آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ووٹر آئی ڈی، آدھار کارڈ یا پاسپورٹ، وزارتِ خارجہ کے بیان نے انڈیا میں شہریت پر بحث کیوں چھیڑ دی؟
- مصنف, غافرہ قادر اور ثاقب رضا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
عالمی درجہ بندی میں انڈیا کے پاسپورٹ کی مسلسل گرواٹ کی وجوہات کچھ بھی ہوں مگر اب انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے حالیہ بیان نے ایک بنیادی مگر پیچیدہ سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا اور وہ یہ کہ کیا انڈین پاسپورٹ واقعی کسی شخص کی شہریت کا حتمی ثبوت ہے؟
24 جون کو یومِ پاسپورٹ سروس کے موقع پر وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ انڈین پاسپورٹ دراصل ایک سفری دستاویز ہے، نہ کہ شہریت کا حتمی ثبوت۔
یہ مؤقف اس وقت مزید نمایاں ہوا جب وزارتِ خارجہ کے ایک سینیئر افسر نے روزنامہ ’دی ہندو‘ کے رپورٹر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وضاحت کی کہ پاسپورٹ اپنی نوعیت میں ایک سفری سہولت ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی سفر کو ممکن بنانا ہے، نہ کہ کسی شخص کی شہریت کو قطعی طور پر ثابت کرنا۔
ان کے مطابق، اگرچہ بیرونِ ملک سفر کے دوران پاسپورٹ کسی فرد کی قومیت کی تصدیق کرتا ہے تاہم اسے شہریت کی مکمل اور حتمی دستاویز نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہی بنیادی فرق اسے دیگر شناختی دستاویزات سے الگ کرتا ہے۔
یہ وضاحت ایک ایسے سوال کے جواب میں سامنے آئی جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرِ ثانی یعنی ایس آئی آر کے دوران اگر کسی شخص کا نام فہرست سے خارج ہو جائے تو کیا وہ اپنا انڈین پاسپورٹ بطور ثبوت پیش کر کے اس فیصلے کو چیلنج کر سکتا ہے یا نہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس وقت ووٹر لسٹوں کی نظرِ ثانی کا یہ عمل انڈیا کی سولہ ریاستوں میں جاری ہے، جس کے باعث شہریوں کی شناخت اور شہریت سے متعلق سوالات پہلے ہی زیرِ بحث ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے اس بیان کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا، سیاسی حلقوں اور قانونی ماہرین میں نئی بحث نے جنم لیا۔
سب سے اہم سوال یہی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر پاسپورٹ کو شہریت کا حتمی ثبوت نہیں مانا جاتا، تو پھر کسی شخص کی انڈین شہریت ثابت کرنے کے لیے کون سی دستاویز فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ سوال نہ صرف قانونی نوعیت کا ہے بلکہ اس کے سماجی اور سیاسی اثرات بھی نمایاں ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب شناخت، شہریت اور ووٹنگ کے حقوق جیسے معاملات پہلے ہی حساس بحث کا حصہ ہیں۔
دنیا بھر میں پاسپورٹ کو کسی بھی ملک کی جانب سے جاری کیا جانے والا سب سے اہم شناختی اور قومیت کا دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ چاہے سفر کرنا ہو، ویزا حاصل کرنا ہو، بینک اکاؤنٹ کھولنا ہو یا کسی دوسرے ملک میں اپنی قومی شناخت ثابت کرنی ہو، پاسپورٹ کو بنیادی دستاویز مانا جاتا ہے۔
اسی لیے انڈین وزارتِ خارجہ کے بیان نے لوگوں کو حیران بھی کیا اور کچھ حد تک پریشان بھی تاہم قانونی ماہرین کے مطابق یہاں ایک باریک فرق موجود ہے۔
ان کے مطابق پاسپورٹ کسی شخص کی شہریت یقینی نہیں بناتا بلکہ حکومت یہ دستاویز اسی وقت جاری کرتی ہے جب وہ اس بات سے مطمئن ہو جاتی ہے کہ درخواست دینے والا شخص انڈین شہری ہے تاہم اگر مستقبل میں کسی قانونی تنازعے میں شہریت پر سوال اٹھ جائے تو اس کا فیصلہ صرف پاسپورٹ کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ دیگر قانونی شواہد اور شہریت کے قانون کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
