ایران سے مذاکرات اگلے دو روز میں ہو سکتے ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر ’بہت اچھا کام‘ کر رہے ہیں: ٹرمپ کا ’پاکستان‘ میں بات چیت کا عندیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ’اگلے دو دنوں میں‘ ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے اخبار کو بتایا کہ ’اگلے دو دنوں میں کچھ ہو سکتا ہے اور ہم وہاں (پاکستان) جا سکتے ہیں۔‘ صدر ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر مذاکرات کے حوالے سے ’بہت اچھا کام‘ کر رہے ہیں۔‘

خلاصہ

  • امریکہ اور اسرائیل سے بات چیت 'نتیجہ خیز' رہی، مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ اور مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا: لبنانی سفیر
  • لبنان کو حزب اللہ کے چنگل سے آزاد کروانے پر اتفاق ہو گیا ہے: واشنگٹن میں سہ فریقی مذاکرات کے بعد اسرائیلی سفیر کا دعویٰ
  • ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں کی گئی عارضی نرمی میں توسیع نہیں کی جائے گی: امریکی محکمہ خزانہ
  • ایران سے مذاکرات اگلے دو روز میں ہو سکتے ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر 'بہت اچھا کام' کر رہے ہیں: ٹرمپ کا 'پاکستان' میں بات چیت کا عندیہ
  • اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر نے بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کو خود مختاری کی ’سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے

لائیو کوریج

  1. اسرائیل لبنان کے ساتھ امن اور تعلقات معمول پر لانے کا خواہاں ہے: اسرائیلی وزیرِ خارجہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے وزیرِ خارجہ جدعون ساعر نے منگل کے روز کہا کہ ان کا ملک لبنان کے ساتھ امن اور تعلقات کی بحالی چاہتا ہے۔

    یہ بیان دونوں ممالک کے حکام کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی براہِ راست بات چیت سے قبل سامنے آیا ہے۔

    ایک پریس کانفرنس میں ساعر نے کہا کہ ’ہم لبنان کے ساتھ امن اور تعلقات کو معمول پر واپس لانا چاہتے ہیں۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان کوئی بڑی رکاوٹ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ حزب اللہ ہے۔‘

  2. برطانیہ اور فرانس کا آبنائے ہرمز کے معاملے پر مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ

    REUTERS

    ،تصویر کا ذریعہREUTERS

    فرانس نے اعلان کیا ہے کہ وہ برطانیہ کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک بین الاقوامی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

    فرانسیسی صدارتی محل ایلیزے کے مطابق یہ کانفرنس جمعے کے روز ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوگی اور اُن ممالک کو مدعو کیا گیا ہے جو آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے ایک ’مکمل طور پر دفاعی مشن‘ میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔

    اجلاس کا مقصد ایک ایسے منصوبے پر غور کرنا ہے جس کے ذریعے ’جب سکیورٹی حالات اجازت دیں، تو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو آزادانہ طور پر بحال کیا جا سکے۔‘

    برطانوی وزیرِاعظم کے دفتر کے ترجمان نے کہا کہ ’یہ اجلاس ایک مربوط، خودمختار اور کثیرالقومی منصوبہ بندی کے لیے مدد گار ثابت ہوگا۔

    فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بارو نے بتایا کہ ’اب تک درجنوں ممالک اس مشن کے فریم ورک کی تیاری کے لیے ابتدائی مشاورت میں حصہ لے چکے ہیں۔‘

  3. ایران کے ساتھ منجمد اثاثوں کے بدلے حملے روکنے کی بات درست نہیں: قطری وزارتِ خارجہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران اور قطر کے درمیان ایران کے منجمد اثاثوں پر سے پابندی ہٹائے جانے کے بدلے حملے روکنے سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی اور اس حوالے سے سامنے آنے والی خبریں بے بنیاد اور غلط ہیں۔

    دوحہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ ’ہم نے پہلے دن سے واضح کیا ہے کہ خطے میں ہمارے کسی بھی ہمسایہ ملک پر حملہ، قطر کی خودمختاری پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ لہٰذا اس خطرے سے نمٹنے کا کوئی بھی حل علاقائی ہونا چاہیے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کے ساتھ کوئی مشترکہ لائحہ عمل نہیں رہا۔ ہمارے ممالک پر حملے جاری رہے، حتیٰ کہ جنگ بندی سے ایک رات قبل بھی اور صرف جنگ بندی شروع ہونے پر یہ حملے رکے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اس دوران کسی قسم کے مالی معاملے سے متعلق بات چیت بالکل نہیں ہوئی۔ میں یہ بات پہلے بھی سرکاری طور پر کہہ چکا ہوں۔ ہم اپنے ملک کے دفاع کے بارے میں فکر مند ہیں اور ہر حملے کے خلاف اپنا دفاع کریں گے۔ ان حملوں کو روکنے کے لیے کسی بھی مالی معاہدے کی بات سراسر غلط ہے اور اس کا مقصد ہمارے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطح پر رابطہ جاری ہے اور ہم اپنی بات انہی کے ذریعے پہنچاتے ہیں۔‘

    ایرانی میڈیا کا کہنا تھا کہ ’ایران کے منجمد اثاثوں پر سے پابندی ہٹائے جانے کی بات اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے تہران کی ایک اہم شرط تھی۔‘

    ان رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ قطر اور جنوبی کوریا کے بینک ایران کے تقریباً سات ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں پر سے پابندی ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق یہ رقم پہلے ہی ادا کی جا چکی ہے۔

  4. اٹلی کے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ معطل کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟, بی بی سی نیوز کی لورا گوزی کا تجزیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اٹلی کی وزیرِاعظم جورجیا میلونی نے کہا ہے کہ اٹلی اسرائیل کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدے کی تجدید نہیں کر رہا۔ یہ معاہدہ ہر پانچ سال بعد خودکار طور پر تجدید کے بعد نئے دورانیہ کہ لیے دونوں مُمالک کے درمیان روابط کا باعث بنتا تھا اور اس میں فوجی ساز و سامان کے تبادلے اور مشترکہ تحقیق کا تعاون شامل تھا۔

    میلونی نے ویرو نا میں ایک تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر معاہدے کی تجدید روکنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس صورتحال کا حوالہ دے رہی ہیں۔‘

    یہاں جو ایک ممکنہ وجہ وہ سکتی ہے وہ حالیہ ہفتوں میں روم اور تل ابیب کے تعلقات کا کشیدہ ہونا ہے۔

    اسرائیلی فورسز کی جانب سے لبنان میں اطالوی اقوام متحدہ امن مشن کے قافلے پر وارننگ فائر کیے جانے کے بعد گزشتہ ہفتے اٹلی نے روم میں اسرائیلی سفیر کو طلب کیا تھا۔ اس واقعے میں ایک گاڑی کو نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

    اسی کے جواب میں پیر کے روز اسرائیل نے اٹلی کے سفیر کو طلب کیا تاکہ اطالوی وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی کے ان بیانات پر احتجاج کیا جا سکے جن میں انھوں نے لبنان میں شہریوں پر اسرائیلی حملوں کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ’غزہ جیسی ایک اور کشیدگی ہر صورت میں روکنی چاہیے۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یورپ کے دیگر ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ اسلحے کی برآمدات روک چکے ہیں یا ان پر پابندیاں لگا چکے ہیں۔ اٹلی میں حزبِ اختلاف کی جماعتیں بھی طویل عرصے سے اسی اقدام کا مطالبہ کر رہی تھیں۔

    گزشتہ برسوں میں لاکھوں اطالوی شہری غزہ کی صورتحال اور فلسطینی ریاست کے اعتراف میں تاخیر کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں۔

    سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، اٹلی اسرائیل کا تیسرا بڑا اسلحہ برآمد کرنے والا ملک ہے۔ تاہم یہ اسرائیل کی مجموعی اسلحہ درآمدات کا صرف ایک اعشاریہ تین فیصد بنتا ہے جبکہ امریکہ اور جرمنی اس کا سب سے بڑے سپلائر ہیں۔

  5. بریکنگ, اٹلی کا اسرائیل کے ساتھ اپنا دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا اعلان

    ایک جانب تو دُنیا کی اہم ترین آبی گُزر گاہوں میں سے ایک آبنائے ہرمز کی صورتحال کشیدہ ہے تو دوسری جانب اب اٹلی سے یہ اہم خبر سامنے آئی ہے کہ اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ اپنا دفاعی معاہدہ معطل کر دیا ہے۔

    مقامی خبر رساں اداروں کے مطابق اٹلی کی وزیرِاعظم جورجیا میلونی نے اعلان کیا ہے کہ ’اٹلی اور اسرائیل کے درمیان دفاعی معاہدہ معطل کیا جا رہا ہے۔‘

