جب بی بی سی ایک فون بُک کے ذریعے بشار الاسد کے روپوش انٹیلیجنس سربراہ تک پہنچا

    • مصنف, ایلس کڈی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 16 منٹ

فوجی وردیوں میں ملبوس مسلح افراد شام کے دارالحکومت دمشق میں واقع ایک خالی اور پُرتعیش اپارٹمنٹ میں موجود اشیا اور دستاویزات کی چھان بین کرنے میں مصروف تھے۔

اس اپارٹمنٹ کے ایک کمرے کے فرش پر ایک دُبلے پتلے شخص کی مختلف مواقع پر لی گئی درجنوں تصاویر بکھری پڑی تھیں۔ کچھ تصاویر میں یہ دُبلا پتلا شخص اپنے دفتر میں بیٹھے دکھائی دیتا تھا، جبکہ بعض میں وہ برفباری میں کھیلتے ہوئے نظر آ رہا تھا۔

وہاں ایک ایسی تصویر کے کئی پرنٹس بھی موجود تھے، جن میں یہ شخص بشار الاسد سے مصافحہ کرتے ہوئے اور مسکراتے ہوئے دکھائی دے رہا تھا۔

اس اپارٹمنٹ کی تلاشی لینے والے اہلکار اس شخص کو فوری طور پر پہچان نہیں پائے، لیکن قریب ہی پڑے سونے کے تمغوں اور سنہری فریموں میں آویزاں اسناد پر ایک نام درج تھا: حسام لوکا۔

’دا سپائیڈر‘ (مکڑی) کے لقب سے معروف حسام لوکا کا شمار شام کے سابق آمر بشار الاسد کے قریبی اور طاقتور معاونین میں ہوتا تھا۔ اُن پر سنگین مظالم اور منظم پُرتشدد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے اور انھیں برطانیہ، امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے پابندیوں کا سامنا بھی رہا ہے۔

شام کی سب سے طاقتور سول انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ کے طور پر حسام لوکا کا شمار ملک کے سب سے طاقتور افراد میں ہوتا تھا۔ تاہم ان کی بیشتر سرگرمیاں پسِ پردہ ہی انجام پاتی تھیں۔

حکومت کے دیگر اہم عہدیداروں کی طرح دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد حسام لوکا بھی بظاہر اچانک نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ اُن کے لاپتا ہونے کے بعد سوالات کا ایک طویل سلسلہ اور انصاف کے مطالبات پیچھے رہ گئے، جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کو یہ خدشہ ہے کہ شاید وہ کبھی پورے نہ ہو سکیں۔

بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے چند روز بعد ہم اُس اپارٹمنٹ میں موجود تھے اور باغیوں (بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے) کو یہ سراغ تلاش کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے کہ حسام لوکا کہاں فرار ہوئے ہوں گے۔

اپارٹمنٹ کے ایک کمرے کے کونے میں ایک میز پر بظاہر ایک عام سی نوٹ بُک بھی پڑی ہوئی تھی۔

اس کے اندر نیلی سیاہی سے لکھی ہوئی بے ترتیب تحریروں میں ہمیں درجنوں نام ملے، جن میں دکاندار، ڈاکٹر، فوجی افسران اور لوکا خاندان کے افراد شامل تھے۔

مگر کیا نوٹ بُک میں موجود تفصیلات کے ذریعے ہم ’سپائیڈر‘ کے نام سے معروف حسام لوکا اور اُن پر عائد الزامات کے بارے میں مزید معلومات حاصل کر سکتے تھے؟ یا پھر یہ ہمیں منظر عام سے غائب ہو جانے والے حسام لوکا کا سراغ لگانے میں مدد دے سکتے تھے؟

حسام لوکا کا فون نمبر

ایک وقت تھا جب حسام لوکا کے لیے اپنا فون نمبر چھپانا تقریباً ناممکن تھا۔ شام میں خانہ جنگی کے ابتدائی دنوں میں یہ نمبر وسطی شہر حمص کی دیواروں پر پینٹ سے لکھا گیا تھا۔

