آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے تحت تہران کی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہو گی: آئی اے ای اے

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدہ آئی اے ای اے کے انسپکٹروں کو ایران کی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہو گی۔

خلاصہ

  • اٹلی نے ایران کے خلاف جنگ میں کبھی حصہ نہیں لیا: جورجیا میلونی
  • ایران جیسے ممالک میں سفارتی موجودگی نہ ہونے کے باعث کینیڈا کو 'نقصان' ہو رہا ہے: مارک کارنی
  • آبنائے ہرمز کے قریب جہاز پر حملہ: اقوام متحدہ نے ملاحوں کے انخلا کا آپریشن روک دیا
  • امریکہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے: جے ڈی وینس
  • آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایک نئے راستے کا اعلان 'ناقابل قبول' اور 'انتہائی خطرناک' ہے: پاسداران انقلاب
  • لبنان اور اسرائیل مذاکرات کا آخری مرحلہ واشنگٹن میں شروع ہو گیا
  • انڈیا توانائی کے شعبے میں ایران کے ساتھ تعاون کے مواقع کا جائزہ لے رہا ہے: ہردیپ سنگھ پوری

لائیو کوریج

  1. امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے تحت آئی اے ای اے کو تہران کی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہو گی: رافیل گروسی

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بعد یہ یقینی بنانے کے لیے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے ایک ’بہت مضبوط‘ تصدیقی نظام کی ضرورت ہے ۔

    جاپان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گروسی کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی جانب نہ بڑھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ایرانی حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘

    تاہم ان کا کہنا ہے کہ صرف اعلان کافی نہیں۔ ’ہمیں جتنی جلد ممکن ہو ایک نہایت مضبوط تصدیقی نظام قائم کرنا ہوگا۔‘

    رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدہ آئی اے ای اے کے انسپکٹروں کو ایران کی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہو گی۔ گروسی کا یہ بیان تہران کی جانب سے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے کہ کچھ اہم مقامات معائنہ کاروں کے لیے اس وقت تک بند رہیں گے جب تک امریکہ کے ساتھ حتمی معاہدہ نہیں ہو جاتا اور پابندیاں ختم نہیں کر دی جاتیں۔

    جاپان میں ایک پریس کانفرنس کے دوران گروسی کا کہنا تھا کہ ’ایک معاہدہ موجود ہے اور اس پر عملدرآمد کے لیے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو رسائی اور معائنہ کرنے کی ضرورت ہو گی۔ ہمیں امید ہے کہ ہم جلد وہاں جا پائیں گے۔‘

    فی الحال ایران کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ آئی اے ای اے کے جوہری معائنہ کاروں کی واپسی امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ حتمی معاہدے کا حصہ ہو گی۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمت کی بنیاد پر توقع ہے کہ دونوں ممالک دو ماہ کی بات چیت کے بعد ایک حتمی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔

  2. بنوں میں ایمبولنس پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ایک نجی ایمبولینس پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک ہو گئے۔

    ضلع میں کام کرنے والے ریسکیو اہلکاروں نے بتایا کہ انھیں صبح چھ بجے اطلاع موصول ہوئی کہ بنوں کے سرکلر روڈ پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد فوری طور پر ایمبولینس روانہ کر دی گئی۔ ان کے مطابق سڑک پر ایک نجی ایمبولینس میں چار لاشیں پڑی تھیں جنھیں ہسپتال منقتل کر دیا گیا۔

    بنوں کے ریجنل پولیس افسر رب نواز خان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب تک لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

    ڈسٹرکٹ ہسپتال بنوں میں پولیس اہلکاروں نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے ایک نجی ایمبولینس پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اس میں سوار چار افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی شناخت اور واقعے کے بارے میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    بنوں میں ایک عرصے سے حالات کشیدہ ہیں۔ گذشتہ ہفتے بنوں کے علاقے ڈومیل کے ایک گاؤں میں مسافر گاڑی پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا گیا اور بعد میں زخمیوں کو جس گاڑی میں ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا اس پر بھی حملہ کیا گیا۔ ان دونوں واقعات میں سات افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے تھے۔