    انھوں نے منگل کے روز ویرو نا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ’ہر ممکن کوشش‘ کی جانی چاہیے۔‘

    واضح رہے کہ اٹلی اور ارائیل کے درمیان یہ معاہدہ فوجی ساز و سامان کے تبادلے اور مشترکہ تحقیق سے متعلق تھا۔

    یہ معاہدہ کئی دہائیوں سے مختلف حکومتوں کے دور میں ہر پانچ سال بعد خود کار تجدید کی شکل میں آگے بڑھ رہا تھا اور یہ جنگ شروع ہونے سے بہت پہلے سے نافذ تھا۔

  6. ’نہ تم فائر کرو، نہ ہم‘: پاکستان اور افغانستان کے قبائلی عمائدین میں غیر رسمی معاہدہ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اُردو، پشاور

    Haji Sultan mohammad

    ،تصویر کا ذریعہHaji Sultan mohammad

    اگرچہ پاکستان اور افغانستان عارضی جنگ بندی کے دوران ’کشیدگی کے خاتمے کے لیے جامع حل تلاش کرنے پر متفق ہوئے ہیں‘، تاہم اسی دوران سرحد کے دونوں پار قبائلی عمائدین بھی اس نوعیت کی کوششوں میں مصروف ہیں جو سرحدی علاقوں کے رہنے والوں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کر سکے۔

    پیر کے روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان چترال میں ارندو کے مقام پر مقامی عمائدین کی سطح پر ’نہ تم فائر کرو، نہ ہم‘ کی بنیاد پر ایک غیر سرکاری و غیر رسمی معاہدہ طے پایا ہے اور قبائلی عمائدین کے مطابق اس معاہدے کی بدولت سرحدی دیہاتوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی اپنے گھروں میں واپسی ممکن ہو سکے گی۔

    اس معاہدے کا اعلان چترال سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین کے 13 رکنی جرگے کے افغانستان کے صوبہ نورستان سے تعلق رکھنے والے 13 رکنی جرگے سے چھ گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد کیا گیا ہے۔

    اس بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ سیز فائر یا جنگ بندی یا اس سے متعلق کوئی بھی فیصلہ دونوں دونوں ممالک میں سرکاری سطح پر طے پانے والا معاملہ ہے تو مقامی عمائدین اس ضمن میں کسی نوعیت کا کوئی معاہدہ کیسے کر سکتے ہیں؟ اس بارے میں مقامی قبائلی رہنما حاجی سلطان محمد نے دعویٰ کیا کہ انھیں مقامی سطح پر انتظامیہ اور اور مقامی سکیورٹی حکام کی حمایت حاصل تھی اور اسی طرح افغانستان میں بھی عمائدین کو ان کی حکومت کی حمایت حاصل تھی اور اس کے بعد ہی جرگے کا انعقاد ہوا۔

    جب اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر چترال راؤ ہاشم سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ مقامی لوگوں نے رابطہ کیا تھا جس پر تین دن کے لیے مکمل جنگ بندی کی گئی، اس دوران ان عمائدین نے مذاکرات کیے جس کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ دونوں جانب سے تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔

    یاد رہے کہ پاکستان، افغانستان سرحد گذشتہ سال اکتوبر سے بند ہے جبکہ رواں برس فروری میں حالات اس وقت سخت کشیدہ ہو گئے تھے جب دونوں جانب سے ایک دوسرے پر حملے کیے گئے تھے۔

    مقامی عمائدین کے مطابق سرحد پر مختلف مقامات پر حالات اب بھی کشیدہ ہیں ان میں چترال میں ارندو کے علاوہ باجوڑ کے ساتھ لگنے والی پاک، افغان سرحد لغڑی کے مقام پر اور ادھر شمالی وزیرستان میں غلام خان کے مقام پر سرحدی علاقوں میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس کشیدگی کے باعث ان علاقوں سے لوگ نقل مکانی کرکے قریب دیگر محفوظ علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