سابق مرکزی وزیر برائے قانون اور سینیئر وکیل کپل سبل نے بھی وزارت خارجہ کے مؤقف پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی سرکاری اہلکار نے کسی کی شہریت پر سوال اٹھایا تو کیا وہ اسے ووٹ ڈالنے کے حق سے بھی محروم کر سکتا ہے؟
کپل سبل کی سوشل میڈیا پر اس پوسٹ کو کانگریس کے سینیئر رہنما دگ وجے سنگھ نے بھی دوبارہ شیئر کیا۔
انھوں نے لکھا کہ غور طلب ہے کہ زیادہ تر انڈین شہریوں کے لیے پاسپورٹ سب سے معتبر سرکاری دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ اس پر ’ریپبلک آف انڈیا‘ درج ہوتا ہے، اس میں حامل کی شناخت موجود ہوتی ہے اور دنیا بھر کے ممالک اسے اس یقین کے ساتھ قبول کرتے ہیں کہ انڈیا نے پاسپورٹ جاری کرنے سے پہلے اس شخص کی شہریت کی تصدیق کی ہو گی۔
ممبئی کے نامور وکیل میہِر دیسائی نے وزارتِ خارجہ کے حالیہ بیان کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے کہ پاسپورٹ شہریت کی دستاویز ہے۔ آپ کو پاسپورٹ اسی صورت میں جاری کیا جاتا ہے جب آپ انڈین شہری ہوں اور پاسپورٹ ایکٹ بھی اسی بات کی وضاحت کرتا ہے۔ اس لیے حکومت کا یہ مؤقف بالکل بے معنی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ وزرا اتنے لاعلم اور غیر ذمہ دار کیسے ہو سکتے ہیں۔‘
دوسری جانب، مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے رہنما اعظم قادری نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا تاہم ان کی رائے قدرے مختلف ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’حکومت کا موجودہ مؤقف درست نہیں اور ان کے مطابق اس طرح کے بیانات سے مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس قسم کے اقدامات کا مقصد مسلمانوں کو پریشان کرنا ہے اور کہیں نہ کہیں یہ سیاسی طور پر ان کے ووٹ بینک کو متاثر کرنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے، جس کے اثرات کمیونٹی کے دیگر حقوق پر بھی پڑ سکتے ہیں۔‘
اعظم قادری نے مزید کہا کہ ’اب تک پاسپورٹ کو ایک اہم اور قابلِ اعتماد شناختی دستاویز سمجھا جاتا تھا لیکن ایسے وقت میں جب ایس آئی آر جیسے معاملات زیرِ بحث ہوں، اس طرح کے بیانات لوگوں میں مزید تشویش پیدا کر رہے ہیں۔‘
یہاں اہم بات یہ ہے کہ انڈیا میں کوئی ایک ایسا عالمی یا واحد دستاویز موجود نہیں جو ہر شہری کے لیے شہریت کا حتمی ثبوت ہو۔ یہ بات لوگوں کے لیے حیران کن ہو سکتی ہے کیونکہ عام تاثر یہی ہے کہ ہر ملک اپنے شہریوں کو ایک واضح سرٹیفکیٹ فراہم کرتا ہے لیکن انڈیا کا نظام مختلف ہے، یہاں شہریت ایک مکمل عمل ہے، نہ کہ صرف ایک کاغذ۔
سیٹیزن شپ ایکٹ کے مطابق شہریت مختلف طریقوں سے حاصل ہوتی ہے: پیدائش کے ذریعے، نسل کے ذریعے، رجسٹریشن کے ذریعے یا نیچرلائزیشن کے ذریعے۔ اسی لیے ایک ہی دستاویز سب کے لیے کافی نہیں ہو سکتی۔
جو لوگ نیچرلائزیشن یا رجسٹریشن کے ذریعے شہری بنتے ہیں، انھیں سرکاری سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے جو مضبوط ثبوت ہوتا ہے لیکن زیادہ تر لوگ پیدائشی شہری ہوتے ہیں اور ان کے پاس ایسا کوئی ایک جامع دستاویز نہیں ہوتا۔
اسی لیے عام طور پر شہریت مختلف دستاویزات کے مجموعے سے ثابت کی جاتی ہے، جیسے برتھ سرٹیفکیٹ، والدین کی تفصیلات، تعلیمی ریکارڈ اور رہائش کے شواہد۔
اس سال انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرِثانی سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے بھی کہا تھا کہ آدھار کارڈ شہریت کا ثبوت نہیں بلکہ صرف شناخت کی ایک دستاویز ہے۔
