آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

خامنہ ای بیٹے کے اقتدار میں آنے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے: امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ

امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ایکو اپنے بیٹے مجتبی خامنہ ای کے اقتدار سنبھالنے کے بارے میں خدشات تھے کیونکہ انھیں لیڈر بننے کے لیے ’نااہل‘ سمجھا جاتا تھا۔

خلاصہ

  • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی 'پولیسنگ' کے لیے 'تقریباً سات' ممالک سے بات چیت ہوئی ہے۔
  • جاپان اور آسٹریلیا کا آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے جہاز بھیجنے سے انکار
  • 'ڈرون سے متعلقہ واقعے' کے بعد فیول ٹینک میں آگ لگنے سے دبئی ایئر پورٹ پر پروازیں معطل
  • خامنہ ای بیٹے کے اقتدار میں آنے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے: امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ
  • بحرینی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران کے پاسدارانِ انقلات کو 'حساس معلومات' فراہم کرنے کے الزام میں پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے
  • پاسداران انقلاب کی اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو ’ڈھونڈ کر قتل کرنے‘ کی دھمکی
  • عراق میں فوجی طیارہ گرنے سے ہلاک چھ فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی گئی، امریکی شہریوں کو مشرق وسطیٰ چھوڑنے کی ہدایت

لائیو کوریج

  1. جوہری مراکز ملبے تلے دبے ہیں، بحالی کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں: ایرانی وزیرِ خارجہ

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی طرف سے مزید معلومات سامنے آ رہی ہیں، جو آج صبح بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز سے بات کر رہے تھے۔

    وہ کہتے ہیں کہ جو ممالک آبنائے ہرمز سے محفوظ راستہ چاہتے ہیں ایران ان سے ’بات کرنے کو تیار‘ ہے۔ خیال رہے آبنائے ہرمز میں اس وقت سمندری ٹریفک ایرانی حملوں کے سبب بالکل رُک چکا ہے۔

    کسی مخصوص ملک کا نام لیے بغیر عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس ’کئی ممالک آئے ہیں‘ جو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ چاہتے ہیں۔

    ایران کے جوہری مراکز ملبے تلے دبے ہیں اور ’فی الحال ہمارے پاس کوئی پروگرام نہیں اور نہ ہی ان کی دوبارہ بحالی کا کوئی منصوبہ ہے۔‘

    ایرانی وزیرِ خارجہ مزید کہتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے پر بات چیت جاری تھی، تو ایران نے پیشکش کی تھی کہ ’افزودہ مواد کی شرح کو کم کر دیا جائے گا۔‘

    وہ کہتے ہیں: ’یہ ایک بہت بڑی رعایت تھی۔ تنازع نے صورتِ حال بدل دی ہے: اب میز پر کچھ نہیں ہے، سب کچھ مستقبل پر منحصر ہے۔‘

  2. جنگ امریکہ اور ٹرمپ کا انتخاب، ہم اپنا دفاع جاری رکھیں گے: ایرانی وزیرِ خارجہ

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران نے ’خود سے جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کیا ہے، ہم نے تو مذاکرات تک کے لیے کسی کو نہیں کہا۔‘

    ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کسی معاہدے کے لیے رضامند تھا لیکن وہ اس سے اتفاق نہیں کر رہے تھے کیونکہ ’شرائط ناکافی‘ تھیں۔

    عباس عراقچی نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ’ہمارے پاس امریکیوں سے بات کرنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ ہم جب ان سے بات کر رہے تھے تب انھوں نے ہم پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

    ’جنگ کا انتخاب صدر ٹرمپ اور امریکہ نے کیا ہے اور ہم اپنا دفاع جاری رکھیں گے۔‘

  3. ایران کے خلیجی ممالک پر حملے ’حیران کن‘ نہیں ہیں: ایرانی شہری, آزادہ مشیری، نامہ نگار برائے جنوبی ایشیا

    خلیجی ممالک اب بھی ایک ایسی جنگ میں حملوں سے نبردآزما ہیں جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انھیں اس میں بلاجواز گھسیٹا جا رہا ہے۔

    ایران میں جن رہائشیوں سے میری بات ہوئی ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ خطے کے دیگر ممالک پر ایران کے حملے دیکھ کر حیران نہیں ہیں۔

    شمالی ایران میں ایک شہری نے مجھے بتایا کہ ’یہ سب متوقع تھا کیونکہ اس حکومت کے پاس دنیا کی معیشت کو خطرے میں ڈال کر سب پر دباؤ ڈالنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔‘

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک فارس نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ ایران شہری یا رہائشی علاقوں کو نشانہ نہیں بنا رہا۔

    یہاں دبئی میں انٹرنیٹ پر ملبے کے ایئرپورٹ پر گرنے، ایک رہائشی عمارت اور ایک لگژری ہوٹل سے ٹکرانے کی تصاویر وسیع پیمانے پر گردش کر رہی ہیں، کیونکہ متحدہ عرب امارات میں ان حملوں کو روکنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    ایران میں یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ اگر موجودہ حکومت برقرار رہتی ہے تو خلیجی ممالک تہران کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس طرح آگے بڑھائیں گے۔

    عمان اور بعض اوقات متحدہ عرب امارات ایران اور مغربی دنیا کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتے رہے ہیں، وہ بھی اس وقت جب تہران پر پابندیاں عائد کی جا رہی تھیں۔

    ایک ایرانی شہری نے مجھے بتایا کہ ’اگر ایران حکومت برقرار رہنے میں کامیاب رہتی ہے تو ان ممالک سے تعلقات مزید اہمیت اختیار کر جائیں گے۔‘

    ’میں حکومت کے لیے ایک بڑی ٹوٹ پھوٹ دیکھ رہا ہوں، لیکن اس سے عام لوگ بھی متاثر ہوں گے۔‘

  4. تلِ ابیب میں کلسٹر بم حملوں میں متعدد افراد زخمی: اسرائیلی ایمرجنسی سروسز

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ وسطی اسرائیل میں حملوں سے متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ تلِ ابیب میں متعدد کلسٹر بموں میں سے ایک کے گرنے سے تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    اسرائیلی پولیس فورس نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں ایک دھماکے کے بعد ایک شخص کو لڑکھڑاتے ہوئے سڑک سے دور جاتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ملبہ چاروں طرف بکھرا ہوا ہے۔

    کلسٹر ہتھیار کے ذریعے راکٹ، میزائل یا توپ کے گولے سے درجنوں یا سینکڑوں چھوٹے بم (بمبیٹس) بکھیر دیے جاتے ہیں، جو ایک وسیع علاقے تک پھیل جاتے ہیں۔

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں:

    • بنی براک کے علاقے میں ایک 60 سالہ شخص کانچ کے ٹکڑے لگنے سے زخمی ہوا ہے
    • رمات گان کے علاقے میں ایک 70 سالہ شخص دھماکے کے سبب زخمی ہوا ہے
    • فتح تقوی میں بم دھماکے کی آواز کے سبب کانوں میں گھنٹیاں بجنے کی شکایت پر ایک 46 سالہ اور ایک 18 سالہ خاتون کو علاج مہیا کیا گیا ہے
  5. ایران کے پاسدارانِ انقلاب کو ’حساس معلومات‘ فراہم کرنے کے الزام میں پانچ افراد گرفتار: بحرین

    بحرینی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران کے پاسدارانِ انقلات کو ’حساس معلومات‘ فراہم کرنے کے الزام میں پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

    بحرین کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں ’دہشت گرد عناصر کی بھرتی‘ کو روکنے کے لیے بھی کی گئی تھیں، جو جس کے ذریعے ملک میں دہشت گردا منصوبے بنائے جا رہے تھے۔

    وزارت کا مزید کہنا تھا کہ چھٹا ملزم بیرونِ ملک فرار ہو گیا ہے۔

  6. متحدہ عرب امارات کا مزید چار ایرانی میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ، چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق

    متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اس نے اتوار کو ایران کی طرف سے فائر کیے گئے چار مزید بیلسٹک میزائلوں اور چھ ڈرونز کو تباہ کیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے مطابق تنازع کی شروعات کے بعد سے اب تک اس کی فورسز اور دفاعی نظام 298 بیلسٹک میزائل، 15 کروز میزائل اور 1606 ڈرونز تباہ کر چکے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق ان حملوں میں اب تک چھ جانیں چکی ہیں اور 142 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

  7. برطانوی ہوائی اڈے پر موجود وہ ہتھیار، جو ایران پر امریکی برتری کو ثابت کرتے ہیں, کرس پارٹرج، بی بی سی نیوز

    میں اس وقت برطانیہ میں گلوسٹرشائر میں رائل ایئرفورس کے فیئرفورڈ اڈے پر موجود ہوں، جہاں میں امریکی ایئرفورس کے ایک بی52 بمبار طیارے میں بنکر بسٹر بموں کی قطاریں دیکھ سکتا ہوں۔