    چترال کے علاقے ارندو سے تعلق رکھنے والے مقامی رہنما حاجی سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ دو ماہ سے سرحد کی دونوں جانب حالات کشیدہ تھے اور اگر کوئی گھر سے باہر نکلتا تھا تو مخالف کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کی زد میں آجاتا تھا، اور اس صورتحال کے باعث صرف ارندو میں نو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ اس صورتحال کے باعث گذشتہ دو ماہ میں نورستان کے کچھ دیہاتوں میں خوراک کی قلت پیدا ہو گئی تھی جبکہ پاکستان میں ارندو کے دیہاتوں میں لوگ گھروں سے نکل نہیں سکتے تھے جس وجہ سے مقامی عمائدین اور علاقے میں سکیورٹی حکام اور انتظامی افسران سے رابطے کیے گئے اور انھوں نے جرگہ کی اجازت دی تھی۔

    انھوں نے بتایا کہ مقامی عمائدین کے درمیان طے پانے والا یہ معاہدہ نورستان برگیمٹال سے لے کر ناڑے تک نافذ العمل رہے گا جو پاکستان میں چترال کی سرحد سے لے کر، اپر دیر تک کی سرحد تک ہے۔

    اس میں یہ فیصلہ بھی ہوا ہے کہ لوگ پر امن رہیں گے اور جو لوگ اپنے علاقوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں وہ واپس اپنے علاقوں میں آئیں گے اور حسب سابق زندگی گزاریں گے۔

  7. فوجی کارروائی امریکہ کے ’خود پیدا کردہ مسائل‘ کو مزید بگاڑے گی، ایرانی صدر

    Tasnim

    ،تصویر کا ذریعہTasnim

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران امن مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے اور تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری ہی اس کی ترجیح ہے۔ یہ بات انھوں نے فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں سے گفتگو کے دوران کہی، جس کی رپورٹ ایران کے متعدد خبر رساں اداروں نے دی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق صدر پزشکیان نے ایرانی صدر سے کہا کہ دھمکیاں، دباؤ اور فوجی کارروائی ’غیر مفید‘ ہیں اور اس سے امریکہ کے ’خود پیدا کردہ مسائل‘ مزید سنگین ہو جائیں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ یورپ کو امریکہ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کی پاسداری کرے۔

  8. ایران سے منسلک چار جہاز آبنائے ہرمز عبور کر گئے، ٹریکنگ ڈیٹا سے تصدیق, جوشوا چیتھم اور شروتی مینن کی رپورٹ

    بی بی سی ویریفائی کی جانب سے تجزیہ کیے گئے جہازوں کی ٹریکنگ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے آغاز کے باوجود ایران سے منسلک چار جہاز آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں۔

    ان میں سے دو جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں کا دورہ کیا تھا، جیسا کہ میرین ٹریفک کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے مطابق ایک مال بردار جہاز کریستیانا نے پیر کے روز، ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد، آبنائے ہرمز عبور کی۔ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یہ جہاز ایران کی بندرگاہ بندر امام خمینی سے آیا تھا۔

    ڈیٹا کے مطابق رِچ سٹاری نامی جہاز، جس پر ایران سے متعلق تجارت کے باعث امریکہ نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ سے مشرق کی جانب روانہ ہوا اور راتوں رات آبنائے ہرمز عبور کر گیا۔

    اسی طرح مرلی کشن نامی ایک آئل ٹینکر، جو ایران سے متعلق تجارت کے سبب امریکی پابندیوں کی زد میں ہے، چین کے شہر لانشان سے روانہ ہوا اور رات کے وقت مغرب کی جانب آبنائے ہرمز سے گزرا۔ میرین ٹریفک کے مطابق اس کی آخری رپورٹ کردہ پوزیشن ایران کے جزیرے قشم کے مشرق میں تھی۔

    ایک اور ٹینکر ایلپس منگل کے روز مشرق کی جانب جاتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرا۔ ٹریکنگ کے مطابق یہ جہاز ایران کی بندرگاہ بوشہر سے آیا تھا۔ اس پر بھی امریکہ کی پابندیاں عائد ہیں اور اس کی منزل تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔

    یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے بعض جہاز اپنی اصل پوزیشن چھپانے کے لیے غلط لوکیشن سگنلز نشر کر رہے ہوں، جسے جہاز رانی کی اصطلاح میں ’سپوفنگ‘ کہا جاتا ہے۔

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ پیر کے روز پاکستانی وقت شام سات بجے سے اس نے ’ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور نکلنے والی تمام سمندری ٹریفک کی ناکہ بندی‘ شروع کر دی ہے۔ تاہم اس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ ’غیر ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں کی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی آزادی میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔‘

    iran
  9. امریکی ناکہ بندی سے ایران کی تیل برآمدات پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟

    آبنائے ہرمز کا بحری راستہ حملوں کے خدشے کے باعث زیادہ تر جہازوں کے لیے عملی طور پر بند رہنے کے باوجود مارچ میں، ایران نے ریکارڈ تیل کی برآمدات کیں۔

    جہاز رانی کے تجزیہ کار ادارے کلپر کے مطابق گذشتہ ماہ ایران نے پانچ کروڑ 79 لاکھ بیرل تیل برآمد کیا۔ یہ اعداد و شمار گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ایران کی تیل برآمدات کے لحاظ سے پانچواں بڑا مہینہ تھا۔

    چین ایران کے تیل کا ایک بڑا خریدار ہے، اور منگل کے روز اس کی وزارتِ خارجہ نے امریکی ناکہ بندی کو ’خطرناک‘ اور ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا۔

  10. امریکی ناکہ بندی سے کشیدگی میں اضافہ ہو گا: چین

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون

    ،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/Shutterstock

    چین کی وزارت خارجہ نے ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کو ’خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا ہے۔

    یہ ناکہ بندی پاکستان میں ہونے والے امریکہ ایران امن مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے ایک دن بعد پیر کو نافذ ہوئی۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گئو جیاکون نے خبردار کیا کہ یہ ناکہ بندی ’کشیدگی کو مزید بڑھائے گی اور جنگ بندی کے معاہدے کو نقصان پہنچائے گی۔‘

    ایک پریس کانفرنس میں جیاکون نے کہا: ’یہ خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔‘

    جیاکون نے ان خبروں کو من گھڑت قرار دیا کہ چین ایران کو نئے فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    یہ خبریں سامنے آنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر چین نے تہران کو فوجی معاونت فراہم کی تو چین کی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

    جیاکون نے کہا: ’اگر امریکہ اس بہانے چین پر اضافی محصولات عائد کرنے پر اصرار کرتا ہے تو چین ضرور سخت جوابی اقدامات کرے گا۔‘

  11. مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھ کر ایسا حل تلاش کیا جائے جس سے تنازع کی جڑ ختم کی جا سکے: روس کا ایران کو مشورہ

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے۔

    پیر کے روز ہونے والی اس گفتگو میں عراقچی نے لاوروف کو 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والی ایران امریکہ بات چیت سے آگاہ کیا۔

    روسی وزارت خارجہ کے سرکاری بیان کے مطابق: ’روس نے ایران سے کہا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا اور ایسے حل تلاش کرنا ضروری ہے جن سے تنازع کی جڑ ہی ختم کی جا سکے اور خطے میں طویل المدتی استحکام قائم ہو۔ اس عمل میں ایران اور اس کے پڑوسی ممالک کے جائز مفادات کو بھی مد نظر رکھا جانا چاہیے۔‘

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی صورت میں دوبارہ تصادم نہیں ہونا چاہیے۔

    انھوں نے کہا: ’روس بحران کے خاتمے میں مدد کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔‘

    اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کو امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں ثالثی کی پیشکش کی تھی۔

    کریملن کی ویب سائٹ پر جاری رپورٹ کے مطابق، اتوار کے روز دونوں رہنماؤں کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے ٹیلی فون پر تبادلۂ خیال بھی ہوا تھا۔

  12. تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے تو آ گئی، مگر حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں: بین الاقوامی توانائی ایجنسی, ڈیئر بیل جورڈن، کاروباری اور معاشی امور کے نامہ نگار

    ایک گاڑی میں پیٹرول بھرا جا رہا ہے

    ،تصویر کا ذریعہJoe Raedle/Getty Images

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق اگرچہ تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے کم ہو گئی ہیں، تاہم 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں موجودہ قیمت اب بھی 36 فیصد زیادہ ہے، اور صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

    آئی ای اے کے ایگزیکٹو ڈائیریکٹر فتیح بیرول کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتیں مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کی سنگینی کی مکمل عکاسی نہیں کرتیں۔

    ان کا کہنا تھا: ’اپریل کا مہینہ مارچ سے بھی زیادہ خراب ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ مارچ کے دوران ہمیں وہ کارگو موصول ہوتے رہے جو بحران شروع ہونے سے پہلے لوڈ کیے گئے تھے، جبکہ اپریل میں کچھ بھی لوڈ نہیں ہو رہا۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’یہ تعطل جتنا طول پکڑے گا، مسئلہ اتنا ہی سنگین ہوتا چلا جائے گا۔‘

