امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ اور ٓبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی
منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے پاکستان کی معیشت
پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
ملک میں وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے تحت کام کرنے والے سرکاری ادارے پاکستان
انسٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا
میں سمندر کے راستے تیل کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے گزر کر
جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی غیر یقینی صورتحال کے باعث مارچ 2026 کے آغاز
میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 30 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا، جسے ماہرین خالصتاً
طلب و رسد کے بجائے ’جیوپولیٹیکل وار
پریمیم‘ قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان توانائی
کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے
ملکی معیشت براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان کی مجموعی درآمدات میں پیٹرولیم مصنوعات
کا حصہ تقریباً 30 فیصد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر فی بیرل اضافے
سے پاکستان کے سالانہ تیل درآمدی بل میں تقریباً 1.8 سے 2 ارب ڈالر تک کا اضافہ ہو
سکتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملکی مہنگائی پر بھی فوری اثر ڈالتا ہے۔ اس کا اثر
بالخصوص ٹرانسپورٹ کے اخراجات، خوراک کی قیمتوں اور توانائی کے نرخوں میں اضافے کی
صورت میں سامنے آتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز تین ماہ تک بند رہی تو عالمی سطح پر خام
تیل کی قیمت 120 سے 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کا
ماہانہ تیل درآمد کرنے کا خرچہ تقریباً 3.5 سے 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
اسی طرح ملک میں مہنگائی کی شرح میں بھی تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔ مہنگائی
کی شرح جو کہ فروری 2026 میں تقریباً 7 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی بڑھ کر 15 سے 17 فیصد
تک پہنچ سکتی ہے۔
پاکستان انسٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی رپورٹ کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو توانائی کی بڑھتی
لاگت پاکستان کی معاشی بحالی کی کوششوں کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔
پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک خلیجی ممالک سے
درآمد کیے جانے والے خام تیل پر انحصار کرتا ہے، جس کی ترسیل زیادہ تر آبنائے ہرمز
سے ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس اہم سمندری گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی
پاکستان کی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بحیرہ احمر کے ذریعے سپلائی
کے لیے بات چیت ہوئی ہے تاہم اس متبادل راستے کی اپنی حدود ہیں۔ اس میں محدود ترسیلی
گنجائش، زیادہ ٹرانسپورٹ لاگت اور طویل ترسیلی وقت شامل ہیں، جس کے باعث اسے قلیل مدت
کے لیے تو استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن یہ مہنگا حل ثابت ہو سکتا ہے۔
اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس خطرے سے نمٹنے
کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان میں تیل کے سٹریٹجک ذخائر میں بہتری، سپلائی کے
متبادل راستے تلاش کرنا، قیمتوں کے خطرات سے بچاؤ کے لیے ہدفی ہیجنگ پالیسی اپنانا
اور قلیل مدتی مالیاتی اقدامات شامل ہیں۔