آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

خامنہ ای بیٹے کے اقتدار میں آنے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے: امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ

امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ایکو اپنے بیٹے مجتبی خامنہ ای کے اقتدار سنبھالنے کے بارے میں خدشات تھے کیونکہ انھیں لیڈر بننے کے لیے ’نااہل‘ سمجھا جاتا تھا۔

خلاصہ

  • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی 'پولیسنگ' کے لیے 'تقریباً سات' ممالک سے بات چیت ہوئی ہے۔
  • جاپان اور آسٹریلیا کا آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے جہاز بھیجنے سے انکار
  • 'ڈرون سے متعلقہ واقعے' کے بعد فیول ٹینک میں آگ لگنے سے دبئی ایئر پورٹ پر پروازیں معطل
  • خامنہ ای بیٹے کے اقتدار میں آنے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے: امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ
  • بحرینی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران کے پاسدارانِ انقلات کو 'حساس معلومات' فراہم کرنے کے الزام میں پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے
  • پاسداران انقلاب کی اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو ’ڈھونڈ کر قتل کرنے‘ کی دھمکی
  • عراق میں فوجی طیارہ گرنے سے ہلاک چھ فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی گئی، امریکی شہریوں کو مشرق وسطیٰ چھوڑنے کی ہدایت

لائیو کوریج

  1. بحرین اور سعودی عرب میں فارمولا ون ریس منسوخ

    فارمولا ون نے اعلان کیا ہے کہ بحرین اور سعودی عرب کے گراں پری ایونٹس باضابطہ طور پر منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

    یہ مقابلے بالترتیب 12 اپریل اور 19 اپریل کو منعقد ہونا تھے۔ فارمولا ون کے بیان کے مطابق یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ کی ’جاری صورتحال‘ کے باعث کیا گیا ہے، اور اگرچہ متبادل پر غور کیا گیا تھا، کوئی متبادل ریس شامل نہیں کی جائے گی۔

    ان منسوخیوں کے نتیجے میں جاپانی گراں پری (27 تا 29 مارچ) اور میامی گراں پری (1 تا 3 مئی) کے درمیان پانچ ہفتے کا وقفہ ہوگا۔

    اس ایونٹ کی گورننگ باڈی ایف آئی اے کے صدر محمد بن سلیم نے کہا کہ ’فی آئی اے ہمیشہ اپنی کمیونٹی اور ساتھیوں کی حفاظت اور فلاح کو اولین ترجیح دے گی۔ تفصیلی غور و فکر کے بعد ہم نے یہ فیصلہ اپنی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔‘

  2. سعودی عرب، دبئی اور قطر کی جانب سے حملے روکنے کا دعویٰ

    سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ریاض اور مشرقی علاقے میں سات ڈرونز تباہ کیے ہیں۔

    اس سے قبل دبئی اور قطر کے حکام نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ حملوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روکا گیا ہے۔

    دبئی کے میڈیا آفس نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ مرینا اور الصفوح کے علاقوں میں جو آوازیں سنائی دیں، وہ حملوں کو کامیابی سے روکنے کی تھیں۔

    ادھر، قطر کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ اس نے سنیچر کے روز ایران کی جانب سے داغے گئے چار بیلسٹک میزائل اور متعدد ڈرونز کو کامیابی سے روکا۔

  3. امریکی شہریوں کو مشرق وسطیٰ چھوڑنے کی ہدایت

    مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف پر ایران کے حملوں کے بعد امریکہ نے اپنے شہریوں کو خطے کے ایک درجن سے زائد ممالک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

    سنیچر کے روز عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے کی عمارت پر میزائل گرنے کے بعد امریکی شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی۔

    سفارت خانے نے لکھا: ’جو امریکی شہری عراق میں رہنے کا انتخاب کر رہے ہیں، وہ ایران سے منسلک دہشت گرد ملیشیاؤں کی جانب سے موجود سنگین خطرے کے پیشِ نظر اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کریں۔‘

    اس کے علاوہ، روئیٹرز کے مطابق امریکہ نے سنیچر کے روز کہا کہ اس نے عمان میں موجود غیر ہنگامی نوعیت کی خدمات انجام دینے والے سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو بھی ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

