آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’حُسَے‘: ویسٹ انڈیز میں غمِ حسین منانے کا دو صدی پرانا منفرد انداز جس میں بہت سے مذاہب کے لوگ شریک ہوتے ہیں
- مصنف, وقار مصطفیٰ
- عہدہ, صحافی و محقق
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
دلدل اور دریا کنارے سے لائے گئے سرکنڈے لکڑی اور دھات کے ساتھ جُڑ کر اُس ڈھانچے کو ایک مضبوط بنیاد دیتے ہیں جس کی تعمیر میں کئی افراد قریب ایک ماہ سے جُتے ہیں۔
خواتین اُن کے لیے روٹی، لہسن بھرے بُھنے ٹماٹر، بینگن اور دیگر سبزیاں تیار کرتی ہیں جبکہ وقتاً فوقتاً انھیں چائے اور کافی بھی ملتی رہتی ہے۔
رفتہ رفتہ لکڑی، سرکنڈے اور گتے کے بے جان ٹکڑے ایک دلکش شکل اختیار کرنے لگتے ہیں۔
چاروں کونوں پر مینار اُبھرتے ہیں، اُن پر گنبد سجتے ہیں اور درمیان میں ایک بڑا مرکزی گنبد تعمیر ہوتا ہے۔ کئی ہفتوں کی محنت، رَت جگوں اور اجتماعی لگن کے بعد ’کاٹھیا‘ کہلاتے پہیوں والے ایک چبوترے پر بنا یہ ڈھانچہ مکمل ہوتا ہے۔
یہ ڈھانچہ، موجودہ عراق میں فُرات دریا کے کنارے کربلا کے مقام پر سنہ 680 میں ہونے والی جنگ میں یزید کی فوج کے ہاتھوں پیغمبر اسلام کے نواسے حضرت حسین اور اُن کے ساتھیوں کے مارے جانے کی یاد میں نکالا جانے والا ایک تعزیہ ہے۔ یہ حضرت حسین کے روضے کی شبیہ ہے۔
لیکن یہ جگہ جہاں یہ تعزیہ، اور ایسے کئی اور تعزیے بنتے اور نکلتے ہیں، پاکستان یا اُس کے آس پاس کا کوئی ملک نہیں بلکہ 13، 14 ہزار کلومیٹر دور کیریبیئن کے جزائر ہیں، جنھیں جزائر غرب الہند یا ویسٹ انڈیز کہا جا سکتا ہے۔
حُسَے ہے کیا اور تعزیہ کیریبین کیسے پہنچا؟
یہاں اس تعزیتی جلوس کو حضرت حسین کے نام کی رعایت سے ’حُسَے‘ یا ’حوسَے‘ کہا جاتا ہے اور زیادہ تر لوگ اس میں برآمد کیے جانے والے تعزیہ کو ’تادجہ‘ یا ’تاجیہ‘ کہتے ہیں۔
محقق فرینک کوروم نے مختلف امام باڑوں میں یہ تعزیے بنتے خود دیکھے ہیں اور اُن کی تعمیر کی تفصیل اپنی کتاب ’حوسَے ٹرینیڈاڈ: محرم پرفارمنسز اِن این اِنڈو-کیریبین ڈایاسپورا‘ میں لکھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اب آپ کے ذہن میں سوال اُبھرا ہو گا کہ عراق اور ایران میں شروع ہونے والی یہ رسم یہاں کیسے پہنچی۔
’کیریبین میں معاہداتی مزدوری‘ کے موضوع پر اپنے مضمون میں اشو تَوش کمار لکھتے ہیں کہ سنہ 1833 میں برطانوی سلطنت میں غلامی کے خاتمے کے بعد، وسیع پیمانے پر غربت اور قحط سے بچنے کے لیے بہت سے ہندوستانیوں، جن میں زیادہ تر موجودہ اُتر پردیش اور بہار کے لوگ تھے، نے قیمتی زرعی اجناس کے باغات میں معاہداتی مزدوری (یعنی معاہدے کے تحت مزدوری) قبول کی۔
