’گورنر ہاؤس عوام کے لیے کھول دوں گا‘ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی صوبائی گورنر کو تنبیہ
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے صوبے کے گورنر کو متنبہ کیا ہے کہ اگر انھوں نے دوبارہ سیاسی بیانات دیے تو وہ گورنر ہاؤس عوام کے لیے کھول دیں گے۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وہ ایک آئینی عہدے پر ہیں اور اگر گورنر ہاؤس پر قبضے کی کوشش کی گئی تو وہ انھیں سڑکوں پر گھسیٹیں گے۔
خلاصہ
- نو مئی واقعات کے اصل ذمہ داران کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں اور ان منصوبہ سازوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: آرمی چیف عاصم منیر
- بااختیار طاقتوں کو کہتا ہو کہ عام معافی کا اعلان کرکے آگے بڑھیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں: علی امین گنڈاپور
- ملک کے آئین و قانون کے تحت فوج کا ملکی سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے: مولانا فضل الرحمان
- نو مئی بغاوت کا ایک منظم منصوبہ تھا جس کے ذریعے فوج میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی گئی: وزیراعظم شہباز شریف
لائیو کوریج
نو مئی احتجاجی ریلی نکالنے کا مقدمہ: تحریک انصاف چیئرمین بیرسٹر گوہر اور شعیب شاہین کی عبوری ضمانت منظور, شہزاد ملک، نمائندہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد کی ایک ڈسترکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے نو مئی کو احتجاجی ریلی نکالنے کے معاملے پر درج مقدمہ میں تحریک انصاف چیئرمین یرسٹر گوہر سمیت شعیب شاہین اور عامر مسعود مغل کی عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔
تحریک انصاف رہنماوں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر جوڈیشل مجسٹریٹ ارشد محمود جسرا نے سماعت کی جس کے دوران بیرسٹر گوہر، شعیب شاہین اور عامر مغل وکلاء کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے۔
عدالت نے ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے پانچ پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت منظور کر لی۔
عدالت نے عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے 21 مئی کو دلائل طلب کر لیے اور فریقین کو نوٹس جاری کرتے کیس کی سماعت 21 مئی تک ملتوی کر دی۔
جب لاہور کے معززین سے شہر کی نالیاں صاف کروائی گئیں اور شہریوں کو سائیکل، پنکھے اور بلب تک فوج کے حوالے کرنے کے احکامات ملے
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 600 پوائنٹس سے زیادہ کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری میں دلچسپی دیکھی گئی ہے۔ جمعے کے روز پہلے کاروباری سیشن کے اختتام پر سٹاک مارکیٹ انڈیکس میں 607 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور انڈیکس اس وقت 73266 کی سطح پر موجود ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں تیزی کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ معاشی شعبوں میں ہونے والی پیش رفت ہے۔
تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کے وفد کی پاکستان آمد کے بعد پاکستان حکومت کی جانب سے سرمایہ کاری کے معاہدوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے جس کا مثبت اثر مارکیٹ میں آیا۔ ’اسی طرح پاکستان آئی ایم ایف سے اگلے پروگرام کے لیے سنجیدہ ہے اور آئی ایم ایف کا مشن اگلے قرض پروگرام کے لیے پاکستان پہنچ رہا ہے۔‘