شام کا تنازع سنہ 2011 میں اُس وقت شروع ہوا تھا جب بشار الاسد کی حکومت نے جمہوریت کے حق میں اٹھنے والی عوامی تحریک کو سختی سے کچلنے کی کوشش کی، اور یہ ایک ایسی جنگ کی ابتدا تھی جس میں آگے چل کر لاکھوں لوگ مارے گئے۔

حسام لوکا اُس وقت شام کے پولیٹیکل سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے مقامی سربراہ تھے۔ یہ ڈائریکٹورٹ بشار الاسد کے اہم انٹیلیجنس اداروں میں سے ایک تھا اور اسے باغیوں سے شہروں کا کنٹرول واپس لینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

اس دور میں حمص کے باغیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کا حکومتی افواج نے محاصرہ کر رکھا تھا، جس کے باعث مقامی باشندوں کو خوراک اور ادویات تک رسائی کے لیے شدید مشکلات کا سامنا تھا۔

متعدد افراد، جن میں سابق باغی جنگجو معتز الزیدی بھی شامل ہیں، نے ہمیں بتایا کہ حالات اِس قدر ابتر تھے کہ انھیں زندہ رہنے کے لیے چوہے کھانے پڑے تھے۔

الزیدی کو یاد ہے کہ حسام لوکا کا نام اور فون نمبر اُن کے محلے کی ایک دیوار پر لکھا ہوا تھا اور یہ پیغام پھیلنے لگا تھا کہ جو لوگ لڑائی سے بچ کر شہر چھوڑنا چاہتے ہیں، وہ محفوظ راستے کے حصول کے لیے اس نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

معتز الزیدی سمیت متعدد افراد، جن سے ہم نے بات کی، کا کہنا ہے کہ بعض افراد کو واقعی حسام لوکا کی جانب سے شہر سے بحفاظت نکلنے کی اجازت مل گئی تھی، لیکن کئی ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے اس نمبر پر فون کیا اور پھراس کے بعد اُن کو نہ کبھی دیکھا گیا اور نہ ہی ان کے بارے میں کبھی کوئی خبر ملی۔

بہت سے لوگوں نے ہمیں بتایا کہ وہ حسام لوکا کو ’دا سپائیڈر‘ کہتے تھے کیونکہ اُن کے حامیوں، مخبروں اور رابطوں کا جال بہت وسیع تھا، جن میں بعض ایسے افراد بھی شامل تھے جو باغی گروہوں کے اندر موجود تھے۔

حمص کے رہائشیوں نے ہمیں بتایا اپنے اس نیٹ ورک کی بدولت حسام لوکا ’ہر جگہ موجود تھے۔‘

معتز الزیدی نے حسام لوکا کو ’ایک شریر اور ذہین شخص‘ اور ’بہت چالاک آدمی‘ قرار دیا۔

تاہم بہت سے لوگوں کے نزدیک شہر میں اُن کا سب سے سنگین مبینہ کردار ’عید پر ہونے والے قتلِ عام‘ میں تھا، جسے بعض افراد ’بچوں کا قتلِ عام‘ بھی کہتے ہیں۔ امریکہ نے بھی حسام لوکا پر پابندیاں عائد کرتے وقت اس واقعے میں ان کے مبینہ کردار کا حوالہ دیا تھا۔

قتلِ عام

یہ ستمبر 2015 کی بات ہے جب عید الاضحیٰ کا دن تھا۔

محمد توقعتلی کا سات سالہ بیٹا وائل الوعر محلے میں ایک کھیل کے میدان میں باغبانی کر رہا تھا۔