’کچھ افراد اکیلے گئے جبکہ بعض اپنے خاندانوں کے ساتھ ان نوآبادیاتی علاقوں میں جا بسے، جہاں وہ کام کرتے تھے۔‘
اخبار ’دی سٹیٹس مین‘ کے لکھاری دیوسس چٹوپادھیائے کے مطابق ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے بعض افسران اور انگلستان میں کچھ برطانوی سیاستدانوں نے اِن کمزور اور مجبور افراد کو بہتر مستقبل کے وعدوں کے ساتھ باغاتی نوآبادیات میں منتقل ہونے پر آمادہ کیا۔
اس عمل کا مقصد برطانوی سلطنت میں غلامی کے خاتمے کے بعد اپنی افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنا تھا۔ اس رجحان کو بعض ماہرین نے ’فریب پر مبنی غلامی‘ کہا جبکہ ہارورڈ لا ریویو کے مطابق اسے ’معاہداتی مزدوری‘ بھی کہا جاتا ہے۔
اگلے نوّے برسوں میں، ہندوستان سے ہزاروں افراد سلطنت کے مختلف حصوں میں منتقل ہوئے، گیانا سے ٹرینیڈاڈ، ماریشس اور فجی تک، اور ان کے درمیان دیگر نوآبادیات تک۔
ابتدا ہی سے اس نظام پر تنقید موجود تھی۔ بالآخر یہ نظام 1917 میں ختم ہو گیا مگر معاہداتی مزدوروں کی آخری کھیپیں 1920 کی دہائی تک بھیجی جاتی رہیں۔
اسی دوران، بہت سے معاہداتی مزدور اپنے معاہدے مکمل کرنے کے بعد واپس نہیں لوٹے۔ انھوں نے مختلف وجوہات کے باعث وہیں رہنے کو ترجیح دی اور اس طرح سابقہ غلاموں اور باغاتی سماج کے ساتھ اپنے نئے شناختی رشتے قائم کرتے ہوئے ایک نئی دنیا کی تشکیل میں حصہ ڈالا۔
دیگر مذاہب کے لوگ اس میں کیسے شامل ہوئے؟
کوروم لکھتے ہیں کہ اِن ہندوستانیوں کی لائی ہوئی تمام ثقافتی روایات میں سے، محرم کی رسم کیریبین کے کئی حصوں (مثلاً سورینام، برطانوی گیانا، ٹرینیڈاڈ اور جمیکا) میں دیگر تمام روایات پر غالب آ گئی۔
’اِس کا یہ مطلب نہیں کہ ہندوؤں کی دیگر عوامی تقریبات (جیسے دیوالی اور پھگوا) مکمل طور پر حُسَے کے زیرِ سایہ آ گئیں لیکن حُسَے نے ایسا سماجی میدان فراہم کیا جس میں مختلف نسلوں اور مذاہب کے لوگ شریک ہو سکتے تھے۔‘
کیریبین میں حُسَے کے پہلے انعقاد کے وقت اور مقام کا تعین کرنا مشکل ہے۔
بعض روایات کے مطابق گیانا میں سنہ 1938 میں پہنچنے والے ہندوستانی مہاجرین کے ابتدائی گروہ، جس میں تقریباً بیس سے تیس مسلمان شامل تھے، کو نئی دنیا میں اس رسم کے تعارف کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔
سنہ 1840 کی دہائی تک باغات میں کام کرنے والے مزدور ’تاجیہ‘ (تعزیہ) بنانے لگے، یہ کربلا میں حضرت حسین کے روضے کی علامتی نقل تھی۔
کوروم کے مطابق محرم سے کئی ہفتے پہلے اس اجتماعی سرگرمی کا آغاز ہوتا ہے۔