    یہ بات امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے جمعے کے بیان کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ امریکہ اب اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے 99 فیصد وہ ہتھیار استعمال کر رہا ہے جو فضا سے فائر کیے جاتے ہیں اور یہ ایران کے متعدد حصوں پر امریکہ کی فضائی برتری کو ثابت کرتی ہے۔

    یہ درست نشانہ لگانے والے ہتھیار موٹی سٹیل کی بیرونی تہہ رکھتے ہیں، جو انھیں مضبوط اور زیرِ زمین اہداف میں داخلے کی صلاحیت دیتی ہے۔

    ڈلے فیوز کا مطلب ہے کہ وہ گہرائیوں میں جا کر پھٹ سکتے ہیں اور گہرائی کتنی ہوگی اس کا انحصار انٹیلیجنس پر ہوتا ہے۔

    یہاں بی ون لانسر بمبار طیارے بھی موجود ہیں جو جی بی یو 31 بنکر بسٹر بموں کے ذریعے ایران ہر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔

    ایسا لگتا ہے کہ ایران کے خلاف سٹینڈ آف میزائل اب بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ میں نے رائل ایئرفورس کے اڈے پر ایک بی 52 طیارہ دیکھا، جس پر میزائل لدے ہوئے تھے۔

    تقریباً 500 میل تک کی رینج رکھنے والے یہ میزائل ان اہداف کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں جو سخت حفاظتی نظام سے لیس ہوں یا نہایت قیمتی ہوں، یا پھر جہاں گائیڈڈ میزائل کا استعمال خطرناک سمجھا جائے۔

  8. امریکی انٹیلیجنس ایرانی رہبرِ اعلیٰ مجتبی خامنی ای کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟

    ذرائع نے بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ امریکی انٹیلیجنس سے پتا چلتا ہے کہ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے اقتدار سنبھالنے کے معاملے پر بہت محتاط تھے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے بیٹے کے اقتدار سنبھالنے کے بارے میں محتاط تھے کیونکہ انہیں زیادہ ذہین نہیں سمجھا جاتا تھا اور رہبر بننے کے لیے نااہل تصور کیا جاتا تھا۔

    انٹیلیجنس سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ والد اس بات سے باخبر تھے کہ ان کے بیٹے کی ذاتی زندگی میں کچھ مسائل موجود ہیں۔

    آٹھ مارچ کو اپنی تقرری کے بعد اب تک مجتبیٰ خامنہ ای منظرِ عام نہیں آئے ہیں، تاہم ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ وہ ’صحتمند‘ ہیں۔

  9. مشرقِ وسطیٰ تنازع اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکہ سے رابطے میں ہیں: جنوبی کوریا

    جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع سے متعلق ’پیشرفت کی قریب سے نگرانی‘ کر رہا ہے۔

    خیال رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز چین، فرانس، جاپان، برطانیہ اور جنوبی کوریا سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے بحری جہاز بھیجیں اور ’آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور محفوظ بنانے‘ میں مدد دیں۔

    جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک امریکی صدر کے بیانات پر ’توجہ دے رہا ہے‘ اور امریکہ کے ساتھ ’رابطے‘ میں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ جنوبی کوریا شہریوں کے تحفظ اور توانائی کی ترسیل کے راستوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ’مختلف اقدامات پر غور کر رہا ہے۔‘

  10. پاسدارانِ انقلاب کا طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن ناکارہ بنانے کا دعویٰ جھوٹا ہے: سینٹ کام

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن کے بارے میں جھوٹے دعوے کر رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر فارسی اکاؤنٹ پر سینٹ کام کا کہنا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب نے ’ایک مرتبہ پھر‘ جنگی بحری جہاز کو ’ناکارہ‘ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ’ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ابراہم لنکن کے سٹرائیک گروپ نے سمندر سے ایران پر فضائی حدود پر اپنی برتری برقرار رکھی ہوئی ہے۔‘

    امریکہ نے تنازع سے قبل مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کرنا شروع کیا تھا۔ ابراہم لنکن کے علاوہ امریکی بحریہ کا سب سے بڑا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ بھی خطے میں سرگرم ہے۔

    امریکی میڈیا میں یہ اطلاعات بھی وسیع پیمانے پر نشر کی گئی ہیں کہ امریکہ خلیجی خطے میں اضافی فورسز بھی بھیج رہا ہے۔