    صوبے کے جنوبی اضلاع لکی مروت اور بنوں میں پولیس پر پے در پے حملوں کے بعد ان علاقوں میں پولیس امن کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں اور ان کمیٹیوں نے شدت پسندوں کے خلاف مختلف کارروائیاں بھی کی ہیں۔

    صوبے کے جنوبی اضلاع میں پولیس پر حملوں کے علاوہ سرکاری ملازمین اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کے اغوا کے واقعات بھی پیش آ رہے ہیں۔

    جنوبی وزیرستان اپر میں دو روز پہلے چھ پولیس اہلکاروں کو مسلح شدت پسندوں نے اغوا کر لیا تھا لیکن گذشتہ روز مقامی عمائدین کی کوششوں سے انھیں بازیاب کرا لیا گیا۔ ضلعی پولیس افسر ارشد خان کے مطابق تمام اہلکاروں بازیاب ہونے کے بعد پولیس لائن وزیرستان پہنچ گئے ہیں۔

  3. ہیٹ ویو کے دوران پیرس میں عوامی مقامات پر شراب نوشی اور اس کی فروخت پر پابندی عائد

    فرانسیسی حکام نے ہیٹ ویو کے دوران دارالحکومت کے ہسپتالوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے پیرس میں عوامی مقامات پر شراب نوشی اور اس کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    پیرس کے شہریوں پر جمعے کی دوپہر سے سنیچر کی صبح سات بجے تک عوامی مقامات پر شراب پینے پر پابندی عائد ہو گی۔ سنیچر سے اتوار کے درمیان بھی انہی اوقات میں یہ پابنیداں لاگو رہیں گی۔

    دارالحکومت میں جمعے کی شام چھ بجے سے سنیچر کی صبح سات بجے تک لے جانے کے لیے شراب کی فروخت پر بھی پابندی ہو گی، اور یہی پابندی سنیچر سے اتوار کے دوران بھی ان ہی اوقات میں نافذ رہے گی۔

    لائسنس یافتہ بارز اور ریستوران اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

    سپین، برطانیہ اور فرانس کئی روز سے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں تاہم گرمی کی یہ لہر اب مشرق کی جانب بڑھ رہی ہے، اور جرمنی اور جمہوریہ چیک میں محکمہ موسمیات نے شدید موسم سے خبردار کیا ہے۔

    جرمنی میں جمعے کے روز درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ جمہوریہ چیک کے بیشتر حصوں میں شدید موسم کا انتباہ جاری کر دیا گیا ہے۔

    فرانس کے وزیراعظم سباستیاں لیکورنو نے کہا کہ صحت سے متعلق الرٹ کی سطح کو بلند ترین درجے تک بڑھایا جا رہا ہے تاکہ ہسپتالوں میں عملہ بڑھایا جا سکے اور کمزور افراد کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  4. اٹلی نے ایران کے خلاف جنگ میں کبھی حصہ نہیں لیا: جورجیا میلونی

    اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے ایران کے خلاف جنگ میں کبھی حصہ نہیں لیا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق، میلونی کا کہنا تھا کہ کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹ کو یہ سمجھنے میں غلطی ہوئی تھی کہ اٹلی سے کس قسم کی پروازوں کی اجازت دی گئی تھی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے بعد ازاں اپنی غلطی درست کرتے ہوئے اس بارے میں وضاحت بھی کی ہے۔

    اٹلی اور فرانس کے درمیان ہونے والے 36ویں بین الحکومتی سربراہ اجلاس کے اختتام پر بات کرتے ہوئے میلونی کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے اڈوں کے استعمال سے متعلق محض اپنے وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری کی تھی اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

    گذشتہ روز ایران کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹ کی فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو کی ویڈیو ایکس پر شیئر کی تھی۔ اس ویڈیو میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ آپریشن ایپک فیوری کے دوران اٹلی میں موجود امریکی اڈے سے تقریباً 500 امریکی جہازوں نے اڑان بھری تھی۔

    اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ نیٹو سیکریٹری جنرل کا بیان اس بات کا اعتراف ہے کہ نیٹو نے ایک خودمختار اقوامِ متحدہ کے رکن ملک کے خلاف غیر قانونی جنگ میں حصہ لیا۔

    اسماعیل بقائی مزید کہنا تھا کہ نیٹو اور اس کے رکن ممالک جنھوں نے اس فیصلے میں حصہ لیا انھیں اس کے لیے جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