’اس تقریب کے لیے درکار شدید محنت، مالی بوجھ، جزوی روزہ داری اور جنسی پرہیز کو تمام شرکا ایک مخلصانہ قربانی سمجھتے ہیں۔ امام باڑے میں کام عموماً رات تقریباً دس بجے شروع ہوتا اور خاص طور پر محرم کے مقدس دس دن قریب آنے پر اکثر فجر تک جاری رہتا۔‘
سیڈروس ٹرینیڈاڈ کے جنوب مغربی ساحلی علاقے میں واقع ایک گاؤں ہے۔ یہاں تعزیوں کا ایک منفرد انداز پایا جاتا ہے، جو دنیا میں کہیں اور نہیں ملتا، نہ فنِ تعمیر کے لحاظ سے اور نہ ہی طرزِ ساخت کے اعتبار سے۔
یومِ عاشور کو اِن تعزیوں کو جلوس کی شکل میں نکالا جاتا۔
اس عمل میں مسلمان بنیادی کردار ادا کرتے تھے جبکہ ہندو مادی، تنظیمی اور اخلاقی معاونت فراہم کرتے تھے اور تعزیہ سازی، رقص، لاٹھی (گتکا ) یا تلوار کے کھیل اور جلوس کے راستے میں اور دریا یا سمندر کے کناروں پر اشیائے خورونوش اور مشروبات کی فراہمی میں بھی شریک ہوتے تھے۔
مزاحمت کی علامت
19ویں صدی کے ٹرینیڈاڈ کے اخبارات اور سرکاری رپورٹس میں حُسَے کو تحقیر کے ساتھ ’کُولی کارنیول‘ (قُلی میلا) کہا جاتا تھا۔
مگر آگے چل کر حُسَے برصغیر کی مشترکہ یکجہتی کی علامت بن گیا، جس میں ہندو، مسلمان، دلت اور دیگر شامل تھے اور سب مل کر غم، شناخت اور نوآبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت کا اظہار کرتے تھے۔
سنہ 1884 میں برطانوی نوآبادیاتی حکام نے عوامی اجتماعات کے حوالے سے اپنی بڑھتی تشویش کے تحت ٹرینیڈاڈ میں جلوس کو روکنے کی کوشش کی۔ فسادات کے بعد پولیس فائرنگ میں کم از کم 22 افراد مارے گئے اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔
کوروم کے مطابق، عوامی یاد منانے میں جلوس، موسیقی اور دیگر تقریبات شامل ہوتی ہیں، جو بیرونی افراد کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک متوازی نجی روایت بھی موجود ہے، جو عموماً گھروں کے اندر ادا کی جاتی ہے اور جو زیادہ سنجیدہ، غمگین اور سوگوار ہوتی ہے۔
ابتدا میں یہ رسم تین عناصر پر مشتمل تھی: سوگ، مرثیہ خوانی، اور مراقبہ، جس کے ساتھ تعزیے اور ڈھول کی تھاپ پر جلوس نکالا جاتا تھا۔
حُسَے کے دن اور راتیں
کوروم کی تحقیق ہے کہ محرم کا چاند نظر آتے ہی امام باڑے میں داخل ہونے والوں پر گوشت، نمک، تلی ہوئی اشیا، شراب، تمباکو اور ازدواجی تعلقات سے پرہیز لازم ہوتا ہے جبکہ چمڑے کا استعمال بھی ممنوع سمجھا جاتا ہے۔
خواتین مٹھائیاں، جھنڈے، چراغ اور دیگر مذہبی لوازمات تیار کرتی ہیں جبکہ مرد تعزیوں اور ڈھولوں کی تیاری میں مصروف رہتے ہیں۔
’یکم محرم سے دعاؤں اور نذرانوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ ہر رات قرآن خوانی، لوبان کی دھونی اور اجتماعی عبادات کے بعد تعزیوں کی تعمیر اور ڈھولوں کی مشق جاری رہتی ہے۔‘