  4. اسرائیل کا ایرانی میزائل حملے ناکام بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے صبح سویرے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو روک لیا ہے۔

    ایمرجنسی سروسز کے مطابق میزائلوں کی یہ بارش وسطی اسرائیل کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی تھی۔ اب تک اسرائیلی حکام کی جانب سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

  5. امریکہ نے طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والے چھ فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی

    امریکی محکمۂ دفاع نے ان چھ فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی ہے جو 12 مارچ کو عراق میں ایندھن بھرنے والے فوجی طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوئے تھے۔

    ہفتے کے روز جاری کیے گئے بیان میں ان کے نام یہ بتائے گئے ہیں:جان اے کلنر، آریانا جی ساوینو، ایشلے بی پروئٹ، سیٹھ آر کووَل، کرٹس جے اینگسٹ، اور ٹائلر ایچ سمنز۔

    یہ سب کے سی 135 طیارے کے عملے میں شامل تھے۔ یہ ایندھن بردار طیارہ ایران کے خلاف جاری امریکی کارروائیوں میں حصہ لے رہا تھا۔

    پینٹاگون نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ امریکہ اس سے پہلے کہہ چکا ہے کہ طیارہ نہ تو دشمن کی فائرنگ کا نشانہ بنا تھا اور نہ ہی دوست فوج کی فائرنگ اس حادثے کا باعث بنی۔

    جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والی ایک اہلکار 31 سالہ کیپٹن آریانا جی ساوینو واشنگٹن کی رہائشی تھیں اور امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹیمپا کے قریب میک ڈل ایئرفورس بیس میں تعینات تھیں۔

  6. ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے لیکن میں تیار نہیں: امریکی صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے لیکن وہ اس وقت ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں ’کیوں کہ شرائط ابھی اتنی مناسب نہیں ہیں۔‘

    ہفتے کے روز امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو ٹیلی فونک انٹرویو میں امریکی صدر نے یہ واضح کرنے سے انکار کیا کہ وہ شرائط ہوں گی کیا، لیکن ٹرمپ نے یہ ضرور کہا کہ ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کے جوہری عزائم ترک کرنے کا وعدہ مکنہ معاہدے کا حصہ ہو گا۔

    اسی انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے کئی ممالک نے مدد کا وعدہ کیا ہے، تاہم انھوں نے ان ممالک کے نام بتانے سے گریز کیا۔

    ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ نے تیل برآمدات کے لیے اہم ایرانی جزیرے خارگ کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دیا ہے لیکن ’مزا لینے کے لیے شاید ہم اسے چند بار اور نشانہ بنائیں۔‘

    تیل کی بڑھتی قیمتوں کے خدشات کو پس پشت ڈالتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا: ’تیل اور گیس کی بہت زیادہ مقدار موجود ہے، لیکن ابھی اس کی فراہمی کسی حد تک رکی ہوئی ہے۔ اسے بہت جلد کھول دیا جائے گا۔‘

    انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی حالت کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے۔

    انھوں نے کہا: ’میں نہیں جانتا کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ ابھی تک کوئی بھی انھیں سامنے نہیں لا سکا۔‘ ٹرمپ نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو اپنا پہلا بیان کیمرے پر بولنے کے بجائے تحریری شکل میں جاری کیا تھا۔

    مجتبیٰ خامنہ ای کی موت کی خبروں کو ’افواہ‘ قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’میں سن رہا ہوں کہ وہ زندہ نہیں ہیں اور اگر وہ زندہ ہیں تو اپنے ملک کی خاطر سمجھداری سے کام لیتے ہوئے انھیں ہتھیار ڈال دینے چاہییں۔‘

  7. کویت کی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملوں، ریڈار کو نقصان پہنچنے کی تصدیق

    کویت کی حکومت کا کہنا ہے کہ ایک ڈرون حملے کے باعث اس کے ایئرپورٹ کے ریڈار نظام کو نقصان پہنچا ہے۔

    کویت نے خطے میں جاری جنگ کے باعث تمام پروازیں معطل کرنے کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل کویت کے وزارتِ دفاع نے اپنے ایئر بیس پر ڈرونز حملوں اور اس کے نتیجے میں تین فوجی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔

  8. امریکہ کا اپنے حفاظی خول سے متعلق دعویٰ کمزوریوں سے بھرپور ہے : عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ’محفوظ‘ نقل و حرکت کے لیے اتحادیوں سے مدد لینے کے بیان پر تنقید دکرتے ہوئے پڑوسی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ جارح قوتوں کو نکال باہر کرنے میں مدد کریں۔

    سوشل میڈیا پوسٹ پر ایک بیان میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکہ کا حفاظی ڈھانچے سے متعلق دعویٰ دراصل کمزوریوں سے بھرا ثابت ہوا ہے۔

    انھو نے لکھا کہ اب امریکہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے دوسروں سے، حتیٰ کہ چین سے بھی مدد کی درخواست کر رہا ہے ۔

    ایران نے اپنے برادر پڑوسی ممالک سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ غیر ملکی جارح قوت کو خطے سے باہر نکالنے میں مدد کریں کیونکہ ان کے تحفظات صرف اسرائیل سے ہیں۔

  9. امریکی سفارتخانے کی اپنے شہریوں سے فوری طور پر عراق چھوڑنے کی ہدایات

    بغداد میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’فوری طور پر عراق چھوڑ دیں۔‘

    سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ ’ایران اور اس سے منسلک عسکریت پسند گروپ عراق میں عوامی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ یہاں حملے امریکی شہریوں، امریکی مفادات اور اہم بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہوئے ہیں۔‘

    انھوں نے عراق میں رکنے کا ارادہ رکھنے والے افراد پر زور دیا کہ وہ ایک بار پھر غور کریں۔

    یاد رہے کہ سنیچر کے روز ہونے والے حملے میں سفارت خانے کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    امریکی سفارت خانے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’عراق کے آسمان پر میزائلوں، ڈرونز اور گولہ بارود کے مسلسل خطرے کے پیش نظر بغداد میں سفارت خانے یا اربیل میں قونصل خانے جانے سے گریز کریں۔‘

  10. بریکنگ, کویت کے احمد الجابر ایئر بیس پر ڈرون حملے، تین فوجی اہلکار زخمی : کویتی وزارتِ دفاع

    کویت کے وزارتِ دفاع نے اپنے ایئر بیس پر ڈرونز حملوں اور اس کے نتیجے میں تین فوجی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    کویتی وزارت دفاع کے مطابق اس کے فضائی دفاعی نظام نے سات ڈرونز کا سراغ لگایا ہے جن میں سے دو نے ان کی احمد الجابر ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں بیس کے اطراف کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    یاد رہے کہ دو روز قبل بھی کویت کے فٰضائی اڈے کو نشانہ بنا نے کی خبر سامنے آئی تھی اور پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کویت کے احمد الجابر ایئرپورٹ میں امریکی افواج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا نے کا بیان جاری کیا تھا۔

    کویت کی وزارت کے بیان کے مطابق سنیچر کے روز اس واقعے میں مسلح افواج کے تین اہلکار زخمی ہوئے۔

    مزید بتایا گیا کہ تین ڈرونز کو مار گرایا گیا جبکہ باقی دو خطرے کے علاقے سے باہر گر گئے اور کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔

    دوسری جانب کویتی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے دفاعی نظام اس وقت بیک وقت میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی دھماکے کی آواز دراصل ان حملوں کو روکنے کے دوران ہونے والے انٹرسیپشن کا نتیجہ ہے۔

  11. بریکنگ, ایران نے مزید میزائل داغے ہیں: اسرائیلی فوج کا دعویٰ

    اسرائیلی افواج نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے میزائلوں کا ایک اور سلسلہ فائر کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ یہ ہفتے کے روز ایران کی جانب سے اسرائیل کو نشانہ بنانے والی چھٹی لہر ہے۔

    سنیچر کے روز دو گھنٹے سے بھی کم عرصے میں تین حملے کیے گئے تھے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان کا دفاعی نظام خطرے کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر پناہ گاہوں میں چلے جائیں۔

  12. ’بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مختلف آپشنز پر بات کر رہے ہیں‘: برطانوی وزارت دفاع

    امریکی صدر ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے برطانیہ سمیت دیگر اتحادیوں کی مدد کے بیان کے جواب میں اب برطانوی وزارتِ دفاع کے ترجمان کا بیان سامنے آ گیا ہے۔