  11. مجتبی خامنہ ای ’مکمل صحتمند‘، آبنائے ہرمز امریکہ اور اتحادیوں کے علاوہ سب کے لیے کھلی ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے العرابی الجدید کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای ’صحتمند ہیں‘ اور ’صورت حال پر مکمل طور پر قابو رکھتے ہیں۔‘

    خیال رہے ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجبتہ خامنہ ای 8 مارچ کو اپنی تقرری کے بعد اب تک منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں۔ ان کا پہلا خطاب 12 مارچ کو سرکاری ٹی وی کے ایک میزبان نے پڑھ کر سنایا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ایران ’جنگ کے خاتمے کے لیے ہر منصفانہ علاقائی کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ’امریکی جہازوں اور امریکی اتحادیوں کے علاوہ سب کے لیے کھلی ہے۔‘

    ایرانی وزیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ’ابھی تک جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی خاص کوشش ہمارے سامنے نہیں ہے۔‘

  12. اسرائیلی شہر حولون میں حملوں کے بعد تباہی کے مناظر

    اسرائیلی شہر تل ابیب کے جنوب میں واقع حولون میں رات کو کیے گئے حملوں کے بعد نقصانات کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔

    ایک رہائشی عمارت کی دیوار میں بڑا سا شگاف نظر آ رہا ہے۔

    ایک تصویر میں تباہ گاڑیاں نظر آ رہی ہیں، سڑک پر گڑھا پڑا ہے اور ایک کار الٹی پڑی ہے۔

    وردی پوش اہلکار حملوں کے بعد ہونے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں۔

  13. عسکری نوعیت کی معلومات اسرائیل تک پہنچانے کا الزام، شمالی ایران میں 20 افراد گرفتار

    ایران کے شہر عرمیہ میں 20 افراد کے گرفتار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

    ان پر الزام ہے کہ یہ فوج، پولیس اور سکیورٹی مقامات کی معلومات اسرائیل کو بھیج رہے تھے۔

    پاسداران انقلاب سے منسلک نیوز ایجنسی تسنیم نے استغاثہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے لیے کام کرنے والے متعدد نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا اور ایک عدالتی حکم کے بعد 20 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

  14. کوہاٹ میں کارروائی کے دوران چھ شدت پسند ہلاک: سی ٹی ڈی

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے مطابق کوہاٹ کے تھانہ لاچی کی حدود میں کارروائی کے دوران چھ شدت پسند ہلاک کر دیے گئے۔

    سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق شدت پسند گھات لگا کر بیٹھے تھے اور آپریشن ٹیم کے پہنچتے ہی حملہ کر دیا، جس کا مؤثر جواب دیا گیا۔ حملے کی اطلاعات پر کوہاٹ پولیس کے جوان بھی جائے وقوعہ پر پہنچے اور شدت پسندوں کا مقابلہ کیا۔

    پریس ریلیز کے مطابق فائرنگ کا تبادلہ ختم ہونے کے فوراً بعد علاقے میں وسیع پیمانے پر سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشن شروع کیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران جائے وقوعہ سے چھ شدت پسندوں کی لاشیں ملیں۔

    سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ ہلاک شدت پسندوں کی تلاشی کے دوران ان کے قبضے میں موجود چار دستی بم، چھ ایس ایم جی رائفلز اور دیگر اسلحہ برآمد کیا گیا۔

  15. پاسداران انقلاب کی اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو ’ڈھونڈ کر قتل کرنے‘ کی دھمکی

    پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

    ایران کی نیم سرکاری مہر نیوز ایجنسی نے پاسداران انقلاب کا یہ بیان رپورٹ کیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو ’ڈھونڈ کر قتل کرنے‘ کی کوشش جاری رکھیں گے۔

    پاسداران انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس کے حملوں کی 52 ویں لہر کے دوران خطے میں تین امریکی فوجی اڈے اور اسرائیل میں اہداف تباہ کر دیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے لبنان میں حزب اللہ کے مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ وہ لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیم حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو بدستور نشانہ بنا رہا ہے۔

    آئی ڈی ایف کے مطابق، سنیچر کے روز اس نے لبنان کے علاقے القطرانی میں ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے راکٹ حملے کیے جاتے تھے۔

    آئی ڈی ایف نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کی رضوان فورس سے منسلک کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا۔