شہر یار بٹ نے کہا پاکستان کے معاشی اشاریوں میں بہتری بھی آئی ہے۔ ’ترسیلات زر میں مسلسل دو مہینوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مہنگائی مین کمی کا رجحان جاری ہے جس کا مطلب ہے کہ اگلے دنوں میں شرح سود میں کمی ہو سکتی ہے جو مارکیٹ کے لیے مثبت ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس وقت ملک میں سٹاک مارکیٹ ہی سرمایہ کاروں کو واحد ذریعہ نظر آرہا ہے کیونکہ پراپرٹی کا شعبہ اس وقت نیچے ہے اور دوسرے شعبے بھی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش نہیں ہیں اس لیے سٹاک مارکیٹ میں زیادہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔‘
بریکنگ, بااختیار طاقتوں کو کہتا ہو کہ عام معافی کا اعلان کرکے آگے بڑھیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں: علی امین گنڈاپور

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی اور پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈا پور نہ کہا ہے کہ بااختیار طاقتوں کو کہتا ہو کہ عام معافی کا اعلان کرکے آگے بڑھے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔
وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے ڈیرہ اسماعیل خان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا لیڈر (عمران خان) ہمارے دلوں میں موجود ہے، نہ خود کسی کے سامنے جھکیں گے نہ قوم کو جھکنے دیں گے۔
انھوں نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیڈر کے ظرف کی وجہ سے زبان بند ہے اگر زبان کھول دی تو پھر کسی کو منھ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔
وزیراعلی خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ ہم کسی کیساتھ لڑنا نہیں چاہتے ملک کی خوشحالی اور ترقی چاہتے ہیں۔ ’بااختیار طاقتوں کو کہتا ہو کہ عام معافی کا اعلان کرکے آگے بڑھے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کی فوج بھی ہماری، پولیس بھی ہماری، عدلیہ بھی ہماری اور عوام بھی ہمارے ہیں، ہمارالیڈر عوام اور اس ملک کے لیے جیل میں ہے۔ اداروں کو کہتے ہیں کہ وہ خود کو سیاست سے دور رکھیں۔
انھوں نے نو مئی کے بعد کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے رہنماوں اور کارکنوں کے ساتھ جو ظلم کیا گیا اس کی پہلے مثال نہیں ملتی۔ ہمارے رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ جو کیا گیا ان کی معافی کون مانگے گا۔
علی آمین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت میں آتے ہی سب کو معاف کر دیا،آٹھ اضلاع میں میرے خلاف جعلی پرچے کاٹے گئے، جعلی پرچے کاٹنے والے معافی مانگیں۔ انھوں نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیڈر کو رہا کو اور ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کا مینڈیٹ واپس کرو۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک ہمارے لیڈران اور کارکنان پر ناجائز مقدمات ختم نہیں کئے جاتے اور ان کو رہا نہیں کیا جاتا ملک میں سیاسی استحکام نہیں آسکتا۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ہمارے لیڈر کو غلط گرفتار کیا،غلط گرفتاری کرنے والوں ان کو بھی معافی مانگنی چاہیئے۔
انھوں نے اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئےکہا کہ ’مذاکرات کے میز پر آجائیں اگر ہم غلط ہوئے تو مجھے پھانسی پر لٹکائے اگر آپ لوگ غلط ثابت ہوئے تو ہم ملک کی خاطر سب کو معاف کرتے ہیں۔‘
انھوں نے جلسہ میں کہا کہ مجھے کرسیاں نہیں بلکہ اپنے لیڈر کا ساتھ چاہیئے ، گورنر راج کی دھمکیوں سے ڈرنے والا نہیں اگر گورنر راج لگالیا تو صوبے کے عوام وزیراعلی ہاوس اور گورنر ہاؤس پر قبضہ کرلیں گے۔ ان کا کہنا تھا خیبرپختونخوا میں گورنر راج نہیں بلکہ عوامی راج چلتا ہے۔