  5. ایران جیسے ممالک میں سفارتی موجودگی نہ ہونے کے باعث کینیڈا کو ’نقصان‘ ہو رہا ہے: مارک کارنی

    کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کا کہنا ہے کہ ایران جیسے ممالک میں کینیڈا کی سفارتی موجودگی نہ ہونے کے باعث اسے ’نقصان‘ ہو رہا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق کینیڈین پارلیمان کی مدت کے اختتام پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی کا کہنا تھا کہ ’رابطہ رکھنے کا مطلب حمایت کرنا نہیں ہوتا۔ کسی بھی ملک میں سفارت خانہ قائم کرنا یا قونصلر خدمات فراہم کرنا اس بات کی علامت نہیں کہ ہم اس ملک کی پالیسیوں کی تائید کرتے ہیں۔‘

    وینزویلا میں مہلک زلزلوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کراکس میں کینیڈین سفارت کاروں کی عدم موجودگی سے اوٹاوا کی اپنے شہریوں کی مدد کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

    کینیڈا کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کچھ ممالک ایسے ہیں جن سے ہمارا اختلاف ہے اور وہاں ہماری سفارتی موجودگی نہیں۔ ان کے مطابق ایران اور وینزویلا کے علاوہ اور بھی ایسے ممالک ہیں۔

    وزیر اعظم کارنی نے بتایا کہ کچھ مواقع پر کینیڈین حکومت کو اپنے شہریوں کو ایران سے نکلنے میں مدد کے لیے ایسے ممالک سے تعاون لینا پڑا جو اوٹاوا کے ’فطری اتحادی‘ نہیں سمجھے جاتے۔

    کینیڈا نے سنہ 2012 میں تہران میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا اور ایرانی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے کہا تھا۔

    اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی یا قونصلر تعلقات قائم نہیں رہے۔

    تہران کی فضائی حدود میں یوکرینی طیارے کو مار گرائے جانے اور پاسدارانِ انقلاب کی فائرنگ میں متعدد ایرانی نژاد کینیڈین شہریوں کی ہلاکت کے بعد کینیڈا نے ایرانی حکام کے لیے ویزا اور داخلے کے قواعد سخت کر دیے تھے اور پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا۔

    دونوں ممالک کے درمیان تازہ سیاسی کشیدگی گذشتہ ماہ اس وقت سامنے آئی جب ایران کی فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ مہدی تاج کو کینیڈا میں داخلے سے روک دیا گیا۔ وہ 2026 ورلڈ کپ کے کوآرڈینیشن اجلاس میں شرکت کے لیے ٹورنٹو پہنچے تھے تاہم انھیں ایران واپس لوٹ گئے۔

  6. آبنائے ہرمز کے قریب جہاز پر حملہ: اقوام متحدہ نے ملاحوں کے انخلا کا آپریشن روک دیا, وکی وونگ اور ایما پینگلی، بی بی سی نیوز

    اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے آبنائے ہرمز میں پھنسے 11,000 سے زائد ملاحوں کے انخلا کا منصوبہ اس آبی گزرگاہ کے قریب ایک کارگو جہاز پر ہونے والے حملے کے بعد عارضی طور پر روک دیا ہے۔

    آئی ایم او کے سربراہ ارسینیو ڈومنگیز کا کہنا ہے کہ کئی جہازوں کو پہلے ہی نکالا جا چکا ہے، تاہم ادارہ یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ’ضروری حفاظتی ضمانتیں‘ برقرار رہیں۔

    برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی یو کے ایم ٹی او نے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ ایک جہاز کو عمان کی بندرگاہ دہیت سے جنوب مشرق میں 7.5 سمندری میل کے فاصلے پر ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ سے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    سمندری خطرات کے حوالے سے کام کرنے والی کمپنی وین گارڈ کے مطابق کہ سنگاپور کے جھنڈے تلے چلنے والا جہاز ایور لَوَلی حملے کے باوجود آبنائے سے گزر گیا۔

    فروری سے امریکہ،اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث خلیج میں سینکڑوں جہاز اور ہزاروں ملاح پھنسے ہوئے ہیں۔

    آبنائے ہرمز سے جہازوں اور ملاحوں کے انخلا کے لیے اقوامِ متحدہ کے آپریشن کا اعلان منگل کو اس وقت کیا گیا تھا جب آبنائے دوبارہ کھولی گئی تھی۔