    گذشتہ ماہ آئی ای اے کے تمام 32 رکن ممالک نے رسد میں دباؤ کم کرنے کے لیے اپنے تیل کے ذخائر میں سے 40 کروڑ بیرل جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ فتیح بیرول نے عندیہ دیا کہ ایجنسی دوبارہ بھی اقدام کے لیے تیار ہے۔

    انھوں نے کہا: ’40 کروڑ بیرل ہمارے وسائل کا صرف 20 فیصد ہے۔ ہمارے پاس اب بھی 80 فیصد ذخائر موجود ہیں۔ ہم جائزہ لے رہے ہیں، اور مناسب وقت پر فوری کارروائی کے لیے تیار ہیں۔‘

  13. بحری نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا

    آبنائے ہرمز سے ایک جہاز کی نقل و حرکت کو ظاہر کرتی تصویر

    ،تصویر کا ذریعہMarineTraffic

    اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے تمام جہازوں کو روک دے گی۔

    بعد ازاں انھوں نے وضاحت کی تھی کہ ناکہ بندی صرف ان جہازوں پر نافذ ہو گی جو ایرانی بندرگاہوں کو جا رہے ہیں یا وہاں سے روانہ ہو رہے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والی ’تمام بحری نقل و حرکت‘ کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ تاہم یہ بھی کہا گیا کہ ناکہ بندی کا اطلاق اُن جہازوں پر نہیں ہو گا جن کی منزل یا روانگی کا مقام ایران نہیں ہے۔

    پیر کے روز ناکہ بندی کے اطلاق سے چند گھنٹے قبل چار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔

    بحری جہازوں کی آمد و رفت کے اعداد و شمار پیش کرنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک ڈاٹ کام کے مطابق یہ چاروں جہاز ٹینکر تھے، جو تیل، گیس یا کیمیکل لے جا رہے تھے۔

    بحری نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق منگل کے روز ایک اور ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا۔ رچ سٹاری نامی یہ جہاز متحدہ عرب امارات سے روانہ ہوا اور اس کی منزل چین بتائی جا رہی ہے۔

  14. امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ملک کو تقریباً 270 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا: ایران

    ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بتایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں ملک کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ تقریباً 270 ارب ڈالرز لگایا گیا ہے۔

    فاطمہ مہاجرانی نے واضح کیا کہ یہ تخمینہ براہ راست اور بلواسطہ طور پر پہنچنے والے مجموعی نقصان کا ہے۔

    روسی خبر رساں ایجنسی آر آئی اے نووستی سے گفتگو میں انھوں نے کہا: ’ایک اہم معاملہ، جس پر ہماری مذاکراتی ٹیم کام کر رہی ہے، اور جسے اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کے دوران بھی اٹھایا گیا، وہ جنگ کے دوران پہنچائے گئے نقصان کے ازالے کا ہے۔‘

    جنگ کے دوران پہنچائے گئے نقصان کا ازالہ امریکہ کے ساتھ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی 10 ایرانی شرائط میں شامل تھا۔

    اسی دوران اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے نام خط میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت سے ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

  15. ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے: اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی ناکہ بندی کو ایران کی خود مختاری کی ’سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے نام اپنے خط میں امیر سعید ایروانی نے کہا کہ یہ ’غیر قانونی‘ ناکہ بندی بین الاقوامی سمندری قوانین کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

    پیر کے روز اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے ’تمام فریقوں‘ پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کا احترام کریں۔ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز ایک نہایت اہم آبی گزرگاہ ہے۔

    پاکستان میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے بعد امریکی فوج نے پیر کے روز ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی تھی۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ ناکہ بندی ایرانی بندرگاہوں یا ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا وہاں سے روانہ ہونے والے تمام ممالک کے جہازوں پر بلا امتیاز لاگو ہو گی، تاہم آبنائے ہرمز میں آنے اور جانے والے ان جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جن کی منزل یا روانگی کا مقام ایران نہیں ہے۔

  16. اسرائیلی عوام جنگ سے تھک چکے، مگر اکثریت ایران کے ساتھ جنگ بندی کی مخالف: سروے, نک بیک، یروشلم