علی امین گنڈاپور نے پی ٹی آئی کے سابق رکن پرویز خٹک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’پرویز خٹک میرے ساتھ خانہ کعبہ میں جا کر یہ بتائیں کہ سی ایم ہاؤس کے لان میں کیا کہا تھا، پرویز خٹک نے کہا کہ باجوہ صاحب کہتے ہیں کہ مجھے ایکسٹینشن دیں اور باقی پارٹیوں کو این آر او دیدیں عدم اعتماد واپس لے لوں گا، ہمارے لیڈر (عمران خان) نے صاف انکار کردیا اگر وہ حکومت کا لالچی ہوتے تو ڈیل کر لیتے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’فیض حمید کو آرمی چیف بنانے جو کوئی ارادہ نہیں تھا ورنہ چھ مہینے کا ایکسٹینشن کے بعد فیض حمید کو آرمی چیف بنا سکتے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات سے ہمارے لیڈر نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ قائد اعظم کا اسرائیل کے بارے میں جو نظریہ تھا اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اپنے لیڈر، رہنماوں اور کارکنوں کی رہائی تک عوامی جدوجہد جاری رہے گی۔
’تم اگر وردی پہن کر مجھ پر رعب ڈالنا چاہتے ہو تو یہ تمہاری بھول ہے‘: مولانا فضل الرحمان

،تصویر کا ذریعہJUIF Media
جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل االرحمان نے پاکستان کی فوج پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے آئین و قانون کے تحت فوج کا ملکی سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے۔
پشاور میں آٹھ فروری کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اپنی پارٹی کی تحریک کے سلسلے میں منعقدہ تیسرے جلسے میں مولانا فضل الرحمان نے اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’تم اگر وردی پہن کر مجھ پر رعب ڈالنا چاہتے ہو تو یہ تمہاری بھول ہے۔ تم میرے قریب بھی نہیں آسکتے، معاملات ٹھیک کرلو اور اپنی حدود میں رہو۔‘
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’کہا جاتا ہے کہ الیکشن میں فوج کا کوئی کردار نہیں، میں آپ کو واضح کر دیتا ہوں آئین اور قانون میں ایسے کوئی قوانین نہیں ہے کہ فوج سیاست پر بات کرے۔‘
مولانا فضل الرحمان نے اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’آئین اور قانون کی روح سے آپ کا کوئی کردار نہیں مگر یہ سارا مسئلہ ہی آپ کا ہے۔‘
انھوں نے پشاور کے جلسہ عام سے خطاب کے دوران کہا کہ ’فوج کو اب قبائیلی علاقوں سے نکلنا ہو گا۔ ہمیں امن دینے کے نام پر قبائل کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔‘
انھوں نے جلسہ کے شرکا سے خطاب کے دوران کہا کہ ’ جب تک فضل الرحمان زندہ ہے وہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔ میں جس جگہ کھڑا ہوں دلیل کے ساتھ کھڑا ہوں۔ مجھے کیا ضرورت دس لاکھ لوگوں کو کے کر آج جلسہ کروں۔‘
انھوں نے چند روز قبل ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’کچھ روز قبل افواج پاکستان کے ترجمان نے تین گھنٹے پریس کانفرنس کی مگر مجھے سمجھ نہیں آئی انھوں نے کہا کیا۔‘
انھوں نے مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب ایوان نہیں میدان۔‘
مولانا فضل الرحمان نے اپنے جلسے کے دوران یکم جون کو جنوبی پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ میں عوامی اسمبلی منعقد کرنے کا اعلان کر دیا
واضح رہے کہ جے یو آئی ایف نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک شروع کر رکھی ہے اور آج پشاور میں اس تحریک کا تیسرا جلسہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل اس تحریک کا پہلا جلسہ بلوچستان جبکہ دوسرا سندھ میں کیا گیا تھا۔
جے یو آئی نے اس تحریک کو ’اب ایوان نہیں میدان‘ کا نام دیا ہے۔
گوادر میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے سات حجام قتل: ’میرا سب کچھ لٹ گیا، میرے گھر کی کفالت کرنے والے دونوں بیٹے مارے گئے‘
بلوچستان کے کاشتکاروں کا بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف بلوچستان اسمبلی کے باہر دھرنا, محمد کاظم، بی بی سی اردو

بلوچستان کے کاشتکاروں نے بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف بلوچستان اسمبلی کی عمارت کے سامنے دھرنا شروع کیا ہے۔