  16. خلیجی ممالک پر حملے جاری، تازہ ترین صورت حال کیا ہے؟

    سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ رات بھر اس نے اپنی فضائی حدود میں ایران کے 26 ڈرون مار گرائے۔ زیادہ تر دارالحکومت ریاض اور ملک کے مشرقی علاقوں کے قریب تھے۔

    متحدہ عرب امارات نے اپنے مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً ساڑھے 11 بجے اعلان کیا کہ اس کا دفاعی نظام ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہا ہے۔

    اس سے پہلے سنیچر کے روز ڈرون حملے کے بعد فجیرہ کی بندرگاہ پر آگ بھڑک اٹھی تھی۔ اس مشرقی ساحل پر تیل درآمد کرنے والا بڑا ٹرمینل واقع ہے۔

    بحرین نے تقریباً اسی وقت اعلان اپنی شہریوں سے کہا کہ وہ فوری طور پر قریبی پناہ گاہوں کا رخ کریں۔

    عمان میں بھی سکیورٹی خدشات کے باعث امریکہ نے غیر ہنگامی نوعیت کی خدمات انجام دینے والے عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔

    کویت نے اعلان کیا کہ اس کی نیشنل گارڈ نے 24 گھنٹوں میں ایران کے پانچ ڈرون مار گرائے۔

    قطر نے سنیچر کی رات دیر گئے ایک تازہ اپ ڈیٹ میں تفصیل بتائی کہ دن بھر ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنایا گیا۔

  17. ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں: اسرائیلی فوج کا دعویٰ

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل کی طرف میزائل داغے ہیں۔

    فوج کے مطابق دفاعی نظام فعال ہو چکے ہیں اور حملوں کو روک رہے ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں موجود شہریوں کے موبائل فونز پر پیغامات بھی بھیج دیے گئے ہیں۔

    بیان میں عوام کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ محفوظ پناہ گاہوں میں چلے جائیں اور اگلی ہدایات تک وہیں رہیں۔

    پاسداران انقلاب سے منسلک ایرانی نیوز ایجنسی فارس کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل حملوں کی ایک نئی لہر کا آغاز کیا گیا ہے جبکہ لبنان میں موجود مسلح گروہ حزب اللہ نے بھی اسرائیل کے شمالی علاقوں کی طرف میزائل یا ڈرون حملے کیے ہیں۔

  18. وفاقی حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نہ بڑھانے پر تیل کمپنیوں کو 23 ارب روپے ادا کرے گی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں وفاقی حکومت تیل کمپنیوں کو ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت نہ بڑھانے کے بدلے میں 23 ارب روپے ادا کرے گی۔

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اس وجہ سے ملک میں قیمتوں کے ہفتہ وار جائزے میں پیٹرول کی قیمت کو 49.63 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت کو 75.05 روپے فی لیٹر بڑھنا تھا۔

    پاکستان کی وزارتِ توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے باوجود وزیرِ اعظم نے ہائی سپیڈ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتیں برقرار رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔

    پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ملک کی اور عالمی مارکیٹ کی قیمتوں میں جو فرق آئے گا وہ حکومت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں ادا کرے گی۔

    نوٹی فیکیشن میں کہا گیا ہے کہ 14 مارچ 2026 سے 20 مارچ 2026 تک کے عرصے کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پرائس ڈیفرینشل کلیمز (پی ڈی سی) کا تخمینہ تقریباً 23 ارب روپے لگایا گیا ہے، جو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ادا کرے گی۔

    نوٹی فیکیشن کے مطابق اس مقصد کے لیے وزارتِ خزانہ نے کابینہ سے ’وزیرِ اعظم کفایت شعاری فنڈ‘ کے قیام کی منظوری حاصل کر لی ہے، جبکہ اقتصادی رابطہ کمیٹی سے 27.1 ارب روپے اس فنڈ میں منتقل کرنے کی منظوری بھی لے لی گئی ہے۔ اس رقم میں سے 23 ارب روپے اوگرا کو منتقل کیے جائیں گے تاکہ مذکورہ ادائیگیاں کی جا سکیں۔

    نوٹی فیکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ پرائس ڈیفرینشل کلیمز کی ادائیگی کے طریقۂ کار کو اوگرا تیار کرے گا، جس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے جمع کرائے گئے بلوں کی تصدیق اور آڈٹ کا عمل بھی شامل ہو گا۔

    اوگرا کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان فیصلوں پر عمل در آمد کے لیے ضروری اقدامات کرے اور ادائیگیوں کا عمل مکمل کرے۔