    ایرانی حملے کے نتیجے میں ایک اسرائیلی عمارت کو نقصان پہنچنے کی تصویر

    ،تصویر کا ذریعہErik Marmor/Getty Images

    یروشلم کی یونیورسٹی کی جانب سے کرائی گئی رائے شماری کے نتائج بتاتے ہیں کہ اسرائیلی عوام جنگ سے تھک چکے ہیں۔

    تاہم سروے کے نتائج یہ بھی بتاتے ہیں کہ تقریباً دو تہائی اسرائیلی عوام واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کے مخالف ہیں۔

    سروے کرنے والوں کے مطابق انھوں نے نو اور 10 اپریل کو مجموعی طور پر 1312 اسرائیلی شہریوں سے بات کی، ان میں 1084 یہودی اور 228 عرب تھے۔

    سروے میں شامل اکثریت کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں حالیہ امریکی اور اسرائیلی بمباری کے باوجود نہ تو ایران اور نہ ہی لبنان میں حزب اللہ کو زیادہ کمزور کیا جا سکا ہے۔

    تقریباً 39.5 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ تہران پر حملے جاری رہنے چاہییں، جبکہ 41.4 فیصد کا مؤقف تھا کہ جنگ بندی کا احترام کیا جائے۔

    جب شرکاء سے ان کے موجودہ جذبات کے بارے میں پوچھا گیا تو ایک تہائی افراد نے ’مایوسی‘ کا لفظ منتخب کیا، جس کے بعد ’الجھن‘ اور ’غصہ‘ کے الفاظ تھے۔

    جذبات کے لیے استعمال کیے گئے الفاظ میں ’امید‘ کا نمبر چوتھا تھا۔

  17. ایران کا سعودی عرب، امارات، قطر، بحرین اور کویت سے ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ

    اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے نام خط میں جنگ کے دوران ایران کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق، اس خط میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے انتونیو گوتریس کو لکھا: ’یہ پانچ ممالک ایران سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔‘

    خط میں کہا گیا کہ اس طرز عمل کے نتیجے میں ان ممالک کی بین الاقوامی ذمہ داری ہے کہ ایران کو پہنچنے والے تمام مادی اور اخلاقی نقصان کا مکمل ازالہ کریں۔

  18. اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان میں ایک اہلکار کی ہلاکت کی اطلاع

    اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران اس کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے ہیں۔

    ٹیلیگرام پر جاری بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا: ’سارجنٹ میجر ایال یوریئل بیانکو ہلاک ہوئے، ایک ریزرو فوجی اہلکار کو درمیانی نوعیت کے زخم آئے، جبکہ دو دیگر ریزرو اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔‘

    اسرائیلی فوج کے مطابق زخمی اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کے اہل خانہ کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

  19. امریکہ اور ایران کا بالمشافہ مذاکرات کے ایک اور دور پر غور: رپورٹس

    امریکہ ایران کے جھنڈے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں اداروں کے مطابق امریکہ اور ایران بالمشافہ مذاکرات کے ایک اور دور پر غور کر رہے ہیں۔

    مالیاتی اور کاروباری امور سے متعلق خبریں دینے والے امریکی ادارے بلومبرگ نے رپورٹ کیا ہے کہ مذاکرات کا یہ دور دو ہفتے کی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہو گا۔

    بلومبرگ کے مطابق معاملے سے آگاہ افراد نے بتایا ہے کہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد سمیت دیگر مقامات کے انتخاب پر غور کیا جا رہا ہے۔

    جب کہ ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نیوز نے بھی دو امریکی حکام اور پیشرفت سے واقف ایک شخص کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران ایک نئے معاہدے تک پہنچنے کے لیے بالمشافہ مذاکرات کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔

    اے پی نیوز کے مطابق ان تینوں ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے ایک اور دور سے متعلق بات چیت جاری ہے جبکہ ثالثی میں شامل ایک ملک کے سفارتکار کا تو یہ کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن نئے مذاکرات پر رضامند بھی ہو چکے ہیں۔

    اے پی نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ مذاکرات کے مقام کے طور پر اسلام آباد کے علاوہ جنیوا کو بھی زیر غور لایا جا رہا ہے۔ ابھی مقام اور وقت کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم مذاکرات جمعرات کو ہو سکتے ہیں۔