یہ دھرنا بلوچستان میں کاشتکاروں کی سب سے بڑی تنظیم زمیندار ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام منعقد کیا جا رہا ہے۔
اس دھرنے میں شریک ہونے کے لیے کاشتکار بلوچستان کے مختلف اضلاع سے جمعرات کی صبح ایوب سٹڈیم پہنچے تھے۔
ایوب سٹڈیم سے کاشتکار ریلی کی شکل میں بلوچستان اسمبلی کی عمارت کے سامنے پہنچے اور وہاں مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنے پر بیٹھ گئے۔
دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین نصیر شاہوانی اور سیکریٹری جنرل عبدالرحمان بازئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت انتہائی کم وولٹیج کے ساتھ بلوچستان میں زرعی فیڈرز پر 24 گھنٹے میں صرف تین گھنٹے تک بجلی فراہم کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ سے بلوچستان میں زراعت بری طرح سے متائثر ہورہی ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے 70 فیصد لوگوں کے معاش اور روزگار کا انحصار زراعت پر ہے جبکہ زیر زمین پانی کی سطح گرجانے سے زراعت کا انحصار بجلی پر ہے۔
انھوں نے کہا کہ زراعت متاثر ہونے سے بلوچستان میں بے روزگاری کا سیلاب آئے گا۔
کاشتکاروں کا مطالبہ ہے کہ ان کے ٹیوب ویلوں کو سولر پر منتقل کیا جائے اور ٹیوب ویلوں کی سولر پر منتقلی تک انھیں معاہدے کے مطابق 24 گھنٹے میں مکمل وولٹیج کے ساتھ چھ گھنٹے بجلی فراہم کی جائے۔
زمیندار ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات تسلیم ہونے تک ان کا دھرنا بلوچستان اسمبلی کے باہر جاری رہے گا۔
نو مئی کے اصل ذمہ داران جو اب خود کو متاثرین کے طور پر پیش کرتے ہیں، اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہوں گے: آرمی چیف

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ نو مئی 2023 کو پیش آنے والے واقعات کے اصل ذمہ داران کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں اور ان منصوبہ سازوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
فوج کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’وہ عناصر جو اس مجرمانہ عمل کے پس پردہ اصل مقصد کو نہیں سمجھ سکے اور مصنوبہ سازوں کے سیاسی عزائم کے لیے چارے کے طور پر استعمال ہوئے، سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر انھیں پہلے ہی شک کا فائدہ دیا جا چکا ہے۔ تاہم اس عمل کے اصل ذمہ داران جو اب خود کو متاثرین کے طور پر پیش کرتے ہیں، اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہوں گے، خاص طور پر جب منظم تشدد اور تخریب کاری میں ان کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہISPR
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق جنرل عاصم منیر نے کہا کہ نو مئی کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور مجرموں کو ملکی قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے اشتعال انگیزیوں کا جواب نہ دینے کی بات ہو تو فوج کے صبر کی بھی ایک حد ہے اور اسے کبھی بھی کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہISPR
’یہ بغاوت کا ایک منظم منصوبہ تھا، نو مئی کو فوج میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی گئی: وزیراعظم شہباز شریف

،تصویر کا ذریعہPTV
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نو مئی کے سانحے میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا ملے گی۔
انھوں نے واضح کیا کہ نو مئی کے واقعات میں جو لوگ بے گناہ ہیں اور ان کا کوئی کردار نہیں ہے، انھیں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