محمد توقعتلی کو یاد ہے کہ اُس روز شام 5 بج کر 10 منٹ پر ایک حملہ ہوا۔

اسے واقعے کے کئی برس بعد اب رواں سال کے آغاز میں محمد توقعتلی ہمارے ساتھ اس پارک میں دوبارہ چہل قدمی کر رہے تھے۔وہ اُن بچوں کے نام یاد کر رہے تھے جو اس حملے میں مارے گئے تھے اور ان کھیلوں کو بھی جو وہ اس وقت کھیل رہے تھے۔

وہ پارک کے مختلف حصوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتاتے رہے کہ انھیں بچوں کی لاشیں کہاں کہاں ملی تھیں، جن میں اُن کے سات سالہ بیٹے وائل کی لاش بھی شامل تھی۔

آنسوؤں سے نم آنکھوں کے ساتھ انھوں نے کہا ’وہ چھوٹے بچے تھے۔ یہ زمین یہاں خون سے سرخ ہو گئی تھی۔‘

شامی نیٹ ورک برائے انسانی حقوق کے مطابق اس حملے میں 28 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں 17 بچے اور چار خواتین شامل تھیں۔

شام میں بعض انسانی حقوق کے کارکنوں کے گروپوں اور اُس وقت کے ایک حکومت مخالف اخبار کے مطابق حسام لوکا اس روز حمص کے اس علاقے میں حکومتی حملوں کے اہداف کے انتخاب کے ذمہ دار تھے۔

حمص میں ان کے کردار نے انھیں مزید ترقی دلائی اور اسد حکومت کے خاتمے تک وہ جنرل سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ (جی ایس ڈی) کے سربراہ بن چکے تھے، جو انھیں شام کے طاقتور ترین افراد میں شامل کرتا تھا۔

حکومتی سکیورٹی ادارے تقریباً کسی بھی شخص کو نشانہ بنا سکتے تھے، چاہے وہ اپوزیشن کے جنگجو ہوں، صحافی، ڈاکٹر، انسانی حقوق کے کارکن ہوں یا وہ افراد جن کے بارے میں صرف یہ شبہ ہو کہ وہ کسی نہ کسی شکل میں بشار الاسد کی حکومت کے مخالف ہیں۔

گرفتار کیے گئے افراد کو شام کی سیاسی جیلوں میں منتقل کیا جاتا تھا، جن میں دمشق کے قریب واقع صیدنایا جیل بھی شامل تھی۔ یہ جیل اپنی بدنام زمانہ شہرت کے باعث ’انسانی مذبح خانہ‘ کے نام سے معروف ہو گئی تھی۔ وہاں قید کیے جانے والے بہت سے افراد دوبارہ کبھی نظر نہیں آئے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے آ سکی۔

جنرل سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ کے طور پر حسام لوکا کو شام کی حراستی پالیسیوں پر سٹریٹیجک اختیار حاصل تھا، جبکہ ان کے ماتحت اہلکار صیدنایا جیل سے آنے اور جانے والی کمیونیکیشنز کی نگرانی بھی کرتے تھے۔

شام کے مختلف طبقات میں، خصوصاً سوشل میڈیا پر، سابق اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو ان کے مبینہ اقدامات پر جوابدہ ٹھہرانے کے مطالبات وسیع پیمانے پر سامنے آ رہے ہیں۔ بہت سے شامی شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئی شامی حکومت ان افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہی۔

شام کے اٹارنی جنرل حسن التربہ نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے حسام لوکا کے خلاف ایک مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں ان پر ’منصوبہ بندی کے تحت قتل، تشدد، اور تشدد کے نتیجے میں ہونے والی اموات‘ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ان کے خلاف ایک وارنٹ ملک کے اندر جاری کیا جا چکا ہے اور ہم اسے بین الاقوامی سطح پر بھی جاری کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

التربہ کے مطابق انتظامیہ حسام لوکا اور سابق حکومت کے دیگر لاپتا سینئر عہدیداروں کا سراغ لگانے اور ان کی حوالگی کے حصول کی کوششوں میں مصروف ہے۔