    بلومبرگ اور اے پی نیوز کا کہنا ہے کہ معلومات فراہم کرنے والے افراد نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی ہے۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے خطے میں موجود ایک ذریعے اور ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان، مصر اور ترکی کے ثالث امریکہ اور ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں گے، تاکہ اختلافات ختم کر کے جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف بھی دونوں ممالک میں دوبارہ مذاکرات کی امید ظاہر کر چکے ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’اگلی نشست تک (دونوں ملک) کسی نتیجے تک پہنچ جائیں گے۔‘

    ایران کی تہران یونیورسٹی میں ریسرچ فیلو محمد اسلامی نے بھی بی بی سی کے پروگرام نیوز آور کو بتایا کہ امریکہ ایران مذاکرات اسی ہفتے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

    محمد اسلامی کے مطابق ایرانی حکومت پاکستان کی حکومت کے ساتھ ساتھ برطانیہ اور فرانس سے بھی رابطے میں ہے۔

    اے پی نیوز نے تبصرے کے لیے وائٹ ہاؤس کو پیغام بھیجا تاہم اس پر کوئی رد عمل نہیں دیا گیا۔

    اس سے پہلے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صحافیوں سے گفتگو میں کہہ چکے ہیں کہ ’دوسری جانب سے ہم سے رابطہ کیا گیا ہے‘ اور ’وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘

    امریکہ ایران کے درمیان مزید امن مذاکرات کی امیدوں کے باعث جنگ کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات میں کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں ایشیائی منڈیوں میں ابتدائی کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔

    عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت 2.2 فیصد کمی کے ساتھ 97.20 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

    ہفتے کے اختتام پر ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد ٹرمپ نے ایران کی ناکہ بندی کا حکم دیا تھا، جس کے نتیجے میں پیر کے روز تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں۔

  20. امریکہ اور ایران میں معاہدہ نہ ہونے کی وجہ کون سے ’دو بنیادی نکات‘ تھے

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

    ،تصویر کا ذریعہJanos Kummer/Getty Images

    اتوار کی صبح پریس کانفرنس میں امریکہ ایران مذاکرات بے نتیجہ رہ جانے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا تھا: ’میں نے اپنی ریڈ لائنز واضح کر دی ہیں کہ ہم کن معاملات پر لچک دکھا سکتے ہیں اور کن پر نہیں۔ اور یہ چیز ہم نے بہت کھل کر ان (ایران) کے سامنے رکھی ہے، انھوں نے ہماری شرائط تسلیم نہیں کیں۔‘

    اب فاکس نیوز کو انٹرویو میں جے ڈی وینس نے امریکی ’ریڈ لائنز‘ کی تفصیلات بتائی ہیں۔

    جے ڈی وینس کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایران کو بتا دیا گیا کہ کس معاملے پر کوئی رعایت دی جا سکتی ہے اور کون سے معاملے پر ایران کو کوئی ٹھوس یقین دہانی کرانا ہو گی تاکہ ’امریکی صدر یہ محسوس کر سکیں کہ انھیں ایک اچھی ڈیل مل رہی ہے۔‘

    جے ڈی وینس نے بتایا کہ امریکہ کے دو بنیادی مطالبات تھے۔ ان کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور ’یہی ہماری تمام ریڈ لائنز کی بنیاد ہے۔‘

    نائب صدر نے بتایا کہ ایرانی یہ کہنے پر تو آمادہ ہیں کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے لیکن امریکہ تصدیق کے لیے ایک نظام وضع کرنا چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا اور یہ بھی یقینی بنانا چاہتا ہے ایران کی پاس یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت نہ رہے۔

    جے ڈی وینس کے مطابق امریکہ کا دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ ایران میں موجود افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کر دیا جائے۔

    انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ اگرچہ امریکہ کے آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کے نتیجے میں وہ مواد (افزودہ یورینیم) ملبے تلے دبا ہے لیکن ’ہم یہ مواد مکمل طور پر ایران سے باہر لے جائیں گے تاکہ اس کا کنٹرول امریکہ کے پاس ہو۔‘

    جے ڈی وینس نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ مذاکرات بے نتیجہ کیوں رہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں نائب صدر نے بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں ’بہت پیشرفت ہوئی۔‘ لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ مذاکرات کرنے والی ایرانی ٹیم شاید کسی معاہدے تک پہنچنے کا اختیار نہیں رکھتی تھی تو سوچا گیا کہ ’انھیں تہران واپس جانے دیا جائے اور ہم امریکہ واپس چلے جاتے ہیں۔‘