انھوں نے کہا کہا کہ یہ واضح ہے کہ ’وہ لوگ جنھوں نے نو مئی کو ریاست کے خلاف اقدامات اٹھائے اور ملک کے اندر تقسیم کی سیاست کی اور بغاوت کی اور افواج پاکستان کے اندر تقسیم کی قبیح حرکت کی، وہ قانون کے کٹہرے میں آئیں گے اور انھیں قرار واقعی سزا ملے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ اس وجہ سے بھی ضروری ہے’ تا کہ آئندہ کوئی اس طرف سوچنے کی جرات بھی نہ کر سکے۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ایسا سیاہ دن پھر نہیں آئے گا۔ ان کے مطابق نو مئی کو ہر آنکھ اشکبار تھی۔ انھوں نے کہا کہ ان واقعات میں ملوث افراد نے شہدا کے اہل خانہ سے معافی تک نہیں مانگی جو یہ واضح کرتا ہے کہ ’یہ بغاوت کا ایک منظم منصوبہ تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’قانون اپنا رستہ اپنائے گا، انصاف اپنا رستہ اپنائے گا، ایسا واقعہ قیامت تک نہیں آنے دیں گے۔‘
پنجاب پولیس کی تحریک انصاف کی رہنماؤں ریحانہ ڈار اور روبا ڈار کی گرفتاری کی تردید
پنجاب پولیس نے تحریک انصاف کی رہنماؤں ریحانہ ڈار اور روبا ڈار کی گرفتاری کی تردید کی ہے۔ ڈی پی او سیالکوٹ نے کہا ہے کہ ’ایک غیر قانونی ریلی نکالنے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔‘
ان کے مطابق دونوں خواتین نے از خود پولیس موبائل میں بیٹھنے کی کوشش کی۔
پولیس افسر کے مطابق ریحانہ ڈار اور روبا ڈار کو ان کے گھر پر اتار دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت دونوں خواتین اپنے گھر پر موجود ہیں۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
تحریک انصاف کے ارکان کا پنجاب اسمبلی میں احتجاج، عمران خان کی رہائی کا مطالبہ

تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اراکین پنجاب اسمبلی نے آج اسمبلی کے اندر عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج کیا اور عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
ان اراکین نے عمران خان کی تصاویر والے کتبے اٹھا رکھے تھے اور عمران خان کی رہائی کے مطالبات والے نعرے لگا رہے تھے۔
سیالکوٹ سے تحریک انصاف کی رہنما ریحانہ ڈار گرفتار، تحریک انصاف نے سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کر دی
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
’9 مئی واقعات میں کسی رپورٹ یا بات چیت کی ضرورت نہیں‘، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 9 مئی واقعات پر نگراں حکومت کی تحقیقاتی رپورٹ غیر تسلی بخش ہے۔
ان کے مطابق ’یہ رپورٹ بھی روایتی رپورٹس کی طرح ایک دستاویز ہے۔
رانا ثنااللہ کے مطابق ’9 مئی واقعات میں کسی رپورٹ یا بات چیت کی ضرورت نہیں ہے، یہ مجرمانہ فعل تھا اس میں مذاکرات کی ضرورت نہیں، مجرمانہ ٹرائل ہونا چاہیے۔‘
ان کے مطابق ’تحقیقات کے بعد جو بے گناہ ہیں وہ گھر جائیں، گنہگاروں کو سزا ہو، پوری دنیا میں یہ ہوا، امریکہ میں تازہ مثال موجود ہے۔‘
’پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف ناقابل تردید ویڈیوز ثبوت موجود ہیں‘: وزیر قانون کی تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر گفتگو
وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ کی کابینہ اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نگران وفاقی وزرا پرمشتمل تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کابینہ میں پیش کر دی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف ناقابل تردید ویڈیوز ثبوت موجود ہیں۔ کمیٹی نے مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے قوانین میں تبدیلی کی سفارش کی ہے۔
ان کے مطابق کمیٹی نے سفارش کی کہ سرکاری تنصیبات کی توڑ پھوڑ کوسنگین جرم قراردیا جائے۔
وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ امریکہ میں کیپیٹل یل پرحملہ کرنے والوں کو چودہ، چودہ سال قید کی سزائیں ہوئیں۔ ان کے مطابق ’ہم نے پارلیمنٹ اورپی ٹی وی حملوں پرکچھ نہیں کیا۔‘