اسی طرح قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ بھی ایک اہم سرکاری دستاویز ضرور ہے لیکن اگر شہریت کا تنازع عدالت میں پہنچ جائے تو فیصلہ متعلقہ قوانین اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
اس بحث کا سب سے سنجیدہ پہلو یہ ہے کہ اس کے اثرات کن لوگوں پر پڑ سکتے ہیں۔
انڈیا میں بہت سے لوگ دستاویزات کے لحاظ سے کمزور ہیں۔ غریب طبقات، دیہی علاقوں کے رہنے والے، مہاجر مزدور اور وہ خواتین جن کے ریکارڈ مکمل نہیں۔
انسانی حقوق کے کارکن رام پنیانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ خطرناک رجحان ہو سکتا ہے، خاص طور پر مذہبی اقلیتوں کے لیے۔ کمزور طبقے پہلے ہی مختلف بنیادوں پر دباؤ کا شکار ہیں اور یہ ان کو ہراساں کرنے کی ایک اور وجہ بن سکتی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے بیانات ووٹنگ کے حقوق اور بنیادی شہری حقوق کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایس آئی آر جیسے اقدامات کے ذریعے ایسا ممکن ہے اور اس سے لوگوں میں مزید الجھن پیدا ہوتی ہے۔‘
سوشل میڈیا پر ردعمل: ’یہ دلیل متضاد معلوم ہوتی ہے‘
معروف شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر نے اس معاملے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ ’اگر پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں بلکہ صرف سفری دستاویز ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت ایسے لوگوں کو بھی پاسپورٹ جاری کر رہی ہے جن کی شہریت کے بارے میں اسے یقین نہیں؟ یہ دلیل متضاد معلوم ہوتی ہے۔‘
صحافی راجدیپ سردیسائی نے ردعمل دیا کہ ’میرے پاس ووٹر آئی ڈی کارڈ ہے لیکن نہیں یہ شہریت کا ثبوت نہیں۔میرے پاس آدھار کارڈ ہے لیکن نہیں یہ بھی شہریت کا ثبوت نہیں۔ میرے پاس پاسپورٹ ہے لیکن نہیں یہ بھی شہریت کا ثبوت نہیں۔ تو پھر مجھے شہریت کا سرٹیفکیٹ کون دے گا؟ کوئی سرکاری افسر؟‘
کمال آر خان نامی صارف نے لکھا کہ ’غیر ملکی شہریت حاصل کرنے کے بعد مجھے اپنا انڈین پاسپورٹ واپس کرنا پڑتا ہے کیونکہ انڈیا دوہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاسپورٹ دراصل انڈین شہریت سے جڑا ہوا ہے۔‘
انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں، تو غیر ملکی شہریت حاصل کرنے کے بعد بھی انڈین پاسپورٹ اپنے پاس رکھنا جرم نہیں ہونا چاہیے؟‘
مصنف، صحافی اور انڈیا کی سیاسی رہنما ساگرِکا گھوش نے وزات خارجہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’کتنا زبردست قدم ہے وزارت خارجہ کا۔ پہلے انڈین پاسپورٹ کو عالمی درجہ بندی میں 80ویں نمبر تک گرنے دیں۔ پھر تسلیم کریں کہ یہ غیر شہریوں کو بھی جاری کیا جا سکتا ہے اور یہ شہریت کا ثبوت بھی نہیں۔‘
ان کی رائے میں ’بہت کم ممالک اپنے ہی پاسپورٹ کی قدر کم کرنے کے لیے اتنی محنت کرتے ہیں۔ مودی سرکار کی خالص انتظامی ’مہارت‘۔۔ کیا بات ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اب انڈین پاسپورٹ کو پہلے سے بھی زیادہ شک کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔ مودی ہے تو ممکن ہے۔‘
انڈیا کے پاسپورٹ کی کمزور حیثیت پر ان کے اس بیان کی تصدیق ’ہینلے پاسپورٹ انڈیکس‘ کی تازہ رپورٹ سے بھی ہوتی ہے جو دنیا بھر کے پاسپورٹس کی ویزا فری سفر کی بنیاد پر درجہ بندی کرتا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق انڈیا 199 ممالک میں سے 85 ویں نمبر پر ہے جو 2024 کے مقابلے میں 2025 میں پانچ درجے نیچے آ گیا ہے۔