڑت الزامات پر ہونے والے ایک سوال کے جواب میں میتھیو ملر نے سیاسی غیر جانبداری پر امریکی موقف کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا موقف وہی ہے جو ہم پہلے کہہ چکے ہیں، یعنی ہم پاکستان میں انتخابات کے حوالے سے کوئی موقف اختیار نہیں کرتے۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکا پاکستان میں کسی سیاسی جماعت کو سپورٹ نہیں کرتا۔‘

    ملر نے سینیٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر کی جانب سے جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی حفاظت کے حوالے سے پاکستان کو مبینہ انتباہ کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے انسانی حقوق کے لیے امریکی عزم کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ سینیٹر شومر نے پاکستانی سفیر کو بتایا کہ عمران خان کی حفاظت واشنگٹن میں اولین ترجیح ہے لیکن وہ اس بات چیت سے آگاہ نہیں تھے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’لیکن ظاہر ہے کہ ہم پاکستان یا دنیا میں کہیں بھی ہر قیدی کی حفاظت اور سلامتی دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے کہ ہر شخص، اور ہر قیدی قانون کے تحت بنیادی انسانی حقوق اور تحفظ کا حقدار ہے۔‘

  19. ’پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور اس کی خودمختاری پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے‘ میر سرفراز بگٹی, محمد کاظم، کوئٹہ

    بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان دو الگ الگ خود مختار ممالک ہیں اس لیے دنیا کے دیگر ممالک کی طرح خیبر پختونخوا کے بعد بلوچستان میں بھی سرحدی شہر چمن سے آمدورفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط کو لاگو کیا گیا ہے۔

    منگل کی شام وزیر اعلیٰ کے یہ ریمارکس ایک ایسے موقع پر سامنے آئے جب چمن میں پاسپورٹ کی شرط سے متائثر ہونے والے مزدوروں کے احتجاج کے دوران فائرنگ سے دو مظاہرین کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کے بعد دھرنے کے شرکا نے سینیچر سے کوئٹہ اور سرحدی شہر چمن کے درمیان بین الاقوامی شاہراہ کو بڑی ٹریفک کے لیے بھی بند کیا ہے۔

    سابق نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ اور وفاقی وزیر داخلہ میر سرفراز کے ہمراہ ایوب سٹڈیم کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران چمن میں پاسپورٹ کی شرط کے خلاف گذشتہ سال 21 اکتوبر سے جاری دھرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس سے صرف پشتون تقسیم نہیں ہوئے بلکہ بلوچ، پنجابی اور سندھی بھی تقسیم ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی جانب سے سرحد پر ون ڈاکیومنٹ رجیم اپلائی کیا گیا تو وہاں پاسپورٹ ہی کو آمدورفت کا واحد ذریعہ بنایا گیا۔ اس کے بعد حکومت نے اسے چمن بارڈر پر بھی لاگو کیا ۔

    انھوں نے کہا کہ دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کہیں پاسپورٹ کے بغیر سفر کریں۔ ہم بغیر پاسپورٹ کے اپنے مقدس مقامات پر سعودی عرب نہیں جا سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ چمن بارڈر سے پاسپورٹ کی شرط کے بعد وہاں پاسپورٹ آفس بنایا گیا اور نادرا آفس اور پاسپورٹ آفس میں عملے اور سہولیات کو بڑھایا گیا تاکہ لوگوں کےپاسپورٹ جلدی بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بالاخر اس ریاست کو ایک سافٹ ریاست سے ایک ہارڈ ریاست بنانا پڑے گا۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور اس کی خودمختاری پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے ہیں۔

    دوسری جانب سینیچر کو چمن میں ایف سی کے قلعے کے سامنے ہونے والے جھڑپ میں مظاہرین پر مبینہ فائرنگ کے واقعے کے بعد کوئٹہ اور چمن کے درمیان بین الاقوامی شاہراہ کو دھرنے کے شرکا نے منگل کے روز بھی ہر قسم کی بڑی ٹریفک کے لیے بند رکھا۔

  20. عوام نے فوج کے نو مئی کے بیانیے کو مسترد کیا ہے: مولانا فضل الرحمان

    مولانا فضل

    ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

    جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عوام نے نو مئی کا بیانیہ مسترد کیا ہے۔

    جیو نیوز کے اینکر حامد میر کے ساتھ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ’نو مئی پر ہم نے بھی احتجاج کیا تھا۔ پوری قوم نے ریاستی اداروں پر حملے کا نوٹس لیا تھا۔ مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اپنی جگہ پر، یہ بتایا جائے الیکشن میں دھاندلی ہوئی یا نہیں۔‘

    ’یا تو وہ تسلیم کریں کہ دھاندلی کی گئی ہے۔ اگر وہ تسلیم نہیں کرتے تو (یہ واضح ہے کہ) عوام نے اس (فوج) کے نو مئی کے بیانیے کو مسترد کر دیا ہے۔‘

    ان کا اشارہ آٹھ فروری کے عام انتخابات کی طرف تھا جس میں تحریک انصاف کے حمایت آزاد امیدواروں نے سب سے زیادہ نشستیں جیتی تھیں۔

    تاہم جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہا کہ ان کے چند روز بعد نو مئی کو احتجاجی مظاہرے کا تعلق گذشتہ سال نو مئی کو فوجی تبصیبات پر حملوں سے نہیں ہے۔

    ادھر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نو مئی ہمیشہ اس بات کی یاد دلائے گا کہ ایک شخص اور گروہ نے ذاتی ایجنڈے اور اقتدار کی ہوس میں وطن عزیز کی اثاث پر حملہ کیا۔

    ’ایک سوچے سمجھے منصوبے پر عمل کیا گیا۔۔۔ ان کرداروں کی سزا کا فیصلہ آئین و قانون کرے گا۔‘

    تجزیہ کار سلمان مسعود نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں نو مئی کا معاملہ سرفہرست تھا اور دوران روابط قائم کرنے کے کچھ اصول طے کیے گئے ہیں۔ ’نو مئی کے واقعات کی معافی مانگیں، پُرتشدد حملوں پر ملوث افراد کا احتساب کیا جائے اور پھر آگے بڑھا جائے گا۔‘

    ’پی ٹی آئی کی قیادت نے عوامی سطح پر معافی مانگنے سے اب تک انکار کیا ہے۔۔۔ انھیں لگتا ہے کہ وہ دباؤ ڈال سکتے ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام