امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات حل کروانے کی کوششیں جاری ہیں: شہباز شریف

،تصویر کا ذریعہPTV
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ’47 سال میں یہ پہلا موقع تھا کہ امریکہ اور ایران باضابطہ طور پر ہماری درخواست پر پاکستان تشریف لائے اور دونوں وفود نے آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی، معاشی اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے بعد اُن کا کہنا تھا کہ ’میں دونوں مُمالک کے سربراہان ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکر گُزار ہوں۔‘
’ہم شکر گُزار ہیں کہ دونوں اطراف سے اس ملاقات سے قبل دو ہفتے کی جنگ بندی پر بھی اتفاق کیا گیا اور پھر 11 اپریل کو دونوں مُمالک کے وفود اسلام آباد آئے۔‘
کابینہ اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے کردار جاری رکھےگا، امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات حل کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔‘
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان کی ہی کوششیں ہیں کہ دونوں جانب سے جنگ بندی اب بھی قائم ہے اور اس وقت بھی جو معاملات رکاوٹ کا شکار ہیں اُن کو حل کروانے کے لیے بھی کوشش جاری ہے۔ اسی لیے میں سمجھتا ہوں کے اسلام آباد مذاکرات ایک تاریخی واقعہ ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کو وہ عزت ملی جو تاریخ میں کسی کسی کو ملتی ہے، پاکستان کو جنگ کے بادلوں کو امن میں بدلنے کا موقع ملا، ایران اور امریکہ کے درمیان 21 گھنٹے مذاکرات ہوئے، جب پوری دنیا کی معیشت ہچکولے کھارہی تھی تو ایسے میں پاکستان کو ثالثی کا موقع ملا، آج جاپان کی وزیراعظم نے کہا کہ آپ شاندار کردار ادا کر رہے ہیں۔‘
وزیراعظم نے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کی ٹیم کو بھی مبارکباد پیش کی اور خراج تحسین پیش کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایران اور امریکہ کے وفود نے الگ الگ لیکن مشترکہ باتیں کیں، پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔‘



