    ترجمان نے لکھا ہے کہ ’جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ خطے میں بحری جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہم اس وقت اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مختلف آپشنز پر بات کر رہے ہیں۔‘

    یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے آج سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ کہ وہ چاہتے ہیں کہ برطانیہ سمیت اتحادی ممالک اس آبی گزرگاہ کو ’کھلا اور محفوظ‘ رکھنے میں مدد کریں۔

    انھوں نے کہا تھا کہ ’مریکہ کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے جنگی جہاز بھیجیں۔‘

    یاد رہے کہ ایران کی حالیہ دونوں میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے دھمکی آمیز پیغامات کے بعد جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہو گئی ہے۔

    یاد رہے کہ آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔

  13. جنگ کے خاتمے کے بغیر اتحادیوں سے جہاز بھیجنے سے متعلق ٹرمپ کا ’قبل از وقت‘ بیان, جوناتھن بیل، دفاعی امور کے نامہ نگار

    امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اتحادی ممالک سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے جنگی جہاز بھیجنے کا بیان فی الوقت قبل از وقت معلوم ہوتا ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب اس جنگ کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ امریکی بحریہ بھی اس وقت اس تنگ آبی گزرگاہ سے گزرنے والے ٹینکروں کو تحفظ فراہم نہیں کر پا رہی۔

    فی الحال یہ راستہ بہت خطرناک ہے کیونکہ اس کے کئی ٹینکر پہلے ہی نشانہ بن چکے ہیں۔

    فرانسیسی صدر میکرون نے کہا ہے کہ فرانس خلیج میں جنگی جہاز بھیجنے کو تیار ہے لیکن یہ صرف اور صرف ’حفاظتی مشن‘ کے لیے ہو گا۔

    ساتھ ہی انھوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام صرف اس وقت ہوگا جب جنگ کا ’شدید ترین مرحلہ‘ نمٹ جائے گا۔

    صدر ٹرمپ نے فرانس کے علاوہ جاپان، چین، جنوبی کوریا اور برطانیہ کو بھی سمندری جہاز کے تحفظ کے لیے جنگی جہازوں کو بھیجنے کی تجویز پیش کی ہے۔

    یاد رہے کہ چند دن قبل ہی ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کو برطانیہ کے طیارہ بردار جہاز کی ضرورت نہیں کیونکہ ’ ہم پہلے ہی جیت چکے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ برطانوی بحریہ کے پاس دو طیارہ بردار جہاز ہیں۔ ان میں سے ایک، ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز شمالی بحرِ اوقیانوس کی جانب روانہ ہونے کے لیے مکمل تیار ہے۔

    خطے میں برطانوی بحریہ کے پاس کوئی اور جنگی جہاز موجود نہیں، البتہ ایچ ایم ایس ڈریگن اضافی فضائی دفاع فراہم کرنے کے لیے اب قبرص کے راستے پر ہے۔

  14. توانائی کی تنصیبات پر کسی بھی حملے کا جواب دیں گے: ایرانی وزیر خارجہ

    پاسداران انقلاب اسلامی سے وابستہ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک توانائی کی تنصیبات پر کسی بھی حملے کا جواب خطے میں امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنا کر دے گا۔

    عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’اگر ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو ہماری افواج خطے میں امریکی کمپنیوں یا ان کمپنیوں کو نشانہ بنائیں گی جن میں امریکہ کے حصص ہیں۔‘

    ’ہم یقینی طور پر ان حملوں کا جواب دیں گے لیکن احتیاط سے کام لیں گے تاکہ گنجان آباد علاقوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔‘

    ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان امریکی فوج کی جانب سے خارگ جزیرے کو نشانہ بنانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔

    ایران کے تیل کی برآمدات کا 90 فیصد اس جزیرے سے گزرتا ہے۔

  15. ایران سے اسرائیل کی جانب مزید میزائل داغے گئے ہیں: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ ایران سے اسرائیل کی جانب مزید میزائل داغے گئے ہیں۔

    آئی ڈی ایف نے مزید کہا کہ دفاعی نظام خطرے کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور عوام کو حفاظتی پناہ گاہوں میں داخل ہونے کا کہا گیا ہے۔

    یروشلم میں سائرن بجائے گئے ہیں اور جنوبی اسرائیل کے علاقے ایلات میں زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