وزیر قانون کا کہنا ہے کہ 9 مئی واقعات کی منصوبہ سازی کی لمبی داستان ہے۔ ان کا کہنا تھا ’تحریک عدم اعتماد کوامریکی سازش کا نام دے کرسوشل میڈیا پرجھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا۔‘
ان کے مطابق قومی مفاہمت اورسیاستدانوں کوسنجیدگی سے کام کی ضرورت ہے۔ کمیٹی کی سفارش ملک کی ترقی کے لیے معاشی ترقی ضروری یے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے چینی سفیر کی ملاقات: ’بشام واقعے میں ملوث عناصر کو ہر صورت عبرتناک انجام تک پہنچائیں گے‘
چین کے سفیر جیانگ زی ڈونگ نے وزات داخلہ جا کر پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس ملاقات میں وزیر اعظم پاکستان کے دورہ چین کی تیاریوں کے حوالے سے بات چیت کے علاوہ پاکستان بھر میں چینی شہریوں کی سکیورٹی پر تبادلہ خیال ہوا۔
ملاقات کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ملاقات میں بشام واقعہ پر ہونے والی پیش رفت پر بھی گفتگو کی گئی۔‘
محسن نقوی نے کہا کہ ’بشام واقعہ پاک چین دوستی پر حملہ تھا۔ ملوث عناصر کو ہر صورت عبرتناک انجام تک پہنچائیں گے۔‘
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان بھر میں چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے نئے ایس او پیز بنانے ہیں۔ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ’پاک چین دوستی کو سبوتاژ کرنے کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔‘
لاہور ایئرپورٹ پر امیگریشن سسٹم بحالی کا وقت رات دس بجے تک بڑھا دیا گیا ہے: سول ایویشن اتھارٹی, روحان احمد، بی بی سی اردو
پاکستان کی سول ایویشن اتھارٹی (سی اے اے) نے کہا ہے کہ لاہور ایئرپورٹ پر امیگریشن سسٹم بحالی کا وقت رات دس بجے تک بڑھا دیا گیا ہے۔ سی اے اے کے مطابق آئی ایم ایس سسٹم بحال ہوتے ہی انٹرنیشنل آپریشنز شروع ہوسکیں گے۔
انٹرنیشنل ایئرلائینز کی آگاہی کے لیے نوٹم جاری کردیا گیا۔ ترجمان سی اے اے کے مطابق لاہور ایئرپورٹ ڈومیسٹک اور کارگو آپریشنز کے لیے معمول کے مطابق دستیاب ہے۔
واضح رہے کہ علامہ اقبال انٹرنیشنل بریفنگ ایریا میں شارٹ سرکٹ کے باعث آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا۔
سی اے اے کے مطابق خصوصی امیگریشن ایریا میں شارٹ سرکٹ سے امیگریشن سسٹم کو نقصان پہنچا۔ واقعے کے بعد دھواں بھرنے کی وجہ سے لاہور سے اندرون وبیرون ملک جانے والی پروازیں تاخیر کا شکار ہوگئی تھیں۔
نو مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، ملوث افراد کا احتساب ہونا چاہیے: خواجہ آصف
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’نو مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، ملوث افراد کا احتساب ہونا چاہیے۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ 9 مئی کسی شخص کی انا نہیں ملک کی انا کی بات ہے اور 9 مئی کو جو ہوا وہ پاکستان کی انا اور آبرو پر حملہ تھا۔
نو مئی کا منصوبہ پاکستان، ریاست، افواج پاکستان اور سپہ سالار کے خلاف بغاوت تھی : شہباز شریف
وزیر اعظم شہباز شریف نے پارلیمنٹ میں منعقد کابینہ کے خصوصی اجلاس سے گفتگو میں کہا ہے کہ مئی 2023 میں پی ڈی ایم حکومت ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کی کوشش کر رہی تھی جب نو مئی کو شہدا کی یادگاروں پر حملے کیے گئے۔ جس طرح جتھوں نے حملے کیے ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ نو مئی کے منصوبے کی باقاعدہ منظم سازش کی گئی۔ یہ بغاوت اداروں کو پاکستان کے خلاف اور پاکستانی عوام کو تقسیم کرنے کی سازش تھی۔ نو مئی کا منصوبہ ریاست، افواج پاکستان اور سپہ سالار کے خلاف بغاوت تھی جو ناکام بنا دی گئی۔
