امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے تحت آئی اے ای اے کو تہران کی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہو گی: رافیل گروسی
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بعد یہ یقینی بنانے کے لیے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے ایک ’بہت مضبوط‘ تصدیقی نظام کی ضرورت ہے ۔
جاپان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گروسی کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی جانب نہ بڑھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ایرانی حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘
تاہم ان کا کہنا ہے کہ صرف اعلان کافی نہیں۔ ’ہمیں جتنی جلد ممکن ہو ایک نہایت مضبوط تصدیقی نظام قائم کرنا ہوگا۔‘
رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدہ آئی اے ای اے کے انسپکٹروں کو ایران کی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہو گی۔ گروسی کا یہ بیان تہران کی جانب سے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے کہ کچھ اہم مقامات معائنہ کاروں کے لیے اس وقت تک بند رہیں گے جب تک امریکہ کے ساتھ حتمی معاہدہ نہیں ہو جاتا اور پابندیاں ختم نہیں کر دی جاتیں۔
جاپان میں ایک پریس کانفرنس کے دوران گروسی کا کہنا تھا کہ ’ایک معاہدہ موجود ہے اور اس پر عملدرآمد کے لیے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو رسائی اور معائنہ کرنے کی ضرورت ہو گی۔ ہمیں امید ہے کہ ہم جلد وہاں جا پائیں گے۔‘
فی الحال ایران کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ آئی اے ای اے کے جوہری معائنہ کاروں کی واپسی امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ حتمی معاہدے کا حصہ ہو گی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمت کی بنیاد پر توقع ہے کہ دونوں ممالک دو ماہ کی بات چیت کے بعد ایک حتمی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