آج بھی اپنے بیٹے کی جدائی کا غم سہنے والے محمد توقعتلی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ حسام لوکا اور سابق حکومت کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو شام واپس لا کر ان کے اعمال کا حساب لیا جائے۔

انھوں نے کہا ’وہ بظاہر انسان دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے اندر انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں۔‘

حسام لوکا کی تلاش

ہم نے حسام لوکا کے اپارٹمنٹ سے ملنے والی نوٹ بک کے ہر صفحے کی تصاویر لے لی تھیں اور لندن واپس پہنچ کر اس میں درج تمام 155 فون نمبروں کی جانچ شروع کر دی۔

ہمیں معلوم تھا کہ سابق حکومت سے وابستہ بہت سے افراد یا تو فرار ہو چکے ہوں گے یا روپوش ہو گئے ہوں گے۔ مگر نوٹ بُک میں درج نمبروں میں 51 اب بھی فعال معلوم ہوئے۔

اس کے بعد ہم نے ان فعال نمبروں پر دوبارہ رابطہ کیا اور انھیں لوکا سے ان کے بظاہر تعلق اور اہمیت کے لحاظ سے ترتیب دیا، جس کا آغاز فوجی کمانڈروں اور ان کے رشتہ داروں سے کیا گیا۔

لیکن ہر کوشش ناکام رہی۔ جن لوگوں نے فون اٹھایا، انھیں جیسے ہی ہم نے اپنی شناخت اور رابطے کا مقصد بتایا، انھوں نے کال منقطع کر دی۔

بعض نے حسام لوکا یا ان کے خاندان کو جاننے سے انکار کر دیا، جبکہ کچھ نے تو یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ نوٹ بک میں درج متعلقہ افراد ہی نہیں ہیں۔

چنانچہ بی بی سی کے ایک رپورٹر، جن کا اپنا نام بھی حسام لوکا کے دور میں جنرل سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھا، ذاتی طور پر سراغ لگانے کے لیے شام روانہ ہوئے۔

فون بُک میں درج بہت سے افراد ڈاکٹر تھے، اس لیے ہمارے رپورٹر نے ان میں سے بعض کے ساتھ ملاقات کا راستہ نکالنے کے لیے طبی معائنے کی اپائٹمنٹس لینا شروع کر دیں۔

حلب میں ایک ڈاکٹر نے ہچکچاتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ وہ ماضی میں حسام لوکا کا علاج کر چکے ہیں، لیکن اس کے بعد انھوں نے ہمارے صحافی سے وہاں سے جانے کو کہا اور فیس بھی واپس کر دی۔

اس کے بعد ہمارے رپورٹر نے فون بُک میں درج ایک اور ڈاکٹر سے ملاقات کا وقت لیا، جو دمشق میں مقیم تھے۔

اس ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ ایک مرتبہ حسام لوکا کی والدہ کے ساتھ علاج کی غرض سے روس بھی جا چکے ہیں، لیکن وہ اس سے زیادہ معلومات فراہم کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ البتہ انھوں نے مبہم انداز میں ہماری ایک ایسے فارمیسی کی طرف رہنمائی کی، جو بظاہر حسام لوکا کی بیٹیوں میں سے ایک کی ملکیت تھی۔

مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ دسمبر 2024 کے بعد سے حسام لوکا کی وہ بیٹی بھی کسی کو نظر نہیں آئی تھیں۔

کئی ماہ تک حسام لوکا کی تلاش میں ہمیں کوئی کامیابی نہیں ملی۔ پھر اچانک ہمیں پہلی اہم پیش رفت حاصل ہوئی۔

فون بک میں درج ایک شخص، جس سے ہم نے دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کی، بالآخر فون سننے پر آمادہ ہو گیا۔