شہباز شریف نے کہا کہ ملک دشمن عناصر دوست نما ہمدرد کے لبادے میں بدترین دشمنی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جن لوگوں نے اس کی سازش تیار کی وہ آج بھی اس کو جھٹلاتے ہیں۔ نو مئی کے حملہ آور چاہتے ہیں کہ اس پر قوم کے سامنے جھوٹ کا پردہ ڈال دیا جائے۔
شہباز شریف کے مطابق پی ڈی ایم کی حکومت اگر 190 ملین پاؤنڈز کی بد دیانتی، خانہ کعبہ کے ماڈل والی گھڑی بیچنے کا اگر نوٹس نہ لیتی اور اگر ایک کٹھ پتلی حکومت کو ہٹایا نہ جاتا تو شاید نو مئی حملے نہ ہوتے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت میں سپورٹ کرنے والے تمام دوستوں کا شکر گزار ہوں۔ عدالت عظمیٰ کا بھی شکر گزار ہوں خود چیف جسٹس نے کہا کہ اپنے اداروں کو کہیں کہ پوری تیاری کے ساتھ آئیں۔
ان کے مطابق ’سعودی عرب کا دورہ انتہائی کامیاب رہا۔ پاکستان کی کشتی کو منجھدار سے نکالنے میں تمام ادارے حکومت کے ساتھ ہیں۔‘
عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کو بنی گالہ سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا تحریری فیصلہ جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد
عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کو بنی گالہ سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
جسٹس حسن اورنگزیب کی جانب سے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پٹیشنر کے مطابق بشریٰ بی بی چاہتی ہیں کہ انھیں جیل میں رکھا جائے تاکہ ان کی تنہائی دور ہو۔
متن کے مطابق ’درخواست گزار نے کہا کہ عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ قید تنہائی میں رکھنا صرف سزا نہیں بلکہ ٹارچر ہے۔ بشری بی بی کو قید تنہائی میں رکھ کر ان کی سزا کو مزید سخت بنا دیا گیا۔ رہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے سے بشری بی بی کے بچے آسانی سے گھر نہیں آ جا سکتے۔ان کے شوہر کے بچے اور خاندان کے افراد کو بھی گھر آنے کے لیے سپریٹنڈنٹ جیل یا عدالت سے اجازت لینی پڑتی ہے۔‘
متن کے مطابق ’ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں کہ رہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے کے نوٹیفکیشن کے اجرا سے قبل پراپرٹی مالک سے اجازت لی گئی،رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے کو پرائیویٹ پراپرٹی کا ان دیکھا قبضہ حاصل کر لیا گیا۔‘پراپرٹی مالک کی اجازت کے بغیر اس کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے کر اسے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا۔‘
فیصلے میں بنی گالہ رہائش کو سب جیل قرار دینے کا نوٹی فکیشن کاالعدم قرار دینے کی وجوہات بھی بیان کی گئی ہیں سپریٹنڈنٹ کے مطابق بشری بی بی کو اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ قیدی کے طور پر ایڈمٹ کرنے کے بعد سب جیل بھجوایا گیا۔
عدالت نے کہا کہ ’سپریٹنڈنٹ کے مطابق ان کی درخواست پر چیف کمشنر اسلام آباد نے خان ہاؤس کو سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔چیف کمشنر نے خان ہاؤس کو سب جیل قرار دینے کے نوٹیفکیشن میں وجوہات ہی بیان نہیں کیں۔ رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں۔ بشری بی بی کی پروٹیکشن کے لیے سب جیل میں رکھا گیا۔‘
فیصلے کے مطابق جیل میں 2174 کی گنجائش مگر 7 ہزار قیدی، 75 خواتین کو رکھنے کی جگہ پر 250 خواتین قید ہیں، عدالت ریکارڈ کے مطابق بشری بی بی کو سب جیل میں رکھنے کے بعد 125 مزید خواتین جیل میں بطور قیدی لائی گئیں۔
عدالت کے مطابق بشری بی بی کو جیل میں پروٹیکشن دینا ریاست کی ذمہ داری ہے سزا یافتہ قیدی کی جیل سے منتقلی کے لیے آئی جی جیل خانہ جات کا آرڈر ضروری ہے، عدالت بشری بی بی کو اڈیالہ جیل سے سب جیل منتقل کرنے کے لیے آئی جی جیل خانہ جات کا آرڈر موجود نہیں۔