    دوسری جانب مشرقی تہران میں ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایرانی دارالحکومت میں بھی دوبارہ حملے شروع ہو گئے ہیں۔

  16. امریکہ ’کسی نہ کسی طرح‘ آبنائے ہرمز کو کھول لے گا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’کسی نہ کسی طرح‘ ہم جلد ہی آبنائے ہرمز کو کھول کر اسے محفوظ اور آذاد کروا لیں گے۔

    ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا کہ ’وہ امید کرتے ہیں کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ اس اہم آبی گزرگاہ پر جنگی بحری جہاز بھیجیں گے تاکہ ایران کی طرف سے ’کوئی خطرہ نہ ہو۔‘

    امریکی صدر نے مزید لکھا کہ بہت سے ممالک اس اہم آبی گزرگاہ کو ’کھلا اور محفوظ‘ رکھنے کے لیے جنگی جہاز بھیجیں گے۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس دوران امریکہ ’بمباری جاری رکھے گا اور ایرانی کشتیوں اور بحری جہازوں کو پانی سے باہر نکال پھینکے گا۔‘

  17. پانچ امریکی طیارے تباہ ہونے کی خبریں غلط ہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئر بیس پر پانچ امریکی ٹینکر طیاروں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

    واضح رہے کہ متعدد میڈیا ویب سائٹس نے یہ خبر دی تھی کہ ایرانی حملے میں جہاز تباہ ہوئے ہیں تاہم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا کہ ’اڈے کو کچھ روز پہلے نشانہ تو بنایا گیا تاہم جہاز تباہ نہیں ہوئے۔‘

    ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ’پانچ میں سے چار کو عملی طور پر کوئی نقصان نہیں ہوا تھا اور وہ پہلے ہی سروس میں واپس آ چکے ہیں۔ ایک کو تھوڑا سا زیادہ نقصان ہوا تھا لیکن وہ جلد ہی فضا میں واپس آئیں گے۔‘

  18. آج نو بیلسٹک میزائلوں اور 33 ڈرونز کو مار گرایا: وزارت دفاع یو اے ای

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے آج نو بیلسٹک میزائلوں اور 33 ڈرونز کو مار گرایا ہے۔

    اس تنازعے کے آغاز سے اب تک متحدہ عرب امارات 294 بیلسٹک میزائل، 1,600 ڈرونز اور 15 کروز میزائل ناکارہ بنا چکا ہے جبکہ اس عرصے کے دوران اموات کی تعداد چھ رہی اور 141 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

  19. دو انڈین ٹینکر آبنائے ہرمز کو بحفاظت عبور کر رہے ہیں: انڈین وزیر

    انڈیا کا کہنا ہے کہ اس کے دو ٹینکر آج صبح آبنائے ہرمز کو ’بحفاظت‘ عبور کرنے کے بعد ملک کی جانب گامزن ہیں۔

    بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کے خصوصی سیکریٹری راجیش کمار سنہا نے ایک پریس بریفنگ میں اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

    انڈین جھنڈے والے یہ دو ٹینکر مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) لے جا رہے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے جمعے کے روز لکھا تھا کہ انڈیا میں ایران کے سفیر محمد فتحلی نے دونوں ملکوں کو ’مشترکہ مفادات‘ اور ’مشترکہ قسمت‘ والے ’دوست‘ قرار دیا تھا۔

    واضح رہے کہ ایران اس سے قبل آبنائے ہرمز کو عبور کرنے والے کسی بھی جہاز پر حملے کی دھمکی دے چکا ہے، جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔

  20. فرانسیسی صدر کی پیرس میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش

    فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے پیرس میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرے۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں فرانسیسی صدر کا کہنا ہے کہ انھوں نے لبنان کے صدر جوزف عون، وزیر اعظم نواف سلام اور پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بیری سے بات کی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’لبنان کو افراتفری کی طرف جانے سے روکنے کے لیے سب کچھ کیا جانا چاہیے۔‘

    ایمانویل میکخواں نے ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ پر زور دیا کہ وہ جنگ کو نہ بڑھائے جبکہ اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ’شدید بمباری‘ اور ’بڑے پیمانے پر جارحیت‘ سے باز رہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ فرانس پیرس میں مذاکرات کے لیے تیار ہے۔