اس نے ہمیں بتایا کہ وہ ماضی میں حسام لوکا کے اپارٹمنٹ کی عمارت میں بطور چوکیدار تعینات تھا۔ کچھ گفتگو کے بعد وہ اُس شخص کا فون نمبر دینے پر راضی ہو گیا، جسے اس نے حسام لوکا کا ذاتی محافظ قرار دیا۔ اس شخص کو ہم ’محمود‘ کے نام سے پکاریں گے۔

محمود کے ساتھ انٹرویو کا انتظام کرنے میں ہمیں کئی ہفتے لگ گئے۔ ملاقاتوں کا وقت طے ہو جاتا، لیکن وہ نہیں آتے تھے، یا پھر ایسی جگہ ملاقات کی شرط رکھتے تھے جیسے کسی گاڑی یا نجی اپارٹمنٹ میں، جسے ہمارے رپورٹر نے بہت زیادہ خطرناک سمجھا۔

بالآخر ایک رات، آدھی رات سے کچھ پہلے، دونوں کی ملاقات ایک ہوٹل میں ہوئی۔

چوڑے کندھوں اور مضبوط جسم والے محمود کا انداز ایسا تھا، جیسے وہ ہر سوال کا جواب دینے سے پہلے اسے اچھی طرح تول رہے ہوں۔

محمود نے ہمیں بتایا کہ وہ حسام لوکا سے اس بات پر ناراض ہیں کہ حکومت کے خاتمے کے وقت وہ انھیں پیچھے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

ان کے مطابق جب دسمبر 2024 میں یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ بشار الاسد کی حکومت گِرنے کے دہانے پر ہے اور باغی دارالحکومت دمشق کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں، تو حسام لوکا نے کہا تھا کہ وہ شہر میں ہی رہیں گے اور دمشق کا دفاع کریں گے۔

تاہم محمود کے بقول اگلی صبح کے ابتدائی اوقات تک حسام لوکا غائب ہو چکے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ جاتے وقت وہ اپنے دفتر کے سیف سے ایک بڑی رقم بھی ساتھ لے گئے تھے۔

محمود نے لوکا یا ان کے خاندان کے کسی فرد کا کوئی رابطہ نمبر دینے سے انکار کر دیا، تاہم انھوں نے ہمیں حسام لوکا کے ڈرائیور کا ایک فون نمبر فراہم کیا، جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ اسی شخص نے اس رات خفیہ ادارے کے سابق سربراہ کو دمشق سے باہر پہنچایا تھا۔

اس شخص تک پہنچنا اور بھی مشکل ثابت ہوا۔

جب اس نے فون کا جواب دیا تو اس کی آواز گھبرائی ہوئی اور غیر مستحکم محسوس ہو رہی تھی۔ وہ بار بار اس بات پر زور دیتا رہا کہ وہ صرف ایک ڈرائیور تھا اور حسام لوکا کی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔

ہمارے ساتھ طے کی گئی متعدد ملاقاتیں کبھی عمل میں نہ آ سکیں اور بالآخر اس نے ہمارے پیغامات اور رابطوں کا جواب دینا بھی بند کر دیا۔

اس کے بعد ہم نے حسام لوکا کے ممکنہ فرار کے راستوں پر اپنی توجہ مرکوز کی، جن میں ہمسایہ ملک لبنان بھی شامل تھا، جہاں ایران نواز گروہ حزب اللہ کے اسد حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات رہے تھے۔

لبنانی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ہمیں بتایا کہ ان کے علم کے مطابق حسام لوکا ’ایک روسی پاسپورٹ پر مگر مختلف نام کے ساتھ‘ لبنان سے گزر کر روس روانہ ہوئے تھے۔

ہمیں لبنان میں مقیم ایک ایسے شخص تک رسائی حاصل ہوئی جس کا نام حسام لوکا کی نوٹ بک میں درج تھا۔ اگرچہ اس کے سامنے لکھا گیا فون نمبر اب فعال نہیں تھا، تاہم یہ شخص ان متعدد افراد میں شامل ہے جنھیں نئی شامی حکومت ان کے بشار الاسد کی حکومت سے قریبی تعلقات کے باعث مطلوب قرار دیتی ہے۔