    ڈومنگیز کے مطابق اس ’بڑے پیمانے کے آپریشن‘ میں ایران، عمان، امریکہ اور خطے کے دیگر ساحلی ممالک اور میری ٹائم انڈسٹری کا تعاون حاصل تھا۔

    ڈومنگیز نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ جس جہاز پر حملہ ہوا وہ ’آئی ایم او کے انخلا فریم ورک کے تحت سفر نہیں کر رہا تھا۔‘

    انہوں نے مزید کہا: ’میں ہمیشہ اس بات پر زور دیتا رہا ہوں کہ ملاحوں کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ اسی لیے مربوط حکمتِ عملی اور بحری حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے انخلا کے منصوبے کو اس وقت تک روکا جائے گا جب تک مزید وضاحت حاصل نہیں ہو جاتی۔‘

    جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق ایور لاولی نامی کارگو جہاز جمعرات کی صبح آبنائے میں جنوبی راستے سے داخل ہوا تھا اور مقامی وقت کے مطابق تقریباً 3:30 بجے مشرق کی جانب سے باہر باہر نکا۔

    وین گارڈ کے مطابق اس دوران اس جہاز کو کسی مدد کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

    گذشتہ ہفتے امریکہ اور ایران نے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر کے کشیدگی کے خاتمے پر اتفاق کیا تھا، جس میں یہ بھی شامل تھا کہ ایران 60 دن تک ’بغیر کسی فیس کے تجارتی جہازوں کو محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے کوششیں کرے گا۔‘

    تاہم تہران بار بار کہتا رہا ہے کہ وہ آبنائے سے گزرنے کے لیے ٹول کے بجائے ’بحری خدمات کی فیس‘ وصول کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

  7. آبنائے ہرمز کے قریب کارگو جہاز کو پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: برطانوی ایجنسی

    برطانیہ کے میریٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ اسے عمان کے شمال میں آبنائے ہرمز کے قریب ایک واقعے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

    یو کے ایم ٹی او کے مطابق ایک کارگو جہاز کے سٹار بورڈ (دائیں حصے) کو نامعلوم نوعیت کے ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے جہاز کے برج کو نقصان پہنچا ہے۔

    جہاز کے کپتان کے مطابق اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا ہے۔

    یو کے ایم ٹی او کے مطابق حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور علاقے میں موجود جہازوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دینے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

  8. امریکہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے: جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے کشیدگی کم کرنے کے لیے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ایک براہِ راست رابطہ چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    برطانوی دائیں بازو کی ویب سائٹ ’ان ہرڈ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے بتایا کہ اس انتظام کے تحت ایرانی اور امریکی فوجی حکام دوحہ میں ملاقاتیں کریں گے جہاں وہ باہمی تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

    انھوں نے ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ٹھیک ہے، ہم پاسداران انقلاب کا ایک نمائندہ دوحہ بھیج دیتے ہیں، جو امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک اہلکار کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرے گا اور اسی طرح ہم بہت سے تنازعات حل کریں گے۔‘

    جے ڈی وینس نے مزید بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے بھی ایران کے ساتھ ایسے رابطے قائم کیے ہیں، جو اس سے پہلے موجود نہیں تھے، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ براہِ راست بات چیت بھی شامل ہے۔

    ان کے مطابق ’متحدہ عرب امارات ایرانی حکام کے ساتھ ایسے مذاکرات کر رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوئے، جن میں آئی آر جی سی کے ساتھ مختلف نوعیت کی معاشی مراعات پر بات چیت بھی شامل ہے۔‘

  9. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا آخری دور واشنگٹن ڈی سی میں امریکی محکمہ خارجہ میں شروع ہو گیا ہے۔
    • امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کی جانب سے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہ دینا، براعظم اور امریکہ کے درمیان اتحاد کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
    • ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکی دعوے غلط ہیں کہ ایران اپنے غیرمنجمد شدہ اثاثے امریکی زرعی اجناس خریدنے پر خرچ کرے گا۔
    • اہم عالمی بحری راستے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت بحال ہونے کے بعد تیل کی قیمتیں ایک بار پھر ایران جنگ سے پہلے والی سطح پر آ گئی ہیں۔
  10. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