’آٹھ محرم کو عَلَم کے جلوس نکلتے ہیں، نو محرم کو حضرت حسن کی نسبت سے چھوٹے تعزیے نکالے جاتے ہیں، جبکہ دس محرم کی رات بڑے تعزیے اور ’چاند‘ جلوسوں کا مرکز بنتے ہیں۔‘
’جلوسوں، ڈھول کی تھاپ اور دعاؤں کے درمیان تعزیوں کو خصوصی احترام کے ساتھ شہر کی گلیوں میں گھمایا جاتا ہے۔ تعزیوں کے علاوہ، دو بڑے سبز اور سُرخ چاند بھی حُسَے کے جلوس کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ چاند حضرت حسن کو زہر دیے جانے کی نسبت سے سبز (یعنی زہر کی علامت) اور حضرت حسین (سُرخ، خون کی علامت) ہوتے ہیں۔‘
’بعض رسومات حضرت حسن اور حضرت حسین کی آخری ملاقات اور کربلا کے واقعات کی علامتی یاد تازہ کرتی ہیں۔ جب ہر طرف سے حسین کی آواز بلند ہوتی ہے اور چاند تعزیوں کو چھوتے ہیں تو بعض بزرگ خواتین چاول اور لونگ اُن پر پھینکتی ہیں۔‘
’دس محرم کو تقریباً ساڑھے تین بجے ایک امام نمازِ جنازہ پڑھاتے ہیں۔ مقامی روایت کے مطابق یہ وہی وقت ہے جب کربلا کے میدان میں امام حسین کو شہید کیا گیا تھا۔ اس کے بعد شریک تمام افراد کے لیے اللہ سے برکت اور نجات کی دعا کی جاتی ہے۔‘
کوروم لکھتے ہیں کہ ایک دن آرام کے بعد ’تیجا‘ (تیسرا دن ) شروع ہوتا ہے تو مختلف گھرانے اپنے اپنے مخصوص طریقوں کے مطابق رسمیں ادا کرتے ہیں۔
’دن کا آغاز تقریباً دس بجے تمام گھروں میں دعا سے ہوتا ہے۔ چاول کی کھیر اور ’ملیدہ‘ ایک میز پر رکھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ دو تلواریں بھائیوں (حضرت حسن اور حضرت حسین ) کی یاد میں رکھی جاتی ہیں۔‘
’تمام مرد میز کے گرد بیٹھ جاتے ہیں اور امام سرہانے بیٹھتے ہیں۔ وہ جب قرآنی آیات کی تلاوت کرتے ہیں تو مرد ایک پیالے سے چنے ایک ایک کر کے اٹھاتے ہیں، ان پر پھونک مارتے ہیں اور ’اللہ اکبر‘ کہتے ہیں۔ پھر ہر دانہ ایک پلیٹ میں ڈال دیا جاتا ہے۔‘
پانی کے حوالے
اور پھر ’تیجا‘ کے روز تعزیوں کو سمندرمیں بہا دیا جاتا ہے۔
کوروم کے مطابق یہ لمحہ معماروں کے لیے نہایت غمگین ہوتا ہے، اس لیے وہ عموماً اس عمل میں شامل نہیں ہوتے۔ ان کے لیے یہی اس رسم کی اصل قربانی ہے، یعنی اس چیز کو سمندر برد کرنا جسے انھوں نے محبت اور محنت سے بنایا ہوتا ہے۔
’اگلے دن جب تعزیوں کے کچھ حصے بہہ کر ساحل پر واپس آ جاتے ہیں تو لوگ انھیں جمع کر کے دفن کر دیتے ہیں۔ ہجوم میں کئی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔‘
’ہر سال نئے تعزیے بنائے جاتے ہیں۔ اور ہر سال ایک مختصر زندگی کے بعد وہ بھی اسی طرح کیریبین کے پُرسکون پانیوں میں اپنے انجام کو پہنچتے ہیں، کربلا کے تپتے صحرا سے بہت دور۔‘