اس شخص، جس کی شناخت ہم ظاہر نہیں کر سکتے، نے ہمیں بتایا کہ اس کے پاس حسام لوکا کا ایک فون نمبر موجود ہے۔

جب اس نے ہمیں وہ نمبر دکھایا تو ہم نے محسوس کیا کہ اس کا ملکی کوڈ روس کا تھا۔

روس اسد حکومت کا ایک اہم حامی رہا تھا اور اسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد کے دنوں میں خود بشار الاسد نے ایک بیان جاری کر کے تصدیق کی تھی کہ وہ روس فرار ہو گئے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے قریبی ساتھیوں اور حکومت کے کئی سینئر اہلکاروں نے بھی ان کا ساتھ دیتے ہوئے وہی راستہ اختیار کیا تھا۔

دمشق میں حسام لوکا کے اپارٹمنٹ میں ہمیں پہلے ہی ایسے شواہد مل چکے تھے جو حسام لوکا کے ماسکو کے ساتھ مضبوط تعلقات کی نشاندہی کرتے تھے، جن میں روس کی انٹیلیجنس سروس کی جانب سے دیے گئے اعزازات اور یہاں تک کہ ایک سینئر روسی عہدیدار کی جانب سے انھیں بھیجا گیا نئے سال کا تہنیتی کارڈ بھی شامل تھا۔

اب ان کے لیے استعمال ہونے والے روسی فون نمبر کی موجودگی اس بات کا ایک مضبوط اشارہ تھی کہ، جیسا کہ ہم پہلے سے اندازہ لگا رہے تھے کہ حسام لوکا واقعی روس میں موجود تھے۔

فون کال

ہم یہ تصدیق کرنا چاہتے تھے کہ یہ نمبر واقعی حسام لوکا ہی کا ہے۔

چند روز بعد ہماری موجودگی میں اس شخص نے رضامندی ظاہر کی کہ وہ سپیکر فون پر اس فرد سے رابطہ کرے جسے وہ حسام لوکا بتا رہا تھا۔ پھر اس نے اس شخص سے ایسے سوالات پوچھے جن کے بارے میں ہمارا خیال تھا کہ ان کے جوابات صرف حسام لوکا ہی جان سکتے ہیں، کیونکہ یہ سوالات ہماری تحقیقات کے دوران حاصل کی گئی معلومات کی بنیاد پر تیار کیے گئے تھے۔

فون کے دوسری جانب موجود شخص کی آواز کنفیوژ محسوس ہو رہی تھی، لیکن اس نے پوچھے گئے سوالات کے جوابات فوراً اور درست انداز میں دیے۔

تاہم اس نے براہِ راست ہم سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

بعد میں ہمارا رابطہ کار دوبارہ حسام لوکا کو فون کرنے پر آمادہ ہو گیا اور اس نے ہمیں ان کا انٹرویو لینے کی کوشش کرنے کی اجازت دی۔

فون پر وہی آواز سنائی دی۔ ہم نے اپنا تعارف کرایا اور وضاحت کی کہ ہم سابق حکومتی عہدیدار کے خلاف قتلِ عام اور تشدد کے سنگین الزامات کے بارے میں ان سے سوالات کرنا چاہتے ہیں۔

حسام لوکا نے بے چینی بھرے لہجے میں کہا ’میں جس صورتحال میں ہوں، اس میں فون پر بات کر کے کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا روس انھیں بات کرنے سے روک رہا ہے، تو انھوں نے جواب دیا: ’میں بات نہیں کر سکتا۔ میں وضاحت نہیں کر سکتا۔ آپ کو یہ بات سمجھنی ہو گی۔‘