  19. ایران جنگ سے متعلق ’جھوٹی خبریں‘ دینے کا الزام، وفاقی کمیونی کیشنز کمیشن کی امریکی نشریاتی اداروں کے لائسنس منسوخ کرنے کی دھمکی

    امریکہ کے وفاقی کمیونی کیشنز کمیشن (ایف سی سی) کے سربراہ نے مشرق وسطیٰ تنازع کے دوران امریکی براڈکاسٹرز پر ’جھوٹی اور مسخ شدہ خبریں‘ چلانے کا الزام عائد کیا ہے۔

    ایف سی سی کے سربراہ برینڈن کار نے سنیچر کے روز ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ’فیک نیوز‘ پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر میڈیا انڈسٹری نے اپنا ’طرز عمل درست‘ نہ کیا تو نشریاتی لائسنس منسوخ بھی کیے جا سکتے ہیں۔

    کار نے کہا: ’براڈکاسٹرز کو عوامی مفاد میں کام کرنا ہوتا ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو اپنے لائسنس کھو دیں گے۔‘

    ان کی پوسٹ کے ساتھ ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا گیا وہ پیغام بھی منسلک تھا جس میں امریکی صدر نے اس تنازع کے دوران ’گمراہ کن‘ اور ’انتہائی بری رپورٹنگ‘ کی شکایت کی تھی۔

    بی بی سی کے امریکہ میں شراکت کار ادارے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کار نے کہا: ’لوگ اس خیال کے عادی ہو گئے ہیں کہ لائسنس کسی قسم کا ذاتی حق ہے اور آپ کچھ بھی کر لیں آپ کا لائسنس ضبط نہیں ہو گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’میں بس یہ یاد دلانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ براڈکاسٹنگ دوسرے شعبوں سے مختلف ہے۔ اس میں عوامی مفاد کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔‘

  20. ٹرمپ کو پانچ ممالک سے آبنائے ہرمز میں جنگی بحری جہاز بھیجنے کی ’امید‘: متعلقہ ممالک نے کیا ردِ عمل دیا

    سنیچر کے روز سماجی رابطوں کے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ آبنائے ہرمز میں جنگی بحری جہاز بھیجیں گے تاکہ ایران وہاں کسی قسم کا خطرہ نہ پیدا کر سکے۔

    اب تک مختلف ممالک کا ردِ عمل کچھ یوں ہے:

    برطانیہ

    برطانوی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا: ’جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم خطے میں جہازرانی کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ متعدد آپشنز پر بات چیت کر رہے ہیں۔‘

    چین

    واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے سی این این کو بتایا کہ چین فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔

    ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ بیجنگ ٹرمپ کی اپیل پر عمل کرے گا یا نہیں لیکن یہ ضرور کہا کہ توانائی کی مسلسل اور مستحکم فراہمی کو یقینی بنانا تمام فریقوں کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

    جاپان

    امریکہ کو اپنا قریبی اتحادی سمجھنے والے ٹوکیو نے ابھی تک ٹرمپ کی اپیل پر کوئی سرکاری ردِ عمل جاری نہیں کیا۔

    تاہم جاپانی نشریاتی ادارے این ایچ کے کو حکام نے بتایا کہ یہ معاملہ وزیر اعظم سانائے تکائچی کے بدھ کے روز شروع ہونے والے دورۂ امریکہ کے ایجنڈے میں شامل ہوسکتا ہے۔

    جاپانی وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ جاپان بحری جہاز صرف اس لیے روانہ نہیں کرے گا کہ ٹرمپ نے ایسا کرنے کے لیے کہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا: ’جاپان اپنے فیصلے خود کرتا ہے اور ضروری ہے کہ فیٖصلہ غیر جانبداری سے کیا جائے۔‘

    فرانس

    فرانس حکومت نے بھی فوری طور پر کوئی جواب جاری نہیں کیا۔

    تاہم ٹرمپ کی پوسٹ کے چند گھنٹے بعد، سنیچر کے روز فرانسیسی وزارتِ خارجہ کے سرکاری ایکس کاؤنٹ نے ان رپورٹس کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ فرانس اپنے جنگی بحری جہاز آبنائے ہرمز بھیج رہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا: ’نہیں، فرانسیسی طیارہ بردار بحری جہاز اور اس کا گروپ مشرقی بحیرہ روم میں ہی موجود ہے۔‘

    جنوبی کوریا

    سیول کی جانب سے بھی ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ہے۔