جب ہم نے دریافت کیا کہ کیا وہ روس سے باہر کسی مقام پر ہم سے ملاقات کرنے پر آمادہ ہوں گے، تو انھوں نے مختصر جواب دیا ’یہ مشکل ہے۔‘

اس کے فوراً بعد انھوں نے فون بند کر دیا۔

بعد ازاں ہمیں ایک دوسرا فون نمبر بھی ملا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ بھی حسام لوکا ہی استعمال کرتے ہیں۔ اس بار یہ نمبر شام میں رجسٹرڈ تھا اور ان سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس سے منسلک تھا، جنھیں بظاہر وہ اب بھی استعمال کر رہے تھے۔

ایک روز بی بی سی اس نمبر کی مدد سے حسام لوکا کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو گیا اور اسے روس کے دارالحکومت ماسکو کے مضافاتی علاقوں میں واقع دو مختلف مقامات پر موجود پایا۔

یہ مقامات اس پُرتعیش طرزِ زندگی سے بہت مختلف دکھائی دیتے تھے جو اطلاعات کے مطابق بشار الاسد روس میں جلاوطنی کے دوران گزار رہے ہیں اور اس زندگی سے بھی خاصے مختلف تھے جو حسام لوکا کبھی شام میں بسر کیا کرتے تھے۔

ہم جانتے تھے کہ ہم روس میں ان تک ذاتی طور پر نہیں پہنچ سکتے، جہاں اسد حکومت کے سابق اعلیٰ اہلکار بین الاقوامی صحافیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پہنچ سے بڑی حد تک محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ چنانچہ ہم نے ایک بار پھر فون پر ہی الزامات کے بارے میں ان کا مؤقف جاننے کی کوشش کی۔

ہم نے مذکورہ نمبر پر کال کی۔ دوسری جانب سے وہی آواز سنائی دی جو پہلے سن چکے تھے، جبکہ فون لائن میں خلل بھی محسوس ہو رہا تھا۔

انھوں نے پوچھا کہ کون بات کر رہا ہے۔ جب انھیں بتایا گیا کہ کال بی بی سی کی جانب سے ہے، تو انھوں نے فوراً فون منقطع کر دیا۔

بعد ازاں ہم نے واٹس ایپ کے ذریعے ایک پیغام بھی بھیجا، جس میں ان کے خلاف عائد متعدد الزامات پر مؤقف جاننے کی درخواست کی گئی، لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ماسکو میں حسام لوکا کی موجودگی کی تصدیق اُن شامیوں کے لیے مایوس کن خبر ہے، جو انصاف کے حصول کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ روس کی جانب سے اس حکومت کے سابق عہدیداروں کو، جس کی اس نے طویل عرصے تک حمایت کی، شام کے حوالے کیے جانے کا امکان بہت کم سمجھا جاتا ہے۔

روسی حکومت نے حسام لوکا کی روس میں موجودگی یا کسی ممکنہ حوالگی کی درخواست پر غور کرنے کے سوالات کے بارے میں بی بی سی کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

دوسری جانب حمص میں محمد توقعتلی کا کہنا ہے کہ وہ اس امید کو کبھی نہیں چھوڑیں گے کہ ایک دن حسام لوکا اور اسد حکومت کے دیگر سینئر عہدیدار اپنے مبینہ اقدامات کے لیے انصاف کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔

محمد توقعتلی کہتے ہیں ’مجھے اُن تمام لوگوں پر غصہ ہے جو اس حکومت اور اس کے سکیورٹی اداروں کے ساتھ تھے۔۔۔ وہ سب ہمارے خلاف تھے۔‘

’وائل تو محض سات سال کا ایک بچہ تھا۔۔۔ اسے صرف کھیلنے اور خوش رہنے کی فکر ہوتی تھی۔‘

اضافی رپورٹنگ: ریام دلاتی، غیث صلح اور ابیگیل ایکرمین۔